امریکی ایوان نمائندگان کا پاکستانی انتخابات کی تحقیقات کا مطالبہ، ’ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد‘: پاکستان

پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی قرارداد کو حقائق سے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد، امید ہے امریکی کانگریس باہمی تعاون کی راہوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔

خلاصہ

  • سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر سماعت کے دوران وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ ’پی ٹی آئی کے امیدواروں نے مجبوری میں سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔‘ اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ’کیا مجبوری ہو تو آئین و قانون کو نہیں مانا جاتا؟‘
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ اگر پی ٹی آئی اب بھی سیاسی جماعت کا وجود رکھتی ہے تو اس نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی؟
  • وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے عزم استحکام آپریشن کی ضرورت پڑی۔ اس کی منظوری کابینہ اور پارلیمنٹ سے لی جائے گی۔
  • پاکستان تحریکِ انصاف کا پاریمان کو اعتماد میں لیے بغیر کسی بھی عسکری آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کوئی بھی ایپکس کمیٹی پارلیمان سے بالاتر نہیں ہے۔
  • پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا ہے جس کے مطابق رواں سال مون سون بارشیں 35 فیصد تک زیادہ ہونے کے خطرات ہیں۔

لائیو کوریج

  1. منی لانڈرنگ کا الزام: ایف آئی اے کا سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے قریبی عزیز صابر حمید کو 27 جون کو پیش ہونے کا حکم

    ایف آئی اے منی لانڈرنگ سرکل نے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے قریبی عزیز صابر حمید عرف مٹھو کو منی لانڈرنگ کے الزام میں 27 جون کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    صابر حمید کے خلاف 2023 میں منی لانڈرنگ کی انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا۔

    ایف آئی اے نے صابر حمید کو پیشی کے موقع پر گزشتہ دس سال میں زمین کی خریدوفروخت اور سرکاری محکموں کو فروخت کی گئی زمینوں کے ریکارڈ بھی ہمراہ لانے کا حکم دیا ہے۔

  2. ابھی تک آپریشن عزم استحکام کے بارے میں کچھ بھی واضح نہیں ہے، ایپکس کمیٹی میں افغانستان سے بات چیت میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی: وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک آپریشن عزم استحکام کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں اور ایپکس کمیٹی اجلاس میں انھوں نے افغانستان سے بات چیت میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ ’پالیسی بہترین ہونی چاہیے، بات چیت ہونی چاہیے، اگر آپ افغانستان کے حوالے سے مذاکرات کی پالیسی بناتے ہیں تو ہم آگے بڑھ کر آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔

    ’جو کچھ پہلے ہوا، کیا کسی اور نے ڈالا کسی اور پر، جس طریقے سے باجوہ صاحب نے اپنے کچھ اور مقاصد حاصل کرنے تھے، لیکن اس کا نقصان کس کو ہوا؟ باجوہ صاحب کہاں ہیں آج وہ تو گھوم رہے ہیں پاکستان آتے بھی نہیں ہیں، ہم نے تو رہنا ہے یہاں پر، ہم نے بھگتنا ہے، اس عوام نے بھگتنا ہے، شہادتیں کس نے دینی ہیں، قربانیاں کس نے دینی ہیں، معاشی مسائل سے بھی ہم نے ہی لڑنا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان میں امن اور دہشتگردی کا خاتمہ ہم چاہتے ہیں لیکن جو پالیسی آئے گی، اس کے تحت ہی چلا جائے گا۔ ابھی تک میری کوئی بھی بات نہیں ہوئی اداروں کے ساتھ، یا وفاقی حکومت کے ساتھ۔ ہم بات کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کے بارے میں بات اسی طرح ہو گی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ان کا منصوبہ کیا ہے، جب آئی ایس پی آر کی طرف سے پلان آئے گا کہ کن علاقوں میں یہ آپریشن ہونا ہے تو بات چیت ہو گی، اس کے بغیر تو کام نہیں ہو سکتا۔‘

  3. یہ عزمِ استحکام آپریشن نہیں عدمِ استحکام آپریشن ہے جو پاکستان کو مزید کمزور کرے گا: مولانا فضل الرحمان

    maulana

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایپکس کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا عزمِ استحکام آپریشن، عدم استحکام آپریشن ہے جو پاکستان کو مزید کمزور کرے گا۔

