ریسکیو حکام کا
کہنا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ
شہر سیالکوٹ میں اب تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دو لاپتہ افراد
کی تلاش کا کام جاری ہے۔
ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 11
لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں تحصیل سمبڑیال کے علاقے
ماجرہ کلاں کے ایک ہی کے خاندان چار افراد بھی شامل ہیں جبکہ اسی خاندان کے دو لاپتہ
بچوں کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال میں ایک ہی خاندان کے ہلاک ہونے
والے افراد کی شناحت 35 سالہ عمران ارشد ، اُن کی 32 سالہ اہلیہ فرخ عمران اور ان
کے دو کم عمر بچے شامل ہیں جبکہ اسی خاندان کی دو کمسن بہنوں چھ سالہ زروا اور
ڈیڑھ سالہ زرقا کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 رانا وسیم نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ
اب تک سیالکوٹ میں ایک ہزار 257 لوگوں کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات
پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
سیالکوٹ میں نالوں کے باعث تباہی کیسے ہوئی؟
سیلابی پانی سے متاثرہ پنجاب کے دیگر علاقوں کے برعکس سیالکوٹ
کے معاملے میں ایک بات مختلف یہ ہے کہ یہاں زیادہ تباہی دریا کے اپنے کناروں سے
باہر آنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس ضلع سے گزرنے والے تین بڑے نالوں میں پیدا ہونے
والی طغیانی کے باعث ہوئی۔
ضلع کے مختلف علاقوں بشمول سیالکوٹ شہر میں اس وقت کئی کئی فٹ
سیلابی پانی کھڑا ہے اور حکام اس پانی کی نکاسی کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا آبائی حلقہ انتخاب سیالکوٹ
شہر ہے اور حال ہی میں انھوں نے اپنے حلقے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا
اور کہا سیالکوٹ سے گزرنے والے نالوں، اُن پر قائم ہونے والی تجاوزات بشمول ہاؤسنگ
سوسائیٹیوں کی وجہ سے سیالکوٹ میں زیادہ تباہی مچی۔
لگ بھگ 45 لاکھ کی آبادی والے ضلع سیالکوٹ کی جغرافیائی
صورتحال کچھ یوں ہے کہ اِس کی سرحد انڈیا کے ساتھ موجود ورکنگ باؤنڈری سے ملتی ہے
جس سے آگے انڈیا کے زیر انتظام جموں کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔
جموں سے آنے والے تین بڑے نالے، ’نالہ ایک‘، ’نالہ ڈیک‘ اور
’نالہ پلکھو‘ سیالکوٹ شہر میں داخل ہوتے ہیں۔
جموں سے آنے والا ’نالہ ایک‘ سیالکوٹ شہر کے عین وسط سے گزرتا
ہے، جموں ہی سے آنے والا دوسرا ’نالہ ڈیک‘ ضلع نارووال کی تحصیل ظفر وال سے ہوتا
ہوا سیالکوٹ کی تحصیل پسرور میں داخل ہوتا ہے جبکہ جموں ہی سے نکلنے والا تیسرا
’نالہ پلکھو‘ بھی سیالکوٹ کینٹ ایریا کی طرف سے ہوتا ہوا سیالکوٹ شہر میں آتا ہے۔
سیالکوٹ کی ’عسکری ٹو‘ کالونی، جہاں فی الوقت پانچ پانچ فٹ پانی کھڑا ہے، وہ بھی
نالہ پلکھو کے قریب ہی بنائی گئی ہے اور اسی نالے سے خارج ہونے والے سیلابی پانی
کے باعث شہر کی یہ پوش رہائشی کالونی گذشتہ تین روز سے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔
نالہ پلکھو کا پانی سیالکوٹ شہر سے ہوتا ہوا تحصیل سمبڑیال
جاتا ہے اور یوں سمبڑیال میں نالہ پلکھو کے پانی نے تباہی مچائی جوکہ یہاں سے پھر
آگے گزرتا ہوا وزیر آباد جاکر دریائے چناب میں گر جاتا ہے۔
جموں سے آنے والے ان تین نالوں کے علاوہ سیالکوٹ شہر میں دو
اور نالے بھی ہیں جن میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوئی۔
جموں سے آنے والے ’نالہ ایک‘ اور ’نالہ ڈیک‘ کے ملاپ سے بننے
والے نالے کا نام ’نالہ بسنتر‘ ہے جو ظفروال سے ہوتا ہوا سیالکوٹ کی تحصیل پسرور
میں داخل ہوتا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق تحصیل پسرور میں سیلابی پانی سے ہونے والی
تباہی نالہ ڈیک اور نالہ بسنتر میں آنے والی طغیانی کے باعث ہوئی۔
اسی طرح ’نالہ بھیڈ‘ پاکستان سے ہی شروع ہوتا ہے اور یہ بھی
سیالکوٹ شہر کے وسط سے گزرتا ہے۔ ضلع کچہری، ڈسٹرکٹ پولیس آفس، سیشن کورٹس سمیت
سرکاری رہائش گاہوں میں داخل ہونے والا پانی نالہ بھیڈ سے ہی خارج ہوا تھا۔
سیالکوٹ کے رہائشی اور بلدیاتی نمائندے چودھری نصیر احمد نے
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کے نالوں کے کناروں پر قائم تجاوزات کی تصدیق
کی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ برسوں کے دوران کم از کم 15 نجی
ہاؤسنگ سوسائٹیاں اِن نالوں کے اوپر یا دہانوں پر غیرقانونی طریقوں سے بنائی گئی
ہیں اور یہ سارا عمل ٹاؤن پلاننگ کے بنیادی اصولوں کے برخلاف ہے۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ماضی میں یہ رپورٹس سامنے آ چکی
ہیں کہ کیسے چند سوسائیٹیوں کے مالکان نے نالوں کے اردگرد کی جگہوں پر قبضے کیے
اور پانی کی وہ گزرگاہیں جہاں پانی خال ہی ہوتا تھا وہاں نالوں کی چوڑائی کم
کروائی گئی۔
’اب زیادہ پانی آ گیا، تو پانی نے تو اپنے نکاس کےلیے جگہ
بنانی ہی ہے۔ پانی ان نالوں سے اوور فلو ہوا اور شہریوں کے گھروں اور دکانوں میں
داخل ہوا۔
انھوں نے کہا کہ چار روز گزرنے کے باوجود بھی سیالکوٹ شہر کے
کئی مقامات پر تین سے پانچ فٹ تک پانی کھڑا ہے اور کوئی ادارہ اس کی ذمہ داری قبول
کرنے کو تیار نہیں۔
پنجاب حکومت نے سیالکوٹ میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہونے
کے بعد مبینہ غفلت اور کوتاہی پر ایم ڈی واسا سیالکوٹ ابوبکر عمران کو فوری طور پر
معطل کرتے ہوئے اُن کی جگہ چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کونسل سیالکوٹ فیصل شہزاد کو ایم ڈی
واسا کا اضافی چارج سونپا تھا۔
صوبائی سیکریٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے میڈیا کو بتایا کہ
ہنگامی صورتحال میں بروقت انتظامات نہ کرنے اور غفلت برتنے پر ذمہ دار افسران کے
خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور جو افسران ڈیوٹی میں غفلت کے
مرتکب پائے گئے، وہ سیٹوں پر نہیں رہیں گے۔
ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے کہا ہے کہ جب تک اِن
نالوں میں پانی نارمل سطح پر نہیں آ جاتا، تب تک نشیبی علاقوں سے پانی نکالنا ممکن
نہیں ہو گا۔