آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسلام آباد سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 6.0 کی شدت کا زلزلہ، اسلام آباد اور پنجاب میں شدید موسلادھار بارشوں کا الرٹ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، مری، پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب این ڈی ایم اے نے سوموار سے بدھ کے درمیان مری، راولپنڈی، جہلم، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ اور حافظ آباد میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ستلج ہریکے کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ ملی ہے۔
  • ان کا کہنا تھا کہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے معاملے پر ’اب تک انڈیا کی جانب سے کوئی آفیشل اطلاع نہیں ملی‘
  • پنجاب میں دریائے ستلج، راوی، چناب اور ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت پنجاب سے ’تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا‘ گزر رہا ہے جس سے صوبے بھر میں 20 لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے
  • لاہور سمیت سیلاب متاثرہ علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران شدید بارش ہوئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اب نشیبی علاقوں کی طرف پانی جانے پر وہاں خطرہ بڑھ گیا ہے
  • ادھر خیبر پختونخوا کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی بارشوں، اربن فلڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے

لائیو کوریج

  1. لاہور میں دریائے راوی کے کنارے پر واقع آبادیوں میں ریسکیو آپریشن جاری

    پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں سیلابی ریلا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کی وجہ سے پانی لاہور میں دریا کے نواحی علاقوں میں داخل ہونے کے بعد اب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر کے مطابق شاہدرہ میں جمعرات کو رات گئے اور جمعے کی صبح سات گھنٹوں کے دوران تقریباً دو لاکھ 20 ہزار کیوسک پانی گزرتا رہا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران متاثرہ علاقوں سے 24 گھنٹوں کے دوران 20 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    جمعرات کی شب اور جمعے کی صبح پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے پانچ بلاکس میں بھی پانی داخل ہوا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہاں سے تمام رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا۔

    وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق سیلابی صورتحال کے بعد تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال، فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی، نیو میٹرو سٹی اور چوہنگ کے علاقوں سے انخلا کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ طلعت پارک بابو صابو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔

  2. 62 ہزار سے زیادہ سیلاب متاثرین محفوظ مقامات پر منتقل: پنجاب پولیس

    پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک صوبے بھر میں 62 ہزار سے زیادہ سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات منتقل کیا گیا ہے۔

    ایک بیان میں پولیس نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن میں لاہور سمیت متاثرہ مختلف اضلاع میں 15 ہزار سے زیادہ پولیس افسران و اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’سیلاب متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے پنجاب پولیس کی 700 سے زائد گاڑیاں، 40 کشتیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔‘

    ’سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے 50 ہزار سے زائد مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔‘

    پولیس کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں اب تک 200 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    ادھر ایک بیان میں پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں سے 24 گھنٹوں کے دوران 20 ہزار سے زیادہ افراد کا محفوظ انخلا ممکن ہوا ہے۔

    پنجاب حکومت کے مطابق مجموعی طور پر 14 لاکھ سے زیادہ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جن کی مدد کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

  3. دریائے راوی میں پانی کی ’واپسی‘ کے بعد لوگ پریشان

    دریائے راوی کے ملحقہ شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ لاہور کے اس علاقے میں رہنے والوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر نقل مکانی نہیں کر سکتے۔

    ایسا کیوں؟ جانیے ہمارے ساتھی عمر دراز ننگیانہ کی اس رپورٹ میں۔

    فلمنگ: وقاص انور ایڈیٹنگ: فرقان الٰہی

  4. سیالکوٹ میں سیلاب سے تباہی: ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہلاک، مجموعی تعداد 13, احتشام شامی، صحافی/سیالکوٹ

    ایمرجنسی سروسز ریسکیور 1122 کے مطابق گذشتہ روز سیلاب سے متاثرہ شہر سیالکوٹ میں 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سیالکوٹ میں سیلاب اور ریسکیو آپریشن سے متعلق ایک بیان میں ریسکیو 1122 کا کہنا تھا کہ اب تک 11 لاشیں لواحقین کے حوالے کی گئی ہیں جبکہ دو مزید لاشوں کی تلاش جاری ہے۔

    ہلاک ہونے والے افراد میں تحصیل سمبڑیال کے علاقے ماجرہ کلاں میں ایک ہی فیملی کے چھ افراد شامل ہیں۔ ان چھ افراد میں خاندان کے 35 سالہ سربراہ عمران ارشد اور ان کی 32 سالہ اہلیہ فرخ عمران سمیت چار بچے شامل ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ماجرہ کلاں کی دو کمسن بہنوں چھ سالہ زروا اور ڈیڑھ سالہ زرقا کی لاشوں کی تلاش جاری ہے۔

    ترجمان ریسکیو 1122 رانا وسیم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اب تک سیالکوٹ میں ایک ہزار 257 لوگوں کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

    ریسکیو 1122 کی رپورٹ کے مطابق تحصیل سیالکوٹ کے شہری علاقوں میں نالہ پلکھو نے ’عسکری کالونی، بھوت، بھڑت، کینٹ ایونیو، حسن وال، ماچی کھوکھر، کلووال، چاند باغ اور ملحقہ علاقہ جات، اور دیہی علاقوں چپراڈ، سید پور، کوجہ چک اور بجوات کے علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔‘

    اس کے مطابق نالہ ایک نے رنگ پورہ، شفیع کا بھٹہ اور بھاگووال روڈ کو متاثر کیا۔ سمبڑیال میں چنی گوندل، خاصہ، رندھیر باگڑیاں، ماجرہ کلاں اور ملحقہ علاقے جبکہ تحصیل پسرور میں نالہ ڈیک سے چہور، نواں پینڈ، پنا والا، سوکن ونڈ اور ملحقہ علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینیئر نوید اقبال کے مطابق ریسکیو 1122 کا آپریشن تاحال جاری ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

  5. آج صبح پنجاب کے دریاؤں کی صورتحال

    این ڈی ایم اے کے مطابق لاہور کے علاقے شاہدرہ میں دریائے راوی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے مگر اب بھی پانی کی سطح انتہائی اونچی ہے۔

    دریائے چناب کے علاقے مرالہ میں بہاؤ تیز ہے جبکہ ستلج سے ملحقہ گنڈا سنگھ والا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    پنجاب کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کا مزید کہنا ہے کہ:

    • دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے
    • دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب ہے
    • دریائے راوی بلوکی ہیڈورکس کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے
    • دریائے راوی سدھنائی ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ نارمل ہے
    • مرالہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے
    • دریا چناب میں خانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے
    • قادرآباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے
    • دریائے چناب ہیڈ تریمو کے مقام پر پانی کا بہا نارمل سطح پر ہے مگر مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
    • دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب ہے
    • دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے
    • دریائے ستلج میں اسلام ہیڈورکس پر نچلے درجے کا سیلاب ہے
  6. شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی کے بہاؤ میں کمی

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں دریائے راوی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کے بعد اس میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    ایک بیان میں ترجمان پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور سے ملحقہ علاقے شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ ’راوی میں پانی کا بہاؤ دو لاکھ 20 ہزار کیوسک تک پہنچا۔ چند گھنٹوں میں پانی کے بہاؤ میں نو ہزار کیوسک کمی رونما ہوئی۔ راوی میں پانی کا موجودہ بہاؤ دو لاکھ 11 ہزار کیوسک تک آ گیا ہے۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ شب شاہدرہ کے مقام پر راوی کا بہاؤ دو لاکھ 19 ہزار سے تجاوز کر چکا تھا۔

    گذشتہ روز این ڈی ایم اے نے یکم ستمبر تک سیلابی ریلا سدھنائی تک پہنچے گا جو خطرناک حد تک ایک لاکھ 25 ہزار سے ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک تک رہنے کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ہائی رسک یونین کونسلز میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، دھیر اور کوٹ بیگم شامل ہیں۔

  7. پنجاب کے دریاؤں میں آج بہاؤ مزید تیز ہونے کا خدشہ

    نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کیا ہے۔ وہیں دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح میں تیزی سے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

  8. دریائے راوی کے قریب لاہور کے کن علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوا؟

    پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی جانب سے لاہور میں سیف سٹی فلڈ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح لاہور کے علاقے چوہنگ، منظور گارڈن، برکت کالونی اور مانوال سمیت مختلف علاقوں میں دریائے راوی کا سیلابی پانی داخل ہوا ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ پارک ویو سوسائٹی کے مختلف بلاکس میں پانی پہنچ چکا ہے جبکہ رنگ روڈ سے ملحقہ بادامی باغ میں بھی سیلابی صورتحال ہے۔ ’فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد میں پانی داخل۔ شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی۔‘

    اس سے قبل ریسکیو 1122 نے بتایا تھا کہ امدادی سرگرمیوں کے دوران لوگوں کو متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات منتقل کیا جا رہا ہے۔

  9. پاکستان کے کئی علاقوں میں آج سے بارشوں کی پیشگوئی

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف علاقوں میں مزید مون سون بارشوں کا الرٹ جاری کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 29 اگست سے دو ستمبر تک دارالحکومت اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ پنجاب کے شمالی و شمال مشرقی اضلاع میں 30 سے 31 اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے۔

    پنجاب

    محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے شہروں راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال،لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، حافظ آباد اورمنڈی بہاؤالدین میں 30 سے 31 اگست تک بارش کا امکان ہے۔

    محکمے کا کہنا ہے کہ وسطی و جنوبی پنجاب میں 29 سے 31 اگست کے دوران بارشوں کا امکان ہے اور نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اس کی پیشگوئی کے مطابق ملتان، ڈی جی خان، راجن پور، لیہ، بھکر، ساہیوال، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں بھی 29 سے 31 اگست کے دوران بارش کا امکان ہے۔

    خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان

    محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا میں 29 سے 31 اگست کے دوران شدید بارشیں جبکہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ چترال، دیر، سوات، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور،نوشہرہ، مردان، ڈی آئی خان، ٹانک، کوہاٹ اور بنوں میں 29 سے 31 اگست کے دوران بارشوں کا امکان ہے۔

