ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے جہازوں اور اُن کے عملے کی محفوظ روانگی کے لیے پیر سے’بہترین کوششیں‘ شروع کرنے کا اعلان

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

خلاصہ

  • مذاکرات میں تسلسل کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر
  • سیستان بلوچستان میں پاسدارانِ انقلاب کے قافلے پر حملے میں راسک شہر کے کمانڈر زخمی
  • ٹرمپ کو ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا: پاسداران انقلاب
  • 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کویت کی ماہانہ تیل برآمدات صفر بیرل رہیں: رپورت
  • جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ
  • خطے سے امریکی فوج کا انخلا، ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت 14 نکات امریکہ بھجوا دیے ہیں: ایرانی میڈیا
  • ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لوں گا، تاہم اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتا: ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. یمن کے ساحل کے قریب سے تیل بردار بحری جہاز اغوا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی سے بات کرنے والے متعدد صومالی سکیورٹی حکام کے مطابق صومالی قزاقوں نے یمن کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز کو اغوا کر لیا ہے۔

    یمن کی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ ’ایم ٹی ایوریقا‘ نامی تیل بردار بحری جہاز کو ہائی جیک کرنے کے بعد صومالیہ کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جہاز کو خلیجِ عدن میں بندرگاہ قنا کے قریب قزاقوں نے اپنے قبضے میں لیا۔

    بی بی سی سے گفتگو کرنے والے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے تین سکیورٹی حکام کے مطابق قزاق ایک دور دراز ساحلی علاقے، قندالہ نامی قصبے کے قریب سے روانہ ہوئے، جو خلیجِ عدن کے کنارے واقع ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران علاقے میں تیل بردار جہاز کے ساتھ پیش آنے والی یہ دوسری واردات ہے۔ اس سے قبل 22 اپریل کو صومالی قزاقوں نے ’آنر 25‘ نامی ٹینکر کو اغوا کیا تھا، جو 18 ہزار 500 بیرل تیل موغادیشو لے جا رہا تھا۔

    سکیورٹی حکام کے مطابق ایم ٹی ایوریقا اغوا سے قبل مغربی افریقی ملک ٹوگو کا پرچم لیے ہوئے تھا۔ جہاز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے مسلح افراد نے اپنے قبضے میں لیا۔

    اطلاعات کے مطابق یہ جہاز اس وقت یمن اور صومالیہ کے درمیان خلیجِ عدن میں سفر کر رہا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں صومالی پانیوں میں لنگر انداز ہو جائے گا۔

    دوسری جانب جمعے کے روز برطانیہ کی میری ٹائم ٹرانسپورٹ آپریشن نے ایک علیحدہ واقعے میں اطلاع دی کہ یمن کے شہر المکلا کے قریب ایک مال بردار جہاز کے قریب ایک کشتی میں سوار ’مسلح افراد‘ دیکھے گئے۔

    تاہم ابھی تک صومالی حکام اور صومالی پانیوں میں قزاقی کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی یورپی یونین نیول فورس کی جانب سے تازہ ہائی جیکنگ کے واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

  2. روس خطے میں جنگ کے خاتمے اور ایران کی مدد کو تیار ہے: سرگئی لاوروف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے اور مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے درکار ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جمعے کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس کے دوران روسی وزیر خارجہ نے تہران کے خلاف فوجی حملے کی مذمت پر مبنی روس کے اصولی مؤقف کو دہرایا۔

    انھوں نے زور دیا کہ روس، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔

    بیان کے مطابق، ایران کی مسلح افواج نے امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے بلا اشتعال تازہ حملوں کا بھرپور جواب دیا، جس کے دوران کم از کم 100 مرحلوں میں جوابی کارروائیاں کی گئیں اور مغربی ایشیا کے وسیع علاقے میں امریکی اور اسرائیلی حساس اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    تاہم ایران کی جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 40 دن کی جنگ کے بعد ایران کے خلاف حملوں میں دو ہفتوں کے وقفے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کی، تاہم ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا، جسے ایران کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا ہے، سوائے ان جہازوں کے جو ایرانی حکام سے رابطہ کر کے اجازت حاصل کریں۔ اس اقدام نے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا کر دی ہے۔

    ادھر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے روسی ہم منصب کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ایران کے مؤقف اور مغربی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ایران کی کوششوں اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

