اسرائیل
کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزل سموٹریچ نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے
میں ایک متنازع آبادکاری منصوبے کے تحت تین ہزار سے زائد گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ
’فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کر دے گا۔‘
یروشلم
اور مالے ادومیم بستی کے درمیان نام نہاد ای ون منصوبہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی
سطح پر شدید مخالفت کی وجہ سے منجمد ہے۔ وہاں کی تعمیر سے مغربی کنارے کا مقبوضہ مشرقی
یروشلم سے رابطہ منقطع ہو جائے گا۔
سموٹریچ
نے کہا کہ وہ فلسطینی ریاست کے تصور کو ناکام بنا دے گا کیونکہ ’تسلیم کرنے کے لیے
کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تسلیم کرنے والا ہے۔‘
بین الاقوامی
قانون کے تحت بستیوں کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے اور یہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے
درمیان سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک ہے۔
اسرائیل
کی آبادکاری کے مخالف گروپ پیس ناؤ کے مطابق مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تقریبا
160 بستیوں
میں تقریبا سات لاکھ آباد کار رہتے ہیں۔
یہ وہ سرزمین
ہے جس کے لیے فلسطینی مستقبل کی آزاد ریاست کے خواہاں ہیں۔
بیزل سموٹریچ
نے کہا کہ ’کئی دہائیوں کے بین الاقوامی دباؤ اور منجمد ہونے کے بعد ہم کنونشنز کی
خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مالے ادومیم کو یروشلم سے جوڑ رہے ہیں۔یہ صیہونیت کی بہترین
مثال ہے، اسرائیل کی سرزمین پر ہماری خودمختاری کی تعمیر، آبادکاری اور استحکام کے
لیے۔‘
حالیہ دنوں
میں متعدد ممالک کی جانب سے آنے والے مہینوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ارادے
کے اعلانات سامنے آئے ہیں جن کی اسرائیل نے مذمت کی ہے۔
آبادکار
تنظیم یشا کونسل کے چیئرمین اسرائیل گینز اور مالے ادومیم کے میئر گائی یفراچ کے ساتھ
ایک نیوز کانفرنس میں اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے سموٹریچ نے کہا کہ یہ زمین خدا
نے یہودیوں کو دی تھی۔
بی بی سی
کی جانب سے جب ان سے پوچھا گیا کہ اس منصوبے سے برطانیہ اور فرانس کو کیا پیغام جائے
گا، جو اس سال کے آخر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ان کا
کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہونے جا رہا۔ تسلیم کرنے کے لیے کوئی ریاست نہیں ہوگی۔‘
اس اقدام
کے جواب میں امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ ’ایک مستحکم مغربی کنارہ اسرائیل
کو محفوظ رکھتا ہے اور یہ خطے میں امن کے حصول کے لیے اس انتظامیہ کے ہدف کے عین مطابق
ہے۔‘
لیکن اقوام
متحدہ اور یورپی یونین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر پیش رفت نہ کرے۔
ایک ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین کسی بھی علاقائی تبدیلی کو مسترد کرتی ہے جو متعلقہ فریقوں کے مابین سیاسی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ اس تجویز کو روکا جانا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ اسرائیلی حکومت کے ای ون آبادکاری منصوبوں کی سخت مخالفت کرتا ہے جو مستقبل کی فلسطینی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرے گا اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘
اسرائیلی این جی او پیس ناؤ کا کہنا ہے کہ نتن یاہو کی حکومت مغربی کنارے کے الحاق کو مزید گہرا کرنے اور دو ریاستی حل کے امکان کو روکنے کے لیے ہمہ وقت کوشش کر رہی ہے۔
اس نے کہا کہ ’آج یہ بات سب پر واضح ہے کہ تنازعے کا واحد حل اور حماس کو شکست دینے کا واحد راستہ اسرائیل کے شانہ بشانہ فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ اسرائیلی حکومت مسلسل خونریزی کر رہی ہے بجائے اس کے کہ اسے ختم کرے۔‘
فلسطینی وزارت خارجہ نے نئے آبادکاری منصوبے کو ’نسل کشی، نقل مکانی اور الحاق کے جرائم کی توسیع‘ قرار دیا ہے۔ ’
اسرائیل طویل عرصے سے اس طرح کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے لیکن اسرائیل میں انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیموں نے دلیل دی ہے کہ غزہ کی جنگ میں ملک کا طرز عمل فلسطینی آبادی کے خلاف نسل کشی کے مترادف ہے۔
مقبوضہ مغربی بان میں ’فلسطینی برادریوں کے خلاف بار بار تشدد بھڑکانے‘ پر جون میں برطانیہ نے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر اور سموٹریچ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