ایک جعلی سینیٹر اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے: سہیل آفریدی کا پشاور جلسے سے خطاب

اتوار کو پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس پر اپنا مؤقف دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ایک ادارے کا ڈی جی آ کر پریس کانفرنس کرتا ہے اور میرے بارے میں غلط الفاظ استعمال کرتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر 21 سال میں آپ کی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی ہے تو قصور آپ کا ہے، آپ اپنی پالیسی بدلیں۔‘

خلاصہ

  • ایک جعلی سینیٹر اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے: سہیل آفریدی کا پشاور جلسے سے خطاب
  • انڈین وزیر خارجہ کا پاکستانی فوج سے متعلق بیان غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہے: پاکستان
  • پاکستانی فوج کا قلات میں آپریشن، 12 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
  • انڈونیشیا کے صدر 8 اور 9 دسمبر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے: ترجمان دفتر خارجہ
  • ایران اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں خطرہ ہے: امریکی وزیرِ دفاع
  • انڈیا کی ریاست گوا کے مشہور نائٹ کلب میں آتشزدگی، 25 افراد ہلاک
  • انڈونیشیا میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی، سینکڑوں تاحال لاپتہ

لائیو کوریج

  1. پاکستان اور افغانستان سرحد پر کشیدگی: جمعے کی رات گئے ہونے والی جھڑپوں میں چار افغان شہری ہلاک

    فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان سے متّصل افغانستان کے سرحدی علاقے سپن بولدک میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، اطلاعات ہیں کہ گذشتہ رات جھڑپوں میں چار افغان شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

    قندھار میں ڈاکٹروں نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ کل رات کی جھڑپوں میں چار شہری ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

    سپن بولدک کے محکمہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔

    ’سرد موسم میں صحرا میں رات گزاری‘

    آج صبح سپن بولدک کے مقامی لوگوں نے بی بی سی کے حفیظ اللہ معروف کو بتایا کہ علی الصبح حالات قدرے پرسکون رہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ رات گئے تک لڑائی ہوتی رہی لیکن بعد میں لڑائی رک گئی۔

    ایک مقامی شخص کے مطابق ’جھڑپوں کے خوف سے کل رات اپنے گھروں سے بھاگنے والے کچھ لوگ واپس آ رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا ’ہماری رات بے چین تھی، ہم زیادہ تر رات کو جاگتے رہے، ہم لائن سے تقریباً 2000 میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ ہمارے علاقے کے تقریباً تمام گھرانے قندھار کی طرف جا رہے تھے، وہاں بچے، عورتیں اور بوڑھے موجود تھے۔ رات بہت سرد تھی، صحرا میں رات گزاری، اہل خانہ کو ابھی تک یقین نہیں ہے کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے یا نہیں۔‘

    چمن سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ گذشتہ رات کی کشیدگی کے باعث سرحد کے قریب دیہی علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

  2. آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس: پاکستان کے خلاف انٹرویوز دیں گے تو ایسی ہی زبان سُنیں گے، خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آئی ایس پی آر کی جانب سے گذشتہ روز کی نیوز کانفرنس میں عمران خان کے حوالے سے سخت الفاظ اور موقف اختیار کیے جانے پر پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں جو کچھ ہوا تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا اور حالات کو وہ اس نہج پر لائے ہیں اور یہ کہ ’اس سے پہلے اسٹبلشمنٹ نے کبھی عمران خان سے اس طرح بات نہیں کی۔ ‘

    وزیر دفاع نے جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حال ہی میں عمران خان کی بہن کے دشمن ملک کے میڈیا کو انٹرویو کی وجہ سے پاکستان کو ہزیمت اٹھا پڑی۔ ‘

    ان کا الزام تھا کہ ’ان کی سوچ ایسی ہے کہ پاکستان پر حملہ کیا جاتا ہے۔ ان کی ایم این اے شاندانہ گلزار نے کہا ’خان نہیں تو پاکستان نہیں۔‘ پاکستان افراد کے ساتھ کیسے جڑ گیا؟ لوگ آج ہیں کل نہیں۔ ‘

    انھوں نے کہا کہ پارٹی میں کسی نے اس نعرے سے لا تعلقی نہیں دکھائی، کسی نے مذمت نہیں کی۔ ’ہر بات جو پاکستان کے خلاف، فوج کے خلاف ہوتی ہے، سیاسی جماعتوں کے خلاف بات ہوتی۔ پارٹی میں کسی نے نرم الفاظ میں بھی مذمت نہیں کی۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’آپ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتے، اس ماحول میں انڈین میڈیا کو پاکستان کے خلاف انٹرویوز دیں گے تو ایسی ہی زبان سُنیں گے۔‘ خواجہ آصف نے کہا کہ ’ فوج پر تنقید ہم نے بھی کی لیکن کبھی سرخ لکیر عبور نہیں کی۔‘