  3. بلوچستان میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں چار عسکریت پسند اور جوابی کارروائی میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں فائرنگ کے تبادلے اور بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ نجی سکیورٹی کمپنی کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ ساحلی ضلع گوادر کے علاقے پسنی میں پیش آیا جہاں ایک جھڑپ میں چار عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پسنی میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔

    اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے دوران چار عسکریت پسند ہلاک جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔

    اُدھر ضلع دُکی میں باردی سرنگ کے دھماکے میں نجی سکیورٹی کمپنی کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

    ڈکی پولیس کے ایک اہلکار عبدالغنی نے فون پر بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کے علاقے تلائو میں پیش آیا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے بارودی سرنگ نصب کی تھی جو کہ اس وقت پھٹ گئی جب ایک موٹر سائیکل اس سے ٹکرا گیا۔

    بارودی سرنگ کے پھٹنے سے موٹر سائیکل پر سوار نجی سکیورٹی کمپنی کے دو اہلکار زخمی ہوگئے جن کو طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز اس علاقے میں کوئلے کے ٹرکوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تعینات تھے۔

  4. اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔

    فلوریڈا کے علاقے ویسٹ پام بیچ میں میامی روانگی سے قبل ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے۔‘

    اس سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ ایران نے اپنی تجویز مستقل طور پر جنگ کے خاتمے کے مقصد کے تحت ثالث کے طور پر پاکستان کو پیش کی ہے اور اب ’معاملہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے یا محاذ آرائی پر مبنی پالیسی جاری رکھے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں لکھا کہ ’ایران نے گزشتہ 47 برسوں کے دوران انسانیت اور دنیا کے خلاف اپنے اقدامات کی ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘

    صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں معاہدے کے مجموعی ڈھانچے سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاہم ابھی تفصیلی متن انھیں فراہم کیا جانا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسترد کی گئی تجویز میں آبنائے ہرمز میں کشتیرانی کی بحالی اور ایران کے خلاف امریکی محاصرے کے خاتمے سے متعلق شرائط شامل ہیں جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

  5. سینٹ کام: بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے 48 بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا

    امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے بتایا ہے کہ گذشتہ 20 دنوں میں بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے 48 بحری جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔

    امریکی بحری ناکہ بندی میں خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں واقع ایران کی تمام بندرگاہیں اور ساحلی علاقے شامل ہیں۔

    اس کے نتیجے میں ایرانی بندرگاہوں میں بحری جہازوں کی آمد و رفت روک دی گئی ہے، اور ایرانی تجارت سے متعلق کسی بھی بحری نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے۔

    کوئی بھی جہاز جو کسی بھی طور پر ایران سے منسلک ہو، یا ایرانی سامان لے جا رہا ہو یا لانے والا ہو، اسے روکا جائے گا اور اس کی تلاشی لی جائے گی۔

  6. آبنائے ہرمز کا کنٹرول جوہری ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہے: ایرانی رکنِ پارلیمان

    NurPhoto via Getty images

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty images

    ایرانی شوریٰ کونسل کی تعمیرِ نو کمیٹی کے سربراہ محمد رضا رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام و انصرام جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔

    ایران کے سرکاری چینل العالم ٹی وی کے مطابق رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا ایرانی عوام کا مطالبہ ہے، اور ہم اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

    ایرانی رکنِ پارلیمان کے مطابق، آبنائے ہرمز کے انتظام کے منصوبے کے تحت جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس کا 30 فیصد فوجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔

  7. چین نے ایرانی تیل خریدنے والی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں مسترد کر دیں

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین کی وزارتِ تجارت نے سنیچر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی تیل خریدنے کے الزام میں نشانہ بنائی گئی پانچ کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کی تعمیل نہیں کرے گی۔

    چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، خاص طور پر چھوٹی اور آزاد ریفائنریوں کے ذریعے جنھیں ’ٹی پاٹس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ریفائنریاں کم قیمت پر فروخت ہونے والے ایرانی خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔

    امریکہ، جو ایران کی آمدنی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، نے ان قسم کی ریفائنریوں کے خلاف پابندیاں سخت کر دی ہیں۔

    چین کی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتی اور چینی کمپنیوں اور اداروں کو بھی ان پر عمل درآمد یا ان کی تعمیل نہیں کرنی چاہیے۔

    وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں ’چینی کمپنیوں کو دیگر ممالک کے ساتھ معمول کی اقتصادی، تجارتی اور متعلقہ سرگرمیاں انجام دینے سے غیر منصفانہ طور پر روکتی یا محدود کرتی ہیں، اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔‘

    وزارت نے مزید کہا: ’چینی حکومت ہمیشہ ان یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی آئی ہے جو اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر نہیں لگائی جاتیں۔‘

    اس فیصلے میں پانچ چینی کمپنیوں کا ذکر ہے: تین صوبہ شینڈونگ میں اور دو دیگر، جن میں ہینگلی پیٹروکیمیکل ریفائنری (ڈالیان) اور ہیبے ژنہائی کیمیکل گروپ شامل ہیں۔

    گذشتہ روز واشنگٹن نے ایک اور چینی کمپنی پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کی کہ اس نے ایرانی خام تیل کے ’کروڑوں بیرل‘ درآمد کیے اور ایران کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کی۔

    چین کی وزارتِ تجارت کے بیان میں اس کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

    یہ نئی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل برقرار ہے، اور فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والے تنازع کا تاحال کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی میں چینی رہنما شی جن پنگ سے مذاکرات کے لیے چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔

  8. لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 13 افراد ہلاک: وزارتِ صحت

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جمعے کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں چار خواتین اور ایک بچے سمیت 13 افراد ہلاک، جبکہ 32 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    دو خواتین اور ایک بچہ سمیت آٹھ افراد حبوش کے علاقے میں ہلاک ہوئے، جہاں اسرائیلی ڈیفینس فورسز نے علاقہ خالی کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی تھیں۔

    دو خواتین سمیت چار افراد ضلع صیدا میں ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ایک اور شخص عین بال کے علاقے میں ہلاک ہوا ہے۔

    لبنان میں جنگ بندی تین ہفتوں کے لیے بڑھا دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود بھی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

    سنیچر کو حزب اللہ نے کہا تھا کہ اس نے لبنان میں اسرائیلی فوجیوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جمعرات کو جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کا اہلکار ہلاک ہوا تھا۔ اس حالیہ تنازع میں اب تک 17 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  9. ایران میں دو افراد کو موساد کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    ایران میں اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تنسیم نیوز ایجنسی کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے سزا کی توثیق کے بعد یعقوب کریمپور اور ناصر بقرزادہ کو دو مئی کی صبح پھانسی دی گئی ہے۔

    یعقوب پر الزام تھا کہ وہ 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے وقت سے ’موساد کے ساتھ تعاون‘ کر رہے تھے اور انھیں اس کے عوض ڈیجیٹل فنڈنگ ملتی تھی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یعقوب نے اپنے جرم کا ’اعتراف‘ کیا تھا اور وہ اپنے ہینڈلر کے ساتھ ایک ٹیلی گرام آئی ڈی سے رابطے میں تھے۔

    تنسیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناصر نے مبینہ طور پر ایران میں حساس مقامات سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا تھا اور ان میں نطنز کے قریب واقع ایک مقام بھی شامل تھا۔

  10. متحدہ عرب امارات میں فضائی ٹریفک معمول پر آ گئی: سول ایوی ایشن اتھارٹی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران جنگ کے بعد نافذ کی گئی پابندیوں میں نرمی کے بعد ملک میں فضائی ٹریفک معمول پر آ گئی ہے۔

    اماراتی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آپریشنل اور سکیورٹی کے حالات کے جامع جائزے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اتھارٹی نے زور دیا کہ ’فضائی حفاظت کی اعلیٰ ترین سطح کو یقینی بنانے کے لیے حقیقی وقت کی نگرانی جاری رکھی جائے۔‘

    اتھارٹی نے اس عرصے کے دوران مسافروں اور ایئر لائنز کے تعاون کو بھی سراہا۔

  11. ہماری نئی تجاویز میں جوہری مذاکرات سے پہلے آبنائے ہرمز کھولنا اور ناکہ بندی ختم کرنا شامل تھا: سینئر ایرانی اہلکار

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک سینئر ایرانی اہلکار نے سنیچر کو بتایا کہ تہران کی نئی تجاویز میں جوہری پروگرام پر مذاکرات سے قبل آبنائے ہرمز کو کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز شامل تھی جسے صدر ٹرمپ نے مسترد کر دیا ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق خفیہ سفارتی معاملات سے آگاہ ایک سینئر ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا تہران کا خیال ہے کہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک ملتوی کرنے کی تازہ تجویز ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے جس کا مقصد ایک معاہدے کو آسان بنانا ہے۔

