آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سینٹکام کا ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان، خامنہ نے ایرانی حکام کو امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی اجازت دے دی

سینٹکام نے واضح کیا کہ ان کے بحری جہاز ’اس علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد اور پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔‘ دوسری جانب ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ صدر پزشکیان نے انھیں بتایا کہ اگر امریکہ حد سے زیادہ مطالبات کرے گا تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔

خلاصہ

  • امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ اگر ایران مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو امریکہ ’ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے‘ کے لیے تیار ہے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ان کے ساتھ ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی وزیر اعظم شہباز نے بھی دستخط کر دیے ہیں۔
  • 14 نکاتی دستاویز کے تحت حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے آئندہ 60 دنوں کے دوران مزید مذاکرات ہوں گے۔ اس دوران آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی
  • اسلام آباد کا کہنا ہے کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کے آغاز کے لیے پاکستان 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ سرکاری تقریب کی میزبانی کرے گا۔ جبکہ ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ سوئٹزر لینڈ میں مذاکرات کے نئے دور پر ابھی غور جاری ہے
  • امریکی حکام کے مطابق 14 نکات پر مشتمل اس معاہدے کے مطابق ایران کو ملک کی ’دوبارہ تعمیر اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ دیے جائیں گے
  • معاہدے میں ’لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے‘ کا اعلان کیا گیا
  • معاہدے کے مطابق امریکہ اور ایران ’زیادہ سے زیادہ 60 دن میں بات چیت کرنے اور حتمی معاہدے کے لیے پرعزم ہیں، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے

لائیو کوریج

  1. تجزیہ: ایران کی توجہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے معاشی پہلوؤں پر زیادہ ہے, بی بی سی فارسی کی نامہ نگار غنچہ حبیبزاد کا تجزیہ

    ایران کی معیشت کئی برسوں سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔

    تخمینوں کے مطابق تہران کے 24 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے غیر ملکی بینکوں میں منجمد ہیں۔

    تاہم حالیہ جنگ نے ایران کو اس سے کہیں زیادہ مالی نقصان پہنچایا ہے، جو ممکنہ طور پر ان منجمد اثاثوں کی مالیت سے تقریباً دس گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔

    ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی لاگت تقریباً 270 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    حالیہ جنگ سے قبل بھی مغربی پابندیوں، جو بنیادی طور پر ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کے باعث عائد کی گئی تھیں نے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔

    ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے موجودہ معاشی صورتحال اور پابندیوں سے پیدا ہونے والی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پابندیاں ختم کرانے کے بدلے میں ’ہتھیار نہیں ڈالے گا‘۔

    دوسری جانب عام شہری بھی اس معاشی بحران سے بری طرح متاثر ہیں۔

    رواں سال جنوری میں ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز بھی ملک کی معاشی صورتحال کے خلاف عوامی غم و غصے کے باعث ہی ہوا تھا۔ تاہم مبصرین کے مطابق اب ایران کی اقتصادی حالت اُس وقت کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہو چکی ہے۔

    اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ کے ساتھ ہونے والا کوئی معاہدہ ایران کی معیشت میں نئی جان ڈالنے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔

  2. عالمی منڈیوں میں استحکام اور تیل کی قیمتوں میں کمی جلد مُمکن نہیں: ماہرین, واشنگٹن سے بی بی سی نیوز کے نامہ نگار ڈینیل بُش کا تجزیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کو عالمی تیل کی منڈیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے جی7 اجلاس میں کہا ہے کہ معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد توانائی کی قیمتیں تیزی سے جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گی۔

    پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’تیل کی قیمتیں جلد ہی اس سطح پر آ جائیں گی جہاں وہ چار ماہ قبل تھیں۔‘

    تاہم توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ منڈیوں کو مکمل طور پر مستحکم ہونے میں کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جب تک امریکہ اور ایران آئندہ دو ماہ کے دوران حتمی امن معاہدے پر مذاکرات مکمل نہیں کر لیتے، جہاز رانی کی کمپنیاں آبنائے ہرمز میں اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال کرنے سے محتاط رہیں گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع بھی ہو جائے، تب بھی قیمتوں میں کمی آنے اور اس کے فوائد صارفین تک منتقل ہونے میں وقت لگتا ہے۔

    بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد بھی توانائی کی ترسیل کو مکمل طور پر معمول پر آنے اور چھ ماہ قبل والی سطح تک پہنچنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    امریکی حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتیں راتوں رات کم نہیں ہوں گی، کیونکہ خطے میں توانائی کی ترسیل کو معمول پر آنے میں وقت درکار ہوگا۔

