حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان کارکنان کی رہائی پر اتفاق مگر ’دھرنا جاری رہے گا‘
پاکستان کی وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کے بعد گرفتار کیے گئے کارکنان کی رہائی کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں ’دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔‘
خلاصہ
تحریک انصاف کا پانچ اگست کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری اور ملک میں جاری مہنگائی کی لہر کے خلاف ’پورے ملک میں‘ احتجاج کا اعلان
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پیکا ایکٹ کے تحت درج ایک مقدمے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما رؤف حسن اور دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دو دن کی توسیع کی ہے
بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں اتوار کو قومی شاہراہیں بدستور بند اور موبائل سروسز معطل، صوبائی حکومت کے مطابق گوادر میں ’بلوچ قومی اجتماع‘ کے انعقاد کی اجازت نہیں لی گئی
ضلع کرم میں دو گروہوں کے درمیان پانچ روز سے جاری تصادم میں 30 افراد ہلاک
دریں اثنا اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’لبنان کی سرزمین کے اندر‘ حزب اللہ کے سات ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان حملوں میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔
وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح کے قریب ایک سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 30 فلسطینی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
لائیو کوریج
صدر زرداری نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے
سپریم کورٹ میں دو ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان میں
کہا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے جسٹس (ریٹائرڈ) سردار طارق مسعود اور جسٹس (ریٹائرڈ)
مظہر عالم خان میاں خیل ایک برس کے لیے سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج مقرر کیا ہے۔
پاکستان کے صدر کی جانب سے ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی منظوری آئین کے آرٹیکل
182 کے تحت دی گئی ہے۔
اسلام آباد سے جماعت اسلامی کے متعدد کارکنان گرفتار: ’حکومت حافظ نعیم سے مذاکرات کے لیے تیار ہے‘، وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ
،تصویر کا ذریعہJIP/X
وفاق دارالحکومت میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے ڈی چوک سے متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق اگر کارکنوں کو فی الفور رہا نہ کیا گیا تو حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق گرفتار کارکنان کو قیدی وین میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ڈی چوک آنے والے راستوں کو پولیس و انتظامیہ نے کنٹینر لگا کر بند کر دیا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم
الرحمان نے اسلام آباد کے علاقے ایچ 8 میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے
احتجاج کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کم کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا پیسہ
بچانا ہے، بجلی کے بِل کم کرنے ہیں، لوگوں کو ریلیف دِلوانا ہے، ہم اس ایجنڈے کے
ساتھ آئے ہیں۔‘
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے تیار ہے اور جو نظام میں رہ کر بہتری لائی جا سکتی ہے وہ ضرور لائیں گے۔
وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے وفاقی وزیر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں احتجاج کی اجازت دی گئی تھی، اسلام آباد کی طرف پیشقدمی سمجھ نہیں آتی۔ یہاں لوگوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ڈی چوک میں کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہاں حساس تنصیبات ہیں، دفاتر ہیں۔ البتہ لیاقت باغ میں سکیورٹی بھی دیں گے۔‘
