آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لیبیا کے فوجی سربراہ ترکی میں فضائی حادثے میں ہلاک

ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک فالکن 50 طیارے میں چار دیگر افراد کے ساتھ سوار تھے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہوا تھا۔یہ حادثہ لیبیا کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جنرل محمد علی فوجی قیادت میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

خلاصہ

  • ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد ہلاک ہو گئے ہیں
  • کرک میں پولیس کی موبائل وین پر شدت پسندوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکار ہلاک
  • ڈونلڈ ٹرمپ کا گرین لینڈ کے لیے خصوصی ایلچی کا اعلان: 'ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے'
  • دہلی کے بعد بنگلہ دیش نے انڈیا کے مزید دو شہروں میں ویزا دفاتر عارضی طور پر بند کر دیے

لائیو کوریج

  1. آرمی چیف عاصم منیر کی انڈیا کو ہرانے والی پاکستان کی انڈر-19 کرکٹ ٹیم سے ملاقات، کامیابی پر مبارکباد

    پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر نے پیر کو راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز جی ایچ کیو میں پاکستان انڈر-19 کرکٹ ٹیم سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں انھوں نے ایشیا کپ انڈر-19 میں کامیابی حاصل کرنے پر کھلاڑیوں، ٹیم مینجمنٹ اور حکام کو مبارکباد دی۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ’فیلڈ مارشل نے ٹیم کے نظم و ضبط، ٹیم ورک اور جذبۂ جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق عاصم منیر نے نوجوان کھلاڑیوں کی محنت اور لگن کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کے نوجوانوں کی صلاحیت اور قابلیت کی عکاسی کرتی ہے۔

    اس ٹیم کے کھلاڑیوں نے فیلڈ مارشل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعتراف اور حوصلہ افزائی ان کے لیے مزید محنت اور کامیابی کی تحریک ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کھلاڑیوں کو ہدایت دی کہ وہ بہترین کارکردگی کے لیے مسلسل کوشش جاری رکھیں، پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھیں اور میدان کے اندر اور باہر ملک کے سفیر کے طور پر کردار ادا کریں۔

    فیلڈ مارشل نے زور دیا کہ پاکستان کے نوجوان ملک کے مستقبل کی بنیاد ہیں، جن کی توانائی، صلاحیت اور کردار ملک کی ترقی اور عالمی حیثیت کو متعین کریں گے۔

    انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انھیں مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ وہ نظم و ضبط، دیانت داری اور لگن کے ذریعے قومی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

  2. ایران کا میزائل پروگرام دفاعی مقاصد کے لیے ہے، کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ جس پر مذاکرات کیے جائیں: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام دفاع کے لیے تیار کیا گیا ہے، نہ کہ مذاکرات کے لیے۔

    اسماعیل بقائی نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا ’ایران کی دفاعی صلاحیتیں، جو کسی بھی مخلاف کو ایران پر حملے کے خیال سے روکنے کے لیے تیار کی جا رہی ہیں ایسا معاملہ نہیں ہے کہ اس پر بات چیت کی جا سکے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف جہاں ’اسرائیل کو بلا روک ٹوک اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے وہیں ایران کے میزائل پروگرام کو خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔‘

    امریکی ٹی وی نیٹ ورک این بی سی نے دو دن قبل اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ ’اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ ایران بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک منصوبہ پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ایران پر دوبارہ حملے کے ممکنہ آپشنز پر ان سے بات کی جا سکے۔‘

    اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اُن یورینیم افزودگی کی تنصیبات کی بحالی پر بھی تشویش رکھتا ہے جو امریکی حملوں کا نشانہ بنی تھیں، تاہم اس کی فوری توجہ ایران کے میزائل پروگرام اور فضائی دفاعی نظام کی بحالی پر مرکوز ہے، جو 12 روزہ جنگ کے دوران تقریباً ناکارہ ہو گیا تھا۔

    تاہم گزشتہ روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ماسکو کے دورے اور آر ٹی نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’تہران نئے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا اور اس کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہے، حتیٰ کے ماضی سے بھی زیادہ تیار۔‘

    عباس عراقچی نے زور دیا کہ ’ایران جنگ کا خیرمقدم تو نہیں کرتا، لیکن اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے کیونکہ جنگ کو روکنے کا بہترین طریقہ اس کے لیے تیار ہونا ہے۔‘