  3. بلوچستان بجٹ: تعلیم کے بعد امن و امان کے لیے سب سے زیادہ رقم مختص, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے بجٹ پیش کردیا گیا جس میں تعلیم کے بعد دوسرے نمبر پر امن وامان کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔

    بجٹ وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بدھ کی شام بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی محاصل کے علاوہ بلوچستان کے اپنے وسائل اور دیگر مدات سے مجموعی آمدن کا تخمینہ ایک ہزار 134 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

    بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ سات سو 97 ارب اور ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ ڈھائی سو ارب روپے کے لگ بھگ ہے جبکہ بجٹ میں 45 ارب روپے کا بچت ظاہر کیا گیا ہے۔

    بجٹ میں پہلی ترجیح تعلیم کے شعبے کو دیتے ہوئے اس کے لیے مجموعی طور پر 197 ارب 28 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    اگرچہ تعلیم کا بجٹ سب سے زیادہ ہے تاہم اس کا بڑا حصہ تنخواہوں اور دیگر غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہے۔

    امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے رواں مالی سال کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امن وامان کے شعبے کے لیے دوسرے نمبر پر سب زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امن وامان کے لئے 107 ارب 92 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    رقم مختص کرنے کے حوالے سے صحت کا شعبہ تیسرے نمر پر ہے جس کے لیے مجموعی طور پر 73 ارب 99 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

    سماجی تحفظ کے شعبے کے لئے 15 ارب 13 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    ترقیاتی شعبے میں رواں مالی سال کے بجٹ کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی پیداواری شعبوں کے مقابلے میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے شعبے کے لیے زیادہ رقم رکھی گئی ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس شعبے کا ترقیاتی بجٹ 27ارب روپے ہے۔

    ماہرین کے مطابق بلوچستان میں زراعت، کانکنی، ماہی گیری اور لائیو سٹاک اور صنعتوں کا شمار پیداواری شعبوں میں ہوتا ہے۔

    بجٹ میں زراعت کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ چار ارب 19کروڑ روپے، کان کنی کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب 45 کروڑ روپے، محکمہ ماہی گیری و ساحلی ترقی کا ترقیاتی بجٹ 34 کروڑ 60 لاکھ روپے، صنعت کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ چار ارب روپے 20کروڑ جبکہ لائیو سٹاک کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب روپے ہے۔

    سینئر صحافی عرفان سعید کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پیداواری شعبے بلوچستان میں لوگوں کے معاش اور روزگار کے فطری ذرائع ہیں۔

    عرفان سعید کے مطابق بلوچستان میں روزگار کے مواقع کم ہونے سے پہلے ہی سرکاری شعبے پر ملازمتوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر پیداواری شعبوں کی ترقی کے لیے زیادہ رقم مختص کی جائے تو یہ سرکاری شعبے پر روزگار کے لیے دبائوکو کم کرنے میں مدد دے گی۔

    بجٹ میں سرکاری شعبے پانچ ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں وفاقی حکومت کے طرز پر سات فیصد اضافہ کیا گیا۔

    بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا جبکہ نئی الیکٹرک گاڑیوں پر سو فیصد صوبائی ٹیکس ختم کیا گیا ہے۔

  4. بریکنگ, صدر ٹرمپ اور صدر پزشکیان ممکنہ طور پر امن معاہدے پر دستخط کریں گے: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔‘

    نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یہ تجویز ’زیر غور ہے اور ابھی اس پر غور کیا جا رہا ہے‘۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے جی7 اجلاس کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ جمعہ کے روز امن معاہدے پر دستخط کے حوالے سے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب کے لیے وہاں رک جائیں۔

  5. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کیا ہے؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو کے دوران اعلیٰ امریکی حکام نے صحافیوں کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر بریفنگ دی ہے۔

    بی بی سی بھی اس بریفنگ میں شریک تھا۔ 14 نکات یا شقوں پر مشتمل اس معاہدے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

    لبنان سمیت تمام محازوں پر جنگ بندی: معاہدے میں ’تمام محاذوں بشمول لبنان فوری اور مستقل فوجی کارروائیوں کے خاتمے‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    60 دن میں حتمی معاہدہ: امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں گے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔

    امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: امریکہ 30 دن کے اندر ایران پر عائد اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ اس دوران بحری آمدورفت کو جنگ سے قبل کی سطح کے مطابق بحال کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ حتمی معاہدے کے 30 دن کے اندر امریکہ ایران کے اطراف سے اپنی افواج کے انخلا کا بھی پابند ہوگا۔

