آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جسٹس عائشہ ملک سمیت سپریم کورٹ کے مزید پانچ ججز کو مشکوک خطوط موصول

سپریم کورٹ کے مزید پانچ ججز کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سکیورٹی حکام نے یہ خطوط کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیے ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بغیر اجازت ریلی نکالنے پر تحریک انصاف کے صوبائی اور مقامی رہنماؤں کے خلاف پولیس نے قومی اداروں اور حکومت کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

خلاصہ

  • آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے موجودہ پروگرام کی تکمیل کے بعد اگلے معاونتی پروگرام کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے تاکہ پاکستان کو درپیش مالیاتی اور بیرونی چیلنجوں سے نمٹا جا سکے
  • عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ میں کوئی مداخلت برداشت نہیں ہو گی
  • عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی ہو گئی ہے

لائیو کوریج

  1. حکمران اتحاد سینیٹ کی 19 نشستوں پر کامیاب

    منگل کے روز حکمران اتحاد نے سینیٹ کی 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اپوزیشن ارکان کی حلف برداری سے متعلق تنازع پر انتخابات ملتوی کردیے گئے۔

    غیر سرکاری نتائج کے مطابق سینیٹ کی 19 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 6، پیپلز پارٹی نے 11 اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔

    96 رکنی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 19 ہو گئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 24 ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی کے 20 ارکان ہیں۔

    اسلام آباد کی سینیٹ کیلئے ٹیکنوکریٹ اور جنرل نشستوں پر حکومتی اتحاد کے اُمیدوار و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور رانا محمود کامیاب ہوگئے ہیں۔

    حکومتی اتحاد کے امیدوار اسحاق ڈار سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ اور جنرل نشست پر رانا محمود الحسن سینیٹ کے رکن منتخب ہوگئے۔

    اسلام آباد کی جنرل و ٹیکنوکریٹ نشست پر دو دو امیدوار مدمقابل تھے۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اسحاق ڈار کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار راجہ انصر محمود جبکہ جنرل نشست پر حکومتی اتحاد کے رانا محمود الحسن کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے فرزند علی شاہ سے تھا۔

    پنجاب

    پنجاب میں جنرل نشستوں کے لیے مقابلہ کرنے والے تمام سات امیدوار مارچ کے آخر میں بلا مقابلہ منتخب ہو گئے تھے۔ آج خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو، دو نشستوں اور ایک اقلیتی نشست پر ووٹ ڈالے گئے۔

    ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم مصدق ملک بالترتیب 128 اور 121 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

    پنجاب میں خواتین کے لیے مخصوص دو نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی انوشہ رحمان اور بشریٰ انجم بالترتیب 125 اور 123 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے خلیل طاہر سندھو اقلیتی نشست پر کامیاب رہے۔

    سندھ

    سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے 12 میں سے 10 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم باقی دو نشستوں پر ایم کیو ایم پاکستان اور ایک آزاد امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔

    جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی کے اشرف علی جتوئی 22، دوست علی جیسر 21، کاظم علی شاہ 21، مسرور احسن 21 اور ندیم بھٹو 21 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

    جنرل نشست پر ایم کیو ایم پاکستان کے عامر چشتی نے 21 اور آزاد امیدوار فیصل واوڈا نے 21 ووٹ حاصل کیے۔ اس سے ایک روز قبل پیپلز پارٹی نے فیصل واوڈا کی حمایت کے لیے اپنے ایک امیدوار کو واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

    ٹیکنوکریٹ نشستوں پر پیپلز پارٹی کے ضمیر گھمرو 58 اور سرمد علی 57 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ خواتین کے لیے مخصوص دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کی روبینہ سعادت قائم خانی نے 57 اور قرۃ العین مری نے 58 ووٹ حاصل کیے۔