  3. وادیِ تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن: مقامی آبادی کی 10 جنوری سے نقل مکانی کی مشروط رضا مندی, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں وادی تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے لیے معاہدے کے بعد نقل مکانی کا شیڈول طے پا گیا ہے۔

    اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ خیبر اور وادی تیراہ کے نمائندہ جرگہ ایک معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔ جس کے بعد علاقہ فوجی آپریشن کے لیے خالی کیا جائے گا۔

    جرگہ ممبر ملک کمال الدین نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبر انتظامیہ اور مختلف قبائل کا 24 رکنی جرگہ گزشتہ روز خیبر ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں سکیورٹی فورسز اور صوبائی حکومت کی اعلیٰ قیادت نے کچھ ترمیم کے بعد 27 نکاتی معاہدے کی ساری شقیں منظور کرلی ہیں۔ جس کے بعد دس جنوری سے علاقے خالی کرنا شروع ہوجائیں گے۔

    جبکہ یہ عمل 25 جنوری تک مکمل ہوگا اور معاہدے کے تحت 25 اپریل سے خاندانوں کی علاقے میں واپسی شروع ہو جائے گی۔ اسی طرح مکمل گھر کا نقصان 80 لاکھ سے کم کر کے 30 لاکھ کر دیا گیا ہے جبکہ گھر کو جزوی طور پر پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ تیس لاکھ رکھا گیا ہے۔ اسی طرح نقل مکانی کے وقت ہر متاثرہ خاندان کو ڈھائی لاکھ روہے نقد امداد دی جائیگی جبکہ ہر ماہ 50 ہزار روہے دیے جائیں گے۔

    جرگہ ممبر کے مطابق متاثرین کو طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دوتوئی، حیدر کنڈو، تور توت، کرم ایجنسی کے بارڈر کے علاقے اور راجگال کے علاقے کے لوگ نقل مکانی کرینگے اور انھوں نے اس معاہدے کی تصدیق بھی کی ہے۔

    یاد رہے کہ گیارہ دسمبر کو وادی تیراہ کی اقوام کا نمائندہ جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں قمبر خیل، ملک دین خیل، شلوبر، آدم خیل، اکاخیل اور ذخہ خیل پر مشتمل 24 رکنی جرگہ نے 27 نکات ہر مبنی شرائط نامہ حکومت کو بھیجا تھا اور کہا گیا تھا کہ جب تک یہ یقین دہانی نہیں کرائی جاتی کہ آیندہ علاقے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوگا اور نہ ہی علاقے میں دوبارہ حالات خراب ہونگے۔ یہ شرط بھی منظور کرلی گئی ہے جبکہ دیگر میں واپس آنے کے بعد علاقے کے لوگوں سے کوئی امن کمیٹی نیں بنوائی جائیگی۔

    مزید یہ کہ امن ومان کی ذمہ داری حکومت کی ہوگی اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے قبضے میں جو بھی گھر ہونگے وہ اپنے مالکان کو حوالہ کیے جائیں گے۔

    ملک کمال الدین کو انتظامیہ نے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی کاپی باہر شیئر کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں بشمول ٹانک، وادی تیراہ اور باجوڑ میں حالیہ کچھ عرصے میں جہاں بدامنی کے واقعات بڑھے ہیں، وہیں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں پر مقامی افراد نے احتجاج بھی کیا ہے۔

    گذشتہ چند ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں شہری ہلاکتوں کے ایسے دو واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جولائی میں تیراہ میں ہی ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک بچی کی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد ہونے والے احتجاج پر فائرنگ سے پانچ افراد مارے گئے تھے۔

    اس کے علاوہ جولائی میں ہی باجوڑ میں بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران تین شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

  4. ماسکو میں گاڑی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں روسی جنرل ہلاک

    روس میںحکام کا کہنا ہے کہ ماسکو میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں ملک کی فوج کے ایک جنرل ہلاک ہو گئے ہیں۔

    روس کی ’انویسٹیگیٹیو کمیٹی‘کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فانیل سروروف پیر کی صبح اُس وقت ہلاک ہوئے جب ایک کار کے نیچے نصب دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔

    انویسٹیگیٹو کمیٹی نے مزید بتایا کہ جرنل سروروف مسلح افواج کے محکمہ آپریشنل ٹریننگ کے سربراہ تھے۔

    کمیٹی کے مطابق اس معاملے میں ایک پہلو یہ بھی زیرِ غور ہے کہ کیا اس واقعے میں یوکرینی خفیہ اداروں کا ممکنہ کردار ہے۔ یوکرین کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق تفتیش کاروں کو جائے وقوعہ پر بھیج دیا گیا ہے، جو روسی دارالحکومت کے جنوبی حصے میں واقع ہے۔

    روسی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ دھماکہ ایک رہائشی عمارت کے قریب کار پارک میں ہوا۔

  5. طویل خشک موسم کے بعد مختلف شہروں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری: ’پہلے دسمبر میں اس سے کہیں زیادہ بارشیں تھیں‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان میں طویل خشک موسم کے بعد مختلف شہروں میں بارشیں اور پہاڑوں پر برفباری کا آغاز ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں گذشتہ چار پانچ سال کے معمول کے مطابق ہوئی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق، گذشتہ دو روز میں سب سے زیادہ بارش پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ میں 23 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ صوبہ پنجاب کے پہاڑی علاقے مری میں 19، خیبر پختونخوا کے علاقے بالاکوٹ میں 17 اور گلگت بلستان کے علاقے استور میں 16 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے شمالی علاقہ جات میں پہاڑوں اور بعض سیاحتی مقامات بشمول مالم جبہ میں بھی برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فہیم خان نے بتایا کہ ایک طویل خشک وقفے کے بعد یہ بارش ہوئی ہے لیکن یہ بارش گزشتہ چار سے پانچ سالوں کے تسلسل کے مطابق ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ پہلے دسمبر میں اس سے کہیں زیادہ بارشیں ریکارڈ کی جاتی رہی ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے سیاحوں کے سہولت مرکز کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک گلیات کے علاقے میں برفباری نہیں ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا کے جن علاقوں میں برفباری ہوئی ہے ان میں:

    • بالائی چترال: ایک انچ برفباری
    • دیر: 2 سے 3 انچ برفباری
    • مالم جبہ: 3 سے 4 انچ برفباری
    • کالام: 2 انچ برفباری

    ادھر گلگت بلستان سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اگرچہ پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے لیکن شہری علاقوں میں جہاں ہر سال دسمبر میں برفباری ہوا کرتی تھی اب تک برف نہیں پڑی ہے۔

    ہنزہ میں موجود محمد حنیف نے بتایا ہے کہ ہنزہ سے سوست اور پاک چین سرحد کی طرف جائیں تو یہاں اب تک بارش بھی نہیں ہوئی ہے اور موسمی تبدیلی کا اثر یہاں محسوس کیا جا رہا ہے حالانکہ پہلے ان دنوں میں اچھی خاصی بارش اور برف پڑتی تھی۔

    سکردو سے مقامی صحافی موسی نے بتایا ہے کہ سکردو شہر میں برف نہیں پڑی لیکن پہاڑوں پر برفباری ہو رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا شیلا، کتی شو، بشو، دیوسائی، گلتری اور شگر کے ٹو کے دامن میں واقع علاقوں، خصوصاً اسکولی کے علاقے میں، سیزن کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ادھر خیبر پختونخوا کے بالائی علاقے مالم جبہ سے ہوٹل مالک حیات حسین نے بتایا کہ یہاں برفباری ہوئی تو ہے لیکن بہت زیادہ نہیں۔

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں اس علاقے میں برفباری نہ ہونے کے برابر تھی بعد ازاں فروری اور مارچ میں برف باری ہوئی تھی۔

  6. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں بچے کو کچرے کے ڈھیر سے ملنے والا کھلونا چینی ساختہ سنائپر ٹیلیسکوپ نکلی, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سری نگر

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے خطے جموں کے سِدھرا قصبے میں ایک چھ سالہ بچہ کو کچرے سے سنائپر رائفل پر لگائی جانے والی ٹیلیسکوپ ملنے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں گشت تیز کر دیا ہے۔

