’پاکستان بھر میں لاکھوں لوگوں نے میری کہانی دیکھی اور میں نے انھیں بتایا، دیکھو، میں اس لیے نہیں رو رہا تھا کہ میری تذلیل ہوئی۔ مجھے منصفانہ ٹرائل نہیں دیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ عید کے موقع پر 10 لاکھ مزدوروں کے 4 لاکھ 80 ہزار خاندان متاثر ہوں گے۔ وہ خاندان جو 10 سال سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، میں ان کو کیا جواب دوں گا؟‘
ایڈووکیٹ طارق منصور کی آئینی درخواست منگل کو عدالت نے مسترد کر دی تھی، جس کے بعد وہ دلبرداشتہ ہو کر رو پڑے۔ ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی زیرِ بحث رہی۔
انھوں نے اپنی آئینی درخواست میں سندھ کے لیبر قوانین کی بعض شقوں کو چیلنج کیا تھا۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ان شقوں کی وجہ سے صوبے بھر میں آٹھ لاکھ سے زائد کنٹریکٹ ورکرز عملاً ’غیر قانونی‘ حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
یہ مقدمہ سندھ فیکٹریز ایکٹ 2014 اور سندھ شاپس اینڈ کمرشل اسٹیبلشمنٹس قانون میں ’ورکر‘ کی تعریف تبدیل کیے جانے کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ نئی تعریف کے تحت کنٹریکٹر، سب کنٹریکٹر، مڈل مین یا آؤٹ سورسنگ کمپنی کے ذریعے ملازمت کو محدود یا ممنوع قرار دیا گیا، حالانکہ صوبے میں یہی نظام وسیع پیمانے پر رائج ہے۔
درخواست گزار کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں لاکھوں مزدور اگرچہ کام کر رہے ہیں لیکن قانونی طور پر انھیں ورکر تسلیم نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے انھیں کم از کم اجرت، سوشل سکیورٹی، پنشن، ویلفیئر فنڈ اور دیگر قانونی مراعات نہیں ملتیں۔
اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ شقیں آئین پاکستان کے آرٹیکل 8، 9، 10 اے، 14 اور 25 کی خلاف ورزی ہیں اور پاکستان کی جانب سے توثیق شدہ آئی ایل او کنونشنز اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق معاہدوں سے بھی متصادم ہیں۔
وکیل کے مطابق اس مسئلے سے براہِ راست آٹھ لاکھ سے زائد مزدور اور بالواسطہ طور پر تقریباً چالیس لاکھ افرادِ خانہ متاثر ہو رہے ہیں۔
کراچی میں ایڈووکیٹ طارق منصور نے مفادِ عامہ میں یہ درخواست 2017 میں دائر کی تھی۔ مختلف اوقات میں کئی بینچوں نے سماعت کی، لیکن بعض ججز کے تبادلے اور ترقی کے باعث کیس بار بار التوا کا شکار ہوا۔
سنہ 2023 میں وکیل نے کیس کو دوبارہ فوری سماعت کے لیے مقرر کرانے کی درخواست دی۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کیس کو حتمی دلائل کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔
ایڈووکیٹ طارق منصور کے مطابق جیسے ہی انھوں نے دلائل کا آغاز کیا، عدالت نے زبانی سماعت سے انکار کرتے ہوئے تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا۔ جب انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت انھیں سنے جانے کا حق حاصل ہے تو بینچ نے ان سے دریافت کیا کہ وہ آٹھ لاکھ لوگ کہاں ہیں جن کا وہ حوالہ دے رہے ہیں۔
طارق منصور کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت میں کھلے عام کہا کہ ’اگر آپ ہمیں نہیں سنتے تو ہمیں اس معاملے پر اقوام متحدہ کے مندوب، آئی ایل او اسلام آباد اور اقوام متحدہ کی کونسل کو خط لکھنے کا حق ہے، جس میں کہا جائے گا کہ عدالتیں آئی ایل او کنونشنز اور اقوام متحدہ کے کنونشنز کی تعریف نہیں کر رہیں جن کی پاکستان نے توثیق کی ہے۔‘
وکیل کے مطابق عدالت نے جواب دیا کہ ’آگے بڑھو، جس سے چاہو شکایت کرو اور جو چاہو خط لکھو۔‘ مزید اصرار پر عدالت نے پولیس اہلکاروں کو بلانے کا حکم دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس کمپنیوں کی فہرست ہے جس میں آٹھ لاکھ کارکنان کام کرتے ہیں، لیکن عدالت نے ہمیں یہ ظاہر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔ ہمیں روکا گیا۔ مطلب یہ کہ ہمیں منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا کیونکہ سب کچھ بے نقاب ہو جاتا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں حکومت کی طرف سے کافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور مقدمہ واپس لینے کا بھی مشورہ دیا گیا، لیکن انھوں نے واضح کیا کہ وہ کوئی دباؤ نہیں لیں گے اور اپنی زندگی کے آخری دم تک لڑیں گے۔
ان کے مطابق تاخیری حربے استعمال کیے گئے اور بورڈ سے کیس خارج کر دیا گیا۔ فہرست کو حتمی شکل نہیں دی جا رہی تھی۔ کیس کو ایک جج سے دوسرے جج کو منتقل کیا گیا۔ انھیں معلوم تھا کہ استغاثہ نہ ہونے کی وجہ سے تکنیکی بنیادوں پر اسے خارج کیا جا سکتا ہے، اس لیے وہ ہر سماعت پر حاضر ہوتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ دس سال سے یہ کیس اپنی جیب سے یہ کیس لڑ رہے ہیں۔ انھیں اپنی تذلیل کا دکھ نہیں، بلکہ اس بات کا دکھ ہے کہ لاکھوں مزدوروں کو پھر سے خاموش رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔ بیشتر متاثرہ مزدور ماہانہ تقریباً 25 ہزار روپے کماتے ہیں اور عدالتوں تک رسائی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
ایڈووکیٹ طارق منصور انسانی حقوق کمیشن اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد میں آئینی بینچ سے رجوع کریں گے اور آئی ایل او اور اقوام متحدہ کے اداروں کو شکایت ارسال کریں گے۔