    کشمیر میں مظفرآباد، باغ، حویلی، کوٹلی، میرپور اور بھمبر میں 29 اگست سے 2 ستمبر تک شدید بارشیں متوقع ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں 29 تا 31 اگست تک بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    گلگت، سکردو، ہنزہ، دیامر، استور، غذر اور گانچھے میں 29 تا 31 اگست تک بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    سندھ اور بلوچستان

    این ڈی ایم اے کے مطابق کراچی میں 30 اگست تا 2 ستمبر تک بارشیں متوقع ہیں۔ ممکنہ شدید بارشوں کے باعث کراچی میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ٹھٹہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر میں 30 اگست سے 2 ستمبر تک بارشیں متوقع ہیں جبکہ حیدرآباد، دادو، سکھر،گھوٹکی،لاڑکانہ، جیکب آباد اورکشمور میں 30 اگست سے یکم ستمبر تک موسلادھار بارشوں کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق گوادر، کیچ، پنجگور، خضدار، لسبیلہ اور قلات میں 29 اگست سے یکم ستمبر بارشیں متوقع ہیں۔

  10. پنجاب میں سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی کہانیاں

    محمد بوٹا کا گاؤں جھن مان سنگھ، نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں واقع ہے۔ یہ گاؤں دریائے راوی کے ہمسائے میں ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ بھی ہے۔ یہاں گذشتہ تین دن سے بجلی کا نظام معطل ہے۔

    اس گاؤں کی آدھی سے زیادہ آبادی نقل مکانی کر چکی ہے، خواتین و بچے محفوظ مقام کی طرف جا چکے ہیں اور مویشی بھی محفوظ کیے جارہے ہیں مگر بڑی تعداد میں لوگ اب بھی موجود ہیں جس کو چار طرف سے پانی نے گھیر رکھا ہے۔

    گاؤں کے رہائشی محمد بوٹا، اُن لوگوں میں سے ہیں جو کسی محفوظ مقام پر منتقل نہیں ہو سکے۔

    اُنھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’مجھے اہلخانہ کے ساتھ نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ ہمارے کچھ لوگ گاؤں میں ہی رہ گئے کیونکہ اِدھر ہمارے کچھ مویشی بھی ہیں۔ اگر ہم انھیں چھوڑ کر چلے جاتے تو یہ بھوکے رہ جاتے اور گھر وں کا پورا سامان بھی تو نہیں اُٹھایا جا سکتا۔‘

    محمد بوٹا کہتے ہیں کہ ’ہمارے گاؤں کے زیادہ تر لوگ قریبی گاؤں اخلاص پور کی طرف چلے گئے ہیں، یہ ہمارے گاؤں سے سات آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر اور اُونچے مقام پر ہے، سیلابی وہاں زیادہ نقصان نہیں کر سکتا۔‘

  11. پنجاب میں سیلاب سے ایک درجن سے زیادہ ہلاکتیں

    قدرتی آفات سے نمٹنے والے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 28 اگست کو مجموعی طور پر بارشوں اور سیلاب کی تباہی کے باعث 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ ان میں سے 13 افراد کا تعلق پنجاب سے ہے جہاں حالیہ عرصے میں دریاؤں سے ملحقہ علاقے سیلابی ریلے سے متاثر ہوئے ہیں۔

    اس نے مزید بتایا کہ سیلاب سے 606 گھروں اور 551 مویشیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز پنجاب حکومت نے سیلابی ریلوں کے باعث صوبے کے مختلف علاقوں میں 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

  12. پارک ویو سٹی سمیت لاہور کے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری

    صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے بعض علاقوں میں دریائے راوی کا پانی داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایسے میں ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ اس کی امدادی ٹیموں نے سیلابی علاقے سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    اس نے مزید بتایا کہ ’فرخ آباد میں سیلابی پانی آنے سے 72 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔۔۔ مانگا منڈی کے علاقے سے اب تک ریسکیو بوٹ سے 40 افراد کو ریسکیو کر لیا ہے۔‘

    ریسکیو 1122 کا مزید کہنا تھا کہ اہلکاروں نے ’تھیم پارک کے علاقے سے ریسکیو بوٹ سے سات افراد کو ریسکیو کر لیا۔‘

    ’پارک ویو سٹی کے علاقے سے پانچ سے چھ افراد کے انخلا کی کال موصول۔‘

  13. اب تک کی کچھ اہم خبروں کا خلاصہ

    صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ دریائے راوی کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں لوگوں کے انخلا کا عمل جاری ہے۔ لاہور شہر کے بعض علاقوں میں سیلاب کا پانی داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 14 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

    نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے آئندہ دنوں کے لیے دریائے چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے چناب کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 29 اگست سے دو ستمبر تک ملک کے متعدد علاقوں میں وقفے وقفے سے مون سون کی مزید بارشوں کا قوی امکان ہے۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ جمعے کی صبح چھ بجے اسلام آباد میں واقع راول ڈیم کے سپل ویز کھولے جائیں گے۔

  14. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    اس لائیو پیج میں آپ کو پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور وہاں جاری امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ دنیا بھر سے دیگر خبریں اور تجزیے بھی اس لائیو پیج کا حصہ ہوں گے۔