    اس تجویز کے تحت جنگ اس ضمانت کے ساتھ ختم ہو گی کہ اسرائیل اور امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ نہیں کریں گے، ایران آبنائے کو کھول دے گا اور امریکہ اپنی ناکہ بندی اٹھا لے گا۔

    اس کے بعد پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے پر بات چیت کی جائے گی، جس میں ایران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے حق کو تسلیم کرے۔

    اہلکار نے کہا کہ ’اس فریم ورک کے تحت، زیادہ پیچیدہ جوہری معاملے پر مذاکرات کو مزید سازگار ماحول بنانے کے لیے حتمی مرحلے تک ملتوی کرنی کی تجویز تھی۔‘

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف اپنی فضائی مہم کو معطل کرنے کے چار ہفتے بعد بھی اس جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے جس کی وجہ سے عالمی توانائی کی سپلائی میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ آئی ہے۔

    دو ماہ سے زیادہ عرصے سے ایران خلیج میں اپنے جہازوں کے علاوہ تقریباً تمام جہازوں کی ناکہ بندی کر رہا ہے۔ گذشتہ ماہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں سے جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ناکہ بندی کر دی تھی۔

    ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ تازہ ترین ایرانی تجویز سے ’خوش نہیں‘ ہیں۔

    واشنگٹن نے بارہا کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کے بغیر جنگ کا خاتمہ نہیں کرے گا جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے، جس کا بنیادی مقصد ٹرمپ نے فروری میں جنگ کا آغاز کرتے وقت اعلان کیا تھا، جب کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت جاری تھی۔ تہران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

  12. سعودی حکومت نے 15 سال سے کم عمر عازمین حج پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وزارت مذہبی اُمور کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے 15 سال سے کم عمر عازمین حج پر پابندی سے متعلق فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

    سنیچر کو جاری کیے گئے بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان حج مشن نے نئی سعودی ہدایات پر مبنی خط جاری کر دیا ہے۔

    نئے خط کے مطابق 12 سال سے زائد عمر کے عازمین حج بھی سعودی عرب روانہ ہو سکیں گے اور اس حوالے سے پرانی پالیسی برقرار ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزارت مذہبی اُمور کی جانب سے جاری کیے گئے ایک سرکلر کی وجہ سے عازمین میں بے چینی پھیل گئی تھی جس میں سعودی حکام کی ہدایت پر 15 سال سے کم عمر عازمین کو سفر سے روکنے کا کہا گیا تھا۔

    سنیچر کو ڈائریکٹر حج محمد اسلم عارف راؤ کی جانب سے جاری کیے گئے سرکلر میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کے ڈائریکٹر جنرل آف حج اور پاکستان کے ڈی جی حج کے درمیان جمعے اور سنیچر کی شب ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں سعودی حکام نے اس فیصلے سے متعلق آگاہ کیا۔

    ڈائریکٹر حج کے مطابق سعودی حکام نے کہا تھا کہ تین مئی سے 27 مئی کے دوران دُنیا کے کسی بھی ملک سے عازمین کو لانے والی حج پروازوں میں 15 سال سے کم عمر عازمین کو سفر کی اجازت نہیں ہو گی۔ تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

    وزارت حج کی جانب سے جاری کیے گئے نئے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ 15 سال سے کم عمر عازمین حج جن کے ویزے پہلے فیصلے کی وجہ سے منسوخ ہو گئے تھے اب دوبارہ آن لائن پراسیس کیے جا رہے ہیں۔

    وزارت مذہبی اُمور کے ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے حج آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا جس پر وزارت مذہبی اُمور کے حکام نے سنیچر کو اجلاس کیا اور سعودی حکام سے اس معاملے پر رابطہ کیا۔

    وزارت مذہبی اُمور کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی حکومت کی جانب سے پہلے یہ فیصلہ حج کے ایام کے دوران شدید گرم موسم کے تناظر میں لیا گیا تھا۔ تاہم اب اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا ہے۔

  13. بموں کو ناکارہ بنانے کے آپریشن کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار ہلاک: ایرانی میڈیا

