وفاقی بجٹ: تنخواہوں، پنشن میں سات فیصد اضافہ، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی جبکہ دفاعی بجٹ میں اضافہ
وفاقی حکومت نے بجٹ برائے مالی سال 27-2026 میں تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز پیش کی ہے۔ دفاعی بجٹ میں 17.6 فیصد اضافے جبکہ پراپرٹی کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز بھی ہے۔بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی اور بعدازاں واک آؤٹ کیا گیا۔
خلاصہ
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے
وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے
حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز پیش کی ہے جبکہ پراپرٹی کی منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کی تجویز ہے
دفاعی بجٹ 17.6 فیصد اضافے کے بعد تین ہزار ارب روپے کرنے کی تجویز ہے
بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی تاہم بجٹ سیشن کے اختتام پر حزب اختلاف نے ایوان سے واک آؤٹ کیا ہے
لائیو کوریج
بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج، پی ٹی آئی ارکان کی سپیکر ڈائس کے سامنے نعرہ بازی, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی بجٹ تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن بھی بجٹ تقریر کے دوران مسلسل نعرہ بازی کر رہے ہیں۔ بجٹ تقریر سے قبل تحریک انصاف کے ارکان مختلف پوسٹرز لے کر قومی اسمبلی میں داخل ہوئے جن پر عمران خان کی رہائی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافے کے مطالبات درج تھے۔
ارکان نے ’صوبوں کے حقوق کا خاتمہ نامنظور آئی ایم ایف کا بجٹ نا منظور‘ کے پلے کارڈ اڈا رکھے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ کر سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہیں۔
قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع، بلاول بھٹو بھی اجلاس میں شریک
آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بجٹ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
پہلے پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ بلاول بھٹو اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، تاہم بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے ارکان بھی بجٹ اجلاس میں شریک ہیں۔
پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم بلاول بھٹو اجلاس میں نہیں جائیں گے: ترجمان پیپلز پارٹی
پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم چیئرمین پیپلز پارٹی بجٹ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بعض ارکان بجٹ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ قومی مفاد کے تحت پیپلز پارٹی بجٹ کے عمل کا حصہ بنے گی۔
بجٹ اجلاس سے قبل سرکاری ملازمین کا احتجاج، ریڈ زون میں سخت سیکیورٹی, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا ذریعہSarah Hassan
قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے قبل شاہراہ دستور پر سرکاری ملازمین کے احتجاج کے باعث ریڈ زون میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
سرکاری ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے۔
ریڈ زون میں پرائیویٹ گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے جبکہ بجٹ اجلاس کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ اور دیگر اہم عمارتوں کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
اسلام آباد پولیس نے بھی شہریوں سے کہا ہے کہ شاہراہِ دستور سرکاری ملازمین کے احتجاج کے باعث ٹریفک کے لیے بند ہے۔ شہری براستہ بری امام استعمال کرتے ہوئے مارگلہ روڈ آنے جانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
پولیس نے شہریوں کو ریڈ زون کی طرف غیر ضروری سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
پچھلے دو بجٹ میں آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس لگانے پڑے جس سے مہنگائی ہوئی، اب بہتر بجٹ پیش کر رہے ہیں: شہباز شریف
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پچھلے دو بجٹ میں آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس لگانے پڑے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
بجٹ کی منظوری کے لیے بلائے گئے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اُس وقت ہچکولے کھاتی معیشت کو سنبھالنے کے لیے مشکل فیصلے ناگزیر تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے عوام کو مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑا جس پر وہ 24 کروڑ عوام سے معذرت کرتے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اب بہتری کی راہ پر گامزن ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ عوام کوریلیف دیں لیکن مشرقِ وسطیٰ تنازع کی وجہ سے کچھ رکاوٹیں آئی ہیں۔
وزیرِ اعلی سہیل آفریدی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے لیے پشاور سے روانہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بجٹ کے دوران پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کے لیے پشاور سے روانہ ہو گئے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کے ہمراہ کابینہ کے دیگر ارکان بھی موجود ہیں۔
روانگی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا بجٹ کی مشاورت کے لیے عمران خان سے ملاقات کروائی جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ صوبے کی عوام نے عمران خان کو ووٹ دیا ہے جس کے لیے اُن کی مشاورت ضروری ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی پارٹیاں اپنے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں۔ ہمیں بھی اجازت دی جائے۔