    آبنائے ہرمز کی بحالی: اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز 60 دن تک بغیر ٹول کے کھلی رہے گی، جس کے بعد ایران خلیجی ممالک، خصوصاً عمان کے ساتھ مل کر اس پر طویل المدتی معاہدہ کرے گا۔

    ترقیاتی فنڈ: امریکہ اور علاقائی شراکت دار کم از کم 300 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کریں گے جو ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے ہوگا۔

    تمام پابندیاں ختم: امریکہ اس بات کا پابند ہوگا کہ ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کی جائیں، جس کا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔

    جوہری ہتھیاروں کی ممانعت: دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور ایران اپنے افزودہ جوہری مواد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’موقع پر ملا کر غیر مؤثر‘ کرنے پر آمادہ ہوگا۔

    بی بی سی کے رپورٹرز گیری او ڈوناہو اور ڈین بش نے بھی ان تفصیلات کا جائزہ لیا ہے، جن کی رپورٹس اس سے قبل شائع کی جا چکی ہیں۔

  6. ایران اگر معاہدے پر قائم نہ رہا تو دوبارہ بمباری کی جا سکتی ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کے دوران سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایران معاہدے پر قائم نہ رہا تو اس پر دوبارہ بمباری کی جا سکتی ہے۔‘

    صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ آیا معاہدے میں کوئی ایسا قابلِ نفاذ طریقہ موجود ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک سکے، ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر ایران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو وہ ایران پر جہنم برپا کر دیں گے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کے معاملے میں فوجی کارروائی ہی ایک قابلِ عمل راستہ ہے۔‘

  7. ایران کو تعمیرِ نو کی مد میں فنڈز ’صرف اُس صورت میں ملیں گے جب وہ درست اقدامات کرے گا‘: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران کو تعمیر نو کے فنڈ تک رسائی صرف اسی صورت میں دی جائے گی جب وہ ’صحیح اقدامات‘ کرے گا۔

    صحافیوں کے سوالات کے دوران ٹرمپ سے ان رپورٹس کے بارے میں پوچھا گیا کہ امریکہ ایران کو تیل کی فروخت اور 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ تک رسائی کی اجازت دے سکتا ہے۔

    اس پر ان کا کہنا تھا ’صرف اس صورت میں جب وہ صحیح طریقے سے کام کریں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران نے ’خود کو قابو میں نہ رکھا تو اسے دوبارہ حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔‘

    تاہم اس سے کُچھ ہی دیر قبل انھوں نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا تھا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کو 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ انھوں نے ان رپورٹس کو ’جھوٹی خبر‘ قرار دیا۔

  8. لبنان، ایک ایسا معاملہ اور ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمیں کام کرنا ہوگا: ٹرمپ

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’لبنان کا معاملہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہمیں کام کرنا ہوگا۔‘

    جی 7 مُمالک کے اجلاس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو جاری ہے اور وہ اس وقت ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے حوالے سے پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کے سوالات کا جواب دے رہے ہیں۔

    اسی دوران انھوں نے کہا کہ ’وہ امید کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ پورے مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے معاہدے کا آغاز بھی ثابت ہوگا۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’لبنان میں امن کا قیام ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ہمیں کام کرنا ہوگا‘، تاہم ان کے مطابق ’اصل بڑا معاہدہ ایران سے متعلق ہے‘۔

  9. امریکہ ایران کو کوئی رقم ادا نہیں کرے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم فراہم نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کو 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ انھوں نے ان رپورٹس کو ’جھوٹی خبر‘ قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم انھیں کوئی رقم نہیں دیتے، ہم انھیں کچھ بھی نہیں دیتے۔‘

    ٹرمپ نے بعد ازاں آئندہ مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان میں خلیجی ممالک بھی شامل ہوں گے اور بات چیت کا مرکز ’غیر جوہری امور‘ ہوں گے، جن میں ایران کے ’روایتی بیلسٹک میزائل‘ بھی شامل ہیں۔

    ان کے مطابق ’انھیں کچھ میزائل رکھنے پڑتے ہیں کیونکہ دوسرے ممالک کے پاس بھی ہیں آپ کو بھی کچھ رکھنے پڑتے ہیں۔‘

    صدر نے بتایا کہ انھیں مشورہ دیا گیا تھا کہ ایران کو کسی بھی قسم کے میزائل رکھنے سے روکا جائے، تاہم ان کے بقول ’معاملات ایسے آگے نہیں بڑھتے‘۔

  10. ایران نہ خود جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انھیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر جلد دستخط کیے جائیں گے۔

