آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسلام آباد سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 6.0 کی شدت کا زلزلہ، اسلام آباد اور پنجاب میں شدید موسلادھار بارشوں کا الرٹ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، مری، پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب این ڈی ایم اے نے سوموار سے بدھ کے درمیان مری، راولپنڈی، جہلم، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ اور حافظ آباد میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ستلج ہریکے کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ ملی ہے۔
  • ان کا کہنا تھا کہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے معاملے پر ’اب تک انڈیا کی جانب سے کوئی آفیشل اطلاع نہیں ملی‘
  • پنجاب میں دریائے ستلج، راوی، چناب اور ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت پنجاب سے ’تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا‘ گزر رہا ہے جس سے صوبے بھر میں 20 لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے
  • لاہور سمیت سیلاب متاثرہ علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران شدید بارش ہوئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اب نشیبی علاقوں کی طرف پانی جانے پر وہاں خطرہ بڑھ گیا ہے
  • ادھر خیبر پختونخوا کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی بارشوں، اربن فلڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے

لائیو کوریج

  1. این ڈی ایم اے نے سندھ میں ’شدید اونچے درجے کے سیلاب‘ کی وارننگ جاری کر دی

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سندھ میں ’شدید سیلابی صورتحال کے خطرے‘ کے حوالے سے انتباہ جاری کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ادارے کا کہنا تھا کہ ’تین سے چار ستمبر تک 9 لاکھ سے ساڑھے 9 لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے۔ گڈو بیراج پر پانچ یا چھ ستمبر تک پانی کا آٹھ سے 11 لاکھ کیوسک بہاؤ متوقع ہے جو انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا کرے گا۔‘

    این ڈی ایم اے کے مطابق کوٹری بیراج میں آٹھ سے نو ستمبر تک پانی کا متوقع بہاؤ آٹھ سے 10 لاکھ کیوسک ہوگا۔

    ’اس کے باعث 12 سے 13 ستمبر تک سندھ کے نشیبی علاقوں میں شدید اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔‘

    قدررتی آفات سے نمٹے کے ذمہ دار ادارے کا مزید کہنا ہے کہ ’سیلابی ریلوں کے باعث زرعی زمینیں، قریبی آبادیاں، دیہات اور تعمیرات متاثر ہو سکتی ہیں۔‘

    این ڈی ایم اے نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ: ’احتیاطی تدابیر اپنائیں، انخلا کے لیے تیار رہیں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔‘

  2. ’محتاط رہیں، انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں‘: گوجرانوالہ، لاہور اور گجرات میں ’شدید بارش‘ کا امکان

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ، لاہور اور گجرات ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آئندہ 12 سے 18 گھنٹوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ ’یہ بارشیں موجودہ سیلابی صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں کیونکہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں غیر معمولی بلند پانی کا بہاؤ برقرار ہے۔‘

    ’محتاط رہیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔‘

  3. پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے سبب 28 اموات، قصور کو بچانے کے لیے بند میں سوراخ کرنا پڑ رہا ہے: پی ڈی ایم اے

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران اب تک 28 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔

    پنجاب کے دریاؤں میں غیر معمولی سیلاب کے حوالے سے جمعے کو ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ستلج میں 1955 کے بعد پہلی مرتبہ ایسی صورتحال دیکھنے کو ملی ہے۔

    ان کے مطابق ’یہ سارا پانی انڈیا میں بند توڑنے کے سبب قصور کی طرف بڑھا ہے۔ ہمیں قصور کو بچانے کے لیے موجود بند میں سوراخ کرنا پڑ رہا ہے۔‘

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے متنبہ کیا کہ ’ہیڈ سلیمانکی کے بعد ہیڈ اسلام کو خطرہ درپیش ہوگا۔ پانی جب بہاولپور سے ہوتا ہوا پنجند جائے گا تب خطرہ ٹلے گا۔‘

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ’تریموں میں پانی بڑھ رہا ہے تاہم امید ہے کہ کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ہمیں شدید متاثر علاقہ کو بچانا ہے۔ جھنگ، شور کوٹ پر شگاف ڈالنے سے معاملہ بہتر ہوا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق سیلابی ریلے سے متاثرہ اردگرد کے تمام علاقوں میں رہائشیوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے، ہر گھنٹے میں اعداد و شمار تبدیل ہو رہے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے متنبہ کیا کہ اوکاڑہ پاکپتن اور ملحقہ علاقوں کے لیے اب مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

