آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ججز کو مشکوک پاؤڈر اور دھمکی آمیز نشانات والے خطوط کی ایف آئی آر درج، حکمران اتحاد کے حمایت یافتہ امیدوار سینیٹ کی 19 نشستوں پر کامیاب

چیف جسٹس عامر فاروق سمیت اسلام آباد ہائیکورٹ کے آٹھ ججز کو مشکوک خطوط موصول ہونے کے معاملہ پر تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ادھر حکمران اتحاد کے حمایت یافتہ امیدواروں نے سینیٹ انتخابات میں 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اپوزیشن ارکان کی حلف برداری سے متعلق تنازع کے باعث سینیٹ انتخابات کے لیے ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔

خلاصہ

  • غیر سرکاری نتائج کے مطابق سینیٹ کی 19 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 6، پیپلز پارٹی نے 11 اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔
  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو توشہ خانہ کیس میں دی گئی سزا کو معطل کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے
  • عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس، سات رکنی بینچ بدھ سے سماعت کا آغاز کرے گا
  • عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر جسٹس (ر) تصدق جیلانی کی انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت

لائیو کوریج

  1. سینیٹ الیکشن موخر کر کے الیکشن کمیشن نے آئین توڑا: علی امید گنڈاپور

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں سینیٹ کے انتخابات موخر کر کے الیکشن کمیشن نے پاکستان کا آئین توڑا ہے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وہ پوچھتے ہیں کہ جب ’وزیر اعلی اور صدر منتخب ہوئے تو آج کس وجہ سے الیکشن موخر کیا گیا ہے؟‘

    ’دھاندلی میں الیکشن کمیشن کا مین کردار ہے۔ الیکشن کمیشن کا آج اسمبلی کے فلور پر جانا بھی غیر قانونی تھا۔ سپیکر صاحب نے اس حوالے سے کمیٹی بنا دی ہے۔ اگر ہمارا حق نہ دیا تو حکومت پھر یہ بھی نہیں کریں گے۔‘

    علی امین نے کہا ہے کہ خواتین اور اقلیت کے لیے مخصوص نشستوں کے بارے میں الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ دیا وہ ان کی جماعت کے ساتھ ناانصافی ہے اور یہ نشستیں پی ٹی آئی کی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ لوگوں کو حلف اس لیے نہیں لینے دے رہے کیونکہ یہ ’میری سیٹیں ہیں۔‘

    اطلاعات ہیں کہ علی امین گنڈاپور بدھ کو اسلام آباد جائیں گے جہاں تحریک انصاف کے اجلاس میں آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی درخواست میں الیکشن کمیشن اور حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کو فریق بنایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کے پی میں سینیٹ انتخابات کے انعقاد کو مخصوص نشستوں پر ارکان کے حلف سے مشروط کیا جا چکا تھا۔

  2. 8 ججز کو مشکوک پاؤڈر اور دھمکی آمیز نشانات والے خطوط کی ایف آئی آر تھانہ سی ٹی ڈی اسلام آباد میں درج

    چیف جسٹس عامر فاروق سمیت اسلام آباد ہائیکورٹ کے آٹھ ججز کو مشکوک خطوط موصول ہونے کے معاملے پر تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    ججز کو موصول ہونے والے مشکوک خطوط کے حوالے سے درج ہونے والی ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ منگل کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے عدالتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ’چیف جسٹس عامر فاروق سمیت 8 ججز کو مشکوک خطوط موصول ہوئے۔‘

    عدالتی اہلکار کے مطابق ’ایک جج کے سٹاف نے خط کھولا تو اس کے اندر پاؤڈر موجود تھا۔‘

    ججز کو یہ خطوط موصول ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس کے ماہرین کی ایک ٹیم اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی جس کے بعد ان خطوط کے حوالے سے تحقیقات کا عمل شروع ہوا جس میں یہ جاننے کی کوشش جاری ہے کہ یہ پاؤڈر کیا ہے؟

    عدالتی اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ ’خط کے اندر ڈرانے دھمکانے والا نشان بھی موجود ہے، اور ریشم نامی خاتون نے بغیر اپنا ایڈریس لکھے ججز کو یہ خطوط بھیجے۔‘

  3. بلوچستان اسمبلی کے سپیکر کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن معطل, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان اسمبلی کے سپیکر کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی کی رکن اسمبلی کی حیثیت سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو معطل کیا ہے۔

    ان کی رکن اسمبلی کی حیثیت سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 51 چمن کے 12 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کرانے کے حکم کے باعث معطل کیا گیا۔