    ان کے مطابق ’کل یا ممکن ہے اس کے اگلے دن‘ معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ نہ تو خود جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انھیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ان کے مطابق اس شق کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ایران کو دیگر ممالک سے جوہری ہتھیار خریدنے سے بھی روکتی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ معاہدے کی ایک کاپی اسرائیل کو بھی بھیجی گئی ہے جسے انھوں نے ’اچھا شراکت دار‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ ’حزب اللہ کے حوالے سے وہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں‘۔

    ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کا بھی ذکر کیا اور 2020 میں ہونے والے اس حملے کا حوالہ دیا جس میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے تھے۔

    انھوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے (جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن) پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ معاہدہ ’جوہری ہتھیار کی طرف جانے کا راستہ تھا‘۔

    بعد ازاں انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بیامن نیتن یاہو کا ذکر کرتے ہوئے، جن پر حالیہ دنوں میں انھوں نے ناراضی کا اظہار کیا تھا، کہا کہ وہ ’اچھے انسان ہیں‘ لیکن کبھی کبھی ’زیادہ جذباتی ہو جاتے ہیں‘۔

    ٹرمپ کے مطابق نیتن یاہو کو ’زیادہ نرم رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے‘، اور انھوں نے کہا کہ ’ہر بار جب کوئی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والا شخص آتا ہے تو آپ کو کوئی عمارت گرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

  11. ایران میں نئی حکومت زیادہ سمجھدار اور کم شدت پسند ہے، پاکستان اور قطر نے مذاکرات میں اہم کرداد ادا کیا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میری رائے میں یہ حکومت کی تبدیلی ہے‘۔

    ان کے مطابق ایران کے پاس اب ’نئی قیادت‘ ہے جو ’زیادہ سمجھدار‘ اور ’کم شدت پسند‘ ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل کے ذریعے حکومت کی تبدیلی حاصل ہو چکی ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے پاکستان اور قطر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اور قطر دونوں نے مذاکرات کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے۔‘

    انھوں نے جی7 اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس کا آغاز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ انھیں فرانس میں خوش آمدید کہنا ’جی7 کی تاریخ کے سب سے کامیاب اجلاسوں میں سے ایک‘ ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’اجلاس مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امن معاہدے پر دستخط کے بعد منعقد ہوا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو کھولا گیا ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا گیا ہے۔‘

    انھوں نے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایران معاہدے کے لیے آمادہ نہ ہوتا تو یہ بمباری کا سلسلہ جاری رہتا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ حکومت کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں، کوئی یہ نہیں کہے گا لیکن میرا خیال ہے کہ یہ وہی ہے۔ ایک قیادت ختم ہو گئی، دوسری قیادت بھی ختم ہو گئی اور تیسری قیادت بھی جزوی طور پر ختم ہو رہی ہے۔۔۔ میرا خیال ہے یہ حکومت کی تبدیلی ہے۔‘

  12. امریکی میڈیا میں سامنے آنے والا معاہدے کا متن اصل نہیں: وائٹ ہاؤس, بی بی سی نیوز کے سفارتی امور کے نامہ نگار پال ایڈمز کا تجزیہ

    وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر کمیونیکیشنز سٹیون چیونگ نے کہا ہے کہ سی این این کی جانب سے شائع کیا گیا ایک دستاویز، جسے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے متن کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ’اصل نہیں‘۔

    تاہم سی این این کا یہ ورژن پہلے بلومبرگ کی جانب سے شائع کیے گئے متن سے مماثلت رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ یہ وہی حتمی الفاظ نہ ہوں جو جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تقریب میں دستخط کے لیے پیش کیے جائیں گے، لیکن اس سے اس دستاویز کے بارے میں کچھ اہم نکات سامنے آتے ہیں، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے اور دو ماہ پر محیط تفصیلی مذاکرات کے آغاز کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ’اقدامات کرے گا‘۔

    جوہری مسئلے سے متعلق شقیں غیر واضح ہیں۔ تہران ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، جبکہ ایران ماضی میں بھی متعدد بار ایسا وعدہ کر چکا ہے۔ دیگر تمام جوہری معاملات کو ’حتمی معاہدے میں مناسب طور پر حل کیا جائے گا‘۔

    اگرچہ ایران پر بین الاقوامی پابندیاں برقرار رہیں گی، لیکن امریکہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے استثنیٰ جاری کرے گا، جبکہ مذاکرات کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے بھی دستیاب کر دیے جائیں گے۔

  13. جی7 اجلاس میں فرانس کا یوکرین کو مزید حمایت اور روس پر پابندیاں کا مطالبہ

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ ایویان میں ہونے والے جی7 اجلاس میں یوکرین اور ایران کے امور پر اہم مذاکرات ہوئے اور جی 7 رہنماؤں نے متفقہ طور پر نو مشترکہ اعلامیے منظور کیے۔

