آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سینٹکام کا ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان، خامنہ نے ایرانی حکام کو امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی اجازت دے دی

سینٹکام نے واضح کیا کہ ان کے بحری جہاز ’اس علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد اور پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔‘ دوسری جانب ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ صدر پزشکیان نے انھیں بتایا کہ اگر امریکہ حد سے زیادہ مطالبات کرے گا تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔

خلاصہ

  • امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ اگر ایران مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو امریکہ ’ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے‘ کے لیے تیار ہے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ان کے ساتھ ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی وزیر اعظم شہباز نے بھی دستخط کر دیے ہیں۔
  • 14 نکاتی دستاویز کے تحت حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے آئندہ 60 دنوں کے دوران مزید مذاکرات ہوں گے۔ اس دوران آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی
  • اسلام آباد کا کہنا ہے کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کے آغاز کے لیے پاکستان 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ سرکاری تقریب کی میزبانی کرے گا۔ جبکہ ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ سوئٹزر لینڈ میں مذاکرات کے نئے دور پر ابھی غور جاری ہے
  • امریکی حکام کے مطابق 14 نکات پر مشتمل اس معاہدے کے مطابق ایران کو ملک کی ’دوبارہ تعمیر اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ دیے جائیں گے
  • معاہدے میں ’لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے‘ کا اعلان کیا گیا
  • معاہدے کے مطابق امریکہ اور ایران ’زیادہ سے زیادہ 60 دن میں بات چیت کرنے اور حتمی معاہدے کے لیے پرعزم ہیں، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے

لائیو کوریج

  1. امریکہ، ایران معاہدے کے باوجود حل طلب معاملات کیا ہیں؟, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار/بی بی سی نیوز

    خلیجی عرب ریاستوں نے اجتماعی انداز میں محتاط رہتے ہوئے سکھ کا سانس لیا ہے۔

    خلیجی ریاستوں کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز معمول کی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولی جا رہی ہے جبکہ یہ ممالک امید کر رہے ہیں کہ ایران کی جانب سے آنے والے ڈرونز اور میزائلوں کا سلسلہ اب ختم ہو جائے گا۔

    اس مفاہمتی یادداشت کی کامیابی کے باوجود کئی حل طلب معاملات موجود ہیں۔

    ان میں سب سے اہم جوہری معاملہ ہے۔ آئندہ 60 دن کا عرصہ بہت مختصر ہے جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کس طرح کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے پر کام نہ کر رہا ہو۔

    2015 کے اوبامہ دور کے جے سی پی او اے معاہدے تک پہنچنے میں 60 دن سے 10 گنا زیادہ وقت لگا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اس معاہدے کو ختم کر دیا تھا۔

    آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت کے لیے مقررہ 60 روزہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی یہ خطرہ برقرار رہے گا۔ ایران سمندری نقل و حرکت کے لیے ایک نیا نظام نافذ کر سکتا ہے جس کے تحت وہ ’ٹول‘ وصول کرے گا۔

    پھر مالیاتی چیلنج بھی موجود ہے۔ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب امریکی ڈالر کا فنڈ ملنا ہے جس کی مالی معاونت بڑی حد تک وہی خلیجی عرب ریاستیں کریں گی جن پر وہ حملے کرتا رہا ہے۔

    یہ ریاستیں اور امریکہ دونوں اس بات کو یقینی بنانا چاہیں گے کہ اس رقم کا کوئی حصہ پاسداران انقلاب کے بیلسٹک میزائل یا ڈرون پروگرامز کے لیے استعمال نہ ہو۔

  2. تین سعودی پرچم بردار سپر ٹینکرز نے آبنائے ہرمز عبور کر لی, شروتی مینن

    بی بی سی ویریفائی ان اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے کہ سعودی عرب کے پرچم بردار تین سپر ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔

    میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق ان جہازوں نے اپنی پوزیشن نشر کرنے والے ٹرانسمیٹر بند رکھ کر یہ راستہ عبور کیا اور خلیجِ عمان میں داخل ہونے کے بعد انھیں دوبارہ فعال کر دیا۔