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ملک کے صوبے زنجان میں ایک کلیئرنس آپریشن کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ارنا کی رپورٹ کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے دوران نہ پھٹنے والے بارود کی باقیات دھماکے سے پھٹ گئیں، جس کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے 14 افراد ہلاک ہو گئے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس کی ٹیمیں کلسٹر بموں اور اسی نوعیت کے دیگر اسلحے کو ناکارہ بنا رہی تھیں، جو 1,200 ہیکٹر سے زائد رقبے، بشمول زرعی زمین، کو آلودہ کر چکا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے کئی بارودی آلات انتہائی حساس تھے اور تین میٹر تک زمین کے اندر دھنس چکے تھے، جس کی وجہ سے ان کی نشاندہی نہایت خطرناک عمل تھا۔

  14. سپرٹ ایئرلائنز کا حکومت سے 500 ملین ڈالر کی امداد نہ ملنے پر کمپنی بند کرنے کا فیصلہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کم قیمت میں سفری سہولیات فراہم کرنے والی سپرٹ ایئرلائنز نامی امریکی فضائی کمپنی نے کاروبار بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ائیر لائن انتظامیہ کی جانب سے کاروبار بند کرنے کی وجہ ٹرمپ انتظامیہ سے 500 ملین ڈالر کی مالی امداد حاصل کرنے میں ناکامی بتائی گئی ہے۔

    ایئر لائن امریکی حکومت کے ساتھ ایک امدادی معاہدے پر بات چیت کر رہی تھی، جس کے ذریعے اسے دیوالیہ ہونے سے بچایا جا سکتا تھا، تاہم یہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔

    سنیچر کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں سپرٹ ایئرلائنز نے ’انتہائی افسوس‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے فوری طور پر اپنے آپریشنز منظم انداز میں ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    سپرٹ ایئرلائنز حالیہ برسوں میں دوسری مرتبہ دیوالیہ ہونے کی کارروائی سے نکلنے کی کوشش میں تھی، تاہم ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے نے کمپنی کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔

    ایئر لائن کے مطابق سپرٹ کی تمام آنے والی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جن مسافروں نے سپرٹ کے ذریعے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے ٹکٹ خریدے تھے، انھیں خودکار طور پر اصل ادائیگی کے طریقے پر رقم واپس کر دی جائے گی۔

    وہ مسافر جنھوں نے ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ٹکٹ بک کروائے تھے وہ ری فنڈ کے لیے براہِ راست اپنے ایجنٹ سے رابطہ کریں۔

    البتہ ووچر، کریڈٹ، ایئر لائن پوائنٹس یا کسی اور ذریعے سے ٹکٹ خریدنے والوں کے معاوضے کا فیصلہ بعد میں دیوالیہ پن کی عدالت کی کارروائی کے دوران کیا جائے گا۔

  15. ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ کشیدگی کا امکان: خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے نائب انسپکٹر محمد جعفر اسدی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ کسی وعدے یا معاہدے کا پابند نہیں رہتا۔‘

    محمد جعفر اسدی کے مطابق امریکی حکام کے اقدامات اور بیانات کی زیادہ تر نوعیت میڈیا سے متعلق ہے جن کا مقصد اول تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنا اور دوم اُن مشکلات سے نکلنا ہے جو انھوں نے خود پیدا کی ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کو لگ بھگ تین ہفتے ہونے کو ہیں تاہم جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز کے معاملے پر تاحال حالات کشیدہ ہیں اور یہ اہم آبی تجارتی گُزر گاہ تاحال بند ہے۔

  16. جیب سے القاعدہ کا کارڈ ملنے کے الزام میں لاہور سے یوٹیوبر گرفتار

    AyeshaA_Q

    ،تصویر کا ذریعہAyeshaA_Q

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک یوٹیوبر کو مبینہ طور پر القاعدہ کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے جبکہ اہلِخانہ نے سی ٹی ڈی کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف بعد از گرفتاری ایک بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے گرفتار کیے گئے یوٹیوبر کی شناخت یوٹیوب چینل ایون نیوز سے منسلک محمد سعد بن ریاض کے نام سے ہوئی۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے سعد کے خلاف ایف آئی آر اپنے ایک اہلکار کی مدعیت میں دائر کی گئی ہے۔

    ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟

    لاہور کے سی ٹی ڈی تھانے کے محرر تو قیر اسلم کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ 27 اپریل کی صبح وہ سی ٹی ڈی کے دیگر اہلکاروں کے ہمراہ اشتہاری مجرمان کی تلاش میں لاہور کے جی پی او چوک، مال روڈ پر موجود تھے کہ انھیں مخبر نے اطلاع دی کہ مزنگ روڈ پر واقع مسجد حنفیہ غوثیہ میں کالعدم تنظیم القاعدہ کا ایک مبینہ رکن موجود ہے جو لوگوں کو کالعدم تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے اور ان میں ممنوعہ کتب بھی تقسیم کر رہا ہے۔

    پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ جب صبح کے قریب ریڈ کی گئی تو مخبر کی نشاندہی پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جس نے اپنا نام محمد سعد بن ریاض بتایا۔

    ایف آئی آر کے مطابق تلاشی کے دوران سعد کے پاس موجود بیگ سے اسامہ بن لادن سے متعلق کتاب کے پانچ نسخے برآمد ہوئے جو سی ٹی ڈی کے مطابق ممنوع کتب میں شمار ہوتی ہے۔

    اس کے علاوہ سی ٹی ڈی کے مطابق سعد کے پاس سے القاعدہ کا مممبرشپ کارڈ بھی برآمد ہوا۔

    ایف آئی آر میں اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ 1997 کی دفعات 11 ایف (2) اور 11 ڈبلیو شامل کی گئی ہیں۔ 11 ایف (2) کا تعلق کالعدم تنظیم کی رکنیت رکھنے جبکہ 11 ڈبلیو نفرت انگیز مواد یا کسی دہشت گرد یا کالعدم تنظیم کا مواد شائع کرنے اور تقسیم کرنے کے متعلق ہے۔

    اہلِخانہ اور سعد کے ساتھیوں کا کیا کہنا ہے؟

    سعد بن ریاض کی اہلیہ عائشہ قیوم نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سوموار کی صبح تقریباً ساڑھے تین بجے 12 سے 13 نقاب پوش مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور سعد کو اپنے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

    سعد کی اہلیہ کا دعویٰ ہے کہ جب قانونی دباو ڈالا گیا تو اس کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انتہائی مضحکہ خیز بنیادوں پر ان کے شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔

    عائشہ کا کہنا ہے کہ ’سعد ماضی میں ریاستی اداروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔‘

    ’ایسے افراد جنھیں ریاست نے جانچ پڑتال کے بعد قابلِ اعتماد سمجھا ہو، اگر انھیں من مانی حراست کرنے پڑے اور بعد ازاں اُن پر پچھلے قوانین لاگو کیے جائیں، تو پھر یہ سوال تو ناگزیر ہے کہ ریاست آخر کس بنیاد پر اپنے شہریوں سے اعتماد کی توقع رکھتی ہے؟‘

    ایون نیوز جس سے سعد منسلک ہیں، کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں اس گرفتاری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کہا گیا ہے۔

    سعد کے دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والے ابراہیم جعفری ایکس پر لکھتے ہیں کہ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ انھیں مسجد سے حراست میں لیا گیا جبکہ کیمرے کی فوٹیج سے ثابت ہوتا ہے کہ انھیں گھر سے اٹھایا گیا۔

    تاہم ان کی جانب سے کوئی کیمرہ فوٹیج جاری نہیں کی گئی۔

    بی بی سی سی ٹی ڈی اور سعد کے ساتھیوں و اہلخانہ کی جانب سے کیے گئے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

  17. امریکہ نے اسرائیل اور عرب اتحادیوں کو آٹھ اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک کو مجموعی طور پر آٹھ اعشاریہ چھ ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کو تین ہفتوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔

    جن ممالک کو یہ اسلحہ فراہم کیا جائے گا، ان میں اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

    فیصلے کے تحت قطر کو پیٹریاٹ ایئر اینڈ میزائل ڈیفنس سسٹم کی فراہمی اور اس سے متعلق معاونت فراہم کی جائے گی، جن کی مجموعی مالیت چار ارب ڈالر سے زائد ہے۔

    اس کے علاوہ ایڈوانسڈ پریسیژن کِل ویپن سسٹمز کی فروخت بھی منظور کی گئی ہے، جن کی مالیت 992 اعشاریہ چار ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔

    کویت کو دو اعشاریہ پانچ ارب ڈالر مالیت کا انٹیگریٹڈ بیٹل کمانڈ سسٹم فراہم کرنے جبکہ اسرائیل کو 992 ملین ڈالر سے زائد کے ایڈوانسڈ پریسیژن کِل ویپن سسٹمز کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کو بھی یہی نظام فروخت کرنے کی منظوری دی ہے، جس کی مالیت147 ملین ڈالر سے زائد ہے۔