    جموں کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے اتوار کے روز بتایا کہ ’سِدھرا کے ایک گاوں میں سیکورٹی اہلکاروں نے ایک چھ سالہ بچے کو دُوربین جیسے کسی آلے کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو انھوں فوراً اس آلے کو تحویل میں لے کر مقامی تھانے پہنچایا۔ آلے کی جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ چینی ساخت کا سنائپر ٹیلیسکوپ ہے، جسے کسی بھی اسالٹ یا سنائپر رائفل پر نصب کیا جا سکتا ہے۔‘

    پولیس کے مطابق بچے کے والدین سے پوچھ گچھ کی گئی تو معلوم ہوا کہ بچے کو یہ ٹیلیسکوپ اپنے گھر کے نزدیک کچرے کے ایک ڈھیر سے ملی تھی۔

    اس برآمدگی کے بعد پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے سِدھرا قصبے میں گشت تیز کر دیا ہے۔

    دوسری جانب، ایک علیحدہ واقعہ میں قریبی ضلع سانبہ سے ایک کشمیری نوجوان تنویر احمد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ وادی کے اننت ناگ ضلع سے تعلق رکھنے والے تنویر کے فون میں ایک پاکستانی فون نمبر ملنے کے بعد انہیں پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

    پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں۔

    واضح رہے جس مقام سے چینی ٹیلیسکوپ ملا ہے وہاں نہ صرف انڈیا کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس یا سی آر پی ایف اور دوسرے نیم فوجی اداروں کے بڑے کیمپ ہیں بلکہ یہیں انسداد دہشت گردی سے متعلق نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی یا این آئی اے کا صوبائی ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔

    اس واقعہ کے بعد تمام حساس فوجی اور نیم فوجی تنصیبات کے ارد گرد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ شاہراہوں پر بھی گاڑیوں اور مسافروں کی تلاشی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق سانبہ اور سِدھرا کے دونوں واقعات کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  7. بونڈائی ساحل: ’مبینہ حملہ آوروں نے ٹیٹس بال بم سمیت چار دیسی ساختہ بم پھینکے جو پھٹ نہ سکے‘, ہیلن لیونگ سٹون، بی بی سی سڈنی

    آسٹریلوی پولیس کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات سے پتا چلا ہے کہ گذشتہ ہفتے بونڈائی ساحل پر یہودی تہوار کے موقع پر کیے گئے دہشت گردی کے مہلک حملے میں ملوث مبینہ حملہ آوروں نے حملے کے آغاز پر چار دستی بم، جن میں ایک ’ٹینس بال بم‘ بھی شامل تھا، پھینکے تھے جو پھٹ نہ سکے۔

    اس حملے میں ملوث ایک مبینہ حملہ آور 24 سالہ نوید اکرم زندہ ہیں اور اُن پر 15 افراد کے قتل کے الزام سمیت درجنوں مختلف اور سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ حملہ 14 دسمبر کو ہنوکا کی تقریب کے دوران کیا گیا تھا۔

    اس موقع پر پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے نوید اکرم کو پیر (آج) کے روز ہسپتال سے فارغ کر کے جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    دوسرا مبینہ حملہ آور ساجد اکرم، نوید اکرم کے والد، موقع پر ہی پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہو گیا تھا۔

    حال ہی میں جاری کردہ پولیس دستاویزات کے مطابق دونوں مبینہ حملہ آوروں نے اکتوبر میں ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کیا تھا جس میں وہ داعش کے پرچم کے سامنے بیٹھے نظر آتے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے کئی ماہ تک اس دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کی اور نوید کے فون سے ملنے والی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ’تشدد پسند انتہا پسند نظریات‘ سے متاثر تھے۔

    دستاویزات میں پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک ویڈیو میں یہ دونوں حملہ آور نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کے پرچم کے سامنے بیٹھ کر حملے کی وجوہات بیان کرتے ہیں اور ’صیہونیوں کے اقدامات‘ کی مذمت کرتے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس ویڈیو میں نوید قرآن کی ایک آیت کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ایک اور ویڈیو میں دونوں باپ بیٹا کو نیو ساؤتھ ویلز میں اسلحہ کی تربیت حاصل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اس ویڈیو میں وہ شاٹ گنز چلاتے اور فوجی انداز میں حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔

    پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ حملے سے دو روز قبل بونڈی ساحل پر نصب سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آوروں کو اس علاقے میں گاڑی چلاتے اور موقع کا جائزہ لیتے دیکھا گیا۔ فوٹیج میں وہ اُسی پل پر نظر آتے ہیں جہاں کھڑے ہو کر بعد میں انپوں نے ساحل پر موجود لوگوں پر فائرنگ کی۔

    سامنے آنے والی مزید فوٹیج میں دونوں کو حملے سے کچھ دیر قبل سڈنی کے علاقے کیمسی میں کرائے پر حاصل کیے گئے مکان سے نکلتے دکھایا گیا ہے، جہاں وہ کمبلوں میں لپٹا اور اور بھاری سامان اٹھائے ہوئے ہیں۔ پولیس کا الزام ہے یہ سامان دراصل تین بندوقیں، گھریلو ساختہ دھماکہ خیز مواد بشمول ’ٹینس بال بم‘ اور داعش کے دو پرچم تھے۔

    پولیس کا الزام ہے کہ اس کے بعد وہ بونڈی ساحل پر پہنچے، گاڑی پارک کی اور داعش کے پرچم گاڑی کی کھڑکیوں پر لگائے اور اسلحہ اور بم لے کر پل کی طرف بڑھے جہاں سے انھوں نے حملے کا آغاز کیا۔

    پولیس کا الزام ہے کہ پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے پُل پر پہنچنے کے بعد حملہ آوروں نے دیسی ساختہ تین پائپ بم اور ایک ٹینس بال پھینکے لیکن وہ پھٹ نہ سکے، تاہم ماہرین نے ان دیسی ساختہ بموں کو ’قابلِ استعمال‘ قرار دیا ہے۔ گاڑی سے ایک پانچواں دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

    زندہ پکڑے جانے والے مبینہ حملہ آور نوید اکرم، جو پولیس کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوئے تھے اور جنھیں پیٹ میں گولی لگی تھی، وہ پیر (آج) کے روز عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔

  8. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی موجودگی: ’بندوق کی نوک پر کھانا لیا اور جنگل کی طرف بھاگ گئے‘, ریاض مسرور، بی بی سی اردو سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے جموں خطے کے اُدھم پور ضلع میں مبینہ عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک گھر سے بندوق کی نوک پر کھانا لے جانے کی اطلاع کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے میں ایک سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    مجالٹہ گاوں کے ایک رہائشی نے اتوار کی شب پولیس کو بتایا کہ دو مسلح عسکریت پسند رات میں اُن کے گھر میں داخل ہوئے اور بندوق کی نوک پر ان سے کھانا بنوایا اور کھانا لے کر قریبی جنگلات میں فرار ہو گئے۔

    اس انکشاف کے بعد پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے فوج اور نیم فوجی دستوں کے ہمراہ وسیع علاقے میں تلاشی مہم شروع کر دی۔

    یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ مجالٹہ میں گذشتہ ایک ہفتے سے مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف تلاشی مہم جاری ہے۔

    گذشتہ ہفتے مجالٹہ میں ہی عسکریت پسندوں اور انڈین سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپ بھی ہوئی تھی جس میں ایس او جی کا ایک اہلکار امجد علی پٹھان ہلاک جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند دھند اور گھنے جنگلات کا فائدہ اُٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم اس واقعے کے فوراً بعد اُدھم پور اور اس کے پڑوسی اضلاع میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کر دی گئی۔

    اتوار کی شب مجالٹہ میں رہائشی سے زبردستی کھانا لینے کی خبر کے بعد اب سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی توجہ اُدھم پور کے جنگلات پر ہی مرکوز کر لی ہے۔

    سرچ آپریشن میں شامل ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’یہ تلاشی مہم اس واقعہ سے پہلے ہی شروع کی گئی تھی کیونکہ خفیہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کے کئی لانچ پیڈز سے دہشت گرد دُھند اور سردی کا فائدہ اُٹھا کر جموں، سانبہ کٹھوعہ اور راجوری اضلاع میں ایل او سی سے ہمارے علاقے میں دراندازی کرسکتے ہیں۔‘

    دریں اثنا انڈین وزارت داخلہ نے سانبہ، کٹھوعہ اور اُدھم پور میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں کے قریبی علاقوں میں حالیہ واقعات کے بعد نیم فوجی سی آر پی ایف کی 25 اضافی کمپنیوں کو تعینات کیا ہے۔