    اوتاد، جحام اور شادن نامی یہ ٹینکر تنازع کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کے مغرب میں خلیج میں لنگر انداز تھے۔

    میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق تینوں ٹینکرز نے سعودی عرب کے ساحلی شہر راس تنورہ سے خود پر تیل لادا تھا۔ ان میں سے دو نے تنازع شروع ہونے سے پہلے 27 اور 28 فروری کو مال برداری کی تھی جبکہ تیسرے نے جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد 7 مارچ کو تیل لادا۔

    اوتاد اور شادن اس وقت بالترتیب کوریا اور جاپان کو اپنی متوقع منزل کے طور پر نشر کر رہے ہیں۔ جحام اس وقت کسی مقام کو نشر نہیں کر رہا۔

  3. سابق امریکی سیکریٹری خارجہ کی ایران معاہدے پر سخت تنقید, پال ایڈمز، سفارتی امور کے نامہ نگار/بی بی سی

    اس معاہدے کے ناقدین کی کمی نہیں ہے۔ ان میں دونوں جانب سخت گیر رہنما بھی شامل ہیں۔

    تاہم جب ایران اور امریکہ آئندہ ہونے والے مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں تو سب سے سخت تنقید ایک ایسے شخص کی جانب سے سامنے آ رہی ہیں جو اس عمل میں پہلے بھی شامل رہ چکا ہے، یعنی سابق امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن۔

    انھوں نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگ بندی کی واحد ’کامیابی‘ غالباً آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے جو جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی کھلی ہوئی تھی۔ اور بظاہر ہم اس کے لیے ایران کو ادائیگی بھی کریں گے۔‘

    یہ معاہدے پر انتہائی سخت تنقید ہے۔ ایران کو اربوں ڈالر مالیت کی مراعات حاصل ہو سکتی ہیں جن میں تیل کی فروخت سے متعلق چھوٹ اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔ یہ سب جوہری معاملات پر مذاکرات سے قبل ہو گا۔

    لیکن واشنگٹن میں گذشتہ روز صحافیوں کو بریفنگ دینے والے امریکی حکام نے اصرار کیا کہ مالیاتی ریلیف کا انحصار مذاکرات کے دوران ایران کے طرزِ عمل پر ہو گا۔

    ایک انتظامی اہلکار نے کہا کہ ’اگر وہ مثبت رویہ اختیار کرتے ہیں، مثال کے طور پر اگر وہ ان حتمی مذاکرات کے دوران ہمیں جوہری مواد فراہم کرتے ہیں تو اس کے جواب میں ہم کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیں گے۔‘

    امکان ہے کہ مذاکرات پیچیدہ اور اختلافات سے بھرپور رہیں گے۔ یہ مذاکرات 60 دن سے کہیں زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔

  4. ایران نے شرائط پر عمل نہ کیا تو امریکہ دوبارہ ناکہ بندی کرے گا: ہیگستھ

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ اگر ایران مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ شرائط پر عمل نہیں کرتا تو امریکہ ’ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔‘

    اس ہفتے دستخط کیے گئے معاہدے کے تحت امریکہ نے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اپریل سے ایران کے ساحل کی جانب آنے یا جانے والے جہازوں کی آمد و رفت رُکی ہوئی تھی۔

    ہیگستھ نے کہا کہ ’اگر ایران وہ نہیں کرتا جو وہ کہتا ہے، یعنی اپنی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہشات ترک کرنا، تو وزارتِ جنگ تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کی کسی بھی فوجی کارروائی اور مذاکرات کا مرکز ایران کے جوہری ہتھیار ہوں گے۔

    ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ بعض یورپی ممالک ’مزید کردار ادا کرنے‘ اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت بحال رکھنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔

    تاہم انھوں نے براہِ راست برطانیہ سے کہا کہ وہ ’مزید آگے بڑھے، اور مزید کوشش کرے اور اخراجات بڑھائے۔‘

