خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 323 ہو گئی، بونیر میں 217 ہلاکتیں

قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں کل 323 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں سے 217 کا تعلق بونیر سے ہے۔ جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ 134 لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے گھروں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ انھوں نے ضلع کے لیے ڈیڑھ ارب روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

خلاصہ

  • خیبر پختونخوا کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 323 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے صرف 217 کا تعلق ضلع بونیر ہے۔
  • وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب سے تباہی اور شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔
  • صوبائی حکومت نے متاثرہ اضلاع کے لیے 800 ملین روپے امدادی فنڈ جاری کیا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر کو 500 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں۔
  • نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں کے لیے شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. آپریشن سندور کے بعد پاکستان کی نیند اُڑی ہوئی ہے، انڈیا کی ندیوں کا پانی دشمن کے کھیت سینچ رہا ہے: نریندر مودی کا خطاب, شکیل اختر، بی بی سی اُردو، دلی

    مودی

    ،تصویر کا ذریعہDDNEWS

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ ’غیر منصفانہ اور یکطرفہ‘ تھا۔

    جمعہ کو انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر دلی کے لال قلعے میں خطاب کرتے ہوئے انڈین وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس معاہدے نے گذشتہ سات عشروں کے دوران انڈیا کے کسانوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ 'انڈیا کی ندیوں کا پانی دشمن کے کھیت سینچ رہا ہے اور ہماری دھرتی پیاسی ہے۔ ہندوستان کے حق کا جو پانی ہے اس پر حق صرف اور صرف ہندوستان کا ہے، ہندوستان کے کسانوں کا ہے۔ یہ اب اور نہیں سہا جائے گا۔ کسانوں کے مفاد میں یہ سمجھوتہ ہمیں منظور نہیں۔'

    مودی نے اپنے خطاب کے آغاز میں انڈیا کی فوج کی ستائش کرتے ہوئے 'آپریشن سندور' کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ’انڈیا کے بہادر فوجیوں نے دشمن کو ایسی سزا دی ہے جو اس کے گمان میں بھی نہیں تھی۔‘

    انھوں کہا کہ 'ہماری فوج نے وہ کر دکھایا جو عشروں سے نہیں ہوا تھا۔ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو کھنڈر بنا دیا گیا۔ پاکستان کی ننیند اڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں اتنی بڑی تباہی ہوئی ہے کہ وہاں سے ہر روز نئے نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انڈیا نے طے کر لیا ہے کہ وہ جوہری دھمکیوں کے آگے جھکنے والا نہیں ہے۔ نیو کلیئر بلیک میل ایک عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ انڈیا اب اسے مزید نہیں سہے گا۔ اگر دشمن نے پھر ایسی ( پہلگام جیسی) حرکت کی تو فوج اس کا اپنے طریقے سے منھ توڑ جواب دے گی۔‘

  2. ’تسلیم کرنے کے لیے کوئی ریاست نہیں ہوگی‘: اسرائیلی وزیر خزانہ کی فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کرنے کی دھمکی

    وزیر خزانہ بیزل سموٹریچ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزل سموٹریچ نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک متنازع آبادکاری منصوبے کے تحت تین ہزار سے زائد گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ ’فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کر دے گا۔‘

    یروشلم اور مالے ادومیم بستی کے درمیان نام نہاد ای ون منصوبہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی سطح پر شدید مخالفت کی وجہ سے منجمد ہے۔ وہاں کی تعمیر سے مغربی کنارے کا مقبوضہ مشرقی یروشلم سے رابطہ منقطع ہو جائے گا۔

    سموٹریچ نے کہا کہ وہ فلسطینی ریاست کے تصور کو ناکام بنا دے گا کیونکہ ’تسلیم کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تسلیم کرنے والا ہے۔‘

    بین الاقوامی قانون کے تحت بستیوں کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے اور یہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک ہے۔

    اسرائیل کی آبادکاری کے مخالف گروپ پیس ناؤ کے مطابق مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تقریبا 160 بستیوں میں تقریبا سات لاکھ آباد کار رہتے ہیں۔

    یہ وہ سرزمین ہے جس کے لیے فلسطینی مستقبل کی آزاد ریاست کے خواہاں ہیں۔

    بیزل سموٹریچ نے کہا کہ ’کئی دہائیوں کے بین الاقوامی دباؤ اور منجمد ہونے کے بعد ہم کنونشنز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مالے ادومیم کو یروشلم سے جوڑ رہے ہیں۔یہ صیہونیت کی بہترین مثال ہے، اسرائیل کی سرزمین پر ہماری خودمختاری کی تعمیر، آبادکاری اور استحکام کے لیے۔‘