    دوسری جانب وفاقی وزیر عطا تارڑ کا بھی الزام ہے کہ ’بانیِ پی ٹی آئی ملک کےلیےخطرہ ہیں اور ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘

  3. پاکستان اور افغانستان سرحد پر کشیدگی، دونوں اطراف کی شہری آبادی میں خوف ہراس

    چمن اسپن بولدک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رات گئے پاکستانی فوج نے چمن سپن بولدک کے علاقے میں ڈرون بھیجے ہیں جو سرحد کے پار افغانستان کے اوپر پرواز کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے خطے میں خوف وہراس پھیل گیا ہے۔

    طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستانی فریق نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور ڈیورنڈ لائن کے قریب افغان جانب سے حملہ کیا ہے۔

    قندھار کے علاقے سپن بولدک میں طالبان حکومت کے مقامی ترجمان علی احمد حقمل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حملہ پاکستان کی جانب سے کیا گیا تھا اور ان کی افواج کو جواب دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔‘

    علاقے سے لی گئی تصاویر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو فائرنگ کے علاقے سے نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    علی احمد حقمل نے بی بی سی کے حفیظ اللہ معروف کو بتایا کہ ’پاکستانی فریق نے جنگ بندی توڑ دی اور لڑائی شروع کی۔ ‘

    انھوں نے کہا کہ ’وہ اندھا دھند فائرنگ کر رہے ہیں اور عام شہریوں، شہری تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔‘

    ادھر پاکستان میں بھی جھڑپوں کی وجہ سے چمن بالخصوص سرحد کے قریب واقع آبادی میں شدید خوف ہراس پھیل گیا۔

    جمعہ اور سینیچر کی درمیانی شب ہونے والی جھڑپ کے باعث تین شہریوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چمن منتقل کیا گیا۔ بعض علاقوں سے لوگ محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہورہے ہیں۔

  4. پاکستان اور افغان طالبان کے ایک دوسرے پر چمن، سپین بولدک سرحد پر حملے کرنے کے الزامات, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    چمن بارڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور افغان طالبان نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر چمن، سپین بولدک سرحد پر حملے کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

    جمعے کی رات وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’افغان طالبان نے چمن سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے، جس پر ہماری مسلح افواج نے فوری اور شدید ردِ عمل دیا ہے۔‘

    ’پاکستان مکمل طور پر چوکنّا ہے اور اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہے۔‘

    ایسا ہی بیان افغان طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’بدقسمتی سے آج شام پاکستان نے ایک بار پھر سپین بولدک، قندہار میں افغانستان کی طرف حملے شروع کر دیے، جس پر امارتِ اسلامیہ کے دستے بھی ردِعمل دینے پر مجبور ہوئے۔‘

    دوسری جانب چمن میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر محمد اویس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’افغانستان کی جانب سے ہونے والی فائرنگ سے زخمی ہونے والے تین شہریوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی ہدایت پر نہ صرف چمن بلکہ کوئٹہ شہر سمیت صوبے کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

  5. ’چیف آف ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر تشکیل ہو رہا ہے‘

    پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ سی ڈی ایف کے نوٹیفیکیشن میں ’پہلے تاخیر، تردید اور پھر وضاحت نے قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔ یہ تاخیر کیوں پیدا ہوئی؟ کیا یہ درست ہے کہ حکومت وقت نے نوٹیفیکیشن سے جڑے کچھ مطالبے کیے تھے؟ فیلڈ مارشل کا تاحیات اعزازی عہدہ ہے

    اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیا کہ ’چیف آف ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر تشکیل ہو رہا ہے۔ اس سے قبل کمیٹی اور سٹاف میکنزم تھا۔ ہم کمیٹی کوارڈیشن سے آپریشنل ہیڈکوارٹر میں منتقل ہو رہے ہیں۔ اس کے لیے کئی چیزوں کی ضرورت ہے۔ قوائد و ضوابط پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے پاکستانی فوج سوشل میڈیا پر نہیں چلتی۔ ہم پروفیشنل آرمی ہیں۔ ہم پہلے ہی صحیح طریقے سے کام کرنا چاہتے ہیں۔‘

    صحافی نے یہ بھی پوچھا کہ نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے کمانڈر کی تعیناتی کب ہوگی اور کیا وہ کسی اور فورس سے بھی ہو سکتے ہیں۔