  4. لاہور میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی زیر آب آ گئی

    لاہور میں کئی روز سے جاری سیلابی صورتحال اب شہر میں کئی نجی ہاؤسنگ سوسائسٹیز کو متاثر کر رہی ہے۔ ہماری ساتھی ترہب اصغر ایسی ہی ایک سوسائٹی میں گئیں یہ جاننے کے لیے کہ وہاں لوگ کیسے متاثر ہو رہے ہیں۔

    فلمنگ: وقاص انور ایڈیٹنگ: فاخر منیر

  5. چنیوٹ میں سیلاب کی صورتحال تصاویر میں

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں بارشوں اور سیلاب کے سبب متعدد اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں سے تقریباً دو لاکھ افراد کا انخلا ہو چکا ہے۔

    بی بی سی کی ٹیم نے جمعے کو سیلاب سے متاثر ہونے والے ضلع چنیوٹ کا دورہ کیا ہے۔

  6. بی بی سی اردو کی جانب سے وضاحت

  7. تصاویر: سیلاب کے سبب چنیوٹ اور چناب نگر شدید متاثر

    سرگودھا، فیصل آباد جی ٹی روڈ پر دریائے چناب کے ایک جانب چنیوٹ جبکہ دوسری شہر چناب نگر ہے۔

    ان تصاویر میں آپ چناب نگر سے سرگودھا کی جانب دریائے چناب میں سیلاب کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال دیکھ سکتے ہیں۔

    ایک جانب جہاں سرگودھا، فیصل آباد روڈ سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا دکھائی دیتا ہے تو دوسری جانب ریلوے لائن بھی زیرِ آب آ چکی ہے۔

    سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر چناب نگر کے اطراف زرعی زمین بھی متاثر ہوئی ہے۔

  8. ایرانی صدر کی سیلاب سے متاثرہ پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش

    ایران کے صدر مسعود پژشکیان نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر دُکھ کا اظہار کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ایرانی صدر نے حالیہ سیلاب میں جانی و مالی نقصانات پر متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے عوام ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

  9. پنجاب میں مون سون بارشوں کا نواں سلسلہ شروع، بارشیں کہاں متوقع ہیں؟

    پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ صوبے میں مون سون کی بارشوں کا نواں سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور دو ستمبر تک جاری رہے گا۔

    پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاالدین، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، جھنگ، سرگودھا، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بارشیں متوقع ہیں۔

    ترجمان کے مطابق پنجاب کے ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے صوبائی حکام کو ہائی الرٹ پر رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

  10. سندھ میں ’انتہائی اونچے سیلابی ریلے‘ کے داخل ہونے سے 50 ہزار سے زیادہ خاندان بے گھر ہوسکتے ہیں: پی ڈی ایم اے

    پاکستان کے صوبے سندھ میں آئندہ دنوں میں سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر شمالی اضلاع میں 72 اور جنوبی اضلاع میں 106 ریسکیو کشتیاں تعینات کر دی گئی ہیں۔

    جمعے کو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے حکام نے مراد علی شاہ کو ایک بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تین اور چار ستمبر کی درمیانی شب سکھر کے گڈو بیراج پر سات سے آٹھ لاکھ کیوسک پانی داخل ہونے کا امکان ہے۔

    اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ اگر انتہائی اونچا سیلابی ریلا آیا تو 50 ہزار سے زیادہ خاندان بے گھر ہو سکتے ہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کے شمالی اضلاع میں 30 ہزار سے زیادہ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی تعیناتی کی ہدایات جاری کی ہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے مطابق مراد علی شاہ نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری یقینی بنائی جائے اور ضرورت پڑنے پر غیرسرکاری مشینری کا بندوبست بھی کیا جائے۔

  11. گنڈا سنگھ والا میں پانی کا بہاؤ ساڑھے تین لاکھ کیوسک سے زیادہ، صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے: این ڈی ایم اے

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا میں غیر معمولی سیلابی صورتحال تاحال جاری ہے۔

    ایک بیان میں این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ ساڑھے تین لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، بارشوں اور انڈیا کی جانب سے ممکنہ سیلابی ریلوں کے اخراج سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