    انھوں نے خاص طور پر کہا کہ اگر امریکہ کو برطانیہ اور ڈیاگو گارسیا میں فوجی اڈوں تک رسائی درکار ہو تو برطانیہ کو اس کی مدد کرنی چاہیے۔

    ڈیاگو گارسیا بحرِ ہند میں واقع چاگوس جزائر کا حصہ ہے جہاں امریکہ اور برطانیہ کا ایک خفیہ فوجی اڈہ موجود ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر نے ٹرمپ کی مخالفت کے باعث ان جزائر کو ماریشس کے حوالے کرنے کے منصوبے کو موخر کر دیا تھا۔

  5. امن معاہدے پر نیتن یاہو کی خاموشی اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی افواج اب بھی جنوبی لبنان میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ یہ کارروائیاں جنوبی لبنان میں تقریباً 10 کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ’سکیورٹی زون‘ میں کی جا رہی ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی موجودگی ’آپریشنل ضروریات‘ کے باعث ہے اور فوجی دستے ’خطرات کو ختم کرنے‘ کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    آج اس سے قبل، لبنانی ذرائع ابلاغ نے ملک کے جنوبی حصے میں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی تھی۔ حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت میں یہ حملے روکنے کا کہا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ بنیامن نتن یاہو نے گذشتہ رات امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جانے کے بعد کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم اس معاہدے سے خود کو الگ رکھتے دکھائی دیے ہیں۔ انھوں نے پیر کو اسرائیلی ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی قیادت کر رہے تھے۔

    فاکس نیوز کے مطابق نتن یاہو نے کہا کہ ’میں نے مختلف بات چیت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا، ہم اکثر متفق ہوتے ہیں اور ہم اکثر اختلاف بھی کرتے ہیں۔ اچھے خاندانوں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔‘

    اسرائیل براہِ راست امن مذاکرات میں شامل نہیں رہا۔ تاہم ٹرمپ نے بدھ کو دستخط سے قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انھوں نے معاہدے کے حتمی متن کی ایک نقل اسرائیل کو بھیجی تھی۔

    ہم نے اس سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ لبنان کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ حالانکہ مفاہمتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ ملک میں فوجی کارروائیاں بند ہو جائیں گی۔

    دریں اثنا نتن یاہو کی اپنی پارٹی کے ارکان اور ان کی حکومتی اتحادی جماعت میں شامل انتہائی دائیں بازو کے کابینہ وزرا کے بیانات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ انھیں اپنے ہی سیاسی حلقے سے کس دباؤ کا سامنا ہے۔

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے پیر کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہم ٹرمپ کے معاہدے کے پابند نہیں۔ ہم اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں جو ہماری سلامتی کو یقینی نہیں بناتا۔‘

  6. چین کا امریکہ اور ایران مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم

    چین نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایران امریکہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور میں اپنا تعاون جاری رکھیں۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو نیوز کانفرنس میں اُمید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران سمیت تمام متعلقہ فریق اس معاہدے کی روح پر قائم رہیں گے۔

    بدھ کو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں مذاکرات کو آگے بڑھانے اور معاہدے تک پہنچنے میں چین کے تعمیری کردار کو سراہا تھا۔

  7. امریکہ اور ایران مفاہمتی یادداشت کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی رپورٹس

    امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے باوجود لبنانی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ ملک میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔

    لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق جنوبی لبنان میں ایک کار پر اسرائیلی حملے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

    ایجنسی کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی لبنان کے دو قصبوں میں بھی اسرائیل نے ڈرون حملے کیے ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ایکس پر بتایا تھا کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں دہشت پھیلا رہی ہے جس سے اسرائیل کے شہریوں اور فوج کو خطرہ ہے۔

    جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا کہ امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس یادداشت کے حوالے سے ابھی تک کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

  8. وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر بطور ثالث دستخط کر دیے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر بطور ثالث دستخط کر دیے ہیں۔

    وزیرِ اعظم پاکستان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔

  9. امریکہ اور ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد تیل کی قیمت میں مزید کمی