    حالیہ دنوں میں متعدد ممالک کی جانب سے آنے والے مہینوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ارادے کے اعلانات سامنے آئے ہیں جن کی اسرائیل نے مذمت کی ہے۔

    آبادکار تنظیم یشا کونسل کے چیئرمین اسرائیل گینز اور مالے ادومیم کے میئر گائی یفراچ کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے سموٹریچ نے کہا کہ یہ زمین خدا نے یہودیوں کو دی تھی۔

    بی بی سی کی جانب سے جب ان سے پوچھا گیا کہ اس منصوبے سے برطانیہ اور فرانس کو کیا پیغام جائے گا، جو اس سال کے آخر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہونے جا رہا۔ تسلیم کرنے کے لیے کوئی ریاست نہیں ہوگی۔‘

    اس اقدام کے جواب میں امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ ’ایک مستحکم مغربی کنارہ اسرائیل کو محفوظ رکھتا ہے اور یہ خطے میں امن کے حصول کے لیے اس انتظامیہ کے ہدف کے عین مطابق ہے۔‘

    لیکن اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر پیش رفت نہ کرے۔

    مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تقریبا 160 بستیوں میں تقریبا سات لاکھ آباد کار رہتے ہیں

    ایک ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین کسی بھی علاقائی تبدیلی کو مسترد کرتی ہے جو متعلقہ فریقوں کے مابین سیاسی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ اس تجویز کو روکا جانا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ اسرائیلی حکومت کے ای ون آبادکاری منصوبوں کی سخت مخالفت کرتا ہے جو مستقبل کی فلسطینی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرے گا اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘

    اسرائیلی این جی او پیس ناؤ کا کہنا ہے کہ نتن یاہو کی حکومت مغربی کنارے کے الحاق کو مزید گہرا کرنے اور دو ریاستی حل کے امکان کو روکنے کے لیے ہمہ وقت کوشش کر رہی ہے۔

    اس نے کہا کہ ’آج یہ بات سب پر واضح ہے کہ تنازعے کا واحد حل اور حماس کو شکست دینے کا واحد راستہ اسرائیل کے شانہ بشانہ فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ اسرائیلی حکومت مسلسل خونریزی کر رہی ہے بجائے اس کے کہ اسے ختم کرے۔‘

    فلسطینی وزارت خارجہ نے نئے آبادکاری منصوبے کو ’نسل کشی، نقل مکانی اور الحاق کے جرائم کی توسیع‘ قرار دیا ہے۔ ’

    اسرائیل طویل عرصے سے اس طرح کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے لیکن اسرائیل میں انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیموں نے دلیل دی ہے کہ غزہ کی جنگ میں ملک کا طرز عمل فلسطینی آبادی کے خلاف نسل کشی کے مترادف ہے۔

    مقبوضہ مغربی بان میں ’فلسطینی برادریوں کے خلاف بار بار تشدد بھڑکانے‘ پر جون میں برطانیہ نے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر اور سموٹریچ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

  3. بریکنگ, خیبر پختوخوا کے علاقے باجوڑ میں کلاؤڈ برسٹ سے آٹھ افراد ہلاک، 17 لاپتہ

    ریسکیو 1122

    ،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ میں مختلف مقامات پر بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں سے جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق باجوڑ کی تحصیل سلارزئی کے گاؤں جبراڑئی میں شدید بارش (کلاؤڈ برسٹ) کے نتیجے میں سیلابی ریلے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ریسکیو اہلکاروں نے مقامی افراد کے تعاون سے اب تک آٹھ لاشوں اور چار زخمیوں کو ملبے اور پانی سے نکال لیا ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باجوڑ امجد خان کی نگرانی میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    مقامی افراد کے مطابق اب بھی تقریباً 17 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔

    باجوڑ

    ،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122

  4. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ اور ندی نالوں میں طغیانی سے آٹھ افراد ہلاک, نصیر چوہدری، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف مقامات پر بارشوں کے باعث ندی نالوں میں شدید تغیانی اور کلاوڈ برسٹ کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر پٹہکہ کے مطابق وادی کوٹلہ میں کلاوڈ برسٹ کے نتیجے میں ایک ہی گھر کے چھ افراد دب گئےجن کی تلاش جاری ہے۔ اس کے علاوہ، کلاؤڈ برسٹ کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں مزید تین مکان بھی آئے ہیں۔

    ریسکیو ادارے اور پولیس متاثرین کی تلاش اور ریسکیو کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ایس ڈی ایم کے مطابق، پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اندر مجموعی طور پر جمعرات کو چار گھر، چھ دوکانیں اور ایک مرکزی پل اور چار چھوٹے رابط پل تباہ ہوئے ہیں۔ جن میں ضلع مظفرآباد کے مچھیارہ نالے میں تین دوکانیں، ایک پن چکی اور ایک مرکزی پل اور ایک چھوٹا رابط پل تباہ ہوئے۔

