سکیورٹی خدشات‘ پر کوئٹہ سمیت بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل

یہ اجلاس غزہ کی پٹی پر مکمل کنٹرول کے مجوزہ منصوبے کو پیش کرنے کے لیے بلایا گیا ہے تاہم یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اسرائیلی ملٹری چیف اور کچھ وزرا وزیراعظم کے منصوبے کے مکمل طور پر حامی نہیں ہیں۔

خلاصہ

  • غزہ پر مکمل کنٹرول کا منصوبہ: نتن یاہو کی سربراہی میں سکیورٹی اجلاس
  • نتن یاہو کا منصوبہ ایک نئی جنگ اور مزید یرغمالیوں کی جان لے گا: اسرائیلی اپوزیشن لیڈر
  • کریملن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے آئندہ دنوں میں ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔
  • اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ آج سکیورٹی کابینہ کا اجلاس متوقع ہے جس میں ایک ایسے فوجی منصوبے کی منظوری کا امکان ہے جس سے غزہ کی پوری پٹی پر فوجی کنٹرول قائم ہو جائے گا۔
  • پاکستان کی وفاقی حکومت نے 2024 سے 2029 تک کے نجکاری پروگرام میں حکومتی تحویل میں چلنے والے 24 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔
  • گھانا میں ایک فوجی ہیلی کاپٹرکو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں ملک کے وزیر دفاع اور وزیرماحولیات سمیت 8 افراد ہلاک ہو گئے۔

لائیو کوریج

  1. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔

    کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس بدھ کی شام اچانک بند ہوگئی۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان سے موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی بندش کی وجوہات جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    تاہم حکومت بلوچستان کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط نے بتایا کہ بلوچستان میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

    انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے صارفین کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

    اس سے قبل بلوچستان بھر میں 15اگست تک دفعہ 144نافذ کردی گئی تھی۔ دفعہ 144کے تحت بلوچستان بھر موٹرسائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی، اسلحے کی نمائش، پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع کے علاوہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

  2. بریکنگ, امریکی ریاست جارجیا میں فوجی اڈے پر فائرنگ، پانچ فوجی زخمی، حملہ آور گرفتار

    ْْٰBBC

    امریکی ریاست جارجیا میں واقع فورٹ سٹیورٹ کے فوجی اڈے پر بدھ کے روز فائرنگ کے واقعے میں کم از کم پانچ فوجی اہلکار زخمی ہو گئے۔

    واقعے کے بعد فوجی اڈے کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا اور سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو حراست میں لے لیا۔

    فورٹ سٹیورٹ ہنٹر آرمی ایئر فیلڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ فائرنگ کا واقعہ اڈے کے سیکینڈ آرمڈ بریگیڈ کامبیٹ ٹیم کے علاقے میں پیش آیا۔ لاک ڈاؤن صبح 11 بج کر 4 منٹ پر نافذ کیا گیا جبکہ حملہ آور کو 11 بج کر 35 منٹ پر گرفتار کر لیا گیا۔

    حکام کے مطابق زخمی ہونے والے تمام فوجی اہلکاروں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعد ازاں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ فوجی اڈے کا کہنا ہے کہ اب اڈے یا آس پاس کے علاقوں کو کسی فعال خطرے کا سامنا نہیں ہے۔

    فوجی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور اس مرحلے پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس واقعے پر بریفنگ دی گئی ہے اور وفاقی حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    فائرنگ کے محرکات اور حملہ آور کی شناخت کے بارے میں فی الحال کوئی اطلاع جاری نہیں کی گئی۔

  3. مستونگ میں ہلاک ہونے والے 16سالہ نوجوان کی والدہ کا کوئٹہ پریس کلب کے باہر دھرنا, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی والدہ نے ملزمان کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر بطور احتجاج دھرنا شروع کر دیا ہے۔

    ہلاک ہونے والے 16سالہ نوجوان احسان شاہ کی والدہ نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر دھرنا دیا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ عدالت کے حکم پر مقدمہ تو درج کیا گیا لیکن ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’انصاف فراہم کرنے کی بجائے انھیں اور ان کے خاندان کو ہراساں کیا جارہا ہے۔‘