    ایمانوئل میکخواں نے کہا کہ ’یوکرین کے معاملے پر رہنماؤں کے درمیان اس بات پر عمومی اتفاق پایا گیا کہ یوکرین کو مزید حمایت فراہم کی جائے گی اور اس کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔‘

    ان کے مطابق ’جی7 ممالک نے اس بات سے اتفاق کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان ’طاقت کا توازن‘ تبدیل ہو چکا ہے اور اب یوکرینی افواج ’آگے بڑھ رہی ہیں جبکہ روس پیچھے ہٹ رہا ہے‘۔

    فرانس کے صدر نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یوکرین کو مزید اسلحہ فراہم کرنے کے لیے امریکی دفاعی صنعت کو متحرک کرنا اہم ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ روس کے خلاف عائد پابندیوں کو مزید سخت کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

    بعد ازاں ایمانوئل میکخواں نے ایران کے تنازع کی بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جس سے معاشی عدم استحکام کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

    ان کے مطابق اس معاہدے میں آبنائے ہرمز سے بغیر رکاوٹ اور بغیر ٹول کے گزرنے کو بنیادی نکتہ قرار دیا گیا ہے اور یہ عمل فوری طور پر شروع ہو چکا ہے۔

    ایمانوئل میکخواں نے مزید کہا کہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے سمندری تجارت کو معمول پر لانے کے لیے تیار کردہ دفاعی تعاون ایک ’موجودہ پیشکش‘ ہے اور تقریباً 20 ممالک پہلے ہی اس نوعیت کی کارروائی میں شمولیت کے لیے مکمل آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔

  14. ٹرمپ اور مودی ملاقات، امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے انڈین ملاحوں کا ذکر

    گذشتہ ہفتے انڈیا میں اس وقت شدید غم و غصہ دیکھا گیا جب ایک ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین سیلرز ہلاک ہوئے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا تھے۔

    امریکہ نے گذشتہ ہفتے خلیج فارس میں مزید دو جہازوں کو بھی نشانہ بنایا، جن سب میں انڈین عملہ سوار تھا۔

    بدھ کو فرانس میں جی سیون اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو طرفہ ملاقات کے بعد انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ انھوں نے ’جہازرانی کی آزادی کی اہمیت‘ پر زور دیا ہے۔

    انھوں نے کہا: ’ان کی سلامتی ہمارے لیے نہایت اہم ہے۔‘

    جب ٹرمپ سے انڈین ملاحوں کے خاندانوں کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ’میں نے ان کے بارے میں سنا ہے۔ یہ ایک مشکل پیشہ ہے… ہم ان سب لوگوں سے محبت کرتے ہیں، وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔‘

  15. تین ایرانی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی عبور کر گئے

    جہازوں کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق خام تیل سے لدے تین ایرانی ٹینکر خلیجِ عمان میں امریکی ناکہ بندی کو عبور کر چکے ہیں۔

    ان میں سے دو نے ناکہ بندی عبور کرتے وقت اپنی لوکیشن نشر کی، جبکہ تیسرا ٹینکر اس حد سے ذرا آگے جا کر اپنا لوکیشن ٹریکر فعال کرتا دکھائی دیا۔

    اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایرانی بندرگاہوں پر ’فوری طور پر‘ ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن بعد میں امریکی بحری افواج نے تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہونے تک ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ یہ دستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔

    ونڈورڈ میری ٹائم انٹیلیجنس کی سینیئر تجزیہ کار مشیل ویزے بوک مین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا: ’یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران کو یقین ہے کہ ناکہ بندی ختم ہو چکی ہے، چاہے امریکہ اصرار کر رہا ہے کہ یہ جمعہ تک برقرار رہے گی۔‘

    ایران کے جھنڈے تلے چلنے ٹینکرز ڈیونا، ہیرو ٹو اور سونیا ون نیشنل ایرانیئن ٹینکر کمپنی کی ملکیت ہیں، جس پر امریکی وزارتِ خزانہ کی طرف سے پابندیاں عائد ہیں جو ان جہازوں پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔

    ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جو اس خدشے کے باعث لگائی گئی ہیں کہ ملک جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کی مبینہ ایرانی حمایت اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی ان پابندیوں کی وجہ ہیں۔

    میرین ٹریفک کے ڈیٹا کے مطابق ہیرو ٹو اور سونیا ون منگل کے روز ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے روانہ ہوئے، جہاں اس وقت کئی دیگر ایرانی ٹینکر بھی لنگر انداز ہیں۔