    بدھ کی شب امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    رواں ہفتے کے آغاز پر برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 86 ڈالر 80 سینٹ فی بیرل تھی، جو بتدریج کم ہو کر جمعرات کو 74 ڈالر 80 سینٹ فی بیرل ہو گئی ہے۔

  10. سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے نئے دور پر ابھی غور جاری ہے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں مذاکرات کا ایک نیا دور ابھی زیرِ غور ہے۔

    ایرانی حکومت کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آنے والے گھنٹوں میں سفارتی ذرائع اور ثالثی کی کوششوں کے ذریعے بات چیت جاری رہنے کی توقع ہے۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سوئس حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے نمائندے ابتدائی بات چیت کے لیے کل سوئٹزر لینڈ میں ملاقات کریں گے۔

    بیان کے مطابق ’ابھی جو حالات ہیں، یہ منصوبہ ابھی بھی برقرار ہے کہ امریکی اور ایرانی حکام اس معاہدے کے ثالث پاکستان اور قطر کے علاوہ دیگر متعلقہ ممالک کی موجودگی میں وسطی سوئٹزر لینڈ کے سیاحتی مقام بورگن سٹاک میں معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق ابتدائی بات چیت کریں گے۔‘

    ’اس ملاقات کے شیڈول اور تفصیلات کے بارے میں فی الحال مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔‘

    واضح رہے کہ معاہدے پر باضابطہ دستخط جمعے کو سوئٹزر لینڈ میں ہونے تھے۔ لیکن اس سے پہلے بدھ کو ہی دونوں ممالک کے صدور نے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔

  11. آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے آپریشن میں شرکت ایران اور عمان کی اجازت سے مشروط ہو گی: جرمن وزیرِ دفاع

    جرمنی کے وزیرِ دفاع بوریس پسٹوریس نے کہا ہے کہ ان کا ملک علاقائی پانیوں میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے مشن میں صرف اُسی صورت میں حصہ لے سکتا ہے جب حالات صحیح ہوں۔

    اُنھوں نے کہا کہ آپریشن میں جرمنی کی شرکت ایران اور عمان کے معاہدے اور اُن کی پارلیمنٹ کی اجازت سے مشروط ہو گی۔

    بوریس پسٹوریس کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سازگار ماحول کی ضرورت ہے۔ بارودی سرنگ صاف کرنے کے آپریشن میں شرکت کے لیے ایران اور عمان کے معاہدے کے ساتھ ساتھ جرمن پارلیمان کی منظوری بھی ضروری ہے۔‘

    40 روزہ جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر قیاس آرائیاں کی گئیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے اور اسے روکنے کے لیے بحری بارودی سرنگیں استعمال کی تھیں۔ تاہم ایرانی حکام نے سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

  12. سوئٹزر لینڈ تقریب سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط

    اس وقت نافذ العمل مفاہمتی یادداشت پر بدھ کے روز امریکہ اور ایرانی صدور کی جانب سے دستخط کیے گئے۔

    یہ دستحظ ایسے وقت پر ہوئے جب سوئٹزرلینڈ میں 19 جون کو امریکی اور ایرانی نمائندوں کی میٹنگ طے ہے۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس دونوں کو سوئٹزر لینڈ میں اس تقریب میں شرکت کرنا تھی تاہم اب یہ واضح نہیں کہ یہ تقریب اب ہو گی یا نہیں۔

    معاہدے کے مطابق امریکہ اور ایران 60 دن میں بات چیت کرنے اور حتمی معاہدے کے لیے پرعزم ہیں۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس مدت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

  13. اسرائیل کی لبنان میں موجودگی معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی: ایران

    ایران کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کی مسلسل موجودگی جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی ’خلاف ورزی‘ ہوگی۔

    ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق، ملک کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر ’قبضہ‘ جاری رکھا تو ’ضروری اقدامات‘ کیے جائیں گے۔