وزیر اطلاعات کے مطابق ڈی چوک میں احتجاج کا کلچر ختم کرنا ہو گا۔ ان کے مطابق ’جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم ہمارے لیے بہت قابل احترام ہیں ان سے بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں۔‘
ان کے مطابق وہ خود، طارق فضل چوہدری اور امیر مقام پر مشتمل کمیٹی جماعت اسلامی سے مذاکرات کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘
اس وقت اسلام آباد میں شہر کے داخلی راستوں پر بھی کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں جبکہ شہر کی اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر ٹریفک کے لیے صرف ایک لائن کھلی رکھی گئی ہے۔ ایک لائن کھولنے کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ شہری شدید پریشان ہیں۔
فیض آباد پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ واٹر کینن اور آنسو گیس سے لیس پولیس نفری فیض آباد پہنچا دی گئیں۔
دھرنے کے شرکا سے نمٹنے کے لیے آپریشنل پولیس کو پولیس لائنز سے 10 ہزار آنسو گیس کے شیل جاری کر دیے گئے جبکہ زیرو پوائنٹ پل کے نیچے دو لینز کھول کر باقی کنٹینرز لگا دیے گئے، تین سرکاری اسپتالوں کے سربراہان کو شعبہ ایمرجنسی سوموار تک ہائی الرٹ رکھے کی ہدایت کی گئی۔
’میں بحیثیت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اعلان کرتا ہوں کہ اس صوبے میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے‘:علی امین گنڈا پور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر بنوں میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا ’میں بحیثیت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اعلان کرتا ہوں کہ اس صوبے میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’قربانی دینا ہمارے خون میں شامل ہے، ہمارے آباؤ اجداد نے ہمیں یہ سکھایا ہے۔ اس ملک کے لیے اپنا خون دیں گے مگر اپنے فیصلے ہم خود کریں گے، ہمارے فیصلے کوئی اور نہیں کرے گا۔‘
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف عزم استحکام کے نام سے ایک نیا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس پرحزب اختلاف کی جماعتوں سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے علاوہ خاص طور پر قبائلی عمائدین اور عوام نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف شہر کی تاجر برادری کی اپیل پر گذشتہ جمعے کے روز ہونے والے ’امن مارچ‘ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے اور اس دوران فائرنگ اور بھگدڑ مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد یہ مارچ دھرنے میں تبدیل ہو گیا تھا۔
اس دوران امن مارچ اور دھرنے کے قائدین نے حکومت سے مذاکرات کے پہلے دور میں دس مطالبات پیش کیے تھے جن میں طالبان کے مراکز کے مکمل خاتمے اور فوجی آپریشن کی بجائے پولیس کو بااختیار بنانے اور سی ٹی ڈی کو انسدادِ دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی کمان سونپنے کی بات کی گئی تھی۔
جمعے کو جلسے میں بنوں کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ایپکس کمیٹی میں تفصیلی بات ہوئی ہے اور جیسا آپ نے کہا ویسا ہی وہاں فیصلہ ہوا۔ میرے پاس دستخط شدہ دستاویزات موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ 16 نکات میں ایک نکتہ تھا کہ مدارس یا کسی بھی گھر جسے ’ٹھکانہ‘ سمجھا جاتا ہے، وہاں پولیس جائے گی اور وہ اس معاملے کو حل کرے گی۔ علی امین کے مطابق ’اس مطالبے کو من و عن لکھا گیا ہے۔‘
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ یہاں شر پسندی پھیلانے والے اپنی اصلاح کر لیں۔ انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی مسلح گروہ یا شخص کسی کا بھی نام لے کر مجھے پختونخوا میں نظر نہ آئے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پولیس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اس نے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔‘ وزیراعلیٰ نے پولیس سے کہا کہ ’دب کے رکھو، میں آپ کے ساتھ ہوں، عوام آپ کے ساتھ ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ میرے عوام ہیں، یہ میری ذمہ داری ہے۔ کسی کو ہاتھ ڈالنے سے پہلے وہ سوچ لے کہ وہ ان کو نہیں بلکہ وزیراعلیٰ کو ہاتھ ڈال رہا ہے۔‘