    اس سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آئین پڑھ لیں، آپ کو بھی معلوم ہے اس پر آئین کیا کہتا ہے۔ یہ فیصلہ آئین و پارلیمان نے کرنا ہے۔ ایسے سوالوں پر آپ جان بوجھ کر ایک بیانیہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب ضروری ہوگا تو تعیناتی کر دی جائے گی۔‘

  6. کیا فوج تحریک انصاف پر پابندی کا مطالبہ کر رہی ہے؟

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ اگر فوج کو یقین ہو چکا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف ریاست مخالف ہیں تو کیا فوج اب سویلین حکومت سے پارٹی پر پابندی کا مطالبہ کرے گی؟

    اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے اور ہمارا کام ’اپنا نقطہ نظر دینا ہے۔‘

    ’ہم اس لیے کھلے عام اس پر بات کر رہے ہیں کیونکہ فوج سے متعلق ان کی باتیں بھی کھلے عام قومی، بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کی جاتی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا کام ہے آپ کو بتانا کہ ہم اس پر کیا محسوس کرتے ہیں۔ ریاست ہم سے بالاتر ہے۔ یہ ان کا فیصلہ ہے۔ آپ ان سے پوچھیں کہ کیا وہ یہ کریں گے۔‘

    ترجمان پاکستانی فوج نے کہا کہ ’ریاست اور تمام ادارے ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔۔۔ ریاست جو فیصلہ کرتی ہے، ادارے اس کے ساتھ چلتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریاست فوج نہیں ہے۔ حکومت ریاست ہوتی ہے، اس کے ادارے ہوتے ہیں۔ ہم ایک اہم لیکن صرف ایک ادارہ ہیں۔‘

    ’ہمارے پاس یہ حق ہے کہ ہم عوام کو آگاہ کریں کہ یہ ریاست مخالف ہے۔‘

  7. ’اس بیانیے اور اس کی سہولت کاری کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں اب ’جھوٹ اور فریب کا کاروبار مزید نہیں چلے گا۔ اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ اس بیانیے کو چلایا جائے اور اس کی سہولت کاری کی جائے۔‘

    ’اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کی ذات، سیاست اس ملک کے تحفظ، ریاست اور عوام کے جان و مال اور عزت سے بڑی ہے تو وہ غلط سمجھتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی فوج کھڑی ہے، اور کھڑی رہے گی۔ ہم کہیں نہیں جا رہے۔‘

    ’وہ کچھ بھی کریں، اور وہ لوگ ان کی سہولت کاری کرتے ہیں، ہم (ان کے خلاف) کھڑے رہیں گے۔‘

  8. لوگوں کو آپریشن کے خلاف ابھارا جاتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان سے متعلق ریاستِ پاکستان کی پالیسی پر تنقید کی جاتی ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا پاکستان کی سکیورٹی کابل کے راستے سے آئے گی؟ کیا دلی اس کی ضمانت دے گا؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو اگر یہ ذہنی مریض ہوتا تو یہ ان سے بھی بات چیت کے لیے نکل پڑتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ شخص کہتا ہے آپریشن نہ کریں، بات چیت کریں۔ مگر وہ ہمارے بچوں کو شہید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کون سی منطق ہے؟ بات چیت کا بخار بہت عرصے سے جاری ہے۔ یہ پشاور میں ان کا دفتر کھولنا چاہتے تھے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’لوگوں کو آپریشن کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے ابھارا جاتا ہے۔۔۔ سکیورٹی کی ضمات تبھی ممکن ہے جب آپ دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں۔ بھیک سے سکیورٹی نہیں ملتی۔‘

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ’شدت پسندی اور مجرمانہ سرگرمیوں کا گٹھ جوڑ ہے۔۔۔ اس کی سیاسی وجہ بھی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا سے صرف دہشتگردی کی خبر آئے۔‘

  9. ’سی ڈی ایف کے نوٹیفیکیشن پر جھوٹ اور پروپیگنڈے کا سیلاب تھا‘

    ترجمان پاکستانی فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’یہ شخص، اس کا میڈیا اور سوشل میڈیا آرمی سے بہت لگاؤ رکھتا ہے، وہ جاننا چاہتے ہیں کہ فوج میں کیا چل رہا ہے۔‘

    انھوں نے چیف آف ڈیفینس فورسز یعنی سی ڈی ایف کی تعیناتی کے نوٹیفیکیشن کا بھی حوالہ دیا۔ ’ہر 10 منٹ، 15 منٹ یا گھنٹے بعد کوئی وی لاگ کر رہا ہے۔ کبھی کسی نے کسی کو وائس چیف ڈکلیئر کر دیا یا کوئی پروموٹ ہو گیا۔‘