    خیال رہے کہ انڈین حکومت نے 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے کئی مرتبہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس سے کشمیر میں عسکریت پسندی کا ہمشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا ہے، لیکن سال 2020 سے بیشتر حملے کئی دہائیوں سے نسبتاً پرامن رہنے والے جموں خطے میں ہوئے ہیں۔

    ایک فوجی افسر نے بتایا، ’ہمالیائی سلسلے سے گھِرے ہوئے جموں کے سبھی اضلاع میں جنگلاتی راستے ایل او سی کے ساتھ ملتے ہیں، اس لیے یہاں دہشت گردوں کو پہاڑی درّوں اور گھنے جنگلات میں پناہ لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ لیکن ہم نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے اور ہمہ وقت چوکسی اور ٹیکنالوجی کی مدد سے اُن کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

  9. اپوزیشن جماعتوں کا آٹھ فروری کو یومِ سیاہ منانے اور ملک گیر ہڑتال کا اعلان

    اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آٹھ فروری کو یومِ سیاہ کا اعلان کرتے ہوئے ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

    اتوار کے روز دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس کے بعد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس میں ملک بھر سے سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، وکلا، صحافیوں اور مختلف طبقات نے شرکت کی۔

    اعلامیے میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات، نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، 8 فروری کے انتخابات میں دھاندلی کی آزادانہ تحقیقات، عدلیہ کی آزادی کی بحالی، آئین کی اصل روح کے مطابق ادارہ جاتی توازن، جسٹس طارق جہانگیری سمیت باضمیر ججز کے خلاف اقدامات کی مذمت اور سیاسی انتقام کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بانی تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ سمیت تمام سیاسی اسیران، بلوچ اسیران اور لاپتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس کے علاوہ اعلامیے میں انسانی حقوق کی پامالی، خواتین پر تشدد، میڈیا سنسرشپ، پیکا قانون اور صحافیوں کے خلاف مقدمات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

  10. انڈیا کے بنگلہ دیش میں اپنے سفارتی عملے کی حفاظت کے حوالے سے خدشات جائز ہیں: سابق بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ

    بنگلہ دیش کی معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں اپنے سفارتی عملے کی حفاظت کے حوالے سے انڈیا کے خدشات جائز ہیں۔

    انڈیا کے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بذریعہ ای میل دیے گئے ایک انٹرویو میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بڑھتے ہوئے انڈیا مخالف جذبات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ان انتہا پسندوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے جن کی محمد یونس کی حکومت حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

    اے این آئی کے مطابق، ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی عناصر ہیں جنھوں نے ’انڈین سفارت خانے پر مارچ کیا اور ہمارے میڈیا دفاتر پر حملہ کیا، جو بنا کسی ڈر کے اقلیتوں پر حملہ کرتے ہیں، اور جنھوں نے مجھے اور میرے خاندان کو جان بچانے کے لیے فرار ہونے پر مجبور کیا۔

    انھوں نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس پر الزام لگایا کہ انھوں نے ’ایسے لوگوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا اور سزا یافتہ دہشت گردوں کو جیل سے رہا کر دیا۔‘

    شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ انھیں یہ کہتے ہوئے افسوس ہے کہ بنگلہ دیش میں اپنے سفارتی عملے کی حفاظت کے حوالے سے انڈیا کے خدشات جائز ہیں۔ ’ایک ذمہ دار حکومت سفارتی مشنوں کی حفاظت کرتی ہے اور انھیں دھمکیاں دینے والوں کے خلاف مقدمے چلاتی ہے۔ اس کے بجائے، یونس غنڈوں کو استثنیٰ دیتا ہے اور انہیں جنگجو کہتا ہے۔‘

  11. امریکہ کی وینزویلا کے ساحل کے نزدیک سے ایک اور تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینے کی کوشش

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی کوسٹ گارڈ وینزویلا کے ساحل کے نزدیک قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایک اور تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینے کے لیے اس کا مسلسل تعاقب کر رہے ہیں۔

