حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد نہ ہوسکا، لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جنوبی لبنان میں کم از کم 14 افراد کو ہلاک اور 80 سے زائد کو زخمی کر دیا ہے۔ لبنانی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے سے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے انخلا کی ڈیڈ لائن ختم ہو جانے کے باوجود اب بھی وہ ملک کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔
خلاصہ
غزہ کی پٹی کے شمال میں ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے ایک مرکزی سڑک بند کردی ہے۔
سنیچر کی شام جب وسطی غزہ میں الرشید روڈ پر لوگ گھروں کی واپسی کے لیے جمع ہوئے تو مبینہ طور پر گولیاں چلائی گئیں جس میں ایک شخص ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 3 مختلف کارروائیاں کے دوران 30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا جبکہ 8 زخمی ہوئے۔
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔
بلوچستان کے ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین میں موبائل انٹرنیٹ کو بند کرنے کے بعد موبائل فون سروس کو بھی مکمل کو بند کردیا گیا ہے۔
لائیو کوریج
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دالبندین میں اجتماع آج، انٹرنیٹ کے بعد موبائل فون سروس بھی مکمل بند, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہBYC
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بلوچستان کے ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین میں موبائل انٹرنیٹ کو بند کرنے کے بعد موبائل فون سروس کو بھی مکمل کو بند کردیا گیا ہے۔
ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین کے صحافیوں کے مطابق پورے ضلع چاغی میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس جمعرات کو 12 بجے کے بعد بند ہوئی تھی۔
اگرچہ دالبندین اور ضلع چاغی کے دیگر علاقوں میں موبائل فون سروس کی بندش کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام اجتماع کو ناکام بنانا ہے۔
دالبندین اور ضلع چاغی کے دیگر علاقوں میں گزشتہ شب سے موبائل فون سروس کو بند کردیا گیا ہے کیونکہ دالبندین میں موبائل فون پر رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔
اسی طرح دالبندین میں پی ٹی سی ایل کے لینڈ لائنز پر بھی رابطہ نہیں ہورہا ہے جن میں سرکاری دفاتر کے نمبر بھی شامل ہیں۔
دالبندین میں جب ڈپٹی کمشنر چاغی کے گھر اور دفتر کے لینڈ لائن نمبر کے علاوہ لیویز فورس کے کنٹرول روم کے لینڈلائن نمبر پر کال کی گئی تو ان سے رابطہ نہیں ہوپایا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل گوادرمیں بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اجتماع کے موقع پر موبائل فون سروس کے علاوہ لینڈ لائن کو بند کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مطابق 25 جنوری 2014 کو ضلع خضدار کے علاقے توتک سے پہلی مرتبہ اجتماعی قبریں منظرعام پر آئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی دن کی مناسبت سے’ بلوچ نسل کشی یادگاری‘ کے نام سے دالبندین میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام اجتماع منعقد ہورہا ہے۔
حماس آج 180 فلسطینی قیدیوں کے بدلے مزید چار یرغمالی رہا کرے گی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت آج رہا کیے جانے والے چار یرغمالیوں کو نامزد کیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ وہ خواتین فوجی اہلکار کرینہ آریف، ڈینیلا گلبوا، ناما لیوی اور لیری الباگ ہیں۔ انھیں اسرائیل میں قید 180 فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا۔
گذشتہ اتوار کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد یہ اس طرح کا دوسرا تبادلہ ہوگا۔ پہلے تبادلے میں تین اسرائیلی یرغمالیوں اور 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
جنگ بندی سے وہ جنگ رک گئی ہے جو حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے اور 251 کو یرغمال بنا کر غزہ واپس لے جایا گیا۔
غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جوابی لارروائی کے طور پر اب تک کیے جانے والے حملوں میں 47 ہزار 200 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
ابتدائی طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ آج رہا ہونے والوں کی فہرست میں ایک خاتون اسرائیلی شہری اربیل یہود کا نام بھی شامل کیا جائے گا۔
یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا نام فہرست میں کیوں نہیں ہے حالانکہ اسرائیلی میڈیا نے خبر دی ہے کہ فلسطینی اسلامک جہاد (پی آئی جے) جو ایک علیحدہ گروپ ہے اس نے انھیں حراست میں رکھا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تین ہفتے قبل حماس نے 19 سالہ لیری الباگ کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ اسرائیلی حکومت سے کسی معاہدے تک پہنچنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