    انھوں نے سوال کیا کہ ’یار تمھیں کیا آبسیشن ہے فوج کے ساتھ؟ تمھارے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے اس کی گورننس کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتے؟ ۔۔۔ تمھاری سوئی فوج پر کوئی اڑی ہوئی ہے۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں فوج کو اپنی سیاست سے دور رکھو۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے خاص طور پر اس بارے میں شکایت کی کہ ’فوج کے بارے میں پروپیگنڈا کیا گیا، فوج میں وائس چیف بن گیا۔ یعنی ایک جنرل افسر کی تصویر لے کر اپنا جھوٹا بیانیہ بنایا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی ریٹائرمنٹ اور سی ڈی ایف کے نوٹیفیکیشن پر ’ایک سیلاب تھا جھوٹ اور پروپیگنڈے کا۔ کیا یہ آزادی اظہار رائے ہے؟‘

    اس پریس کانفرنس کے دوران کئی صحافیوں و سیاسی شخصیات کے وی لاگ اور ویڈیو پیغامات چلائے گئے۔ ’کسی کو ایڈوائزر بنا دیا، کسی کو این ایس اے بنا دیا۔ کیا باہر انھوں نے کوئی کابینہ ڈویژن کھولی ہوئی ہے؟ جعلی نوٹیفیکیشن بھی چلایا گیا۔‘

  10. ’آپ کی سیاسی شعبدہ بازی کا وقت ختم ہو چکا ہے‘

    عمران خان کا نام لیے بغیر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’اس شخص نے کہا تھا کہ میری پارٹی کا جو بندہ بھی نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی گیا ہے وہ غدار ہے۔ یہ کتنا دلچسپ ہے کہ وہ اسے میر جعفر اور میر صادق مماثلت دے رہا ہے۔ اس کی منطق سے جائیں تو یہ کہہ رہا ہے کہ جو آپ سارے آئی ایس پی آر آئے ہیں آپ بھی غدار ہیں۔‘

    وہ سوال کرتے ہیں کہ ’تم ہو کون؟ تمھیں کیا پریشانی ہے؟ یہ کس کی زبان بول رہے ہو؟ تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو؟‘

    انھوں نے کہا کہ یہ ان کے ’ذہنی مرض کی علامات ہیں۔ اس نے جی ایچ کیوں پر حملہ نہیں کرایا تھا؟ جو اپنی فوج پر حملہ کروا سکتا ہے، شہیدوں کی یادگاروں پر آگ لگوا سکتا ہے۔۔۔ اسے (کسی کو) غدار کہنے میں کیا مسئلہ ہوگا؟‘

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’وہ (عمران خان) ایک مانے ہوئے غدار شیخ مجیب الرحمان سے متاثرہ ہیں۔ بار بار ان کا حوالہ دیتا ہے۔۔۔ وہ یہ سمجھتا ہے اسے سارا علم ہے اور جو وہ کہہ رہا ہے سب ٹھیک ہے۔‘

    ’اس کی سیاست تعریف یہ ہے کہ اگر میں اقتدار میں ہوں تو جمہوریت ہے، اقتدار میں نہیں تو آمریت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آپ کی سیاسی شعبدہ بازی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔‘

  11. ڈی جی آئی ایس پی آر کا عمران خان کا نام لیے بغیر جیل میں ان کی ملاقاتوں کا حوالہ

    ڈی جی آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    ،تصویر کا کیپشنڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران یہ سلائیڈ دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کی وجہ سے قومی سلامتی کو خطرہ درپیش ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اس بیانیے کو افغان اور انڈین اکاؤنٹس کی طرف سے پھیلایا جاتا ہے

    اپنی پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی ار نے مزید کہا کہ ’ہم اس لیے سبھی سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنی سیاست کو پاکستانی فوج سے دور رکھیں۔۔۔ ہم آپ کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ کیونکہ یہ آپ کی واحد مسلح افواج ہیں، آپ کے پاس چوائس نہیں۔‘

    ترجمان پاکستانی فوج نے کہا کہ ’اگر کوئی تعمیراتی تنقید ہے تو ہم آپ کو ویلکم کرتے ہیں۔ آپ کو یہ حق نہیں کہ عوام کو فوج کے خلاف بھڑکائیں۔‘

    انھوں نے کہا پاکستانی فوج ہی عوام اور شدت پسندانہ سوچ کے درمیان کھڑی ہے۔ ’یہی کہا جاتا ہے کہ ہر ملک میں فوج ہوتی ہے۔ اگر یہ آپ کی نہیں تو یہ آپ کے دشمن کی ہوتی ہے۔‘

    انھوں نے سوال کیا کہ ’جو اپنی فوج پر، اس کی قیادت پر حملہ کرتا ہے تو کیا وہ کسی اور فوج کے لیے سپیس بنانا چاہتا ہے؟‘