    اس سے پہلے امریکی حکام دو آئل ٹینکرز کو قبضے میں لے چکے ہیں۔

    ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ آئل ٹینکر اس بیڑے میں شامل ہے جو وینزویلا پر پابندیوں کے باوجود تیل کی ترسیل کر رہا ہے۔ امریکی عہدیدا کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ تیل بردار جہاز غلط جھنڈا لہرا رہا ہے اور اسے عدالتی حکم کے مطابق ضبط کیا جا رہا ہے۔

    یہ اقدامات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب وینزویلا انے اور جانے والے تیل کے ٹینکرز کی ’ناکہ بندی‘ کے حکم کے بعد سامنے آ رہے ہیں۔

    وینزویلا نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’چوری اور اغوا‘ قرار دیا ہے۔ وینزویلا پہلے بھی امریکہ پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ اس کے وسائل چوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    وینزویلا کی حکومت طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں اس معاملے پر شکایت درج کرائیں گے۔

    حالیہ ہفتوں میں، امریکہ بحیرہ کیریبین میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور اس نے وینزویلا کی منشیات کی سمگلنگ کی مبینہ کشتیوں پر مہلک حملے کیے ہیں، جس میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    امریکہ نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے کہ یہ جہاز منشیات لے کر جا رہے تھے، اور اس معاملے پر امریکی انتظامی فوجی حملوں پر کانگریس کی طرف سے بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کی زد میں ہے۔

  12. ’غیر قانونی طور پر پاکستان سے ایران جانے کی کوشش کرنے والے افغان شہریوں‘ کی گاڑی کو حادثہ، نو افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی میں ٹریفک کے حادثے میں کم ازکم نو افغان شہری ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے۔

    حکام کے مطابق، غیر قانونی طور پر پاکستان سے ایران جانے کی کوشش کرنے والے ان افغان شہریوں کی گاڑی کو ضلع کے علاقے نوکنڈی میں حادثہ پیش آیا۔

    رابطہ کرنے پر ایس ایس پی چاغی محمد شریف کلہوڑو نے بتایا کہ 21 افغان شہری ایک زمیاد گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب ان کی گاڑی نوکنڈی کے قریب ایک آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ ’زمیاد‘ یا ’زمباد‘ نیلے پِک اپ ٹرک ہوتے ہیں جنھیں ایران اور بلوچستان کے درمیان پیٹرول اور ڈیزل کی سمنگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں کم از کم نو افغان شہری ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے۔

    ایس ایس پی کلہوڑو کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منقتل کیا گیا جبکہ بعد ازاں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو افغانستان بھیج دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق، ابتدائی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ حادثے کا شکار ہونے والے افراد پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے اور وہ یہاں سے ایران کے راستے یوروپی ممالک جانا چاہتے تھے۔

    ایس ایس پی کلہوڑو کا کہنا تھا کہ ان افراد کو غیر قانونی طور پر لانے میں انسانی اسمگلروں کا منظم گروہ ملوث ہے جس کا پتہ لگانے اور اس کے خلاف کاروائی کے لیے کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

  13. اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 نئی بستیوں کی منظوری دے دی

    اسرائیلی حکومت نے غربِ اردن (ویسٹ بینک) میں آبادکاری کے عمل میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 نئی بستیوں کو تسلیم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالی سموٹرچ خود ایک ایک آباد کار ہیں جنھوں نے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے ساتھ اس اقدام کی تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے بارے میں ہے۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔

    سعودی عرب نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ’بے لگام‘ آباد کاری کی توسیع کشیدگی کو ہوا دیتی ہے، فلسطینیوں کی زمین تک رسائی کو محدود کرتی ہے، اور ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

  14. سعودی عرب کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے ’کنگ عبدالعزیز میڈل‘ کا اعزاز

    اتوار کے روز سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلینٹ کلاس سے نوازا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو یہ تمغہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوستی کو مضبوط بنانے، مشترکہ تعاون کو آگے بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے ان کی کاوشوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

    سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان کے مطابق، سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پرپاکستانی آرمی چیف کو یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ ایوارڈ ریاض میں شہزادہ خالد سے ملاقات کے دوران وصول کیا۔

    سعودی پریس ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران سعودی اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات، دفاعی تعاون اور بین الاقوامی امن و سلامتی کی حمایت کے لیے کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل 2022 میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس وقت کے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کو ’آرڈر آف کنگ عبدالعزیز‘ ایوارڈ سے نوازا تھا۔