    انھوں نے پریس کانفرنس کے آغاز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا پاکستان ہم نے اس لیے حاصل کیا تھا کہ اس پاکستان میں ہم جرنیلوں کی غلامی کریں گے اور جانوروں کی طرح وہ ہمیں جس طرف ہانکیں گے ہم اسی طرف جائیں اور جو چارہ وہ ہمیں ڈالیں گے وہی ہم قبول کریں گے، کبھی نہیں ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت میں ملک میں ریاست کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا ہو یا بلوچستان۔ مسلح تنظیمیں اس وقت کھلے عام تمام علاقوں کو کنٹرول کر رہی ہیں۔ اور انھوں نے اب اعلان کیا ہے کہ یہ عزمِ استحکام آپریشن شروع کریں گے، یہ عدمِ استحکام آپریشن ہے جو پاکستان کو اور کمزور کرے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ماضی کے جتنے آپریشن ہوئے ہیں زرا ان کے نتائج تو سامنے رکھیں، آج ہم کہاں کھڑے ہیں، چپے چپے پر ہماری فوج موجود ہے، کیوں بے بس ہو گئی ہے؟

    ’میری پولیس کیوں بے بس ہو گئی ہے، بلوچستان کے بارے میں تو میں زیادہ نہیں جانتا ہوں گا، لیکن خیبرپختونخوا میں جہاں ہمارے اضلاع ہیں وہاں پولیس سورج غروب ہونے کے بعد اپنے تھانوں میں بند ہو جاتی ہے، اور ان کا کسی بھی روڈ کے ساتھ تعلق ختم ہو جاتا ہے۔‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’تو ملک کو اور کمزور کیوں کیا جا رہا ہے۔ ایپکس کمیٹی نے فیصلہ کر لیا، ایپکس کمیٹی کیا ہے؟ تحصیل کی سطح پر اس میں میجر بیٹھتا ہے، ضلع کی سطح پر اس میں کرنل بیٹھتا ہے، یہ جب ڈویژن کی سطح پر ہوتی ہے تو اس میں بریگیڈیئر بیٹھتا ہے، صوبے کی سطح پر اس میں کور کمانڈر بیٹھتا ہے اور وفاق کی سطح پر اس میں آرمی چیف بیٹھا ہوتا ہے۔

    ’آپ بتائیں کہ جب کسی اجلاس میں وردی والا موجود ہو گا تو فیصلہ وردی والا کرے گا یا باقی لوگ کریں گے؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’ذمہ داری ہمارے اوپر ڈالتے ہیں، بڑی خوشی سے شہباز شریف ذمہ داری قبول کرے گا، لیکن شہباز شریف وزیرِ اعظم نہیں ہے۔ بس کرسی پر بیٹھا ہوا ہے ایک آئینی کرسی سنبھالی ہوئی ہے سو وہ اسی پر خوش ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جمہوریت اور پارلیمان اپنا مقدمہ ہار چکی ہے اور ان کے خلاف مسلح تنظیمیں اور بغاوتیں اپنا مؤقف تسلیم کروا رہی ہیں۔ یہاں تک ہمیں کس نے پہنچایا ہے؟ ان ہی بے اعتدالیوں نے، ہم آئین پر عمل نہیں کریں گے تو آئین ایک میثاقِ ملی ہے اور جب یہ بیچ میں نہیں رہے گا تو عوام کی ریاست کے ساتھ جو معاہدہ ہے اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔‘

  4. ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔

    الیکشن ٹریبونل کی تبدیلی کے خلاف درخواست پر عدالت نے انجم عقیل خان کو ہر سماعت پر حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ ان درخواستوں پر اگلی سماعت نو جولائی کو ہوگی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔ علی بخاری اور دیگر نے الیکشن ٹریبونلز کی تبدیلی کو چیلنج کیا تھا جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تیاری کے لیے وقت دینے کی استدعا کی تھی۔

    دوران سماعت عدالت نے انجم عقیل سے استفسار کیا کہ ’آپ نے الیکشن کمیشن میں کوئی درخواست دی تھی؟‘

    ’آپ نے کوئی بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کرایا کہ اس میں جو کچھ لکھا ہے وہ سچ ہے؟‘

    خیال رہے کہ انجم عقیل کی الیکشن کمیشن میں درخواست پر الیکشن ٹریبیونل تبدیل کیا گیا تھا۔ انجم عقیل سمیت اسلام آباد سے جیتنے والے تینوں رکن قومی اسمبلی نے ٹریبیونل پر اقربا پروری کا الزام عائد عائد کیا تھا۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ نے سمجھانا ہے کہ nepotism (اقربا پروری) کیا ہوتا ہے، مجھے اس کا مطلب سمجھائیں؟‘

    انجم عقیل خان نے اعتراف کیا کہ انھوں نے ’بیان حلفی پر بغیر پڑھے دستخط کیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ججز ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ یہ غلطی میری ہے کہ بغیر پڑھے دستخط کیے ہیں۔‘

    عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ’انجم عقیل خان عدالتی استفسار پر درخواست میں استعمال کیے گئے الفاظ کی وضاحت نہ کر سکے۔‘

  5. ’مجبوری ہو تو کیا آئین و قانون کو نہیں مانا جاتا؟ مجبوریوں پر جائیں تو ملک نہیں چلے گا‘

    قاضی فائز عیسیٰ

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court

    مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ’ہر آزاد ایم این اے، ایم پی اے کا حق ہے کہ جس جماعت میں شامل ہو۔ میں دفاع نہیں کروں گا کہ پی ٹی آئی، سنی اتحاد نے بڑی غلطیاں کیں۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’اگر سنی اتحاد اور تحریک انصاف ایک ہو جاتیں تو معاملہ حل ہوجاتا لیکن وہ بھی نہیں کیا۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا۔ آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا۔ سیاسی جماعت کی ممبرشپ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ’وقت آگیا ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلے۔‘

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل کے دلائل ختم ہونے کے بعد اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’الیکشن ایکٹ کے مطابق کوئی شخص دو جماعتوں کا رکن نہیں ہو سکتا۔ (درخواست گزار) کنول شوزب کو پہلے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونا پڑے گا۔‘

    ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہم پی ٹی آئی کا نہیں، سنی اتحاد کونسل کا کیس سن رہے ہیں۔‘

    انھوں نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’ہم آپ کو ایسے نہیں سن سکتے کیونکہ مخصوص نشست کے لیے نہ پی ٹی آئی سے ہیں یا سنی اتحاد کونسل سے۔‘

    سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ ’میری موکلہ نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار نہیں کی۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ ’یہ بتائیں کہ 86 امیدوار ایک فرد والی جماعت میں کیوں شامل ہوئے؟‘

    ’کیا وجہ تھی کہ پی ٹی آئی کے امیدوار دوسری جماعت میں گئے؟‘

    سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ انتخابی نشان واپس ہوگیا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں نے مجبوری میں سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مجبوری ہو تو کیا آئین و قانون کو نہیں مانا جاتا؟ کیا مجبوری میں تمام قوانین و اصول توڑ دیے جاتے ہیں؟‘

    سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ ’سینیئر وکلا نے یہ فیصلہ کیا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت میں کوئی حرج نہیں۔‘

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے دورانِ دلائل بتایا کہ ’کہا جا رہا تھا پی ٹی آئی کالعدم ہو جائے گی۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پی ٹی آئی میں کوئی وکیل نہ ہوتا، پہلا الیکشن لڑ رہی ہوتی تو ہم یہ مفروضے سنتے۔ مجبوریوں پر جائیں تو ملک نہیں چلے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ کل کوئی کہے گا مجبوری ہے سگنل پر رُک نہیں سکتا، کسی نے غلط ایڈوائس دی ہے۔‘

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’ایسا ہو سکتا ہے شاید مگر یہ فیصلہ تھا۔‘ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’تو یہ مشورہ دینے والے پر کیس کریں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آئین عوام اور منتخب نمائندگان کے لیے بنایا گیا ہے۔ جب آئین واضح ہو تو تشریح کی ضرورت نہیں۔ عام کتاب ہے، کوئی بھی سمجھ سکتا ہے۔‘

    انھوں نے ریمارکس میں مزید کہا کہ ’آئین کی اہمیت ہے۔ کوئی بھی آجاتا ہے، جو چیز آئین میں واضح ہے، اس پر عمل کریں۔‘

    اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’ہم نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، الیکشن کمیشن بھی گئے۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’کوئی سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کرے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘

    ’بار بار سپریم کورٹ کا نہ کہیں۔ رجسٹرار کے پاس جوڈیشل پاور نہیں۔‘

  6. ’کیا آپ کی پارٹی کا آئین، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں؟‘ چیف جسٹس کا سنی اتحاد کونسل کے وکیل سے استفسار

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ کیس کی براہ راست سماعت کر رہا ہے۔

    سماعت کے دوران ایک موقع پر چیف جسٹس نے سنی اتحاد کونسل کے وکلا سے پوچھا کہ ’آپ سیکشن سے ایک لفظ لے کر اپنے کیس کو نہیں چلا سکتے۔ آپ دکھائیں کہ سنی اتحاد نے پارٹی لسٹ دی، کیا لسٹ دی؟‘

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے اپنے دلائل کے دوران عدالت کو بتایا کہ ’سنی اتحاد کونسل نے لسٹ دی تھی۔ مخصوص وقت میں الیکشن کمیشن کو لسٹ نہیں دی لیکن شیڈول کا مسئلہ ہے سیکشن کا نہیں۔ سیٹیں الیکشن کے بعد ملتیں ہیں تو الیکشن کمیشن نیا شیڈول جاری کرے۔‘

    جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’اگر سنی اتحاد سیاسی جماعت نہیں تو کیا آزاد امیدوار دو سیاسی جماعتوں کو جائے گی یا صرف اپنے امیدوار ہی ملیں گے؟‘

    فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’سیاسی جماعت کو جیتی گئی سیٹوں سے زیادہ نہیں مل سکتیں۔ میرا نقطہ ہے مخصوص نشستیں خالی نہیں چھوڑی جا سکتیں۔‘

    ’سپریم کورٹ کو دیکھنا ہے کہ خالی نشستوں کو کیسے فِل کرنا ہے۔‘

    جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ ’اگر آپ سیاسی جماعت نہیں تو خالی نشستیں کہاں جائیں گی؟‘

    فیصل صدیقی نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کو پھر دیکھنا ہوگا کہ آزاد امیدوار کون ہیں۔‘

    ’الیکشن کمیشن نے اقرار کیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت ہے۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’جن کی لڑائی لڑ رہے وہ امیدوار سنی اتحاد کے ہیں یا تحریک انصاف کے؟‘

    فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’فی الحال تو سنی اتحاد کے ساتھ ہیں۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’فی الحال کی بات نہ کریں، آپ کے ساتھ ہیں یا نہیں۔‘

    جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ ’الیکشن کمیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل کا آئین خواتین اور غیر مسلم کو ممبر نہیں بناتا کیا یہ درست ہے؟‘

    فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’خواتین کو نہیں، غیر مسلم کی حد تک یہ پابندی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں؟ قائد اعظم کا فرمان بھی دیکھ لیں۔ کیا آپ کی پارٹی کا آئین، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں؟‘

  7. پی ٹی آئی سیاسی جماعت کا وجود رکھتی ہے تو دوسری جماعت میں شمولیت کیوں اختیار کی، چیف جسٹس قاضی فائز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی کا وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی۔

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت سوموار کے دن سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے کی۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی کا وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، یہ تو آپکے اپنے دلائل کے خلاف ہے۔

    بینچ میں شامل جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آزاد امیدار الیکشن کمیشن نے قرار دیا، الیکشن کمیشن کی رائے کا اطلاق ہم پر لازم نہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد سیاسی جماعتیں ہیں، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو سپریم کورٹ فیصلے کے سبب آزاد امیدوار قرار دیا۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ تو بہت خطرناک تشریح ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم یہ نہیں سنیں گے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے زیادتی کی، ہم آئین و قانون کے مطابق بات سنیں گے۔

    چیف جسٹس نے وکیل فیصل صدیقی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں پی ٹی آئی کے نہیں، آپ کے پی ٹی آئی کے حق میں دلائل مفاد کے ٹکراؤ میں آتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سنی اتحاد کونسل سے تو انتحابی نشان واپس نہیں لیا گیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین پر عمل نہ کر کے اس ملک کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں، میں نے آئین پر عملدرآمد کا حلف لیا ہے۔

    چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہا کہ ہم نے کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے مفاد کو نہیں آئین کو دیکھنا ہے۔