’فوج کا کام ملک کا دفاع ہے نہ کہ عدلیہ کے فرائض سر انجام دینا‘: فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف مقدمات پر سپریم کورٹ کے دو ججوں کا اختلافی نوٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کیے جانے سے متعلق سپریم کورٹ کے دو ججز کا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’ فوج کا کام ملک کا دفاع ہے نہ کہ عدلیہ کے فرائض سر انجام دینا، اگر فوج عدلیہ کے فرائض سر انجام دینے لگی تو لوگوں کا ان پر اعتماد نہیں رہے گا۔‘

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر سوراب میں جمعہ کے روز مسلح افراد کے حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ہدایت بلیدی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ عسکریت پسندوں نے متعدد سرکاری عمارتوں کو بھی نذر آتش کیا ہے۔
  • پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں طلبہ و افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کو شکست دے گا۔
  • پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کیے جانے سے متعلق سپریم کورٹ کے دو ججز کا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ' فوج کا کام ملک کا دفاع ہے نہ کہ عدلیہ کے فرائض سر انجام دینا، اگر فوج عدلیہ کے فرائض سر انجام دینے لگی تو لوگوں کا ان پر اعتماد نہیں رہے گا۔‘
  • انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر پاکستان کو ہدف بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی دھوکے میں نہ رہے کیونکہ 'آپریشن سندور' ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

لائیو کوریج

  1. آپریشن سندور پروفیشنل انداز میں کیا گیا اور یہ ’نیشنل وکٹری‘ ہے: انڈین فضائیہ کے سربراہ امر پریت سنگھ کا دعویٰ

    انڈین فضائیہ کے سربراہ اور ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ

    ،تصویر کا ذریعہ@IAF_MCC

    انڈین فضائیہ کے سربراہ اور ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے دہلی میں ایک تقریب سے خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن سندور(پاکستان اور اس کے زیر اتظام کشمیر میں سات مئی کی شب کیا جانے والا حملہ) انڈیا کی نیشنل وکٹری(قومی فتح) ہے جس پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔

    تقریب سے خطاب کے دوران انڈین ایئر چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کے نو کیمپوں پر حملے نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کو ظاہر کیا اور مستقبل کی دفاعی حکمت عملی کے لیے ایک واضح سمت فراہم کی ہے۔یاد رہے کہ پاکستان فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی رات کو افواج پاکستان نے انڈیا کے پانچ طیارے مار گرائے ہیں۔

    یاد رہے کہ چھ مئی کی رات انڈیا کی فوج کے مطابق پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں نو مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں ’آپریشن سندور‘ کے تحت متعدد مقامات پر ’دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر‘ حملے کیے ہیں اور یہ کارروائی پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے ذمہ داران کے خلاف تھی۔

    انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ مبینہ عسکریت پسند تنظیموں کے مراکز تھے تاہم پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس کی تردید کی ہے۔

    انڈین فضائیہ کے سربراہ اور ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس حملے کو بہت پروفیشنل انداز میں کیا گیا ہے۔

    امرپریت سنگھ نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران ہمیں نہ صرف یہ سمجھنے میں آسانی ہوئی کہ ہم کہاں کھڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ بھی سامنے آیا کہ مستقبل میں ہمیں کیا کرنا ہے۔

    اپنی تفصیلی تقریر کے دوران انھوں نے انڈیا کے دفاعی منصوبوں میں مسلسل تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور غیر حقیقی ٹائم لائنز اور آپریشنل تیاریوں پر ان کے اثرات کا بھی ذکر کیا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی فضائیہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے انڈیا کے بیشتر جدید ڈرونز اور براہموس میزائلوں کو ’سافٹ کِل‘ کے ذریعے ناکارہ بنایا اور انھیں اپنے ہدف یعنی پاکستانی افواج کی عسکری تنصیبات بشمول ایئربیسز تک پہنچنے سے روکا۔

  2. کیا جج ’آئینی سکوپ‘ سے باہر جا کرفیصلہ دے سکتے ہیں؟ مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں پر دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ آئینی بینچ میں زیر سماعت مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا ہے کہ کیا جج آئینی سکوپ سے باہر جا کرفیصلہ دے سکتے ہیں؟ عوامی امنگوں اور جمہوریت کے لیے ہی سہی، مگر کیا جج آئین ری رائٹ کرسکتے ہیں؟

    یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ کی جانب سے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کی سماعت میں سامنے آئے۔

    جسٹس محمد علی مظہرکے استفسار پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کوئی آئین ری رائٹ نہیں کیا گیا تاہم اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ آئین ری رائٹ کیا گیا، تین دن کی مدت کو بڑھا کر 15 دن کیا گیا۔

    یاد رہے کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 13 رکنی لارجر بینچ کا فیصلے کے بعد ستمبر 2024 میں سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینج نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کی درخواستوں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ 12 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے امیدوار آزاد نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے ہیں۔

    اس فیصلے کے خلاف اپیل میں حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کیس میں پی ٹی آیی فریق ہی نہیں جس کے بعد نیا بینچ بنا۔

    اب 11 رکنی بینچ میں وفاق سمیت ان متاثرہ اراکین پارلیمنٹ کی اپیلیں بھی سنی جا رہی ہیں جو اس فیصلے سے متاثر ہوئے تھے۔

    جمعرات کے روز دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت میں اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا ’کچھ فریقین نے اضافی گزارشات جمع کروادی ہیں، ان کی نقول آج ملی ہیں، اب ان کو دیکھوں گا۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے ن لیگ کے وکیل سے سوال کیا ایک جماعت کے امیدواروں کو آزاد کیسے ڈیکلیئر کر دیا گیا، کیا آپ نے اپنی تحریری گزارشات میں اس کا جواب دیا؟

