اسلام آباد سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 6.0 کی شدت کا زلزلہ، اسلام آباد اور پنجاب میں شدید موسلادھار بارشوں کا الرٹ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، مری، پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب این ڈی ایم اے نے سوموار سے بدھ کے درمیان مری، راولپنڈی، جہلم، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ اور حافظ آباد میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خلاصہ
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ستلج ہریکے کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے معاملے پر ’اب تک انڈیا کی جانب سے کوئی آفیشل اطلاع نہیں ملی‘
پنجاب میں دریائے ستلج، راوی، چناب اور ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت پنجاب سے ’تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا‘ گزر رہا ہے جس سے صوبے بھر میں 20 لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے
لاہور سمیت سیلاب متاثرہ علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران شدید بارش ہوئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اب نشیبی علاقوں کی طرف پانی جانے پر وہاں خطرہ بڑھ گیا ہے
ادھر خیبر پختونخوا کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی بارشوں، اربن فلڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے
لائیو کوریج
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ سے چار افراد ہلاک، ایک لاپتہ
انڈیا کے زیرِ
انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ رامبان ضلع کے راج گڑھ علاقے میں سنیچر کے
روز کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ ایک شخص
کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔
انڈیا کے خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق، حکام کا کہنا ہے
کہ متاثرین کو فوری امداد پہنچانے کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا
ہے۔
رامبان کے سینیئر
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ارون گپتا کا کہنا ہے کہ ناتنا کے علاقے میں اچانک بادل پھٹنے
سے سیلاب آ گیا، جس سے ایک مکان اور ایک اسکول کو نقصان پہنچا ہے اور علاقے میں
معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں۔
ارون گپتا نے
بتایا کہ اب تک چار افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ ایک لاپتہ ہے۔
ان کا مزید کہنا
تھا کہ متاثرین کے اہل خانہ کو فوری امداد فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
رامبان شدید بارشوں
اور سیلاب کی زد میں ہے۔
انڈیا کے محکمہ
موسمیات کے مطابق، 30 اگست سے 2 ستمبر تک انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف مقامات پر
موسلادھار بارش جاری رہنے کا امکان ہے۔
حوثی باغیوں کی اسرائیلی حملے میں اپنے وزیراعظم کی ہلاکت کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہReuters
یمن کے حوثی باغیوں نے تصدیق کی ہے کہ اس کے خود ساختہ وزیر اعظم احمد غالب ناصر الرحاوی اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔
ایران کے حمایت یافتہ گروپ کا مزید کہنا ہے کہ جمعرات کو دارالحکومت صنعا میں اسرائیل کی فضائی کارروائی میں گروپ کے مزید کئی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ صنعا میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ایک اجتماع پر حملہ کیا جس میں الرحاوی اور دیگر اعلیِ حوثی عہدے داروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
صنعا سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو بے دخل کرنے اور تباہ کن خانہ جنگی شروع کرنے کے بعد حوثیوں نے 2014 سے یمن کے شمال مغربی حصے پر کنٹرول کر رکھا ہے۔
حوثی باغیوں کے مطابق الرحاوی کے ساتھ دیگر اعلیِ عہدے دار بھی مارے گئے ہیں۔ تاہم گروپ نے ان کے نام نہیں بتائے۔
سعودی عرب کی نیوز ویب سائٹ الحدث نے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں کے وزیر خارجہ کے ساتھ ساتھ انصاف، نوجوان اور کھیل، سماجی امور اور محنت کے وزرا بھی مارے گئے ہیں۔
حوثی باغیوں کے مطابق حوثی نائب وزیر اعظم محمد احمد مفتاح اب وزیر اعظم کا منصب سنبھالیں گے۔
