مذاکرات سے ایک دن قبل امریکہ کا خصوصی جہاز مشرق وسطیٰ میں، ایران نے بھی خرمشہر- فور میزائل خفیہ مقام پر نصب کر دیے
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جمعے کو عمان میں ہوں گے۔ ایک طرف مذاکرات کی تیاریاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف امریکی جنگی طیارے بھی مشرق وسطی پہنچ رہے ہیں۔ کیا امریکہ اور ایران میں مذاکرات پر اتفاق کے باوجود کشیدگی میں کمی واقع نہیں ہو سکتی؟
خلاصہ
ایران کے ساتھ مذاکرات سے ایک دن قبل امریکہ کا خصوصی جہاز مشرق وسطی پہنچ گیا
امریکہ سے ایک تاریخی تجارتی معاہدہ آخری مراحل پر ہے جو جلد طے پا جائے گا: ایس جے شنکر
روس کے ساتھ جنگ میں 55000 فوجی ہلاک ہوئے، متعدد لاپتا ہیں: یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی
وینزویلا نے روس اور چین سے جو فضائی دفاعی نظام خریدے تھے وہ امریکی حملے کو پسپا کیوں نہیں کر سکے؟
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈیا کے جھوٹ کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے، انڈیا جس زبان میں بھی بات کرے گا اس کو اسی انداز میں جواب دیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف حالیہ آپریشن میں 216 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ کی
لائیو کوریج
ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی ایک
عدالت نے ستمبر 2024 میں امریکی ریاست فلوریڈا کے گولف کورس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو
قتل کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار ریان روتھ کو عمر قید کی سزا سنا دی
ہے۔
59 سالہ روتھ کو ویسٹ پام بیچ کے ٹرمپ انٹرنیشنل گالف کلب
میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مارنے کی کوشش کا مرتکب پایا گیا تھا۔ حملے کی کوشش کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی
امیدوار تھے۔
یاد رہے کہ امریکی خفیہ
سروس کے ایک ایجنٹ کو جھاڑیوں سے ایک رائفل کی بیرل دکھائی دی تھی جس کے بعد اس نے
روتھ پر فائرنگ کی تاہم روتھ اس وقت موقع سے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں انھیں قریب ہی
ایک مقام سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔
اپنے فیصلے میں جج ایلین
کینن نے لکھا ہے کہ روتھ کے جرائم ’بلاشبہ عمر قید کی سزا کے حقدار ہیں۔‘
فیصلے میں کہا گیا ہے
کہ روتھ نے کئی ماہ پر محیط اقدامات کے ذریعے ایک اہم صدارتی امیدوار کو قتل کرنے کی
کوشش کی اور اپنے راستے میں آنے والے کسی بھی شخص کو مارنے کا عزم ظاہر کیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے روتھ نے اپنے عمل سے متاثر ہونے والوں کے لیے نہ تو افسوس
کا اظہار کیا اور نہ ہی پچھتاوے کا۔
روتھ نے صحت جرم سے
انکار کیا تھا اور 8 ستمبر کو شروع ہونے والے مقدمے کی کارروائی کے دوران خود ہی اپنا
کیس لڑا تھا۔
جیوری کی جانب سے مجرم
قرار دیے جانے کے بعد روتھ نے ایک قلم اپنی گردن میں گھونپنے کی کوشش کی تھی تاہم
وہاں موجود سکیورٹی اہلکار انھیں پکڑ کر کمرہ عدالت سے باہر لے گئے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ کوئٹہ: ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا‘
،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ
مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں
بخشا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
پاکستانی فوج کے
شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بدھ کے روز آرمی چیف نے کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انھیں موجودہ سکیورٹی صورتحال اور داخلی سلامتی سے متعلق
جاری آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بیان کے مطابق، بریفنگ
کے دوران انھیں ’فتنہ الہندستان‘ کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں اور سکیورٹی فورسز کی
جانب سے بروقت ردِعمل کے متعلق آگاہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا
ہے کہ اجلاس کے دوران ریاستی رٹ کو مزید مضبوط بنانے، عوام اور اہم تنصیبات کے
تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل
عاصم منیر کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نہیں
بخشا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا مزید
کہنا تھا کہ کسی بھی بہانے سے تشدد اور دہشت گردی کو جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
عمران خان کے بیٹوں کا والد سے ملاقات کے لیے پاکستان آنے کا اعلان: ’حکومت جان بوجھ کر ویزے جاری نہیں کر رہی‘
،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/IMRAN KHAN
،تصویر کا کیپشنفائل فوتو
پاکستان کے سابق
وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹے قاسم
خان کا کہنا ہے وہ اور ان کے بھائی اپنے والد سے ملنے کے لیے پاکستان جانے کی کوشش کر