    عدالت کے حکم پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا

    عارفہ شاہ نے بتایا کہ احسان شاہ اپنے دوست کے ہمراہ عید الاضحٰی سے چار روز قبل اپنے چھوٹی بہن بھائیوں کے لیے عید کی خریداری کرنے موٹر سائیکل پرکوئٹہ گئے تھے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ واپسی پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے بغیر کسی انتباہ کے اور انھیں روکے بغیر گولی چلائی جس سے ان کا بیٹا ہلاک جبکہ ان کا ساتھی زخمی ہو گیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے ہم نے فائرنگ کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مقامی انتظامیہ کو ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درخواست دی لیکن انھوں نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم نے عدالت سے رجوع کیا جس پر عدالت نے مقدمہ درج کیا لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔

    سید احسان شاہ کے قتل کی ایف آئی آر لیویز فورس کے تھانہ ولی خان میں سکیورٹی فورسز کے نامعلوم اہلکاروں کے خلاف درج کی گئی ہے ۔

    ’انصاف کی فراہمی کی بجائے ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے‘

    دھرنے پر بیٹھنے کے علاوہ عارفہ شاہ نے کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت کے حکم پر ایف آئی آر تو درج کی گئی لیکن ان کے بقول اس کے ساتھ ہی مبینہ طور پر دھمکیوں، ہراسانی اور دباؤ کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ بیٹے کے قتل میں ملوث تمام اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور گواہان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

  4. انڈیا نے امریکہ کی جانب سے اضافی ٹیرف کو ’غیر منصفانہ اور غیر معقول‘ قرار دے دیا

    انڈیا نے امریکہ کی جانب سے اضافی ٹیرف کے فیصلے کو غیر منصفانہ اور غیر معقول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات اٹھائے گا۔

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ نے انڈیا کی روس سے تیل کی درآمدات کو نشانہ بنایا ہے۔

    بیان کے مطابق ’ہم اس بارے میں پہلے ہی وضاحت دے چکے ہیں کہ ہماری درآمدات کا انحصار مارکیٹ کی بنیادوں پر ہوتا ہے اور یہ درآمدات انڈیا کے 1.4 ارب لوگوں کی توانائی کی ضروریات کو یقینی بنانے کے لیے کی جاتی ہیں۔‘

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’یہ بہت بدقسمتی ہے کہ امریکہ نے انڈیا کے ان اقدامات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا انتخاب کیا، جو بہت سے دیگر ممالک پہلے سے ہی اپنے قومی مفاد کے لیے کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اقدامات غیر منصفانہ اور غیر معقول ہیں۔انڈیا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات اٹھائے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. بریکنگ, روس سے تیل کی خریداری پر امریکہ نے انڈیا پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔

    امریکی صدرنے صدارتی حکم نامے کے ذریعے روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے انڈیا پر اضافی ٹیرف عائد کیا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے اضافی ٹیرف کے بعد انڈین مصنوعات پر مجموعی طور ٹیرف 50 فیصد ہو گیا ہے۔

    انڈیا کی تمام مصنوعات پر اضافی ٹیرف کا اطلاق صدارتی آڈر کے اجرا کے 21 دن بعد ہو گا۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کی روس سے تیل کی درآمدات روس کی نقصان دہ سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے لیے امریکی اقدامات کو کمزور کر رہی ہیں۔‘

    بیان کے مطابق ’یوکرین میں روس کی کارروائیاں امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں اور قومی سطح پر اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مضبوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے تنبیہ کی تھی کہ وہ روس سے تیل خریدنے پر انڈیا پر مزید ٹیرف عائد کریں گے کیونکہ انڈیا اس بات کو پروا نہیں کہ روس یوکرین کے شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے جواب میں انڈیا کی حکومت نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ امریکہ کے کہنے پر ہی روس سے تیل خریدتے تھے۔

  6. غزہ میں امدادی ٹرک الٹنے سے 20 افراد ہلاک، 30 زخمی

    ُغزہ ، امداد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں گزشتہ روز امداد سے لدے 26 ٹرک داخل ہوئے، جس میں سے چھ کو راستے میں ہی لوٹ لیا گیا

    غزہ میں حماس کی زیر قیادت سول ڈیفینس ایجنسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ منگل کو چار امدادی ٹرک الٹنے سے 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ امدادی ٹرک الٹنے کا یہ واقعہ ماضی میں اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول رہنے والے علاقے میں پیش آیا، جہاں سڑکیں ٹوٹی پھوٹی اور خطرناک ہیں۔

    مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ حادثہ وسطی غزہ کے علاقے میں رات کو اس وقت پیش آیا، جب لوگوں کا ہجوم امدادی ٹرکوں کے ساتھ دوڑ رہا تھا اور اس پر چڑھنے کو کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران ناہموار سڑک پر ٹرک الٹ گئے۔

