پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات منوانے کے لیے پانچ اگست کو ایک بار احتجاج کیا گیا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہونے پر کیے جانے والے اس ’ملک گیر‘ احتجاج کو جہاں پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان کامیاب قرار دے رہے ہیں اور اس دوران متعدد ارکان کی گرفتاریوں کے دعوے کر رہے ہیں وہیں حکومت نے گرفتاری سے متعلق پی ٹی آئی کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ پارٹی عہدیدار اور کارکنان دعووں کے برعکس باہر نہیں نکلے۔
پی ٹی آئی کا یہ احتجاج ماضی کے برعکس کتنا مختلف تھا اور اس دوران تحریک انصاف کیا حاصل کر پائی۔ بی بی سی نے انھی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے کچھ تجزیہ کاروں سے بات کی اور ان سے یہ بھی جاننا چاہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی کتنی موثر رہی۔
’ہر سیاسی احتجاج کامیاب ہوتا ہے، جو پرامن ہو‘
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر عمیر نیازی کے مطابق کسی ایک جگہ یا مقام کے بجائے یہ احتجاج ملک بھر تک پھیلا دیا گیا تھا جس حکمت عملی کو سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کامیاب قرار دیتے ہیں۔
ان کی رائے میں احتجاج کو نچلی سطح پر لے جانے کا اثر ہوا ہے اور اس کا واضح ثبوت حکومتی بوکھلاہٹ ہے۔
ضیغم خان کے مطابق حکومت نے جس طرح ردعمل دیا ہے اس سے پی ٹی آئی کا پیغام بہتر طور پر عوام تک پہنچا ہے۔
’ماضی میں پی ٹی آئی سے کچھ غلطیاں ہوئیں اور انھوں نے سیاسی احتجاج کو پرامن رکھنے کی طرف توجہ نہیں دی جس سے نقصان ہوا۔ ان کے مطابق سیاسی احتجاج اگر پرامن نہ رہے تو پھر یہ ریاستی جبر کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
ضیغم خان نے بتایا کہ حکومت نے جس طرح ردعمل دیا ہے اس سے پی ٹی آئی کا پیغام بہتر طور پر عوام تک پہنچا ہے۔ ہر سیاسی احتجاج کامیاب ہوتا ہے، جو پرامن ہو۔‘
ان کی رائے میں احتجاج کا مقصد حکومت بدلنا نہیں بلکہ رائے عامہ پر اثر انداز ہونا ہوتا ہے اور اس پہلو سے پی ٹی آئی کامیاب نظر آتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق مطابق پی ٹی آئی کے اندر مسائل ہیں، اختلاف ہیں اور قیادت کا بحران ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی نے اتحاد کی سیاست کی طرف توجہ نہیں دی۔ تحریک انصاف جماعت اسلامی جیسی سٹریٹ پاورز والی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہ ہوئی اور اتحاد کو وسعت نہیں دے سکی۔‘
’حکومتی اتحاد تحریک انصاف کے آگے بند باندھنے کے اقدامات اٹھا رہا ہے‘
انگریزی اخبار بزنس ریکارڈر کی ایڈیٹر انجم ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی آئی کو حکومت کو پریشان کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ صرف حکومت بلکہ تمام اداروں اور سٹیک ہولڈرز کو بھی پریشانی میں مبتلا کیا ہے۔
ان کی رائے میں حکومت کی کارکردگی خاص طور پر معاشی کارکردگی جو ماضی کی غلط پالیسیوں کی طرح ہی ہے وہ اب پی ٹی آئی کی کامیابی کی ضمانت بن گئی۔
ان کے مطابق اس وقت عمران خان اپنی شہرت کے عروج پر ہیں اور لوگ ان کے بیانیے کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ تاہم حکومتی اتحاد تحریک انصاف کے آگے بند باندھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے۔
’پی ٹی آئی کے پاس کیا راستے ہیں‘
ضیغم خان اس سوال پر کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے سامنے اب تین آپشنز ہیں۔ پہلا یہ کہ سسٹم کو تسلیم کریں اور تابعدار بن کر رہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ سسٹم کو اُلٹ کر کوئی جمہوری نظام لائیں۔ تیسرا یہ کہ سسٹم تو ٹھیک ہے مگر باقی سب کو نکال کر عمران خان کو لے آؤ۔ ان کے مطابق تیسرا آپشن ہی پی ٹی آئی کی ترجیح رہا ہے اور انھیں یہ لگتا ہے کہ ان سے یہ الیکشن چرایا گیا ہے۔
دوسری جانب انجم ابراہیم کے مطابق اس وقت سسٹم میں مذاکرات کی گنجائش ہی نہیں ہے اور ’مجھے لگتا ہے کہ اس وقت عمران خان کے پاس پلان بی اور سی ہے ہی نہیں۔‘
ان کی رائے میں بظاہر جس وقت اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ چلے نہیں جاتے عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے مشکلات کا دور قائم رہے گا۔
ان کے مطابق یہ اس وجہ سے بھی مشکل دور ثابت ہوگا کیونکہ عمران خان سے پارٹی قیادت کا براہ راست رابطہ نہیں ہوگا اور اس سے پھر معاملات میں مزید ابہام پیدا ہوگا۔
انجم ابراہیم کہتی ہیں کہ حکومت اور اداروں کی ہر ممکن کوشش عمران خان کو پابند سلاسل رکھنے پر ہی ہے۔
ان کے مطابق ’کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ ابہام اور پی ٹی آئی کے اندر جو اختلافات نظر آتے ہیں یا پھر پی ٹی آئی کے لیے باہر جو مشکلات نظر آ رہی ہیں یہ اس دن ہی ختم ہو جائیں گی جب عمران خان باہر آ جائیں گے۔