آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مذاکرات سے ایک دن قبل امریکہ کا خصوصی جہاز مشرق وسطیٰ میں، ایران نے بھی خرمشہر- فور میزائل خفیہ مقام پر نصب کر دیے

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جمعے کو عمان میں ہوں گے۔ ایک طرف مذاکرات کی تیاریاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف امریکی جنگی طیارے بھی مشرق وسطی پہنچ رہے ہیں۔ کیا امریکہ اور ایران میں مذاکرات پر اتفاق کے باوجود کشیدگی میں کمی واقع نہیں ہو سکتی؟

خلاصہ

  • ایران کے ساتھ مذاکرات سے ایک دن قبل امریکہ کا خصوصی جہاز مشرق وسطی پہنچ گیا
  • امریکہ سے ایک تاریخی تجارتی معاہدہ آخری مراحل پر ہے جو جلد طے پا جائے گا: ایس جے شنکر
  • روس کے ساتھ جنگ میں 55000 فوجی ہلاک ہوئے، متعدد لاپتا ہیں: یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی
  • وینزویلا نے روس اور چین سے جو فضائی دفاعی نظام خریدے تھے وہ امریکی حملے کو پسپا کیوں نہیں کر سکے؟
  • وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈیا کے جھوٹ کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے، انڈیا جس زبان میں بھی بات کرے گا اس کو اسی انداز میں جواب دیا جائے گا۔
  • آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف حالیہ آپریشن میں 216 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ کی

لائیو کوریج

  1. وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا،ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ کا فیصلے پر مایوسی کا اظہار

    پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے کینیا میں قتل ہونے والے پاکستانی صحافی اور اینکر ارشد شریف کے ازخود نوٹس کیس کو نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان اور کینیا کے درمیان میوچل لیگل اسسٹنس(ایم ایل اے) پر دستخط ہوچکے ہیں اور اس کے بعد اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

    منگل کے روز وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامرفاروق کا تحریر کیا گیا فیصلہ جاری کیا۔

    14 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانیوں کا دکھ سمجھتے ہیں، ورثا کسی بھی شکایت پر داد رسی کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔‘

    فیصلے کے مطابق تحقیقات کی نگرانی یا اسے مستقل زیرِ التوا رکھنا ملزم کے حقوق اور شفافیت کے منافی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستانی صحافی ارشد شریف 23 اکتوبر کی رات کینیا کے علاقے مگاڈی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بین الاقوامی فورمز پر جانے کا معاملہ حکومت کی صوابدید اور خارجہ پالیسی پر چھوڑ دیا ہے۔

    ’آج عدالت کے فیصلے نے مجھے شدید مایوس کیا‘: جویریہ ارشد کا رد عمل

    ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ نے عدالتی فیصلے پر رد عمل میں اس جو مایوس کن قرار دیا ہے۔

    ایکس پر لکھے پیغام میں جویریہ نے کہا کہ ’ارشد قتل کیس میں ناانصافی اور غم نے مجھے توڑ دیا ہے۔ حکومت کی بے عملی اور خاموشی کانوں کو بہرا کر دینے والی ہے۔‘

    جویریہ کے مطابق ’مجھے ذاتی حیثیت میں کینیا کی عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ آج عدالت کے فیصلے نے مجھے شدید مایوس کیا۔‘

    پوسٹ کے مطابق ’یہ مقدمہ پاکستان میں صحافتی آزادی کا امتحان تھا اور ایک ایسے شہری کے لیے انصاف حاصل کرنے کی کوشش تھی جسے تین ملکوں میں نشانہ بنایا گیا اور بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ واقعی یہ ایک سیاہ دن ہے۔‘

    کینیا کی عدالت کا پولیس کی فائرنگ کو ’دانستہ، غیر ضروری اور غیر قانونی‘ قرار دینا

    پاکستان کے صحافی اور اینکر ارشد شریف اکتوبر 2022 میں کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے 110 کلومیٹر کے فاصلے پر فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    مقامی پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے شناخت میں غلط فہمی پر اس گاڑی پر گولیاں چلائیں تھیں جس میں ارشد شریف سوار تھے۔

    تاہم جولائی 2024 میں کینیا میں کاجیادو ہائیکورٹ نے پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کو ’دانستہ، غیر ضروری اور غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔

    عدالت نے پبلک پراسیکیوشن اور پولیسنگ اوورسائٹ اتھارٹی دونوں کو یہ حکم دیا تھا کہ ارشد شریف کی ہلاکت پر تحقیقات مکمل کی جائیں اور اس میں اگر پولیس اہلکار قصوروار ثابت ہوتے ہیں تو ان کو سزائیں دی جائیں۔