    لبنان اس معاہدے میں تنازعات کا ایک اہم نکتہ بن گیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان معاہدے کا حصہ نہیں ہے، جب کہ لبنانی صدر جوزف عون نے اصرار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے ملک کی بات چیت امریکہ اور ایران معاہدے سے ’آزاد‘ ہے۔

  14. ہم نے مذاکرات میں فوجی کارروائی سے کئی گنا زیادہ حاصل کیا: قالیباف

    ایران کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے بدھ کی شام ایک تفصیلی انٹرویو میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر ردعمل دیا اور اسے امریکہ کے ساتھ فوجی مقابلے سے کہیں بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

    یاد رہے کہ وہ امریکی نمائندوں کے ساتھ ایرانی مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے تھے،مسٹر قالیباف کے کچھ بیانات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

    انھوں نے انٹرویو میں میں کہا کہ ’ہم جو کچھ فوجی کارروائی سے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس سے کئی گنا زیادہ ہم نے مذاکرات کے ذریعے حاصل کیا، اس کا کوئی موازنہ نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہر جنگ میں کچھ کامیابیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اگر یہ کامیابیاں آخر کار کسی قانونی اور سیاسی دستاویز میں تبدیل نہ ہوں اور درج نہ کی جائیں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، نہ تاریخ میں اور نہ ہی میدان میں حاصل شدہ کامیابیوں کو ثابت کرنے میں۔‘

    ’ہمیں عقل مندی سے آگے بڑھنا چاہیے اور جو گرہ ہاتھ سے کھل سکتی ہو اسے دانتوں سے کھولنے کی ضرورت نہیں، صرف نعرہ لگانا طاقت نہیں ہوتا اور اگر آپ دو بار نعرہ لگائیں اور عمل نہ کریں تو یہ رویہ دشمن کی مدد ہے۔‘

    باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کا مطلب جھک جانا نہیں ہے بلکہ عین عقل اور ہوشیاری ہے، ہم اس مقام پر ہیں کہ اپنے فائدے حاصل کر رہے ہیں۔‘

    ’آبنائے ہرمز ایک ممکنہ صلاحیت تھی جسے دشمن نے اپنی کارروائیوں سے عملی بنا دیا۔ آبنائے ہرمز کا انتظام اور کنٹرول اس کے کنارے والے ممالک کا حق ہے اور ہمیں اس پر خود مختاری حاصل ہے اور یقیناً خدمات کے بدلے فیس لیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کارروائی کے جواب میں کارروائی، شق 13 میں بیان کی گئی ہے۔ ہم نے اس کے لیے نگران مقرر کیے ہیں؛ یعنی ہمیں اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ یہاں کچھ افراد بطور نگران موجود ہوں۔ یہاں تک کہ ثالثی کرنے والوں کے بارے میں بھی ہمیں ایک دوسرے سے اتفاق کرنا ہوگا اور ممکن ہے دوسرے ممالک یہ کام کریں۔ لیکن یقین رکھیں کہ اگر وہ کوئی اقدام نہیں کریں گے تو ہم بھی کوئی جوابی اقدام نہیں کریں گے۔‘

  15. امریکہ-ایران ’مفاہمتی یادداشت‘ میں تین نکات اہم ہیں, تجزیہ: گیری او ڈونوہو

    واشنگٹن میں، ہم نے سینئر امریکی حکام کے ساتھ ایک غیر معمولی بریفنگ کا مشاہدہ کیا جنھوں نے ہمیں ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کا متن لفظ بہ لفظ پڑھ کر سنایا۔

    اس دستاویز کے تین اہم نکات میرے لیے نمایاں تھے، سب سے پہلے جوہری مسئلے پر۔ سینیئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے یا حاصل کرنے کا عہد کیا ہے۔ فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیل تک پہنچنے کے لیے اسے اپنی اولین شرط قرار دیا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں مقامی طور پر کمزور کیا جائے گا۔ امریکہ نے ابتدائی طور پر ایران سے مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا، اس لیے یہ ایک نئی پیش رفت ہے۔