  15. پاک افغان سرحد کی بندش، چمن انتظامیہ کو افغانستان میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی فہرست پیش, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث سرحد کی بندش سے جہاں تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے وہاں اس صورت حال میں سینکڑوں پاکستانی تاجر اور کارکن افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    سرحد کی بندش سے تاجروں اور سرحد کی دوسری جانب پھنسے ہوئے تاجروں اور کارکنوں کی مشکلات کے حوالے سے بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے تاجروں کا ایک وفد اسلام آباد کے دورے پر ہے۔

    من میں پشتون قومی جرگہ کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو افغانستان میں پھنسے ہوئے دو ہزار پاکستانی تاجروں اور کارکنوں کی ایک فہرست پیش کی گئی ہے۔ سرکاری حکام نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چمن انتظامیہ کو افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کی ایک فہرست پیش کی گئی ہے۔

    تاجروں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے اسلام آباد میں ملاقاتیں

    سرحد کی بندش سے تاجروں اور کارکنوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا ایک وفد چیمبر کے صدر عبدالنافع اچکزئی کی سربراہی میں اسلام آباد کے دورے پر ہے۔

    عبدالنافع اچکزئی نے فون پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت رانا احسان کے علاوہ ایس آئی ایف سی کے حکام سے بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں انھوں نے وفاقی حکام کو پاکستانی تاجروں کو درپیش مشکلات اور مسائل سے آگاہ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ سرحد کی بندش سے نہ صرف پاکستانی تاجروں کا نقصان ہورہا ہے بلکہ افغان تاجروں کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

    چمن چیمبر کے صدر نے اس توقع کا اظہار کیا کہ وفاقی حکام تاجروں اور پاکستانی کارکنوں کو درپیش مسائل پر غور کریں گے اور انھیں مشکلات سے نکالنے کے لیے اقدامات کرِیں گے۔

    'پھنسے ہوئے دو ہزار تاجروں اور کارکنوں کی فہرست چمن انتظامیہ کو پیش کیا'

    سرحد کی بندش کے باعث افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی تاجروں اور کارکنوں کی ایک فہرست پشتون قومی جرگہ چمن کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو پیش کی گئی ہے۔

    فون پر رابطہ کرنے پر پشتون قومی جرگہ کے وفد میں شامل حاجی عبدالباری اچکزئی نے بتایا کہ چار ہزار سے زائد تاجر اور کارکن افغانستان میں سرحد کی بندش کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے وفد کی جانب سے دو ہزار تاجروں اور کارکنوں کی فہرست ڈپٹی کمشنر چمن کو پیش کی گئی۔

    ’پھنسے ہوئے کارکنوں کا تعلق صرف چمن سے نہیں ہے بلکہ پنجاب اور پاکستان کے دوسرے شہروں سے بھی ہے۔‘

    چمن چیمبر کے صدر عبدالنافع اچکزئی نے بتایا کہ جو تاجر فضائی سفر کا سکت رکھتے تھے وہ دبئی اور ایران کے راستے سے پہنچ گئے لیکن جن کے پاس فضائی سفر کے لیے وسائل نہیں ان کی بڑی تعداد افغانستان میں پھنسی ہوئی ہے۔

    کوئٹہ ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے افغانستان میں پھنسے ہوئے تاجروں اور کارکنوں کی فہرست پیش کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • دبئی میں ایشین کرکٹ کونسل انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان نے انڈیا کو انتہائی شاندار پرفارمنس کے بعد 191 رنز سے شکست دے دی۔
    • انڈیا نے اسسٹنٹ ہائی کمشنر کے گھر پر حملے کی کوشش کے بعد بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ میں اپنا ویزا سینٹر غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔
    • آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں بونڈائی ساحل حملے کے بعد پولیس اور قومی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ازسر نو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
    • سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے بعد وزیرِ اعلی خیبرپختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتجاج کی تیاری کریں۔
    • عالمی بینک نے پاکستان کے لیے کثیر سالہ پروگرام کے تحت 70 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دی ہے جس کا مقصد ملک میں معاشی استحکام اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔
  17. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