    ڈیونا نامی ٹینکر نے گذشتہ روز امریکی ناکہ بندی کی حد عبور کرنے کے فوراً بعد اپنی لوکیشن نشر کرنا شروع کر دی، یہ ناکہ بندی عمان کے مشرقی سرے سے ایران کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔

    سمندری انٹیلیجنس فرم ونڈورڈ کے مطابق مارچ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ان ایرانی ٹینکروں میں سے کسی نے اپنی لوکیشن نشر کی ہے،اور اگر یہ اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام کے مطابق یہ دو ماہ بعد ایران کی پہلی تیل برآمدات ہوں گی۔

    ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام کے مطابق یہ تینوں جہاز مجموعی طور پر 3.8 ملین بیرل خام تیل لے جا رہے ہیں۔ فی الحال یہ جہاز اپنی متوقع منزلوں کی معلومات نشر نہیں کر رہے۔

  16. ٹرمپ کی ایران کو معاہدے میں رعایتیں دینے کی تردید, جون ڈونیسن، یروشلم

    اسرائیل اور اپنی ہی رپبلکن پارٹی کے سخت مؤقف رکھنے والے حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ ان کے معاہدے میں ایران کو حد سے زیادہ رعایتیں دی گئی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اگر تہران نے مناسب رویہ اختیار نہ کیا تو امریکہ ’ان کے سروں پر بم برسانا شروع کر دے گا۔‘

    کچھ لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہے کہ اطلاعات کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر پابندیوں کے فوری خاتمے کی شق شامل ہے، جس سے ملک کی معیشت میں اربوں ڈالر واپس آ سکتے ہیں۔

    گذشتہ روز دو ماہ کے وقفے کے بعد پہلی بار تین ایرانی آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کو عبور کیا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر لبنان میں جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے معاہدہ منہدم ہو سکتا ہے، جبکہ لبنانی میڈیا نے ملک کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی گولہ باری کی اطلاعات دی ہیں۔

  17. پاکستان اور قطر کی درخواست پر ایران کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات نہیں جاری کر رہے: امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا متن ’کم از کم‘ جمعے کی صبح تک جاری کیا جائے گا۔

    نائب صدر وینس کا کہنا تھا کہ قطر اور پاکستان کے مذاکرات کاروں نے ’فی الحال ہم مکمل متن جاری نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔‘

    ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اسے آج جاری کروا دیں کیونکہ ہم امریکی عوام کو بتایا چاہتے ہیں کہ معاہدے میں کیا ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’امریکی عوام کے لیے یہ ایک اچھا معاہدہ ہے۔‘

  18. سندھ حکومت نے بجٹ پیش کر دیا: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں سات، سات فیصد کا اضافہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    سندھ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3 ہزار 562 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں تعلیم، صحت، بلدیاتی خدمات اور سماجی تحفظ کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں سات، سات فیصد اضافے کا اعلان کیا۔

    بجٹ کے مطابق صوبے کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بدستور وفاق سے ملنے والی رقوم ہوں گی، جن کا حجم 2 ہزار 263 ارب روپے سے زیادہ ہے، جو مجموعی آمدن کا تقریباً دو تہائی حصہ بنتا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی ٹیکس آمدن کا ہدف 690 ارب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ غیر ٹیکس آمدن 85 ارب روپے، سرمایہ کاری سے وصولیاں 68 ارب 34 کروڑ روپے اور وفاقی گرانٹس 64 ارب 33 کروڑ روپے متوقع ہیں۔

    غیر ملکی قرضوں اور گرانٹس کی مد میں 8 ارب 14 کروڑ روپے شامل کیے گئے ہیں جبکہ 90 ارب روپے کیش بیلنس دستیاب ہوگا۔

    اخراجات کے حوالے سے بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں اور پینشن پر خرچ ہوگا۔

    دستاویزات کے مطابق 50 فیصد بجٹ تنخواہوں اور پینشن کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ 38 فیصد گرانٹس اور سبسڈیز، 8 فیصد آپریشن اور مینٹیننس اور دو، دو فیصد قرضوں کی ادائیگی اور مرمت و بحالی کے لیے رکھے گئے ہیں۔

    حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 720 ارب 38 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا ہے، جو گذشتہ مالی سال کے 1018 ارب روپے کے مقابلے میں 29 فیصد کم ہے۔

    تاہم غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں اور پروگراموں کے لیے 256 ارب 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    شعبہ وار فنڈز میں تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے، جس کے لیے 620 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سکولوں کے مخصوص بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 22 ارب 64 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے جبکہ جامعات کی گرانٹس میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

