اسرائیل نے امریکہ کو ایران جنگ میں نہیں گھسیٹا: نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران جنگ کے حوالے سے اسرائیل کے تین اہداف ظاہر کیے ہیں، یعنی ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ، بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ اور ایرانی عوام کے لیے ’آزادی حاصل کرنے کے لیے‘ حالات پیدا کرنا۔

خلاصہ

  • اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں نہیں گھسیٹا
  • انھوں نے نیوز کانفرنس کے دوران ایران جنگ کے لیے تین اہداف ظاہر کیے اور کہا کہ ’کیا کوئی واقعی ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے؟‘
  • انھوں نے کہا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی ’جتنی دیر تک ضروری ہو‘
  • ٹرمپ نے کہا تھا کہ خطے میں تاحال امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی کارروائی ’شیڈول سے آگے‘ چل رہی ہے
  • قطر کے راس لفان انرجی کمپلیکس پر حملے کے بعد برطانیہ اور یورپ میں گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ قطر کے وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ اس تنصیب پر حملہ ایرانیوں کی جانب سے کشیدگی میں ’انتہائی خطرناک اضافہ‘ ہے
  • ایک سخت بیان میں ٹرمپ نے قطر میں مزید ایرانی حملوں کے خلاف خبردار کیا تھا۔ جبکہ ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر ان کے انفراسٹرکچر پر مزید دھماکے یا حملے ہوئے تو تہران ’بالکل بھی تحمل نہیں‘ دکھائے گا

لائیو کوریج

  1. عمان کی خلیجی ممالک میں توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی مذمت

    ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق عمان نے قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں توانائی کے مراکز پر ایران کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

    ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عمان بین الاقوامی قوانین اور اُصولوں کو برقرار رکھنے، شہری سہولیات اور توانائی کی عالمی سپلائی پر حملہ کرنے سے گریز کی تاکید کرتا ہے۔‘

    عمان کی جانب سے یہ بیان بدھ کے روز ایران کی جانب سے قطر کے راس لافان انڈسٹریل سٹی پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی حبشان گیس کی سہولت اور باب فیلڈ کو بھی بند کر دیا گیا ہے جبکہ سعودی عرب نے ملک کے مشرق میں اور دارالحکومت ریاض میں حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

  2. کراچی اور بلوچستان میں طوفانی بارشوں سے تباہی: 23 افراد ہلاک، مزید بارش کا امکان, ریاض سہیل، بی بی سی کراچی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہKamal Shah

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں طوفانی بارش کے دوران حادثات میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ دوسرے روز جمعرات کو بھی جاری رہے گا۔

    بلدیہ کے علاقے سیکٹر 11 میں دیوار گرنے سے کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے، ڈپٹی کمشنر کیماڑی امیر حیدر اویسی نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی سی ایل کی 12 فٹ اونچی چار دیواری تھی شدید بارش سے بچنے کے لیے لوگ نے اس دیوار کا سہارا لیا تھا لیکن تیز ہواؤں کی وجہ سے یہ دیوار گر گئی نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بی بی سی کو بتایا کہ بلدیہ سمیت کل 15 لاشیں لائی گئیں جن میں سے 13 کی قانونی کارروائی کی گئی جبکہ دو لاشیں رشتے دار بغیر پوسٹ مارٹم کے ساتھ لے گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق بارش کے دوران مختلف حادثات اور واقعات میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز بارش کی پیشگوئی کی تھی تاہم جب ساڑھے 8 بجے کے قریب شدید ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہوئی تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد عید کی خریداری کے لیے بازاروں میں موجود تھی۔

    ڈیفنس اور ناظم آباد کے علاقوں میں عید کی خریداری کے لیے آنے والے شہری بھی بارش کی وجہ سے پھنس کر رہے گئے جبکہ سمندر کے کنارے دو دریا میں موجود ریستوران کا لکڑیوں سے بنا ایک حصہ بھی گر گیا۔

    صدر، شاہراہ فیصل سمیت کئی علاقوں میں درخت بھی جڑ سے اُکھڑ گئے اور کئی گھروں میں کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق کلفٹن ڈرائیور لائسنس برانچ کے قریب درخت گرنے سے ایک خاتون ہلاک اور اس کا بیٹا زخمی ہو گیا۔ حکام کے مطابق بارش سے بچنے کے لیے اُنھوں نے درخت کے نیچے پناہ لی تھی۔

    محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر لغاری نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز کراچی میں کم ازکم 8 ملی میٹر بارش جناح ٹرمینل پر ریکارڈ کی گئی جبکہ 30 ملی میٹر ناظم آباد اور زیادہ سے زیادہ 56 ملی میٹر کورنگی میں ریکارڈ ہوئی ہے۔

    اُنھوں نے بتایا کہ طوفانی ہواؤں کی فی گھنٹہ رفتار ایئرپورٹ اور شاہراہ فیصل پر 90 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ماڑی پور پر اس کی شدت زیادہ تھی جہاں رفتار 98 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

    چیف میٹرولوجسٹ کے مطابق یہ موسم کی تبدیلی کا وقت ہوتا ہے جس میں موسم سرما بہار میں داخل ہوتا ہے۔۔ ان کے مطابق اس تبدیلی میں بارشیں کم ہی ہوتی ہیں ان کے پاس موجود ریکارڈ کے مطابق 15 مارچ 1976 کو 24 گھنٹوں میں 62 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

    بارش اور طوفانی ہواؤں کی وجہ سے ڈفینس، کلفٹن، منگھو پیر، کورنگی سمیت شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں بھی تعطل آیا، کے الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا کے مطابق 2100 میں سے تقریبا 1540 فیڈرز سے بجلی جاری رہی تھی جبکہ بحالی کی کوششیں جاری ہیں آخری اطلاعات کے مطابق 1950 فیڈرز بحال کیے گئے ہیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہMurtaza Wahab

    بلوچستان

    بی بی سی کے محمد کاظم کے مطابق کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع حب میں گزشتہ شب طوفانی ہوائوں اور بارشوں سے جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر حب اسماعیل ابراہیم نے جام غلام قادر ہسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ساکران میں رمضان مری گوٹھ سمیت ضلع حب کے دو مختلف مقامات پر دیواریں گرنے سے ایک بچی سمیت دو افراد ہلاک ہوئے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے دیگر واقعات میں 15 افراد زخمی ہو گئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے جام غلام قادر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ وندر کے علاقے میں طوفانی ہواؤں کے باعث آتشزدگی سے بڑی تعداد میں پولٹری کا نقصان ہوا ہے جبکہ اس سے گھروں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ متاثرین کو ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جبکہ مالی نقصانات کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔

  3. کویت کی آئل ریفائنری پر ڈرون حملے

    کویت نیوز ایجنسی (کونا) اور ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ڈرون حملے کے بعد کویت کی ایک آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔

    کویت نیوز ایجنسی (کونا) کے مطابق کویت پیٹرولیم کارپوریشن کا کہنا ہے کہ مینا الاحمدی ریفائنری میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ’محدود نوعیت کی آگ‘ پر قابو پا لیا گیا ہے، کونا نے رپورٹ کیا۔

  4. ایران کے غصے کا بوجھ خلیجی ممالک پر پڑ رہا ہے, بی بی سی نیوز کی دبئی سے نامہ نگار آزادے مشیری کا تجزیہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    قطر اور متحدہ عرب امارات دونوں نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ یہ ’عالمی توانائی کے تحفظ‘ کے لیے خطرہ ہے۔

    اب خلیجی ممالک ایران کے غصے کا براہِ راست نشانہ بن رہے ہیں۔ قطر میں راس لفان کو بار بار نشانہ بنایا گیا، تاہم وہاں لگنے والی آگ پر اب قابو پا لیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حبشان گیس تنصیب اور باب آئل فیلڈ کو بند کرنا پڑا اور حکام کے مطابق یہ نقصان روکے گئے حملوں کے ملبے سے ہوا۔

    سعودی عرب کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس نے کہا کہ اس نے مشرقی علاقوں اور دارالحکومت ریاض میں حملوں کو ناکام بنایا۔

    جواب میں قطر نے دو ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا ہے جبکہ سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی فوج کی مدد سے جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    ایران پہلے ہی تنہائی کا شکار تھا لیکن اب اس نے اپنے علاقائی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے جو اس جنگ کو بند کرنے کے لیے ایک ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار تھے۔

  5. رات بھر خلیجی مُمالک میں کیا ہوتا رہا؟

    ایران میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر حملے رات بھر جاری رہے۔