    اس حادثے میں 10 ٹرک ڈرائیور بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب نجی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق غزہ میں گزشتہ روز امداد سے لدے 26 ٹرک داخل ہوئے تھے جس میں سے چھ کو راستے میں ہی لوٹ لیا گیا۔

    یاد رہے کہ منگل کو اسرائیل نے امداد اور خوراک کی ترسیل بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ اور امدادی ادراوں کے علاوہ نجی کمپنیوں کے ٹرکوں کو بھی غزہ میں داخلے کی اجازت دی تھی۔

  7. توہینِ مذہب کے الزامات کی تحقیقات، عدالتی کمیشن کی تشکیل چیلنج

    Court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعدالت نے وفاقی حکومت کو توہین مذہب سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا تھا

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی) نے توہینِ مذہب کے الزامات کی تحقیقات کے لیے بننے والے عدالتی کمیشن کی تشکیل کو چیلنج کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کا کہنا ہے کہ توہین مذہب سے متعلق کئی کیسز ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہیں اور کمیشن کا قیام ان مقدمات کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق کمیشن کا مقصد اس بات کا تعین کرنا تھا کہ توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال تو نہیں ہو رہا۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی ایک غیر جانبدار ریاستی ادارہ ہے اور وہ مقدمات کے اندارج سے قبل ڈیجٹیل شواہد کو یقینی بنا کر ہی مقدمات درج کرتا ہے۔

    یاد رہے کہ 100 سے زیادہ درخواست گزاروں نے کمشین تشکیل دینے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے رشتہ داروں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات درج ہیں۔

    ان افراد کے خلاف سوشل میڈیا پر ایسا مواد شائع یا شیئر کرنے کا الزام ہے جو مبینہ طور پر توہینِ مذہب کے زمرے میں آتا ہے۔

    درخواست گزاروں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ایک مبینہ ’گینگ‘ نے ان کے رشتہ داروں کو ’ہنی ٹریپ‘ کر کے ان سے یہ مواد شیئر کروایا۔

    این سی سی آئی آئی نے عدالت میں جمع کروائی گئی اپنی درخواست میں اس بارے میں سپیشل برانچ کی 2024 کی رپورٹ کا ذکر کیا جس میں کہا گیا تھا وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے بعض افسران بھی اس میں شامل ہیں۔

    درخواست میں کہا گیا کہ سپیشل برانچ سے جب اس بارے میں شواہد اور ثبوت مانگے گئے تو حقائق فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی درخواست کے مطابق کمیشن قائم کرنے سے متعلق 15 جولائی کے عدالتی فیصلے سے اُن کے ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی اور عدالت نے کمیشن بنا کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اس لیے اس فیصلے کو معطل کیا جائے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اس کمیشن کی تشکیل کو عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژنل بینچ نے کمیشن کی تشکیل کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا تھا۔

  8. اسرائیل کے لیے جاسوسی اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے وابستگی پر ایران میں پھانسیاں

    ایران، اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ایران نے ایک ماہ کے دوران 1404 کو سزائے موت دی

    ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں نیوکلئیر سائنسدان سمیت دو افراد کو پھانسی دے دی ہے۔

    ایرانی عدلیہ سے منسلک میزان نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان دو افراد کو اسرائیل کے لیے جاسوسی، خفیہ سرگرمیوں میں معاونت کرنے اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے وابستگی کے الزام میں پھانسی دی گئی۔

    نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ سزائے موت پانے والے افراد کے نام روزباہ ویدی اور مہدی اصغر ہیں۔

    نیوز ایجنسی کے مطابق سزائے موت پانے والے روزباہ ویدی ایران کے ’اہم اور حساس ادارے‘ میں کام کرتے ہوئے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کر رہے تھے۔

    نیوز ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں کس تاریخ کو گرفتارکیا گیا تھا۔

    دوسری جانب ایران کی ’امیر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی‘ کے مطابق ’روزباہ ویدی نے نیوکلئیر انجینئیرنگ میں پی ایج ڈی کی تھی۔‘

    ایرانی نیوز ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ ویدی کس حساس اور اہم محکمے میں کام کرتے تھے لیکن یونیورسٹی کے نیوز لیٹر کے مطابق ویدی ایران کی اٹیمی انرجی آرگنائزیشن سے منسلک نیوکلئیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے رکن تھے۔