انھوں نے عوام سے کہا کہ ’بدعنوانی کے خلاف لڑو، منشیات فروش کو مت
چھوڑو، نشاندہی کرو، مقابلہ کرو، سامنا کرو، میں آپ کے ساتھ ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو آزاد کرانے میں پختونخوا اور پختونوں
نے بے پناہ کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے تن من دھن کے ساتھ اپنی مٹی، اپنی قوم،
اپنے ملک اور اپنی عوام سے وفا کی۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’غلط پالیسیاں بنانے والے لوگ، غلط پالیسیاں
ہمارے اوپر تھوپنے والے لوگ، امریکہ کے غلاموں نے۔۔ ایسی پالیسیاں بنائیں جس سے
ہمیں بہت قربانیاں دینی پڑی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’امریکی ایجنڈے کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے
ہمارے اوپر آپریشن کیا۔ اس کے بعد پختون رزق حلال کے لیے خانہ بدوش بنے۔ دوسرے
صوبوں میں گئے اس پر بھی ہمیں اعتراض ہے۔ ہمارے نام پر ڈالر لے کر کھائے گئے ہمیں
اس پر بھی تحفظات ہیں۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’عقلمند انسان وہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے کے تجربے سے سیکھتا ہے
جبکہ بے وقوف وہ ہے جو اپنے تجربے سے بھی نہ سیکھے۔
حکومت کا ردعمل: یہ باتیں تو ایپکس کمیٹی میں ہوئیں کہ آپریشن نہیں بلکہ انٹیلیجنس
بیسڈ آپریشن ہو گا‘
وفاقی وزیر امیر مقام نے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس
میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بنوں میں جلسہ عام سے خطاب پر اپنا ردعمل دیتے
ہوئے کہ یہ سب باتیں تو ایپکس کمیٹی میں ہوئیں کہ صوبے میں آپریشن نہیں بلکہ ’انٹیلیجنس
بیسڈ‘ آپریشن ہو گا تو پھر اس طرح کریڈٹ لینا مناسب نہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ اس کی وضاحت پہلے بھی دی جا چکی ہے کہ یہ غلط فہمی پیدا کی
جا رہی ہے یہ آپریشن نہیں ہے۔
امیر مقام نے وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب صوبے میں آپریشن ہوئے
تو حکومت تو آپ کی تھی۔ شاید اڈیالہ سے آپ کو معلومات ملی ہوں۔ اس کی وضاحت کریں
کہ امریکہ سے جو ڈالر ملتے تھے وہ ڈالر اگر مل گئے تو آپ کو پتا ہو گا۔ آپ کے وزیر
اعلیٰ کو پتا ہو گا۔‘
امیر مقام نے کہا کہ ’آپ کی تیسری دفعہ حکومت آ گئی ہے تو آپ نے رٹ کیوں قائم
نہیں کی گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ابھی تک سی ٹی ڈی کا دفتر تک آپ نے قائم کر سکے۔ پی ڈی ایم
کی حکومت کے دوران شہباز شریف نے اس کے قیام کی منظوری دی تھی۔ آ کر تقریر کر کے
چلے جاتے ہیں تو یہ دکھ کی بات ہے۔‘
امیر مقام نے کہا کہ ’اگر دہشتگردی کی بات ہے تو پھر ان سے ہم زیادہ دہشتگردی
کا شکار ہوئے۔ آٹھ دفعہ ہم پر حملے ہوئے۔ آٹھ لوگ ہمارے شہید ہو گئے مگر کھل کر اس
دہشتگردی کے خلاف بات کی۔ اب آپ کو اس پر سیاست چمکانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
آپ بدعنوانی کے خلاف لڑائی کی بات کر رہے تھے آپ صوبے میں پوچھیں کہ وہ یہ سب
کرپشن کون کر رہا ہے۔
وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ دہشتگردوں کو آپ لے کر آئے ہیں اور اب
کہتے ہیں کہ یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے صوبے میں جنگلات کی کٹائی اور
ٹمبر مافیا سے متعلق سوالات اٹھائے۔
اولمپک کی تقریب سے قبل پیرس میں ’آتشزنی‘ سے ٹرین نظام میں تعطل، ڈھائی لاکھ مسافر متاثر
،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/SHUTTERSTOCK
فرانس کے شہر پیرس میں آتشزنی کی وجہ سے ریل کا نظام معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ فرانسیسی ٹرین آپریٹر کمپنی ’ایس این سی
ایف‘ کا کہنا ہے کہ ان کی ہائی سپیڈ والے نیٹ ورک کو ’مذموم حملوں‘ میں ہدف بنایا
گیا ہے جس کا مقصد پورے ریل کے نظام کو ٹھپ کرنا ہے۔ ریلوے لائن پر آتشزنی کا یہ
