پاکستان محاذ آرائی نہیں چاہتا لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تیار ہے: اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ علاقائی استحکام یکطرفہ طور پر برقرار نہیں رہ سکتا اور پاکستان محاذ آرائی نہیں چاہتا لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
خلاصہ
پاکستان کی حکومت اور فوج کے ترجمانوں نے سیاسی جماعتوں کے رہنماوؑں کو قومی سلامتی سے متعلق ان کیمرا بریفنگ دی جس میں انڈیا کے ساتھ بڑھتے تناؤ کا تذکرہ کیا گیا
اس بریفنگ میں تحریک انصاف کی عدم شمولیت پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے تنقید کی
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کو ہدایت کی کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے فوری اقدامات کریں
لائیو کوریج
پاکستان کا انڈیا کے ’جارحانہ اقدامات‘ پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشندفتر خارجہ کے مطابق پاکستان واضح کرے گا کہ کس طرح انڈیا کے جارحانہ اقدامات جنوبی ایشیا اور خطے سے باہر امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمّد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق پاکستان نے باضابطہ طور پر خطے کی تازہ ترین صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو انڈیا کے جارحانہ اقدامات، اشتعال انگیزی اور اشتعال انگیز بیانات سے آگاہ کرے گا۔
پاکستان خصوصی طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے لیے انڈیا کے غیر قانونی اقدامات کو اجاگر کرے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان واضح کرے گا کہ کس طرح انڈیا کے جارحانہ اقدامات جنوبی ایشیا اور خطے سے باہر امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ’یہ اہم سفارتی اقدام پاکستان کی عالمی برادری کے سامنے درست حقائق پیش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔‘
پی ٹی آئی کا پاکستان اور انڈیا کی صورتحال پر حکومتی بریفنگ میں شرکت سے انکار، کل جماعتی کانفرنس بلانے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان اور انڈیا کی موجودہ صورتحال پرحکومتی بریفنگ میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اعلامیے میں کیا گیا ہے۔ پی ٹی ائی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کو آل پارٹیزکانفرنس بلانی چاہیے تھی، تمام قومی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا۔ پی ٹی آئی کے مطابق بدقسمتی سے حکومتی وزیر کی طرف سے یک طرفہ بریفنگ دی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ڈائیریکٹر جنرل آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف آج (اتوار) تمام سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کو موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں بریفنگ دیں گے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق، یہ بریفنگ پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال اور اس کے مضمرات کے حوالے سے ہو گی۔
سیاسی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ بیرونی جارحیت کی صورت میں ملک کے دفاع کے لیے صفِ اول میں ہوں گے۔ پی ٹی آئی نے انڈین پروپیگنڈے پر اصولی مؤقف کو قوم کے سامنے رکھا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور بانی پی ٹی آئی (عمران خان) نے قوم کے نام پیغامات میں دہشتگردی کی مذمت کی۔ ’بانی نے قومی یکجہتی، اتحاد اور داخلی استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘
حوثی باغیوں کا اسرائیلی ہوائی اڈے کے قریب میزائل حملہ، عارضی تعطل کے بعد پروازیں دوبارہ بحال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنحوثی باغیوں کے ترجمان یحیٰ سری نے ایک ٹی وی بیان میں کہا ہے کہ اس وقت اسرائیل کا ایئرپورٹ فضائی سفر کے لیے محفوط نہیں ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یمن سے فائر کیا گیا ایک میزائل اتوار کی صبح اسرائیل کے بین گورین ہوائی اڈے کے مرکزی ٹرمینل کے قریب آ کر گرا۔
آن لائن پوسٹ کی گئی غیر تصدیق شدہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ تل ابیب کے مضافات میں ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں کے بادل بن رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے ایمرجنسی سروسز کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ دھماکے سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پناہ گاہ کی طرف سے جاتے ہوئے مزید دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جو کوئی ہمیں مارے گا، ہم اسے سات گنا زیادہ زور سے ماریں گے۔‘