    ادارے کا مزید کہنا ہے کہ قصور اور ملحقہ علاقوں میں انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔

    ’عوام حفاطتی انتظامات یقینی بنائیں۔‘

  12. پنجاب میں 73 ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے: ریسکیو 1122

    پنجاب میں ریسکیو کے ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال کے بعد دریائے سندھ، چناب، راوی، ستلج اور جہلم کے ملحقہ علاقوں سے 73 ہزار کے قریب افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    ترجمان کے مطابق پنجاب بھر کے سیلابی علاقو ں میں779 ریسکیو کشتیوں کے ساتھ فلڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    فاروق احمد کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے جمعے کو ہی پانی میں پھنسے ایک ہزار کے قریب افراد کو نکالا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ 280 افراد کو قصور میں ریسکیو کیا گیا جبکہ حافظ آباد سے 164، سیالکوٹ سے 127، اوکاڑہ سے 82 ، گوجرانوالہ سے 76، لاہور سے 4 ، چینوٹ سے 41، شیخوپورہ سے 32 افراد کو نکالا گیا جبکہ 46 افراد کو جھنگ ، بہاولپور، ساہیوال، سرگودھا، نارووال اور فیصل آباد سے محفوظ مقامات پر لے جایا گیا۔

  13. راوی میں سیلابی صورتحال میں شدت کا امکان

    نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں دریائے راوی میں سیلابی صورتحال میں شدت آ سکتی ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ 30 اگست سے تین ستمبر تک دریائے راوی کے بالائی ملحقہ علاقوں میں بارشیں اور تھین ڈیم سے پانی کا اخراج متوقع ہے اور سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے راوی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اس وقت تقریباً ایک لاکھ 47 ہزار کیوسک پانی موجود ہے اور دو سے تین ستمبر کے دوران یہ سیلابی ریلا سدھنائی پہنچے گا جہاں سوا لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک بہاؤ متوقع ہے۔

    حکام کے مطابق سدھنائی کے مقام پر یہ ریلا شدید سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

    نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث لاہور میں لاہور سٹی اور رائیونڈ کے علاوہ قصور، پتوکی، اوکاڑہ، رینالہ خورد، دیپالپور، گوگرا، تاندلیانوالہ،کمالیہ، پیر محل، اڈا حکیم اور سدھنائی کے علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں اور ہنگامی حالات میں امدادی ٹیموں سے رابطہ کریں۔

  14. شگاف ریواز پل میں نہیں بلکہ ریلوے بند میں ڈالا گیا ہے: جھنگ انتظامیہ کی وضاحت, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو

    جھنگ کے ضلعی انفارمیشن آفیسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے ریواز پل میں شگاف نہیں ڈالا گیا بلکہ موضع ننکانہ ریلوے لائن کے پاس بند میں شگاف ڈالا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پی ڈی ایم اے کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ جھنگ شہر کو بچانے کے لیے وہاں واقع قدیمی ریواز پل کے بند میں شگاف ڈال دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ دریائے چناب میں اس وقت انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    بی بی سی بات کرتے ہوئے ضلعی انفارمیشن آفیسر بتایا ہے کہ دریا میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے ساتھ موضع ننکانہ ریلوے لائن تحصیل جھنگ سے شگاف ڈالا گیا ہے۔ ہے جو ریواز پل سے تین کلو میٹر دور ہے۔

    دریائے چناب میں اس وقت بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ میں موجود ہے اور کچھ دیر قبل وہاں سے آٹھ لاکھ 55 ہزار کیوسک پانی گزر رہا تھا۔

    پنجاب کے ریلیف کمشنر نبیل جاوید کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ اور جھنگ سے ہوتا ہوا تریموں ہیڈ کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور جمعے کی شام وہاں پہنچے گا۔

    ریلیف کمشنر کے مطابق سیلاب کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے جھنگ میں تین مقامات پر بریچنگ کی گئی ہے۔

  15. چنیوٹ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، نشیبی علاقوں کی آبادی کو انخلا کی ہدایات

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق چنیوٹ میں دریائے چناب کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس وقت وہاں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق جمعے کی شام تین بجے چنیوٹ میں پانی کی مقدار میں مزید 13 ہزار کیوسک کا اضافہ دیکھا گیا ہے اور اب وہاں سے آٹھ لاکھ ساڑھے 55 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔

    دریا کا پانی پہلے ہی چنیوٹ شہر کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ شہر کے نشیبی علاقوں تک پہنچ چکا ہے اور ضلعی انتظامیہ نے جمعرات کی شب ہی شہر کے متعدد محلوں سے آبادی کے انخلا کی ہدایات جاری کر دی تھیں۔

  16. لاہور کی پارک ویو سوسائٹی میں سڑکوں پر چلتی کشتیاں, ترہب اصغر، بی بی سی اردو

    لاہور میں دریائے راوی کے کنارے واقع وفاقی وزیرِ مواصلات علیم خان کی ملکیتی پارک ویو سوسائٹی بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں سیلاب کا پانی داخل ہوا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شب اور جمعے کی صبح اس سوسائٹی کے چھ بلاکس میں پانی بھر گیا تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام رہائشیوں کو پہلے ہی متاثرہ علاقے سے نکال لیا گیا۔

  17. بریکنگ, جھنگ کو سیلاب سے بچانے کے لیے ریلوے بند میں شگاف، چنیوٹ میں انتہائی بلند درجے کا سیلاب برقرار

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں شدید سیلابی صورتحال برقرار ہے اور جھنگ شہر کو بچانے کے لیے وہاں واقع قدیمی ریواز پل سے کچھ فاصلے پر ریلوے بند میں شگاف ڈال دیا گیا ہے۔

    دریائے چناب میں اس وقت بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ میں موجود ہے اور کچھ دیر قبل وہاں سے آٹھ لاکھ 42 ہزار کیوسک پانی گزر رہا تھا۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ بند میں شگاف اس پانی کی شدت کو کم کرنے کے لیے ڈالا گیا ہے تاکہ اس کی راہ میں آنے والے جھنگ شہر کو سیلاب سے بچایا جا سکا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ توڑا جانے والا بند ریواز پل کا تھا تاہم بعدازاں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ موضع ننکانہ میں ریلوے لائن بند کو توڑا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ جمعرات کو حکام نے کہا تھا کہ چنیوٹ کے مقام دریائے چناب میں پانی کی ریلے کے سبب جھنگ اور چنیوٹ کے درمیان ریواز پل کو خطرہ ہے اور ریواز پل توڑنے سے پانی کے بہاؤ کو کم کیا جائے گا

    حکام کے مطابق ریلوے بند میں شگاف ڈالے جانے کے بعد فیصل آباد اور جھنگ میں انتظامیہ ہائی الرٹ ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق چنیوٹ سے گزرنے والا پانی کا ریلا جھنگ سے ہوتا ہوا تریموں ہیڈ ورکس پہنچے گا۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تریموں ہیڈ ورکس پر پانی گزرنے کی گنجائش چھ لاکھ 45 ہزار کیوسک ہے جبکہ اس وقت چنیوٹ سے گزرنے والا پانی اس گنجائش سے تقریباً دو لاکھ کیوسک زیادہ ہے۔

    ریواز پل میں شگاف ڈالنے کے علاوہ حکام نے جمعرات کو یہ بھی کہا تھا کہ اگر پانی کی مقدار اور شدت کم نہ ہوئی تو ضرورت پڑنے پر 18 ہزاری بند میں بھی شگاف ڈالا جا سکتا ہے۔

  18. سیالکوٹ میں 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق: پنجاب کا یہ شہر سیلاب سے اتنا زیادہ متاثر کیوں ہوا؟

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر سیالکوٹ میں اب تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دو لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 11 لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں تحصیل سمبڑیال کے علاقے ماجرہ کلاں کے ایک ہی کے خاندان چار افراد بھی شامل ہیں جبکہ اسی خاندان کے دو لاپتہ بچوں کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

    سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال میں ایک ہی خاندان کے ہلاک ہونے والے افراد کی شناحت 35 سالہ عمران ارشد ، اُن کی 32 سالہ اہلیہ فرخ عمران اور ان کے دو کم عمر بچے شامل ہیں جبکہ اسی خاندان کی دو کمسن بہنوں چھ سالہ زروا اور ڈیڑھ سالہ زرقا کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