رہے ہیں لیکن حکومت جان بوجھ کر ان کے ویزے جاری نہیں کر رہی۔
برطانیہ میں مقیم عمران
خان کے بیٹے نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان
میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے والد کو 914 دنوں سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کا
دعویٰ ہے کہ عمران خان کی صحت بگڑ رہی ہے اور انھیں طبی دیکھ بھال کی آزادانہ
سہولیات تک رسائی بھی نہیں دی جا رہی۔
قاسم خان کا کہنا ہے
کہ وہ اور ان کے بھائی سلیمان اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان آنے کی کوشش کر
رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اب حکومت جان بوجھ کر ان کے ویزوں پر کارروائی نہیں کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ
کسی بھی قیدی کو طبی سہولیات مہیا کرنے سے انکار کرنا ظلم ہے جبکہ قیدی کو اپنے بچوں
سے نہ ملنے دینا اجتماعی سزا کے زمرے میں آیا ہے۔
’میں انسانی حقوق کی
بین الاقوامی تنظیموں اور حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آواز اٹھائیں اور کوشش
کریں اس سے قبل کہ ناقابل تلافی نقصان ہو جائے۔‘
برطانیہ میں مقیم
عمران خان کے بیٹے پہلے بھی ان خدشات کا اظہار کر چکے ہیں کہ جیل میں قید ان کے
والد کے لیے حالات سازگار نہیں۔
گذشتہ برس سکائی نیوز کی
یلدا حکیم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم نے اپنے
والد کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی تھی۔
عمران خان کے
چھوٹے بیٹے قاسم نے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے والد کو پینے کے لیے گندا پانی دیا
جاتا ہے جبکہ کھانے کا معیار بھی انتہائی خراب ہے۔
انھوں نے دعویٰ
کیا کہ عمران خان کو اپنے ذاتی معالج تک رسائی حاصل نہیں۔
یاد رہے کہ عمران
خان کی صحت کے حوالے سے گذشتہ ماہ تحریکِ انصاف نے ایک بیان میں ’باوثوق صحافتی ذرائع‘ کا حوالہ دیتے
ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی
مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان کو
علاج کے لیے اسلام آباد لایا گیا تھا۔
پاکستان کے وزیر
اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمران خان
کو ’آنکھوں کے ایک معمولی مسئلے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔‘ تاہم ان کے بقول
ان کی طبی حالت مستحکم ہے۔
بعد ازاں 30 جنوری
کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو
’دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت‘ پر 24 اور 25 جنوری کی کی درمیانی شب
ایک آپریشن تھیٹر میں طبی علاج فراہم کرنے کی تصدیق کی تھی۔
پمز ہسپتال کے
ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر کے ویڈیو بیان، جس کی پریس
ریلیز ہسپتال کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے، میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے
دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت کی تھی جس کے بعد ان کی آنکھ میں سینٹرل
ریٹینل وین آکلوژن کی تشخیص کی گئی تھی۔
پمز انتظامیہ کے
مطابق ہسپتال کے ایک سینیئر اور تربیت یافتہ آپٹامولوجسٹ نے اڈیالہ جیل میں عمران
خان کی آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا تھا۔ 'اس معائنے کی بنیاد پر عمران خان کی دائیں
آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کی تشخیص کی گئی اور ہسپتال میں علاج کی تجویز کی
گئی۔'
اس میں کہا گیا ہے
کہ عمران خان کو علاج کے لیے 'سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پمز ہسپتال لایا گیا
جس میں مریض کو بتایا گیا کہ انھیں اینٹی وی ای جی ایف انٹرا ویٹریئل انجیکشن
لگایا جائے گا۔'
بیان میں سابق
وزیر اعظم کے 'انفارمڈ کنسنٹ' کا بھی ذکر ہے۔ پمز انتظامیہ کے مطابق علاج سے قبل
عمران خان کو 'معلومات کی فراہمی کے بعد ان کی رضامندی حاصل کی گئی۔'
ایران امریکہ مذاکرات: ’کوشش ہے بات چیت کے ذریعے ایسا راستہ نکل آئے جس سے خطے میں منڈلا تے خطرات ختم ہو جائیں‘، وزیراعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کے حوالے سے بات
کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی کوشش ہے بات چیت کے ذریعے ایسا راستہ نکل آئے جس
سے خطے میں منڈلاتے خطرات ختم ہو جائیں۔
بدھ کے روز وفاقی
کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ایران میں اس وقت جو کشیدگی چل رہی ہے اس حوالے سے پاکستان
نے ایک بھائی کی حیثیت سے جو ہو سکتا تھا اپنا کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار
اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی ’مختلف اوقات میں ایرانی قیادت سے باقاعدہ
بالمشافہ ملاقات ہوئی، ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، مختلف جگہوں پر ان سے بات چیت کی، جو
ہم بھائی کے طور پر کردار ادا کیا جا سکتا ہے، ہم نے کیا۔‘
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ قطر، ترکی، مصر، عمان، سعودی
عرب کے ساتھ مل کر پوری کوشش ہے کہ بات چیت کے ذریعے ایک ایسا راستہ نکل آئے جس سے
خطے میں جو خطرات منڈلا رہے ہیں وہ ختم ہو جائیں اور خطے میں دیرپا امن قائم ہو جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اسے ایران اور امریکہ کے درمیان رواں ہفتے کے اختتام پر ہونے والے جوہری مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے جو کہ اس نے قبول کر لی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ’آئندہ چند دنوں میں‘ بات چیت ہو گی۔ ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ عمان، ترکی اور دیگر ممالک نے مذاکرات کی میزبانی کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے تاہم حتمی مقام کا تعین جلد کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی نئے ڈی جی ایف آئی اے سے ملاقات، ’ادارے میں بہتری کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے‘
،تصویر کا ذریعہPID
اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایف آئی اے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور نئے تعینات ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے ڈاکٹر عثمان انور کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے ان کی سربراہی میں ایف آئی اے ایک مثالی ادارہ بنے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ڈاکٹر عثمان انور عوام کی توقعات کے مطابق ایف آئی اے کو بہتر بنانے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں اور توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایف آئی اے کو جدید، مضبوط اور مؤثر ادارہ بنانے کے لیے ان کی مکمل حمایت حاصل رہے گی۔
ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کے ذریعے ایف آئی اے کو عالمی معیار پر لایا جائے گا اور ادارے میں بہتری کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ نے ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں زیرِ تعمیر کمیٹی روم کا بھی معائنہ کیا اور ادارے کی جدید ضروریات کے مطابق ازسرِنو تعمیر و تزئین و آرائش کا فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈی جی این سی سی آئی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
حالیہ احتجاج میں 150 طلبہ ہلاک ہوئے: ایرانی ٹیچرز یونینز کی رابطہ کونسل
ایرانی ٹیچرز یونینز کی رابطہ کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں میں 150 طلبہ ہلاک ہوئے ہیں۔
تنظیم نے اعلان کیا کہ ایک سو پچاس خالی بینچز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک سے کیا چھین لیا گیا ہے۔ جینے کا امکان، سیکھنے کا حق، اور بغیر کسی خوف کے بڑھنے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ یہ بچے مارے گئے، لیکن اس سے پہلے، انھیں کئی بار مٹا دیا گیا، سکول سے، گلی سے، سرکاری بیانیے سے، اور اس یاد سے جسے حکومت کنٹرول کرنا چاہتی تھی۔‘
کونسل نے کہا ہے کہ ’جب تک یہ بنچ خالی ہیں، کوئی روشن مستقبل نہیں ہے۔‘
لاکھوں ملازمین کے حقوق کا مقدمہ ہارنے والے وہ وکیل جو اپنی بے بسی پر رو پڑے, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہX
’پاکستان بھر میں لاکھوں لوگوں نے میری کہانی دیکھی اور میں نے انھیں بتایا، دیکھو، میں اس لیے نہیں رو رہا تھا کہ میری تذلیل ہوئی۔ مجھے منصفانہ ٹرائل نہیں دیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ عید کے موقع پر 10 لاکھ مزدوروں کے 4 لاکھ 80 ہزار خاندان متاثر ہوں گے۔ وہ خاندان جو 10 سال سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، میں ان کو کیا جواب دوں گا؟‘
ایڈووکیٹ طارق منصور کی آئینی درخواست منگل کو عدالت نے مسترد کر دی تھی، جس کے بعد وہ دلبرداشتہ ہو کر رو پڑے۔ ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی زیرِ بحث رہی۔
انھوں نے اپنی آئینی درخواست میں سندھ کے لیبر قوانین کی بعض شقوں کو چیلنج کیا تھا۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ان شقوں کی وجہ سے صوبے بھر میں آٹھ لاکھ سے زائد کنٹریکٹ ورکرز عملاً ’غیر قانونی‘ حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
یہ مقدمہ سندھ فیکٹریز ایکٹ 2014 اور سندھ شاپس اینڈ کمرشل اسٹیبلشمنٹس قانون میں ’ورکر‘ کی تعریف تبدیل کیے جانے کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ نئی تعریف کے تحت کنٹریکٹر، سب کنٹریکٹر، مڈل مین یا آؤٹ سورسنگ کمپنی کے ذریعے ملازمت کو محدود یا ممنوع قرار دیا گیا، حالانکہ صوبے میں یہی نظام وسیع پیمانے پر رائج ہے۔
درخواست گزار کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں لاکھوں مزدور اگرچہ کام کر رہے ہیں لیکن قانونی طور پر انھیں ورکر تسلیم نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے انھیں کم از کم اجرت، سوشل سکیورٹی، پنشن، ویلفیئر فنڈ اور دیگر قانونی مراعات نہیں ملتیں۔
اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ شقیں آئین پاکستان کے آرٹیکل 8، 9، 10 اے، 14 اور 25 کی خلاف ورزی ہیں اور پاکستان کی جانب سے توثیق شدہ آئی ایل او کنونشنز اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق معاہدوں سے بھی متصادم ہیں۔
وکیل کے مطابق اس مسئلے سے براہِ راست آٹھ لاکھ سے زائد مزدور اور بالواسطہ طور پر تقریباً چالیس لاکھ افرادِ خانہ متاثر ہو رہے ہیں۔
کراچی میں ایڈووکیٹ طارق منصور نے مفادِ عامہ میں یہ درخواست 2017 میں دائر کی تھی۔ مختلف اوقات میں کئی بینچوں نے سماعت کی، لیکن بعض ججز کے تبادلے اور ترقی کے باعث کیس بار بار التوا کا شکار ہوا۔
سنہ 2023 میں وکیل نے کیس کو دوبارہ فوری سماعت کے لیے مقرر کرانے کی درخواست دی۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کیس کو حتمی دلائل کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔
ایڈووکیٹ طارق منصور کے مطابق جیسے ہی انھوں نے دلائل کا آغاز کیا، عدالت نے زبانی سماعت سے انکار کرتے ہوئے تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا۔ جب انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت انھیں سنے جانے کا حق حاصل ہے تو بینچ نے ان سے دریافت کیا کہ وہ آٹھ لاکھ لوگ کہاں ہیں جن کا وہ حوالہ دے رہے ہیں۔
طارق منصور کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت میں کھلے عام کہا کہ ’اگر آپ ہمیں نہیں سنتے تو ہمیں اس معاملے پر اقوام متحدہ کے مندوب، آئی ایل او اسلام آباد اور اقوام متحدہ کی کونسل کو خط لکھنے کا حق ہے، جس میں کہا جائے گا کہ عدالتیں آئی ایل او کنونشنز اور اقوام متحدہ کے کنونشنز کی تعریف نہیں کر رہیں جن کی پاکستان نے توثیق کی ہے۔‘
وکیل کے مطابق عدالت نے جواب دیا کہ ’آگے بڑھو، جس سے چاہو شکایت کرو اور جو چاہو خط لکھو۔‘ مزید اصرار پر عدالت نے پولیس اہلکاروں کو بلانے کا حکم دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس کمپنیوں کی فہرست ہے جس میں آٹھ لاکھ کارکنان کام کرتے ہیں، لیکن عدالت نے ہمیں یہ ظاہر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔ ہمیں روکا گیا۔ مطلب یہ کہ ہمیں منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا کیونکہ سب کچھ بے نقاب ہو جاتا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں حکومت کی طرف سے کافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور مقدمہ واپس لینے کا بھی مشورہ دیا گیا، لیکن انھوں نے واضح کیا کہ وہ کوئی دباؤ نہیں لیں گے اور اپنی زندگی کے آخری دم تک لڑیں گے۔
ان کے مطابق تاخیری حربے استعمال کیے گئے اور بورڈ سے کیس خارج کر دیا گیا۔ فہرست کو حتمی شکل نہیں دی جا رہی تھی۔ کیس کو ایک جج سے دوسرے جج کو منتقل کیا گیا۔ انھیں معلوم تھا کہ استغاثہ نہ ہونے کی وجہ سے تکنیکی بنیادوں پر اسے خارج کیا جا سکتا ہے، اس لیے وہ ہر سماعت پر حاضر ہوتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ دس سال سے یہ کیس اپنی جیب سے یہ کیس لڑ رہے ہیں۔ انھیں اپنی تذلیل کا دکھ نہیں، بلکہ اس بات کا دکھ ہے کہ لاکھوں مزدوروں کو پھر سے خاموش رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔ بیشتر متاثرہ مزدور ماہانہ تقریباً 25 ہزار روپے کماتے ہیں اور عدالتوں تک رسائی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
ایڈووکیٹ طارق منصور انسانی حقوق کمیشن اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد میں آئینی بینچ سے رجوع کریں گے اور آئی ایل او اور اقوام متحدہ کے اداروں کو شکایت ارسال کریں گے۔
ایران میں انٹرنیٹ سروس غیر مستحکم‘ ہے، انٹیلیجنس فرم کا دعویٰ
ایران میں انٹرنیٹ کی جزوی بحالی کے باوجود سروس کو غیر مستحکم قرار دیا جا رہا ہے۔ گذشتہ ماہ شدید بندش کے بعد محققین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی مسائل کا شکار ہے۔
ایرانی حکومت نے 8 جنوری کو اس وقت ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا تھا، جب حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر گئے تھے اور ان میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
نیٹ ورک انٹیلیجنس فرم کینٹک کے ڈائریکٹر آف انٹرنیٹ اینالیسس ڈگ میڈوری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ایران میں کنیکٹیویٹی ’غیر مستحکم‘ ہے۔ ان کے مطابق مختلف اوقات میں مختلف صارفین کے لیے مختلف سروسز بلاک کی جاتی ہیں اور یہ صورتحال دن بھر بدلتی رہتی ہے۔ یہی بات انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس بھی رپورٹ کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’عام طور پر سمجھا جا رہا ہے کہ یہ ایک نئے سینسرشپ سسٹم کا نتیجہ ہے جو نافذ کیا گیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ بلاکنگ کی غیر مستحکم نوعیت اسی نظام کا متوقع رویہ ہے یا پھر یہ اس بات کی علامت ہے کہ نظام درست طور پر کام نہیں کر رہا۔‘
اردن میں امریکی لڑاکا طیارے ’دفاعی بیک سٹاپ‘ کے لیے ہیں: ماہرین
ماہرین کے مطابق اردن میں امریکی لڑاکا طیاروں کی موجودگی خطے میں دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حال ہی میں امریکی ایف-15 لڑاکا طیارے اردن کے موافق سَلتی ایئر بیس پر پہنچے ہیں۔ دو فروری کی تازہ تصاویر میں ایک درجن ایف-15 طیارے مرکزی رن وے کے ساتھ قطار میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ قریب ہی دیگر طیارے بھی موجود ہیں، جن میں ایم کیو-9 ریپر ڈرون اور زمینی حملوں کے لیے تیار کیے گئے اے-10 سی تھنڈربولٹس شامل ہیں۔
بی بی سی ویریفائی نے جسٹن کرمپ، جو رسک اور انٹیلیجنس کمپنی سیبلائن کے سی ای او ہیں، سے اس بارے میں رائے لی کہ یہ پیش رفت خطے میں امریکی فوجی موجودگی سے کس طرح جڑی ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس پہلے ہی زمین اور سمندر پر اتنی فضائی طاقت موجود ہے کہ وہ ایران کے خلاف روزانہ سیکڑوں حملے کر سکتا ہے۔ تاہم اردن میں ان طیاروں کی موجودگی ایک ’بیک سٹاپ‘ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، تاکہ کسی ممکنہ تنازع کی صورت میں ایران یا اس کے اتحادیوں کی جوابی کارروائی کے خلاف خطے کا دفاع کیا جا سکے۔
ایران سے یورینیئم واپس لینے کی تجویز زیر غور ہے: روس
،تصویر کا ذریعہReuters
روسی وزارت خارجہ نے بُدھ کے روز کہا ہے کہ امریکی خدشات کو کم کرنے کے معاہدے کے تحت ایران سے یورینیئم واپس لینے کی تجویز ابھی بھی میز پر ہے۔ لیکن اب تہران کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔‘
دو روز قبل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ میں خارجہ پالیسی کے نائب علی باقری نے کہا تھا کہ ’ایرانی حکام کا کسی بھی ملک کو افزودہ جوہری مواد کی منتقلی کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور مذاکرات ایسے کسی مسئلے کے بارے میں بالکل نہیں ہیں۔‘
یہ ریمارکس کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے روس میں ایرانی افزودہ یورینیئم کو ذخیرہ کرنے کے بارے میں تہران اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کیے گئے تبصروں کے جواب میں ہیں کہ ’یہ مسئلہ کافی عرصے سے ایجنڈے پر ہے۔‘
تہران چاہتا تھا مذاکرات پھر سے عمان میں ہوں اور یہ عمانی ثالثی میں ہی جاری رہیں: ایرانی عہدیدار
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو استنبول سے عمان منتقل کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ یہ بات چیت اُن مذاکرات کا تسلسل ہو جو عمان کی ثالثی میں ایران کے جوہری پروگرام پر شروع ہوئے تھے۔ یہ مذاکرات 12 روزہ جنگ سے قبل شروع کیے گئے تھے۔
اس ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران نے ابتدا ہی سے واضح کر دیا تھا کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر بات کرے گا، جبکہ امریکہ چاہتا تھا کہ دیگر موضوعات بھی ایجنڈے میں شامل کیے جائیں۔
ایک علاقائی ذریعے نے مزید بتایا کہ ایران اس بات سے آگاہ تھا کہ مذاکرات کے لیے استنبول میں تیاری کے دوران خطے کے دیگر ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے بعد عالمی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی منڈیوں میں آج کے پہلے تجارتی سیشن میں سونے کی قیمت 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 5,071 ڈالر فی اونس ہوگئی۔
اپریل کی ترسیل کے لیے امریکی سونے کے سودے بھی 2.3 فیصد بڑھ کر 5,092 ڈالر فی اونس ہو گئے۔
ادھر امریکی فوج نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا ہے جو بحیرہ عرب میں طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کے قریب ’جارحانہ انداز میں‘ آیا تھا۔
اکسیوس نیوز نے منگل کے روز ایک عرب ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات جمعہ کو عمان میں ہونے والے ہیں۔
اس سے پہلے یہ مذاکرات ترکی میں ہونے والے تھے۔
امریکہ سے مذاکرات سے قبل ایران کے قطر، ترکی اور عمان سے رابطے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکی، قطر اور عمان کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔
ان فون کالز میں عباس عراقچی نے ’تناؤ کو کم کرنے اور خطے میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے میں مدد‘ کے لیے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی میڈیا نے اس بارے میں مزید تفصیلات شائع نہیں کیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کی اپنے تین غیر ملکی ہم منصبوں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت ایسے وقت ہوئی ہے جب جمعے کو امریکی اور ایران کے حکام کی ملاقات طے ہے۔
ایک امریکی نیوز ویب سائٹ اکسیوس نیوز کے مطابق یہ ملاقات استنبول، ترکی میں ہونے والی تھی، لیکن بعد میں اسے عمان منتقل کر دیا گیا۔