    اس حلقے کے نتائج کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار اصغر خان اچکزئی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے امیدوار اباسین خان سمیت تین امیدواروں نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے اراکین نثار احمد درانی اور بابر حسن بھروانہ پر مشتمل بینچ نے ان کی درخواستوں پر اپنے فیصلے میں کہا کہ اس حلقے کے بعض پولنگ سٹیشنوں کے ریکارڈ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض پر ٹرن آئوٹ 90 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ بعض پر اس بھی زیادہ رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے بینچ نے کہا کہ بہت ہی زیادہ اور غیر فطری ٹرن آؤٹ درخواست دہندگان کے اس موقف کو تقویت دیتا ہے کہ قانون کے برعکس اقدامات اور بے قاعدگیاں ہوئی ہیں جن کے باعث حلقے کے نتائج پر اثر پڑا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے حلقے کے 12 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کو منسوخ کرتے ہوئے ان پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔

    کمیشن کے بینچ نے 12 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کے نتائج تک حلقے سے کامیاب قرار دیئے جانے والے پاکستان مُسلم لیگ ن کے امیدوار عبدالخالق کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو معطل کردیا۔

  4. ضمنی انتخابات کے لیے صوبوں کو تیاری مکمل کرنے کی ہدایت، الیکشن کمیشن کا اعلامیہ جاری

    الیکشن کمیشن نے 13 مارچ 2024 کو قومی اسمبلی کی 6، صوبائی اسمبلی پنجاب کی 12، خیبر پختونخوا اسمبلی کی 2، صوبائی اسمبلی سندھ کی 1 اور بلوچستان اسمبلی کی 2 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے انعقاد کے لئے الیکشن پروگرام کا نوٹیفکیشن کیا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے منگل کے روز جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان ضمنی انتخابات میں کل 239 امیدواران حصہ لے رہے ہیں جن میں قومی اسمبلی کی نشستوں کے لئے 50 امیدواران مد مقابل ہیں جبکہ این اے 207 پر آصفہ بھٹو زرداری بلا مقابلہ کامیاب ہوئیں۔

    اسی طرح صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا کی خالی نشستوں پر 23 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، پنجاب میں 154 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، سندھ اسمبلی کی پی ایس 80 دادوپر امیدوار زبیر احمد جونیجو بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔

    بلوچستان اسمبلی کی خالی نشستوں پر 12 امیدوار وں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

    الیکشن کے انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن نے ضروری مواد صوبائی الیکشن کمشنروں کو مہیاکر دیا ہے۔

    ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسران اور ریٹرننگ افسران الیکشن شیڈول کے مطابق اپنا کام مکمل کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 30 مارچ 2024 کو ریٹرننگ افسروں کی طرف سے امیدواروں کی حتمی فہرستوں کی اشاعت کے ساتھ ہی بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کے کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ تاکہ بیلٹ پیپرز کی بروقت چھپائی و ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات کے پُر امن انعقاد کے لئے ورزارت داخلہ، دفاع اور صوبائی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل رابطے میں ہے۔

  5. حکمران اتحاد سینیٹ کی 19 نشستوں پر کامیاب

    منگل کے روز حکمران اتحاد نے سینیٹ کی 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اپوزیشن ارکان کی حلف برداری سے متعلق تنازع پر انتخابات ملتوی کردیے گئے۔

    غیر سرکاری نتائج کے مطابق سینیٹ کی 19 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 6، پیپلز پارٹی نے 11 اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔

    96 رکنی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 19 ہو گئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 24 ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی کے 20 ارکان ہیں۔

    اسلام آباد کی سینیٹ کیلئے ٹیکنوکریٹ اور جنرل نشستوں پر حکومتی اتحاد کے اُمیدوار و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور رانا محمود کامیاب ہوگئے ہیں۔

    حکومتی اتحاد کے امیدوار اسحاق ڈار سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ اور جنرل نشست پر رانا محمود الحسن سینیٹ کے رکن منتخب ہوگئے۔

    اسلام آباد کی جنرل و ٹیکنوکریٹ نشست پر دو دو امیدوار مدمقابل تھے۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اسحاق ڈار کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار راجہ انصر محمود جبکہ جنرل نشست پر حکومتی اتحاد کے رانا محمود الحسن کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے فرزند علی شاہ سے تھا۔

    پنجاب

    پنجاب میں جنرل نشستوں کے لیے مقابلہ کرنے والے تمام سات امیدوار مارچ کے آخر میں بلا مقابلہ منتخب ہو گئے تھے۔ آج خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو، دو نشستوں اور ایک اقلیتی نشست پر ووٹ ڈالے گئے۔

    ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم مصدق ملک بالترتیب 128 اور 121 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

    پنجاب میں خواتین کے لیے مخصوص دو نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی انوشہ رحمان اور بشریٰ انجم بالترتیب 125 اور 123 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے خلیل طاہر سندھو اقلیتی نشست پر کامیاب رہے۔

    سندھ

    سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے 12 میں سے 10 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم باقی دو نشستوں پر ایم کیو ایم پاکستان اور ایک آزاد امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔

    جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی کے اشرف علی جتوئی 22، دوست علی جیسر 21، کاظم علی شاہ 21، مسرور احسن 21 اور ندیم بھٹو 21 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