    ترجمان ریسکیو 1122 رانا وسیم نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اب تک سیالکوٹ میں ایک ہزار 257 لوگوں کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    سیالکوٹ میں نالوں کے باعث تباہی کیسے ہوئی؟

    سیلابی پانی سے متاثرہ پنجاب کے دیگر علاقوں کے برعکس سیالکوٹ کے معاملے میں ایک بات مختلف یہ ہے کہ یہاں زیادہ تباہی دریا کے اپنے کناروں سے باہر آنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس ضلع سے گزرنے والے تین بڑے نالوں میں پیدا ہونے والی طغیانی کے باعث ہوئی۔

    ضلع کے مختلف علاقوں بشمول سیالکوٹ شہر میں اس وقت کئی کئی فٹ سیلابی پانی کھڑا ہے اور حکام اس پانی کی نکاسی کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا آبائی حلقہ انتخاب سیالکوٹ شہر ہے اور حال ہی میں انھوں نے اپنے حلقے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور کہا سیالکوٹ سے گزرنے والے نالوں، اُن پر قائم ہونے والی تجاوزات بشمول ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کی وجہ سے سیالکوٹ میں زیادہ تباہی مچی۔

    لگ بھگ 45 لاکھ کی آبادی والے ضلع سیالکوٹ کی جغرافیائی صورتحال کچھ یوں ہے کہ اِس کی سرحد انڈیا کے ساتھ موجود ورکنگ باؤنڈری سے ملتی ہے جس سے آگے انڈیا کے زیر انتظام جموں کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔

    جموں سے آنے والے تین بڑے نالے، ’نالہ ایک‘، ’نالہ ڈیک‘ اور ’نالہ پلکھو‘ سیالکوٹ شہر میں داخل ہوتے ہیں۔

    جموں سے آنے والا ’نالہ ایک‘ سیالکوٹ شہر کے عین وسط سے گزرتا ہے، جموں ہی سے آنے والا دوسرا ’نالہ ڈیک‘ ضلع نارووال کی تحصیل ظفر وال سے ہوتا ہوا سیالکوٹ کی تحصیل پسرور میں داخل ہوتا ہے جبکہ جموں ہی سے نکلنے والا تیسرا ’نالہ پلکھو‘ بھی سیالکوٹ کینٹ ایریا کی طرف سے ہوتا ہوا سیالکوٹ شہر میں آتا ہے۔ سیالکوٹ کی ’عسکری ٹو‘ کالونی، جہاں فی الوقت پانچ پانچ فٹ پانی کھڑا ہے، وہ بھی نالہ پلکھو کے قریب ہی بنائی گئی ہے اور اسی نالے سے خارج ہونے والے سیلابی پانی کے باعث شہر کی یہ پوش رہائشی کالونی گذشتہ تین روز سے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔

    نالہ پلکھو کا پانی سیالکوٹ شہر سے ہوتا ہوا تحصیل سمبڑیال جاتا ہے اور یوں سمبڑیال میں نالہ پلکھو کے پانی نے تباہی مچائی جوکہ یہاں سے پھر آگے گزرتا ہوا وزیر آباد جاکر دریائے چناب میں گر جاتا ہے۔

    جموں سے آنے والے ان تین نالوں کے علاوہ سیالکوٹ شہر میں دو اور نالے بھی ہیں جن میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوئی۔

    جموں سے آنے والے ’نالہ ایک‘ اور ’نالہ ڈیک‘ کے ملاپ سے بننے والے نالے کا نام ’نالہ بسنتر‘ ہے جو ظفروال سے ہوتا ہوا سیالکوٹ کی تحصیل پسرور میں داخل ہوتا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق تحصیل پسرور میں سیلابی پانی سے ہونے والی تباہی نالہ ڈیک اور نالہ بسنتر میں آنے والی طغیانی کے باعث ہوئی۔

    اسی طرح ’نالہ بھیڈ‘ پاکستان سے ہی شروع ہوتا ہے اور یہ بھی سیالکوٹ شہر کے وسط سے گزرتا ہے۔ ضلع کچہری، ڈسٹرکٹ پولیس آفس، سیشن کورٹس سمیت سرکاری رہائش گاہوں میں داخل ہونے والا پانی نالہ بھیڈ سے ہی خارج ہوا تھا۔

