بلوچستان: نوکنڈی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی
چاغی پولیس کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ اتوار کی شب ساڑھے 8 بجے کے قریب ایف سی کے کیمپ پر ہوا جس کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد کلیئرنس آپریشن کیا گیا ہے۔
خلاصہ
یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان پر پاکستان کا ردِعمل: ’ایسے تبصروں سے گریز کریں جو سیاسی تعصب کی عکاسی کرتے ہوں‘
پاکستان غزہ امن فورس کے لیے فوجی بھجوانے کو تیار، حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہو گا: اسحاق ڈار
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں بچے کی سالگرہ کی تقریب میں فائرنگ، چار افراد ہلاک
ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا کی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان: یہ ہماری عوام کے خلاف 'غیر قانونی اور بلا جواز جارحیت' ہے، وینزویلا کی وزارتِ خارجہ
سری لنکا میں سیلاب اور بارشوں سے 159 افراد ہلاک، پاکستان کا ایک لاکھ ٹن امدادی سامان اور ریسکیو ٹیم بھجوانے کا اعلان
لائیو کوریج
بلوچستان میں سنیچر کے روز چار مختلف مقامات پر چار دھماکے, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے
علاقے سریاب میں سنیچر کے روز یکے بعد دیگرے چار بم دھماکے ہوئے تاہم ان میں کوئی
جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس حکام کے مطابق ان میں سے ایک
دھماکہ دستی بم حملے کی وجہ سے ہوا جو کہ کیچی میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی
موبائل وین پر کیا۔
سریاب پولیس کے ڈی ایس پی آصف
غفور نے بتایا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس سے قبل میر منیر احمد مینگل
روڈ پر ریلوے ٹریک کے ساتھ دھماکہ ہوا۔ پولیس کے ڈی ایس پی آصف غفور نے بتایا کہ
ٹریک کے ساتھ نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد رکھا تھا جس کے پھٹنے سے ٹریک کے ڈیڑھ
سے دو فٹ حصے کو نقصان پہنچا۔
جبکہ صبح سریاب میں قمبرانی روڈ
پر دو دھماکے ہوئے۔ پولیس حکام کے مطابق ان میں سے ایک دھماکہ دستی بم کے حملے نتیجے
میں ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرا دھماکہ
ایک موٹر سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ہوا۔
پولیس حکام کے مطابق موٹر سائیکل
میں نصب دھماکے کے ذریعے بم ڈسپوزل سکواڈ کی ٹیم کو نشانہ بنایا گیا تاہم اس میں
کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکہ میں افغان کمیونٹی اتحاد کی نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر حملے کی مذمت اور ٹرمپ سے تعاون کی درخواست
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشن2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد خصوصی امیگریشن پروگرام کے تحت دسیوں ہزار افغان فرار ہو کر امریکہ پہنچے تھے: فائل فوٹو
امریکہ میں موجود افغان شہریوں نے بدھ کے روز واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے حملے کو ’انتہائی دردناک‘ قرار دیتے ہوئے اس حملے کی مذمت کی ہے اورامریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ افغان باشندوں کی امیگریشن درخواستوں میں تاخیر یا معطل کرنے کے اقدام سے گریز کرے۔
بی بی سی پشتو کے مطابق ’امریکہ میں افغان کمیونٹی اتحاد نے متاثرین خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور جامع تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اوریہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ چار سال قبل افغانستان سے امریکہ منتقل ہونے والا حملہ آور ان کی نمائندگی نہیں کرتا تھا۔
یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کے نزدیک افغان باشندے کی جانب سے نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد جمعے کے روزامریکی حکام نے پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے روکنے کا اعلان کیا تھا۔
اس حوالے سے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے سربراہ جوزف ایڈلو نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ اُس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ہر اجنبی کی جانچ پڑتال اور مکمل سکریننگ نہیں کر لی جاتی۔
بی بی سی پشتو کے مطابق ’اتحادیوں کے بیان میں دو دہائیوں کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’20 سالہ افغان امریکی شراکت داری کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
امریکہ میں مقیم افغانوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی کے حملہ ایک انفرادی فعل تھا اور اس حملے سے انھیں واقعی صدمہ پہنچایا ہے۔
پاکستان افغانستان کے اندر کارروائی کرنا چاہتا تھا لیکن قطر نے روکا اور ثالثی کی پیشکش کی: اسحاق ڈار
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر کارروائی کرنا چاہتا تھا لیکن قطر نے روکا اور ثالثی کی پیشکش کی جس کے بعد کارروائی نہیں کی گئی۔
اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں کو بریف کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ ’افغان طالبان کو حکومت میں ہونے کے باعث اپنی پالیسی میں نظر ثانی کرنا ہو گی۔ ہمیں ان سے کچھ نہیں چاہیے ہم ہر چیز کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن جب سے ان کی حکومت آئی ہے ہمارے چار ہزار آفیسرز اور جوانوں کی میتیں اٹھ چکی ہیں، 20 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں تو میں کس منہ سے میں کہوں کہ ہم آنکھیں بند رکھیں۔‘
اسحاق ڈار کے مطابق ’ قطر کی وزارت خارجہ کو پتا چل گیا تھا کہ ہم (افغانستان کے خلاف) ایکشن کرنے کی جانب جا رہے ہیں، پھر قطر نے مسئلے کے حل اور ثالثی کی درخواست دی جس کے بعد اس رات جو آپریشن ہونے جا رہا تھا وہ روکا گیا۔‘