واقعہ پیرس میں اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب سے پہلے پیش آیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فرانس کی متعدد تیز رفتار
’ٹی جی وی‘ ریل گاڑیوں کو پیرس میں نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد شہر کے ’گیر مونتپرنیس‘
سٹیشن پر لوگوں کی قطاریں لگ گئی ہیں۔ کمپنی کے مطابق آج اس تعطل سے ڈھائی لاکھ مسافر متاثر ہوئے ہیں جبکہ پورے ہفتے میں آٹھ لاکھ مسافر متاثر ہوں گے۔
ان حملوں میں متعدد ٹرینیں معطل ہو گئی ہیں
جبکہ ٹرین آپریٹر کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ ٹرینوں کی مرمت کی وجہ سے یہ تعطل کم
از کم ایک ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔
سرکاری ریل کمپنی ایس این سی ایف کے صدر کا کہنا ہے کہ ہائی سپیڈ نیٹ ورک کے نظام کو فعال بنانے کے لیے مرمت کا کام ابھی جاری ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اس کمپنی کے صدر جین پیری فرنانڈو نے بتایا کہ حملہ آوروں نے فائبر آپٹک کیبلز کے کنڈکٹس میں آگ لگائی جس سے یہ نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ ان کیبلز سے ڈرائیورز کو ’سیفٹی انفارمیشن‘ دی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق جن کیبلز کو آگ لگی ہے ان کو ایک ایک کر کے ٹھیک کیا جا رہا ہے اور اس مرمت کے لیے سینکڑوں کارکنان کی مدد درکار ہے کیونکہ یہ مشینیوں کی مدد سے نہیں بلکہ انسانی مدد سے یہ سب مرمت کی جا رہی ہے۔
ریل کا نظام شدید متاثر ہوا ہے: فرانس کے نگران وزیراعظم
،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس کے نگران وزیراعظم گیبریل اتال نے کہا ہے کہ ایس این سی ایف کے ریل کے نظام کو درہم برہم کرنے کے لیے یہ حملے بہت منظم منصوبہ بندی سے کیے گئے ہیں۔
ایکس، سابقہ ٹوئٹر، پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ان حملوں کی وجہ سے ریل کا نظام بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور انھوں نے متاثرہ جگہوں پر ’فائر فائٹرز‘ کی خدمات کو بھی سراہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ ان تمام فرانس کے شہریوں کے لیے متفکر ہیں جو چھٹیوں پر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ نگران وزیراعظم نے کہا کہ وہ ان تمام شہریوں کے صبر کے لیے شکرگزار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فرانس کی سکیورٹی فورسز ان تخریب کاروں کو تلاش کر رہی ہیں جنھوں نے یہ حملے کیے ہیں۔
ریل کا نظام میں تعطل سے بڑی تعداد میں لوگ اب پیرس سے باہر نہیں جا سکیں گے
،تصویر کا ذریعہPM Media
بی بی سی نیوز کی لائیو پیج کی ایڈیٹر نادیہ ریگوزینہ کے مطابق یہ تاریخ نہ صرف اولمپک گیمز کی وجہ سے اہم ہے بلکہ اس تاریخ کی یہ بھی اہمیت ہے کہ اس تاریخ کو پیرس کے رہائشیوں کی بڑی تعداد ایک ماہ کی چھٹیاں منانے شہر سے باہر چلے جاتے ہیں۔
پیرس کے رہائشیوں کے لیے اگست مقدس مہینے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مہینے میں پیرس کی گلیاں سنسان ہو جاتی ہیں جبکہ فرانس کے رہائشی چھٹیاں گزارنے کے لیے ملک کے دوردراز حصوں، ساحل سمندر اور پہاڑوں کی طرف نکل جاتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہPA Media
آج سے ’گرینڈ ڈیپارٹ‘ شروع ہو گیا ہے جسے اب ریل نیٹ ورک والی کمپنی ایس این سی ایف ’غم کا دن‘ اور ’فرانس پر حملہ‘ قرار دے رہی ہے۔
آج کے دن جب فرانس کے لوگوں گھروں سے باہر ہیں تو ایسے میں سیاح ہی اس شہر میں گھوم پھر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان دنوں میں پیرس خالی ہوتا ہے اور یہ سیاح اس کا لطف لیتے ہیں۔مگر آج ایسا نہیں ہے۔
اولپمک کی افتتاحی تقریب میں آج رات دس ہزار سے زائد ایتھلیٹس دریائے سین میں ایک فلوٹیلا میں دنیا بھر سے آئی اہم شخصیات اور تین لاکھ شائقین کے سامنے اولپمک کی افتتاحی تقریب کے لیے پیرس میں نمودار ہوں گے۔
بہت سارے فرانسیسی بھی آج رات اولپمک گیمز سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس تقریب میں شریک ہونے کی کوشش کریں گے۔