یہ جنگ بندی امریکہ، قطر اور مصر کی قیادت میں اسرائیل اور حماس کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والے بالواسطہ مذاکرات کے بعد طے پائی تھی۔
اس پر تین مرحلوں میں عمل درآمد کیا جائے گا جبکہ دوسرا مرحلہ جنگ بندی کے چھ ہفتے بعد شروع ہوگا۔
پہلے مرحلے کے دوران 33 یرغمالیوں کے بدلے تقریبا 1900 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
اسرائیلی افواج بھی غزہ میں پوزیشنوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیں گی اور لاکھوں بے گھر فلسطینی ان علاقوں میں واپس جا سکیں گے جہاں سے وہ بھاگ گئے تھے یا نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔
جنگ بندی کا مقصد غزہ میں جنگ کا مستقل خاتمہ کرنا ہے۔ سات اکتوبر 2023 کو اغوا کیے گئے 91 یرغمالی اب بھی غزہ میں قید ہیں۔
ان میں سے 57 کے بارے میں اسرائیل کا خیال ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔ ان کے علاوہ تین دیگر افرادجن میں سے دو زندہ ہیں ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصے سے حراست میں ہیں۔
جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے تازہ ترین معاہدے کے تحت تین اسرائیلی خواتین یرغمالیوں کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے۔
24 سالہ رومی گونن کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ نووا میوزک فیسٹیول سے فرار ہونے کی کوشش کر رہی تھیں جب عسکریت پسند گروپ نے انھیں 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران نشانہ بنایا تھا۔
انھیں 31 سالہ ویٹرنری نرس ڈورن سٹائن بریچر اور 28 سالہ ایملی داماری کے ساتھ رہا کیا گیا ہے جو برطانیہ اور اسرائیل کی دوہری شہریت رکھتی ہیں۔
غزہ میں حماس کی جانب سے رہا کیے جانے کے بعد یہ تینوں اتوار کے روز اسرائیل واپس پہنچی تھیں اور اپنے خاندان سے ملیں۔
پنجاب میں سی ٹی ڈی کی انٹیلیجنس اطلاعات پر کارروائیاں، 10 مشتبہ شدت پسند گرفتار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے پنجاب میں انسداد دہشت گردی کے ادارے
نے دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر مختلف شہروں میں 163 کارروائیاں کی ہیں۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران 10 افراد کو گرفتار
کیا گیا۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کارروائیاں لاہور، راولپنڈی، شیخوپورہ، میانوالی،
سرگودھا اور فیصل اباد میں کی گئیں۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق راولپنڈی سے تین جبکہ لاہور
سے ایک خطرناک شدت پسند کو گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق رواں ہفتے میں 2893 کومبنگ آپریشنز کے دوران 736 مشتبہ افراد
گرفتار کیے گئے۔
امریکہ کا اسرائیل اور مصر کے علاوہ تمام غیر ملکی امدادی پروگرام عارضی طور پر روکنے کا حکم, ٹام بیٹ مین، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ نے اسرائیل اور مصر کے سوا تمام ملکوں کی امداد عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ایک لیک شدہ اندرونی دستاویز(میمو) کے مطابق امریکہ نے تمام موجودہ غیر ملکی امداد کو معطل کر دیا ہے اورکسی بھی نئی امداد پر عملدرآمد کو بھی روک دیا ہے۔
یہ میمو امریکی حکام اور بیرونِ ملک امریکی سفارتخانوں کو بھیجا گیا۔
اس دستاویز کے تحت صرف خوراک کی ہنگامی امداد اور اسرائیل اور مصر کے لیے فوجی امداد کو اس حکم سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
بی بی سی نے اس میمو کی خود بھی تصدیق کی ہے۔
دستاویز کےمطابق ’اس دوران نہ کوئی نیا فنڈ جاری ہو گا اور نہ ہی موجودہ معاہدوں میں توسیع کی جائے گی جب تک کہ ہر نئے معاہدے یا توسیع کا جائزہ لے کر اس کی نئے سرے سے منظوری نہ دی جائے گی۔‘
یہ معاملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیر کے روز جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے بعد سامنے آیا، جس میں انھوں نے 90 دن کے لیے غیر ملکی ترقیاتی امداد کو مؤخر کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ اس کے مؤثر ہونے اور ان کی خارجہ پالیسی سے ہم آہنگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکہ بین الاقوامی امداد فراہم کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 68 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل بڑھ گئی ہے اور دنیا بھر میں دیگر بھوک کے بحرانوں، بشمول سوڈان، میں بھی انسانی امداد جاری ہے۔
محکمہ خارجہ کا یہ میمو ترقیاتی امداد سے لے کر فوجی امداد تک سب پر اثرانداز ہو گا۔
