بی وائی سی رہنماؤں کی رہائی کے لیے احتجاج: دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب مارچ کی اجازت نہ دینے پر بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ شہر کی جانب مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف بلوچستان میں پیر کو بی این پی کی جانب سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔

خلاصہ

  • بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ’ریاست نے ہمیں کچلنے کا فیصلہ کر لیا ہے، مگر ہم سر جھکانے والے نہیں۔ یہ دھرنا ہر صورت جاری رہے گا اور اب ہم پورے بلوچستان کو مزاحمت کا مرکز بنائیں گے۔‘
  • بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کوئٹہ کی جانب مارچ کیا تو انھیں حراست میں لے لیا جائے گا۔
  • بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔
  • اسرائیلی کی فوج نے 23 مارچ کو جنوبی غزہ میں 15 امدادی کارکنوں کی ہلاکت کے معاملے میں اپنے سپاہیوں کی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔
  • 23 مارچ کو رفح کے نزدیک فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (پی آر سی ایس) کی ایمبیولینسوں، اقوامِ متحدہ کی ایک گاڑی اور غزہ سول ڈیفنس کے ایک آگ بھجانے والے ٹرک پر مشتمل قافلے کو اسرائیلی فوج کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
  • برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی دو اراکینِ پارلیمنٹ کو اسرائیل میں داخلے سے منع کرنے اور انھیں حراست میں لیے جانے پر اسرائیلی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ نے چین کے جوابی ٹیرف کو ’غلطی‘ قرار دیا، امریکی سٹاک مارکیٹس میں مندی جاری

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جوابی ٹیرف کے چینی اقدام پر ردعمل دیا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’چین نے غلط قدم اٹھایا۔ وہ گھبرا گیا ہے۔ وہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔‘

    امریکی سٹاک مارکیٹس میں گذشتہ روز کے بعد آج بھی مندی کا رجحان جاری ہے۔ جمعے کے روز ابتدائی طور پر نیزڈیک میں 3.3 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 3.1 فیصد اور ڈو جونز میں 2.7 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ وہ تین بڑی امریکی منڈیاں ہیں جن پر عالمی سطح پر نظر رکھی جاتی ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق نیزڈیک (وہ سٹاک مارکیٹ جہاں اکثر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ہوتی ہے) میں دستمبر کی سب سے بلند سطح کے مقابلے 20 فیصد کم قدر پر ٹریڈنگ ہو رہی ہے۔

    ادھر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی کمپنیوں میں گذشتہ ماہ کے دوران 228000 نوکریاں بڑھی ہیں اور انھوں نے اس پر مثبت ردعمل دیا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے کہا کہ ’صدر نے امریکہ میں نوکریاں لانے کے لیے وہ اقدام اٹھائے وہ موثر رہے۔‘

    دریں اثنا ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی ٹیرف پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ وہ ٹروتھ سوشل پر لکھتے ہیں کہ ’میں ان سرمایہ کاروں سے مخاطب ہوں جو امریکہ آتے ہیں اور بڑی رقوم کی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ میری پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی۔‘

    ’یہ امیر ہونے کا بہترین وقت ہے، پہلے سے کہیں زیادہ امیر۔‘

    عالمی کساد بازاری کے کیا امکانات ہیں؟

    بی بی سی کی نائب اکنامکس ایڈیٹر دھارشنی ڈیوڈ کے مطابق بظاہر ایپل اور نائیکی جیسی بڑی کمپنیوں کے اربوں ڈالر مالیت کے شیئرز اچانک حذف ہوگئے ہیں جو اس چیز کو ظاہر کرتے ہیں کہ اس معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے جہاں سے وہ پنپ رہی تھیں۔

    ویتنام اور کمبوڈیا جیسے ممالک نے حالیہ عرصے میں ثابت کیا کہ وہ سستے سامان کے لیے بہترین مقام ہیں۔ تاہم انھیں سب سے زیادہ معاشی نقصان ہونے کا امکان ہے۔