الرحاوی اگست 2024 سے اپنے عہدے پر فائز تھے اور انھیں تحریک کے ایک اہم کردار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
حوثی تحریک کے مرکزی رہنما عبدالملک الحوثی، وزیر دفاع اور چیف آف سٹاف جمعرات کو ہونے والے اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔
پنجاب کے مزید اضلاع میں سیلاب سے نقصان کا خدشہ، مریم نواز کا ’بروقت انخلا اور ریسکیو‘ کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے
صوبے میں سیلابی صورتحال سے متعلق جائزہ اجلاس کے بعد شرکا سے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت
کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو ریلیف فراہم کرے اور جہاں ضرورت پڑے وہاں خیمہ بستیاں
لگائی جائیں۔
انھوں نے ہدایت کی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کےقریب محفوظ
مقامات پر اس مقصد کے لیے سکولوں کی محفوظ عمارتوں کو استعمال کیا جا سکے۔
انھوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایات دی کہ ’لوگوں کے مدد کے
لیے پکارنے کا انتظار کرنے کے بجائے خود پہلے سے لوگوں کی امداد کا کام کریں۔ ‘
انھوں نے تمام اضلاع کے ڈی سیز کو ہدایات دیں ’جہاں لوگ
پھنسے ہوئے ہیں انھیں پکا ہوا کھانا یا خشک راشن مہیا کیا جائے۔ تمام فنڈ حکومت
انھیں فراہم کرے گی۔ ‘
مریم نواز نے نے انتظامیہ سے کہا کہ ’پینے کا صاف پانی اور جانوروں
کا چارہ بھی مہیا کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پانی کا انخلا حکومت کی پہلی ذمہ داری
ہے۔ اس کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ اس کام میں تاخیر نہ کی جائے۔ ‘
انھوں نے انتظامیہ کو سیلاب سے ہونے والی نقصانات اور مشکلات
کو تحریری شکل میں جمع کروانے کی ہدایات دیں تاکہ مستقبل میں قدرت آفت سے بروقت
نمٹا جا سکے۔
مریم نواز نے تمام
متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ڈرونز کی مدد سے
معلوم کریں کہ کہاں لوگوں کو کس قسم کی مدد کی ضرورت ہے، کسے راشن چاہیے، کہاں ریسکیو
اور کہاں مویشیوں کے چارے کی ضرورت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’صرف لوگوں کو ریسکیو کرنا کافی نہیں بلکہ سیلاب سے املاک کو پہنچنے
والے نقصان کا سروے کیا جائے اور منہدم
ہونے کے خطرے سے دوچار عمارتوں کو بھی خالی کروایا جائے۔‘
پنجاب میں کون سے اضلاع ’دباؤ میں‘ آ سکتے ہیں؟
مریم نواز نے یہ بھی بتایا کہ جو اضلاع اب دباؤ میں آنے
والے ہیں ان میں جھنگ، ملتان، مظفر گڑھ، اوکاڑہ، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خانیوال
اور قصور، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، بہاولپور ہیں۔ اگلے دو، تین دن بعد راجنپور
اور رحیم یار خان بھی دباؤ میں آ سکتے ہیں۔
ان سب اضلاع میں انتظامات کی ہدایت دیتے ہوئے مریم نواز نے
کہا کہ ’بروقت انخلا کیا جانا چاہیے۔ ریسکیو کے لیے تیار رہیں۔ صرف شہریوں کو نہیں
ان کے مال مویشیوں کو بھی ریسکیو کریں۔‘
’کشتیوں میں گائے، بھینسوں کو چڑھانا مشکل ہے۔۔۔ میری ہدایت
ہے کہ ڈیرے قائم کیے جائیں تاکہ مویشیوں کو ریسکیو کیا جائے۔ ہر ضلع میں ڈیرے قائم
کریں اور میرے ساتھ ان کی ویڈیوز شیئر کریں۔‘
چنیوٹ کے 144 موضع جات زیر آب: ’لوگ آٹھ سے 10 فٹ گہرے پانی میں گھِر چکے تھے‘
پاکستان کے صوبے پنجاب کے علاقے چنیوٹ میں 144 موضع جات زیر آب آئے ہیں۔
بی بی سی کی ٹیم ریسکیو اہلکاروں کے ہمراہ ان علاقوں تک گئی جہاں مرکزی سڑک سے کم از کم سات کلومیٹر اندر جا کر بہت سے گاؤں آتے ہیں جہاں لوگ آٹھ سے 10 فٹ گہرے پانی میں گھِر چکے تھے۔
وہاں آج کے مناظر کی تصویری جھلکیاں درج ذیل ہیں۔
بی بی سی کی ٹیم نے چنیوٹ میں کیا دیکھا: ’ہمارا سارا غلّہ اور سامان پانی کی نذر ہو گیا‘, عمردراز ننگیانہ، بی بی سی اردو، چنیوٹ
پاکستان کے صوبے پنجاب کے علاقے چنیوٹ میں 144 موضع جات زیر آب آئے ہیں۔ یہاں ریسکیو 1122 کو مدد کے لیے کالز موصول ہوئی تھیں۔
بی بی سی کی ٹیم ریسکیو اہلکاروں کے ہمراہ ان علاقوں تک گئی جہاں مرکزی سڑک سے کم از کم سات کلومیٹر اندر جا کر بہت سے گاؤں آتے ہیں۔ ہر گاؤں میں تقریباً 100 کے قریب گھر ہیں۔
ان زیرِ آب آنے والے کئی مقامات پر سات سے آٹھ فٹ اور کچھ جگہ 12 فٹ تک پانی کھڑا ہے، جہاں لوگ پھنس گئے تھے۔
یہاں محصور لوگوں کے لیے خود سے نکلنا مشکل ہو گیا تھا۔ اگرچہ ان علاقوں سے بیشتر لوگ پہلے ہی نکل چکے تھے تاہم پھنس جانے والے وہ لوگ تھے جو اپنی املاک کی حفاظت کے لیے رک گئے تھے۔
ریسکیو اہلکار کشتیاں لے کر انھیں بچانے گئے۔ یہ آسان کام نہیں تھا کیونکہ پانی کے لیے کئی ایسی چیزیں تھی جو نظر نہیں آ رہی تھیں۔ سڑک کے کنارے لگی رکاوٹیں جن سے کشتی کے پیندے ٹکرا رہے تھے۔ سیلابی پانی میں کشتی چلانا بھی دشوار کام تھا۔
کئی لوگوں کو گھروں کی چھتوں پر سے ریسکیو کیا گیا۔ ایک بیمار شخص کو کچھ لوگ کندھوں پر اٹھا کر لائے کیونکہ وہ خود سے چل نہیں سکتا تھا۔ گھروں میں پھنس جانے والی خواتین کو بڑی ٹیوبز پر بٹھا کر محفووظ مقامات تک لا رہے تھے۔
ایک خاتون نے ہمیں بتایا کہ ان کا تمام غلّہ اور سامان سیلابی پانی کی نذر ہو گیا تھا۔
جو لوگ وہاں سے نکل رہے کہ قریبی علاقوں میں اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لے رہے ہیں۔ اس علاقے میں کوئی ریلیف کیمپ موجود نہیں ہے۔
کم سے کم 20 موضع جات میں اب بھی پانی کھڑا ہے اور آج ہونے والی بارش کے باعث مزید پانی آ گیا ہے۔
بریکنگ, لاہور میں حالیہ بارش سے گھروں کی چھتیں گرنے سے چار افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہRescue 1122
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں تیز بارش سے گھروں کی چھتیں گرنے سے چار افراد ہلاک اور چار شدید زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو 1122 لاہور کے مطابق اولڈ نارکلی میں موجود گھر کی چھت گرنے سے ایک
شخص ہلاک ہوا جبکہ بیدیاں روڈ کے علاقے میں گھر کی چھت گرنے سے تین افراد ہلاک جبکہ چار شدید
زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں کی عمریں سات سے 30 سال کے درمیان ہیں۔ زخمیوں کو
ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
دریں اثنا تیز اور لگاتار بارش سے کئی سڑکیں زیرِ آب آئی ہیں اور کئی گھروں میں پانی جمع ہوا ہے۔ وائس چیئرمین واسا کا کہنا ہے کہ نشیبی علاقوں میں پانی کی فوری نکاسی یقینی بنائی جائے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
ترجمان ریسکیو 1122 فاروق احمد کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر میں گذشتہ
24 گھنٹوں میں 1177 حادثات پر ریسکیو سروسز فراہم کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب بھر میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 620 شدید زخمیوں کو فرسٹ
ایڈ کے بعد فوری ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان ریسکیو کے مطابق پنجاب بھر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹریفک حادثات میں 12 اموات ہوئی ہیں۔ پنجاب بھر میں سب سے زیادہ روڈ ٹریفک حادثات 221 لاہور، ملتان
89 اور فیصل آباد میں 82 حادثات ہوئے۔
ریسکیو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’حادثات میں زیادہ تر تعداد
(74 فیصد) موٹر سائیکل حادثات کی ہے، اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ حادثات کی شرح کو
کم کرنے کے لیے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرتے ہوئے لائن اور لین کے نظم و ضبط
کا خیال رکھیں۔‘
،تصویر کا ذریعہRescue 1122
لاہور میں موسلا دھار بارش شہری متفکر
لاہور سمیت پنجاب کے متعدد شہریوں میں آج موسلا دھار بارش ہوئی۔
سوشل میڈیا صارفین نے بارش کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر سیلابی صورتحال سے متعلق پوسٹیں کیں۔
کئی سوشل میڈیا پوسٹ پر پارش کے پانی سے گڑھے پڑ جانے سے گاڑیوں اور رکشوں کو پیش آنے والے حادثات کا ذکر کیا گیا۔
واسا لاہور کی طرف سے اب تک شہر مںی ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق جیل روڈ پر 60 ملی میٹر، ایئرپورٹ 63 ملی میٹر ہیڈ آفس گلبرگ 85,لکشمی چوک 124، اپر مال 124، مغلپورہ 114، تاجپورہ 120، نشتر ٹاون 147 اور چوک نا خدا 121 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ پانی والا تالاب 116، فرخ آباد 94، گلشن راوی 102، اقبال ٹاون 108، سمن آباد 92، جوہر ٹاون 81، ملی میٹر قرطبہ چوک 81 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ بارش 147 ملی میٹر نشتر ٹاؤن میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایم ڈی واسا غفران احمد کا کہنا ہے کہ ’نکاسیِ آب آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے تمام گلی محلوں کی سطح پر پونڈنگ پوائنٹس کو کلیئر کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