احکامات میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکام فوری طور پر متعلقہ معاہدوں کی شرائط کے مطابق کام روکنے کی ہدایات جاری کریں جب تک کہ اس سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا جائے۔
اس میمو میں 85 دن کے اندر غیر ملکی امداد کے تمام پروگراموں کے وسیع پیمانے پر جائزے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امداد صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے اہداف کو پورا کرتی ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کہہ چکے ہیں کہ بیرونِ ملک امریکی اخراجات اور امداد صرف اسی وقت کی جائے گی جب ان سے امریکہ کی مضبوطی، اسے محفوظ یا زیادہ خوشحال بنانا ثابت ہو سکے گا۔
،تصویر کا کیپشنیہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل بڑھ گئی ہے
’یہ پانی، صفائی اور رہائش جیسے اہم ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ یہ نوٹس امریکی امدادی پروگراموں پر ممکنہ طور پر بہت بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔
2023 کے آخر تک امریکی محکمۂ خارجہ میں ہتھیاروں کی منتقلی پر کانگریس کے تعلقات کی نگرانی پر مامور جاش پال کہتے ہیں کہ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ اگر اس کے تحت عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بارودی سرنگیں صاف کرنے کے پروگراموں کو اچانک روکنے کا حکم دیا گیا تو یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہوگا۔
مشرق وسطیٰ میں یو ایس ایڈ کے سابق مشن ڈائریکٹر ڈیو ہارڈن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام بہت اہم نوعیت کا ہے اور اس سے دنیا بھر میں امریکی امداد سے چلنے والے انسانی اور ترقیاتی پروگرام فوری طور پر معطل ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ پانی، صفائی اور رہائش جیسے اہم ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ڈیو ہارڈن نے کہا کہ اس سے شراکت دار اداروں یا غیر سرکاری تنظیموں کے ملازمین کی تنخواہیں تو دی جا سکتی ہیں لیکن اصل امدادی سرگرمیاں رک جائئں گی۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے کئی بار اس طرح کی امداد کو معطل ہوتے دیکھا ہے جب میں مغربی کنارے اور غزہ کا مشن ڈائریکٹر تھا لیکن وہ مخصوص پروگرام کے لیے ہوتی تھی۔ یہ عالمی سطح پر ہے۔ یہ میمو نہ صرف امداد کو روک رہا ہے بلکہ پہلے سے جاری معاہدوں پر بھی ’کام روکنے‘ کا حکم بھی دیتا ہے۔‘
اے ایف پی نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ انتہائی وسیع ہے۔ فنڈز کی اس معطلی سے یوکرین بھی متاثر ہو سکتا ہے، جسے صدر بائیڈن کے دور میں اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیار فراہم کیے گئے تھے۔
اس میمو میں فنڈز منجمد کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ نئی انتظامیہ کے لیے یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ موجودہ امدادی وعدے مؤثر اور صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی سے ہم آہنگ ہیں اور یہ غیر ضروری طور پر دہرائے نہیں جا رہے۔‘
میمو کے مطابق ہنگامی خوراکی امداد کے لیے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ بی بی سی نے محکمہ خارجہ سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اجتماع سے قبل دالبندین میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند
بلوچستان کے ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر سمیت پورے ضلع میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کو بند کر دیا گیا ہے۔
ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین کے مقامی صحافیوں نے بتایا کہ موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس جمعرات کو 12 بجے کے بعد بند ہوئی۔
چاغی کے علاقے نوکنڈی اور ایران سے ملحقہ سرحدی شہر تفتان کے صحافیوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں بھی موبائل پر انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے ڈپٹی کمشنر چاغی سے رابطے کی متعدد بار کوشش کی گئی لیکن انھوں نے جواب نہ دیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ دالبندین میں موبائل انٹرنیٹ سروس بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام اجتماع کو ناکام بنانے کے بند کیا گیا ہے۔
انھوں نے اپنے ایک بیان میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ دالبندین میں انٹرنیٹ کی بندش کا نوٹس لیں۔