ان کے مطابق ’کیونکہ ان (پرتشدد واقعات) میں کمی نہیں ہو رہی بلکہ یہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ ان کی خام خیالی ہے کہ ہم اس کو حل نہیں کر سکتے۔ اللہ نے پاکستان کو قوت دی ہے ہم اس پر کارروائی کر سکتے ہیں اور چیزوں کو بالکل ٹھیک کر سکتے ہیں لیکن یہ بھی ٹھیک نہیں کہ ہم اپنے بھائی کے گھر جا کر ان کو گھس کر ماریں۔‘
قطر کی وزارت خارجہ ہر گھنٹہ ہم سے رابطے میں تھی: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار نے بتایا کہ ’قطر ایسا ملک ہے جس کا وزارت خارجہ ہر گھنٹہ ہم سے رابطے میں تھا اور ان کو پتا چل گیا تھا کہ ہم ایکشن کرنے کی جانب جا رہے ہیں پھر قطر کا میسیج آیا جس کے بعد اس رات جو آپریشن ہونے جا رہا تھا وہ روکا گیا لیکن پھر اس ثالثی سے کچھ نہ نکل سکا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مناسب نہیں کہ کسی دوست ملک کے لیے کہا جائے لیکن وہ (قطر)اب خود اپ سیٹ ہیں کہ انھوں نے ثالثی کروائی اور نتیجہ نہ نکل سکا۔مجھے ایران کے وزیر خارجہ نے چند روز قبل فون کیا کہ اگر آپ چاہیں تو افغانستان، قطر، ترکی ایران سمیت کچھ ممالک بات کرنے کے لیے بیٹھ جائیں۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’وہ وقت دور نہیں جب دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے مسلمان اور غیر مسلم ممالک اکھٹے ہو کر کام کریں گے تو کیا بہتر نہیں کہ ہم اپنے خطے کو پر امن کر لیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنطالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے استنبول مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا
اسلام آباد میں سنیچر کے روز پریس کانفرنس کے آغاز میں سوالوں کے جواب سے قبل اسحاق ڈار نے روس، بحرین سمیت دیگر ممالک کے دوروں سے متعلق تفصیل بتائی اور ساتھ ہی زور دیا کہ خطے میں قیام امن کے لیے افغانستان میں امن ضروری ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے افغانستان سے کہا کہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی نہ ہونے دیں، یورپی یونین نے افغانستان کے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کی۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’افغان مہاجرین کو ہم باعزت طور پر واپس بھیجتے ہیں۔ حکومت پاکستان چاہتی ہے افغانستان کے لوگ ترقی کریں۔ اپنے دورے کے دوران یورپی حکام سے ملاقاتوں میں غلط فہمیوں کو دور کیا اور یورپی یونین کو آگاہ کیا کہ افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اگست میں افغانستان سے جا کر کہا کہ امن ہی واحد راستہ ہے۔ ہم نے متقی صاحب کو ساتھ کھڑا کر کے تمام وعدے وعید بتائے اور کہا کہ پاکستان کے خلاف اہنے ملک کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کرنے دیں۔‘
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغان سرد جنگ کے دوران نیٹو کے ساتھ مل کر کام کیا، نیٹوہیڈ کوارٹرز میں نیٹو سیکریٹری جنرل سے ملاقات کی، یورپی یونین کے آٹھ ممبرز سے بھی ملاقات ہوئی، پاکستان نے افغان سرد جنگ کے دوران نیٹو کے ساتھ مل کر کام کیا۔‘
اسحاق ڈار نے اپنے غیر ملکی دوروں اور پاکستان کی سفارتی مصروفیات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ ماسکو اجلاس میں پاکستان کی معاشی ترجیحات کا موقف پیش کیا، ایس سی او کانفرنس میں وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان کی نمائندگی کی اور ملک کی جانب سے شعبہ توانائی اور باہمی روابط بارے گفتگو کی۔‘
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سترہ اور اٹھارہ کو روس کا دورہ کیا جس میں صدر پوتن کو پاکستان کےدورے کی دعوت دی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او ممالک کے ساتھ روابط کے مزید فروغ پر بھی غور ہوا۔‘
فن لینڈ پاکستان میں اپنا سفارتخانہ کیوں بند کرنے جا رہا ہے
فن لینڈ کی وزارت خارجہ اپنے بیرون ملک مشنز کے نیٹ ورک میں اصلاحات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد، کابل اور ینگون میں فن لینڈ کے سفارت خانے بند کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے اور 2026 کے دوران پاکستان، افغانستان اور میانمار میں فن لینڈ کے سفارتخانے بند کرنے کا منصوبہ زیرغور ہے۔
فن لینڈ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے وہ فن لینڈ کا بیرون ملک مشنوں کے نیٹ ورک موجودہ اور مستقبل کی ضروریات سے متعلق مستل بنیادوں پر جائزہ لیتا ہے۔
بیان کے مطابق ’ان ممالک میں سفارت خانے آپریشنل اور سٹریٹجک وجوہات کی بنا پر بند کیے جائیں گے جن میں ان ممالک کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی اور فن لینڈ کے ساتھ ان کے محدود تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مد نظر رکھا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ’اس سال وزارت نے مشنوں کے نیٹ ورک کا سٹریٹیجک جائزہ شروع کیا، جس میں فن لینڈ کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے مفادات اور ٹیم فن لینڈ کی برآمدات کو فروغ دینے کی سرگرمیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘
بیان کے مطابق جائزہ کے نتیجے میں وزارت مشنوں کے بند ہونے اور کھولنے کے بارے میں تجاویز پیش کرے گی۔ اس کا مقصد ان ممالک پر وسائل کو مرکوز کرنا ہے جو فن لینڈ کے لیے حکمت عملی کے لحاظ سے اہم ہیں۔
بیرون ملک مشنوں کے نیٹ ورک کی طویل مدتی ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ کچھ مشن بند ہو جائیں گے۔ وزارت خارجہ کے مطابق سفارتی مشن کی بندش کے فیصلے ملک کے صدر کے ایک حکم نامے کے بعد کیے گئے ہیں۔