    ایران کی جانب سے مبنیہ طور پر یہ حملے خلیج میں امریکہ سے منسلک ’تیل اور گیس ریفائنریوں‘ پر کیے گئے جس کے بارے میں ایران کی جانب سے پہلے دھمکی دی جا چُکی تھی۔

    سعودی عرب نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کے دوران سب سے زیادہ حملوں کی اطلاع دی، جہاں بدھ کی رات سات حملوں کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئیں۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق دارالحکومت ریاض اور ملک کے ’مشرقی علاقوں‘ میں 17 ڈرونز اور دو بیلسٹک میزائل مار گرائے گئے۔

    بدھ کے روز راس لفان توانائی کمپلیکس پر ایرانی جوابی حملوں کے بعد، قطر نے اعلان کیا کہ جمعرات کی صبح سویرے اسے دوبارہ نشانہ بنایا گیا، جس میں نقصان ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    متحدہ عرب امارات نے مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح تین بجےکے قریب بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام بیلسٹک میزائلوں کو روک رہے تھے جبکہ لڑاکا طیارے فضا میں ڈرونز کو تباہ کرنے میں مصروف تھے۔

    بحرین میں بھی رات کے اوقات میں حملوں سے متعلق تین وارننگز جاری کی گئیں جن میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔

    کویت کی فوج نے کچھ دیر پہلے ایک بیان میں کہا کہ وہ میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔

  6. ’یہ بالکل وہی کشیدگی ہے جس کا خلیجی عرب ممالک کو خدشہ تھا‘, بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ بالکل وہی کشیدگی ہے جس کا خلیجی عرب ممالک کو خدشہ تھا۔

    تقریباً تین ہفتے پہلے جو سلسلہ امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملے کے جواب میں شروع ہوا تھا، جہاں ایرانی میزائل حملے زیادہ تر اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے تھے، اب وہ توانائی کے شعبے پر حملوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔

    یہی شعبہ خلیجی معیشتوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ تیل، گیس اور پیٹروکیمیکلز ہی وہ عناصر ہیں جنھوں نے چند دہائیوں میں خلیجی عرب ممالک کو امیر ممالک بنا دیا۔

    قطر اس بات پر سخت برہم ہے کہ اس نے فروری میں کھلے عام اور نجی طور پر امریکہ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کا کہا تھا، اس کے باوجود اس کی گیس انڈسٹری کے سب سے اہم مرکز راس لفان کو، جو ساحل کے ساتھ واقع ہے ایک ہی رات میں دو بار نشانہ بنایا گیا۔

    خلیجی عرب ممالک کے فضائی دفاعی نظام کافی مؤثر رہے ہیں، گزشتہ رات ریاض کے اوپر کئی ایرانی بیلسٹک میزائل مار گرائے گئے، اسی وقت جب 12 مسلم اکثریتی ممالک کے وزارئے خارجہ کا اجلاس جاری تھا۔ تاہم واضح ہے کہ ایران کا اسلحہ ابھی ختم نہیں ہوا اور اس کے کچھ ہتھیار دفاعی نظام سے بچ کر ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

  7. ایران بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور عرب مُمالک پر حملے بند کرے: ریاض میں وزرائے خارجہ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    عرب ممالک نے بدھ کے روز ریاض میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ایران کے حملوں کے ردِعمل میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں ایران کے ’دانستہ حملوں‘ کی مذمت کی گئی ہے۔

    اس اہم اجلاس میں بحرین، کویت، لبنان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر ممالک کے نمائندے شامل تھے۔

    اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں ایران کے ’دانستہ حملوں‘ کی مذمت کی گئی ہے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ ایران نے رہائشی علاقوں، شہری تنصیبات اور سفارتی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کو ’کسی بھی جواز‘ کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    بیان میں اقوامِ متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنے دفاع کے حق پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    اس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’فوری طور پر اپنے حملے بند کرے‘ اور بین الاقوامی قوانین اور ’اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں‘ کا احترام کرے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے متعلق ’اقدامات یا دھمکیوں‘ سے گریز کرے۔

    بیان میں لبنان کے خلاف اسرائیل کی ’جارحیت‘ اور خطے میں اس کی مبینہ ’توسیع پسندانہ پالیسی‘ کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