    اقلیتی نشست پر پیپلز پارٹی کے پونجو بھیل (117 ووٹ) بھی کامیاب رہے۔

    خیبر پختونخوا

    کے پی میں پولنگ شیڈول کے مطابق صبح 9 بجے شروع نہیں ہوئی اور تقریبا دو گھنٹے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ’مخصوص نشستوں پر حلف برداری میں تاخیر کی وجہ سے‘ ملتوی کر دیا۔

    کے پی کے الیکشن کمشنر شمشاد خان اسمبلی پہنچے اور اسمبلی عملے سے حلف اٹھانے والے ایم پی ایز کی فہرست طلب کی۔ دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے الیکشن کمیشن سے سینیٹ انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

  2. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • چیف جسٹس عامر فاروق سمیت اسلام آباد ہائیکورٹ کے آٹھ ججز کو مشکوک خطوط موصول ہونے کے معاملے پر تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ججز کو موصول ہونے والے مشکوک خطوط کے حوالے سے درج ہونے والی ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔واضح رہے کہ منگل کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے عدالتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ’چیف جسٹس عامر فاروق سمیت 8 ججز کو مشکوک خطوط موصول ہوئے۔‘ عدالتی اہلکار کے مطابق ’ایک جج کے سٹاف نے خط کھولا تو اس کے اندر پاؤڈر موجود تھا۔‘ ججز کو یہ خطوط موصول ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس کے ماہرین کی ایک ٹیم اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی جس کے بعد ان خطوط کے حوالے سے تحقیقات کا عمل شروع ہوا جس میں یہ جاننے کی کوشش جاری ہے کہ یہ پاؤڈر کیا ہے؟عدالتی اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ ’خط کے اندر ڈرانے دھمکانے والا نشان بھی موجود ہے، اور ریشم نامی خاتون نے بغیر اپنا ایڈریس لکھے ججز کو یہ خطوط بھیجے۔‘
    • الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان اسمبلی کے سپیکر کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی کی رکن اسمبلی کی حیثیت سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو معطل کیا ہے۔ان کی رکن اسمبلی کی حیثیت سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 51 چمن کے 12 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کرانے کے حکم کے باعث معطل کیا گیا۔ اس حلقے کے نتائج کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار اصغر خان اچکزئی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے امیدوار اباسین خان سمیت تین امیدواروں نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔
    • الیکشن کمیشن نے 13 مارچ 2024 کو قومی اسمبلی کی 6، صوبائی اسمبلی پنجاب کی 12، خیبر پختونخوا اسمبلی کی 2، صوبائی اسمبلی سندھ کی 1 اور بلوچستان اسمبلی کی 2 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے انعقاد کے لئے الیکشن پروگرام کا نوٹیفکیشن کیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 30 مارچ 2024 کو ریٹرننگ افسروں کی طرف سے امیدواروں کی حتمی فہرستوں کی اشاعت کے ساتھ ہی بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کے کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ تاکہ بیلٹ پیپرز کی بروقت چھپائی و ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات کے پُر امن انعقاد کے لئے ورزارت داخلہ، دفاع اور صوبائی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل رابطے میں ہے۔
    • منگل کے روز حکمران اتحاد نے سینیٹ کی 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اپوزیشن ارکان کی حلف برداری سے متعلق تنازع پر انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق سینیٹ کی 19 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 6، پیپلز پارٹی نے 11 اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔ 96 رکنی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 19 ہو گئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 24 ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی کے 20 ارکان ہیں۔
    • سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر ڈکلیئر کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد امیدوار عمر ایوب کی سپیکر ایاز صادق سے ملاقات ہوئی جس میں سپیکر ایاز صادق نے عمر ایوب کی درخواست کی تصدیق کر دی۔ سپیکر قومی اسمبلی نےقومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس کے رول 39 کے تحت سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کے بعد عمر ایوب کو قائد حزب اختلاف ڈیکلیئر کر دیا۔
  3. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاست، معیشت، حکومتی امور و فیصلے اور اہم عدالتی مقدمات سمیت دیگر تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!