اگر افغانستان میں موجود شدت پسند پاکستانی ہیں تو ہمارے حوالے کریں، پاکستانی فوج کا افغان طالبان سے مطالبہ
،تصویر کا ذریعہptv
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ ’افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے۔ افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈی جی کی صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر ہونے والی گفتگو 25 نومبر کو ہوئی تھی تاہم اس گفتگو کی ویڈیو 28 نومبر کو جاری کی گئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ طالبان کے اس دعوے میں کوئی منطق نہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے شہری ہیں جو ہجرت کر کے وہاں آئے ہیں، اگر وہ پاکستانی ہیں تو انھیں پاکستان کے حوالے کر دیا جائے۔ان کے مطابق ’کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہوکر پاکستان آتے اور دہشت گردی کرتے ہیں؟‘
ترجمان نے کہا کہ ’افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے، افغانستان سے انھیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے، جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔‘
ان کے مطابق ’ہم نے افغانستان کے سامنے تمام ثبوت رکھے جنھیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہےکہ وہ ایک قابل تصدیق میکینزم کے تحت معاہدہ کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان سے انخلا کے وقت سات ارب سے زائد کا اسلحہ افغانستان میں چھوڑا تھا اور اب یہی اسلحہ دہشتگردی میں استعمال ہو رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھایا کہ ’نان کسٹم پیڈ گاڑیاں خود کش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں صوبے میں گھوم رہی ہوں تو انھیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ سرحدی علاقوں میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’رواں سال ملک میں مجموعی طور پر ایک ہزار 873 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جن میں 136 افغان باشندے شامل ہیں۔‘
یاد رہے کہ جمعے کے روز ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کا مطلب یہ تھا کہ افغانستان کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہ پاکستان میں حملے نہیں کریں گے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا تھا کہ ’اس سیز فائر کے بعد بڑے دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں۔ لہٰذا اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو سیز فائر برقرار نہیں ہے، کیونکہ جنگ بندی کا مطلب ٹی ٹی پی، ایف اے کے اور افغان سرزمین استعمال کرنے والے افغان شہریوں کی جانب سے پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کا رک جانا تھا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جمعے کے روز جاری ہونے والی اس ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ بارڈرمینجمنٹ پر سکیورٹی اداروں کےخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
’پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے،جہاں 20 کراسنگ پوائنٹس موجو دہیں، پاک افغان سرحد پرچوکیوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر بھی ہے، آبزرویشن اور فائر کور نہ ہونے پر بارڈر فینس مؤثر نہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبرپختونخوا میں بارڈر کے اطراف منقسم گاؤں موجود ہیں۔ خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول کرنا چیلنج ہے۔
انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا میں بارڈر مینجمنٹ دونوں اطراف کے ممالک مل کر کرتے ہیں، لیکن طالبان حکام دہشت گردوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی پر تمام حکومتوں اورسیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہےکہ اس کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے ۔اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے- جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی کمی نظر آتی ہے۔
ان کے مطابق ’اس نظام کے تحت ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور عمل درآمد کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔
کیئو پر روسی ڈرون اور میزائل حملے میں کم از کم ایک ہلاک، سات زخمی
،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرینی حکام کے مطابق روسی ڈرون اور میزائل حملے میں دارالحکومت کیئو میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔
سنیچر کی صبح کے اوائل میں کئی علاقوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا اور پورے شہر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
کیئو کے میئر وٹالی کلچکو کے مطابق ایک 13 سالہ بچہ بھی زخمی ہوا اور چار افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
یوکرینی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز میں کیئو پر ہونے والے ایک اسی نوعیت کے حملے میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ تازہ بمباری ایسے وقت ہوئی جب یوکرینی مذاکرات کار امریکی حکام کے ساتھ اس ہفتے کے آخر میں ایک ترمیم شدہ امریکی امن منصوبے پر بات چیت کی تیاری کر رہے تھے۔
ہانگ کانگ میں آتشزدگی کے مہلک ترین واقعے کی تحقیقات کا آغآز، مزید آٹھ افراد گرفتار
،تصویر کا ذریعہVCG via Getty Images
ہانگ
کانگ میں آتشزدگی کے مہلک ترین واقعے کے بعد حکومت نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رہائشی
ٹاورز کے ایک بلاک میں مرمت اور تعمیراتی کام میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے مزید آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ
اس سے قبل تین افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
تاحال
آگ لگنے کے وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ زیر تعمیر بلاک
میں کھڑکیوں کے باہر لگی ہوئی
حفاظتی جالی اور فوم کے سبب آگ تیزی سے پھیلی۔
ہانگ
کانگ میں رہائشی ٹاورز میں لگنی والے آگ میں اب تک 128 افراد ہلاک اور 79 زخمی ہوئے
ہیں جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
آگ
بجھانے کے عمل میں 2311 فائر فائٹرز نے حصہ لیا جبکہ جمعے کو آگ پر قابو پا لیا
گیا ہے۔
آگ
بجھنے کے بعد پولیس اہلکار عمارت میں
داخل ہوئے اورانھوں نے تحقیقات کے لیے ثبوت اکٹھے کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگلے تین
سے چار ہفتوں کے دوران تحقیقات مکمل کر لی جائیں گی۔
ہانگ
کانگ میں بدعنوانی کے خلاف آزاد کمیشن کا کہنا ہے کہ تعمیرات اور مرمت میں مبینہ
کرپشن کی تحقیقات کے لیے انجینئرنگ کمپنی کے ڈائریکٹرز اور ذیلی کمپنی سے بھی پوچھ
گچھ کی جا رہی ہے۔
یہ رہائشی ٹاور 1983 میں تعمیر ہوئے تھے اور ان میں موجود
ایک ہزار 984 اپارٹمنٹس میں 4600 افراد رہائش پذیر تھے۔ یہاں مقیم 40 فیصد رہائشی
افراد کی عمر تقریباً 65 سال ہے۔
اس سے قبل 1948 میں
ہانگ کانگ میں مہلک ترین آتشزدگی کا واقعے میں 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ایئر بس کے مسافر طیاروں کے سافٹ ویئر میں مسئلہ، درجنوں ایئر لائنز کی فلائٹس متاثر ہونے کا خدشہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپ کی طیارہ
ساز کمپنی ایئر بس کے طیارے A 320 کے سافٹ ویئر میں مسائل کے سبب دنیا بھر میں
درجنوں ایئر لائنز کی پروازوں کا شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایئر
بس کے مطابق ان کے لگ بھگ چھ ہزار A 320 طیاروں میں فوری طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
ایئر
بس کے ان جہازوں میں اس مسئلے کی نشاندہی اُس وقت ہوئی تھی جب اکتوبر میں میکسیکو سے
امریکہ جانے والی جیٹ بلیو کی پرواز کی ’اونچائی میں اچانک کمی‘ ہوئی۔ اس واقعے میں
کچھ مسافر زخمی بھی ہو گئے تھے۔
ماہرین
کا خیال ہے کہ جہاز کی بلندی میں اچانک کمی کی ممکنہ وجہ شدید
شمسی تابکاری ہو سکتی ہے۔ جس سے ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر میں موجود
ڈیٹا کو نقصان پہنچایا۔
امریکہ کی چار ایئر لائنز
امریکن، ڈیلٹا، جیٹ بلیو اور یونائیٹڈ ایئر
لائنز بھی ایئر بس A 320 طیارے استعمال کرتی ہیں اور ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران ایئر
بس کے اس اعلان کے بعد ہزاروں پروازوں کی منسوخی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے گھر پر چھاپے کے بعد زیلنسکی کے چیف آف سٹاف مستعفی
،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین
کے صدر ولادیمیر زیلنسکینے کہا ہے کہ اُن کے چیف آف سٹاف آندری یرماک
نے اپنے گھر پر محکمہ اینٹی کرپشن کے چھاپے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔54 برس کے یرماک روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران زیلنسکی
کے قریب ترین مشیروں میں سے ایک رہے ہیں، لیکن توانائی کے شعبے میں بدعنوانی کے سکینڈل
کے باعث اُن پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا تھا، حالانکہ اُن پر براہ راست کسی قسم کا
الزام نہیں لگایا گیا۔
زیلنسکی
نے حال ہی میں اپنے چیف آف سٹاف کو اہم مذاکرات کی قیادت کی ذمہ داری سونپی تھی،
جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے نئی کوششوں کی قیادت
کر رہے ہیں۔
اپنے
صدارتی دفتر کے باہر قوم سے ایک خطاب میں زیلنسکی نے عوام سے متحد رہنے کی اپیل
کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے درمیان خلیج کی وجہ سے ہم سب کُچھ کھو سکتے ہیں، خود کو،
یوکرین کو، اپنے مستقبل کو۔‘
توانائی
کے شعبے میں بدعنوانی کے اس سکینڈل نے یوکرین میں کئی ہفتوں سے ہل چل مچا رکھی ہے،
جس سے زیلنسکی کی اپنی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے۔
یوکرین
کی دو انسدادِ بدعنوانی ایجنسیوں نے جمعے کی صبح کیو کے سرکاری علاقے میں یرماک کے
اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا اور چیف آف سٹاف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’میری طرف سے
مکمل تعاون ہے۔‘
کیو
میں اپنے ویڈیو خطاب کے دوران یوکرین کے صدر نے کہا کہ ’میں آندری یرماک کا شکر
گزار ہوں کہ مذاکرات کے محاذ پر یوکرین کا مؤقف ہمیشہ ویسا ہی پیش کیا گیا جیسا
ہونا چاہیے تھا۔‘
یرماک نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران اعتراف کیا کہ اُن پر
مستعفی ہونے کے لیے ’بے حد‘ دباؤ تھا اور انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ معاملہ خاصا
توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور ایک غیر جانبدار اور آزادانہ تفتیش کی ضرورت ہے جو
سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہو۔‘
تفتیش کاروں نے توانائی کے شعبے میں مبینہ طور پر 10 کروڑ
ڈالر کی خردبرد یا بدعنوانی کے سکینڈل سے کئی نمایاں شخصیات کو جوڑا ہے۔
یوکرین کے انسدادِ بدعنوانی بیورو اور خصوصی محکمہ انسدادِ بدعنوانی کے حکام کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ایک وسیع نیٹ ورک بے نقاب کیا ہے، جس میں سرکاری
ملکیت کی کمپنیوں پر اثر انداز ہونے اور ان سے مالی فائدہ لینے کا سلسلہ شامل تھا
جن میں ریاستی جوہری توانائی کی کمپنی اینرہوایٹم بھی شامل ہے۔
زیلنسکی
نے پہلے ہی دو وزرا کو برطرف کر دیا ہے اور اس سکینڈل میں کئی مشتبہ افراد کو
گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم صدر کے سابق کاروباری ساتھیوں میں سے ایک تیمور منڈچ
ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔
’صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دینے سے احتساب کمزور ہو گا‘: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے 27ویں آئینی ترمیم پر کیا کہا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان کی جانب
سے عجلت میں کی گئی آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور
فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی اور اس کے احترام کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا
کرتی ہیں۔‘
انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ ’تازہ ترین آئینی ترمیم،
گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی طرح، وکلا برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ جامع
مشاورت اور بحث کے بغیر منظور کی گئی۔ ولکر ترک نے خبردار کیا کہ یہ ترامیم اُس
اصول کے منافی ہیں جو قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہے اور پاکستان میں انسانی حقوق
کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔‘
13 نومبر کو منظور کی گئی تبدیلیوں کے تحت ایک نئے فیڈرل
کونسٹیٹیوشنل کورٹ (ایف سی سی) کو آئینی مقدمات پر مکمل اختیار دے دیا گیا ہے، یہ
وہ کام تھا کہ جو پہلے سپریم کورٹ کیا کرتی تھی۔ تاہم اس کے برعکس سپریم کورٹ اب
صرف دیوانی اور فوجداری مقدمات دیکھے گی۔
ججوں کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں ایسی تبدیلیاں
کی گئی ہیں جو پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرنے کے خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
ایف سی سی کے پہلے چیف جسٹس اور اُن کی معاونت کرنے والے ججوں کا تقرر صدر نے وزیر
اعظم کی مشاورت سے پہلے ہی کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے
کہا کہ ’یہ تمام تبدیلیاں مل کر عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور انتظامیہ کے کنٹرول کے
تابع کرنے کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔ نہ انتظامیہ اور نہ ہی پارلیمنٹ کو اس پوزیشن
میں ہونا چاہیے کہ وہ عدلیہ کو کنٹرول یا اس کی رہنمائی کرے اور عدلیہ کو اپنے
فیصلوں میں کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ سے دور رہنا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’عدلیہ کی آزادی کا ایک بنیادی معیار
یہ ہے کہ عدالتیں حکومت کی سیاسی مداخلت سے دور اور محفوظ ہوں۔ اگر جج آزاد نہ ہوں
تو تجربے یہی بتاتی ہے کہ قانون سب کے لیے ایک جیسا بہیں ہوسکتا اور سیاسی دباؤ کے
مقابلے میں سب کے انسانی حقوق کا تحفظ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
ترمیم میں صدر، فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل
آف دی فلیٹ کے لیے تاحیات یا عُمر بھر کے لیے فوجداری کارروائی اور گرفتاری سے
استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔
فولکر ترک نے مزید کہا کہ ’اس نوعیت کی وسیع استثنیٰ کی
شقیں احتساب کو کمزور کرتی ہیں، جو انسانی حقوق کے فریم ورک اور قانون کی حکمرانی
کے تحت مسلح افواج پر جمہوری کنٹرول کا بنیادی ستون ہے۔‘
فولکر ترک کا کہنا تھا کہ ’مجھے تشویش ہے کہ یہ ترامیم ان اصولوں کے لیے دور رس
نتائج کا باعث بن سکتی ہیں جنھیں پاکستانی عوام عزیز رکھتے ہیں یعنی جمہوریت اور
قانون کی حکمرانی۔‘
تاجکستان میں چینی شہریوں پر حملے میں انتشاری گروہ ملوث ہیں: طالبان وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان حکومت نے تاجکستان کے صوبہ ختلان کے علاقے شمس الدین
شاہین میں پیش آنے والے اُس ’افسوسناک واقعے‘ کی مذمت کی ہے جس میں تین چینی کارکن
ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ یہ علاقہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ طالبان حکومت
نے اس حوالے سے چین اور تاجکستان دونوں سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
طالبان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان کے ابتدائی جائزے سے
ظاہر ہوتا ہے کہ تاجکستان میں چینی شہریوں پر ہونے والا حملہ اُن گروہوں کی
کارروائی ہے جو خطے کے ممالک کے درمیان انتشار، عدم استحکام اور بےاعتمادی پیدا
کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم طالبان وزارتِ خارجہ کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان
میں کسی بھی ملک یا گروہ کا براہِ راست نام نہیں لیا گیا ہے۔
طالبان حکومت نے کہا کہ وہ ’معلومات کے تبادلے، تکنیکی
تعاون اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مشترکہ تحقیقات‘ کے لیے مکمل طور پر تیار
ہے اور طالبان انتظامیہ نے تاجک حکومت کو ’مکمل تعاون‘ کی یقین دہانی بھی کرائی
ہے۔
دوسری
جانب چین کے تاجک دارالحکومت دوشنبے میں سفارت خانے نے جمعہ کے
روز جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ تاجکستان میں افغانستان کی سرحد کے قریب ایک
مسلح حملے میں تین چینی شہری ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز تاجکستان کے جنوب مغربی صوبے ختلان میں
ہونے والے اس حملے میں ایک چینی شہری زخمی بھی ہوا۔ سفارت خانے نے مزید کہا اور
اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ سرحدی علاقے سے نکل جائیں۔
تاجکستان کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں
کہا کہ ہلاک ہونے والے تینوں افراد ایک کمپنی ایل ایل سی شاہین ایس ایم کے ملازمین
تھے، جسے اس حملے میں نشانہ بنایا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ افغانستان کی جانب سے کیا
گیا اور اس میں گرینیڈ سے لیس ایک بغیر پائلٹ کے طیارہ یعنی ڈرون کا استعمال کیا
گیا۔
افغانستان سے جنگ بندی کے بعد بھی پاکستان میں کئی حملے ہوئے، خطرے کے پیش نظر سکیورٹی فورسز الرٹ ہیں: ترجمان دفتر خارجہ
،تصویر کا ذریعہPFO
ترجمان پاکستانی دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے پاکستان
اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ واضح کر
دوں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر یا جنگ بندی سے مراد وہ روایتی
جنگ بندی نہیں ہے جو دو متحارب ریاستوں کے درمیان جنگ یا تنازع کی صورت میں نافذ
ہوتی ہے۔‘
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے
درمیان سیز فائر سے متعلق ہونے والے ایک سوال کے جواب میں طاہر حسین اندرابی کا
کہنا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کا مطلب یہ تھا کہ
افغانستان کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہ پاکستان میں حملے نہیں کریں
گے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس سیز فائر کے بعد بڑے دہشت گرد حملے
ہو چکے ہیں۔ لہٰذا اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو سیز فائر برقرار نہیں ہے،
کیونکہ جنگ بندی کا مطلب ٹی ٹی پی، ایف اے کے اور افغان سرزمین استعمال کرنے والے
افغان شہریوں کی جانب سے پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کا رک جانا تھا۔‘
ترجمان پاکستانی دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے مزید کہا
کہ ’چنانچہ اگر افغان شہری حملے کریں، جیسا کہ انھوں نے اسلام آباد اور دیگر
مقامات پر کیا، تو ہم سیز فائر یا جنگ بندی کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں رہ
سکتے۔ ویسے بھی جیسا کہ میں نے ذکر کیا یہ دونوں ریاستوں کے درمیان روایتی جنگ
بندی نہیں تھی، بلکہ اسے افغانستان کی جانب سے دہشت گرد حملوں کے تناظر میں سمجھا
جانا چاہیے۔‘
اُن کا
مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک افغانستان کی جانب سے خطرے کا تعلق ہے تو ہماری
سکیورٹی فورسز ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔ جن
سکیورٹی چیلنجز کا ہم سامنا کر رہے ہیں انھیں وہی سنجیدگی دی جائے گی جس کے وہ
مستحق ہیں۔‘
دوسری جانب دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا میں فائرنگ کا واقعہ دہشت گردی کی عالمی سطح پر واپسی کو ظاہر کرتا ہے، تاجکستان میں تین چینی باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔
انھوں نے تاجکستان میں ڈرون حملے میں تین چینی باشندوں کی ہلاکت پر چینی عوام اور حکومت کے ساتھ اظہار افسوس کیا اور زور دیا کہ افغانستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی روکے۔
عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے سوشل میڈیا پر ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں: وزیر اطلاعات
،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ
’صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ساری توجہ ایک غیر قانونی مطالبے
پر مرکوز ہے کہ کرپشن کیس میں اڈیالہ جیل میں سزا کاٹنے والے بانی سے ملاقات کروائی
جائے۔‘
میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ
کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے ایسا
سیاسی طرزعمل اپنایا ہے جس سے صوبے کے عوام کو گورننس کی فراہمی پس پشت چلی گئی
ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ وقت ہے کہ آپ اپنے لوگوں کی خدمت کے
لیے وقت نکالیں، پولیس ریفامز، ترقیاتی کاموں اور عوام کی فلاح کے لیے کام کریں
مگر یہاں معاملہ دوسری جانب ہے۔ ‘
عطاتارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ’صوبائی حکومت کی ترجیحات
امن، ترقی اور عوامی ریلیف کے بجائے دن رات اسلام آباد میں اسی غیر قانونی بیانیے
کے گرد گھمارہی ہے۔‘
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ’مبینہ طور پر تحریک انصاف
کی ایک خاتون سیاستدان نے انتہائی منفی حکمت عملی کے تحت افغانستان سے چلنے والے
پاکستان دشمن اکاؤنٹس اور انڈین میڈیا پر خان صاحب سے متعلق ایک نا مناسب مہم
چلوائی جس سے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشس کی گئی۔‘
تیجس انتہائی محفوظ لڑاکا طیارہ ہے، جو دبئی میں ہوا وہ ایک افسوسناک واقعہ تھا: ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ
،تصویر کا ذریعہِIndian Air Force
دبئی ایئر شو میں تیجس کے حادثے پر ہندوستان ایروناٹکس
لمیٹڈ کے چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر ڈی کے سنیل کا کہنا تھا کہ ’تیجس میں بالکل
کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کا ریکارڈ دنیا میں بہترین
ہے۔ دبئی میں جو آپ نے دیکھا اور جو ہوا وہ بس ایک افسوس ناک واقعہ تھا۔ اس کا
تیجس کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘
ڈی کے سنیل نے انڈیا کے خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات
کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں جیسے جیسے مُمالک ترقی کرتے ہیں تو
اس سفر کے دوران مختلف مراحل آتے ہیں۔ آج ہم نے 4.5 جینریشنل کا ایک جدید لڑاکا طیارہ
بنایا ہے جو جدید خصوصیات کا حامل ہے۔ یہ اس مُلک کی ایک بڑی کامیابی ہے اور ہم سب
کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے
مزید کہا کہ ’ایسے حادثات پر بلاوجہ کے سوالات اُٹھائے جاتے ہیں اور اس کا مطبل یہ
نہیں کہ ہم اپنے بڑھتے قدموں کو روک لیں۔ میں آپ کو یہاں ایک مرتبہ پھر واضح کر
دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایک انتہائی محفوظ جنگی جہاز ہے اور اس کا اس لڑاکا طیارے کے
مستبقل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘
ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے چیئرمین
اور مینیجنگ ڈائریکٹر ڈی کے سنیل نے کہا کہ ’ہمارے پاس 180 جہاز بنانے کے آڈرز اب
بھی موجود ہیں اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اس کی مانگ میں وقت کے ساتھ ساتھ
مزید اضافہ ہوگا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’جب بھی مقامی سطح پر کوئی چیز تیار کی
جاتی ہے تو اُس سے متعلق سوالات بھی سامنے آتے ہیں مگر ان کی وجہ سے ان چیزوں کے
معیار یا ساکھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔‘
روسی صدر چار سال بعد انڈیا کا دورہ کریں گے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی صدر ولادیمیر پوتن سنہ 2021 کے بعد اب 2025 میں انڈیا
کا دورہ کرنے جا رہے ہیں وہ چار دسمبر کو انڈیا پہنچیں گے۔
انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان
میں کہا گیا ہے کہ ’وزیرِاعظم نریندر مودی کی دعوت پر روسی صدر ولادیمیر پوتن چار
اور پانچ دسمبر یعنی دو دن کے دورے پر انڈیا آرہے ہیں۔ صدر پوتن 23ویں انڈیا روس
سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت بھی کریں گے۔
اس دورے کے دوران صدر پوتن وزیر اعظم نریندر مودی اور انڈین
صدر دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کریں گے۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں روسی صدر کے دورے کے حوالے سے
مزید بتایا ہے کہ یہ دورہ انڈیا اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لینے
اور سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔ اس کے
علاوہ دونوں رہنماؤں کے درمیان عالمی امور پر بھی بات چیت بھی ہوگی۔
صدر ولادیمیر پوتن نے اس سے قبل سنہ 2021 میں انڈیا کا سرکاری
دورہ کیا تھا۔ وہ فروری 2022 میں یوکرین کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے انڈیا کا
دورہ نہیں کیا۔
یہاں تک کہ پوتن نے ستمبر 2023 میں نئی دہلی میں منعقدہ
جی 20 سربراہی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔
اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار پاکستانی حکومت ہو گی: قاسم خان
،تصویر کا ذریعہX/IMRAN KHAN
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک حالیہ
پوسٹ میں لکھا کہ ’میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔‘
قاسم خان نے اپنی ایکس پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’گزشتہ
چھ ہفتوں سے انھیں (عمران خان) ایک ڈیتھ سیل میں مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان
کی بہنوں کو اُن سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی، حالانکہ عدالت کے واضح احکامات
موجود ہیں جن میں انھیں اپبے بھائی سے ملاقات کا حق دیا گیا ہے۔‘
سابق وزیرِ اعظم کے بیٹے نے اپنی ایکس پوسٹ میں یہ دعویٰ
بھی کیا ہے کہ ’عمران خان سے نہ کسی فون کال پر رابطہ ہوا ہے، نہ ملاقات اور نہ ہی
اس بات کی کوئی تصدیق کی جا رہے کہ وہ زندہ ہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے
کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔‘
انھوں
نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’یہ مکمل بلیک آؤٹ کوئی حفاظتی پروٹوکول نہیں ہے۔ یہ ان کی
حالت کو چھپانے اور ہمارے خاندان کو یہ جاننے سے روکنے کی دانستہ کوشش ہے کہ آیا
وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میرے
والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی سلوک کے نتیجے میں اگر اُن کے ساتھ کُچھ ہوتا ہے تو
اس کی مکمل ذمہ داری پاکستانی حکومت پر ہوگی۔‘
قاسم خان نے ایکس پر اپنے بیان کے آخر میں عالمی برادری،
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’وہ فوری طور
پر ان معاملات میں مداخلت کریں۔ یہ تمام ادارے عمران خان کی زندگی کی تصدیق کا
مطالبہ کریں، عدالت کے حکم کے مطابق اُن سے ملاقات اور اُن تک رسائی کو یقینی
بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کا خاتمہ کرائیں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی
رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں، جنھیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا
ہے۔‘
خیبر پختونخوا کے لوگوں اور قیادت کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے: سہیل آفریدی
،تصویر کا ذریعہScreen Grab
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر
اعلیٰ سہیل آفریدی جمعرات کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر قیام کرنے کے بعد
جمعے کی صبح چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات کے لیے عدالت پہنچے مگر
ملاقات نہ ہو سکی، جس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’27 اکتوبر سے اب تک عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی ہے اور ہمیں اُن کے بارے میں کُچھ بھی معلوم نہیں ہے۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا کے
نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’نہ ہی اُن
کی بہنوں کو اُن سے ملنے دیا جا رہا ہے، نہ پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت کو، نہ ڈاکٹرز
کو اور نہ ہی اُن کے وکلا کو اُن سے ملنے دیا جا رہا ہے۔‘
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’خیبر
پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ اُن کی صحت
سے متعلق پھیلنے والی خطرناک خبروں کے بعد ہم جمعرات کو اُن سے ملاقات کے لیے آئے
تھے مگر ہمیں اُن سے ملنے نہیں دیا گیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کے ساتھ امتیازی
سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور صوبوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی
ہے۔‘
اُن کہ کہنا تھا کہ ’ہم عدالت میں چیف
جسٹس صاحب سے ملنے کے لیے آئے، مختصر دورانیہ کے لیے عدالت لگی ہمیں انتظار کرنے
کا کہا گیا، اور بعد میں چیف جسٹس کے چیمبر سے ہمیں یہ بتایا گیا کہ وہ ہم سے ملاقات
نہیں کرنا چاہتے۔ یہاں ہم نے دیکھا ہے کہ چھٹی والے دن بھی عدالتیں لگی ہیں اور
رات کے وقت میں بھی عدالتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔‘
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہم پوری
عدلیہ سے یہ درخواست کر رہے ہیں کہ پورے پاکستان کی نظریں آپ پر ہیں، اگر آپ انصاف
نہ کر پائے اور اگر آپ بھی عوام کے غصے کو کم نہ کر پائے تو یہ مناسب نہیں۔‘
عمران خان کی بہن نے اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ
خان نے اپنے بھائی سے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ملاقات نہ کروانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ
میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے اس میں موقف اختیار
کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 24 مارچ کوجیل حکام کو واضح احکامات جاری کیے تھے کہ ان کی عمران خان سے ملاقات کروائی
جائے لیکن درخواست گزار کے بقول جیل حکام نے اس عدالتی حکم نامے پر عمل درآمد نہیں
کیا۔
علیمہ خان کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست
میں اڈیالہ جیل روالپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کے علاوہ
وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری داخلہ پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔
اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی
فیصلے کو نظر انداز کرنے پر ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی
جائے۔
بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ سے تین افراد کی لاشیں برآمد, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ سے تین افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے تاحال صرف دو افراد کی شناخت ہوسکی ہے۔
لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر وحید نے بتایا ہے کہ دو افراد کی لاشیں ہسپتال منتقل کی گئی ہیں جن کا پوسٹ مارٹم جاری ہے۔
مرنے والے افراد کی تفصیلات جاننے کے لیے کیچ پولیس کے ایس ایس پی زوہیب محسن سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
تاہم کیچ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان میں سے دو افراد کی لاشیں تربت کے نواحی علاقے سے ملیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تربت کے نواحی علاقے سے دریافت ہونے والی لاشوں میں سے ایک کی شناخت ابوبکر کے نام سے ہوئی ہے جوکہ کہرین بل نگور کے رہائشی ہیں جبکہ دوسرے شخص کی شناخت طاہر احمد کے نام سے ہوئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ طاہر احمد کا تعلق کھڈان کے علاقے شُلی سے ہے ۔
تیسری لاش گومازی کے علاقے سے ملی ہے جن کی تاحال شناخت نہیں ہوئی۔
دشت کُھڈان میں رابطہ کر نے پر ایک پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ جن دو افراد کی لاشیں تربت کے نواحی علاقے سے ملی ہیں اگرچہ ان کا تعلق دشت سے بھی ہے لیکن وہ کُھڈان پولیس سٹیشن کی حدود سے نہیں بلکہ وہ تربت پولیس سٹیشن کی حدود سے ملی ہیں اور ان کی رہائش گوادر میں بھی ہے۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان افراد اور ان کی ہلاکت کے محرکات کے بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
ہانگ کانگ میں رہائشی عمارت میں آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 128، لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں پریشان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہانگ کانگ میں جمعرات کے روز رہائشی عمارتوں میں لگنے والی آگ سے جہاں اب تک 128 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے وہیں متعدد افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں پریشان ہیں۔
آگ سے متاثرہ علاقے سے ملحق شا ٹن کے ایک ہسپتال میں وونگ نام کی ایک خاتون اپنی بھابھی اور ان کے جڑواں بچوں کو تلاش کر رہی ہیں۔
38 سالہ وونگ اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے رو رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ابھی تک انھیں تلاش نہیں کر سکے۔ اس لیے ہم مختلف ہسپتالوں میں جا رہے ہیں تاکہ پوچھ سکیں۔‘
’ہم پہلے ہی دن پرنس آف ویلز ہسپتال میں انتظار کر رہے تھے لیکن کوئی خبر نہیں ملی۔ ہم کل بھی یہاں آئے تھے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنآگ لگنے کے بعد سے ہانگ کانگ میں انشورنس کمپنی کے حصص گر گئے
متاثرہ افراد کی شناخت کی امید میں کمیونٹی سینٹر میں موجود افراد کو پولیس نے آگ سے نکالی گئی لاشوں کی تصاویر دکھائیں۔ بہت سے خاندان اپنے لاپتہ پیاروں کے بارے میں مزید معلومات کے لیے بے چین ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹاور بلاک میں لگنے والی آگ میں اب کم از کم 128 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔جبکہ درجن بھر سے زائد افراد کی لاشیں عمارتوں کے اندر موجود ہیں۔
حکام نے بتایا کہ 50 سے زیادہ لوگ اب بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے متعدد کی حالت نازک اور تشویشناک ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آگ کی تحقیقات میں ہفتوں لگ سکتے ہیں: حکام
ہانگ کانگ میں لگنے والی آگ کی وجوہات سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ پولیس شواہد اکٹھے کرنے کے لیے آج وانگ فوک کورٹ کی عمارتوں میں داخل ہو گی اور اگلے تین سے چار ہفتوں میں تفتیش کی جائے گی۔