    جنرل نشست پر ایم کیو ایم پاکستان کے عامر چشتی نے 21 اور آزاد امیدوار فیصل واوڈا نے 21 ووٹ حاصل کیے۔ اس سے ایک روز قبل پیپلز پارٹی نے فیصل واوڈا کی حمایت کے لیے اپنے ایک امیدوار کو واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

    ٹیکنوکریٹ نشستوں پر پیپلز پارٹی کے ضمیر گھمرو 58 اور سرمد علی 57 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ خواتین کے لیے مخصوص دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کی روبینہ سعادت قائم خانی نے 57 اور قرۃ العین مری نے 58 ووٹ حاصل کیے۔

    اقلیتی نشست پر پیپلز پارٹی کے پونجو بھیل (117 ووٹ) بھی کامیاب رہے۔

    خیبر پختونخوا

    کے پی میں پولنگ شیڈول کے مطابق صبح 9 بجے شروع نہیں ہوئی اور تقریبا دو گھنٹے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ’مخصوص نشستوں پر حلف برداری میں تاخیر کی وجہ سے‘ ملتوی کر دیا۔

    کے پی کے الیکشن کمشنر شمشاد خان اسمبلی پہنچے اور اسمبلی عملے سے حلف اٹھانے والے ایم پی ایز کی فہرست طلب کی۔ دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے الیکشن کمیشن سے سینیٹ انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

  6. ’بشری بی بی کو زہر دیا جائے گا تو کیا میں خاموش بیٹھوں گا؟‘ عمران خان, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو اسلام آباد

    اڈیالا جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی منگل کے روز ہونے والی سماعت کے بعد بانی پاکستان تحریکِ انصاف نے میڈیا کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھے ججز نے جو خط لکھا یہ سب کو پتہ ہے کہ جب سے رجیم چینج ہوئی یہ بات تب سے چل رہی ہے اور تمام ججز پیغام دیتے ہیں کہ وہ بے بس ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ پولیس بھی کہتی ہے کہ ہم پر دباؤ ہے جیل کو بھی آئی ایس آئی کنٹرول کر رہی ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’احتساب عدالت کے سابق جج محمد بشیر دباؤ کی وجہ سے پانچ مرتبہ جیل کے ہسپتال گئے۔‘

    صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’عدت میں نکاح کا کیس سننے والے جج قدرت اللہ نے وکلا کو بتایا کہ اس وقت تک بیٹے کا ولیمہ نہیں کر سکتا جب تک فیصلہ نہ سنائوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سائفر کیس میں میرا 342 کا بیان ہو رہا تھا جج 10 منٹ کیلئے باہر گئے اور واپس آتے ہی فیصلہ سنا دیا۔‘

    سابق وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ ’تمام ججز باہر سے کنٹرول ہو رہے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے سابق صدر عارف علوی کے ذریعے آرمی جنرل عاصم منیر کو پیغام بھیجا تھا کہ مجھے لندن پلان کا علم ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’چیف الیکشن کمشنر لندن پلان پر عمل درآمد کا مرکزی کردار ہیں اور نگران حکومت اور الیکشن کمیشن نے مل کر لندن پلان پر عمل درآمد کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اقتدار میں بیٹھے لوگ ایجنسیوں کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شکر ہے کہ تصدق جیلانی نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کیا اور سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ بنا دیا گیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کا خط لکھنا سنجیدہ معاملہ ہے اس پر فل کوٹ کو سماعت کرنی چاہیئے تھی،سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ کا بننا کمیشن بننے سے بہتر ہے۔‘

    عمران حان کا کہنا تھا کہ ’ججز کو آواز اٹھانے پر سلوٹ کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ وہ ملک کو بچا لیں گے۔‘

    اڈیالا جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران حان کا کہنا تھا کہ ’جنرل باجوہ نے ہمیں واضح طور پر کہا تھا کہ اگر چپ نہ بیٹھے تو کیسز بنائے جائیں گے اور سزائیں بھی ملیں گی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈونلڈ لو نے اپنے اپ کو اور امریکی حکومت کو بچانے کے لیے چیزوں کی تردید کی۔ اسد مجید نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ میں آکر دھمکی کا بتایا تھا۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’مجھے عمر ایوب سے جان بوجھ کر ملنے نہیں دیا جا رہا تاکہ مشاورت نہ ہو سکے۔‘

    اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میری بیوی کے ساتھ جو کیا گیا وہ خطرناک ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف کے خلاف تمام گواہان ہارٹ اٹیک کی وجہ سے مارے گئے چند ماہ میں سب کی موت ہو گئی، مجھے ڈرانے کے لیے بشری بی بی کو زہر دیا گیا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’بشری بی بی کو زہر دیا جائے گا تو کیا میں خاموش بیٹھوں گا۔‘

  7. عُمر ایوب قائدِ حزبِ اختلاف منتخب

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر ڈکلیئر کردیا۔

    اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد امیدوار عمر ایوب کی سپیکر ایاز صادق سے ملاقات ہوئی جس میں سپیکر ایاز صادق نے عمر ایوب کی درخواست کی تصدیق کردی۔