    یونیورسٹی کے مطابق انھوں نے سنہ 2011 میں دو اہم نیوکلئیر سائنسدانوں کے ساتھ ایک ریسرچ آرٹیکل شائع کیا تھا اور وہ دونوں ایرانی نیوکلیئر سائنسدان اسرائیل کے ساتھ ہونے والی حالیہ جنگ میں مارے گئے۔

    نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ مہدی اصغر زادہ کو بھی پھانسی دی گئی کیونکہ وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے وابستہ تھے اور انھوں نے شام اور عراق میں تربیت لی تاکہ ایران میں کارروائیاں کر سکیں۔

    ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں رپورٹ شائع کرنے والی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اصغر زادہ سزا یافتہ مجرم تھے اور انھیں تقریباً دس قبل سنہ 2016 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ شام سے واپس آ رہے تھے۔

    تنظیم کے مطابق اصغر زادہ کو دو سال پہلے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، جس پر عمل درآمد اب ہوا۔

    ایران کی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ’ایران نے 29 جون سے 29 جولائی (ایک ماہ) کے دوران 1404 افراد کو پھانسی دی۔

  9. عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کا احتجاج کتنا موثر رہا اور آگے کیا آپشنز موجود ہیں, اعظم خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے پانچ اگست کو ایک بار احتجاج کیا گیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات منوانے کے لیے پانچ اگست کو ایک بار احتجاج کیا گیا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہونے پر کیے جانے والے اس ’ملک گیر‘ احتجاج کو جہاں پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان کامیاب قرار دے رہے ہیں اور اس دوران متعدد ارکان کی گرفتاریوں کے دعوے کر رہے ہیں وہیں حکومت نے گرفتاری سے متعلق پی ٹی آئی کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔

    حکومت کا دعویٰ ہے کہ پارٹی عہدیدار اور کارکنان دعووں کے برعکس باہر نہیں نکلے۔

    پی ٹی آئی کا یہ احتجاج ماضی کے برعکس کتنا مختلف تھا اور اس دوران تحریک انصاف کیا حاصل کر پائی۔ بی بی سی نے انھی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے کچھ تجزیہ کاروں سے بات کی اور ان سے یہ بھی جاننا چاہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی کتنی موثر رہی۔

    ’ہر سیاسی احتجاج کامیاب ہوتا ہے، جو پرامن ہو‘

    گرفتاریاں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر عمیر نیازی کے مطابق کسی ایک جگہ یا مقام کے بجائے یہ احتجاج ملک بھر تک پھیلا دیا گیا تھا جس حکمت عملی کو سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کامیاب قرار دیتے ہیں۔

    ان کی رائے میں احتجاج کو نچلی سطح پر لے جانے کا اثر ہوا ہے اور اس کا واضح ثبوت حکومتی بوکھلاہٹ ہے۔

    ضیغم خان کے مطابق حکومت نے جس طرح ردعمل دیا ہے اس سے پی ٹی آئی کا پیغام بہتر طور پر عوام تک پہنچا ہے۔

    ’ماضی میں پی ٹی آئی سے کچھ غلطیاں ہوئیں اور انھوں نے سیاسی احتجاج کو پرامن رکھنے کی طرف توجہ نہیں دی جس سے نقصان ہوا۔ ان کے مطابق سیاسی احتجاج اگر پرامن نہ رہے تو پھر یہ ریاستی جبر کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

    ضیغم خان نے بتایا کہ حکومت نے جس طرح ردعمل دیا ہے اس سے پی ٹی آئی کا پیغام بہتر طور پر عوام تک پہنچا ہے۔ ہر سیاسی احتجاج کامیاب ہوتا ہے، جو پرامن ہو۔‘

    ان کی رائے میں احتجاج کا مقصد حکومت بدلنا نہیں بلکہ رائے عامہ پر اثر انداز ہونا ہوتا ہے اور اس پہلو سے پی ٹی آئی کامیاب نظر آتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق مطابق پی ٹی آئی کے اندر مسائل ہیں، اختلاف ہیں اور قیادت کا بحران ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی نے اتحاد کی سیاست کی طرف توجہ نہیں دی۔ تحریک انصاف جماعت اسلامی جیسی سٹریٹ پاورز والی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہ ہوئی اور اتحاد کو وسعت نہیں دے سکی۔‘

