ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ اُدھر تین سفارتکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج کے العدید ایئر بیس پر موجود کچھ اہلکاروں کو بُدھ کی شام تک وہاں سے جانے کا کہا گیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایران میں مظاہرین کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتا ہے۔
آئیے پہلے جانتے ہیں کہ قطر میں العدید ایئر بیس سمیت امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کیوں موجود ہے؟
ہم قطر میں العدید ایئر بیس کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
العدید ایئر بیس قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قریب واقع ہے۔ یہاں مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے فضائی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر ہے۔ اس اڈے پر قریب آٹھ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
اس اڈے پر برطانوی فوج بھی باری باری تعینات ہوتی ہے۔ اسے بعض اوقات ابو نخلہ ایئرپورٹ کہا جاتا ہے۔
قطر نے سنہ 2000 میں امریکہ کو العدید ایئر بیس تک رسائی دی تھی۔ لندن میں قائم انٹیلیجنس فرم گرے ڈائنیمکس کے مطابق یہ ایئر بیس 2001 میں امریکہ کے زیرِ انتظام آئی تھی۔ دسمبر 2002 میں دوحہ اور واشنگٹن نے باقاعدہ ایک معاہدے کے ذریعے العدید ایئر بیس پر امریکی فوج کی موجودگی تسلیم کی تھی۔
سنہ 2024 میں سی این این نے اطلاع دی تھی کہ امریکہ نے قطر میں عسکری موجودگی کو مزید 10 سال کی توسیع دی ہے۔
امریکی فوج خطے میں کہاں کہاں موجود ہے؟
باربرا سلاون واشنگٹن میں سٹمسن سینٹر میں فیلو اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھتی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سنہ 1940 کی دہائی سے خلیج فارس میں رہی ہے جبکہ نائن الیون حملوں کے بعد اس میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ امریکہ نے سنہ 1945 میں سعودی شہر الظھران میں اس خطے میں اپنا پہلا فضائی اڈہ بنا لیا تھا۔
خبررساں ادارے اے پی کے مطابق 2023 میں سات اکتوبر سے پہلے امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں 34 ہزار کے لگ بھگ فوجی تعینات تھے جن میں گذشتہ ایک سال کے دوران چھ ہزار فوجیوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑا امریکی اڈہ العدید ایئر بیس ہے جو قطر میں واقع ہے اور سنہ 1996 میں بنایا گیا تھا۔
قطر کے علاوہ بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، شام، اردن، مصر، قبرص اور عراق میں بھی امریکی فوجی موجود ہیں۔
امریکی کے کویت میں بھی متعدد فوجی اڈے ہیں جبکہ سعودی عرب میں بھی اس کے دو اڈے ہیں۔
باربرا سلاون کے مطابق ’سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، کویت، اردن اور بحرین امریکہ کی جانب سے فراہم کیے گئے تحفظ کا بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراق میں اب بھی امریکہ کے دو ہزار سے زیادہ اہلکار موجود ہیں جو عین الاسد ایئر بیس اور ’یونین تھری‘ جیسی سہولیات کے ارد گرد تعینات ہیں۔
امریکی پالیسی دستاویزات کے مطابق امریکی فوجی مختلف وجوہات کی بنا پر مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیے گئے ہیں اور شام کے علاوہ وہ ہر ملک کی حکومت کی اجازت سے وہاں موجود ہیں۔
عراق اور شام جیسے ملکوں میں امریکی فوجیں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لیے موجود ہیں۔ یہاں امریکی فوجی مقامی فورسز کو تربیت بھی دیتے ہیں۔
امریکہ کے ایک اہم اتحادی ملک اردن میں سینکڑوں امریکی ٹرینرز ہیں جہاں وہ سال بھر وسیع مشقیں کرواتے ہیں۔
امریکہ کا ’ٹاور 22‘ فوجی اڈہ اردن میں شمال مشرقی مقام پر واقع ہے۔ اس مقام پر اردن کی سرحدیں شام اور عراق سے ملتی ہیں۔ رواں سال 28 جنوری کو اس اڈے پر ایک ڈرون حملے میں امریکی آرمی ریزرو کے تین فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کا الزام واشنگٹن نے ایرانی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ پر لگایا تھا۔