اکسیوس نیوز نے ایک عرب ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منگل کے اواخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات جمعہ کو عمان میں ہونے کی توقع ہے۔
نئے کرنسی نوٹ جدید حفاظتی فیچرز کے ساتھ تیار کر کے کابینہ کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں: گورنر سٹیٹ بینک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا، جس میں مالیاتی رازداری، بجٹ، خواتین کی مالی شمولیت، نئے کرنسی نوٹ اور بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس فیس وصول کرنے جیسے معاملات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر محمد عبدالقادر اور سینیٹر دانش کمار شریک ہوئے۔
کمیٹی نے کمرشل بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس الرٹس اور دیگر خدمات پر اضافی فیس وصول کرنے کے عمل پر سخت تنقید کی اور سفارش کی کہ یہ فیس فوری طور پر ختم کی جائے۔ چیئرمین نے گورنر سٹیٹ بینک کو ہدایت دی کہ اس معاملے پر فوری نوٹس لیا جائے اور آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی جائے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر کی جانب سے بھیجے گئے ایس ایم ایس صرف رجسٹرڈ اکاؤنٹ ہولڈرز کو گئے اور اس سے ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے، کسی مالیاتی رازداری کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ اب سہ ماہی بنیادوں پر جاری کیا جا رہا ہے اور منصوبوں پر کام تسلی بخش ہے، تاہم خواتین کی مالی شمولیت سے متعلق کئی منصوبوں میں تاخیر پر کمیٹی نے تشویش ظاہر کی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ مائیکروفنانس اداروں کے ذریعے خواتین کو 20 ارب روپے سے زائد فراہم کیے گئے ہیں، لیکن رفتار پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے الگ تفصیلی بریفنگ طلب کی گئی۔
گورنر سٹیٹ بینک نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ نئے کرنسی نوٹ جدید حفاظتی فیچرز کے ساتھ تیار کر کے کابینہ کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ چیئرمین نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی کی پرانی سفارش تھی تاکہ جعلی کرنسی پر قابو پایا جا سکے۔
اجلاس میں کاروباری برادری کو درپیش مسائل بھی زیر بحث آئے اور کمیٹی نے کاروبار دوست پالیسیوں کی سفارش کی۔ وزیر خزانہ نے یقین دلایا کہ حکومت کاروباری طبقے کو مکمل سہولت فراہم کرے گی۔ سپر ٹیکس کے معاملے پر ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کو کیس ٹو کیس بنیاد پر سہولت دینے کا وعدہ کیا۔
انڈیا کا میزائل کی رینج بڑھانے والی ٹیکنالوجی کا ’کامیاب‘ تجربہ
،تصویر کا ذریعہPIB Delhi
انڈیا نے میزائل کی رینج بڑھانے والی فضا سے فضا میں مار کرنے والی ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا ہے۔
انڈیا کی دفاعی تحقیق و ترقیاتی تنظیم (ڈی آر ڈی او) نے سالڈ فیول ڈکٹڈ ریم جیٹ (ایس ایف ڈی آر) ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس کامیاب مظاہرے پر ڈی آر ڈی او اور صنعت کو مبارکباد دی۔
انڈیا کی وزارت دفاع کے مطابق یہ تجربہ گذشتہ روز 3 فروری کی صبح تقریباً 10 بج کر 45 منٹ پر اڑیسہ کے ساحل پر واقع انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج (آئی ٹی آر) چندی پور سے کیا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق اس کامیاب تجربے کے بعد انڈیا ان چند ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو اس جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہیں، جس کی مدد سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی میزائل تیار کیے جا سکتے ہیں اور دشمن پر برتری حاصل کی جا سکتی ہے۔
بیان کے مطابق اس تجربے کے دوران تمام ذیلی نظام، بشمول نوزل لیس بوسٹر، سالڈ فیول ڈکٹڈ ریم جیٹ موٹر اور فیول فلو کنٹرولر، توقعات کے مطابق کام کرتے رہے۔ انھیں ابتدائی طور پر گراؤنڈ بوسٹر موٹر کے ذریعے مطلوبہ رفتار (میچ نمبر) تک پہنچایا گیا۔ نظام کی کارکردگی کی تصدیق پرواز کے دوران حاصل کیے گئے ڈیٹا سے ہوئی، جو کہ خلیج بنگال کے ساحل پر چندی پور میں نصب مختلف ٹریکنگ آلات کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا۔
اس لانچ کی نگرانی ڈی آر ڈی او کی مختلف لیبارٹریوں کے سینیئر سائنسدانوں نے کی، جن میں ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ لیبارٹری، ہائی انرجی میٹیریلز ریسرچ لیبارٹری، ریسرچ سینٹر امامت اور آئی ٹی آر شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ضلع کرم کا دورہ، متاثرین کے لیے امدادی پیکج میں اضافے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہPTI
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع کرم کا دورہ کرتے ہوئے آپریشن کے متاثرین کے لیے امدادی پیکیج میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ متاثرین کو پہلے دی جانے والی امداد ایک لاکھ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر دو لاکھ 30 ہزار روپے کر دی گئی ہے تاکہ ان کی مشکلات کم ہو سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ وہ بے گھر افراد جو میزبان گھروں میں مقیم ہیں، انھیں بھی امدادی پیکیج فراہم کیا جائے گا تاکہ کسی متاثرہ خاندان کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ انھوں نے قبائلی بے گھر افراد کے دوہرے پتے کے مسئلے کو حل کرنے کا بھی وعدہ کیا، جس کی وجہ سے کئی خاندان امداد سے محروم رہ جاتے تھے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام متاثرین کو ضلع خیبر کے متاثرین کے طرز پر امداد فراہم کی جائے گی تاکہ انصاف اور مساوات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انھوں نے زور دیا کہ ہمیں مہذب قوموں کی طرح باہمی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ترقی اور خوشحالی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
وفاقی آئینی عدالت کا ’ب ع پ‘ کے حق میں فیصلہ، پی پی پی صوبائی اسمبلی کی نشست سے محروم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 حب سے متعلق انتخابی عذرداری کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے بلوچستان عوامی (ب ع پ) پارٹی کے امیدوار محمد صالح بھوتانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں کامیاب قرار دیا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار علی حسن زہری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 29 جنوری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے تحت بلوچستان ہائی کورٹ کا 20 دسمبر 2024 اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کا 16 دسمبر 2024 کا فیصلہ ختم کر دیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن کا اقدام سپریم کورٹ کے 20 نومبر 2024 کے حکم کی صریح خلاف ورزی تھا، کیونکہ سپریم کورٹ فریقین کی رضامندی سے تمام سابقہ کارروائیاں منسوخ کر چکی تھی۔ اس لیے الیکشن کمیشن پرانی گنتی کے نتائج پر دوبارہ انحصار نہیں کر سکتا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ دوبارہ گنتی کا حکم صرف ٹھوس شواہد اور بے ضابطگیوں کے ثبوت کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔
فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن 39 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ گنتی کی درخواستوں کا نئے سرے سے جائزہ لے گا اور یہ عمل سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں دو ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ ان نئے فیصلوں تک محمد صالح بھوتانی کی کامیابی برقرار رہے گی۔
واضح رہے کہ علی حسن زہری کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا، جسے صالح بھوتانی نے چیلنج کیا۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے علی حسن زہری کو کامیاب قرار دیا تھا، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اب وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
قصور: چار سالہ بچی کے ساتھ مبینہ ریپ کا مقدمہ درج، متاثرہ بچی ویران چاردیواری میں روتی ہوئی ملی: پولیس, آسیہ انصر، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر
پنجاب کے شہر قصور میں ایک چار سالہ بچی کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کا واقعہ پیش
آیا ہے جس کی پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
پنجاب پولیس کے حکام کے مطابق ڈاکٹرز نے ابتدائی معائنے کے بعد متاثرہ بچی کے ساتھ ریپ کی تصدیق
کی ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ بچی انھیں ایک ویران چاردیواری میں رات تقریبا آٹھ
بجے روتی ہوئی ملی جسے ریسکیو کر کے پہلے ڈی ایچ کیو ہسپتال لے جایا گیا اور اس کے
بعد جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹرز نے ابتدائی معائنے میں ریپ کی تصدیق کی جس کے بعد بچی کا
ٹریٹمنٹ کیا گیا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ مشتبہ ملزم کی
گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے جبکہ جس چار دیواری میں بچی پائی گئی وہاں سے بھی
شواہد اکھٹے کر کے فرانزک کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔
’کرائم سین سے مڑے ہوئے دس دس روپے کے دو نوٹ‘
ڈی پی او قصور عیسیٰ خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ تین فروری کی رات تقریبا آٹھ بجے کا ہے جب پولیس کو ایک چار دیواری کے اندر تقریبا چار سال کی بچی ملی جس کے کپڑے خون میں لت پت تھے۔
ڈی پی او قصور کے مطابق کیس کی تفتیش کے لیے مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈی پی او قصور کے مطابق ’میں نے رات کرائم
سین کا جائزہ لیا جہاں سے شواہد اکھٹے کرنے کے دوران اس مقام سے مڑے ہوئے دس دس