    ’حکومتی اتحاد تحریک انصاف کے آگے بند باندھنے کے اقدامات اٹھا رہا ہے‘

    انگریزی اخبار بزنس ریکارڈر کی ایڈیٹر انجم ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی آئی کو حکومت کو پریشان کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ صرف حکومت بلکہ تمام اداروں اور سٹیک ہولڈرز کو بھی پریشانی میں مبتلا کیا ہے۔

    ان کی رائے میں حکومت کی کارکردگی خاص طور پر معاشی کارکردگی جو ماضی کی غلط پالیسیوں کی طرح ہی ہے وہ اب پی ٹی آئی کی کامیابی کی ضمانت بن گئی۔

    ان کے مطابق اس وقت عمران خان اپنی شہرت کے عروج پر ہیں اور لوگ ان کے بیانیے کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ تاہم حکومتی اتحاد تحریک انصاف کے آگے بند باندھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے۔

    پی ٹی آئی کا احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’پی ٹی آئی کے پاس کیا راستے ہیں‘

    ضیغم خان اس سوال پر کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے سامنے اب تین آپشنز ہیں۔ پہلا یہ کہ سسٹم کو تسلیم کریں اور تابعدار بن کر رہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ سسٹم کو اُلٹ کر کوئی جمہوری نظام لائیں۔ تیسرا یہ کہ سسٹم تو ٹھیک ہے مگر باقی سب کو نکال کر عمران خان کو لے آؤ۔ ان کے مطابق تیسرا آپشن ہی پی ٹی آئی کی ترجیح رہا ہے اور انھیں یہ لگتا ہے کہ ان سے یہ الیکشن چرایا گیا ہے۔

    دوسری جانب انجم ابراہیم کے مطابق اس وقت سسٹم میں مذاکرات کی گنجائش ہی نہیں ہے اور ’مجھے لگتا ہے کہ اس وقت عمران خان کے پاس پلان بی اور سی ہے ہی نہیں۔‘

    ان کی رائے میں بظاہر جس وقت اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ چلے نہیں جاتے عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے مشکلات کا دور قائم رہے گا۔

    ان کے مطابق یہ اس وجہ سے بھی مشکل دور ثابت ہوگا کیونکہ عمران خان سے پارٹی قیادت کا براہ راست رابطہ نہیں ہوگا اور اس سے پھر معاملات میں مزید ابہام پیدا ہوگا۔

    انجم ابراہیم کہتی ہیں کہ حکومت اور اداروں کی ہر ممکن کوشش عمران خان کو پابند سلاسل رکھنے پر ہی ہے۔

    ان کے مطابق ’کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ ابہام اور پی ٹی آئی کے اندر جو اختلافات نظر آتے ہیں یا پھر پی ٹی آئی کے لیے باہر جو مشکلات نظر آ رہی ہیں یہ اس دن ہی ختم ہو جائیں گی جب عمران خان باہر آ جائیں گے۔

  10. کرک میں شدت پسندوں کے حملے میں تین ایف سی اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    سکیورٹی اہلکار ہلاک
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں گرگری آئل فیلڈ پر مامور ایف سی اہلکاروں پر شدت پسندوں کے حملے میں تین اہلکار جبکہ ان کے ساتھ ڈیوٹی پر تعینات ایک ڈرائیور ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اس حملے میں مارے جانے والے ایف سی اہلکاروں کا تعلق لکی مروت اور ٹانک سے ہے۔

    یہ اہلکار اس مقام پر فیلڈ سکیورٹی کی ڈیوٹی پر مامور تھے جب اچانک شدت پسندوں نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔

    اس واقعے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ مرنے والوں کی میتیں آبائی علاقوں لکی مروت اور ٹانک روانہ کی جا رہی ہیں۔

    حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔ مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے واقعے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔

    لکی مروت میں ایف سی اہلکار فائرنگ سے ہلاک، اسی علاقے سے دو لاشیں بھی برآمد

    دوسری جانب لکی مروت کے محلہ ریلوے سٹیشن میں لکی پل کے ساتھ دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنھیں گولیاں مار کر قتل گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان دونوں لاشوں کی شناخت تاحال نہ ہو سکی۔

    لکی مروت کے محلہ ریلوے سٹیشن میں ہی ایک علیحدہ واقعے میں گھر کے ساتھ بیٹھک میں بیٹھے ایف سی اہلکار عطا الرحمن پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا ہے ۔ اس فائرنگ میں ایف سی اہلکار عطا الرحمن موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔

    پولیس کے مطابق ایف سی اہلکار عطا الرحمن چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق ان واقعات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