    بظاہر ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان سے ہونے والی وکلا اور خاندان کی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب کوئی اس شخص سے ملتا ہے تو آئین، قانون اور رولز کو بالائے طاق رکھ کر وہ ریاست پاکستان کے خلاف بیانیہ دیتا ہے، خاص کر مسلح افواج اور اس کی قیادت کے خلاف۔‘

    ’کون سے آئین، قانون یا رولز میں اس کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ کون سی سیاست اس کی اجازت دیتی ہے کہ آپ ایک سزا یافتہ مجرم سے ملیں اور وہاں سے مسلسل ملکی افواج کے خلاف بیانیہ آ رہا ہو؟‘

    انھوں نے آئین میں اظہار رائے کی آزادی کے آرٹیکل 17 اور 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سیاسی سرگرمیوں کی آزادی ہے مگر ایسی چیزوں کی اجازت نہیں جو ملکی سلامتی و استحکام کے خلاف ہو۔‘

    ترجمان پاکستانی فوج نے سوال کیا کہ ’یہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔۔۔ پہلے بیانیہ بنایا گیا کہ آئی ایم ایف کو خط لکھیں، ترسیلاتِ زر بند کر دیا جائے، سول نافرمانی کریں۔‘

    ’چند دن پہلے کہا گیا کہ اس فوج کی قیادت کو نشانہ بنائیں جنھوں نے معرکہ حق میں اپنے سے آٹھ گنا بڑی معیشت اور فوج کے سامنے کھڑا کیا۔‘

    اس پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کے ایکس پر پیغامات اور ان کی بہنوں کے انڈین ٹی وی چینلوں کے دیے گئے انٹرویوز کے کلپ چلائے گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام لگایا کہ اس بیانیے کو افغان اور انڈین اکاؤنٹس کی طرف سے پھیلایا جاتا ہے۔

  12. اپنی ذات کا قیدی ایک شخص پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے: ترجمان پاکستانی فوج

    احمد شریف

    ،تصویر کا ذریعہapp

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ مسلح افواج اور اس کی قیادت پر مزید حملے برداشت نہیں کیے جائیں اور اس کا ’بغیر دستانے پہنے‘ مقابلہ کیا جائے گا۔

    جمعے کو پریس کانفرنس کے دوران فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی کا کہنا تھا کہ ’قومی سلامتی کا ایک خطرہ اندرونی ہے۔ اس (خطرے) کا محور فریب کا شکار ایک شخص ہے جو اپنی ذات کا قیدی ہے۔ جس کے نزدیک اس کی ذات اور اس کی خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس کی مایوسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں۔ آپ کے لیے میرے سے یہ سب سننا عجیب ہوگا کیونکہ وہ شخص اور اس کا پھیلایا جانے والا بیانیہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔‘

    ’اب سیاست ختم ہو چکی ہے، اب اس کا بیانیہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔‘

    ترجمان نے مزید کہا کہ ’اس لیے اب ہمیں بغیر کسی ابہام کے واضح کرنا ہوگا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ بیانیہ کیوں جاری ہے۔ اس بیانیے کے لیے بیرونی کرداروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’مسلح افواج پاکستان کی ہیں۔ ہم کسی نسل، علاقے، مذہبی جھکاؤ یا سیاسی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ہم میں ہر علاقے، زبان، مسلک اور سیاسی سوچ کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ ہم ایک بار یونیفارم پہن کر سب بھلا دیتے ہیں۔۔۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے عوام اور استحکام کے لیے جانیں دے رہے ہیں۔‘

    ’ہم پاکستان کی ایلیٹ سے نہیں آتے بلکہ مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس اور غریب طبقے سے آتے ہیں۔‘

    ترجمان پاکستانی فوج نے واضح کیا کہ ’اگر کوئی اپنی ذات، ذہن کے فریب یا خود پسندی کی سوچ کے لیے مسلح افواج اور اس کی قیادت پر حملہ آور ہوتا ہے تو ہم بھی سختی سے اس کا مقابلہ کریں گے۔ اس پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔‘

    خیال رہے کہ ترجمان پاکستانی فوج نے کسی شخص یا گروہ کا نام نہیں لیا ہے مگر حال ہی میں اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک پیغام میں فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفینس فورسز عاصم منیر پر تنقید کی تھی اور 27ویں ترمیم سمیت سبھی معاملات پر انھیں قصوروار قرار دیا تھا۔

  13. وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت سوموار تک ملتوی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس میں آج ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے سماعت کی۔

    اس موقع پر ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے کہا ’سزا دے دیں سات سال کی، میں تیار ہوں‘۔