یکجہتی کمیٹی کے دوسرے بڑے اجتماع کے لیے چاغی کے انتخاب سے متعلق سوال پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ چاغی بلوچستان کا اہم علاقہ ہے لیکن اس ضلع کو کئی حوالوں سے استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے الزام لگایا کہ بلوچستان کے وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ جہاں اس اجتماع کا مقصد وسائل کی ’لوٹ مار‘ کے خلاف آواز بلند کرنا ہے وہیں چاغی کے لوگوں کا سیاسی حوالے سے جو استحصال ہو رہا ہے اس کو بھی اجاگر کرنا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام اس اجتماع سے قبل بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ضلع چاغی کا دورہ کیا تھا اور وہاں انھوں نے قبائلی اور سیاسی عمائدین کے ایک اجتماع سے خطاب کرنے کے علاوہ تانبے اور سونے کے سب سے بڑے منصوبے ریکوڈک کے سائٹ کا بھی دورہ کیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے دورے کے موقع پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک کے منصوبے سے جو آمدنی ہوگی اس پر پہلا حق چاغی اوررخشان ڈویژن کے عوام کا ہے اس کے بعد اگر کچھ بچتا ہے تو باقی بلوچستان پر خرچ ہوگی۔
مریم نواز کے خلاف توہین آمیز پوسٹ کرنے پر شہری کے خلاف مقدمہ درج
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف مبینہ طور پر ایک توہین آمیزسوشل میڈیا پوسٹ اپ لوڈ کرنے کی وجہ سے دو شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پنجاب کے علاقے پاکپتن میں یہ واقعہ پیش آیا اور پولیس نے یہ مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک واٹس ایپ گروپ کی ایک پوسٹ میں وزیراعلیٰ کے خلاف توہین آمیز الفاظ اِستعمال کیے گئے۔
تھانہ فرید نگر پولیس نے یہ مواد پوسٹ کرنے والے گروپ ممبر اور اس کو ڈیلیٹ نہ کرنے پر گروپ ایڈمن دنوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
چینی شہریوں کے سندھ پولیس پر رشوت اور ہراسگی کے الزامات
چینی سرمایہ کاروں نے سندھ ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست میں سندھ پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان سے سکیورٹی کے نام پر رشوت وصول کرتی ہے اور انھیں ہراساں کیا جاتا ہے۔
چینی شہریوں کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت کو بتایا ہے کہ انھیں گذشتہ چھ سے سات ماہ سے سندھ پولیس کی جانب سے تنگ کیا جا رہا ہے۔
درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ پولیس کی ہراسگی اور رشوت سے بچایا جائے، ورنہ وہ لاہور یا چین واپس چلے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں مقیم 6 چینی سرمایہ کاروں نے عدالت سے رجوع کیا ہے اور اپنی درخواست میں وفاقی وزارت داخلہ، چیف سیکرٹری سندھ، آئی جی، ہوم سیکرٹری اور سی پیک سکیورٹی کے سپیشل یونٹ کے سربراہ سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں ملیر پولیس کے حکام ، چینی سفارت خانے اور دیگر کو بھی فریق بنایا ہے۔
درخواست میں سندھ پولیس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ چینی شہریوں سے ایئر پورٹ سے لے کر رہائش گاہ پہنچنے تک رشوت طلب کی جاتی ہے۔
’
ایئرپورٹ پر بلٹ پروف گاڑیوں کے نام پر گھنٹوں انتظار کرایا جاتا ہے۔ رشوت دینے پر پولیس حکام اپنی گاڑیوں میں رہائش گاہ پہنچاتے ہیں۔ رہائش گاہوں پر بھی سکیورٹی کے نام پر محصور کردیا جاتا ہے۔
درخواست میں شکایت کی گئی ہے کہ انھیں آزادانہ نقل و حرکت کے حق سے محروم کردیا گیا ہے اور وہ کاروباری میٹنگز نہیں کر سکتے۔
یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حال ہی میں ایک حاملہ چینی خاتون کو ہسپتال نہیں جانے دیا گیا کیونکہ اس نے متعلقہ پولیس افسر کو سکیورٹی کے نام پر ’رشوت‘ کے 30 ہزار روپے نہیں ادا کیے تھے۔
درخواست
میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’خود پولیس اہلکار گاڑیوں پر حملے کرکے شیشے توڑ دیتے ہیں، 30 سے 50 ہزار روپے رشوت کے عوض نقل و حرکت کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس قسم کے واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ سکھن تھانے کی حدود میں چینی شہریوں کی سات فیکٹریاں سیل کردی گئی ہیں۔
انسانی سمگلنگ میں ملوث 6 منظم گروہوں کی نشاندہی اور تین اہم گرفتاریاں
،تصویر کا ذریعہPM OFFICE
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی میں پاکستانیوں کی اموات کے واقعے پر ہفتہ وار اجلاس میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے سدباب کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 6 منظم انسانی سمگلنگ کے گروہوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور 12 ایف آئی آرز کاٹی گئی ہں اور 25 ملوث افراد کی نشاندہی بھی ہوئی ہے۔
اس سلسلے میں تین اہم افراد کی گرفتاری بھی ہوئی ہے اور 16 افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جا چکے۔
اجلاس کو ملوث ملزمان کی گاڑیوں، بینک اکاؤنٹس اور اثاثہ جات ضبط کرنے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو ایف آئی اے کے مشتبہ اہلکاروں اور افسران کی گرفتاریوں و کاروائی پر بھی آگاہ کیا گیا.