  11. مستونگ: بم حملے میں سکیورٹی فورسز کے ایک میجر سمیت تین اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    سکیورٹی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہBBC World Service

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک بم حملے میں سکیورٹی فورسز کے ایک میجر سمیت کم ازکم تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ضلع مستونگ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کی تحصیل کردگاپ میں کلی پسند خان کے قریب منگل کی رات پیش آیا ہے جہاں نامعلوم مسلح افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

    یاد رہے کہ اس واقعے کے حوالے سے تاحال آئی ایس پی آر نے بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دھماکہ خیز مواد اس وقت پھٹ گیا جب سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں وہاں سے گزررہی تھیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی دھماکے کی زد میں آگئی جس کے باعث گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

    انتظامیہ کے افسر کا کہنا تھا دھماکے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار ایک میجر اور دو دیگر اہلکار زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

    اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

  12. ’غزہ پر مکمل قبضے‘ کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم کی سیاسی، سکیورٹی اور فوجی حکام سے مشاورت

    غزہ کی پٹی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی نشریاتی ادارے نے ’باخبر ذریعے‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو جنگ کے اگلے مرحلے کے طور پر ’غزہ کی پٹی پر مکمل قبضے‘ کے لیے اسرائیل کی سیاسی، سکیورٹی اور فوجی حکام سے مشاورت جاری کیے ہوئے ہیں۔

    بی بی سی عربی کے مطابق اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے رپورٹ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں سکیورٹی کابینہ اور حکومت غزہ کی پٹی میں لڑائی کو وسعت دینے کے لیے مزید مشاروت کریں گی تاہم اس معاملے پر سیکیورٹی اداروں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

    ادارے کے مطابق منگل کے روز وزیر اعظم نیتن یاہو کی زیر صدارت ہونے والی تین گھنٹے طویل سکیورٹی مشاورت میں غزہ شہر اور وسطی غزہ میں واقع کیمپوں کے گھیراؤ کا منصوبہ زیرِ غور آیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ ان علاقوں کو بھی شامل کر سکتا ہے جہاں اسرائیلی یرغمالیوں کے موجود ہونے کا شبہ ہے جس پر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ اس سے یرغمالیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    اس سے یرغمالیوں کی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے: اقوام متحدہ

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ میں اسرائیل کے فوجی آپریشن میں تیزی سے توسیع کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر درست ہے تو اس سے یرغمالیوں کی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل میروسلاو جینکا نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اس طرح کے اقدام کے تباہ کن نتائج ہوں گے اور اس سے باقی یرغمالیوں کی زندگیوں کو مزید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    فوج کابینہ کے ہر فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے: وزیر اعظم کے دفتر کا بیان

    دوسری جانب وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ چیف آف سٹاف ایال ضمیر نے سکیورٹی مشاورت میں غزہ میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کے لیے مختلف آپشنز پیش کیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ فوج کابینہ کے ہر فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔

    خبر رساں ادارے فرانس پریس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے منگل کو ایک فوجی تربیتی مرکز کے دورے کے دوران کہا کہ ’یہ ضروری ہے کہ ہم غزہ میں دشمن (یعنی حماس) کو مکمل طور پر شکست دیں، تمام یرغمالیوں کو رہا کروائیں، اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ غزہ اسرائیل کے لیے مزید خطرہ نہ بنے۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بین گویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر چیف آف سٹاف کو چیلنج دیا کہ وہ یہ واضح کریں کہ اگر حکومت غزہ پر مکمل قبضے کا فیصلہ کرے تو وہ اس پر عمل کریں گے یا نہیں۔

  13. بنگلہ دیش میں عام انتخابات فروری میں ہوں گے: عبوری سربراہ محمد یونس کا اعلان, فلورا ڈروری، بی بی سی نیوز

    بنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلے عام انتخابات آئندہ سال فروری میں منعقد کیے جانے کا اعلان سامنے آیا ہے۔

    یہ اعلان ملک کی عبوری حکومت کے سربراہ نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے ایک سال مکمل ہو نے پر منعقد کی گئی ان تقریبات کے اختتام پر کیا جسے کئی حلقے ’یومِ آزادی ‘ کے نام سے یاد کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ شیخ حسینہ گزشتہ برس طلبہ کے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد پانچ اگست کو انڈیا فرار ہو گئی تھیں۔