    سپیکر قومی اسمبلی نےقومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس کے رول 39 کے تحت سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کے بعد عمر ایوب کو قائد حزب اختلاف ڈیکلیئر کر دیا۔

    سپیکر کی جانب سے عمر ایوب خان کو اپوزیشن لیڈر ڈکلیئر کرنے کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تقرری کا مرحلہ مکمل ہوگیا۔

    خیال رہے کہ 8 فروری کے انتخابات کے بعد 86 آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی تھی ان میں بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب شامل نہیں تھے۔

  8. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ کے 8 ججز کو مشکوک پاؤڈر اور دھمکی آمیز نشانات والے خط موصول, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے عدالتی اہلکار کے مطابق ’چیف جسٹس عامر فاروق سمیت 8 ججز کو مشکوک خطوط موصول ہوئے ہیں۔‘

    عدالتی اہلکار کے مطابق ’ایک جج کے سٹاف نے خط کھولا تو اس کے اندر پاؤڈر موجود تھا۔‘

    اسلام آباد پولیس کے ماہرین کی ایک ٹیم اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی جبکہ اس بارے میں تحقیقات کا عمل جاری ہے کہ پاؤڈر کیا ہے؟

    عدالتی اہلکار نے کہا کہ ’خط کے اندر ڈرانے دھمکانے والا نشان بھی موجود ہے، ریشم نامی خاتون نے بغیر اپنا ایڈریس لکھے ججز کو خطوط بھیجے۔‘

    عدالتی اہلکار نے بتایا کہ ’سٹاف نے خط کھولا تو اس کے اندر سفوف تھا اور خط کھولنے کے بعد آنکھوں میں جلن شروع ہو گئی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’متاثرہ اہلکار نے فوری طور پر سینیٹائزر استعمال کیا اور منہ ہاتھ دھویا، خط میں موجود متن پر لفظ anthrax لکھا تھا۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی پولیس کو طلب کرلیا۔

    تاہم ججز کو ملنے والے مشکوک خطوط کو کاؤنٹر ٹیر ازم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  9. کیا زیادہ ری ٹوئٹس، لائکس سے پیسے کمائے جا رہے ہیں؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے صحافیوں کو ایف آئی اے کے نوٹسز کے خلاف درخواست پر سماعت کی جس دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ حیدر وحید والی درخواست کا کوئی پٹیشنر عدالت میں ہے؟

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ایسی درخواست عدالت کا غلط استعمال نہیں؟ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ بالکل یہ پراسس کا غلط استعمال ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہجھوٹے تبصروں سے ڈالر کمائے جا رہے ہیں، یہ بھی کہ کیا زیادہ ری ٹوئٹس، لائکس سے پیسے کمائے جا رہے ہیں؟ کیا ہم جھوٹ پھیلانے والوں کو جیل بھیج دیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ایسی درخواستیں عدلیہ کی آزادی یقینی بناتی ہیں یا اسے کم کرتی ہیں؟ اس پٹیشن کے تمام درخواست گزاروں کو نوٹس کرکے طلب کیوں نہ کریں؟ اس دوران اٹارنی جنرل نے بھی درخواست گزاروں کو نوٹس کرنے کی حمایت کی۔

    بعد ازاں چیف جسٹس نے سماعت کے حکم نامے میں لکھوایا کہ میڈیا ریگولیشن سے متعلق پٹیشن واپس لینے کی درخواست آئی، نہ پٹیشن کے درخواست گزار عدالت آئے نہ وکیل، نہ ہی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ۔

    حکم نامے کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ اب وفاقی حکومت میڈیا ریگولیشن کا معاملہ خود دیکھ رہی ہے، اٹارنی جنرل نے حکومت سے منسوب اس بات کی تردید کی۔

    سپریم کورٹ نے میڈیا ریگولیشن والی پٹیشن کے درخواست گزاروں کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا اور عدالت نے فریقین سے تحریری دلائل بھی طلب کر لیے۔

    عدالت نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔

  10. خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات ملتوی، مخصوص نشستوں پر اپوزیشن اراکین کو حلف نہیں لینے دیں گے، وزیر اعلی خیبرپختونخوا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات ملتوی کر دیے ہیں جبکہ دوسری جانب وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وہ صوبے میں مخصوص نشستوں پر اپوزیشن اراکین کو حلف نہیں لینے دیں گے۔

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں بھی سینیٹ انتخابات منگل کے دن ہونا تھے تاہم یہ معاملہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کا حلف نہ لینے کے باعث متنازع ہو گیا تھا۔

    اس سے قبل پشاور ہائیکورٹ نے 27 مارچ میں کو سپیکر کے پی اسمبلی کو منتخب مخصوص نشستوں پر ممبران سے حلف لینے کا حکم دیا تھا تاہم سپیکر کی جانب سے نظر ثانی درخواست دائر کر دی گئی تھی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے کے پی میں سینٹ انتخابات کے انعقاد کو نو منتخب ممبران مخصوص نشست کے حلف سے مشروط کیا جا چکا تھا۔