    سیالکوٹ کے رہائشی اور بلدیاتی نمائندے چودھری نصیر احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کے نالوں کے کناروں پر قائم تجاوزات کی تصدیق کی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ برسوں کے دوران کم از کم 15 نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اِن نالوں کے اوپر یا دہانوں پر غیرقانونی طریقوں سے بنائی گئی ہیں اور یہ سارا عمل ٹاؤن پلاننگ کے بنیادی اصولوں کے برخلاف ہے۔

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ماضی میں یہ رپورٹس سامنے آ چکی ہیں کہ کیسے چند سوسائیٹیوں کے مالکان نے نالوں کے اردگرد کی جگہوں پر قبضے کیے اور پانی کی وہ گزرگاہیں جہاں پانی خال ہی ہوتا تھا وہاں نالوں کی چوڑائی کم کروائی گئی۔

    ’اب زیادہ پانی آ گیا، تو پانی نے تو اپنے نکاس کےلیے جگہ بنانی ہی ہے۔ پانی ان نالوں سے اوور فلو ہوا اور شہریوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ چار روز گزرنے کے باوجود بھی سیالکوٹ شہر کے کئی مقامات پر تین سے پانچ فٹ تک پانی کھڑا ہے اور کوئی ادارہ اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔

    پنجاب حکومت نے سیالکوٹ میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہونے کے بعد مبینہ غفلت اور کوتاہی پر ایم ڈی واسا سیالکوٹ ابوبکر عمران کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے اُن کی جگہ چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کونسل سیالکوٹ فیصل شہزاد کو ایم ڈی واسا کا اضافی چارج سونپا تھا۔

    صوبائی سیکریٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے میڈیا کو بتایا کہ ہنگامی صورتحال میں بروقت انتظامات نہ کرنے اور غفلت برتنے پر ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور جو افسران ڈیوٹی میں غفلت کے مرتکب پائے گئے، وہ سیٹوں پر نہیں رہیں گے۔

    ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے کہا ہے کہ جب تک اِن نالوں میں پانی نارمل سطح پر نہیں آ جاتا، تب تک نشیبی علاقوں سے پانی نکالنا ممکن نہیں ہو گا۔

  19. دریائے راوی میں پانی کی صورتحال کیا ہے؟

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے راوی پر شاہدرہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے لیکن مگر اب بھی پانی کی سطح انتہائی اونچی ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ گذشتہ رات شاہدرہ کے مقام پر سے دو لاکھ بیس ہزار کیوسک کا ریلا گزرا جو سنہ 1988 کے بعد سے دریائے راوی میں پانی کا بڑا ریلا ہے۔

    سیلابی پانی سے لاہور میں دریائے راوی کے قریب نو رہائیشی علاقے متاثر ہوئے ہیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور ان علاقوں سے رہائشیوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے۔

    جمعرات کی شب اور جمعے کی صبح دریائے راوی کے نزدیک پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے پانچ بلاکس میں بھی پانی داخل ہوا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہاں سے تمام رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا۔

    وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق سیلابی صورتحال کے بعد تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال، فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی، نیو میٹرو سٹی اور چوہنگ کے علاقوں سے انخلا کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ طلعت پارک بابو صابو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ انڈیا میں دریائے راوی پر مادھو پور ہیڈ ورکس سے 80 ہزار کیوسک پانی آتا رہے گا جو شاہدرہ کے مقام سے گزرتا رہے گا۔

    حکومت اب سختی سے دریاؤں میں بسنے والوں سے انخلا کروا رہی ہے کیونکہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے راوی پر بلوکی کے مقام سے اس وقت ایک لاکھ 47 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔

  20. پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں: 14 لاکھ سے زائد افراد متاثر، خطرہ برقرار

    پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے جبکہ چار لاکھ سے زائد افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے سربراہ عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ پنجاب میں ساڑھے چودہ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور سیلاب کی شدت کو دیکھتے ہوئے متاثرین کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد پانی پھنسے ہوئے چار لاکھ انتیس ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے جبکہ صوبے بھر میں 365 ریلف کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں چار ہزار متاثرین موجود ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 1769 دیہات زیر آب آ چکے ہیں اور جب تک پانی سندھ میں داخل نہیں ہو جاتا اُس وقت تک خطرہ برقرار ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے تین لاکھ سے زائد مال مویشوں کو بھی نکالا گیا ہے۔