    ان مظاہروں نے شیخ حسینہ کی 15 سالہ آمرانہ حکمرانی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اس کے چند روز بعد محمد یونس کو ایک نگران حکومت کی قیادت سونپی گئی جنھوں نے اقتدار سنبھال کر جمہوری اصلاحات کا وعدہ کیا تھا۔

    تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یونس کو ان اصلاحات پر عملدرآمد میں سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔

    بنگلہ دیش میں ایک عرصے سے سیاستدانوں کے درمیان انتخابی تاریخ ایک تنازع کا سبب بنی رہی ہے تاہم اب عبوری وزیر اعظم محمد یونس نے اعلان کیا ہے کہ عام انتخابات فروری 2026 میں رمضان سے قبل منعقد کیے جائیں گے۔

    محمد یونس نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر فروری 2026 میں رمضان سے قبل انتخابات کرانے کی درخواست کریں گے۔

    اس سے قبل محمد یونس نے جون 2026 کو ممکنہ تاریخ کے طور پر تجویز کیا تھا۔ تاہم حالیہ پیش رفت میں ملک کی بڑی جماعتوں بشمول بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، جماعت اسلامی اور طلبہ کی قیادت میں بننے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) کے نمائندے منگل کے روز دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک ہی سٹیج پر یونس کے ہمراہ موجود تھے۔

    ٹی وی پر اپنے خطاب کے دوران محمد یونس نے یہ بھی کہا کہ ’ہم میں سے کوئی برسوں سے ووٹ نہیں ڈال سکا۔ اس بار ہم سب ووٹ ڈالیں گے اور کہہ سکیں گے کہ ‘ہم نے ووٹ ڈال کر ملک کو نئی راہ پر ڈالا’۔

    اپنے خطاب میں یونس نے ملک میں جامع اصلاحات کے وعدے بھی دہرائے اور جولائی ڈکلیئریریشن پڑھ کر سنایا، جس کا مقصد شیخ حسینہ حکومت کے خلاف ہونے والے طلبہ احتجاج کو آئینی سطح پر تسلیم کرنا ہے۔

    بنگلہ دیش میں گذشتہ سال حکومت مخالف مظاہرے ہوئے

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش میں گذشتہ سال حکومت مخالف پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے

    اس اعلامیے کے ایک حصے میں بغاوت میں مارے جانے والوں کو ’قومی ہیرو‘ کے طور پر تسلیم کیے جانے کا اعادہ کیا گیا ہے جبکہ ایک ایسی جمہوری ریاست کا وعدہ بھی کیا گیا ہے جو قانون کی حکمرانی اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھے گی۔

    مجھے آپ پر اور بنگلہ دیش پر یقین ہے: شیخ حسینہ کا کھلا خط

    دوسری جانب پیر کو بنگلہ دیش کے شہریوں کے نام ایک کھلے خط میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے دعویٰ کیا کہ وہ 2024 کے واقعات کو ’بغاوت‘ قرار دے کر لا تعلق نہیں ہوئی تھیں۔ انھوں نے لکھا، ’اس کے برعکس میں نے آپ کے وزیر اعظم کے طور پر اپنے فرائض سے کبھی استعفیٰ نہیں دیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے آپ پر یقین ہے۔ میں بنگلہ دیش پر یقین رکھتی ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہمارے بہترین دن ابھی آنے والے ہیں۔‘

  14. عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کا احتجاج، تحریک انصاف کا کارکنوں کی گرفتاری اور ایف آئی آرز کے اندراج کے دعوے، حکومت کی تردید

    پی ٹی آئی احتجاج کراچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنکراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی ریلیاں نکالیں

    پاکستان تحریکِ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران لاہور سمیت دیگر شہروں میں جماعت کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم حکومت نے گرفتاری سے متعلق پی ٹی آئی کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔

    لاہور میں گرفتاریاں اور احتجاج

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ںے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے لاہور سے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ ڈار سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ اس سے قبل پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے سیکرٹری انفارمیشن حافظ ذیشان رشید کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس منگل کی صبح سے تقریباً 200 پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کر چکی ہے۔

    تاہم پنجاب کی وزیر اطلاعات اعظمی بخاری نے بتایا کہ تحریکِ انصاف کے کسی بھی کارکن کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔

    پی ٹی آئی کارکنان حراست میں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات تھیں کہ تحریک انصاف حالاتِ خراب کرے گی اور انھی خدشات کی بنا پر کچھ افراد کو تحویل میں لیا گیا ہے۔