کرم میں دو قبائل کے درمیان تصادم میں چھ افراد ہلاک، 44 زخمی, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور
،تصویر کا ذریعہKPK Police
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے دو دیہات کے
مختلف قبائل کے درمیان زمین کے تنازعے پر شروع ہونے والا تصادم تین دنوں میں آٹھ
مختلف دیہات تک پھیل گیا ہے اور کل رات پاڑہ چنار شہر میں بھی راکٹ گرے ہیں۔ ان
تین دنوں میں چھ افراد ہلاک اور 44 زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر سابق وفاقی وزیر ساجد حسین طوری کا کہنا
ہے کہ حالات بہت کشیدہ ہیں اور ان کی اطلاع کے مطابق اب تک نو افراد ہلاک ہوئے ہیں
جن میں تین کا تعلق طوری قبیلے اور چھ کا تعلق بنگش اور منگل گروپ سے ہے۔پاڑہ چنار ہسپتال میں حکام نے کہا ہے کہ ان کی
پاس ہلاکتوں کی تعداد چھ ہے۔
اس بارے میں ضلع کرم کے پولیس افسر محمد نثار
نے بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ اور قبائلی عمائدین اپنی طرف سے کوششیں کر رہے ہیں
فائرنگ کا سلسلہ رک جاتا ہے لیکن پھر وقفے کے بعد یا شام کے بعد دوبارہ شروع ہو
جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ حالات پر جلد
سے جلد قابو پا لیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ زمین کا تنازع ہے جو
بڑھ گیا ہے۔
ان جھڑپوں میں چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں کا
استعمال کیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز دیکھی جا رہی ہیں جن میں
بھاری اسلحے کے فائر کیے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر ان
جھڑپوں کو روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں جس میں جرگہ عمائدین دونوں جانب فریقین سے
رابطے کر رہے ہیں۔
کرم سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر ساجد
حسین طوری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جھڑپیں تین روز سے جاری ہیں اور ابتدائی طور
پر یہ زمین کے تنازع پر دو گروہوں میں شروع ہوا مگر پھر یہ لگ بھگ پورے ضلعے تک پھیل
گیا ہے اور کل رات راکٹ پاڑہ چنار شہر میں بھی گرے ہیں۔ اب تک ان راکٹ سے نقصان کی
اطلاعات موصول نہیں ہوئیں ۔
پولیس اور مقامی لوگوں کے مطابق ضلع کرم کے
علاقہ بوشہرہ اور مالی خیل کے مابین زمین کے تنازع تین روز پہلے شروع ہوا اور
دونوں جانب سے شدید فائرنگ کی گئی، جس میں خود کاربھاری ہتھیار بھی استعمال کیے گئے۔ اس کے بعد دیگر
قریبی دیہات جیسے علاقہ بالش خیل، پیواڑ و تری منگل اور کنج علی زئی مقبل کے
علاقوں میں بھی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
ہلاکتیں اور زخمی
مقامی سطح پر لوگوں نے بتایا کہ جس طرح بھاری
اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی ہے اس سے زیادہ نقصان ہو سکتا تھا۔ ان کے
مطابق اب تک دور دراز علاقوں سے رابطے بھی نہیں ہو رہے۔ پاڑہ چنار ہسپتال کے میڈیکل
سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر میر حسن جان کے مطابق ان کے ہسپتال میں تین دنوں میں چھ افراد
ہلاک اور 44 زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے بیشتر کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا
گیا ہے جبکہ چھ زخمی اب بھی ہسپتال میں داخل ہیں جن کا علاج جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وسیع علاقہ ہے۔ اپر کرم
سے زیادہ تر زخمی پاڑہ چنار میں ہسپتال لائے جاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ مقامی
ہسپتال اور بنیادی صحت مراکز ہیں جہاں زخمیوں کا لے جایا جاتا ہے۔
ادھر صدہ ہسپتال سے ڈاکٹر واجد نے بتایا کہ ان
کے پاس گذشتہ دو دنوں میں چار زخمی لائے گئے تھے جن میں سے دو کو پشاور بھیج دیا
گیا جبکہ باقی دو کو طبی امداد فراہم کر دی گئی تھی۔
زمین کا تنازع فرقہ واریت میں کیے بدلا؟
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ کرم ضلع میں زمین،
پانی، راستوں اور جنگل کی ملکیت کے تنازعات پر بار بار معمولی فائرنگ کے واقعات