    مگر ایسا نہیں کہ عالمی کساد بازاری یقینی ہے۔ عالمی معاشی کے عالمی نظام میں تجارت صرف ایک جزو ہیں۔

    مگر اب چونکہ چین نے جوابی ٹیرف عائد کیے ہیں تو یقیناً بڑے ممالک اس سے اثرانداز ہوں گے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کئی ممالک کووڈ اور یوکرین جنگ کے نقصانات سے نمٹ رہے تھے۔

  2. پاکستان میں افغان شہریوں کی بے دخلی کے لیے کارروائیاں جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    افغان شہری، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں افغان شہریوں کی ملک سے بے دخلی کے لیے ملک گیر کارروائیاں جاری ہیں۔

    حکومتی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں افغان شہریوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی ہیں۔

    مقامی پولیس کے مطابق افغان سٹیزن کارڈ کے حامل افراد کی گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں اور 50 سے زائد افغان شہریوں کو رفیوجی کیمپ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے خاندانوں کو بھی تحویل میں لے کر کیمپ منتقل کیا جائے گا۔ اس کارڈ کے حامل افراد کو کیمپ سے افغانستان بھجوایا جائے گا۔

    حکام کے مطابق جڑواں شہروں کی پولیس کا مختلف علاقوں میں آپریشن جاری ہے اور یہ روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلا کی 31 مارچ 2025 کی ڈیڈلائن ختم ہو چکی ہے اور یکم اپریل سے ان کی بےدخلی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر 21 لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں۔

  3. چین کا امریکی مصنوعات پر جوابی 34 فیصد ٹیرف نافذ

    چین، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کا کہنا ہے کہ 10 اپریل سے امریکی مصنوعات پر اضافی 34 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

    چینی وزارت خزانہ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے چینی مصنوعات پر ٹیرف کا نفاذ ’عالمی تجارتی اصولوں کے خلاف ہے۔‘

    دوسری طرف چینی وزارت کامرس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چین نے امریکی ٹیرف کے خلاف ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر 34 فیصد ٹیرف عائد کیے ہیں۔ ان میں وہ درآمدی ٹیکس بھی شامل ہیں جو پہلے سے نافذ کیے جا چکے ہیں۔ یوں چین ٹرمپ کے عالمی ٹیرف منصوبے سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

    یورپی منڈیوں میں مندی

    ادھر چین کے اعلان کے بعد جمعے کو یورپی منڈیوں میں مندی کا رجحان جاری ہے۔ برطانیہ، جرمنی اور فرانس میں تین فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایشیائی مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

    ٹرمپ نے بدھ کو نئے ٹیرف منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹس مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ امریکی منڈیوں میں کووڈ کی عالمی وبا کے بعد سب سے بُرا دن رہا ہے۔

    تجارتی ماہرین کو خدشہ ہے کہ عالمی ٹیرف کے نفاذ سے اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں پیداوار سست روی کا شکار ہو گی۔

    دیگر ممالک کا ردعمل

    • کینیڈا نے اِن امریکی گاڑیوں پر 25 فیصد لیوی عائد کی ہے جو نارتھ امریکن فری ٹریڈ ڈیل کا حصہ نہیں
    • تائیوان نے ٹیرف سے متاثرہ صنعتوں کی حمایت کے لیے 2.7 ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا ہے
    • سپین کی حکومت نے صنعتوں کی مدد کے لیے 14.1 ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ہے
  4. خیبر پختونخوا سے افغان سیٹیرن کارڈ کے حامل افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا سلسلہ جاری, بلال احمد، بی بی سی اردو ، پشاور

    افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی

    خیبرپختونخوا سے افغان سیٹیزن کارڈ کے حامل افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں مقیم افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور غیر قانونی تارکین کی باعزت واپسی کے عمل کے تحت ہولڈنگ کیمپ لنڈی کوتل میں لگایا گیا ہے جبکہ خیبر میں لنڈی کوتل حمزہ بابا کے مزار پر بھی ہولڈنگ کیمپ قائم کیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ و قبائلی امور خیبرپختونخوا کے گزشتہ روز جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کے روز طورخم کے راستے مزید 40 افراد افغان سیٹزن کارڈ کے حامل پناہ گزین واپس بھیجے گئے۔

    اعلامیے کے مطابق مجموعی طور پر 193 افراد افغان سیٹزن کارڈ کے حامل پناہ گزین بھیجے گئے جبکہ مجموعی طور پر 4 لاکھ، 70 ہزار، 722 تارکین وطن کو بھی طورخم سرحد سے افغانستان بھیجوایا گیا ہے۔

    مجموعی طور پر پختونخوا سے 8953،اسلام آباد سے 1561 ، پنجاب سے 1309 ، آزاد کشمیر سے 38 اور سندھ سے 44 تارکین وطن کو افغانستان بھجوایا گیا ہے۔
 پشاور، خیبر پختونخوا سے مجموعی طور پر اب تک 4اکھ، 77 ہزار، 434 افراد کو افغانستان بھیجوایا گیا ہے۔

    دوسری جانب ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید نے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے اسفندیار خٹک اور ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ریٹائرڈ) بلال شاہد راؤ کے ہمراہ لنڈی کوتل میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی باعزت واپسی کے لیے لگائے گئے ہولڈنگ کیمپ کا دورہ کیا۔

    اعلامیے کے مطابق اس حوالے سے ایڈیشنل ڈی سی (ریلیف) کے ہمراہ پی ڈی ایم اے، ایف آئی اے، نادرا اور دیگر افسران نے انتظامات کا جائزہ لیا۔

    اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ نے لنڈی کوتل میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے لیے کیے گئے انتظامات، محکمہ صحت کے عملے سمیت ریسکیو 1122 کی تعیناتی، واپس آنے والے خاندانوں کی واپسی کے طریقہ کار سمیت متعلقہ سہولیات کا جائزہ لیا۔

    حکام کے مطابق ملک بھر سے افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز اور غیر قانونی تارکین لنڈی کوتل میں بنیادی سہولیات سے آراستہ کیمپ کے انعقاد کے ذریعے طورخم افغانستان جائیں گے۔

    واپسی کے عمل کی نگرانی کے لیے انعقاد کیمپ میں ضلعی انتظامیہ، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، نادرا، ایف آئی اے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر محکموں کے افسران اور عملہ تعینات کیا جائے گا۔

    افغان سیٹیزن واپسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یاد رہے کہ طورخم بارڈر کے ذریعے ملک بھر میں مقیم افغان سیٹیزن کارڈ اور غیر قانونی تارکین کی وطن واپسی 31 مارچ 2025 تک رضاکارانہ تھی۔

    31 مارچ کے بعد ملک بھر کے افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز اور غیر قانونی تارکین کو ہولڈنگ کیمپ میں رجسٹر کر کے طورخم کے راستے افغانستان بھیجا جائے گا جس کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

  5. جمہوری وطن پارٹی کے رہنما نوابزادہ گہرام بگٹی ڈیرہ بگٹی ٹاون سے گرفتار, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    جمہوری وطن پارٹی کے رہنما اور بلوچستان کے سابق وزیر نوابزادہ گہرام بگٹی کو تھری ایم پی او کے تحت ڈیرہ بگٹی ٹاون سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ نوابزادہ گہرام بگٹی نے بھی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر خواتین رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف ڈیرہ بگٹی سے کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا اور انھیں آج (چار اپریل) کو نصیر آباد کے علاقے سے کوئٹہ کے لیے لانگ مارچ شروع کرنا تھا۔

    تاہم گزشتہ شب نصیر آباد روانگی سے قبل پولیس کی نفری ڈیرہ بگٹی ٹائون پہنچی اور بگٹی ہاوس سے نکلنے کے بعد انھیں گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس حکام نے گرفتاری سے قبل انھیں ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی کا وہ حکمنامہ دکھایا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ نوابزادہ گہرام بگٹی دفعہ 144کی خلاف ورزی میں لوگوں کو غیر قانونی طور پر اکھٹا کرنے کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    تھری ایم پی او کے تحت نوابزادہ گہرام بگٹی کو 30 یوم کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم جاری کیا گیا ہے ۔