  18. پاکستان میں اپریل کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً گیارہ فیصد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں اپریل کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد کی شرح سے بڑھی جو 20 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

    پاکستان میں وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی میں سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔

    مشرق وسطی میں جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں بین الاقوامی سطح پر اضافہ ہو ا جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے ایندھن، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

    اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) اپریل میں سالانہ بنیاد پر 10.9 فیصد تک پہنچ گیا، جو مارچ میں 7.3 فیصد تھا۔ یہ جولائی 2024 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹکس کے مطابق یہ شرح سٹیٹ بینک آف پاکستان کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اضافہ مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 بیسز پوائنٹس کے اضافے کے صرف چار دن بعد سامنے آیا، جس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد ہو گئی تھی۔

    مہنگائی میں مجموعی اضافے کی وجہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات رہی، جو سالانہ بنیاد پر 12.5 فیصد سے بڑھ کر 29.9 فیصد ہو گئے۔ رہائش اور یوٹیلٹیز کے اخراجات 11.5 فیصد سے بڑھ کر 16.8 فیصد تک پہنچ گئے جبکہ خوراک اور غیر الکحل مشروبات کی قیمتوں میں اضافہ 3.6 فیصد سے بڑھ کر 7.6 فیصد ہو گیا۔

    ماہانہ بنیاد پر اپریل میں صارفین کی قیمتوں میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ نو ماہ کی تیز ترین رفتار ہے جبکہ مارچ میں یہ شرح 1.2 فیصد تھی۔

  19. آبنائے ہرمز سے گزرنے کا معاوضہ ادا نہ کریں، امریکی وزارتِ خزانہ کی شپنگ کمپنیوں کو تنبیہ

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    امریکی وزارتِ خزانہ نے شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو کسی بھی قسم کی فیس یا معاوضہ ادا نہ کریں، چاہے یہ ادائیگیاں عطیات کی صورت میں ہی کیوں نہ ہوں۔ بصورتِ دیگر ایسی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کی فراہمی کے بدلے ادائیگیاں طلب کیے جانے سے متعلق معلومات امریکہ کو حاصل ہوئی ہیں۔

    اس ضمن میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شکل میں بالواسطہ ہو یا خیراتی اداروں کے ذریعے ادائیگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سمندری نقل و حمل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔

    ادھر تہران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز کے تناظر میں اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر فیس یا ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

    BBC

    امریکی وزارتِ خارجہ کے غیر مُلکی اثاثہ جات کو کنٹرول کرنے والے مخصوص دفتر کی جانب سے جاری بیان میں اس سے قبل بھی شپنگ کمپنیوں کو متنبہ کیا تھا کہ ایسی ادائیگیاں انھیں پابندیوں کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہیں اور جمعہ کے روز اس تنبیہ کو دہراتے ہوئے واضح کیا گیا کہ عطیات یا بالواسطہ ادائیگیاں بھی قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

  20. ایران جنگ کے باعث سعودی عرب میں شراب کی قلت

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    سعودی عرب کی واحد سرکاری شراب کی دکان کو بیئر اور وائن سے لے کر ٹیکلا تک مختلف اشیا کی قلت کا سامنا ہے اور صارفین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے ترسیلات میں تاخیر کا سامنا ہے۔

    ریاض کے سفارتی علاقے میں واقع یہ دکان بغیر کسی نام یا بورڈ کے خدمات سر انجام دیتی ہے۔ اسے سنہ 2024 میں غیر مسلم سفارت کاروں کو خدمات فراہم کرنے کے لیے کھولا گیا تھا اور گزشتہ سال اس کی سہولتیں امیر غیر مسلم غیر ملکیوں تک بڑھا دی گئیں۔

    تاہم سعودی عرب میں سنہ 1952 سے نافذ شراب پر مکمل پابندی بدستور برقرار ہے۔ مگر روایتی طور پر قدامت پسند سعودی عرب نے غیر ملکی کارکنوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کے تحت لائسنس یافتہ شراب کی ایک دکان کی اجازت دی ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں ریاض میں اس دکان کا دورہ کرنے والے پانچ افراد نے بتایا کہ شیلف زیادہ تر خالی ہیں اور صرف مہنگے یا کم معروف برانڈز ہی دستیاب ہیں۔