خونریز جھڑپوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور یہ جھڑپیں پھر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات
میں بدل جاتے ہیں۔
گذشتہ ماہ ضلع کرم میں امن کے قیام کے لیے
اہلسنت اوراہل تشیع نے علاقے میں خیر سگالی کے لیے اقدامات کیے تھے اور اہلسنت کی
احتجاجی ریلی میں اہل تشیع نے پانی کی سبیلیں لگائی تھیں۔
تین روز پہلے زمین کا تنازع شروع ہوا اور یہ
مختلف قبائل تک پھیل گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر قبائل ایک
دوسرے قبیلے کا ساتھ دینے کے لیے دوسرے قبیلے کے لوگوں پر فائرنگ شروع کر دیتے ہیں
اور ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہوجاتے ہیں۔
ضلع کرم میں ان قبائل میں جغرافیے اور فرقے کی
بنیاد پر تقسیم پائی جاتی ہے۔ اپر کرم میں تری مینگل سنی مسلمان ہیں جبکہ پیواڑ میں
شیعہ مسلمان آباد ہیں۔ اسی طرح غوز گڑھی کا تعلق اہلسنت اور کونج علیزئی کا تعلق اہل تشیع سے ہے۔
آگے چلتے ہیں تو بوشہرہ کا تعلق اہلسنت اور ملی خیل کا تعلق اہل تشیع سے بتایا
جاتا ہے۔
لوئر کرم میں اگر دیکھیں تو یہاں مختلف قبائل ہیں
جیسے گاؤں خار کلے اہلسنت اور گاؤں بلیش خیل کا تعلق اہل تشیع سے بتایا جاتا ہے۔ اسی
طرح لوئر کرم میں ہی صدہ اہلسنت اور گاؤں سگینہ کا تعلق اہل تشیع سے ہے۔
مقامی صحافی علی افضل نے بتایا کہ ابھی جو
تنازع شروع ہوا ہے یہ ملی خیلاور بوشہرہ
قبائل کے درمیان شروع ہوا ہے اور یہ قبیلے دریائے کرم کے ساتھ آباد ہیں۔ یہ تنازع
اگرچہ قبائل کے درمیان ہوتا ہے لیکن باقی علاقوں کے لوگ بھی اس میں قبیلے اور مسلک
کی وجہ سے حصہ بن جاتے ہیں۔
امن کی کوششیں کتنی کارگر؟
مقامی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کی فائر بندی
کے لیے کوششیں جاری ہیں اور آج بھی ایک گرینڈ جرگہ ہو رہا ہے جس کے بعد متحارب
گروہوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ادھر ضلع ہنگو اور ضلع
اورکزئی سے قبائلی عمائدین پاڑہ چنار پہنچے ہیں۔
ساجد حسین طوری نے بتایا کہ گذشتہ روز ان
جھڑپوں میں متحرک گروہوں سے رابطے کیے گئے تھے اور بڑی حد تک کامیابی ہو گئی تھی لیکن
پھر ایک گروہ کی جانب سے فائرنگ ہوئی تو حالات پھر سے خراب ہوگئے۔ ایسی اطلاع بھی
ہے کہ ایک جرگہ کے لوگ بھی فائرنگ کی زد میں آئے تھے لیکن اس سے کوئی نقصان نہیں
ہوا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت انتظامیہ ان حالات کو
قابو میں لانے میں ناکام نظر آتی ہے اور اگر اب حالات کو قابو میں نہ کیا گیا تو
اس زیادہ نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔
ملک عطااللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کرم میں
حالات کشیدہ ہیں اور ایک عرصے سے قائم جرگہ ان حالات کو قابو پانے میں ناکام رہا
ہے اور انتظامیہ ان حالات کو سلجھانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں یعنی قبائلی علاقوں
کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام سے پہلے تمام قبائلی اپنے ملک کے احکامات کے
پابند ہوتے تھے اور اس طرح کے واقعات کو کنٹرول کرلیا جاتا تھا لیکن انضمام تو ہوگیا
ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ قبائلی علاقے کے لوگوں کو نہیں ہوا ہے۔
پاکستان نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا، انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کا کارگل جنگ کی تقریب سے خطاب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کارگل جنگ کی 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے ماضی میں جتنی بھی غلط کوششیں کیں اسے منہ کی کھانی پڑٰی لیکن اس نے اپنے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا ہے۔‘
انڈین وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے دہشت گردی اور ’پراکسی وار‘ کا سہارا لے رہا ہے۔
نریندر مودی کا کہنا ہے کہ انڈیا امن کے لئے کوششیں کر رہا ہے لیکن بدلے میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنا ناقابل اعتماد چہرا دکھایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سچ کے سامنے جھوٹ اور دہشتگردی کی ہمیشہ ہار ہوئی ہے۔