    دوسرا آبنائے ہرمز کھلنے کے معاملے پر امریکی حکام نے کہا کہ 60 دنوں تک وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد ایران اور پڑوسی ممالک کو بات چیت کرنی ہوگی کہ اس مسئلے کو کیسے نمٹا جائے۔

    اس سے یہ امکان باقی رہتا ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کو عبور کرنے کے لیے ٹول عائد کیے جائیں گے، جب کہ تنازع شروع ہونے سے پہلے ایسی کوئی فیس نہیں تھی۔

    تیسرا 300 بلین ڈالر کا متنازعہ ایران تعمیر نو کا فنڈ ہے۔ ٹرمپ نے پہلے اس کی رپورٹوں کو ’جعلی خبروں‘ کے طور پر بیان کیا ہے، لیکن فنڈ معاہدے کے متن میں شامل ہے۔

    سینئر امریکی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو اس فنڈ کے لیے ’ایک فیصد بھی‘ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس پر عمل درآمد کا انحصار ایران کے رویے اور تہران کے اپنے وعدوں پر عمل کرنے پر ہوگا۔

    آنے والے دنوں میں اس معاہدے کی شق کے حساب سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔ لیکن اہم سوال یہ ہوگا کہ ایران کے ساتھ جنگ ​​سے امریکہ کو اصل میں کیا حاصل ہوا؟

  16. امریکی اور ایرانی صدر کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تصاویر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تصدیق کے ایک گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی یادداشت پر دستخط کرنے کی ایک ویڈیو جاری کی، جو ورسائی کے محل میں کھانے کی میز پر ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

    ویڈیو میں فرانسیسی صدر بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں، صدر ٹرمپ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی طرف سے دیے گئے کاغذ پر دستخط کر رہے ہیں۔

    اس ویڈیو کی دلچسپ بات یہ ہے کہ کیمرہ مفاہمت کی یادداشت کے فارسی ورژن پر دستخط کرنے کے لمحے کو نمایاں کرتا نظر آتا ہے اور امریکی صدر کے ہاتھ کو زوم کرتا ہے۔

    چند منٹ بعد، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے مسعود پیزشکیان کی ایک تصویر شائع کی، جس میں ایرانی صدر نے کیمرے کے سامنے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کے ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط دکھائی دے رہے ہیں۔

  17. امریکہ اور ایران کے درمیان نافذ العمل ہونے والے 14 نکاتی معاہدے میں کیا ہے؟

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دیتے ہیں۔ اس معاہدے کو 14 نکاتی ’مفاہمتی یادداشت‘ کہا گیا ہے۔

    دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے پر بات چیت کا اعلان کیا ہے، تاہم اس میعاد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

    لبنان سمیت تمام محازوں پر جنگ بندی: معاہدے کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور اتحادی لبنان سمیت ’تمام محاذوں‘ پر فوجی کارروائیوں کو ’فوری اور مستقل‘ ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔

    ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام: امریکہ اور ایران ’ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے‘ اور فریقین کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔

    60 دن میں حتمی معاہدہ: دستاویز کے تیسرے نکتے کے مطابق، امریکہ اور ایران 60 روز میں بات چیت اور حتمی معاہدے کو حاصل کرنے کا عہد کریں گے، اس ٹائم لائن کو باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ 60 روز کا آغاز دونوں ممالک کے رہنماؤں کے باضابطہ طور پر مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے بعد شروع ہوں گے۔

    امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: چوتھے نکتے میں کہا گیا ہے کہ ایک بار مفاہمت نامے پر دستخط ہونے کے بعد، امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بندرگاہوں پر موجود ’کسی قسم‘ کی رکاوٹ کو ہٹانا شروع کر دے گا۔ حتمی معاہدے پر دستخط ہونے کے 30 روز کے اندر امریکہ نے ایران کے اطراف سے امریکی افواج کو ہٹانے کا وعدہ کیا ہے۔ عملی طور پر، اس کا مطلب ہے کہ امریکی فوج 28 فروری کو لڑائی شروع ہونے سے پہلے اپنی پوزیشن پر واپس آجائے گی۔