  8. کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا: فیلڈ مارشل عاصم منیر

    Radio Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    پاکستان کے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    انھوں نے یہ بات جمعرات کو اہل تشیع مکتب فکر کے علما سے ملاقات کے دوران کہی ہے۔

    پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکا کو پاکستان کی جانب سے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور فعال سفارتکاری کے بارے میں آگاہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق انھوں نے معاشرے میں انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے میں علما کے اہم کردار پر زور دیا اور یہ بات دہرائی کہ مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

    اُنھوں نے آپریشن ’غضبُ لِلحق‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اپنی عوام کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور جہاں کہیں بھی پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد اور ان کا نیٹ ورک موجود ہوا، اسے درست اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’افغان طالبان کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہو گا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے اتحاد، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ میں علما کے اہم کردار کو اجاگر کیا، خصوصاً غلط معلومات، فرقہ وارانہ بیانیے اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی عدم استحکام کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے۔

  9. ایران میں نظامِ حکومت ’قائم‘ مگر بڑی حد تک کمزور ہو چُکا: امریکی نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی اعلیٰ انٹیلی جنس اہلکار نے بدھ کے روز کہا کہ ایرانی حکومت ’قائم‘ ہے لیکن ’بڑی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔‘

    نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تِلسی گبارڈ اور ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے کانگریس کی سماعت میں دو گھنٹے سے زائد وقت تک امریکہ کو درپیش عالمی خطرات پر بریفنگ دی۔ یہ جنگ کے آغاز (یعنی فروری کے آخر) کے بعد انٹیلی جنس پر پہلی عوامی بریفنگ تھی۔

    یہ بریفنگ امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ کے استعفے کے بعد ہوئی جنھوں نے کہا تھا کہ ایران امریکہ کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا۔

    نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تِلسی گبارڈ نے مزید کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں مسائل کی پیش گوئی کی تھی، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری تجارتی راستہ ہے۔ ان کے مطابق ’انٹیلی جنس کمیونٹی کا اندازہ ہے کہ ایران کی حکومت بظاہر قائم ہے، لیکن قیادت اور فوجی صلاحیتوں پر حملوں کے باعث بڑی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تلسی گبارڈ نے سی آئی اے، ایف بی آئی، نیشنل سکیورٹی ایجنسی اور ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہان کے ساتھ یہ بریفنگ دی۔ تاہم انھوں نے بار بار سوال کرنے پر بھی سینیٹر جان اوسوف کو یہ جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا ایران کو فوری خطرہ سمجھا گیا تھا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ کہ کون سا خطرہ فوری ہے اور کون سا نہیں، صرف صدر ہی کر سکتے ہیں۔‘

    جنگ کے آغاز سے ہی دونوں جماعتوں کے قانون ساز اور تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کیوں کیا اور آیا ٹرمپ انتظامیہ کو آبنائے ہرمز میں ممکنہ مسائل کا علم تھا یا نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے حملہ اس لیے کیا کیونکہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا تھا، جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے خطرہ تھے۔

  10. ایران میں حکومت مخلاف مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں تین مظاہرین کو پھانسی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عدلیہ سے منسلک خبر رساں ادارے میزان نیوز نے بتایا کہ ان مظاہرین کو جنوری میں ملک گیر احتجاج کے دوران دو پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

    عدلیہ کے مطابق انھیں قتل اور ’نظام کے خلاف جنگ‘ کے جرم میں قصوروار پایا گیا، جس میں اسرائیل اور امریکہ کے حق میں سرگرمیوں کا الزام بھی شامل ہے۔

    یہ احتجاج ابتدا میں معاشی مسائل کے خلاف شروع ہوا تھا، جو بعد میں حکومت مخالف ملک گیر مظاہروں میں تبدیل ہو گیا۔

    امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ہرنا (ایچ آر اے این اے) کے مطابق ان مظاہروں کے دوران تقریباً 6,488 مظاہرین ہلاک ہوئے۔ اس اعداد و شمار میں 236 بچے، 76 عام شہری یعنی جن کا ان مظاہروں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور 207 فوجی و سرکاری اہلکار شامل نہیں ہیں۔

    ہرنا کا کہنا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی سخت کارروائی کے بعد اب بھی تقریباً 11 ہزار 744 کیسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  11. کیتھے پیسیفک ایئرلائن کا دبئی اور ریاض کے لیے تمام پروازیں 30 اپریل تک منسوخ کرنے کا اعلان