    صحت کے لیے 393 ارب 16 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 148 ارب 17 کروڑ روپے بڑے ہسپتالوں اور صحت مراکز کو گرانٹس کی مد میں دیے جائیں گے۔

    اسی طرح بلدیاتی خدمات کے لیے 306 ارب روپے، امن و امان اور عوامی تحفظ کے لیے 222 ارب 30 کروڑ روپے، زراعت، لائیو اسٹاک اور خوراک کے لیے 61 ارب 90 کروڑ روپے اور سماجی خدمات کے لیے 57 ارب 90 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔

    بلدیاتی اداروں کو 155 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے جبکہ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا بجٹ 151 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

    حکومت نے بجٹ میں غریب اور کمزور طبقات کے لیے کئی نئی فلاحی سکیموں کا بھی اعلان کیا ہے۔

    بینظیر ہاری کارڈ کے لیے تین ارب روپے، غریب کسانوں کے لیے کچن گارڈننگ کٹس، بینظیر ہاؤسنگ سیل، پیپلز آئی ٹی پروگرام اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی معاونت کے لیے دو، دو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    خصوصی افراد کے لیے معاون آلات، لینس سپورٹ اور گوگل گلاسز کی فراہمی کے لیے 1.1 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ یتیموں اور بیواؤں کی معاونت کے لیے بھی خصوصی پروگرام متعارف کروایا گیا ہے۔

    بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔

    ایم کیو ایم پاکستان نے بجٹ تقریر کا بائیکاٹ کیا جبکہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے بجٹ تقریر کے دوران احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ’ون وے ٹریفک چل رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے قبل شہری سندھ کی نمائندہ جماعتوں سے مشاورت نہیں کی گئی اور اگر جمہوری روایات کی پاسداری نہیں کی جائے گی تو ایسے احتجاج ہوتے رہیں گے۔

    سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بجٹ عوامی فلاح، تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

  19. مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ سے سکھ میاں بیوی ہلاک: پولیس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ایک گردواے میں فائرنگ کے نتیجے میں سکھ میاں بیوی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مردان کے بابو محلہ، خواجہ گنج بازار میں واقع گردوارے کے اندر نامعلوم ملزم نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس عبادت گاہ کے نگراں میاں بیوی ہوگئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی پی او مردان مسعود احمد، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ماریہ مصطفی، اے ایس پی سٹی، ایس ایچ او اور دیگر پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے شواہد اکٹھے کیے اور واقعے کا جائزہ لیا جپ۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

    بی بی سی اردو کو اراکین صوبائی اسمبلی گرپال سنگھ اور سریش کمار نے بتایا ہے کہ دونوں بزرگ میاں بیوی اس گردوارے کے رکھوالے تھے اور ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی

    انھوں نے بتایا کہ مرد کی عمر لگ بھگ 72 سال اور خاتون کی عمر 69سال تک ہوگی۔

    سریش کمار کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے میاں بیوی کے چہروں پر گولیاں ماری ہیں۔

    گرپال سنگھ نے بتایا کہ دونوں کی آخری رسومات آج رات مردان میں ادا کی جائیں گی۔ انھوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

    مردان میں سکھوں اور ہندوؤں کی کُل تعداد 300 تک بتائی جاتی ہے۔

  20. خیبر پختونخوا میں بجٹ کب پیش کیا جائے گا؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اب تک بجٹ پیش کرنے کی کوئی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اب تک اس بارے میں کوئی سمری ارسال کی گئی ہے۔

    صوبائی اسمبلی کا اجلاس اب 19 جون کو طلب کیا گیا ہے۔

    اس سے پہلے 15 جون کی تاریخ دی گئی تھی جسے تبدیل کرکے 17 جون کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا اور یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ اسی روز بجٹ پیش کیا جائے گا۔

    اس بارے میں صوبائی حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلم سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب انھیں کہا جائے گا وہ 24 گھنٹوں کی اندر بجٹ پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے، لیکن اب تک بجٹ پیش کرنے کا انھیں نہیں بتایا گیا ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ اسمبلی کا اجلاس طلب کر نے کے بعد اسے منسوخ کیوں کیا جاتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا اور بجٹ پیش کرنا الگ معاملات ہیں۔

    ’ضروری نہیں کہ یہ اجلاس بجٹ پیش کرنے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔‘

    ان سے جب پوچھا گیا کہ ایک تاثر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ صوبائی حکومت تین مہینے کا بجٹ پیش کرنے کا سوچ رہی ہے، تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایک سال کا بجٹ تیار کیا ہے اور اگر انھیں کہا جائے گا کہ وہ تین مہینے کا بجٹ پیش کریں تو وہ تین مہینے کا بجٹ بھی پیش کر سکتے ہیں۔

