پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا
کے مختلف علاقوں میں جمعرات کو بادل پھٹنے اور مون سون کی بارشوں کے باعث آنے والے
سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر کم از کم 43 افراد ہلاک اور درجنوں
لاپتہ ہو گئے ہیں۔
قدرتی
آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق یہ حادثات باجوڑ، بٹگرام، سوات،
بونیر، تورغر، مانسہرہ اور شانگلہ میں پیش آئے اور ہلاک شدگان میں 33 مرد، دو خواتین
اور آٹھ بچے شامل ہیں۔
حکام
کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان ضلع باجوڑ میں ہوا جہاں تحصیل سالارزئی میں بادل پھٹنے
اور آسمانی بجلی گرنے سے 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تفصیلات
کے مطابق سالارزئی کے علاقہ جبراڑئی میں جمعرات کی رات تقریباً 12 بجے بادل پھٹنے اور
آسمانی بجلی گرنے سے چار مکان تباہ ہوئے اور مقامی لوگوں کے مطابق حادثے میں 25 افراد
ملبے تلے دب گئے جنھیں نکالنے کے لیے مقامی لوگوں نے امدادی کاروائیاں شروع کیں۔
ریسکیو
1122 کی ٹیمیں بھی رات کے وقت جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں تاہم پانی کا بہاؤ تیز اور بلند
ہونے کی وجہ سے ریسکیو کی مشینری کو پہنچنے میں کافی مشکل پیش آئی۔
ڈپٹی
کمشنر باجوڑ شاہد علی نے بتایا کہ اب تک 18 افراد کی لاشیں
نکالی گئی ہیں جبکہ تین افراد کی تلاش جاری ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والے تین افراد کو علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار منتقل کیا
گیا جن میں سے ایک کو تشویشناک حالت میں پشاور لے جایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ مزید لاشوں کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں
اور مقامی لوگوں کے مطابق متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
حکام
کا کہنا ہے کہ باجوڑ کے بعد سب سے متاثرہ ضلع بٹگرام ہے جہاں سیلابی ریلے کی زد میں
آ کر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہو گئی ہے جبکہ نیل بند نامی علاقے میں سیلابی
ریلے کی زد آنے والے مزید 18 افراد کی تلاش جاری ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر بٹگرام سلیم خان کے مطابق نیل بند گاؤں، جو ضلع بٹگرام اور مانسہرہ کی سرحد پر واقع ہے، وہاں گزشتہ رات آسمانی بجلی گرنے سے پانچ مکانات تباہ ہوگئے، جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ شملائی مندروالی کے مقام سے اب تک 10 لاشیں نالے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
لوئر دیر میں بھی بارشوں اور سیلابی ریلے کے باعث بچوں اور خواتین سمیت کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے اب تک ملبے سے پانچ لاشیں اور چار زخمیوں کو نکال لیا ہے۔
خیبر پختوخواہ کے ہی ضلع مانسہرہ میں ایک کار سیلابی ریلے میں بہہ گئی جس میں سوار تین افراد کو زندہ بچا لیا گیا تاہم دو افراد ہلاک ہو گئے۔
پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث اب تک مجموعی طور پر 30 گھر وں کو نقصان پہنچا جن میں سے پانچ مکانات منہدم ہو گئے جبکہ 25 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں پی ڈی ایم اے کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں كے دوران ہونے والی بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مختلف اضلاع میں مرنے والوں میں 33 مرد، 2 خواتین اور 8 بچے شامل جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔
محکمے کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث اب تک کی مجموعی طور پر 30 گھر وں کو نقصان پہنچا۔ جس میں 25 گھروں کو جزوی نقصان ہوا تاہم پانچ گھر مکمل منہدم ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تفصیل کے مطابق یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں اور فلیش فلڈ كے باعث سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع باجوڑ اور بٹگرام ہیں جہاں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
بیان میں خبر دار کیا گیا ہے کہ شدید بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متاثر اضلاع میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق محکمے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے۔