اجلاس کو اس حوالے سے بیرون ملک جانے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ملک ریاض کو واپس لایا جائے گا، میڈیا دوہرا معیار نہ اپنائے: خواجہ آصف
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت اب ملک ریاض پر ہاتھ ڈالے گی اور انھیں متحدہ عرب امارات سے واپس لائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انھوں نے پراپرٹی کے شعبے سے منسلک معروف پاکستانی ملک ریاض کے بارے میں تفصیلی سے گفتگو کی۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک پیغام میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ وہ ’بتائیں کہ گذشتہ 30 برسوں میں کون کون سے ججوں، جرنیلوں اور سیاستدانوں نے اُن سے پیسے اور دیگر مالی فوائد حاصل کیے۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ میں نے پہلی بار 1997 میں بحریہ ٹاؤن کے حلاف آواز آٹھائی اور پوچھا کہ اس سے نیوی کو کیا فائدہ ہو گا لیکن مجھے اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ مشرف کے مارشل لا میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہا اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ تیس سال سے یہ سلسلہ چلتا رہا اور اس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے 190 ملین پاونڈ کا مسئلہ اٹھایا تو ملک ریاض نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ سب کچھ قانونی ہوا ہے میں آپ کے پاس اپنے وکیل کو بھجواتا ہوں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ زمینوں کی خریداری اور اپررولز میں آپ کو سقم دکھائی دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ شفاف ٹرانزیکشنز نہیں ہیں اور قومی سطح پر اس کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب میڈیا اور سیاست دان یا عدالتیں ان کے ساتھ مل جائے تو یہ ایک جرم کی اعانت بن جاتی ہے۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ ’ان کے کاروبار میں جو آہستہ آہستہ سامنے آنا شروع ہوئے ہیں وہ ایک کاروبار نہیں تھا، میں کچھ چیزیں نہیں بتانا چاہتا ان پر پردہ ہی رہے۔
پریس کانفرنس میں انھوں نے مشرف دور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جن لوگوں سے ہمارے ملک میں دہشت گردی کی بنیاد چلی ان پر بھی انھوں نے پیسے لگائے انھیں اپنے داہنے ہاتھ پر رکھنے کے لیے۔‘
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ بات رک جائے گی انھیں کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا تو ایسا نہیں ہے۔
’ان کی پاکستان واپسی کے لیے یو اے ای کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے، کوئی بھی مجرم یا ملزم جس کا یہاں آنا ضروری ہو انھیں ایک کارروائی کے ساتھ یہاں لایا جا سکتا ہے۔‘
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’ریاست کا پیسہ ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں کیسے چلا گیا، کوئی بتا دے پی ٹی آئی بتا دے، عمران خان بتا دیں یا ملک ریاض بتا دیں۔‘
انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ کئی سالوں کے دوران ٹی وی پروگرامز میں میرے ملک ریاض کے حوالے سے موقف کو کاٹا گیا۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ میڈیا ملک ریاض کے جرائم میں شریک ہے۔
’ملک ریاض کے کاروبار کے جرائم میں میڈیا برابر کا شریک ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ میں میڈیا مالکان کو کہتا ہوں کہ دوہرا معیار اور دوغلا پن مت اپنائیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر میڈیا نے کوریج کی تو میں پھر دوسری قسط لے کر آؤں گا۔
کے پی حکومت کا صحت کارڈ سکیم میں لائف انشورنس سکیم شامل کرنے کا فیصلہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صحت کارڈ سکیم میں لائف انشورنس سکیم کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں صحت کارڈ سکیم اور اسٹیٹ لائف انشورنس کے حکام نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحت انصاف کارڈ سکیم کے تحت زیر علاج خاندان کے سربراہ کی فوتگی کی صورت میں ورثا کی مالی معاونت کی جائے گی۔
’
60 سال تک کی عمر کے خاندان سربراہ کی فوتگی پر ورثا کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ جبکہ 60 سال سے زائد عمر کے خاندان سربراہ کی فوتگی پر خاندان کو پانج لاکھ روپے دیے جائیں گے۔‘
لائف انشورنس سکیم کے تحت ایک کروڑ چار لاکھ سے زائد خاندان مستفید ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ لائف انشورنس سکیم پر سالانہ ساڑھے چار ارب روپے لاگت آئے گی جو صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت کارڈ پلس کے بعد لائف انشورنس سکیم سماجی تحفظ کے سلسلے میں صوبائی حکومت کا دوسرا بڑا پروگرام ہے۔
’صوبے کے 49 فیصد خاندان غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں، ان کی سماجی تحفظ یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔‘
اپر کرم کے لیے ادویات کی ایک اور کھیپ ہیلی کاپٹر کے ذریعے روانہ:علی امین گنڈاپور, بلال احمد، بی بی سی اردو ، پشاور
،تصویر کا ذریعہMohammad Rehan