    جج افضل مجوکہ نے ان کے مکالمے کا کوئی جواب نہیں دیا۔

    ہادی علی چٹھہ کی جانب سے عدالت کے سامنے نئی درخواست دائر کی گئی۔ جس میں استدعا کی گئی کہ انھیں 342 کا بیان جمع کرانے دی جائے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ’ہمیں اپنے دفاع میں گواہ لانے دیں۔‘

    عدالت نے درخواست پر پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کر دیا۔

    342 کے بیانات اور گواہان کے حوالے سے دائر درخواست پر دلائل کا آغاز ہوا تو ہادی علی چٹھہ اپنی درخواست پر خود دلائل دیے۔

    ہادی علی چٹھہ نے کہا ’ کل 5 دفعہ کیس پر سماعت ہوئی اور ہماری 3 درخواستیں دی جو خارج ہوئیں، ہم نے کل کہا 4 گھنٹے میں سوالات کا جوابات نہیں دے سکتے ٹائم دیا جائے، ہم نے کل جب آڈر مانگا تو ہمیں کاپی نہیں ملی، ہمیں جو پتا چلا ہے اس کے مطابق سٹیٹ کونسل نے 342 کا جواب دیا ہے۔ وہ 342 کا جواب اسٹیٹ کونسل کا ہمارا نہیں ہے۔‘

    ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ ’ہم اسٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ کیخلاف عدم اعتماد کر چکے ہیں عدالت کو درخواست بھی دے چکے ہیں۔ ہم آج اپنا 342 کا جواب دینا چاہتے ہیں، ہماری گواہان کی بھی فہرست ہیں۔

    انھوں نے عدالت میں گواہان کے نام پڑھ کر سنائے۔

    احمد نورانی کی والدہ، صحافی مدثر نارو کی والدہ، سردار اختر مینگل، شاعر احمد فرہاد، عارفہ نور ودیگر گواہان میں شامل ہیں۔

    پراسکیوشن کیجانب سے مرکزی کیس پر اسٹیٹ کونسل کیجانب سے ختمی دلائل تحریری طور پر جمع کروا دیے گئےآ جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت سوموار تک ملتوی کردی ہے۔

    ’پورا ٹرائل عدالت نے خود چلایا‘

    سماعت سے قبل ایمان مزاری نے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں کہا کہ ’پورا ٹرائل عدالت نے خود چلایا، پروسیکیوشن اویڈنس ہماری غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا گیا۔ گواہان پر جرح سٹیٹ ڈیفینس کونسل نے کی جس پر ہم نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ کل 342 اسٹیٹمینٹ بھی اس ہی ڈیفینس کونسل نے جمع کروا دی، نہ ہم نے دیکھی ہے اور نہ ہی ہم سے کسی نے کچھ پوچھا۔ ‘

    ایمان مزاری کا الزام تھا کہ انھیں حق کے لیے آواز بلند کرنے پر سزا دی جا رہی ہے۔

    انھوں نے لکھا ’ہم جیل کی سلاخوں کو خوشی سے اپنائیں گے لیکن آپ اس بدنامی کو کبھی نہیں بھول پائیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری آواز آپ دبائیں گے تو اور لوگوں کی آواز ہماری آواز میں شامل ہوگی۔ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ آپ بزدل ہے تو ہم سب بھی آپ جیسے ہوں نگے۔ جیل جسم کو قید کرتا ہے، سوچ کو نہیں۔‘

  14. پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما مرزا شہزاد اکبر اشتہاری قرار، وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا عدالتی حکم

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما مرزا شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دے دیا گیا اور عدالت نے انھیں اشتہاری قرار دینے کا تحریری آڈر جاری کردیا ہے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عباس شاہ کی جانب سے تحریری آڈر جاری کیا گیا۔

    عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

    شہزاد اکبر متعدد بار طلب کرنے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ ان کے خلاف مقدمہ کا چالان بھی عدالت میں جمع کروایا جاچکا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما مرزا شہزاد اکبر کیخلاف ٹویٹر پر متنازع بیانات کی بنیاد پر مقدمہ درج ہے۔

    این سی سی آئی اے نے مرزا شہزاد اکبر کےخلاف جولائی 2025 میں مقدمہ درج کیا تھا۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے برطانیہ سے باضابطہ طور پر دو پاکستانی شہریوں عادل راجہ اور مرزا شہزاد اکبر کی حوالگی کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔

    مرزا شہزاد نے برطانوی حکومت اور ہائی کمشنر سے درخواست کی ہے کہ انھیں یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے ان کے خلاف ’بدترین کارروائیاں‘ کی گئی ہیں اور ’پاکستان میں میرے کچھ اہلخانہ کو بھی اغوا‘ کیا گیا۔

    ایکس پر انھوں نے لکھا کہ ’مجھے اعتماد ہے کہ برطانوی حکام قانون اور اس کی عملداری اور انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو یقینی بنائیں گے اور ایک ایسی حکومت کے بارے میں تحفظات پر غور کریں گے جس کو برطانوی اخبار دا گارڈیئن نے ’آمرانہ‘ اور پاکستان کے آئینی نظام کو نقصان دینے والا قرار دیا اور ایک ایسی حکومت جس کے 44 اراکین پر پابندیوں کی سفارش امریکی کانگریس نے کی۔

    خیال رہے پاکستانی حکومت ماضی میں ایسے متعدد الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔

    پاکستان اور برطانیہ کے درمیان غیرقانونی پناہ گزینوں اور مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ تو موجود ہے لیکن یہ کوئی باقاعدہ ’ایکسٹراڈیشن ٹریٹی‘ نہیں۔

    سنہ 2022 میں پاکستان اور برطانیہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مجرموں اور غیرقانونی پناہ گزینوں کی برطانیہ سے پاکستان حوالگی کی جا سکتی ہے۔

  15. بریکنگ, حماس مخالف فلسطینی ملیشیا کے ایک نمایاں رہنما یاسر ابو الشباب قتل

    یاسر ابو الشباب

    ،تصویر کا ذریعہYasser Abu Shabab/Facebook

    غزہ میں حماس کے مخالف فلسطینی ملیشیا کے ایک نمایاں رہنما کو قتل کر دیا گیا ہے۔

    یاسر ابو الشباب نے نام نہاد پاپولر فورسز گروپ کی سربراہی کی، جس کے درجنوں جنگجو ہیں اور یہ جنوبی شہر رفح کے قریب اسرائیلی زیر کنٹرول علاقے میں سرگرم ہے۔

    پاپولر فورسز نے ایک بیان میں کہا کہ ابو الشباب کو ابو سنیما خاندان کے افراد کے درمیان ’تنازع حل کرنے کی کوشش‘ کے دوران گولی ماری گئی۔

    اس نے ان خبروں کو’گمراہ کن‘ قرار دیا کہ انھیں حماس نے قتل کیا، جس نے ان پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کا الزام لگایا تھا۔

    ابو شباب کے بدو قبیلے تارابین کے ایک پہلے بیان میں کہا گیا تھا کہ انھیں ’مزاحمت کے ہاتھوں‘ قتل کیا گیا اور ان پر فلسطینی عوام سے غداری کا الزام لگایا گیا۔

    دیگر ذرائع نے کہا کہ ان کی موت اندرونی طاقت کی کشمکش کا نتیجہ تھی۔

    حماس کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ابو شباب کے ساتھ جو انجام ہوا‘ وہ ’ان سب کی ناگزیر تقدیر ہے جو اپنے لوگوں اور وطن سے غداری کرتے ہیں اور قابض (اسرائیل) کے ہتھیار بننے پر راضی ہیں‘۔

    تاہم اس نے ان کے قتل میں ملوث ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔

    اسرائیلی آرمی ریڈیو نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابو اشباب جنوبی اسرائیلی شہر بیر السبع کے سوروکا ہسپتال منتقل ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ لیکن ہسپتال نے ان کی موت وہاں ہونے سے انکار کیا ہے۔

    پاپولر فورسز کے بیان میں وعدہ کیا گیا کہ وہ ابو الشباب کے ’راستے پر چلتے رہیں گے جب تک غزہ کی سرزمین سے آخری دہشت گرد ختم نہ ہو جائے اور ہمارے عوام کے لیے روشن اور محفوظ مستقبل تعمیر نہ ہو جائے، جو امن پر یقین رکھتے ہیں۔‘

  16. فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفینس فورسز مقرر، ایئر چیف کی مدت ملازمت میں بھی دو سال کی توسیع

    فیلڈ مارشل عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفینس فورسز تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

    جمعرات کی شام وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعیناتی کے متعلق سمری ایوان صدر بھجوائی تھی۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ ساتھ ملک کے پہلے چیف آف ڈیفینس فورسز بھی مقرر ہو گئے ہیں۔ ان دونوں عہدوں کی مدت پانچ سال ہو گی۔

    اس کے علاوہ صدر زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چیف آف ایئر سٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کی سمری بھی منظور کر لی ہے۔

    اس توسیع کا اطلاق ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت ملازمت کے مارچ 2026 میں مکمل ہونے پر ہو گا۔

  17. یوکرین کی فوجیں واپس لوٹ جائیں ورنہ روس ڈونباس کو زبردستی حاصل کر لے گا: ولادیمیر پوتن

    ولادیمیر پوتن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کے صدر صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ یوکرینی فوجیوں کو یوکرین کے مشرقی ڈونباس علاقے سے انخلا کرنا ہوگا ورنہ روس اسے قبضے میں لے لے گا۔

    انھوں نے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے طریقے پر کسی بھی سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے۔

    روسی صدر نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ ’یا تو ہم ان علاقوں کو زبردستی آزاد کرائیں گے یا یوکرینی فوجی ان علاقوں کو چھوڑ دیں گے۔‘

    ماسکو ڈونباس کے تقریبا 85 فیصد حصے پر قابض ہے۔

    دوسری جانب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے علاقہ چھوڑنے کو مسترد کر دیا ہے۔

    پوتن کے یہ بیانات اس کے بعد آئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے مذاکرات کار جو امریکی امن منصوبے پر بات کر رہے تھے، ان کا خیال ہے کہ روس کے رہنما ’جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘

    ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف، جو ماسکو میں موجود تھے، فلوریڈا میں یوکرین کی ٹیم سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ منگل کے روز کریملن میں ہونے والی بات چیت ’معقول حد تک اچھی‘ تھی اور مزید کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کیا ہوگا کیونکہ ’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔‘

    امریکی امن منصوبے کے اصل ورژن میں ڈونباس کے وہ علاقے جو اب بھی یوکرینی کنٹرول میں تھے، عملی طور پر پوتن کے کنٹرول میں دینے کی تجویز دی گئی تھی لیکن وٹکوف ٹیم نے ماسکو میں اس کا ترمیم شدہ ورژن پیش کیا۔

    انڈیا ٹوڈے کے اپنے انٹرویو میں، جو دہلی کے سرکاری دورے سے قبل تھا پوتن نے کہا کہ انھوں نے وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے بات چیت سے پہلے نیا ورژن نہیں دیکھا تھا۔

    انھوں نے کہا ’اسی لیے ہمیں ہر نکتے پر غور کرنا پڑا، اسی لیے اتنا وقت لگا۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ماسکو امریکی منصوبے کے کچھ حصوں سے متفق نہیں ہے۔

    یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ’کبھی کبھار ہم نے کہا کہ ہاں، ہم اس پر بات کر سکتے ہیں، لیکن اس پر ہم متفق نہیں ہو سکتے۔‘

    انھوں نے ان حل طلب مسائل کی وضاحت نہیں کی تاہم کم از کم دو اہم متنازع نکات باقی ہیں جو روسی افواج کے قبضے میں یوکرینی علاقے کی تقدیر اور یوکرین کے لیے سکیورٹی ضمانت ہے۔

    پوتن کے سینیئر خارجہ پالیسی مشیر اور کلیدی مذاکرات کار یوری اوشاکوف نے مذاکرات کے فورا بعد کہا تھا کہ جنگ ختم کرنے پر ’کوئی سمجھوتہ‘ نہیں ہوا۔

    اوشاکوف نے یہ بھی اشارہ دیا کہ روسی مذاکراتی پوزیشن کو ماسکو کی حالیہ کامیابیوں کی بدولت مضبوط کیا گیا ہے۔

    یوکرین نے بار بار روس پر جنگ بندی کے معاہدے روکنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ ماسکو مزید یوکرینی علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    کریملن مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے، یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیا نے کہا کہ پوتن ’دنیا کا وقت ضائع کر رہے ہیں‘۔

    یوکرین طویل عرصے سے کسی بھی معاہدے میں یوکرین کے لیے ٹھوس سکیورٹی ضمانتوں پر زور دیتا رہا ہے۔

  18. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ:

    • پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفینس فورسز تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ ساتھ ملک کے پہلے چیف آف ڈیفینس فورسز بھی مقرر ہو گئے ہیں۔ ان دونوں عہدوں کی مدت پانچ سال ہو گی۔
    • پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جیل میں ملاقاتیں جیل مینیویل کے مطابق کروائی جاتی ہیں اور عظمی خان سمیت جن افراد نے ان قواعد کی خلاف ورزی کی ہے ان کی ملاقاتیں روک دی گئی ہیں۔
    • افغانستان میں طالبان کی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے اس ہی وقت کھولے جائیں گے جب پاکستانی حکومت کی طرف سے یقین دہانی کروائی جائے کہ مستقبل میں انھیں سیاسی دباؤ کے لیے بند نہیں کیا جائے گا۔
    • پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت، سزا یافتہ افراد کے تبادلے، معیشت، زراعت، توانائی، بندر گاہوں کے استعمال، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کے لیے 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔
    • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے عسکریت پسندی میں ملوث بیرون ملک مقیم کالعدم تنظیموں کے مبینہ سربراہان اور کمانڈرز سمیت 300 سے زائد افراد کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا ہے۔