مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی کا سولہواں روز: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟, فرییا سکاٹ ٹرنر، بی بی سی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- پیر کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی 16 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جانب سے اس جنگ کے مستقبل کے حوالے سے متضاد بیانات کے بعد اس جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے کا امکان بہت دُور دکھائی دے رہا ہے۔
- ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی صدر کے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے۔ امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’تہران نے کبھی بھی جنگ بندی کے لیے نہیں کہا اور نہ ہی ہم نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔‘
- ایران میں شہریوں نے بی بی سی سے گفتگو میں اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ ’اگر لڑائی جاری رہی تو ان کا ملک برباد ہو جائے گا۔‘ اسرائیل کی جانب سے ’مزید وسیع پیمانے‘ پر حملوں کے بعد دارالحکومت تہران میں ملبے کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش کے دوران مواصلائی رابطوں کی لائن بھی منہدم ہو گئی ہے۔
- مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں بھی ایران کی جانب سے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
- امریکی صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے اُن کا چین سمیت سات ممالک سے رابطہ ہوا۔
- اسرائیل میں ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ تنازع کے بعد سے لے کر اب تک ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔ کلسٹر بموں نے تل ابیب کے کچھ حصوں کا نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنے حملوں کا دائرہ کار مزید بڑھا رہی ہے اور اس کے پاس اب بھی ’ہزاروں اہداف‘ ہیں۔
- لبنان میں وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ یہاں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 850 ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملوں کے بعد دارالحکومت بیروت کے مختلف علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔
- اسرائیلی وزیر خارجہ نے بھی مذاکرات کے کسی بھی امکان کو مسترد کیا ہے۔
- برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کے مطابق وہ اس جنگ کے حوالے سے پیر کو کینیڈا کے وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے۔
- بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جاری کردہ تیل کے ہنگامی ذخائر ایشیا اور اوشیانا میں فوری طور پر دستیاب ہوں گے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت سے متعلق انفرادی سطح پر ممالک سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
