’دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکورٹی فورسز کی ہی نہیں بلکہ ریاست کی جنگ ہے‘ وزیر اعلیٰ بلوچستان

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں سمیت 11 افراد کی ہلاکت کی تناظر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا کہ ’دہشتگردی کے خلاف ریاست کی اس جنگ کو سیاسی ذمہ داری اور مشترکہ لائحہ عمل کے ساتھ لڑیں گے۔‘

خلاصہ

  • گذشتہ روز بلوچستان میں اغوا کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو بس مسافروں سمیت 11 افراد کو قتل کر دیا گیا ہے
  • بلوچستان میں حزب اختلاف کی چھ جماعتوں نے ’تحفظ آئین پاکستان‘ کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے
  • پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے نے کہا ہے کہ’14 تاریخ کو ہم واشنگٹن جا رہے ہیں جہاں آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کے خدوخال پر مذاکرات کریں گے‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی کی لائیو پیج پوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    15 اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. ’دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ صرف سیکورٹی فورسز کی نہیں بلکہ امن دشمنوں کے خلاف یہ جنگ ریاست کی جنگ ہے‘ وزیر اعلیٰ بلوچستان, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو، کوئٹہ

    sarfaraz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں سمیت 11 افراد کی ہلاکت کی تناظر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، اے سی ایس داخلہ زاہد سلیم سمیت اعلیٰ سول و عسکری افسران نے شرکت کی۔

    سرکاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سانحہ نوشکی کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جس میں کمشنر و ڈی آئی جی رخشان ڈویژن نے سانحہ نوشکی سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دی۔

    اجلاس میں نوشکی میں پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کی گئی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی بیخ کنی کے لئے سیکورٹی پلان کو از سر نو مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف یہ جنگ صرف سیکورٹی فورسز کی نہیں ہے بلکہ امن دشمنوں کے خلاف یہ جنگ ریاست کی جنگ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ جنگ سیاستدان، سول آرمڈفورسز، بیوروکریسی، عدلیہ، میڈیا سب نے لڑنی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’دہشتگردی کے خلاف ریاست کی اس جنگ کو سیاسی ذمہ داری اور مشترکہ لائحہ عمل کے ساتھ لڑیں گے۔‘

    وزیراعلیٰ نے سانحہ نوشکی میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 7 روز میں معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

  3. گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کا پشین میں جلسہ: ’جرنیلوں سے کوئی نہیں پوچھتا حالانکہ آئین کی پامالی سب سے بڑی غداری ہے‘, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    پشین

    حزب اختلاف کی چھ سیاسی جماعتوں پر مشتمل گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے بلوچستان کے شہر پشین میں جلسے کو پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی تحریک کا آغاز قرار دیا ہے۔

    اس جلسے کا انعقاد پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کیا تھا۔

    اگرچہ شدید بارشوں کے باعث جلسہ گاہ میں پانی کھڑا ہونے سے نہ صرف زمین پر لوگوں کے لیے بیٹھنا ممکن نہیں تھا لیکن اس کے باوجود جلسے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور شرکاء نے مقررین کی تقریروں کو کھڑے ہوکر سنا۔

    اس گرینڈ الائنس میں تحریک انصاف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، مجلس وحدت المسلمین اور سنی تحریک شامل ہیں۔

    جمعہ کے روز کوئٹہ میں اپوزیشن کی ان جماعتوں نے ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو الائنس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

    الائنس کی دوسرے اجلاس کے بعد پشین میں منعقدہ جلسہ عام سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اخترمینگل، تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب، مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس، سنی تحریک کے صدر علامہ محمد حامد رضا، شیر افضل مروت اور جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب امیر ڈاکٹر عطاالرحمان نے خطاب کیا۔

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ’لوگوں کو یہاں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گولی ماری جاتی ہے لیکن آئین کی پامالی پر جرنیلوں سے کوئی نہیں پوچھتا حالانکہ آئین کی پامالی سب سے بڑی غداری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور عوامکے منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرنی ہوگی اور جو بھی جرنیل، جج، جرنلسٹس یا کوئی اور اس کو تسلیم نہیں کرے گا تو ہم اس کو مردہ باد کہیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہ جو لوگ بھی آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں ان کو ہماری تحریک کا ساتھ دینا چائیے۔‘