    یاد رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف چھ اپریل بروز اتوار کو مستونگ کے علاقے لک پاس سے کوئٹہ کی جانب مارچ کا اعلان کر چکے ہیں۔

  6. حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کا سات اپریل گوادر سے کوئٹہ لانگ مارچ کا اعلان, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    حق دو تحریک کے سربراہ اور رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    حق دو تحریک کے سربراہ اور رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے سات اپریل کو گوادر سے کوئٹہ کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان کے مطابق وہ یہ لانگ مارچ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے خواتین کی گرفتاری اور لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف کررہے ہیں۔

    بی بی سی سے ٹیلیفون پر رابطہ کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ گوادر سے کوئٹہ تک یہ طویل لانگ مارچ تربت اور پنجگور کے راستے کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا سنگین مسئلہ ہے۔ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے اب ان لوگوں کو گرفتار کررہی ہے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پرامن جدوجہد کرنے والی ماوں اور بہنوں کی گرفتاری ناقابل برداشت ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے دیگر مسائل بھی ہیں لیکن اس وقت ان میں لاپتہ افراد کی عدم بازیابی اور خواتین کی گرفتاری بڑے مسائل ہیں جن کے حوالے سے وہ کوئٹہ تک لانگ مارچ کریں گے۔

  7. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، انڈیکس پہلی بار 120000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک ، صحافی

    سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد انڈیکس میں 1500 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 20 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر کے 120440 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت میں کمی کو قرار دیا گیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی معیشت کے شعبے کے لیے اچھی خبر ہے جس کا اثر سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر مثبت انداز میں ہوا۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی اردو کو بتایا ملک میں بجلی کی قیمت کی کمی نے سٹاک ایکسچینج میں تیزی کو فروغ دیا تو اس کے ساتھ مارچ کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں کمی بھی معیشت کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے جس نے کاروبار میں مثبت رجحان کو فروغ دیا۔

    حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 0.70 فیصد رہی جو 59 سال کی کم ترین سطح ہے۔

  8. اسرائیل کا غزہ کے سکول میں بنے پناہ گزیں کیمپ پر حملہ، 27 افراد ہلاک متعدد زخمی: وزارت صحت, ڈیوڈ گریٹن، بی بی سی نیوز

    شمالی غزہ کے ایک سکول پر کیے جانے والے فضائی حملے میں زخمی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنال اہلی ہسپتال میں لائے جانے والے زخمیوں میں بچے بھی شامل

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے شمالی غزہ کے ایک سکول پر کیے جانے والے فضائی حملے میں کم از کم 27 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    غزہ کے شمال مشرقی حصے تفاح میں واقع سکول دار الارقم میں بے گھر خاندانوں نے پناہ لی ہوئی تھی۔ مقامی ہسپتال کے مطابق حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے غزہ سٹی میں ایک ایسے مقام پر حملہ کیا ہے جہاں ’حماس کے اہم دہشت گرد ایک کمانڈ اور کنٹرول سینٹر میں موجود تھے‘ تاہم اس بیان میں انھوں نے سکول کا ذکر نہیں کیا ہے۔

    غزہ کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 97 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل کہہ چکا ہے کہ اس نے فلسطینی علاقے کے بڑے حصوں پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی زمینی کارروائی کو وسعت دی ہے۔

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بصل نے کہا ہے کہ دار الارقم سکول پر حملے کے بعد ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

    غزہ میں  دار الارقم سکول پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشندار ارقم سکول کے قریب ہونے والے ایک دھماکے کے بعد کے مناظر

    حاملہ خاتون، ان کے شوہر، بہن اور تین بچے لاپتہ: غزہ کی وزارت صحت کا دعویٰ

    غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان نے مزید کہا کہ اس حملے کے بعد سے ایک حاملہ خاتون، ان کا شوہر، بہن اور تین بچے بھی تاحال لاپتہ ہیں۔