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپورکا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اپر کرم کے لیے ادویات کی ایک اور کھیپ روانہ کر دی گئی ہے جو ایم ایس پاڑہ چنار کے حوالے کی جائیں گی۔
خیبرپختونخوا حکومت کے ایک اعلامیے کے مطابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وہ کرم میں جاری امدادی سرگرمیوں سے متعلق تمام تر معاملات کا معائنہ خود کررہے ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ’کرم میں ضرورت کے مطابق تمام اشیا جلد ازجلد فراہم کی جارہی ہیں اور اسی سلسلے میں اپر کرم کے لیے 1500 کلو وزنی ادویات ہیلی کاپٹر کے زریعے پاڑہ چنار بھیجی جارہی ہیں۔
علی امین گنڈاپور کے مطابق تمام تر ادویات ایم ایس پاڑہ چنار کے حوالے کی جائیں گی۔ ان ادویات کی کھیپ میں اینٹی بائیوٹکس، سیرپ، پین کلرز، بچوں کےلیے ادویات شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کرم کا زمینی رابطہ جب تک بحال نہیں ہوتا تب تک ہیلی کاپٹر کے زریعے ادویات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے گا اور ضرورت کے مطابق دیگر اشیا بھی مرحلہ وار روانہ کی جائیں گی۔
ٹل سے 20 سے زائد چھوٹی گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پاڑا چنار روانہ: ضلعی انتظامیہ
دوسری جانب ہنگوکی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹل سے 20 سے زائد چھوٹی گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پاڑا چنار روآنہ کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق 50 کے قریب بڑی گاڑیاں کچھ دیر بعد روآنہ کی جائیں گی۔
انتظامیہ کے مطابق ’آج ٹوٹل 73 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم بھیجا جا رہا ہے اور اس کی سکیورٹی کی نگرانی آر پی او کوہاٹ اور کمشنر کوہاٹ خود کر رہے ہیں۔‘
شام اور اسرائیل کے درمیان واقع بفرزون میں اسرائیلی فوج کی طرف سے تعمیرات کا انکشاف, پال براؤن، رچرڈ اروائن اور ایلیکس مرے، بی بی سی ویریفائی
،تصویر کا ذریعہBBC / Planet Lab PBC
حال ہی میں سیٹیلائٹ سے موصول تصاویر سے یہ بات علم میں آئی ہے کہ اسرائیلی ڈیفینس فورسز نے اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں کو شام سے جدا کرنے والے بفرزون (محفوظ علاقے ) میں تعمیرات کی ہیں۔
بی بی سی ویریفائی کوموصول ہونے والی خصوصی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ یہ تعمیرات 600 میٹر سے زیادہ رقبے پر اس علاقے میں ہو رہی ہیں جسے ایریا آف سیپریشن( علیحدہ کرنے والے علاقے) متعین کیا گیا ہے۔
1974 کے اسرائیل اور شام کے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج کو یہاں کے مغربی علاقے پر موجود حد کو عبور کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
جب ان تصاویر کے بارے میں اسرائیلی فوج سے سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے جواب میں دعویٰ کیا کہ ان کی فوجیں جنوبی شام میں بفر زون کے اندر اور سٹریٹجک مقامات پر شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کی حفاظت کے لیے سرگرم ہیں۔
21 جنوری کو حاصل کی گئی تصاویر میں اس علاقے میں نئی تعمیرات اور ٹرکوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ان تعمیرات کا آغاز ممکنہ طور پر رواں سال کے آغاز میں ہوا ہے اور یکم جنوری کو کم ریزولوشن کی تصاویر کو دیکھ کر اس مقام پر بتدریج تعمیرات کی نشاندہی کچھ مشکل نہیں۔
ان تصاویر میں تقریبا ایک کلومیٹر لمبے نئے راستے یا سڑک کا بھی
انکشاف ہوا ہے جو ایک پہلے سے موجود سڑک کے ساتھ مل کر اسرائیلی علاقے کی جانب
جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
شامی صحافی کی 20 جنوری کو شیئر کی گئی ڈرون تصاویر میں اس
مقام پر ٹرک، کھدائی کرنے والی مشینیں، اور بلڈوزر بھی دیکھے گئے ہیں۔
دفاعی انٹیلیجنس کمپنی ’جینز کے مشرق وسطیٰ کے
ماہر جیریمی بینی کے مطابق تصاویر دیکھ کر
لگتا ہے کہ یہاں چار گارڈ پوسٹ رکھی گئی
ہیں جنھیں ممکنہ طور پر کرین کے ذریعے نچب کیا جائے گا۔
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عارضی طور پر یہاں ٹھرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہBBC / Planet Lab PBC
،تصویر کا کیپشنیکم جنوری ک= کی تصاویر کو دیکھ کر اس مقام پر بتدریج تعمیرات کی نشاندہی مشکل نہیں
بی بی سی نے اس سے قبل بھی بفرزون کے اندر واقع مجدل شمس کے قریب فوجی فورسز کو فلمایا تھا جو ان نئی تعمیرات سے تقریباً ساڑھے پانچ کلومیٹر دور ہے۔
نومبر 2024 میں لی گئی ان سیٹلائٹ تصاویر میں بھی اسرائیلی فوج کو بفرزون کے مغربی حصے پر موجود الفا لائن کے ساتھ کھدائی کرتے دکھایا تھا۔
گزشتہ ماہ شامی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی فورسز کو اس علاقے میں داخل ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ ہم اپنی سرحد پر کسی بھی دشمن قوت کو آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
اقوام متحدہ کی ڈس انگیجمنٹ آبزرور فورس (UNDOF) نے واضح کیا ہے کہ شام کے ساتھ جڑے اس حصے میں اسرائیلی تعمیرات جنگ بندی معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہیں۔