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ’عمران خان کو، مجھے، سردار اخترمینگل اور ہماری الائنس میں شامل ہر جماعت کے قائدین کو یہ وعدہ دینا ہوگا کہ ان کی جماعتوں میں فصلی بٹیروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ کسی بھی سویلین یا فوحی ادارے کے سربراہ کی توسیع کو تسلیم نہیں کریں گے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں عوام کی منتخب حکومت نہیں ہے بلکہ یہ اسٹیبلشمنٹ اور فارم 47 کی حکومت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے تحریک کا آغاز پشین سے ہوگیا۔

    سردار اختر مینگل نے کہا کہ بارش اور طوفان اس جلسے میں لوگوں کو آنے سے نہیں روک سکے، پاکستان کے تمام ادارے عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے اپنے حدود میں رہ کر کام کریں، عمران خان دفعہ 144 ان کو جدوجہد سے کیسے روک سکے گی۔

    عمر ایوب خان نے کہا کہ ’دھاندلی زدہ مینڈیت سے قائم ہونے والی حکومت کو عوام کا سمندر بہا کر لے جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’راتوں رات فارم تبدیل کرکےعوام پر جعلی حکومت مسلط کی گئی اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ملک میں تحریک انصاف کی حکومت بنتی۔‘

    انھوں نے کہا کہ 9 مئی کو تحریک انصاف کے خلاف ایک سازش تیار کی گئی۔

    جلسے میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ ملک بھر میں فارم 45 کے تحت انتخابی نتائج مرتب سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور سرحد سے تجارت کے حوالے سے چمن کے لوگوں کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

  4. پنجاب: رحیم یار خان میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں سات افراد ہلاک

    پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    پنجاب پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک چھ سالہ اور آٹھ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق ضلع کے مزید علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور ان کی جانب سے نقصان کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  5. ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ، چترال سے پشاور روڈ بند

    ندی نالوں میں طغیانی

    ،تصویر کا ذریعہDistrict Administration

    پنجاب خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    حالیہ بارشوں کی وجہ سے چترال ٹو پشاور روڈ مختلف مقامات پر ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دی گئی ہے۔

    حکام نے سیاحوں اور مسافروں کو متنبہ کیا ہے کہ موسمی حالت کے پیش نظروہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

    یاد رہے محکمہ موسمیات نے مغربی سسٹم کے زیر اثر 12 سے لے کر 15 اپریل تک بارشوں کی پیش گوئی کر رکھی ہے جس دوران کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختون خوا، پنجاب ، سندہ اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    بارش

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    13 سے 15 اپریل کے دوران تیز موسلادھار بارش کے باعث دیر، سوات، چترال، کوہستان، مانسہرہ اور دریائے کابل سے ملحقہ علاقوں میں طغیانی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    اسی دوران تیز بارش کے باعث بالائی خیبر پختونخوا، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آندھی جھکڑ ، ژالہ باری، گرج چمک اور تیز بارش کے باعث کھڑی فصلوں، کمزور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

  6. نوشکی میں قتل ہونے والے نو افراد کی لاشیں کوئٹہ پہنچا دی گئیں, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    نو افراد کی لاشیں سنیچر کوکوئٹہ پہنچا دی گئیں

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں اغوا کے بعد قتل کیے جانے والے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کی لاشیں سنیچر کوکوئٹہ پہنچا دی گئیں۔

    ان افراد کا تعلق پنجاب کے دو شہروں منڈی بہائوالدین اور گوجرانوالہ سے تھا۔ کوئٹہ میں پوسٹ مارٹم کے بعد ان افراد کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی جائیں گی۔

    ایس ایس پی نوشکی اللہ بخش بلوچ کے مطابق ان افراد کو مسلح شرپسندوں نے نوشکی شہر سے اندازاً چار پانچ کلومیٹر پہلے سلطان چڑھائی کے علاقے میں سرحدی شہر تفتان جانے والی ایک بس سے اتارا تھا اور کچھ فاصلے پر لے جانے کے بعد ان تمام افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔

    یاد رہے کہ یہ افراد کوئٹہ سے تفتان جانے کے لیے ایک مسافر بس میں بیٹھے تھے۔ اس علاقے میں شرپسندوں کی فائرنگ سے مجموعی طور پر11 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے دو کا تعلق نوشکی سے تھا۔

    ایس ایس پی نوشکی نے بتایا کہ انھی شرپسندوں نے سلطان چڑھائی کے علاقے میں ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کے نا رکنے پر شرپسندوں نے گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس کے باعث گاڑی ایک کھائی میں گرگئی۔

