ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ ’افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے۔ افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈی جی کی صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر ہونے والی گفتگو 25 نومبر کو ہوئی تھی تاہم اس گفتگو کی ویڈیو 28 نومبر کو جاری کی گئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ طالبان کے اس دعوے میں کوئی منطق نہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے شہری ہیں جو ہجرت کر کے وہاں آئے ہیں، اگر وہ پاکستانی ہیں تو انھیں پاکستان کے حوالے کر دیا جائے۔ان کے مطابق ’کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہوکر پاکستان آتے اور دہشت گردی کرتے ہیں؟‘
ترجمان نے کہا کہ ’افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے، افغانستان سے انھیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے، جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔‘
ان کے مطابق ’ہم نے افغانستان کے سامنے تمام ثبوت رکھے جنھیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہےکہ وہ ایک قابل تصدیق میکینزم کے تحت معاہدہ کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان سے انخلا کے وقت سات ارب سے زائد کا اسلحہ افغانستان میں چھوڑا تھا اور اب یہی اسلحہ دہشتگردی میں استعمال ہو رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال اٹھایا کہ ’نان کسٹم پیڈ گاڑیاں خود کش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں صوبے میں گھوم رہی ہوں تو انھیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ سرحدی علاقوں میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’رواں سال ملک میں مجموعی طور پر ایک ہزار 873 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جن میں 136 افغان باشندے شامل ہیں۔‘
یاد رہے کہ جمعے کے روز ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کا مطلب یہ تھا کہ افغانستان کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہ پاکستان میں حملے نہیں کریں گے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا تھا کہ ’اس سیز فائر کے بعد بڑے دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں۔ لہٰذا اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو سیز فائر برقرار نہیں ہے، کیونکہ جنگ بندی کا مطلب ٹی ٹی پی، ایف اے کے اور افغان سرزمین استعمال کرنے والے افغان شہریوں کی جانب سے پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کا رک جانا تھا۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جمعے کے روز جاری ہونے والی اس ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ بارڈرمینجمنٹ پر سکیورٹی اداروں کےخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
’پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے،جہاں 20 کراسنگ پوائنٹس موجو دہیں، پاک افغان سرحد پرچوکیوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر بھی ہے، آبزرویشن اور فائر کور نہ ہونے پر بارڈر فینس مؤثر نہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبرپختونخوا میں بارڈر کے اطراف منقسم گاؤں موجود ہیں۔ خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول کرنا چیلنج ہے۔
انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا میں بارڈر مینجمنٹ دونوں اطراف کے ممالک مل کر کرتے ہیں، لیکن طالبان حکام دہشت گردوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی پر تمام حکومتوں اورسیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہےکہ اس کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے ۔اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے- جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی کمی نظر آتی ہے۔
ان کے مطابق ’اس نظام کے تحت ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور عمل درآمد کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