    منگل کے دن میڈیا سے پشاور میں بات کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ’ہماری سیٹیں کیسے اپوزیشن کو دی گئیں؟ آئین کے مطابق ان کا ہماری سیٹوں پر کوئی حق نہیں۔‘

    علی امین گنڈاپور نے واضح کہا کہ ’اس صوبے کے اندر ہم مقابلہ کریں گے، آخری حد تک جائیں گے اور خواتین کی سیٹوں اور اقلیتوں کی سیٹوں، جن پر ہمارا حق ہے، پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے اعلان کیا کہ وہ اپوزیشن کے اراکین کو مخصوص نشستوں پر حلف نہیں اٹھانے دیں گے۔ ’ہم غیر قانونی لوگوں کو حلف نہیں لینے دیں گے۔ آئین کو توڑنے کی سزا آرٹیکل چھ میں سزائے موت ہے لیکن پھر بھی بار بار آئین ٹوٹ رہا ہے۔ ہم اس چیز کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘

    علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ’آج ہم چند قراردادیں پاس کریں گے۔ ابھی تک سائفر پر کمیشن کیوں نہیں بنا، الیکشن میں دھاندلی پر کچھ کیوں نہیں ہو رہا، ججوں کے خط پر فل کورٹ کیوں نہیں بن رہا، ان تمام معاملات پر قراردادیں پاس ہوں گی۔‘

  11. بریکنگ, تاندلیانوالہ میں کمسن طالبعلم کا مبینہ ریپ: حکومت کا ملزم کی بریت چیلنج کرنے کا فیصلہ

    پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ تاندلیانوالہ میں کم سن بچے سے ریپ کی کوشش کے کیس میں متوازی عدلیہ اور غیر قانونی پنچایتوں کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

    اس کیس کے سلسلے میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے متاثرہ بچے اور اس کے والد سے آج ملاقات کی اور ریاست کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا ہے۔

    ان کے ہمراہ ڈی آئی جی لیگل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن فیصل آباد اور ایس پی صدر فیصل آباد بھی تھے۔

    پنجاب پولیس کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ سے اس کیس کے حوالے سے مکمل مشاورت کی گئی ہے اور ان کی سفارشات کےتحت پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ اس ملزم کی بریت کو چیلنج کرے گا کیونکہ اس کیس میں پنچائت کے دباؤ کے تحت ملزم کی رہائی ممکن ہوئی۔

    پنجاب پولیس کے بیان کے مطابق ’ملزم کی رہائی کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ تفتیش کا عمل انجام کو پہنچ گیا ہے، پنجاب پولیس متوازی عدلیہ اور غیر قانونی پنچایتوں کی طرف سے بغیر کسی امتیاز یا غیر قانونی سماجی دباؤ کے، متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کو یقینی بنائے گی۔‘

    نیشنل کمیشن آف چائلڈ رائٹس کی چیئر پرسن عآیشہ رضا فاروق نے سماجی رابطی کی سائٹ ایسک پر ایک تھریڈ میں اس کیس سے متعلق لکھا کہ ’ ’پنچایت‘ میں شامل لوگوں کے خلاف اس گھناؤنے جرم کے ذمہ دار کے طور پر مقدمہ چلایا جائے متوازی عدلیہ اور غیر قانونی پنچایتوں کے بارے میں قانون بہت واضح ہے اور یہ شکایت کنندگان پر سماجی اور ذاتی اثر ڈال کر اس طرح کے سمجھوتے کروانے لوگوں کو تحفظ نہیں دیتا۔‘

  12. سینیٹ کی 30 نشستوں پر انتخاب آج ہو رہا ہے، حکمران اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے کے لیے پرامید

    پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی 30 خالی نشستوں پر انتخاب آج ہو رہا ہے جب کہ حکمران اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے حصول کے لیے پرامید ہیں۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ انتخابات کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی ہے، پنجاب کی سات جنرل نشستوں اور بلوچستان کی سات جنرل اور دو خواتین نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوگئے جن میں سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ، سابق نگراں وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی، پرویز رشید، احد چیمہ، طلال چوہدری، ناصر بٹ اور سنی اتحاد کونسل کے حامد خان اور علامہ راجہ ناصرعباس شامل ہیں۔

    اسلام آباد سے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر مسلم لیگ (ن)کے اسحاق ڈار، جنرل نشست پر پیپلز پارٹی کے رانا محمود الحسن امیدوار ہیں، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ انصر محمود ٹیکنو کریٹ نشست پر اور فرزند حسین شاہ جنرل نشست پر انتخاب لڑیں گے۔

    سندھ سے سینیٹ کی 12 نشستوں پر 20 امیدوار ہیں، سات جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی کے چھ امیدوار، ایم کیو ایم کا ایک اور چار آزاد امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے تین پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ہیں۔