    دوسری جانب قریبی ہسپتال ال اہلی سے ملنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زخمی بچوں کو گاڑیوں اور ٹرکوں میں شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔

    اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ غزہ شہر میں جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہاں سے حماس کے جنگجوؤں کے ذریعے اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ جمعرات کی صبح اسرائیلی فوج نے شیجائیہ اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والوں کو فوری طور پر مغربی غزہ سٹی منتقل ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ’پوری طاقت کے ساتھ دہشت گردانہ ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔‘

    آئی ڈی ایف نے رواں ہفتے شمالی غزہ کے کئی علاقوں، جنوبی شہر رفح اور قریبی واقع خان یونس کے کچھ حصوں کے لیے بھی اسی طرح کے انخلا کے احکامات جاری کیے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق ان احکامات کے باعث تقریباً ایک لااکھ فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

  9. ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف اختر مینگل کا چھ اپریل کو مارچ کا اعلان, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف چھ اپریل بروز اتوار کو مستونگ کے علاقے لک پاس سے کوئٹہ کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے۔

    جمعرات کی شام دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس بیابان میں ہماری بات نہیں سن رہی، اس لیے اب کوئٹہ جا کر ان سے بات ہوگی۔

    دوسری جانب حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے دھرنے کے شرکا کو روکنے کے لیے کوئٹہ آنے والی تمام شاہراہوں اور راستوں پر مزید رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    ان رکاوٹوں کی وجہ سے عام عوام کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوام کے تحفظ کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ بی وائی سی کی خواتین کی رہائی کے حوالے سے ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کوئٹہ کی جانب مارچ کا اعلان سردار اخترمینگل نے مطالبے کو منوانے کے لیے دو روز کی ملہت کا اعلان کیا تھا۔

    کارکنوں کو جہاں بھی روکا گیا وہ وہاں دھرنا دیں: سردار اختر مینگل

    اختر مینگل نے پارٹی کارکنوں کو پانچ اپریل کو لک پاس پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کو جہاں بھی روکا گیا، وہ وہاں دھرنا دیں۔

    انھوں نے متنبہ کیا کہ ’اگر حکومت نے ہمیں راستہ نہیں دیا تو ہم اپنا راستہ خود بنائیں گے اور اگر چھ اپریل کو لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش کی تو تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔‘

    کوئٹہ آنے والی شاہراہوں اور راستوں پر مزید رکاوٹیں

    رکاوٹیں

    ایک جانب جہاں دھرنے کے شرکا کوئٹہ کی جانب آنے کے لیے بضد ہیں وہاں حکومت کا تاحال فیصلہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ نہیں آنے دے گی۔

    دھرنے کے شرکا اس وقت کوئٹہ سے اندازاً 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں ضلع مستونگ کے علاقے لک پاس کے علاقے کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان ہائی وے کے سنگم پر موجود ہیں۔

    جمعے کے روز دھرنے کے شرکا کی خضدار سے روانگی کے ساتھ انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ کراچی ہائی وے پر لکپاس ٹنل کے اندر رکاوٹیں کھڑی کر کے اس کو بند کیا جبکہ لک پاس سے پرانی شاہراہ پر رکاوٹوں کے علاوہ دشت اور کانک سے براستہ نوحصار کوئٹہ آنے کے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔

    جب لانگ مارچ کے شرکا نے لک پاس پر دھرنا دیا تو لک پاس ٹنل کو بدستور بند رکھا گیا لیکن باقی متبادل راستوں سے کسی حد تک لوگوں کو آمدورفت کی اجازت دی گئی مگر گزشتہ دو روز سے کوئٹہ آنے والی تمام شاہراہوں اور راستوں پر رکاوٹوں میں اضافہ کر دیا گیا۔

    رکاوٹیں

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    اس سلسلے میں تعمیراتی مشینوں کے زریعے بڑے بڑے گڑھے بھی بنائے جا رہے ہیں۔ ان رکاوٹوں کی وجہ سے عام لوگوں کو کوئٹہ اور دیگر شہروں کے درمیان آمدورفت کے حوالے سے پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ یہ رکاوٹیں دھرنے کی وجہ سے کھڑی کردی گئی ہیں اور یہ اقدام عوام کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

    دوسری جانب حکومت بلوچستان نے مستونگ کے ڈپٹی کمشنر ذوہیب کبزئی کو تبدیل کرکے ان کی جگہ پر کیپٹن ریٹائرڈ راجہ اطہر عباس کو مستونگ کا نیا ڈپٹی کمشنر مقرر کیا ہے۔

    اگرچہ صرف چند ہفتے بعد ڈپٹی کمشنر کے تبادلے کی وجوہات نہیں بتائی گئی ہیں تاہم گزشتہ ماہ تقریب میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ جو بھی ڈپٹی کمشنر شاہراہوں کو کھولنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا تو وہ اپنے عہدے پر نہیں رہے گا۔

  10. انڈیا میں مسلمانوں کی طرف سے عطیہ کی گئی وقف اراضی سے متعلق متنازع بِل منظور

    انڈیا احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین پارلیمان کے ایوان زیریں نے ایک متنازع بِل منظور کیا ہے جس کے تحت صدیوں سے مسلمانوں کی طرف سے عطیہ کی جانے والی اربوں ڈالروں کی جائیدادوں کا نظام تبدیل ہو جائے گا۔

    لوک سبھا میں بدھ کو 12 گھنٹوں کی بحث کے بعد وقف ترمیمی بل 2024 کو 232 کے مقابلے 288 ارکان کی حمایت سے منظور کیا گیا۔ اب راجیہ سبھا میں اس پر مزید مشاورت ہوگی جہاں سے منظوری کے بعد صدر کے دستخط سے یہ قانون بن سکتا ہے

    حکومت کا کہنا ہے کہ بِل کا مقصد وقف کے نظام میں شفافیت لانا ہے۔ تاہم حزب اختلاف اور مسلم گروہوں نے اسے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے آئینی حق کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    وقف بِل پر اعتراض کیوں؟

    یہ بِل گذشتہ سال اگست میں پیش کیا گیا تھا مگر اپوزیشن کے احتجاج کے باعث اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا گیا۔ بِل کا جو مسودہ منظور ہوا ہے اس میں وہ تبدیلیاں نہیں کی گئیں جو اپوزیشن ارکان نے تجویز کی تھیں۔

    لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’یہ آئین پر حملہ ہے۔ آج مسلمان نشانے پر ہیں، کل کوئی اور برادری نشانہ بن سکتی ہے۔‘

    کئی مسلم تنظیمیں اس ترمیم شدہ وقف بِل کو چیلنج کرنے کی حکمت عملی بنا رہی ہیں۔

    وقف ترمیمی بل پر سپریم کورٹ کے وکیل فضل احمد ایوبی کا کہنا ہے کہ وقف اراضی حکومت کی نہیں ہے بلکہ یہ عطیہ کردہ اراضی ہے جو لوگوں نے اپنی جائیداد سے عطیہ کی تھی۔ ان کے بقول حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ جیسے وقف نے سرکاری زمین پر قبضہ کر لیا ہو۔

    لوک سبھا میں اس بل پر بحث کے دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن پر الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ یا تو بے گناہی سے یا سیاسی وجوہات کی بنا پر ارکان کے ذہنوں میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں اور انھیں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘

    ’کچھ لوگ یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ یہ ایکٹ مسلم کمیونٹی کے مذہبی حقوق اور املاک میں مداخلت کرے گا۔ یہ مکمل طور پر غلط ہے اور اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے کی محض ایک سازش ہے تاکہ انھیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔‘

    تاہم مسلم گروہوں کا کہنا ہے کہ اس بِل کا مقصد وقف قوانین کو کمزور کرنا اور وقف کی اراضی پر قبضہ کر کے انھیں منہدم کرنا ہے۔

    وقف بِل میں کیا ہے؟

    وقف املاک میں مساجد، مدارس، شیلٹر ہوم اور مسلمانوں کی طرف سے عطیہ کردہ ہزاروں ایکڑ اراضی شامل ہے جو وقف بورڈ کے زیر انتظام ہیں۔ ان میں سے کچھ جائیدادیں خالی پڑی ہیں جبکہ دیگر پر تجاوزات ہیں۔

    اسلامی روایت میں وقف ایک خیراتی یا مذہبی عطیہ ہے جو مسلمانوں کی طرف سے کمیونٹی کے فائدے کے لیے دیا جاتا ہے۔ ایسی جائیدادیں کسی دوسرے مقصد کے لیے فروخت یا استعمال نہیں کی جا سکتی ہیں، یعنی یہ وقف جائیدادیں خدا کی ہیں۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ انڈیا کے سب سے بڑے زمینداروں میں سے ہیں۔ انڈیا بھر میں کم از کم 872,351 وقف جائیدادیں ہیں، جو 940,000 ایکڑ سے زیادہ پر پھیلی ہوئی ہیں اور ان کی 1.2 ٹریلین روپے مالیت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    بل کے مخالفین کی طرف سے ایک بڑی تنقید یہ ہے کہ یہ حکومت کو ان اوقاف کے انتظام کو منظم کرنے اور اس بات کا تعین کرنے کا غیر ضروری اختیار دیتا ہے کہ آیا کوئی جائیداد ’وقف‘ کے طور پر اہل ہے یا نہیں۔

    اس بل میں دو غیر مسلم ممبران کو وقف بورڈ میں شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے جو ان جائیدادوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ ناقدین نے اس شق کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر مسلموں کے زیر انتظام زیادہ تر مذہبی ادارے اپنی انتظامیہ میں دوسرے عقائد کے پیروکاروں کو اجازت نہیں دیتے۔

  11. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبروں کا خلاصہ شامل کر رہے ہیں۔

    امریکی سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر کے کئی ممالک پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد ملک کی اپنی سٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ابتدائی گھنٹوں کے دوران سٹاک مارکیٹ انڈیکس ڈو جونز میں 2.8 فیصد، ایس اینڈ پی میں 3.3 فیصد اور نیزڈیک (جہاں اکثر ٹیکنالوجی کمپنیاں لسٹڈ ہیں) میں 4.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ شیئر کی قدر دن کے دوران واپس بحال ہو سکتی ہے، یعنی یہ تبدیلی مستقل نہیں ہوتی۔

    برطانیہ کی جوابی ٹیرف عائد کرنے کے لیے امریکی مصنوعات کی فہرست

    دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد برطانیہ نے اِن امریکی مصنوعات کی فہرست تیار کی ہے جن پر جوابی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ 417 صفحات پر مشتمل فہرست پر کسی چیز کے ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس پر ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ یاد رہے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد ممالک سے امریکہ میں درآمد ہونے والی اشیا پر نئے ٹیرف (ٹیکس) کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔

    پاکستان میں گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے ایک پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7.41 روپے فی یونٹ جبکہ صنعتی صارفین کے لیے 7.69 روپے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد پاکستان میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 34 روپے فی یونٹ ہوگی۔

    امریکی صدر کا اعلان کردہ ٹیرف بلیک میلنگ ہے، چین

    چینی حکام اور ملکی میڈیا نے ٹرمپ کی جانب سے مزید ٹیرف کے اعلان کی مذمت کی ہے۔ گلوبل ٹائمز نے اپنے ایک تجزیے میں امریکی صدر کے اعلان کو ٹیرف ’بلیک میلنگ‘ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب چینی وزارت برائے کامرس نے امریکی ٹیرف کی مذمت کی ہے اور جوابی اقدامات کا کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ ثابت ہوا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے نے اس کے اپنے مسائل کو حل نہیں کیا۔

  12. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    اس صفحے پر ہم پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی خبروں اور تازہ ترین تجزیوں کو آپ کے لیے شامل کریں گے۔ تاہم اگر آپ تین اپریل کی خبروں سے متعلق کچھ جاننا چاہیں تو ہمارے اس لنک پر کلک کریں۔