نریندر مودی کا کہنا ہے کہ، ’آج جب میں اس جگہ سے بول رہا ہوں جہاں سے دہشت گردی کے آقاؤں کو میری آواز صاف سنائی دے رہی ہے تو میں انھیں کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے ناپاک منصوبے کبھی کامیاب ںہیں ہونگے۔‘
انڈین وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ کچھ ہی دن بعد پانچ اگست کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کو پانچ سال ہوجائیں گے۔ ’جموں کشمیر آج نئے مستقبل کی بات کررہا ہے، بڑے خوابوں کی بات کررہا ہے۔‘
اگست 2019 میں انڈیا میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے انڈین آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔
پی ٹی آئی اور جماعتِ اسلامی کا احتجاج: اسلام آباد کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں لگا دی گئیں
اسلام آباد میں جمعے کے روز پاکستان تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج کی کال کے پیشِ نظر فیض آباد کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہSpecial Branch Police
فیض آباد پل پر اسلام آباد جانے والے راستے کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا ہے جبکہ مری روڈ پر راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
،تصویر کا ذریعہSpecial Branch Police
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے لاہور اور پشاور سے آنے والے موٹروے کے لنک روڈ پر بھی کنٹینرز لگا دیے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہSpecial Branch Police
ایک ایک کرکے گاڑیوں کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دی جارہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہSpecial Branch Police
پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جی ٹی روڈ پر بھی پولیس تعینات ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر جی ٹی روڈ کو بھائی خان پل اور مندرہ ٹول پلازہ کے قریب رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا جائے گا۔
کراچی میں بگٹی قبیلے کے دو گروپوں میں فائرنگ، 5 افراد ہلاک
جمعرات کی شب کراچی کےعلاقے ڈیفینس میں بگٹی قبیلے کے دو گروپوں میں تصادم کے دوران فائرنگ سے فہد بگٹی نامی نوجوان سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
فہد بگٹی سابق رکنِ قومی اسمبلی احمد نواز بگٹی کے بیٹے اور مقتول بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے بھتیجے تھے۔
اس تصادم میں زخمی ہونے والے علی حیدر بگٹی سابق رکن قومی اسمبلی غلام حیدر بگٹی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ ان کے ایک بھائی ذوالفقار بگٹی ڈیرہ بگٹی کے ناظم رہ چکے ہیں جبکہ نواب اکبر بگٹی ان کے ماموں تھے۔
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ فہد بگٹی اور حیدر بگٹی کے درمیان پہلے سے چپقلش موجود تھی۔
پولیس کے مطابق گزشتہ شب دونوں میں تلخ کلامی ہوئی جس نے مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق یہ واقعہ رات کے پونے گیارہ بجے ڈیفینس کے علاقے خیابان نشاط میں پیش آیا ہے۔
اسد رضا کا کہنا ہے کہ حیدر بگٹی نے فہد کی گاڑی کو سامنے سے ٹکر ماری جس کے بعد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے جنھیں پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ تصادم ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے۔ دونوں گروپس آپس میں رشتے دار ہیں اور ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا احتجاج سے قبل رہنماؤں کی گرفتاریوں کا دعویٰ، اسلام آباد کا ریڈ زون سیل