    ضلع سدھنوتی میں ایک بھی خاتون سیلابی ریلے کی زد میں آ کر ہلاک ہوئیں جبکہ ایک خاتون زخمی ہیں۔ ضلع باغ میں ایک خاتون ہلاک ہوئیں جبکہ تین سیاحوں کو ریسکیو کیا گیا جن کی گاڑی سیلابی نالے میں بہہ گئی۔

    ضلع نیلم کے سیاحتی مقام رتی گلی میں پھنسے 50 سیاحوں کو بھی ریسکیو کیا گیا ہے۔ رابطہ سڑک بند ہونے کی وجہ سے 60 سیاح تاحال وہاں تاحال پھنسے ہوئے ہیں۔ ان افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے ریسکیو اور انتظامیہ کی ٹیمیں کوثشش کر رہی ہیں۔

  5. بریکنگ, انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے 45 افراد ہلاک، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے بھاری نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ماجد جہانگیر نے کشتواڑ کے ڈی سی پنکج شرما کے حوالے سے 45 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    کشتواڑ ڈسٹرکٹ ہسپتال کے سی ایم او راجندر کمار نے بتایا کہ اب تک 35 لاشیں پہنچی ہیں جن میں سے 11 کی شناخت کر لی گئی ہے۔

    خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق موقع پر سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ یہ جگہ مچیل ماتا یاترا کا نقطہ آغاز ہے۔ ڈپٹی کمشنر پنکج شرما کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر بھیج دی گئی ہیں۔

    کشتواڑ کے ڈی سی آفس نے بی بی سی کو بتایا کہ کم از کم 70 افراد کو ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلی سریندر چودھری نے کہا ہے کہ کشتواڑ کے چشوتی علاقے میں بادل پھٹنے کے واقعہ میں تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    انڈین فوج کے اہلکار امداری کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ مرکزی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ اضافی امدادی ٹیموں کو جائے حادثہ تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

    یہ بھی پڑھیے :

    انھوں نے ایکس پر لکھا ’سڑکیں بہہ گئی ہیں اور موسم اتنا خراب ہے کہ ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ میں مرکز کے ساتھ رابطہ کر رہا ہوں۔‘

    مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ راحت اور بچاؤ کام مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار ماجد جہانگیر نے بتایا ہے کہ ’پورے جموں خطے میں شدید بارش ہوئی۔ راجوری اور پونچھ سمیت جموں کے کئی علاقوں میں سکول اور کالج بند کر دیے گئے۔ انتظامیہ نے راجوری اور پونچھ کے لیے شدید بارش کی وارننگ جاری کی تھی۔ اس میں پیر پنجال کا علاقہ بھی شامل تھا۔‘

    خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیوز میں امدادی کارکنان کو مٹی سے بڑے پتھر ہٹاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

  6. جمعرات کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں پاکستان کو اپنے بیانات میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ جمعرات کو انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’ہم نے پاکستانی قیادت کی جانب سے انڈیا کے خلاف جنگی جنون اور نفرت انگیز تبصروں کے تسلسل کے بارے میں رپورٹس دیکھی ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بار بار انڈیا مخالف بیان بازی کرنا پاکستانی قیادت کا طریقہ کار سب کو معلوم ہے۔‘
    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مسلح شدت پسندوں نے تین مختلف اضلاع میں پولیس اہلکاروں پر حملے کیے ہیں جس میں ایڈیشنل ایس ایچ سمیت چھ اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔
    • انڈیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن‘ کے تحت چار نئے سیمی کنڈکٹر فیکٹریوں کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے جسے الیکٹرانکس اور چِپ کی پیداوار میں خود انحصاری کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبے انڈیا کو عالمی سیمی کنڈکٹر مرکز بنانے کی قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ملک میں چِپ ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کا نظام قائم کرنا، درآمدات پر انحصار کم کرنا، اور ٹیلی کام، آٹو انڈسٹری اور دفاع جیسے اہم شعبوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔
    • امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن انڈیا پر مزید محصولات عائد کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ جمعے کے روز امریکی ریاست الاسکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
    • ایسے وقت میں جب غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کا بحران انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے، سو سے زائد امدادی تنظیموں نے ایک مشترکہ خط پر دستخط کیے ہیں جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں ’امداد کا بطورِ ہتھیار استعمال‘ بند کرے۔ امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا جا رہا ہے کہ جب تک کہ وہ سخت اسرائیلی ضوابط کی تعمیل نہیں کرتے، انھیں امداد پہنچانے کی اجازت نہیں ہوگی۔