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایئرلائن کیتھے پیسیفک نے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث دبئی اور ریاض کے لیے اپنی تمام پروازیں 30 اپریل تک منسوخ کر دی ہیں۔

    ایئرلائن نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں پروازوں کے شیڈول میں مزید تبدیلیاں بھی ممکن ہیں اور کہا کہ مسافروں کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے۔

    جیسا کہ آپ تک پہلے یہ خبر پہنچائی گئی تھی کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا ہے اور خطے کے کئی بین الاقوامی سفری مراکز کے لیے متعدد ایئرلائنز کو پروازیں منسوخ یا مؤخر کرنا پڑی ہیں۔

    ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ جنگی حالات کے پیشِ نطر تیل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں شدید اضافے نے سفری اخراجات کو بھی متاثر کیا ہے اور قینٹاس، ایئر نیوزی لینڈ اور تھائی ایئرویز اُن ایئرلائنز میں شامل ہیں جنھوں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کرایوں میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔

    برٹش ایئرویز کی مالک کمپنی آئی اے جی کا کہنا ہے کہ اس نے آئندہ چند ماہ میں کرایوں میں ممکنہ قلیل مدتی اضافے سے بچاؤ کے لیے پیشگی ایندھن خرید رکھا ہے۔

  12. خلیجِ فارس میں ایک اور بحری جہاز پر حملہ، ’یو کے ایم ٹی او

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق خلیج فارس میں ایک اور تجارتی بحری جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ اس حملے میں جہاز پر سوار عملے کے تمام اراکین محفوظ ہیں اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    یہ واقعہ قطر کے ساحلی علاقے راس لفان کے مشرق میں تقریباً چار ناٹیکل مائلز پر پیش آیا ہے، یاد رہے کہ مقام قطر کے اُسے اینرجی کمپلیکس کے نزدیک ہے کہ جسے گزشتہ رات ایران کی جانبب سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ ’یو کے ایم ٹی او‘ ایک بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی ادارہ ہے جو بحری جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو خلیجِ عدن، بحیرۂ احمر اور مشرقِ وسطیٰ کے سمندری راستوں میں سکیورٹی معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ برطانوی رائل نیوی کے تحت کام کرتا ہے اور اس کا مقصد جہاز رانی کو خطرات سے آگاہ رکھتے ہوئے محفوظ رکھنا ہے۔

  13. راس لفان اینرجی کمپلیکس میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے: قطری وزارتِ داخلہ

    قطر کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ راس لفان اینرجی کمپلیکس میں لگی آگ پر اب قابو پا لیا گیا ہے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    وزارت کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اینرجی کمپلیکس پر جس مقام میں آگ لگی تھی وہاں کولنگ کا عمل جاری ہے اور خطرناک مواد کو ایک خصوصی یونٹ سنبھال رہا ہے۔

    یاد رہے کہ راس لفان تنصیب پر جمعرات کی صبح سویرے ایرانی راکٹ حملہ کیا گیا تھا، جو اسرائیل کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے جواب میں تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے پر ٹروتھ سوشل پر طویل پوسٹ میں بیان دیا ہے کہ یہ جوابی کارروائی غیر منصفانہ اور بلاجواز تھی اور خبردار کیا کہ قطر جیسے ’معصوم‘ ممالک پر مزید حملوں کی صورت میں امریکہ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دے گا۔

  14. بریکنگ, ایرانی حملے سے راس لفان توانائی تنصیب کو مزید نقصان پہنچا ہے: قطر کی تصدیق

    اب سے کُچھ دیر قبل ہم نے آپ تک یہ خبر پہنچائی تھی کہ امریکی صدر نے ایرانی انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران دوبارہ قطر پر حملہ کرتا ہے تو کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

    تاہم امریکی صدر کی اس وارنگ کے باوجود ایرانی سرکاری ٹی وی نے اب رپورٹ کیا ہے کہ میزائلوں نے قطر کے راس لفان توانائی کمپلیکس کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے۔

    قطر کی سرکاری توانائی کمپنی نے تصدیق کی کہ جمعرات کی صبح سویرے اس کے مرکزی مقام پر گیس تنصیبات کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ لگ گئی اور زیادہ نقصان ہوا ہے، تاہم کسی کے زخمی ہونے یا جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