پاکستان تحریکِ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کے روز ملک گیر احتجاج سے قبل پارٹی رہنماؤں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی نے عمران خان اور دیگر قیدیوں کی رہائی اور پارٹی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے خلاف جمعے کے روز احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پنجاب پولیس نے راولپنڈی میں پی ٹی آئی رہنما راجہ بشارت کے گھر پر چھاپہ مارا جبکہ رحیم یار خان میں ایم این اے جاوید اقبال سمیت درجن بھر سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پارٹی کا دعویٰ ہے کہ لاہور میں پولیس نے پی ٹی آئی رہنما مہر نعیم اللہ کے گھر اور کیمپ پر چھاپہ مار کر ان کے پانچ دوستوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم نعیم اللہ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
،تصویر کا ذریعہgetty
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے دارالحکومت میں ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر ریڈ زون کو سیل کرنا شروع کر دیا ہے۔
ریڈ زون کے تمام داخلی راستوں پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور کسی کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عمران خان کے آرمی چیف کے نام پیغام کی کوئی اہمیت نہیں: رانا ثنا اللہ
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ بانی تحریکِ انصاف عمران خان کا آرمی چیف کے نام مبینہ پیغام کافی دیر سے آیا ہے اور اس پیغام کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
بظاہر ان کا اشارہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے اس بیان کی طرف تھا جس میں انھوں دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام پیغام دیا ہے کہ موجودہ حکومت فوج اور پی ٹی آئی کو آمنے سامنے کرنا چاہتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے فوج مخالف بیانات کو دیکھتے ہوئے کوئی ان پیغامات پر کیسے یقین کر سکتا ہے۔‘
جمعرات کے روز جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن ہمیں نظر آرہا ہے کہ کچھ چیزیں ایسے انداز میں کی جا رہی ہیں کہ ان کو اپنے تئیں لگتا ہے کہ اس طرح کا ایجنڈا پورا کر لیں گے، لیکن ایسا ہو گا نہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی رہنما نجی محفلوں میں کہہ رہے ہیں کہ ان کی بات ہو گئی ہے کہ نومبر میں جیسے ہی چیف جسٹس تبدیل ہوں گے، تو اس کے بعد نئے الیکشن کی تیاری کریں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوٰی کیا تھا کہ دسمبر تک ان کی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی۔
گزشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے بینچ تشکیل دینے والی تین رُکنی ججز کی کمیٹی سے استدعا کی ہے کہ وہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ان کے اور پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات سننے والا بینچز میں شامل نہ کرے۔
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بنوں واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے لیے عدلیہ کو درخواست دی جائے گی۔
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے 39 اراکین قومی اسمبلی کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا رُکن تسلیم کرلیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کا نو مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ اور ویڈیو لنک پر عمران خان کی حاضری کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔
اسلام آباد میں پیکا ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی ایک خصوصی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن سمیت دیگر ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈر اسد قیصر نے دعوٰی کیا ہے کہ دسمبر تک ان کی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔
سینٹ کی لا اینڈ جسٹس کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے وفاقی حکومت کے پاس میٹریل موجود ہے اور وفاقی حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔‘
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید!
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس لائیو پیج میں پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے تازہ معلومات شامل کی جائیں گی۔