روپے کے دو نوٹ بھی ملے ہیں جبکہ دیگر شواہد اور تفصیلات کا بھی باریک بینی سے
جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
’والدین بچی کی گھر میں غیر موجودگی سے لا علم تھے‘: پولیس
ڈی پی او قصور کے مطابق ’بدقسمتی سے متاثرہ بچی کے والدین لا علم تھے کہ ان کی بیٹی گھر میں نہیں اور اس
کے ساتھ سانحہ پیش آ گیا ہے۔‘
ڈی پی او قصور کے مطابق ’ایک مشکل کام یہ تھا کہ بچی کے والدین کا پتا نہیں چل رہا تھا نہ کسی نے اس عمر کی بچی کے لاپتا یا غائب ہونے کی رپورٹ کروائی تھی تاہم چھوٹی بچی کی حالت کچھ سنبھلنے پرلیڈی پولیس نے بچی اس سے والد کے نام اور پیشے سے متعلق کچھ معلومات لیں۔‘
پولیس کے مطابق ’اس علاقے سے جہاں سے بچی ملی وہاں تمام مساجد میں اعلانات بھی کروائے گئے اور یوں رات بھر کی تلاش کے بعد صبح سات بجے بچی کے ٹھکانے کا پتا چلا۔‘
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا
پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے کے
مطابق ’پولیس کو گشت کے دوران مصطفی آباد کے علاقے میں ایک شہری نے اطلاع دی کہ ایک
بچی خون آلود کپڑوں میں ملبوس ایک پلاٹ میں پڑی ہوئی ہے۔
مقدمے کے مطابق ’بچی کی ظاہری حالت سے محسوس
ہوا کہ اس کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جائے وقوع سے لیڈی پولیس اہلکار کی مدد
سے قصور کے سرکاری ہسپتال روانہ کیا گیا‘
ڈی پی او قصور کے مطابق ’ابتدائی طبی معائنے کے بعد بچی کو جنرل ہسپتال منتقل کیا
گیا جہاں ماہر امور نسواں کی مدد سے جنرل انیستھیزیا (بے ہوشی) میں بچی کی بلیڈنگ روکی
گئی اور اس کو طبی امداد فراہم کی گئی۔‘
پولیس کے مطابق ڈی این اے کے نمونے فرانزک کے
لیے بھیج دیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بلوچستان میں حملوں کی مذمت،’ذمہ داروں کوانصاف کے کٹہرے میں لایا جائے‘
،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعلیٰ سرفراز بُگٹی کے مطابق بلوچستان میں 40 گھنٹوں کے دوران کیے گئے آپریشنز میں 145 شدت پسند ہلاک ہوئے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف مقامات پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
سلامتی کونسل کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان میں زور دیا گیا ہے کہ دہشت گردی، چاہے کسی صورت میں ہو، بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔
سلامتی کونسل کے مطابق ’ان مذموم دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذمہ دار افراد، منتظمین، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘
بیان میں دیگر رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت پاکستان کی حکومت کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
بیان کے مطابق ’تمام ریاستوں کو ہر ممکن طریقے سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے دیگر تقاضوں کے مطابق، دہشت گردی سے پیدا ہونے والے امن و سلامتی کے خطرات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت متعدد شہروں میں سنیچر 31 جنوری 2026 کو شدت پسندوں کے حملے کیے گئے تھے۔
حملوں کے اگلے روز وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بُگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں گذشتہ 40 گھنٹوں کے دوران کیے گئے آپریشنز میں 145 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سنیچر کے روز ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 31 شہری اور 17 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے قبل سنیچر کی شب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 92 شدت پسند اور 15 اہلکار ہلاک ہوئے۔
امریکہ کے ساتھ مذاکرات آئندہ چند روز میں ہوں گے: ایران کا دعویٰ
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نےدعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات ’آئندہ چند روز میں طے‘ کیے جائیں گے۔
اسماعیل بقائی نے ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا کہ عمان، ترکی اور چند دیگر ممالک نے ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم حتمی مقام جلد ہی طے کر لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ منگل کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی تصدیق کی تھی۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان امریکی جنگی جہاز ابراہم لنکن کے ذریعے ایک ایرانی ڈرون کو نشانہ بنا کر مار گرائے جانے کے بعد وضاحت کر چکے ہیں کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکاف کا ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کا پروگرام بدستور برقرار ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران میں دسمبر کی احتجاجی تحریک میں ہزاروں مظاہرین پولیس اور سکیورٹی فورسز کے سخت کریک ڈاؤن میں ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