حوثی باغیوں کے ترجمان یحیٰ سری نے ایک ٹی وی بیان میں کہا ہے کہ اس وقت اسرائیل کا ایئرپورٹ فضائی سفر کے لیے محفوط نہیں ہے۔
یہ ایئرپورٹ اب عارضی تعطل کے بعد پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ جب میزائل اسرائیل کی طرف فائر کیا گیا تو ملک کے مختلف حصوں میں سائرن بجنا شروع ہو گئے اور اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس میزائل کو مار گرانے میں ناکامی سے متعلق وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ایک سینیئر اسرائیلی پولیس کمانڈر نے صحافیوں کو میزائل گرنے کی جگہ پر گڑھا دکھایا، جو ہوائی اڈے کے حکام کے مطابق ٹرمینل تھری پارکنگ لاٹ کے قریب سڑک کے کنارے گرا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس میزائل سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوا۔
اسرائیل کے چینل 12 نیوز نے کہا کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اتوار کو وزرا اور دفاعی حکام سے ملاقات کرنے والے ہیں تاکہ اس حملے کی جوابی حکمت عملی سے متعلق تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
یمن میں قائم ایک ایرانی حمایت یافتہ باغی گروپ حوثیوں نے غزہ میں حماس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے باقاعدگی سے اسرائیل پر میزائل حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کے جدید ترین فضائی دفاع کے نظام سے ان حملوں کو ناکام بنا دیا جاتا رہے۔
یہ گروپ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے بھی کرتا رہا ہے، جس کے جواب میں امریکہ نے اس کے خلاف بمباری کی مہم کی قیادت کی ہے - جس میں برطانیہ نے مدد کی ہے۔
’حملے کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے‘: پاکستانی وزیراطلاعات
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ جو آج (اتوار) ڈائیریکٹر جنرل آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کو موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں بریفنگ دیں گے نے کہا ہے کہ انڈیا ایک مکار دشمن ہے اور اس کی طرف سے ابھی حملے کا خطرہ ٹلا نہیں ہے۔
انھوں نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں انڈیا کے حملے کے خطرے سے متعلق بات کی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے انڈیا کی طرف سے ممکنہ حملے سے متعلق چند گھنٹے کی ڈیڈلائن دی تھی کہ اتنے وقت میں حملہ ہو سکتا ہے تو کیا ابھی بھی یہ خطرہ موجود ہے اس پر عطا تارڑ نے کہا کہ انڈیا بہت مکار ہے اور وہ کسی بھی وقت کچھ کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان ہر طرح سے انڈیا کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اس مرتبہ اگر انڈیا نے حملے کی کوشش کی تو فینٹیسٹک چائے نہیں بلکہ مار پڑے گی۔
انڈین فضائیہ کے سربراہ کی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنانڈین فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق، پہلگام
حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اتوار کے روز
انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی
سے ملاقات کی ہے۔
تاہم اس ملاقات کے بارے
میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
اس سے قبل سنیچر کے روز انڈین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش
کے ترپاٹھی نے بھی انڈین وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی اور انھیں بحیرہ عرب کے اہم سمندری
راستوں کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام
پہلگام میں ایک حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد نریندر مودی نے اپنی رہائش گاہ
پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدرات کی تھی جس میں وزیر دفاع راجناتھ
سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال سمیت تینوں سروسز کے سربراہان موجود تھے۔
اس اجلاس کے موقع پر انڈین وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پہلگام
حملے کے ردعمل میں طریقہ کار، اہداف اور وقت کا تعین کرنے میں مسلح افواج کو ’مکمل
آپریشنل آزادی‘ ہے۔
وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا کہ پہلگام میں حملے کے بعد مسلح
افواج کو ’کھلی آپریشنل آزادی‘ ہے۔