    و افراد کی لاشیں سنیچر کوکوئٹہ پہنچا دی گئیں

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ اور گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کے باعث گاڑی میں سوار دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

    گاڑی پرفائرنگ سے ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی شناخت داؤد مینگل اور صدام کے نام سے ہوئی۔ ٹیچنگ ہسپتال نوشکی کے ایم ایس ڈاکٹر ظفراللہ نے بتایا کہ ان دونوں افراد کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی جبکہ باقی افراد گاڑی کے الٹنے کے باعث زخمی ہوئے۔

    یاد رہے کہ نوشکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں اندازاًڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس ضلع کی سرحد جنوب میں افغانستان سے لگتی ہے۔

    نوشکی کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے تاہم اس کے مختلف علاقوں میں پشتونوں کے بڑیچ سے قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آباد ہیں۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد نوشکی میں بھی بدامنی کے بڑے واقعات پیش آرہے ہیں ۔ فروری 2022ء میں نوشکی میں فرنٹئیرکور کے ہیڈکوارٹر پر ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔ نوشکی میں ماضی میں اس نوعیت کے دیگر واقعات کی ذمہ داری بھی کالعدم بی ایل اے کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

  7. نوشکی میں 11 افراد کا قتل المناک واقعہ ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے نوشکی میں اغوا کے بعد بس مسافروں کے قتل کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نوشکی میں 11 افراد کا قتل المناک واقعہ ہے جس پر وہ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے مقتولین کے لواحقین سے ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ قومی شاہراہ پر پیش آنے والے اندوہناک واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہماری تمام تر ہمدردیاں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ قائداعظم کے پاکستان میں ایسے افسوسناک واقعے کی کوئی گنجائش نہیں۔‘

  8. بلوچستان میں اغوا کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو بس مسافروں سمیت 11 افراد قتل, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    bbc

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم افراد کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد سمیت کل 11 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

    ایس ایس پی نوشکی اللہ بخش بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ نوشکی شہر سے اندازاً چھ کلومیٹر پہلے سلطان چڑھائی کے علاقے میں پیش آیا۔

    پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک بس سے اتارنے کے بعد انھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے کے پہاڑی علاقے میں مسلح شرپسندوں نے کوئٹہ سے تفتان جانے والی ایک بس کو روکا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس بس سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو اتارا گیا، جنھیں کچھ فاصلے پر لے جانے کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے مسافروں کا تعلق پنجاب کے علاقے منڈی بہاِؤالدین اور دیگر دو علاقوں سے تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد کوئٹہ سے تفتان جانے کے لیے مسافر بس میں بیٹھے تھے۔ ایس ایس پی نوشکی نے بتایا کہ انہی شرپسندوں کی طرف سے سلطان چڑھائی کے علاقے میں ایک اور گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کے نہ رکنے پر شرپسندوں نے گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس کے باعث گاڑی ایک کھائی میں گر گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ اور گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کے باعث گاڑی میں سوار دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

    ان کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑی میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق ضلع نوشکی کے علاقے کیشنگی سے ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوشکی میں بیگناہ مسافروں کے قتل کی مذمت کی ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ملوث دہشت گردوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ مسافروں کا قتل غیر انسانی فعل اور ناقابل معافی جرم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘

    صوبائی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ نہتے اور معصوم افراد پر بزدلانہ حملوں میں ملوث دہشت گردوں کا پیچھا کریں گے اور ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرکے دم لیں گے۔

  9. گذشتہ چند روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • کوئٹہ میں جمعے اور سنیچر کی درمیانی رات کو چھ جماعتی متحدہ اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر تحفظ آئین پاکستان تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔
    • عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے سات رکنی بینچ سے خود کو الگ کر لیا ہے۔
    • بلوچستان کے ضلع حب میں زائرین سے بھرے ٹرک کو گزشتہ رات پیش آنے والے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔ بدھ کی شب ویر آب کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے میں 40 سے زیادہ زائرین زخمی ہوگئے تھے جن کو علاج کی غرض سے کراچی منتقل کیا گیا۔ حادثے کا شکار تمام افراد کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ سے ہے۔
    • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے متعدد شہروں میں عیدالفطر کے روز مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔
  10. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    BBC

    پاکستان کی سیاست، معیشت، حکومتی امور اور اہم عدالتی مقدمات سمیت دیگر تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!

    12 اپریل تک کی خبریں جاننے کے یہاں کلک کریں۔