بریکنگ, پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پی ٹی آئی ارکان کی نعرے بازی اور احتجاج
پاکستان کی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت تقریبا سوا گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اور پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے نعرے بازی اور شور شرابے کے دوران قانون سازی کا عمل مکمل ہوتے ہی ملتوی کر دیا گیا۔
اجلاس کے آغاز پر پی ٹی آئی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت چاہی تاہم سپیکر نے انھیں اجازت نہیں دی جس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج شروع کر دیا۔
قانون سازی کے دوران مختلف بلوں کی منظوری کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں نے نہ صرف ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑیں بلکہ مسلسل شور شرابا بھی کرتے رہے اور حکومت مخالف نعرے بازی کرتے رہے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے ایجنڈے کے مطابق قانون سازی کا عمل مکمل کیا اور اس کے فوری بعد اجلاس کو 12 فروری تک ملتوی کر کے مشترکہ اجلاس کی نشست برخاست کر دی۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، پیکا بل کے خلاف صحافیوں کا کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس جمعے کے روز(آج ) دس بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے تاہم ایک ایک گھنٹے سے زاخد تاخیر کے بعد اجلاس شروع ہوا۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے مشترکہ اجلاس کا 17 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا گیا ہے جس میں مختلف ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
صحافتی تنظیموں کی جانب سے پیکا بل کی منظوری کے خلاف بطور احتجاج کالی پٹیاں باندھ کر کوریج کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات کی شام متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دی ہے جس میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ جو شخص آن لائن ’فیک نیوز‘ پھیلانے میں ملوث پایا گیا اسے تین سال قید یا 20 لاکھ تک جرمانے یا دونوں (قید اور جرمانہ) سزائیں دی جا سکیں گی۔
24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی اور اس کے بعد پارلیمان کے ایوانِ زیریں سے پاس کیے جانے والے اِس حکومتی بِل پر ناصرف صحافتی تنظیمیں اور سیاسی جماعتوں کے اراکین بلکہ ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندے بھی اپنے سخت تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
صحافی تنظیموں کی جوائنٹ ا یکشن کمیٹی نے متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ترجمان قومی اسمبلی کے بیان کے مطابق مشترکہ اجلاس کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیںجس کے تحت مشترکہ اجلاس کے دوران مہمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق پریس گیلری کی کوریج کرنے والے صحافیوں کا داخلہ قومی اسمبلی کے پہلے سے جاری کردہ کارڈ پر ہو گا۔
اس سے قبل ایوان بالا (سینیٹ) کے اجلاس کا وقت بھی تبدیل صبح ساڑھے 10 بجے کے بجائے ڈھائی بجے کر دیا گیا ہے۔
ملک ریاض بتائیں کہ کون سے جرنیلوں، ججوں اور سیاستدانوں نے اُن سے مالی فوائد حاصل کیے: عمران خان
،تصویر کا ذریعہgetty
سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک پیغام میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین سینیئر ترین ججوں پر مشتمل کمیشن کے علاوہ کچھ قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ ساتھ ہی انھوں نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ وہ ’بتائیں کہ گذشتہ 30 برسوں میں کون کون سے ججوں، جرنیلوں اور سیاستدانوں نے اُن سے پیسے اور دیگر مالی فوائد حاصل کیے۔‘
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے یہ مطالبات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام کیے ہیں۔
عمران خان نے ایکس پر مزید لکھا کہ ’ملک ریاض کا حالیہ بیان ہے کہ اگر وہ اپنا منہ کھولیں گے تو بہت سے لوگوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں ملک ریاض سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بتائیں پچھلے 30 سال میں کون کون سے ججز ، جرنیلوں اور سیاست دانوں نے ان سے پیسے اور دیگر مالی فوائد حاصل کیے تا کہ قوم کو معلوم ہو سکے کہ کون سے چہرے اس گندگی میں ملوث رہے ہیں۔‘
عمران خان کے مطابق ’یہ سب جو آج القادر ٹرسٹ کیس پر تنقید کر رہے ہیں کتنے دودھ کے دھلے ہیں دنیا کو معلوم ہونا چاہیئے۔‘
یاد رہے کہ دبئی میں مقیم پاکستان کے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے دو روز قبل ایک ٹویٹ کی تھی جس میں انھوں نے کسی کا نام لیے بغیر طویل بیان کی پہلی سطر میں لکھا تھا کہ ’میرا کل بھی یہ فیصلہ تھا، آج بھی یہ فیصلہ ہے کہ چاہے جتنا مرضی ظلم کر لو، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا۔‘
دوسری جانب حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے عمران خان نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ان کو سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین سینیر ترین جج صاحبان پر مشتمل کمیشن کے علاوہ کوئی آپشن قابل قبول نہیں۔
’سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین سینیر ترین جج صاحبان پر مشتمل کمیشن کا قیام کیا جائے تاکہ نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات میں ملوث اصل ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ اس کے بغیر ہمیں کوئی کمیشن قابل قبول نہیں ہے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ روز حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں ملک ریاض اور ان کے بیٹے کو مفرور قرار دیا تھا
عمران خان نے اپنے بیان میں مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان صاحبزادہ حامد رضا کے گھر اور مدرسے پرچھاپے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکومت ایک جانب مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہی ہے اور دوسری جانب انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ’ہم اس چھاپے کے بعد مذاکرات کا عمل فوری طور پر روک رہے ہیں۔ مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان اور ہمارے اتحادی کے گھر پر چھاپہ ہماری مذاکراتی کمیٹی پر حملہ ہے۔ اس دوغلے پن اور بدنیتی پر مبنی مذاکراتی عمل سے کوئی خیر برآمد نہیں ہو سکتی۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان نے پیغام میں اوور سیز پاکستانیوںکو مخاطب کرتے ہوئے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ’یہ حکومت اپنے ہی شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہے لہذا ان کو ترسیلات زر بھیجنے کا سختی سے بائیکاٹ کریں۔
’ہم نے کب کہا جوڈیشل کمیشن نہیں بنائیں گے، انتظار تو کریں، جواب تو لیں‘: عرفان صدیقی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے رکن سینیٹرعرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کے اعلان پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’ہم نے کب کہا کہ جوڈیشل کمیشن نہیں بنائیں گے۔‘
انھوں نے پی ٹی آئی کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا پیغام دیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت کی کمیٹی اب بھی قائم ہے اور ہم اس پر مزید ملیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پہلی میٹنگ میں یہ طے پایا تھا کہ وہ دوسری میٹنگ میں اپنے تحریری مطالبات لائیں گے لیکن انھیں اس میں چھ ہفتے لگے اور ہم سے یہ تقاضہ ہے کہ آپ پانچ دن کے اندر ہمیں مطالبات کا جواب دیں۔
’ہم نے ان مطالبات کو بڑی سنجیدگی سے لیا۔ ہم نے آپس میں مذاکرات کیے۔ آج جو پی ٹی آئی نے کہا ہے وہ بہت افسوسناک ہے۔ راضی ہونے کے بعد مجھے نہیں سمجھ آتی کہ ان سات دن میں کیا ہوا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ طے پایا تھا کہ ’سات ورکنگ دنوں کے اندر حکومتی کمیٹی اپوزیشن کے مطالبات پر اپنا باضابطہ تحریری موقف دے گی۔ یہ ورکنگ دن 28 جنوری کو پورے ہوتے ہیں اور ہم تندہی سے کام کر رہے ہیں۔‘
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ وہ جس بیتابی سے آئے تھے اسی سے واپس جا رہے ہیں ہم ان سے کہتے ہیں کہ ابھی کچھ انتظار کریں۔
عرفان صدیقی نے اپنے پیغام میں پی ٹی آئی کے کمیٹی اراکین سے کہا کہ وہ مذاکرات کرنے پر غور کریں۔
’ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ان کے اختیار میں ہے تو علی گوہر صاحب اور عمر ایوب یا دیگر ارکان کمیٹی اس پر غور کریں اور اس مذاکراتی عمل کو نہ چھوڑیں۔‘
گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ
جمعرات کے روز کی اہم خبروں کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
مراکش میں کشتی حادثے میں ملوث افراد کے خلاف پاکستانی حکام کی جانب سے کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملزم کو چھاپہ مار کارروائی میں سمبڑیال سے گرفتار کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور ہونا تھا تاہم حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر اب تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے قبول خیل منصوبے پر کام کرنے والے ملازمین کی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی تحویل سے عدم بازیابی کے خلاف جمعرات کے روز لکی مروت میں احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے مغویوں کی بحفاظت بازیابی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے ان ملازمین کو جلد سے جلد بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک رابطے میں کہا ہے کہ سعودی عرب امریکہ میں 600 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے اپنی پہلی مدت کے دوران سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رہے تھے۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبریں پیش کی جاتی ہیں۔ تاہم اگر آپ گزشتہ روز کی خبروں کو بھی پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