اسرائیل کے ’دہرے کھیل‘ کے الزام پر قطر کا ردعمل: ’کیا 138 یرغمالی غزہ میں نام نہاد فوجی آپریشن سے بازیاب ہوئے؟‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشناسرائیلی فوج نے غزہ میں متوقع بڑے پیمانے پر آپریشن میں مدد کے لیے ہزاروں ریزرو فوجیوں کی خدمات طلب کر لی ہیں۔
قطر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کی جانب سے
حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں بطور ثالث ’دہرے کھیل‘ کے الزام کو
مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک اس ہی کی کوششوں کے نتیجے میں یرغمالیوں کی
رہائی ممکن ہو پائی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں
قطر پر دونوں فریقین سے دہری باتیں کر کے دہرا کھیل کھیلنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا
تھا کہ اب اسے ’فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ مہذب دنیا کے ساتھ ہے یا حماس کے ساتھ‘۔
نتن یاہو کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے قطری وزارت خارجہ کے
ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے جاری ’اشتعال انگیز‘ بیان کو مسترد کرتا ہے جس
میں ان کے مطابق ’نچلی ترین سطح کے سیاسی
اور اخلاقی ذمہ داری کا بھی مظاہرہ نہیں کیا گیا۔‘
قطری عہدیدار نے اسرائیل کی جانب سے مہذب دنیا کا ساتھ دینے کے
مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غزہ
کے خلاف مسلسل جارحیت کو تہذیب کے دفاع کے طور پر پیش کرنے سے ماضی کی ان حکومتوں
کی بیان بازی ذہن میں آجاتی ہے جو معصوم شہریوں کے خلاف اپنے جرائم کو جواز
فراہم کرنے کے لیے جھوٹے نعرے استعمال کرتی آئی ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے، ’جنگ کے آغاز سے قطر نے اپنے شراکت داروں کے
ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کرتے ہوئے ثالثی کی کاوشوں کی ہر ممکن حمایت کی کوشش کی ہے جس کا
مقصد لڑائی ختم کرنا، شہریوں کی حفاظت اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا ہے۔‘
ماجد الانصاری نے کہا کہ اسرائیل یہ بتائے کہ کیا 138 یرغمالیوں
کو فوجی کارروائیوں کے ذریعے رہا کروایا گیا ہے یا ثالثی کی ان کوششوں کے ذریعے جن
پر اب سوال اٹھایا جا رہا ہے؟
ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ ’جھوٹی معلومات پرمبنی مہم‘ اور ’سیاسی دباؤ‘ کو استعمال کر کے قطر کو لوگوں کے حقوق اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے
کھڑے ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
نتن یاہو کے الزامات قطر کی جانب سے جمعے کے روز دی ہیگ میں بین
الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں قطر نے اسرائیل
پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔ نتن یاہو کا اصرار ہے کہ اسرائیل ’حق کی لڑائی‘ کر رہا ہے۔
دریں اثنا، اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نتن یاہو کی جانب سے
آذربائیجان کا دورہ ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ میں متوقع بڑے
پیمانے پر آپریشن میں مدد کے لیے ہزاروں ریزرو فوجیوں کی خدمات طلب کر لی ہیں۔
اسرائیلی اخبار یدیوتھ احرونوت کے مطابق، ریزرو فوجیوں کو ریگولر
فوجیوں کی جگہ لبنان کے ساتھ سرحد اور مقبوضہ مغربی کنارے میں تعینات کیا جائے گا
تاکہ ریگولر فوجی غزہ پر ایک نئے حملے میں حصہ لے سکیں۔
پاکستانی رینجرز اہلکار بی ایس ایف کی ’تحویل میں‘، انڈین میڈیا کا دعویٰ
انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آَئی) نے
سرکاری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف)
نے ایک پاکستانی رینجرز اہلکار کو حراست میں لے لیا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق، رینجرز اہلکار کو انڈیا کی ریاست راجستھان
میں پاک-انڈیا سرحد کے نزدیک سے بی ایس ایف کی راجستھان فرنٹیئر نے حراست میں لیا ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے فی الحال اس واقعے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے جبکہ بی ایس ایف کی جانب سے بھی اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پی ٹی نے دعوی کیا ھا کہ پاکستانی
رینجرز نے بی ایس ایف کے ایک اہلکار کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ غلطی سے
پنجاب میں سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہو گیا تھا۔ حراست میں لیے گئے
بی ایس ایف اہلکار کی شناخت پرنم کمار ساؤ کے نام سے ہوئی تھی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سوموار کے روز طلب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنسوموار کو ہونے والا اجلاس موجودہ قومی اسمبلی کا 16واں اجلاس ہو گا۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 5 مئی 2025 بروز سوموار شام پانچ بجے طلب کر لیا ہے۔