    وفاقی حکومت کے بعد صوبہ پنجاب نے اپنا بجٹ گذشتہ روز یعنی 16 جون کو پیش کر دیا ہے جبکہ بلوچستان اور سندھ کے بجٹ آج پیش کیے جا رہے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی سے سے اس معاملے پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا، تو انھوں نے کہا کہ ’صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے ان کی ملاقات عمران خان سے کروائی جائے کیونکہ اس بجٹ میں ان کی مشاورت ضروری ہے اور عمران خان کے وژن کے مطابق بجٹ پیش کیا جائے گا۔‘

    ان سے جب پوچھا گیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے چند روز پہلے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی تو کیا اس میں صوبائی حکومت کا مؤقف ان کے سامنے رکھا گیا تھا، تو انھوں نے کہا: ’وزیر اعلیٰ نے ایک مرتبہ پہلے وزیر اعظم سے کہا تھا لیکن اس مرتبہ ایسا کچھ نہیں کہا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وفاقی حکومت کو علم ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت عمران خان سے ملاقات کے بعد بجٹ پیش کرے گی۔‘

    شوکت یوسفزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ ایک سال کا بجٹ پیش کرے یا تین ماہ کا اور اس حولے سے اس پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

    خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کے وزارت اعلی کا عہدہ سمبھالنے کے بعد ان کی عمران خان سے اب تک ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اس بجٹ کو دباؤ کے طریقے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے تاکہ عمران خان سے ملاقات ہو سکے۔

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت پر آئی ایم ایف کا دباؤ ہے کہ سرپلس بجٹ پیش کرنا ہے اور خیبر پختونخوا پر بھی یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ سرپلس بجٹ پیش کرنا ہے اس لیے اب صوبائی حکومت کا اختیار ہے کہ کیا وہ سرپلس بجٹ پیش کرتی ہے یا خسارے کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے اور یا صرف تین ماہ کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وفاق کے ذمہ صوبے کے واجبات ہیں، این ایف سی کے علاوہ دیگر فنڈز بھی مکمل طور پر صوبے کو نہیں دیے جا رہے۔

    جب مزمل اسلم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سرپلس بجٹ پیش کریں گے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’جس دن بجٹ پیش کرنا ہوگا اس دن معلوم ہو جائے گا۔‘

    اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صوبائی حکومت سرپلس بجٹ پیش کرے گی یا تین ماہ کا؟ اس حوالے سے وزیر اعلی سہیل آفریدی کی حکومت ایک کشمکس کا شکار ہے۔

    سینیئر صحافی اور اور تجزیہ کار لحاظ علی کا کہنا ہے کہ ایک طرف وزیر اعلی پر عمران خان کی بہن علیمہ خان کا دباؤ ہے، جو یہ چاہتی ہیں کہ صوبائی حکومت تین ماہ کا بجٹ پیش کرے۔

    ’دوسری جانب وزیر اعلیٰ پر ایک آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ 30 جون سے پہلے بجٹ منظور کروائیں اور اگر وہ نہیں کر پاتے تو ان کی حکومت تحلیل ہو سکتی ہے۔‘

    لحاظ مزید کہنتے ہیں کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو یہ بھی علم ہے کہ اگر علیمہ خان کا حکم نہیں مانا جاتا تو ان کے لیے مشکل پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ ان سے پہلے ایک وزیر اعلیٰ علی امین گنڈہ پور کو بھی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔

    ’سہیل آفریدی ایسی پوزیشن میں ہیں کہ فیصلہ نہیں کر پا رہے جس وجہ سے اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ بار بار تبدیل ہو رہی ہے۔‘

    وفاق اور پختونخوا کے مسائل

    خیبر پختونخوا حکومت اس وقت مشکل صورتحال سے دو چار ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کا صوبائی حکومت کے ساتھ کوئی ورکنگ ریلیشن شپ نہیں ہے۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان کا چند روز پہلے کہنا تھا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔

    ’پختونخوا اپنی کھپت سے تین گنا زیادہ گیس پیدا کر رہی ہے لیکن چونکہ کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس ہے تو آج بھی صوبے میں گیس نا پید ہے ہماری سی این جی اور صنعتیں بند پڑی ہیں، لیکن ہماری گیس سے پنجاب کی انڈسٹری چل رہی ہے۔‘

    ’وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ایسے میں صوبائی حکومت اپنی حقوق کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھا رہی ہے۔‘