’ٹیرف کا مہاراجہ‘: انڈیا کی تجارتی پالیسیاں امریکہ کے لیے نقصان دہ ہیں، صدر ٹرمپ کے مشیر کا الزام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے تجارتی امور پیٹر ناوارو نے انڈیا کو ’ٹیرف کا مہاراجہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انڈیا کی تجارتی پالیسیاں امریکہ کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پیر کے روز سی این بی سی انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ناوارو نے الزام لگایا کہ انڈیا امریکہ کے ساتھ غیر منصفانہ تجارت کر کے پیسہ کماتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے امریکیوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ’وہ (انڈیا) اسی رقم سے روسی تیل خریدتے ہیں، اور روسی اس رقم کو ہتھیار خریدنے میں استعمال کرتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طویل عرصے سے چین انڈیا کے لیے ایک سنگین خطرہ رہا ہے، ’اس لیے مودی کو چین [کے صدر شی جن پنگ] اور پوتن کے ساتھ سٹیج پر دیکھنا کافی دلچسپ تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ مودی وہاں پر کمفرٹیبل تھے۔‘
صدر ٹرمپ کے تجارتی مشیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارت کو لے کر تناؤ پایا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ امریکہ نے انڈیا سے مصنوعات کی درآمد پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا تھا۔
انڈیا نے امریکی کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ کو ’غیر منصفانہ اور ناقابل عمل‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے 140 کروڑ شہریوں کا مفاد مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے جہاں سے بھی سستا تیل ملے گا، وہ خریدے گا۔
تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ہونے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے حالیہ کشیدگی میں بہتری کی توقع کی جارہی ہے۔
جنوبی ایشیا کے لیے امریکی تجارتی نمائندے برینڈن لنچ منگل کو ایک روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچ رہے ہیں۔
لنچ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کا حصہ ہے اور اس کے ذریعے انڈیا اور امریکہ کے درمیان موجود تجارتی تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔





