یمن کے ساحل کے قریب سے تیل بردار بحری جہاز اغوا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی سے بات کرنے والے متعدد صومالی سکیورٹی حکام کے مطابق صومالی قزاقوں نے یمن کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز کو اغوا کر لیا ہے۔
یمن کی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ ’ایم ٹی ایوریقا‘ نامی تیل بردار بحری جہاز کو ہائی جیک کرنے کے بعد صومالیہ کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جہاز کو خلیجِ عدن میں بندرگاہ قنا کے قریب قزاقوں نے اپنے قبضے میں لیا۔
بی بی سی سے گفتگو کرنے والے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے تین سکیورٹی حکام کے مطابق قزاق ایک دور دراز ساحلی علاقے، قندالہ نامی قصبے کے قریب سے روانہ ہوئے، جو خلیجِ عدن کے کنارے واقع ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران علاقے میں تیل بردار جہاز کے ساتھ پیش آنے والی یہ دوسری واردات ہے۔ اس سے قبل 22 اپریل کو صومالی قزاقوں نے ’آنر 25‘ نامی ٹینکر کو اغوا کیا تھا، جو 18 ہزار 500 بیرل تیل موغادیشو لے جا رہا تھا۔
سکیورٹی حکام کے مطابق ایم ٹی ایوریقا اغوا سے قبل مغربی افریقی ملک ٹوگو کا پرچم لیے ہوئے تھا۔ جہاز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے مسلح افراد نے اپنے قبضے میں لیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ جہاز اس وقت یمن اور صومالیہ کے درمیان خلیجِ عدن میں سفر کر رہا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں صومالی پانیوں میں لنگر انداز ہو جائے گا۔
دوسری جانب جمعے کے روز برطانیہ کی میری ٹائم ٹرانسپورٹ آپریشن نے ایک علیحدہ واقعے میں اطلاع دی کہ یمن کے شہر المکلا کے قریب ایک مال بردار جہاز کے قریب ایک کشتی میں سوار ’مسلح افراد‘ دیکھے گئے۔
تاہم ابھی تک صومالی حکام اور صومالی پانیوں میں قزاقی کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی یورپی یونین نیول فورس کی جانب سے تازہ ہائی جیکنگ کے واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔



