بجٹ میں پاکستان کی عظیم قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے بجٹ میں پاکستان کی عظیم قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الحمداللہ اس بجٹ کو بہت محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہو گیا ہے جس کی صدارت وزیرِ اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں۔
قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3669 ارب روپے کی منظوری دے دی, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعلان سے قبل پاکستان قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3669 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے معاشی شرحِ نمو کا ہدف چار فیصد اور مہنگائی میں اضافے کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت میں قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وفاق اور صوبوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 1046 ارب روپے کی کمی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
آئندہ مالی سال کے لیے وفاق کا ترقیاتی بجٹ 126 ارب روپے کی کمی کے بعد اب 1000 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں نے اپنے ترقیاتی پروگرامز کے لیے مختص بجٹ میں 920 ارب روپے کم خرچ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
کئی بار کی تاخیر کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو معاشی شرح نمو تیز کرنے کے مراعات متعارف کرانا ہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام تو حاصل کرلیا لیکن اب ترقی کی رفتار کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور پیداوار بڑھے اور برآمدات میں اضافہ ہو۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ اس وقت خطے میں جاری جیوپولیٹکل بحران کے باوجود بھی پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی شریک ہوئے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنی علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہو سکیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گذشتہ کئی ہفتوں سے بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کررہی ہے اور وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی ضروری ہے۔
اجلاس کے بعد پلاننگ کمیشن کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ وفاق اور صوبوں نے آئندہ مالی سال میں نئے ترقیاتی منصوبے نہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دفاعی سلامتی اور سکیورٹی کے لیے ضروری منصوبوں کے علاوہ آئندہ مالی سال میں کوئی نیا منصوبہ نہیں شروع کیا جائے گا۔
پلاننگ کمیشن کے مطابق پنجاب نے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 749 ارب روپے، سندھ نے 706 ارب روپے اور خیبر پختوانخواہ نے 455 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے جبکہ بلوچستان حکومت ترقیاتی منصوبوں پر 308 ارب روپے خرچ کرے گی۔
تینوں صوبوں نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سالانہ ترقیاتی پلان میں کمی کی ہے لیکن بلوچستان کے لیے مختص صوبائی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹ نہیں لگایا گیا ہے۔
پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 88.8 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ جبکہ خیبرپختونخوا میں ضم قبائلی اضلاع کی لیے 56 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
شرحِ نمو ہدف سے کم، مہنگائی میں اضافہ: سالانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ میں مزید کیا بتایا گیا ہے؟, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کی حکومت کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملک کی معیشت کی سالانہ شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی ہے۔
وزارتِ خزانہ مالی سال 2025-2026 کا اقتصادی جائزہ آج جاری کرے گی، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران شرحِ نمو اور ٹیکس وصولیوں سمیت کئی اہم اقتصادی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔
رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا، تاہم حقیقی شرح 3.7 فیصد رہی۔
دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-2026 کے پہلے دس ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد رہی، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث اپریل اور مئی میں افراطِ زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا، اور مئی میں یہ شرح بڑھ کر 11.66 فیصد تک پہنچ گئی۔
زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد رہی، جو مقررہ ہدف 4.5 فیصد سے کم ہے، اگرچہ چاول، گندم، گنا اور مکئی سمیت اہم فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
صنعتی شعبے کی کارکردگی بھی ہدف سے کم رہی، جہاں 4.30 فیصد کے مقابلے میں شرحِ نمو 3.51 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
تاہم خدمات کے شعبے نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی اور 4 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 4.09 فیصد شرحِ نمو حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق ترسیلاتِ زر میں نو فیصد اضافہ ہوا اور جولائی سے مئی کے دوران یہ 38 ارب ڈالر رہیں، جو جون کے اختتام تک بڑھ کر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
برآمدات کا سالانہ ہدف 35.3 ارب ڈالر تھا، لیکن 11 ماہ کے دوران یہ 28 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔ دوسری جانب درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر تھا، جبکہ اسی مدت میں درآمدات 63 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
مزید برآں، رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں کا حجم 14,799 ارب روپے تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