بریکنگ, پی ڈی ایم اے پنجاب کا دریائے ستلج، راوی اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
پی ڈی ایم اے کے بیان مںی بتایا گیا ہے کہ پنجاب
گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہے گی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دو سے تین ستمبر کے دوران دریاؤں کے بالائی حصوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں سے دریائے راوی، ستلج اور بیاس میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں میں دریائے چناب ہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہوگا۔
ترجمان پی ڈی ایم 3 ستمبر تک دریائے چناب پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہوگی۔ اور اس کی وجہ سے متعلقہ تمام کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر حکام کو ممکنہ صورتحال بارے الرٹ رہنے کی ہدایات بھی دی ہیں۔
لوکل گورنمنٹ، محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت، محکمہ جنگلات، لائیوسٹاک اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ’وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام تر انتظامات مکمل ہیں اور ایمرجنسی کنٹرول رومز میں سٹاف الرٹ ہے۔‘
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے عوام سے کہا ہے کہ وہ جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور ہنگامی انخلا کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔
سندھ میں ساڑھے 16 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ، مسلسل نگرانی کر رہے ہیں: سندھ کے وزیر شرجیل انعام میمن
پاکستان
کے صوبے سندھ میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سیلاب کا پانی دو یا تین
ستمبر کی رات کو پنجاب سے سندھ میں داخل ہونے کا امکان ہے۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ اگرچہ سیلاب کے متاثرین کے
لیے ریلیف کیمپس قائم ہیں تاہم زیادہ تر لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس جانے کو ترجیح
دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جانوروں کے لیے بھی 300 کیمپس قائم کیے گئے
ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ہر تین گھنٹے بعد
صورتحال کے حوالے سے اپڈیٹ فراہم کرتی ہے جبکہ پنجاب حکومت بھی سیلابی صورتحال میں
تعاون کے طور پر کٹس فراہم کر رہی ہے۔
شرجیل محمن نے بتایا کہ ’پانی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی
جاری ہے۔‘
سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ’صوبے میں نہ پیسوں
کی کمی ہے اور نہ ہی اس وقت کوئی ایمرجنسی صورتحال ہے، تاہم حکومت ہر چیلنج کا
مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘
شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ’سندھ میں ممکنہ طور پر 16
لاکھ 50 ہزار افراد، 1651 دیہات اور 167 یونین کونسلز متاثر ہوسکتی ہیں جبکہ دو
لاکھ 73 ہزار خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔‘
اس وقت 192 ریسکیو کشتیاں اور موبائل ہیلتھ یونٹس فعال کردی
گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ضلعی
انتظامیہ مسلسل رابطے میں ہے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر
منتقل کیا جارہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تاہم زیادہ تر افراد حسبِ روایت کچے کے
علاقوں سے خود ہی نکل جاتے ہیں۔‘
منگل اور بدھ کی رات دریائے سندھ میں سیلاب آنے کا خدشہ، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی کڑی نگرانی کی ہدایات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مقرر کیے گئے وزرا سے رابطہ کیا ہے۔