    کینیا کی عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ پولیس کے جنرل سروس یونٹ کے دو اہلکاروں کی جانب سے ارشد شریف کو سر میں گولی مارنے کا فیصلہ ’دانستہ، غیر ضروری، غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔‘

    کینیا کی عدالت کے فیصلے کے مطابق معروف پاکستانی صحافی ارشد شریف کی ہلاکت میں ملوث پولیس اہلکاروں نے نہ صرف انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کی بلکہ انھوں نے اپنے قواعدوضوابط کو بھی نظرانداز کیا۔

    عدالت نے حکومت کو ارشد شریف کی بیوہ اور درخواست گزار جویریہ صدیق کو ایک کروڑ کینین شیلینگ (77972.71 امریکی ڈالر) ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

  2. ترک صدر اور سعودی ولی عہد کی ملاقات: ’ترکی شام کی تعمیرِ نو کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرے گا‘

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی منگل کے روز ریاض میں ملاقات ہوئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرزنے ترک صدر کے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی قابلِ تجدید توانائی اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی اور بلند سطح پر لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔

    ترک صدر کے دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اردوغان نے سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ ترکی شام میں استحکام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا اور شام کی تعمیرِ نو کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرے گا۔

    یاد رہے کہ رجب طیب اردوغان نے سعودی عرب کا دورہ دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد کیا ہے۔

    حالیہ برسوں میں ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے، اور دونوں ممالک نے غزہ اور 2024 میں بشار الاسد کی معزولی کے بعد شام کی نئی حکومت کی حمایت سمیت متعدد سفارتی امور پر تعاون کیا ہے۔

  3. لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی مبینہ طور پر گولی لگنے سے ہلاک

    لیبیا کے سابق رہنما کرنل معمر قذافی کے بیٹے سيف الاسلام قذافی کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا ہے۔

    ان کی عمر 53 برس تھی اور انھیں طویل عرصے تک اپنے والد کے بعد ملک کی سب سے بااثر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

    لیبیا نیوز ایجنسی کے مطابق ان کی موت کی تصدیق منگل کے روز ان کی سیاسی ٹیم کے سربراہ نے کی ہے۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ ایک چار رکنی کمانڈو یونٹ نے زنتان شہر میں ان کے گھر پر حملہ کیا، تاہم حملہ آوروں کی شناخت واضح نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب ان کی بہن نے دعویٰ کیا کہ وہ الجزائر کی سرحد کے قریب ہلاک ہوئے۔

    1972 میں پیدا ہونے والے سيف الاسلام نے 2000 سے لے کر قذافی حکومت کے خاتمے تک مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    تاہم 2011 میں اپنے والد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ان پر حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام لگا۔

    انھیں زنتان میں ایک حریف ملیشیا نے تقریباً چھ سال تک قید رکھا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلانے کی کوشش کی، جبکہ 2015 میں طرابلس کی ایک عدالت نے انھیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ دو سال بعد انھیں مشرقی شہر طبرق میں ایک عام معافی کے قانون کے تحت رہا کر دیا گیا۔

    قذافی کے زوال کے بعد سے لیبیا مختلف ملیشیاؤں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں تقسیم ہے اور فی الحال دو حریف حکومتوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔

    سيف الاسلام نے 2021 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، تاہم یہ انتخابات غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیے گئے۔

    سیف الاسلام قذافی کی ابتدائی زندگی پر ایک نظر

    سیف الاسلام قذافی 25 جون 1972 کو طرابلس میں پیدا ہوئے۔ وہ قذافی کی دوسری بیوی کے بڑے بیٹے اور لیبیا کے رہنما کے نو بچوں میں سے دوسرے ہیں۔

    1995 میں سیف الاسلام نے طرابلس کی الفتح یونیورسٹی سے فن تعمیر میں ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد ان کے والد نے اسے ہوٹلوں، مسجد اور رہائش گاہوں کے ساتھ ایک بہت بڑا رئیل سٹیٹ کمپلیکس کا منصوبہ تیار کرنے کا کام سونپا۔

    اس کے بعد وھی سیف الاسلام نے اپنی تعلیم جاری رکھی، آسٹریا کے شہر ویانا میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب کیا، جہاں انھوں نے انٹرنیشنل بزنس اسکول سے ڈگری حاصل کی۔

    اس عرصے کے دورانان کی دوستی آسٹریا کےدائیں بازو کے رہنما جرگ حیدر سے ہو گئی۔

    انھوں نے 2008 میں لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ سوشل سائنسز لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی بھی حاصل کی۔

    جب میڈیا رپورٹس نے اپنے والد کی حکومت کے خلاف اٹھنے والے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں ان کے کردار پر بحث شروع کی تو لندن سکول آف اکنامکس اینڈ سوشل سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہاورڈ ڈیوس نے اس وقت کے لیبیائی رہنما کے بیٹے کی طرف سے چلائے جانے والے خیراتی ادارے سے چندہ لینے پر تنقید کا سامنا کرنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