فوجی اڈوں اور فوجیوں کی موجودگی کے علاوہ بحیرہ احمر، خلیجِ عمان اور بحیرہ روم میں امریکی بحریہ موجود ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق کچھ ہی روز میں یہاں دو امریکی طیارہ بردار جنگی بحری جہاز موجود ہوں گے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن پہلے ہی خلیج عمان کے قریب موجود ہے جبکہ کچھ ہی روز میں یو ایس ایس ٹرومین بحیرۂ روم کے پانیوں میں پوزیشن سنبھال لے گا۔ یوں خطے میں امریکی برّی، بحری، اور فضائی تینوں افواج موجود ہیں۔
امریکی فوجی ہزاروں میل دور خطے میں کیوں موجود ہیں؟
دہائیوں سے امریکہ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں میل دور اپنی افواج بٹھانے کے پیچھے متعدد وجوہات ہیں۔
ایشیا اور شمالی افریقہ کے بیچ موجود مشرقِ وسطیٰ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور اس کی عالمی نقشے پر ایک اہم پوزیشن اسے دوسرے ممالک کی خارجہ پالیسی خاص کر امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے اہم ثابت ہوتی رہی ہے۔
سنہ 1938 میں سعودی عرب کے مشرقی شہر الظھران سے تیل کا کنواں دریافت ہونے کے بعد سے تیل کی عالمی معیشت میں قدر میں دن بدن اضافہ دیکھنے کو ملا۔
برطانوی یونیورسٹی ایس او اے ایس میں ڈیولپمنٹ سٹڈیز کے پروفیسر گلبرٹ ایخکر نے بی بی سی ورلڈ سروس کو ایک ویڈیو میں بتایا کہ ’تیل کو جب عالمی معیشت میں اہمیت ملی تو ظاہر ہے کہ اس کی سٹریٹیجک اہمیت بھی بڑھ گئی۔
برطانیہ کے پالیسی انسٹیٹیوٹ چیٹھم ہاؤس میں اسوسی ایٹ فیلو ڈاکٹر لینا خطیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اکثر افراد یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ امریکہ اس خطے میں صرف تیل کی وجہ سے ہے حالانکہ اس حوالے سے امریکہ خود کفیل ہے اور سنہ 2022 میں تیل کی سب سے زیادہ پیداوار امریکہ میں ہوئی تھی، جو اس سال سعودی عرب سے 30 فیصد زیادہ تھی۔
پروفیسر گلبرٹ کے مطابق امریکہ ایسا یہاں دیگر یورپی ممالک اور چین کے مشرقِ وسطیٰ کے تیل تک رسائی پر نظر رکھنے کے لیے بھی کر سکتا ہے۔
تاہم چند دیگر اہم عوامل بھی ہیں۔
خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ روس اور امریکہ کی سرد جنگ کا شکار رہا ہے اور امریکہ میں یہ سوچ آج بھی موجود ہے کہ وہ جہاں بھی خلا چھوڑے گا اسے روس پر کر لے گا۔
تاہم امریکہ کی اسرائیل کے لیے ہمدردیاں سنہ 1948 میں اس کے قیام کے بعد سے ہیں۔ اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے معاہدے کے 12 منٹ بعد ہی اس پر دستخط کر دیے تھے۔
لینا خطیب کے مطابق ’امریکہ سمجھتا ہے کہ یہودیوں کے ساتھ جو کچھ بھی دوسری عالمی جنگ کے دوران ہوا وہ غلط تھا اور وہ اسے اپنا حق سمجھتا ہے کہ وہ یہودیوں اور ان کے ایک علیحدہ خودمختار ریاست کے خواب کو پورا کرے۔‘
اسرائیل کے علاوہ امریکہ کے سعودی عرب، بحرین، قطر، اردن اور متحدہ عرب امارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رہے ہیں۔
لینا خطیب کے مطابق امریکہ نے دنیا میں خود کو ایک ’عالمی پولیس مین‘ کا کردار سونپ رکھا ہے اور مشرقِ وسطیٰ ایک اہم خطہ ہے جہاں سے عالمی بحری تجارتی راستے گزرتے ہیں۔
سنہ 2001 کے ستمبر 11 کے حملوں کے بعد جب امریکہ نے عراق پر بھی حملے کا فیصلہ کیا تو ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو عراق جنگ میں بھیجا گیا تھا تاہم امریکی قبضے کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کو جنم دیا۔
یوں امریکہ نے شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کا بڑا حریف ایران بھی اسی خطے میں موجود ہے۔
تھنک ٹینک ایٹلانٹک کونسل کی سابق ڈائریکٹر اور انسٹیٹیوٹ فار سوشل پالیسی اینڈ انڈرسٹینڈنگ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر تقیٰ نصیرت کہتی ہیں کہ امریکہ کے معاشی، سیاسی اور عسکری ایسٹس مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں جن کی حفاظت کے لیے اسے یہاں فوجیوں کی ایک مخصوص تعداد رکھنا ضروری ہے۔
’امریکہ کے پاس خطے میں متعدد فضائی اڈے ہیں جن کے ذریعے وہ جب چاہے ردِ عمل دے سکتا ہے اور اکثر موقعوں پر کچھ نہ کیے بغیر بھی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ چین اور روس جیسے جیسے خطے میں اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں تو ایسے میں امریکہ کے پاس خطے میں فوجوں کی موجودگی اسے برتری دیتی ہے۔‘