    خواتین کی دو نشستوں کے لیے پیپلز پارٹی کی دو اور ایک آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔

    ٹینکوکریٹس کی دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کے دو اور دو آزاد امیدوار مدمقابل ہیں، اقلیت کی ایک نشست پر پیپلز پارٹی کا ایک اور ایک آزاد امیدوار میدان میں ہے۔

    پنجاب سے ٹیکنوکریٹ کی 2 نشستوں پر تین امیدوار، خواتین کی 2 مخصوص نشستوں پر 4 امیدوار اور اقلیت کی ایک نشست پر 2 امیدوار میدان میں ہیں۔

    بلوچستان سے سینیٹ کی 11 نشستوں میں سے سات جنرل اور دو خواتین کی نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے۔

    سات جنرل نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے انوار الحق کاکڑ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے احمد خلجی، نیشنل پارٹی کے جان بلیدی، مسلم لیگ (ن) کے آغا شازیب اور سیدال ناصر، پیپلز پارٹی کے عمر گورگیج، اے این پی کے ایمل ولی بلا مقابلہ سینیٹر بن گئے۔

    خواتین کی دو مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کی حسنہ بانو اور مسلم لیگ (ن) کی راحت جمالی بھی بلامقابلہ منتخب ہوئیں، ٹیکنوکریٹس کی دو نشستوں پر تین امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں پر 26 امیدوار مدمقابل ہیں، سات جنرل نشستوں پر 16 امیدوار ہیں، ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں پر چھ، خواتین کی دو نشستوں پر چار امیدواروں میں مقابلہ ہوگا۔

    قومی، سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں آج صبح نو بجے سے شام چار بجے کے درمیان پولنگ ہوگی۔

  13. ’حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے کو مُلکی قوانین کے تحت حل کرنے میں سنجیدہ نہیں‘ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کہا ہے کہ حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے کو ملکی قوانین کے تحت حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

    کوئٹہ میں پیر کے روزتنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی غیر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیا سمیت سماجی رابطوں کی سائٹس پر جبری گمشدگیوں کے حوالے سے ایک منفی مہم چلائی جا رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس حملے میں مارے جانے والے کریم جان کا نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کریم جان کا نام وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سمیت کسی بھی تنظیم کے لاپتہ افراد کے فہرست میں شامل نہیں تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کریم جان 23 مئی 2022 کو جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے اور 31 جولائی 2022 کو کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ان پر دھماکہ خیز مواد رکھنے کا الزام لگا کر انکی گرفتاری ظاہر کی گئی تھی جنھیں 17 اگست 2022 کو عدالت کے حکم پر رہا کیا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ کریم جان کی رہائی کے بعد انکے اہلخانہ سمیت کسی نے بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ لاپتہ ہے اور نہ ہی کسی تنظیم کے لاپتہ افراد کی فہرست میں ان کا نام شامل تھا۔

    وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سربراہ نے کہا کہ اگر حکومت نے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو عید کے بعد احتجاجی شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔

  14. توشہ خانہ کیس: سزا معطلی کے بعد کیا عمران خان اور بشریٰ بی بی رہا ہو جائیں گے؟

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت پر رہائی کے حکم کے باوجود چیئرمین تحریک انصاف اور اُن کی اہلیہ فوری طور پر رہا نہیں ہو سکیں گے کیوں کہ سائفر اور عدت میں نکاح کے مقدمات میں وہ اب بھی سزا یافتہ ہیں۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف مبینہ ’عدت میں نکاح‘ کے مقدمے میں تین فروری 2024 کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اسلام آباد کی مقامی عدالت کے سینیئر سول جج قدرت اللہ کی جانب سے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو سات، سات سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ جرمانہ کی سزا سُنائی گئی تھی۔

    تاہم دوسری جانب سابق وزیر اعظم عمران خان کو 30 جنوری 2024 کو اڈیالہ جیل میں خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت دس سال قید کی سزا سُنائی تھی۔

    سائفر کیس ہے کیا؟

    سابق وزیراعظم عمران خان کو حزب اختلاف کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدمِ اعتماد کے ذریعے 10 اپریل 2022 کو وزارتِ اعظمیٰ کے منصب سے ہٹایا گیا تھا۔

    اس سے تقریباً دو ہفتوں قبل 27 مارچ کو عمران خان نے اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک جلسے کے دوران حامیوں کے سامنے ایک کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ وہ ’سائفر‘ ہے جس میں درج ہے کہ انھیں اقتدار سے نکالنے کے لیے کس طرح امریکہ میں سازش کی گئی۔

    جلسے کے بعد عمران خان نے ایک اور تقریر میں دعویٰ کیا کہ اُس وقت کے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے کہا کہ ’اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وہ پاکستان کو معاف کر دیں گے۔‘

    عمران خان کا اصرار تھا کہ ڈونلڈ لو اس امریکی سازش کا حصہ ہیں جس کا مقصد اُن کی حکومت کو ہٹانا تھا۔ تاہم امریکی دفتر خارجہ نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی۔