صدر زردای نے قومی اسمبلی کا اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 کی شق 1 کے تحت تفویض شدہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہو طلب کیا ہے۔
سوموار کو ہونے والا اجلاس موجودہ قومی اسمبلی کا 16واں اجلاس ہو گا۔
اس سے قبل سنیچر کے روز وزیر دفاع خواجہ آصف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سوموار کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے جس میں انڈیا کی جانب سے ممکنہ جارحیت اور اقدامات کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی جائے۔
گذشتہ ماہ کے اواخر میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سینیٹ میں انڈیا کی حالیہ جارحیت اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 لوگ مارے گئے جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ انڈیا نے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پرعائد کیا ہے جس کی پاکستان سختی سے تردید کرتا ہے۔
پاکستان، انڈیا کشیدگی: وفاقی وزیر اطلاعات، ڈی جی آئی ایس پی آر سیاسی جماعتوں کو بریفنگ آج دیں گے
،تصویر کا ذریعہPID/ISPR
،تصویر کا کیپشنوفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ڈائیریکٹر جنرل آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف آج سءیاسی قیادت کو موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں بریفنگ دیں گے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ڈائیریکٹر جنرل آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف آج (اتوار) تمام سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کو موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں بریفنگ دیں گے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق، یہ بریفنگ پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال اور اس کے مضمرات کے حوالے سے ہو گی۔
اس موقع پر سیاسی رہنماؤں کو پاکستان کی دفاعی تیاریوں، سفارتی اقدامات اور ریاستی موقف سے آگاہ کیا جائے گا۔
یار رہے کہ گذشتہ ماہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر حنلے کے بعد سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
کوئی بھی انڈین بحری جہاز اب پاکستانی بندرگاہوں پر لنگر انداز نہیں ہوگا: وزارتِ بحری امور پاکستان
پاکستان کی جانب سے انڈین پرچم بردار بحری جہازوں کا پاکستانی بندرگاہوں پر داخلہ فوری طور پر بند کردیا گیا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ بحری امور کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ حالات کے تناظر میں سمندری خودمختاری، اقتصادی مفادات اور قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر مندرجہ ذیل اقدامات کیے جائیں گے، انڈین جھنڈے والے بحری جہازوں کو کسی بھی پاکستانی بندرگاہ تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح پاکستانی پرچم بردار بحری جہاز کسی بھی انڈین بندرگاہ کا دورہ نہیں کریں گے۔‘
اس سے قبل انڈیا کی جانب سے بھی پاکستانی بحری جہازوں پر اسی طرح کی پابندی لگائی گئی تھی۔
اس کے علاوہ انڈیا کی وزارت صنعت و تجارت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کی جانب سے جمعے کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستان سے درآمدت کی جانے والی تمام اشیا پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے غیر جانبدار اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات میں پاکستان مکمل تعاون کرے گا اور اگر ترکی اس میں شامل ہوتا ہے تو پاکستان اس کا خیرمقدم کرے گا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے انڈیا پاکستان کے درمیان کشیدہ صورت حال کے پیش نظر لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں مقیم آبادی کے لیے دو ماہ کی اضافی خوراک ذخیرہ کرنا شروع کر دی ہے۔
پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث انڈیا نے پاکستان سے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے جبکہ ڈاک اور پارسلز کی ترسیل کا عمل معطل کر دیا ہے۔
پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل ابدالی ویپن سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا ہے جو 450 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