اس ملاقات کی وجہ منگل اور بدھ کی رات دریائے سندھ میں سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایات جاری کیں کہ دریا کے دائیں اور بائیں کناروں کے بندوں کے نہری نظام کی کڑی نگرانی کی جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو وزیر آبپاشی جام خان شورو کی دریائی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جس کے مطابق گڈو بیراج کے مقام پر آج 12 بجے اپ سٹریم پانی کا بہائو 383299 اور ڈاؤن سٹریم 350943 کیوسکس ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’سکھر بیراج پر اپ سٹریم 313000 اور ڈاؤن سٹریم 259050 کیوسکس ہے، جبکہ کوٹڑی بیراج اپ سٹریم 264131 اور ڈائون سٹریم 233216 کیوسکس ہے۔‘
وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ بیراجوں کی صورتحال ابھی تک بہترہے اور تمام حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں۔ۓ
وزیراعلی سندھ نے ہدایت دی کی تمام متعلقہ محکمے اور انتظامیہ فیلڈ میں متحرک رہے۔ انھوں نے صوبائی وزرا سے کہا کہ وہ تمام اقدامات کو سپروائزر کرتے رہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بیراجوں اور بندوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہییں۔ انھوں نے دریا کے کناروں یا کچے میں رہنے والے لوگوں کو انتظامیہ سے تعاون کرنے کی بھی ہدایت کی۔
سندھ میں سیلاب کی آمد اور ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر سندھ پولیس کو الرٹ رہنے کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے سندھ کے آئی جی غلام نبی میمن نے سیلاب کی آمد اور ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر سندھ پولیس بالخصوص سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کو چوکنا اور مستعد رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
آئی جی سندھ ہدایات کی کہ ’بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے قبل نشیبی علاقوں سے شہریوں کو ریسکیو کیے جانے کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔ اور لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن پولیس وفاقی و صوبائی اداروں کے ساتھ رابطے میں رہیں۔‘
آئی جی سندھ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’پی ڈی ایم اے، ضلعی و مقامی حکومت اور مشینری کی جانب سے ریسکیو عمل کی حکمت عملی اوراقدامات سے اپنی نفری کو آگاہ کریں۔‘
ہدایات کے مطابق ’رہائشی علاقوں اور عمارتوں کے نزدیک موجود پولیس عملہ دفاترمیں حاضر رہے۔ کسی بھی ایمرجنسی اور سیلابی صورتحال کے پیش نظرتمام تروسائل کوبروئے کارلاتے ہوئے ریسکیو سرگرمی میں اپنا بھرپورکردار ادا کریں۔‘
آئی جی سندھ نے کہا کہ دریائے سندھ اور برساتی نالوں کے ساتھ رہنے والے ہریوں کو باحفاظت منتقل کرنیکے حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ اور متعلقہ تھانہ جات کی سطح پر اور دیگر پلیٹ فارمز سے شہریوں کو ممکنہ سیلاب کی آمد اور ریسکیو کرنے جیسے اقدامات سے آگاہی دی جائے۔
سندھ سے متصل بلوچستان کے اضلاع میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کی پیشگی تیاریاں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے صوبہِ سندھ سے متصل سرحدی اضلاع میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر کمشنر نصیر آباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔
اجلاس میں نصیرآباد ڈویژن کے چاروں اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے بھی شرکت کی جن کے سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ان اضلاع میں نصیر آباد، جعفر آباد، اوستہ محمد اور صحبت پور شامل ہیں۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کا تفصیلی
جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر
نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ سندھ سے ممکنہ سیلابی صورتحال کو مدنظر رکھ کر تمام ڈپٹی کمشنرز مختلف جگہوں پر قائم کیمپس کا خود جائزہ لیں۔
انھوں نے کہا کہ کمی بیشی اور ایمرجنسی کے حالات سے نمٹنے کے لیے ابھی سے پیشگی اقدامات کو یقینی بنائیں۔
ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھ کر مفاد عامہ میں اقدامات کرنے کے سلسلے کو شروع کیا جائے۔
دریں اثنا ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی نے سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سندھ کے علاقے کشمور میں گڈو بیراج کا دورہ کیا۔
سندھ کے حکام نے انھیں متوقع سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا۔
پاکستان کے مختلف دریاؤں اور ڈیمز میں سیلاب کی کیا صورتحال ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے مختلف دریاؤں اور ڈیمز میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جبکہ کچھ مقامات پر بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔
انڈس: تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 170,000 کیوسک اور اخراج 155,200 کیوسک ہے اور سطح نارمل ہے۔ کالا باغ، چشمہ اور تونسہ میں بھی پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ گڈو بیراج میں درمیانے درجے کا سیلاب جبکہ سکھر اور کوٹری میں کم سطح رپورٹ ہوئی ہے۔
کابل: نوشہرہ میں پانی کی آمد و اخراج 30,000 کیوسک کے ساتھ صورتحال نارمل ہے۔
جہلم: منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 52,000 کیوسک اور اخراج 8,000 کیوسک ہے، سطح نارمل ہے۔ راول میں بھی معمولی بہاؤ جبکہ ہیڈ مرالہ اور ہیڈ خانکی میں درمیانی سطح نوٹ کی گئی۔
چناب: قیوم آباد میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ تریموں اور پنجند میں دریا معمول کے مطابق بہہ رہا ہے۔
راوی: جسڑ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ شاہدرہ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ بلوکی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ سدھنائی میں صورتحال معمول کے مطابق ہے۔
ستلج: گنڈا سنگھ والا میں انتہائی اونچے درجے جبکہ ہیڈ سلیمانکی میں 138,058 کیوسک پانی کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ اسلام میں نچلے درجے کا سیلاب نوٹ کیا گیا ہے۔
ڈیمز:
تربیلا ڈیم کی موجودہ سطح 1550.05 فٹ (0.05 فٹ اضافہ) ہے
منگلا ڈیم 1224.25 فٹ (0.15 فٹ اضافہ) پر نارمل حد میں برقرار ہے
،تصویر کا ذریعہDFO
خیبر پختونخوا: بارشوں کے باعث بڈنی نالہ میں پانی کی سطح بلند، پیر بالا اور درمنگی میں سیلابی صورتحال
خیبر پختونخوا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث بڈنی نالہ میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے جس سے پیر بالا اور درمنگی کے مقامات پر سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ درمنگی پر پانی کا اخراج 11 ہزار 900 کیوسک جبکہ پیر بالا پر 9 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے اور نالے کے مختلف حصوں میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ نے صورتحال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے جبکہ ریسکیو ٹیمیں الرٹ کر دی گئی ہیں۔
مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور مساجد کے ذریعے عوام کو صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب نہ جائیں۔
پنجاب میں سیلاب سے 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے: پی ڈی ایم اے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کی ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق:
سیلابی صورتحال سے 2,308 موضع جات متاثر اور 15 لاکھ 16 ہزار افراد متاثر ہوئے۔
چار لاکھ 81 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ 511 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے۔
متاثرہ اضلاع میں 351 میڈیکل کیمپس اور 321 ویٹرنری کیمپس بھی قائم ہیں، اب تک چار لاکھ پانچ ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 11 ہزار کیوسک، خانکی پر ایک لاکھ 70 ہزار، قادرآباد پر ایک لاکھ 71 ہزار اور ہیڈ تریموں پر ایک لاکھ 46 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
دریائے راوی میں جسڑ پر 78 ہزار کیوسک، شاہدرہ پر ایک لاکھ 38 ہزار کیوسک اور بلوکی پر ایک لاکھ 99 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ تین لاکھ تین ہزار کیوسک ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ 38 ہزار کیوسک پانی موجود ہے۔
منگلا ڈیم 80 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکا ہے، جبکہ انڈیا کے بھاکڑا ڈیم میں پانی کی سطح 84 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق حالیہ سیلاب میں 30 افراد ہلاک اور لاہور میں آسمانی بجلی گرنے سے مزید دو اموات رپورٹ ہوئیں۔