    لاہور میں ریحانہ ڈار سمیت چھ رکنِ پنجاب اسمبلی کی گرفتاری کی ویڈیوز کے بارے میں اعظمی بخاری نے کہا کہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن کیسے خوشی سے پولیس وین میں بیٹھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ سب فوٹو شوٹ اور دکھاوا ہے۔‘

    بلوچستان میں احتجاجی ریلیاں، متعدد کارکن گرفتار، ایک پولیس انسپیکٹر زخمی ہونے کی اطلاعات

    تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی رہائی کے لیے منگل کے روز کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

    پولیس نے مختلف شہروں سے تحریک انصاف کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا جبکہ لورالائی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

    لورالائی پولیس کے مطابق لورالائی سے تحریک انصاف کے دو کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ ریلی کے شرکا کے پتھراؤ سے پولیس کا ایک انسپیکٹر زخمی ہوا۔

    کوہلو شہر میں پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تحریک انصاف کے ضلعی صدر میر قیوم سمیت 15مقامی رہنماؤں اورکارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ڈیرہ مراد جمالی میں تحریک انصاف کے سربراہ کی رہائی کے لیے ریلی نکالنے پر 19 کارکنوں جبکہ سنجاوی سے چار کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہyoutube/PTVParliament

    احتجاج کی اجازت 48 گھنٹے قبل بذریعہ ڈاک مانگی تاہم فالو اپ نہیں کیا: طلال چوہدری

    پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گرفتاریوں کی تردید کی ہے تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں میں سٹرکیں بند کرنے پر کچھ افراد کو تحویل میں لیا گیا ہے۔

    وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف کو احتجاج کی اجازت نہ دینے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے احتجاج سے 48 گھنٹے قبل بذریعہ ڈاک اسلام آباد میں احتجاج کرنے کی اجازت مانگی، جس کے بعد کوئی فالو اپ بھی نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ پانچ اگست کو کشمیر کی مناسب سے ’یوم استحصال‘ منایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور تحریک انصاف اگر احتجاج کا پلان جمع کرواتی اور انتظامیہ سے رابطے میں رہتی تو سنگجانی میں انھیں جلسے کے لیے مکمل سکیورٹی بھی فراہم کی جاتی۔

    ان کے مطابق چاروں صوبوں میں صرف خبیر پختوانخوا میں تحریک انصاف نے احتجاج کرنے کے لیے باقاعدہ اجازت مانگی تھی۔

    چھ گھنٹے سے زائد عوام کا سمندر سڑکوں پر موجود رہا، علی امین گنڈاپور

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ پشاور کی عوام نے آج ثابت کر دیا کہ عمران خان اکیلے نہیں۔ تاریخی ریلی میں بھرپور شرکت پر عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    علی امین گنڈاپور نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ’چھ گھنٹے سے زائد عوام کا سمندر سڑکوں پر موجود رہا۔ عوام نے آزادی کی تحریک کو نئی روح دی ہے۔‘

  15. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو گزشتہ روز کی اہم خبروں کے خلاصے سے آگاہ کرتے چلیں۔

    • الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نو مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نو اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز شبلی فراز اور عمر ایوب خان بھی نااہل قرار دیے گئے اراکین پارلیمان میں شامل ہیں۔
    • انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے اترکاشی ضلع میں کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق چار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور کچھ املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔کلاؤڈ برسٹ سے مراد انتہائی، قلیل مدت میں ایک چھوٹے سے علاقے میں اچانک بارش کا ہونا ہے‘ جو اکثر اچانک سیلاب کا باعث بن جاتی ہے۔
    • پاکستان نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے یوکرین تنازع میں پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ دفترِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آج تک یوکرین کی جانب سے پاکستان سے اس بارے میں باضابطہ طور پر رابطہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی یوکرینی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کے متعلق کوئی قابل تصدیق شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اس معاملے کو یوکرینی حکام کے ساتھ اٹھائے گی اور اس حوالے سے وضاحت طلب کی جائے گی۔
    • چین کے گواینڈانگ صوبے میں چکن گنیہ وائرس کے سات ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ رواں سال جولائی سے لے کر اب تک مچھر سے پھیلنے والے اس وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد حکومتی سطح پر اس کی روک تھام کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
  16. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید‘ اس صفحے پر آپ کو پاکستان سمیت دنیا بھر سے اہم اور تازہ ترین خبریں اور تجزیے ملیں گے۔

    اگر آپ پانچ اگست کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