    آبنائے ہرمز کی بحالی: معاہدے کے مطابق یہ ناکہ بندی 30 دن کے اندر مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس دوران امریکہ ایرانی بندرگاہوں کے ذریعے جتنے بحری جہازوں کو جانے کی اجازت دیتا ہے وہ آبنائے ہرمز میں ایران کی طرف سے بحال ہونے والی ٹریفک کے تناسب سے ہو گا۔

    معاہدے کے مطابق ایران آبنائے کے ذریعے تجارتی جہازوں کو محفوظ گزرنے کی اجازت دینے کے لیے ’اپنی بہترین کوششوں کا استعمال کرتے ہوئے انتظامات کرے گا۔‘

    جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد سے یہ امریکہ کا ایک اہم مقصد رہا ہے۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی اور فوجی ’رکاوٹوں‘ کو دور کرنے اور بارودی سرنگیں ہٹانے کے آپریشن کرنے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک فوری طور پر بحال ہو جائے گی۔

    ایران کی تعمیر نو کے لیے رقم: ایم او یو کے چھٹے نکتے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور علاقائی شراکت دار ایران میں تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کا ایک منصوبہ تیار کریں گے۔

    پابندیوں کا خاتمہ: امریکہ اس بات کا پابند ہوگا کہ ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کی جائیں، جس کا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔

    جوہری ہتھیاروں کی ممانعت: دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور ایران اپنے افزودہ جوہری مواد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’غیر مؤثر' کرنے پر آمادہ ہوگا۔

    ’سٹیٹس کو:‘ معاہدے کے نویں اور 10 ویں نکتے میں کہا گیا ہے کہ افزودہ یورینیم کے معاملے سے نمٹنے تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔

    عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ امریکہ نئی پابندیاں نہیں لگائے گا۔ اس دوران، یہ تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر متعلقہ خدمات، جیسے بینکنگ لین دین اور نقل و حمل کے لیے ایران کو چھوٹ دے گا۔

    یہ نکتہ مذاکرات کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ رہا ہے۔ ایران نے طویل عرصے سے اصرار کیا تھا کہ اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں۔

    ایران کے منجمد اثاثے: دستاویز کا 11 ویں نکتے کے مطابق ایم او یو پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ ’مکمل طور پر منجمد یا محدود فنڈز فراہم کرنے کا عہد کرتا ہے‘ اور اس طریقہ کار پر بات چیت کے دوران اتفاق کیا جائے گا۔

    ایک امریکی اہلکار نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ کچھ اثاثے جاری کیے جائیں گے جب کہ مفاہمت نامے کے بعد کی بات چیت جاری رہے گی جب ایران معاہدے کے پہلوؤں کی تعمیل کرتا ہے، جیسے کہ اس کے انتہائی افزودہ یورینیم سے نمٹنے کے لیے آغاز کرنا۔

    دیگر تین نکات: دستاویز کے آخری چند نکات طے پا جانے والے نکات کی مانیٹرنگ اور اور حتمی معاہدے سے متعلق ہیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران مفاہمت نامے کے نفاذ اور مستقبل کے معاہدے کی تعمیل کی نگرانی کے لیے ایک میکنزم قائم کریں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی عملی شکل کیسے ہو گی۔

    آخر میں میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

  18. آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ’ایران فیس وصول کرے گا‘

    ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ریاستی ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ’جنگ سے پہلے کی صورتحال میں واپس نہیں جائے گی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران کا حق ہے اور یقیناً ہم خدمات کے عوض فیس وصول کریں گے۔‘

    ملک اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں سے 60 دن کے بعد فیس لینا شروع کرے گا۔

    امریکی صدر ٹرمپ کے دستخط کردہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایران، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک ’وسیع تر‘ معاہدہ کرے گا۔

    ایک اہلکار کے مطابق امریکہ کا ماننا ہے کہ ایران اپنے حقوق کو ’سخت انداز میں‘ استعمال کرے گا، لیکن خلیجی ممالک کبھی بھی ایسے مستقبل کو قبول نہیں کریں گے جس میں ٹول یا فیس کا نظام نافذ ہو۔