    عمران خان ماضی میں متعدد مرتبہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کو اس ’سازش‘ کا مرکزی کردار قرار دے چکے ہیں۔

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے تحت ایک مقدمہ درج کیا جس کے بعد آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت تحقیقات کا حکم سابق وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے 19 جولائی 2023 کو دیا تھا اور 29 اگست 2023 کو سائفر کیس میں عمران خان کی گرفتاری ڈال دی گئی۔

    اس کیس میں عمران خان پر بنیادی الزام یہ تھا کہ انھوں نے سیاسی فائدے کے لیے ایک حساس سفارتی دستاویز کا استعمال کیا۔

    اس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ سائفر کو سیکرٹ ایکٹ کے تحت پبلک نہیں کیا جا سکتا ہے مگر عمران خان نے اس سائفر کو منٹس اور تجزیے میں تبدیل کیا اور اس کے ساتھ ’کھلواڑ‘ کیا۔

    بعدازاں ایک انٹرویو کے دوران عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ ان کو بھیجی گئی سائفر کی کاپی ’غائب‘ ہو چکی ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم کا اس حوالے سے موقف ہے کہ سائفر کی حفاظت کی ذمہ داری ان کے آفس کے عملے کی تھی نہ کہ خود عمران خان کی۔

    ’عدت میں نکاح‘ کیس کا مختصر پس منظر

    25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت سے رجوع کیا اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کا کیس دائر کیا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔

    خاور مانیکا نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انہیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔

    28 نومبر کو ہونے والی سماعت میں نکاح خواں مفتی سعید اور عون چوہدری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

    تاہم اس کے بعد 5 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم اور کیس کے گواہ محمد لطیف نے بیان قلمبند کرایا تھا۔

    تاہم تین فروری کو سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر شرعی نکاح کیس میں 7، 7 سال قید کی سزا سنادی گئی تھی۔

  15. ’بشام میں چینی باشندوں پر حملے کا مقصد دونوں مُلکوں کے اچھے تعلقات کو متاثر کرنا تھا‘ وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے داسو کے دورے پر چینی انجنئیرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’میں چینی بھائیوں، بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے میں آج یہاں آیا ہوں۔‘

    وزیر اعظم نے چینی انجنئیرز اور ورکرز سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس افسوسناک حادثے سے متعلق ہونے والی تحقیقات میں کوئی کمی نہیں آنے دیں گے، بشام واقعہ دہشت گردوں کا بزدلانہ فعل تھا۔‘

    وزیراعظم چینی باشندوں پر بشام کے مقام پر ہونے والے حالیہ دہشتگرد حملے کے تناطر میں داسو ڈیم منصوبے میں کام کرنے والی چینی کمپنی کے انجینئرز سے خطاب کر رہے تھے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسے واقعے کا مقصد پاکستان اور چین کی غیر معمولی دوستی کو متاثر کرنا تھا۔ ہم اُس وقت تک چین سے نہیں بٹھیں گے کہ جب تک ہم اس واقعے میں ملوث افراد کو سخت سزا نہیں دے دیتے۔‘

    وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’نا صرف اس واقعے میں ملوث افراد کو سزا دی جائے گی بلکہ حکومتِ پاکستان آپ تمام چینی بہن بھائیوں کو بہترین سیکورٹی فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرواتی ہے۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا ’اس واقعے سے متعلق حکومتِ پاکستان اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرے گی جس کی صدارت میں خود کروں گا۔‘

    چینی انجنئیرز اور ورکرز سے اپنے خطاب کے آخر پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں آپ سب کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کے بہت جلد ہمارے چینی بھائیوں پر حملہ کرنے والے یہ دہشت گرد ریاست اور قانون کی گرفت میں ہوں گے۔‘

    داسو ڈیم منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجنئیرز پر حملہ کب کب ہوا

    26 مارچ کو صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ کی تحصیل بشام میں چینی انجینیئرز کا ایک قافلہ داسو ڈیم کی طرف جا رہا تھا۔ بشام سے پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ خود کش حملہ آوروں نے اپنی گاڑی سے چینی انجینیئرز کی گاڑی کو ٹکر ماری جس سے ان کی گاڑی کھائی جا گِری اور پانچ چینی باشندوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے۔

    پاکستان اور چین دونوں کی جانب سے اس ’دہشتگرد حملے‘ کی مذمت کی گئی۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا جبکہ اسلام آباد میں چینی سفارتخانے نے ایک بیان میں پاکستان سے اس حملے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ جولائی 2021 میں بھی داسو ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والے نو چینی انجینیئرز سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے نومبر 2022 کے دوران اس حملے میں ملوث دو ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بتایا گیا تھا۔

  16. سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی درخواست میں الیکشن کمیشن اور حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کو فریق بنایا گیا ہے۔

    سُنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی درخواست میں الیکشن کمیشن کے علاوہ جنھیں فریق بنایا گیا ہے اُن میں متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز، پاکستان مسلم لیگ ن اور دیگر شامل ہیں۔

