آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 323 ہو گئی، بونیر میں 217 ہلاکتیں

قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں کل 323 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں سے 217 کا تعلق بونیر سے ہے۔ جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ 134 لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے گھروں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ انھوں نے ضلع کے لیے ڈیڑھ ارب روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

خلاصہ

  • خیبر پختونخوا کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 323 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے صرف 217 کا تعلق ضلع بونیر ہے۔
  • وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب سے تباہی اور شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔
  • صوبائی حکومت نے متاثرہ اضلاع کے لیے 800 ملین روپے امدادی فنڈ جاری کیا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر کو 500 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں۔
  • نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں کے لیے شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے ہلاکت خیز تباہی, رپورٹنگ: عزیزاللہ خان، فلمنگ اور ایڈیٹنگ: بلال احمد

    خیبرپختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں جمعرات کو ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے۔

    حکام کے مطابق بونیر سمیت متعدد اضلاع میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

  2. شہباز شریف کی خیبرپختونخوا میں ریسکیو و امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایات، علی امین گنڈاپور کو بھی تعاون کی یقین دہانی

    ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کی صورتحال کے جائزے کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے ملک کے بالائی حصوں میں کلاؤڈ برسٹ، فلیش فلڈز سے ہونے والے نقصانات اور ریسکیو و ریلیف آپریشن پر بریفنگ دی ہے۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق شہباز شریف نے این ڈی ایم اے کو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور پی ڈی ایم اے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے، ریسکیو و ریلیف آپریشن میں تمام تر تعاون فراہم کرنے اور تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایات کی ہیں۔

    وزیرِ اعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کو خیبر پختونخوا کی حکومت سے ریسکیو و امدادی سرگرمیوں کے لیے رابطے مزید مربوط کرنے کی ہدایت کی ہے اور خیبر پختونخوا حکومت کو خیمے، ادویات، اشیا خورنوش اور دیگر امدادی سامان فوری پہنچانے کے احکامات دیے ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا ہے کہ امدادی سامان کو ٹرکوں کے ذریعے ترجیحی بنیادوں پر اور فوری بھیجا جائے.

    اعلامیے کےمطابق وزیرِ اعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں و سیاحوں کو فوری محفوظ مقامات پر پہنچا نے کی ہدایات کی ہیں۔

    وزیرِ اعظم کا وزیر اعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا سے ٹیلی فونک رابطہ

    اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈز کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے جانے پر اظہار افسوس کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کو یقین دہانی کروائی کروائی کہ این ڈی ایم اے صوبائی حکومت کی ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں ہر قسم کی معاونت کرے گی۔

    اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی ہر قسم کی مدد کرے گی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہماری تمام تر ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔

  3. خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے 189 افراد ہلاک، باجوڑ اور بٹگرام سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع: پی ڈی ایم اے

    خیبر پختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نے چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کےباعث جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق گزشتہ روز سے اب تک بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 189 فراد ہلاک اور21 زخمی ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 163 مرد، 14 خواتین اور 12 بچے شامل جبکہ زخمیوں میں 18 مرد، دو خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔

    یاد رہے اس سے قبل صحافی زبیر خان سے بات کرتے ہوئے امدادی ادارے ریسکیو 1122 نے بتایا تھا کہ ضلع بونیر میں بارشوں اور کاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے کم از کم 157 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر بونیر کے دفتر کے مطابق 78 لاشیں ہسپتالوں میں لائی گئی ہیں جبکہ کئی علاقوں سے لاشوں کو ہسپتالوں میں نہیں پہنچایا جا سکا۔

    بارشوں کی تباہی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع

    پی ڈی ایم اے کے مطابق یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔

    ادارے نے تیز بارشوں اور فلش فلڈ كے باعث سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع باجوڑ اور بٹگرام کو قرار دیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلع باجوڑ اور بونیر کے امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹرز بھی روانہ کر دیے گئے ہیں جہاں ریسکیو آپریشن جاری ہے

    املاک کو پہنچنے والا نقصان

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 45 گھر وں کو نقصان پہنچا ہے جس میں 38 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ سات گھر مکمل منہدم ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کےمطابق امدادی ٹیمیں اور ضلعی انتظامیہ آپس میں مكمل رابطے میں ہیں اور صورتحال كی نگرانی كی جا رہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر تمام متعلقہ اداروں كو امدادی سرگرمیاں تیز كرنے كی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    50 کروڑ روپے کے امدادی فنڈز کا اجرا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر بارشوں اور فلش فلڈ كے باعث متاثرہ اضلاع كے لیے مجموعی طور پر 50 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور فلش فلڈ كے باعث متاثرہ ضلع بونیر کو 15 کروڑ، ضلع باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کو10، 10 کروڑ اور سوات كو پانچ كروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

    سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

    پی ڈی ایم اے کے اعلامیے کےہے مطابق تما م متعلقہ اداروں کو سیاحتی مقامات پر بند شاہراوں اور رابطہ سٹرکوں کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے تمام سیاحوں کو موسمی صورتحال سے آگاہ کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  4. پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو ’آفت زدہ‘ قرار دینے پر غور

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اجلاس شروع ہوا ہے جس میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔

    خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب اور بارشوں سے 200 سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے اور حکام کے مطابق بونیر سمیت متعدد اضلاع میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    پی ایم آفس کے مطابق اجلاس کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیں گے اور وزیر اعظم کو متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے بارے بھی آگاہی دی جائے گی۔

    پی ایم آفس کے مطابق متاثرہ علاقوں کو ’آفت زدہ‘ قرار دینے پر بھی غور ہوگا۔

  5. خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقے

  6. امدادی سامان باجوڑ لے کر جانے والے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں دو پائلٹوں سمیت پانچ افراد ہلاک

    خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں بارشوں سے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی سامان لے جانے والا صوبائی حکومت کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا جس کے باعث دو پائلٹوں سمیت عملے کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سنیچر کو صوبے بھر میں سوگ کا اعلان کیا ہے جس دوران قومی پرچم سرنگوں رکھا جائے گا۔

    ریسکیو آپریشن کے لیے جانے والے ہیلی کاپٹر کے حوالے سے وزیر اعلی سیکرٹریٹ پشاور سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر خراب موسم کی وجہ سے کریش ہوا جس کے بعد حادثے کی جگہ پر امدادی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔

  7. خیبرپختونخوا میں سیلابی صورتحال پر وزیر اعظم کا چیئرمین این ڈی ایم سے رابطہ، بحالی اور ریسکیو میں فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت

    خیبرپختونخوا میں بارش اور سیلابی صورتحال پر وفاقی حکومت نے این ڈی ایم اے کو بحالی اور ریسکیو کے کاموں میں ہر قسم کا تعاون اور فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو ٹیلیفون پر ہدایات کی ہیں کہ پی ڈی ایم اے کو ریلیف آپریشن میں فوری تعاون فراہم کیا جائے۔

    عطا تارڑ کے مطابق ’این ڈی ایم سے سے کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بارش سے تباہی کے حوالے سے ریسکیوآپریشن میں بلاتاخیر ہر ممکن مدد فراہم کیا جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کا پی ڈی ایم اے سے مسلسل رابطہ رہا ہے اور وفاق نے مسلسل رابطہ رکھا ہوا ہے۔

    عطا تارڑ کے مطابق ’ریلیف اور ریسکیو اپریشن میں وفاقی حکومت ہر قسم کا حصہ لے گی اور این ڈی ایم اے اس میں فعال کردار ادا کرے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو تازہ ترین اعداد و شمار آئے ہیں اس میں 40 سے زیادہ افراد لاپتا ہیں تاہم مرنے والوں کا ڈیٹا مسلسل آ رہا ہے تو مصدقہ ڈیٹا جلد دیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ریلیف آپریشن میں پی ڈی ایم اے ریسکیو 1122 سمیت تمام ادارے مصروف ہیں تو اس وقت تمام فوکس ریسکیو اور ریلیف آپریشن پر ہے اور یہی وزیر اعظم کی ہدایات ہیں۔

    ان کے مطابق این ڈی ایم اے کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی 24 گھنٹے کام کر رہا ہے۔

  8. سیلاب زدہ علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں شامل وزیراعلیٰ کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار, زبیر خان، صحافی

    ضلع مہمند کے پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیوں کے لیے بھیجا جانے والا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔

    ضلعی پولیس کے افسر کے مطابق یہ حادثہ موسم کی خرابی کی وجہ سے پیش آیا اور ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقے میں گرا ہے جہاں تک رسائی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اس ہیلی کاپٹر پر تین افراد سوار تھے تاہم حکام کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا اس حادثے میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔

    اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ شدید بارش سے متاثرہ ضلع باجوڑ کے علاقے سالارزئی میں امدادی سامان لے جانے والے صوبائی حکومت کے MI-17 ہیلی کاپٹر سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم کی وجہ سے ضلع مہمند کے فضائی حدود میں ہیلی کاپٹر سے رابطہ منقطع ہوا ہے۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے علاقے میں فوری طور پر ٹیمیں بھیجنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    خیال رہے کہ صوبائی حکومت کا دوسرا ہیلی کاپٹر ضلع بونیر میں ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہے۔

  9. بریکنگ, ضلع بونیر میں ہلاکتوں کی تعداد 157 ہو گئی، خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 200 سے زیادہ ہلاک, زبیر خان، صحافی

    امدادی ادارے ریسکیو 1122 کے مطابق ضلع بونیر میں بارشوں اور کاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے کم از کم 157 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر بونیر کے دفتر کے مطابق 78 لاشیں ہسپتالوں میں لائی گئی ہیں جبکہ کئی علاقوں سے لاشوں کو ہسپتالوں میں نہیں پہنچایا جا سکا۔

    خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جمعرات سے ہونے والی بارشوں اور بادل پھٹنے کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے اور اب تک 24 گھنٹے میں 200 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حکام کی جانب سے ضلع بونیر، باجوڑ اور بٹگرام کو آفت زدہ علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔

    بونیر ضلعی ریسکیو کے رپورٹ انچارج عبدالرحمن کے مطابق تحصیل گدیزی کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 120 سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    اس کے علاوہ تحصیل چغرزئی میں ایک ہی گھر کے 22 افراد ملبے تلے دب کر مارے گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں، جنھیں ٹی ایچ کیو گل بانڈی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ تحصیل ڈگر میں اب تک 15 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور 100 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    پیر بابا بازار سب سے زیادہ متاثر ہوا

    ریسکیو 1122 کے مطابق تحصیل گدیزئی میں پیر بابا بازار اور گرد و نواح میں شدید سیلاب آیا ہے، اور گرے ہوئے درختوں کی وجہ سے راستہ بند ہو گیا ہے۔‘

    بتایا گیا ہے کہ پیر بابا کھور میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے، جس کے باعث ملاکپور روڈ اور پیر بابا مین روڈ زیرِ آب آ گئے ہیں۔

    1122 کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہیگوکند اور پیر بابا کے علاقوں میں کئی خاندان، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    تحصیل چغرزی میں گھروں کے گرنے کے خدشے کے پیشِ نظر ڈوبنے والے علاقوں کے مقامی باشندوں کو قریبی سکولوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس تحصیل میں المدینہ ہوٹل سیلابی پانی میں بہہ گیا ۔

  10. بریکنگ, بونیر میں سیلابی ریلے سے 70 سے زیادہ ہلاکتیں، خیبر پختونخوا میں 24 گھنٹے میں مرنے والوں کی تعداد 146 ہو گئی

    خیبرپختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 146 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ضلع بونیر سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جہاں 70 سے زیادہ افراد جمعرات کی شب سے ہونے والی بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ صوبے کے کسی بھی ضلعے میں حالیہ بارشوں سے ہونے والا سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق یہ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع میں رونما ہوئے جن میں بونیر ، باجوڑ، سوات، تورغر، دیر اپر اور لوئر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں۔

    کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع بونیر، باجوڑ اور بٹگرام ہیں جہاں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے دو ہیلی کاپٹرز بھی روانہ کر دیے گئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اس کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 126 مرد، آٹھ خواتین اور 12 بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، دو خواتین اورایک بچہ شامل ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ جانی نقصان بونیر میں ہوا ہے جہاں 78 سے زیادہ افراد مختلف علاقوں میں ہلاک ہوئے۔

    اس کے علاوہ باجوڑ میں سیلابی ریلے میں ڈوبنے کی وجہ سے 18 افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ بٹگرام میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعے میں 15 اور مانسہرہ میں فلیش فلڈ میں 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس کے علاوہ لوئر دیر میں چھت گرنے سے پانچ، سوات میں آسمانی بجلی گرنے اور فلیش فلڈنگ کے واقعے میں چار، بونیر میں تین اور شانگلہ میں ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔

  11. بارشوں اور فلیش فلڈ سے بونیر میں اب تک 78 ہلاکتیں ہو چکی ہیں: بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی ہے کہ شدید بارش اور کلاؤڈ برسٹ سے خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں اب تک 78 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    جیو نیوز سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختون خوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے نقصان کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ بونیر، سوات، دیر، مالا کنڈ سمیت سے خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں بہت نقصان ہوا ہے۔

    ان کے مطابق ’اس وقت تک 78 افراد کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ علاقے کا انفرسٹرکچر بھی بری طرح تباہ ہوا ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر کے مطابق ’اس وقت جیسے جیسے لاشیں مل رہی ہیں ہم مرنے والوں کی تعداد کی تصدیق کر رہے ہیں تاہم صورت حال یہ ہے کہ پورے کے پورے گاؤں تباہ ہو گئے ہیں۔ سڑکیں بہہ گئی ہیں۔‘

    یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں جمعرات کو ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 60 ہے جبکہ 16 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے دو ہیلی کاپٹرز بھی روانہ کر دیے گئے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبائی حکومت اور ریسکیو ٹیمیں اپنا کام کر رہی ہیں اس وقت فوکس ہے کہ لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔

    ’اس وقت سیاست کے بالاتر ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اس وقت ہسپتالوں میں ایمرجنسی لگائی جا چکی ہے جو بھی تعاون ہو سکتا ہے اس کو جلد از جلد امداد پہنچائی جائے۔ وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے سے گزارش کروں گا کہ بحالی کے کام میں مدد کریں۔

    مالا کنڈ ڈویژن کو آفت ذدہ قرار دے دینا چاہیے: گورنر خیبرپختونخوا

    دوسری جانب جیو نیوز سے اسی بلیٹن میں بات کرتے ہوئے گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ مالا کنڈ ڈویژن کو آفت ذدہ قرار دے دینا چاہیے اور مل جل کر لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کرنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ’کلاؤڈ برسٹ کا ایک افسوسناک سانحہ ہوا ہے جس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت صوبے اور وفاق کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔‘

    فیصل کریم کنڈی نے کہا ’پہاڑی علاقوں کے باعث کمیونیکیشن کا مسئلہ ہے۔ نیٹ ورک کی بحالی میں وقت گے گا کیونکہ موبائل ٹاور کو بھی نقصان ہوا ہے۔ اس وقت سیاست کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سپورٹ کر کے لوگوں کی جان بچانا ہو گی۔‘

  12. خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹے میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے ہلاکتیں 60 ہو گئیں

    خیبرپختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں جمعرات کو ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 60 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 16 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع باجوڑ اور بٹگرام ہیں جہاں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے دو ہیلی کاپٹرز بھی روانہ کر دیے گئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اس کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 40 مرد، آٹھ خواتین اور 12 بچے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، دو خواتین اورایک بچہ شامل ہے۔

    ادارے کے مطابق یہ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع میں رونما ہوئے جن میں سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، دیر اپر اور لوئر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ جانی نقصان باجوڑ میں ہوا ہے جہاں سیلابی ریلے میں ڈوبنے کی وجہ سے 18 افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ بٹگرام میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعے میں 15 اور مانسہرہ میں فلیش فلڈ میں 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس کے علاوہ لوئر دیر میں چھت گرنے سے پانچ، سوات میں آسمانی بجلی گرنے اور فلیش فلڈنگ کے واقعے میں چار، بونیر میں تین اور شانگلہ میں ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    محکمۂ موسمیات کے مطابق صوبے میں شدید بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

  13. کلاٰوڈ برسٹ یا بادل پھٹنا کیا ہے؟

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جمعرات کو بادل پھٹنے اور تیز بارشوں کے باعث آنے والے سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر کم از کم 60 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کی تعریف کے مطابق اگر کسی چھوٹے علاقے (ایک سے دس کلومیٹر کے اندر) میں ایک گھنٹے میں 10 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ شدید بارش ہوتی ہے تو اس واقعے کو ’بادل کا پھٹنا‘ کہا جاتا ہے۔

    بعض اوقات ایک جگہ پر ایک سے زیادہ بادل پھٹ سکتے ہیں۔ ایسے میں جان و مال کا بہت نقصان ہوتا ہے جیسا کہ سنہ 2013 میں انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ میں ہوا تھا لیکن شدید بارش کے ہر واقعے کو بادل پھٹنا نہیں کہا جاتا۔

    یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف ایک گھنٹے میں 10 سینٹی میٹر کی تیز بارش سے زیادہ نقصان نہیں ہوتا لیکن اگر قریب ہی کوئی دریا یا جھیل ہو اور وہ اچانک زیادہ پانی سے بھر جائے تو قریبی رہائشی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوتا ہے۔

    کیا بادل پھٹنے کی پیشین گوئی کی جا سکتی ہے؟

    بادل پھٹنے کا واقعہ ایک سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹے پیمانے پر موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ ان کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ محکمہ موسمیات ریڈار کی مدد سے کسی بڑے علاقے میں بہت زیادہ بارشوں کی پیشین گوئی کر سکتا ہے، تاہم یہ بتانا مشکل ہے کہ بادل کس علاقے میں ہو گا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ایسی موسمی تبدیلیوں کی پیش گوئی یا نگرانی کے لیے بادل پھٹنے کے خطرے والے علاقوں میں ایک گھنے ریڈار نیٹ ورک کی ضرورت ہوتی ہے یا بہت اعلی ریزولیوشن کے موسم کی پیشن گوئی کے ماڈلز کی ضرورت ہے جو اس طرح کے چھوٹے پیمانے پر ہونے والے واقعات کو پکڑ سکیں۔

    کیا بادل پھٹنے کے واقعات صرف مون سون میں ہوتے ہیں؟

    اگرچہ بادل پھٹنے کا امکان میدانی علاقوں میں بھی ہوسکتا ہے لیکن پہاڑی علاقوں میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی پہاڑی ڈھلوانیں بادلوں کے اوپر اٹھنے اور تیز بارش کا باعث بننے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں۔

    اس طرح کے واقعات مون سون کے دوران اور اس سے کچھ وقت پہلے زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ انڈیا کے شمالی علاقوں میں مئی سے جولائی اور اگست کے درمیان نظر آتا ہے۔

  14. بلوچستان میں بھی مون سون بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری

    بلوچستان میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے مون سون بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان کے 20سے زائد علاقوں میں 18سے 22 اگست تک تیز اور درمیانی ہوائوں کے ساتھ بارشیں متوقع ہیں۔

    جن علاقوں کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا گیا ہے ان میں خضدار، قلات، آواران، لسبیلہ، سوراب، کیچ، گوادر، ڈیرہ بگٹی، قلات، کوہلو، بارکھان، ژوب، شیرانی، دکی، زیارت، قلعہ سیف اللہ، ہرنائی، سبی اور پنجگور شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ بارشوں کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کریں جبکہ کاشتکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سولر پینلز کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

    پی ڈی ایم اے کے اعدادوشمار کے مطابق مون سون کے بارشوں کے دوران 24جولائی تک مختلف علاقوں میں 20 افراد کی موت واقع ہوئی جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

  15. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم رتی گلی میں پھنسے 550 سیاحوں کو ریسکیو کر لیا گیا، مزید کے لیے آپریشن جاری, نصیر چوہدری، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کا کہنا ہے کہ وادی نیلم کے سیاحتی مقام رتی گلی میں پھنسے 550 سیاحوں کو ریسکیو کر کے مرکزی شاہراہ تک پہنچا دیا گیا 300 سے زائد سیاح ابھی بھی سیاحتی مقام پر محصور ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے 80 کلو میٹر دواریاں کا علاقہ ہے جہاں سے سیاح دو گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد کچے راستے سے ہوتے ہوئے رتی گلی پہنچتے ہیں۔

    یہ ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے جس کا واحد راستہ یہی ایک کچی سڑک ہے اس کے علاوہ یہاں پیدل راستے انتہائی دشوار گزار ہیں۔‘

    سٹیٹ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز سعید قریشی نے بتایا کہ ’امدادی ٹیموں نے آپریشن جاری رکھا ہوا ہے اور رات سے کسی بھی وقت آپریشن رکا نہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ کم از کم ’550 سیاحوں کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا جو اپنی اپنی گاڑیوں تک پہنچ چکے ہیں جبکہ تین سو سے زائد افراد ابھی رتی گلی میں موجود ہیں ان کو ریسکیو کرنے کا عمل جاری ہے۔

    لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہو جانے سے سیاح علاقے سے نکلنے میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم انتظامیہ اور مقامی افراد نے سیاحوں کی رہائش اور کھانے کا انتظام کر رکھا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف مقامات پر بارشوں کے باعث ندی نالوں میں شدید تغیانی اور کلاؤڈ برسٹ کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر پٹہکہ کے مطابق جمعرات کی شام وادی کوٹلہ میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ایک ہی گھر کے چھ افراد دب گئے تھے جن میں سے بیشتر کی لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، کلاؤڈ برسٹ کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں مزید تین مکان بھی آئے ہیں۔

  16. بریکنگ, خیبر پختونخوا میں بادل پھٹنے اور شدید بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر کم از کم 43 ہلاک

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جمعرات کو بادل پھٹنے اور مون سون کی بارشوں کے باعث آنے والے سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر کم از کم 43 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق یہ حادثات باجوڑ، بٹگرام، سوات، بونیر، تورغر، مانسہرہ اور شانگلہ میں پیش آئے اور ہلاک شدگان میں 33 مرد، دو خواتین اور آٹھ بچے شامل ہیں۔

    حکام کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان ضلع باجوڑ میں ہوا جہاں تحصیل سالارزئی میں بادل پھٹنے اور آسمانی بجلی گرنے سے 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سالارزئی کے علاقہ جبراڑئی میں جمعرات کی رات تقریباً 12 بجے بادل پھٹنے اور آسمانی بجلی گرنے سے چار مکان تباہ ہوئے اور مقامی لوگوں کے مطابق حادثے میں 25 افراد ملبے تلے دب گئے جنھیں نکالنے کے لیے مقامی لوگوں نے امدادی کاروائیاں شروع کیں۔

    ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بھی رات کے وقت جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں تاہم پانی کا بہاؤ تیز اور بلند ہونے کی وجہ سے ریسکیو کی مشینری کو پہنچنے میں کافی مشکل پیش آئی۔

    ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی نے بتایا کہ اب تک 18 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ تین افراد کی تلاش جاری ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والے تین افراد کو علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار منتقل کیا گیا جن میں سے ایک کو تشویشناک حالت میں پشاور لے جایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ مزید لاشوں کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور مقامی لوگوں کے مطابق متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ باجوڑ کے بعد سب سے متاثرہ ضلع بٹگرام ہے جہاں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہو گئی ہے جبکہ نیل بند نامی علاقے میں سیلابی ریلے کی زد آنے والے مزید 18 افراد کی تلاش جاری ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر بٹگرام سلیم خان کے مطابق نیل بند گاؤں، جو ضلع بٹگرام اور مانسہرہ کی سرحد پر واقع ہے، وہاں گزشتہ رات آسمانی بجلی گرنے سے پانچ مکانات تباہ ہوگئے، جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ شملائی مندروالی کے مقام سے اب تک 10 لاشیں نالے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔

    لوئر دیر میں بھی بارشوں اور سیلابی ریلے کے باعث بچوں اور خواتین سمیت کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے اب تک ملبے سے پانچ لاشیں اور چار زخمیوں کو نکال لیا ہے۔

    خیبر پختوخواہ کے ہی ضلع مانسہرہ میں ایک کار سیلابی ریلے میں بہہ گئی جس میں سوار تین افراد کو زندہ بچا لیا گیا تاہم دو افراد ہلاک ہو گئے۔

    پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث اب تک مجموعی طور پر 30 گھر وں کو نقصان پہنچا جن میں سے پانچ مکانات منہدم ہو گئے جبکہ 25 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں پی ڈی ایم اے کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں كے دوران ہونے والی بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مختلف اضلاع میں مرنے والوں میں 33 مرد، 2 خواتین اور 8 بچے شامل جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔

    محکمے کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث اب تک کی مجموعی طور پر 30 گھر وں کو نقصان پہنچا۔ جس میں 25 گھروں کو جزوی نقصان ہوا تاہم پانچ گھر مکمل منہدم ہوگئے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تفصیل کے مطابق یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں اور فلیش فلڈ كے باعث سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع باجوڑ اور بٹگرام ہیں جہاں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

    بیان میں خبر دار کیا گیا ہے کہ شدید بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متاثر اضلاع میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق محکمے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے۔

  17. 17 اگست تک مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے بڑے دریاؤں میں طغیانی خدشہ: پی ڈّی ایم اے کا الرٹ

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون فلڈ کی صورتحال بارے فیکٹ شیٹ جاری کی ہے جس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مری میں 28، راولپنڈی 22، نارووال 13، لاہور اور سیالکوٹ میں 11 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔

    پی ڈی ایم اے نے خبر دار کیا ہے کہ 17 اگست تک مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے بڑے دریاؤں میں پانی کے اضافے کا خدشہ ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات کیں ہیں اور بتایا ہے کہ اس وقت دریائے سندھ میں کالاباغ، تربیلا اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔

    ان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ جبکہ دریائے چناب میں خانکی اور مرالہ کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور دریائے جہلم اور راوی میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے۔‘

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق رودکوہیوں اور بڑے دریاؤں سے ملحقہ ندی نالوں میں بھی پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے۔ جبکہ تربیلا ڈیم 96 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 67 فیصد تک بھر چکا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’انڈین ڈیمز میں پانی کی سطح 70 فیصد تک ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ رواں سال موسم مون سون بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 164 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہریوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ےدایت کی اور کہا کہ ہنگامی انخلا کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔

    شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ ’دریاؤں نہروں ندی نالوں اور تالابوں میں ہر گز مت نہائیں اور سیلابی صورتحال میں دریاؤں کے اطراف سیر و تفریح سے گریز کریں۔

  18. پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں بادل پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد سمیت آٹھ ہلاک، 500 سے زائد سیاح محصور, نصیر چوہدری، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی مون سون بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں کے زد میں آکر کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور سینکڑوں سیاح محصور ہو گئے ہیں۔

    پٹہکہ کے نواحی گاؤں میں ایک خاندان کے چھ افراد جبکہ ضلع سدھنوتی میں خاتون اور ضلع باغ میں ایک خاتون سیلابی سیلے کی زد میں آ کر ہلاک ہوئیں۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث پیش آنے والے واقعات میں ملبے تلے دب جانے والے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    جمعرات کی شام پٹہکہ کے نواحی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث چھ افراد پر مشتمل خاندان بہہ گیا تھا۔

    نوید نامی شخص، ان کی اہلیہ اور تین بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں تاہم ایک بچی لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔ ریسکیو اہلکار اور مقامی افراد مل کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    شدید بارشوں کے پش نظر ضلع مظفرآباد باغ نیلم ویلی جہلم ویلی کے تمام سکولوں میں چھٹیاں دے دی گئی ہیں اور متاثرہ خاندنوں کو سکولوں کی عمارتوں میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    کشمیر کو اسلام آباد والی مرکزی شاہرہ ملانے کوہالہ اور ایبٹ آباد پائی پاس لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہیں جنھیں بحال کرنے کا کام جاری ہے۔

    ضلع نیلم باغ کا بھی کشمیر کے دارلحکومت سے زمینی رابطہ منقطع ہے ، وادی نیلم کے سیاحتی مقام رتی گلی ایک کیمپ میں خواتین اور بچوں سمیت پانچ سو سے زائد سیاح موجود ہیں۔

    سیاح لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہوجانے کی وجہ سے پھنس گئے ہیں تاہم انتظامیہ اور مقامی افراد نے سیاحوں کے لیے رہائش اور کھانے پینے کا مفت انتظام کیا ہے۔

  19. سرحدی علاقوں میں ڈیمو گرافی بدل رہی ہے، ہم اپنے ملک کو دراندازوں کے حوالے نہیں کر سکتے: وزیر اعظم مودی

    انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کا مزید کہنا تھا کہ ’سرحدی علاقوں میں ڈیمو گرافی بدل رہی ہے۔ ہم اپنے ملک کو دراندازوں کے حوالے نہیں کر سکتے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’آج مجھے لال قلعہ کی فصیل سے آپریشن سندور کے بہادر سپاہیوں کو سلام کرنے کا موقع ملا ہے۔ ہمارے بہادر سپاہیوں نے دشمنوں کو ان کے تصور سے بھی باہر کی سزا دی ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بہادر سپاہیوں نے دشمنوں کو اُن کی سوچ سے باہر کی سزا دی اور جس طرح سے دہشت گرد سرحد پار سے آئے اور پہلگام میں قتل عام کیا۔ لوگوں کو ان کا مذہب پوچھنے پر مارا گیا۔ شوہر کو بیوی کے سامنے گولی مار کر ہلاک کیا گیا، باپ کو بچوں کے سامنے مارا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پورا ہندوستان غصے سے بھرا ہوا ہے۔ اس قسم کے قتل عام سے پوری دنیا حیران ہے۔ آپریشن سندور اسی غصے کا اظہار ہے۔‘

    وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا کہ ’درانداز قبائلیوں کو الجھا رہے ہیں۔ وہ قبائلیوں کی روزی روٹی چھین رہے ہیں۔ میں ملک کو اس چیلنج سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔‘

  20. انڈیا میں بنے لڑاکا طیاروں کے اپنے جیٹ انجن ہونے چاہییں: وزیر اعظم مودی

    انڈیا کے یوم جمہوریہ کے موقع پر اپنے خطاب میں انڈین وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے ہم اب سمندر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم اپنے سمندروں کے اندر تیل اور گیس کے ذخائر کو تلاش کرنے کے لیے مشن موڈ میں کام کرنا چاہتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’لال قلعہ کی فصیل سے، میں نوجوان سائنسدانوں، باصلاحیت نوجوانوں، انجینیئروں، پیشہ ور افراد اور حکومت کے تمام محکموں سے گزارش کرتا ہوں کہ ہمارے پاس لڑاکا طیاروں کے لیے اپنے میڈ ان انڈیا جیٹ انجن ہونے چاہییں۔‘

    وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد بھی خود انحصار ہندوستان ہے، اگر کوئی دوسروں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، تو آزادی کا سوال خود ہی ختم ہونے لگتا ہے۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’خود انحصاری صرف درآمد، برآمد، روپیہ، پاؤنڈ یا ڈالر تک محدود نہیں ہے۔ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ خود انحصاری کا براہ راست تعلق ہماری طاقت سے ہے۔‘

    انڈین وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے گروپ کیپٹن شوبھانشو شکلا خلائی سٹیشن سے واپس آ چکے ہیں اور آئندہ چند دنوں میں ہندوستان آئیں گے۔ ہم خلا میں خود انحصار ہندوستان گگنیان کی بھی تیاری کر رہے ہیں۔ ہم اپنا خلائی سٹیشن بنانے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔'