کرم واقعے میں ملوث افراد کو حکومت کے حوالے نہ کیا گیا تو وقوعہ کے مقام پر سخت کاروائی کی جائے گی۔: خیبرپختونخوا حکومت کا اعلامیہ

ضلع کُرم میں حالات کو معمول پرلانے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے کرم میں ڈپٹی کمشنرکے قافلے پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو حکومت کے حوالے نہ کیا گیا تو وقوعہ کے مقام پر آپریشن کیا جا سکتا ہے۔

خلاصہ

  • مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ کرم میں سکیورٹی کے پیش نظر چند مقامات پر کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شر پسندی دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔ دوسری جانب کرم میں قائم مقام ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی اور دو ماہ کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا ہے۔
  • گلگت بلتستان کے سیاحتی مقام ہنزہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف شاہراہ قراقرم پر تین روز سے جاری دھرنے کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے۔
  • بلوچستان کی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ گزشتہ روز تربت کے علاقے میں ہونے والے بم دھماکے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ یہ دھماکہ گزشتہ روز تربت شہر سے 8 کلومیٹر دور نیو بہمن کے علاقے میں ہوا تھا جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
  • امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کانگریس کو بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کو آٹھ ارب ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سنیچر کو کرم جانے والے قافلے کے سفری انتظامات جاری، علاقے کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے لائحہ عمل 15 روز میں دیا جائے: بیرسٹر سیف

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ ایپکس کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں کرم کو اسلحے اور بنکرز سے پاک کیا جائے گا اور معاہدے کے مطابق اسلحہ جمع کرانے کے لیے دونوں فریق 15 دنوں کے اندر مربوط لائحہ عمل فراہم کریں گے۔

    انھوں نے ایک بیان میں بتایا کہ سنیچر کو کرم جانے والے قافلے کے سفری اور حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ ’کرم میں اسلحے کے آزادانہ نمائش و استعمال پر پابندی ہو گی اور اسلحہ خریدنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ ’معاہدے کے مطابق فریقین کے ہر قسم کے بنکرز کی تعمیر پر پابندی ہو گی جبکہ موجودہ بنکرز کو ایک مہینے کے اندر ختم کیا جائے گا۔‘

    بیرسٹر سیف نے خبردار کیا کہ بنکرز کی مسماری کے بعد اگر کوئی فریق لشکر کشی کرتا ہے تو انہیں دہشت گرد سمجھ کر کارروائی کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ کرم میں قیام امن کے لیے فریقین نے یکم جنوری کو معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

  2. پی ٹی آئی کا 26 نومبر کا احتجاج: مقامی عدالت نے 250 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں

    pti protest

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے ایک روز بعد اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 250 ملزمان کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہیں۔

    عدالت کی جانب سے ملزمان کو پانچ، پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی دے دی گئی ہے۔ تاہم دوسری جانب 150 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی گئی ہیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران پی ٹی آئی نے عمران خان اور دیگر کارکنان کی رہائی اور نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبات پیش کیے تھے۔

    ضمانت پر رہائی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز پاکستانی فوج نے نو مئی 2023 کے تحریکِ انصاف کے مظاہروں کے دوران عسکری املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزائیں معاف کر دی تھیں۔

  3. حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات: عمران خان کی رہائی، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    na

    ،تصویر کا ذریعہNA Secretariat

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان دوسرا مذاکراتی دور جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے زبانی طور پر عمران خان اور دیگر افراد کی رہائی اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے دو مطالبات پیش کیے گئے۔

    اسی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں آگے بڑھنے کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، مشاورت اور رہنمائی کے لیے وقت بھی مانگا گیا۔

    پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی کی جانب سے کمیٹی کے سربراہ عُمر ایوب اور دیگر اراکین نے تفصیل سے اپنا نکتہِ نظر پیش کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو ضمانتوں کے حصول میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ حقائق پور طرح سامنے آئیں۔‘

    جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی کمیٹی نے آج اگاہ کیا کہ تحریری طور پر چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کرنے کے لیے انھیں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات مشاورت اور رہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔‘

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سینٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن نے کہا ہے کہ عمران خان نے مذاکراتی عمل شروع کرنے کی اجازت دی ہے، اپوزیشن کے مطابق مذاکرات مثبت طریقے سے جاری رکھنے کے لیے ان کی ہدایات بہت ضروری ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کمیٹی عمران خان سے مشاورت اور رہنمائی کے بعد اگلی میٹنگ میں چارٹر آف ڈیمانڈ باقاعدہ تحریری شکل میں پیش کرے گی۔‘

    عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یعنی حکومت کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات اور سہولت لینے پر کوئی اعتراض نہیں، تحریک انصاف نے ایک ہفتے کا مزید وقت مانگا ہے جس کے بعد بات چیت کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہوگا۔ اپوزیشن کے مطالبات اگر تحریری شکل میں آئیں گے تو ہم دیکھیں گے وہ کیا چاہتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملک میں جمہوری استحکام کی بات کی ہے، اپوزیشن کا لہجہ سخت نہیں اور بہت سی چیزوں کو ان کی جانب سے سراہا گیا ہے، بات چیت کا خوشگوار ماحول میں ہونا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘

    parliament

    ،تصویر کا ذریعہParliament House

    دوسری جانب مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کہ کہنا تھا کہ ’جب مذاکرات کے لیے کمیٹیاں بنی ہیں تو ظاہر ہے کہ رویہ تو ایسا ہے کہ حکومت مسائل کا حل چاہتی ہے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ بات بھی ظاہر ہے کہ حکومت تمام اداروں کی آمادگی کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب وقت آچُکا ہے کہ معاملات اور مسائل کو بات چیت کی مدد سے اور سیاسی اور جمہوری طریقے سے حل کرنا چاہیے۔ سب باتوں پر عمران خان کا ہی اختیار ہے، عمران خان کے ہی حکم پر یہ مذاکرات شروع ہوئے ہیں تو اب آگے بھی عمران خان ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اب آگے کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔‘

    واضح رہے کہ ان مذاکرات میں پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ جبکہ ان کے علاوہ سنی اتحاد کونسل کے حامد رضا اور وحدت المسلمین کے راجہ ناصر عباس شامل تھے۔

    جبکہ دوسری جانب حکومتی وفد میں ن لیگ کی جانب سے سینٹر عرفان صدیقی، اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، پیپلز پارٹی سے نوید قمر اور راجہ پرویز اشرف، ایم کیو ایم سے فاروق ستار کے علاوہ اعجاز الحق، خالد مگسی اور علیم خان شامل ہوئے۔

  4. بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید!

    bbc

    پاکستان اور دنیا بھر کی اہم خبروں کے لیے بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔

    اس سے پہلے کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