  4. ڈرون مار گرائے جانے کے باوجود بات چیت منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے، ٹرمپ سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کے قریب پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون کو مار گرائے جانے کے باوجود وِٹکوف کی ایرانیوں کے ساتھ ملاقات کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ ’اگرچہ سینٹ کام فورسز نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا جو طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی جانب جا رہا تھا، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اس ہفتے کے آخر میں ایرانی حکام سے بات کریں گے۔‘

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ہفتے کے آخر میں طے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ پہلے سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انھوں نے واضح کیا کہ فوجی طاقت سمیت تمام آپشنز موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار بحری بیڑے ابراہم لنکن کی طرف پرواز کرنے والے ایک ایرانی شاہد-139 ڈرون کو امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے نے نشانہ بنایا اور مار گرایا۔

    امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایئر کرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کے ایک ایف-35 لڑاکا طیارے نے اپنے دفاع میں ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا تاکہ جہاز اور اس کے عملے کی حفاظت کی جا سکے۔‘

    امریکی فوج نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ایک ایرانی ڈرون کو منگل کے روز سمندر میں اس وقت مار گرایا گیا جب وہ جارحانہ انداز میں امریکی طیارہ بردار جہاز کے قریب آیا تھا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن جنگی جہاز سے اڑنے والے ایف-35 سی سٹیلتھ لڑاکا طیارے نے ڈرون کو تباہ کیا تاکہ جہاز اور اس کے عملے کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    یہ جہاز ایرانی ساحل سے تقریباً 500 میل دور تھا جب ڈرون ’غیر واضح ارادے‘ کے ساتھ اس کے قریب آیا۔ اس واقعے میں امریکی فوجی یا سازوسامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔

    طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن نے 14 جنوری کو بحیرہ جنوبی چین سے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنا سفر شروع کیا تھا اور مبینہ طور پر اب عمان کے ساحل کے قریب ہے۔

    ایرانی ڈرون مار گرائے جانے کی خبر کے چند گھنٹے بعد لیویٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں نے ابھی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف سے بات کی ہے، اور بات چیت منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس کے ایک اور ترجمان نے کہا: ’صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں لیکن اس میں دونوں فریقوں کی سنجیدگی اور عزم ضروری ہے۔‘

    دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ملک پر کسی بھی حملے کی صورت میں "علاقائی جنگ" چھڑ سکتی ہے۔

  5. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کے لیے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ شامل کر رہے ہیں۔

    • راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں منگل کے روز بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کے قریبی رشتہ داروں کی ملاقات ہوئی ہے۔ بشریٰ بی بی نے اپنے اہلِ خانہ کو بتایا کہ عمران خان کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے اور تصدیق کی کہ انھیں جیل سے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ ان کے مطابق علاج ڈاکٹروں کی ہدایت پر اور عمران خان کی مرضی سے کروایا گیا۔
    • قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔
    • ایرانی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے مرکزی صوبے یزد میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کو پرتشدد بنانے کے لیے سہولت کاری میں ملوث 139 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
    • قطر کی وزارت خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ملک کی سفارتی کوششوں کا اعلان کیا ہے۔
    • پاکستان کو ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت موصول ہو گئی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بی سی سی کو تصدیق کی ہے کہ دعوت موصول ہو چکی ہے۔ تاہم ان مذاکرات میں کون شرکت کرے گا اس حوالے سے فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
    • ترک صدر ریاض پہنچ گئے ہیں۔ رجب طیب اردوغان کے سعودی عرب کے آخری دورے کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے اور دونوں ممالک نے غزہ اور 2024 میں بشار الاسد کی معزولی کے بعد شام کی نئی حکومت کی حمایت سمیت متعدد سفارتی امور پر تعاون کیا ہے۔
    • بلوچستان کے شہر نوشکی میں مسلح حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اے ٹی ایف کےکم ازکم سات اہلکاروں کے علاوہ چار حملہ آور مارے گئے ہیں۔
    • مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اسرائیل پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کر رہے ہیں۔ وٹکوف کا یہ دورہ جمعہ کو امریکہ ایران کے مابین متوقع مذاکرات سے قبل ہو رہا ہے۔
  6. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں آپ سب کو ہماری جانب سے خوش آمدید۔ ہمارے اس صفحے پر آپ کو پاکستان سمیت دنیا بھرکی سیاسی، سماجی، معاشی خبریں اور اہم تجزیے پڑھنے کو ملیں گے۔

    اگر آپ تین فروری کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