  15. ’اسرائیل دوبارہ ایران کے پارس گیس فیلڈ پر حملہ نہیں کرے گا، مگر ایران نے دوبارہ قطر پر حملہ کیا تو ایران کی بڑی گیس فیلڈ کو تباہ کر دیں گے‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پیغام جاری کیا ہے جس میں ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس اسرائیلی حملے کے بارے میں امریکہ کو ’کچھ معلوم نہیں تھا‘، اور خبردار کیا کہ اگر ایران دوبارہ قطر پر حملہ کرتا ہے تو کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’غصے میں‘ اسرائیل نے ایک ایسا حملہ کیا جس نے ’مجموعی علاقے کے ایک نسبتاً چھوٹے حصے‘ کو نشانہ بنایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایران ’اس بات سے آگاہ نہیں تھا‘ اور قطر کے راس لفان میں ایل این جی گیس فیسلٹی پر اس کے جوابی حملے ’بلا جواز اور غیر منصفانہ‘ تھے۔‘

    انھوں نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو انتہائی اہم اور قیمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل دوبارہ اس پر حملہ نہیں کرے گا۔

    تاہم ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران قطر پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ اس گیس فیلڈ کو ’بڑے پیمانے پر نقصان پہنچائے گا اور اسے تباہ کر دے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کا ایران پر یہ حملہ ایسا ہوگا کہ ایسی طاقت کا استعمال ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’تشدد اور تباہی کی اس سطح‘ کی اجازت نہیں دینا چاہتے کیونکہ اس کے ایران پر طویل مدتی اثرات ہوں گے، لیکن اگر قطر کی ایل این جی تنصیبات پر دوبارہ حملہ ہوا تو میں خطرناک حد تک جانے سے نہیں ہچکچاؤں گا۔‘

  16. پینٹاگون کا وائٹ ہاؤس سے امریکہ ایران جنگ کے لیے 200 ارب ڈالر کا مطالبہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا ہے کہ پینٹاگون نے وائٹ ہاؤس سے ایران میں جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 200 ارب ڈالر سے زائد کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔

    اخبار کے مطابق یہ رقم ٹرمپ انتظامیہ کی اب تک کی مہم کے اخراجات سے کہیں زیادہ ہوگی اور اس کا مقصد استعمال ہو جانے والے اہم ہتھیاروں کی پیداوار کو ’فوری طور پر‘ بڑھانا ہے۔

    گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پینٹاگون کی جانب سے فنڈنگ کی کئی مختلف تجاویز پیش کی گئیں اور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تازہ ترین تجویز کانگریس میں ایک بڑی سیاسی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

    رپورٹ کے وقت امریکی محکمۂ دفاع اور وائٹ ہاؤس دونوں نے تاحال اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

  17. بریکنگ, ایرانی جارحیت تمام ’ریڈ لائنز‘ عبور کر چکی ہے: قطر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں توانائی کی تنصیبات پر ایرانی حملوں کی ’سخت الفاظ‘ مذمت کی گئی ہے۔

    بیان کے مطابق یہ حملے ’بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘

    وزارت نے مزید کہا کہ ’پڑوسی ممالک کے خلاف ’ایرانی جارحیت‘ تمام ’ریڈ لائنز‘ عبور کر چکی ہے ۔‘

    بیان میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ ’علاقائی اور عالمی سلامتی اور استحکام کو بحال کیا جا سکے۔‘

    اس سے قبل ایک مبینہ ایرانی میزائل حملے میں قطر کے راس لفان صنعتی علاقے کو نشانہ بنا چکا ہے۔

  18. مشرقِ وسطیٰ میں متعدد پروازیں معطل اور تاخیر کا شکار، ایئر ٹریول کی تازہ صورتحال کیا ہے؟

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    برٹش ایئرویز کا کہنا ہے کہ خطے میں اس کے فلائٹ شیڈول میں ’عارضی کمی‘ کا عمل بدستور جاری ہے۔ عمان، بحرین، دوحہ، دبئی، ابوظہبی اور تل ابیب کے لیے اور وہاں سے آنے جانے والی پروازیں معطل ہیں۔

    ایئرلائن مسافروں کی ’مزید مدد اور رہنمائی‘ کے لیے لندن اور سنگاپور اور بینکاک کے درمیان اضافی پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔

    قطر ایئرویز 18 مارچ سے 28 مارچ 2026 تک ’محدود تعداد میں پروازیں‘ چلا رہی ہے، تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ ریگولیٹری منظوریوں اور فضائی حدود کی صورتحال کے مطابق شیڈول تبدیل ہو سکتا ہے۔

    امارات ایئرلائن محدود فلائٹ شیڈول کے ساتھ کام کر رہی ہے اور 15 اپریل تک خطے میں سفر کرنے والے مسافروں کو متبادل پرواز پر دوبارہ بکنگ کی سہولت فراہم کی جار ہی ہے۔

    قینٹاس یعنی کوئنزلینڈ اور نادرن ٹیریٹری ایریل سروسز اپنے اُن مسافروں کے لیے سہولت فراہم کر رہی ہے جن کی پروازیں متحدہ عرب امارات، قطر، اسرائیل، اردن، عمان اور بحرین کے لیے آنے یا وہاں سے کہیں اور جانے والی ہیں، اور جو 15 اپریل تک مقرر ہیں۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ جنگی حالات کے پیشِ نطر تیل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں شدید اضافے نے سفری اخراجات کو بھی متاثر کیا ہے اور قینٹاس، ایئر نیوزی لینڈ اور تھائی ایئرویز اُن ایئرلائنز میں شامل ہیں جنھوں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کرایوں میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔

    برٹش ایئرویز کی مالک کمپنی آئی اے جی کا کہنا ہے کہ اس نے آئندہ چند ماہ میں کرایوں میں ممکنہ قلیل مدتی اضافے سے بچاؤ کے لیے پیشگی ایندھن خرید رکھا ہے۔

  19. آبنائے ہرمز میں نامعلوم پروجیکٹائل سے تیل بردار بحری جہاز پر حملہ: یو کے ایم ٹی او

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی ادارے ’یو کے ایم ٹی او‘ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار بحری جہاز کو مبینہ طور پر ’نامعلوم نوعیت کے کسی ہتھیار‘ یعنی پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ متحدہ عرب امارات کے شہر خور فکان کے مشرق میں پیش آیا ہے۔

    یو کے ایم ٹی او جو کہ دنیا بھر سے بحری جہازوں کی ہنگامی کالز وصول کرنے کی مرکزی تنظیم بھی ہے نے کہا ہے کہ تمام جہازوں کو اس علاقے سے گزرتے وقت ’احتیاط برتنی چاہیے۔‘

    یاد رہے کہ ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جو دنیا کی مصروف ترین تجارتی کی گزرگاہ ہے، جس کے باعث کئی تیل بردار بحری جہاز اور ملاح پھنس گئے ہیں جس کے بعد انھیں مُشکل اور خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔

    واضح رہے کہ ’یو کے ایم ٹی او‘ ایک بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی ادارہ ہے جو بحری جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو خلیجِ عدن، بحیرۂ احمر اور مشرقِ وسطیٰ کے سمندری راستوں میں سکیورٹی معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ برطانوی رائل نیوی کے تحت کام کرتا ہے اور اس کا مقصد جہاز رانی کو خطرات سے آگاہ رکھتے ہوئے محفوظ رکھنا ہے۔

  20. میزائلوں کا ملبہ گرنے سے اسرائیل اور فلسطین میں سات افراد ہلاک: ایمرجنسی سروس

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ آدوم کے مطابق اسرائیل پر داغے جانے والے میزائل کے بعد موشاف عدانیم نامی زرعی قصبے میں ایک 30 سالہ شخص کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

    میگن ڈیوڈ آدوم کے مطابق ہلاک ہونے والا ایک غیر ملکی مزدور تھا جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے طبی عملے کے حائہ حادثہ پر پہنچنے سے قبل ہلاک ہو گیا۔

    دوسری جانب فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک اور ایرانی میزائل حملے کی اطلاع کے فوراً بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں گرنے والے شریپنل سے چار فلسطینی خواتین بھی ہلاک ہوئیں۔

    اس واقعے میں اطلاعات کے مطابق ہیبرون کے قریب بیت عوا کے علاقے میں چھ افراد زخمی بھی ہوئے۔

    بی بی سی کے مطابق شریپنل ایک بیوٹی سیلون پر گرے جو عید سے قبل عموماً گاہکوں سے بھرا ہوتا ہے۔