ریلیف کمشنر نے کہا کہ شہریوں اور کسانوں کے نقصانات کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں منڈی بہاؤالدین میں 81 ملی میٹر، حافظ آباد میں 63 ملی میٹر، جہلم میں 50 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 47 ملی میٹر اور لاہور میں 26 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کا نواں سپیل جاری ہے اور بارشوں کا یہ سلسلہ 2 ستمبر تک رہنے کا امکان ہے۔
ہیڈ محمد والا پر سات لاکھ کیوسک کا ریلا ملتان پہنچنے کا امکان، بریچ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے: پی ڈی ایم اے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا ہے کہ پنجاب کے شمال مشرقی علاقے میں شدید بارشوں کے سبب سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ منڈی بہاؤالدین اور گجرات میں 80 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ان کے مطابق:
گنڈا سنگھ پر اس وقت پانی کا بہاؤ تین لاکھ تین ہزار کیوسک ہے، جس کے باعث فوج اور ضلعی انتظامیہ نے رات کے دوران 20 دیہات کو خالی کروایا۔ ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ سے زائد کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جبکہ اگلے 24 گھنٹے میں ہیڈ اسلام کے لیے خطرات لاحق ہیں۔
ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ پچہتر ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے اور قادر آباد برج پر پانی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے۔ ہیڈ تریموں پر کل صبح چھ سے نو بجے جھنگ کے مقام پر نو لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔
راوی میں دو لاکھ بیس ہزار کیوسک کا ریلا پہلے ہی گزر چکا ہے اور اس وقت ایک لاکھ انتیس ہزار کیوسک کا ریلہ موجود ہے۔ بلوکی میں دولاکھ گیارہ ہزار کیوسک اور ننکانہ صاحب سے بیس ہزار کیوسک پانی شامل ہو چکا ہے۔
ہیڈ محمد والا پر سات لاکھ کیوسک کا ریلہ ملتان تک پہنچے گا، جہاں بریچ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
سندھ میں گڈو بیراج پر سُپر فلڈ کا امکان: انتظامیہ کی نظریں پنجند پر مرکوز ’پانی کی آمد میں مزید دو دن لگ سکتے ہیں‘, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
حکومتِ سندھ کی توجہ پنجند پر مرکوز ہے جہاں پنجاب سے آنے والے دریائے راوی، چناب اور ستلج کا پانی جمع ہو کر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ یہاں سے اندازہ لگایا جائے گا کہ گڈو کے مقام پر کتنا پانی پہنچے گا۔
صوبائی وزیر جام خان شورو نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب میں کٹ لگا کر پانی کا رخ موڑ کی موڑنے کی وجہ سے پانی کی رفتار میں کمی ہوئی ہے، آج شام تک پانی تریمو تک پہنچے گا جس کے بعد 24 گھنٹے میں پانی پنجند تک پہنچنے کا امکان ہے، اور گڈو تک آنے کے لیے تقریباً مزید دو دن لگ سکتے ہیں۔
وزیر نے بتایا کہ گڈو میں پہلے سے دو لاکھ کیوسکس پانی موجود ہے اور ابر پنجند سے آنے والے پانی کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔ تاہم، سندھ حکومت سپر فلڈ کی تیاریوں میں مصروف ہے جس کے تحت آٹھ لاکھ کیوسکس سے زائد پانی کی آمد متوقع ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل سندھ میں گڈو کے مقام پر 4 ستمبر کو سپر فلڈ کے امکانات ظاہر کیے جارہے تھے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں صوبائی وزیر جام خان کا کہنا ہے کہ پانی کی آمد میں ایک یا دو دن کا اضافی وقت لگ سکتا ہے۔
پنجاب میں سیلاب کے دوران 92 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا، 808 کشتیاں آپریشنل ہیں
،تصویر کا ذریعہRescue1122
پنجاب بھر میں مون سون بارشوں اور شدید سیلاب کے دوران ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق اب تک دریائے سندھ، چناب، راوی، ستلج اور جہلم کے ملحقہ علاقوں سے 92,844 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
گذشتہ روز پنجاب بھر کے سیلابی علاقوں سے 20,954 افراد کو ریسکیو کیا گیا، جن میں بہاولپور سے 10,063، پاکپتن سے 1,547، قصور سے 1,434، اوکاڑہ سے 1,223، ننکانہ صاحب سے 1,072، حافظ آباد سے 1,035 اور دیگر شہروں سے متعدد افراد شامل ہیں۔
ریسکیو کے ترجمان کے مطابق اب تک بہاولپور سے 20,552، قصور سے 14,574، پاکپتن سے 8,778، اوکاڑہ سے 7,422، گوجرانوالہ سے 4,830، وہاڑی سے 4,253 اور دیگر شہروں سے ہزاروں افراد کو ریسکیو اور ٹرانسپورٹ فراہم کی جا چکی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں 808 ریسکیو بوٹس (کشتیاں) آپریشنل ہیں جبکہ 1,800 سے زائد تربیت یافتہ ریسکیو سکاؤٹس بھی ایمرجنسی سروسز کے ساتھ متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔
فاروق احمد نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں 1122 پر کال کرکے اپنی لوکیشن واضح کریں تاکہ بروقت ریسکیو ممکن ہو سکے۔
اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا نے پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی درخواست پر ایشیا پیسیفک ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ سے 30 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد فراہم کی جائے گی۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران اب تک 28 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔
پاکستان کے صوبے سندھ میں آئندہ دنوں میں سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر شمالی اضلاع میں 72 اور جنوبی اضلاع میں 106 ریسکیو کشتیاں تعینات کر دی گئی ہیں۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ
گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ تین لاکھ 85 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جو گذشتہ تین دہائیوں کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
سندھ میں ’شدید سیلابی صورتحال کے خطرے‘ کے حوالے سے انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
صوبہ پنجاب میں مون سون کی بارشوں کا نواں سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور دو ستمبر تک جاری رہے گا۔
گوجرانوالہ، لاہور اور گجرات ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آئندہ 12 سے 18 گھنٹوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے 30 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا نے پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی درخواست پر ایشیا پیسیفک ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ سے 30 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد فراہم کی جائے گی۔
ماساتو کانڈا نے کہا ’پاکستان اس وقت تباہ کن سیلابی صورتحال سے دوچار ہے جس نے خاندانوں اور کمیونٹیز کو بے گھر کر دیا ہے، اور اے ڈی بی اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ جب آفات آتی ہیں تو ہم تیزی سے مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ متاثرہ افراد باعزت طریقے سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کر سکیں۔ یہ ہنگامی امداد پاکستان کے عوام کے ساتھ ہماری طویل المدتی شراکت داری اور وابستگی کی عکاس ہے۔‘
ماساتو کانڈا تین روزہ دورے پر پاکستان میں ہیں۔ اسلام آباد میں انھوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور اہم امور پر بات چیت کی۔ ملاقات میں ٹرانسپورٹ، توانائی، شہری انفراسٹرکچر اور تعلیم و صحت جیسے شعبوں میں اے ڈی بی کی سرمایہ کاری پر بھی بات ہوئی۔
اے ڈی بی کے صدر نے پاکستان کی اصلاحاتی پیش رفت کو سراہا اور کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ انھوں نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس دوران ریکوڈک منصوبے کے لیے 21 اگست کو منظور ہونے والے 41 کروڑ ڈالر کے فنانسنگ پیکج پر بھی بات ہوئی، جو چار دہائیوں بعد معدنیات کے شعبے میں اے ڈی بی کی واپسی ہے۔ ریکوڈک دنیا کے بڑے سونے اور تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے، جو پاکستان کو صاف توانائی کے عالمی منتقلی میں کلیدی کردار دینے میں مدد دے گا۔
دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ تین لاکھ 85 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا، قصور اور نواحی علاقے زیرِ آب
،تصویر کا ذریعہ@ndmapk
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ تین لاکھ 85 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جو گذشتہ تین دہائیوں کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق سیلابی ریلے کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے باعث قصور اور قریبی علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