    سُنی اتحاد کونسل اور مخصوص نشستیں پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ کیا تھا؟

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سُنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کے اپنے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اس نے تمام سیاسی جماعتوں کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے لیے 22 دسمبر 2023 کی ڈیڈلائن دی تھی جسے بعد میں 24 دسمبر تک بڑھا دیا گیا تھا۔

    مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ ’ریکارڈ کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے فہرست جمع نہیں کروائی گئی تھی اور سنی اتحاد کونسل نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی جماعت میں شمولیت کے بعد الیکشن کمیشن کو چار خط لکھے تھے، جس میں یہ نشستیں دینے کے لیے درخواست دی گئی تھی۔

    الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کے امیدواروں نے قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے آٹھ فروری کے الیکشن میں بطور جماعت حصہ نہیں لیا اور پارٹی چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق ’آئین کے آرٹیکل 51 میں یہ واضح کیا کہ وہ سیاسی جماعتیں جن کی قومی اسمبلی میں الیکشن جیتنے کے باعث نمائندگی موجود ہے وہ ہی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے آئین میں درج نظام کے تحت اہل ہوں گے۔‘

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے بعد تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سُنی اتحاد کونسل قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں درجنوں نشستوں سے محروم ہو گئی جس کے بعد یہ تمام نشتیں عام انتخابات میں جیتنے والی دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر دی گئیں۔

  17. بریکنگ, توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل، ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو توشہ خانہ کے مقدمے میں دی گئی سزا کو معطل کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاورق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی طرف سے اس مقدمے میں احتساب عدالت کی طرف سے دی گئی سزا کی معطلی کی درخواستوں کی سماعت کی۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اس سال جنوری کے آخر میں توشہ خانہ مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے انھیں دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے عمران خان کو کوئی بھی سرکاری عہدہ رکھنے پر دس سال کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔

    مجرمان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالت نے توشہ خانہ کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے نہ صرف جلد بازی کا مظاہرہ کیا بلکہ حقائق کو بھی سامنے نہیں رکھا۔

    انھوں نے کہا کہ رات گئےتک اس مقدمے کی سماعتیں ہوتی رہی ہیں۔ اس سے پہلے مجرمان کے وکیل نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل بھی سماعت کرلیں جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ کیا آج یہ اپیل سماعت کے لیے مقرر ہے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ یہ اپیل سماعت کے لیے مقرر نہیں ہے جس پر عدالت نے بیرسٹر علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس اپیل پر سماعت نہیں کریں گے اور اگر وہ سزا کی معطلی کے بارے میں دلائل دینا چاہیں تو دے دیں۔

    بینچ میں شامل جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس مقدمے میں نیب اپنا کوئی موقف پیش کرنا چاہتا ہے جس پر نیب کے پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انھیں سزا کی معطلی پر کوئی اعتراض نہیں ہےلیکن اپلیں ابھی نہیں سنی جاسکتیں۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سزا کے ساتھ ساتھ سزا کا فیصلہ بھی معطل کر دیں جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ابھی اس کو چھوڑ دیں۔

    عدالت نے نیب کے پراسیکوٹر کے بیان کے بعد مجرمان کی سزا معطلی کےخلاف درخواستیں منظور کرلیں۔ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطلی کے باوجود سابق وزیر اعظم جیل سے باہر نہیں آسکیں گے کیونکہ وہ سائفر کے مقدمے میں قید ہیں جبکہ ان کی اہلیہ بشری بی بی کو عدت والے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے اس کے علاوہ نیب کے ایک سو نوے ملین پاونڈ کے مقدمے میں انھوں نے ضمانت کروا رکھی ہے۔

  18. بریکنگ, ہائیکورٹ ججز کے الزامات: جسٹس (ر) تصدق جیلانی کی انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کی جانب سے عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے خط پر جسٹس (ریٹائرڈ) تصدق جیلانی نے انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے چھ ججز کے خط کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دیے جانے کے کچھ دیر بعد یہ پیش رفت سامنے آئی۔

    واضح رہے کہ 30 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے الزامات پر ایک رکنی انکوائری کمیشن بنانے کی منظوری دے دی گئی تھی، اور جسٹس (ر) تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اجلاس نے 25 مارچ 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ معزز جج صاحبان کی جانب سے لکھے گئے خط کے مندرجات پر تفصیلی غور کیا۔

  19. سپریم کورٹ اس معاملے پر لارجر بینچ تشکیل دے: پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں میں مبینہ مداخلت ایک سنجیدہ معاملہ ہے سپریم کورٹ اس معاملے پر لارجر بینچ تشکیل دے۔

    پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر ازخود نوٹس لیا ہے۔

    اس پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا نجی ٹی وی چینل جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عدلیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے سنے اور اس پر لارجر بینچ بننا چاہیے۔