  19. ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے: وزیراعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر الیکٹرانک دستخط کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک مفصل پوسٹ میں شہباز شریف نے لکھا کہ ’متعلقہ حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط ہونا اس بات کا اظہار ہے کہ فریق تنازع کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور ابتدائی اقدام کے طور پرایران فوراً آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا اور امریکہ فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔‘

    بیان کے مطابق ’پاکستان، شریک ثالث ریاست قطر کی حمایت سے، اس اہم موقع کی یاد میں اور تکنیکی سطح کے مذاکرات کے آغاز کے لیے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ سرکاری تقریب کی میزبانی کرے گا۔‘

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دلی مبارکباد اور مخلصانہ خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جن کی سفارت کاری سے ثابت قدم وابستگی اور پرامن حل کو ترجیح دینے کے موقف نے ایک بار پھر ایسے تنازعے کو ختم کرنے میں مدد دی جو خطے اور اس سے باہر تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ میں امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی لگن اور انتھک کاوشوں کو بھی سراہتا ہوں، جن کی قیمتی خدمات اس کامیابی میں اہم رہیں۔‘

    پاکستانی وزیر اعظم نے ایرانی حکام کے لیے پیغام میں لکھا کہ ’میں ایران کے سپریم لیڈر، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کے لیے اپنی گہری عزت اور قدردانی کا اظہار کرتا ہوں، جنھوں نے اپنی دانشمندی، دور اندیشی اور مدبرانہ قیادت کے ذریعے امن کے مقصد کو اپنایا۔‘

    ’میں ایرانی مذاکراتی ٹیم بشمول محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور سکندر مومنی کی کوششوں کا بھی اعتراف کرنا چاہتا ہوں، جن کے صبر، استقامت اور تعمیری روابط کے عزم نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

    انھوں نے امن مذاکراتی عمل میں معاون کردار ادا کرنے پر قطر کی قیادت کی بھی تعریف کی اور سعودی عرب، ترکی اور مصر کے کردار کی بھی تعریف کی۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہوں گا، جن کی انتھک محنت، بے لوث خدمات اور مؤثر کردار اس پیشرفت کو ممکن بنانے اور امن و علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے میں نہایت اہم رہے۔‘

    اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں اور یہ اب نافذ العمل ہو گیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جس کے تحت اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

    وہ فرانس کے شہر ایویان لیباں میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

    14 نکات پر مشتمل یہ معاہدہ، جسے مفاہمتی یادداشت کہا جا رہا ہے، کے مطابق ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اور اس میں ملک کی ’دوبارہ تعمیر اور اقتصادی ترقی‘ کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی وعدہ کیا گیا۔

    تاہم معاہدے کے متن میں کئی سوالات کے جواب موجود نہیں اور بہت سے اہم مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں۔

  20. حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کی مدت کوئی حتمی یا لازمی ڈیڈ لائن نہیں ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کی مدت کوئی حتمی یا لازمی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔‘

    پیرس پہنچنے کے بعد ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا وہ معاہدے کے لیے کسی سخت ڈیڈ لائن کو دیکھتے ہیں ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اس میں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔‘

    موجودہ معاہدے کے مطابق دونوں فریق 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’اگر دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کے پاس بالکل نہ ہونا ’کسی حد تک غیر منصفانہ‘ ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’بیلسٹک میزائل اس معاملے سے مختلف ہیں جسے ہم جوہری ہتھیاروں کے تناظر میں زیرِ بحث لاتے ہیں۔ لیکن اگر سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک کے پاس ایسے میزائل ہیں تو میرا خیال ہے کہ متناسب حد تک ایران کے پاس بھی ہونا قابلِ قبول ہے۔‘

    ایک اور سوال کے جواب میں جس میں پوچھا گیا تھا کہ معاہدے کے بعد امریکہ اپنی فوج خلیج میں کتنے عرصے تک برقرار رکھے گا ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کچھ عرصے تک۔‘