    ن لیگ کے وکیل حارث عظمت نے عدالت میں موقف اپنایا کہ انھوں نے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

    فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ کچھ درخواستوں میں سپریم کورٹ رولز کو مدنظر نہیں رکھا گیا، ان درخواستوں کو مسترد کیا جائے۔ مجھ سے پوچھا گیا تھا سنی اتحاد کا انتخابی نشان کیا ہے، سنی اتحاد کا نشان گھوڑا ہے مگر حامد رضا آزاد لڑے، حامد رضا آزاد کیوں لڑے، اس کا جواب دوں گا۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے یہ معاملہ نہیں ہے کون کیسے لڑا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’ میرا سوال تھا مجھے اس کا تسلی بخش جواب نہیں ملا، صاحبزادہ حامد رضا کی دو ہزار تیرہ سے سیاسی جماعت موجود ہے، جو جماعت الیکشن لڑے وہی پارلیمانی پارٹی بناتی ہے، وہ اپنی جماعت سے نہیں لڑے پھرپارلیمانی جماعت کیوں بنائی، مخصوص نشستوں کے فیصلے میں کہا گیا ووٹ بنیادی حق ہے۔ فیصلے میں تین دن کو بڑھا کر پندرہ دن کرنا آئین دوبارہ تحریر کرنے جیسا تھا۔‘

    فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ11 ججز نے آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی کا تسلیم کیا۔ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے 39 امیدواروں کی حد تک میں اور قاضی فائز عیسی بھی 8 ججز سے متفق تھے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی کہا پی ٹی آئی نشستوں کی حقدار ہے۔

    فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا اب نظر ثانی درخواستوں میں ان اقلیتی فیصلوں پر انحصار کیا جا رہا ہے، دوسری جانب درخواستوں میں کہا گیا پی ٹی آئی کو ریلیف مل ہی نہیں سکتا تھا، نظرثانی ان فیصلوں پر انحصار کر کے کیسے لائی جا سکتی ہے؟ ان فیصلوں میں تو پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا گیا ہے۔

    فیصل صدیقی نے کہا اس ساری صورتحال میں الیکشن کمیشن کا کردار اہم ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد ڈکلیئر کر دیا۔

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے فیصل صدیقی آپ بار بار پیچھے کی طرف جا رہے ہیں۔ فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا آپ کے سامنے پہلی بار تیرہ رکنی بنچ کے فیصلے پر نظرثانی آئی ہے، جس فیصلے پر نظرثانی آئی وہ ابھی تک آپ کے سامنے پڑھا ہی نہیں گیا، آپ کہتے ہیں اکثریتی فیصلہ نظرثانی میں پڑھا ہی نہ جائے؟ میں تو حیران ہوں۔‘

    بعد ازاں عدالت نے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی درخواستوں پر سماعت سولہ جون تک ملتوی کردی۔

  3. اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر یہودی بستیوں کی توسیع کا اعلان, ڈیوڈ گریٹن، بی بی سی نیوز

    مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی بڑے پیمانے پر توسیع کا اعلان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی بڑے پیمانے پر توسیع کا اعلان کرتے ہوئے 22 نئی یہودی بستیوں کی منظوری دے دی ہے۔ اس توسیع کو دہائیوں میں ہونے والی سب سے بڑی توسیع کہا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ اس مقام پر کئی بستیوں کا پہلے سے ہی بطور غیر قانونی آؤٹ پوسٹ وجود ہے جو حکومت کی منظوری کے بغیر بنائی گئی تھیں تاہم اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کَٹز اور وزیرِ خزانہ بِیزالیل سموٹرچ کا کہنا ہے کہ اب انھیں اسرائیلی قانون کے تحت قانونی حیثیت دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سب سے متنازع امور میں سے ایک بستیوں کا مسئلہ ہے اگرچہ اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ اقدام فلسطینی ریاست کے قیام کو روکتا ہے جو اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

    دوسری جانب فلسطینی صدر دفتر نے اس اقدام کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

    اسرائیلی اینٹی سیٹلمنٹ تنظیم ’پیس ناؤ‘ نے کہا کہ نئی بستیوں سے مغربی کنارے کی شکل ڈرامائی طور پر تبدیل ہو جائے گی اور یہ قبضہ مزید مستحکم کیا جائے گا۔‘

    اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد اب تک تقریباً 160 بستیاں تعمیر کی ہیں جن میں لگ بھگ سات لاکھ یہودی آباد ہیں۔ یہ وہ زمین ہے جسے فلسطینی اپنے مستقبل کی ریاست کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

  4. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر ایک دن خود لوٹ کر انڈیا کے پاس آئے گا: انڈین وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ

    انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ایک دن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر خود لوٹ کر انڈیا کے پاس آئے گا۔

    جمعرات کے روز دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، راج ناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد انڈیا کے ساتھ تعلق محسوس کرتی ہے۔

    ’کچھ گنے چنے ہی ہیں جنھیں بھٹکایا گیا ہے۔‘

    راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہائشیوں کو بھائی پکارتے ہوئے کہا، ’ہمارے بھائیوں کی حالت کچھ ایسی ہی ہے جیسی مہارانا پرتاپ سنگھ کے چھوٹے بھائی شکتی سنگھ کی تھی۔ چھوٹے بھائی کے الگ ہو جانے کے باوجود مہارانا پرتاپ کا اپنے چھوٹے بھائی پر بھروسہ قائم رہا اور وہ کہتے تھے کہ میرا ہی بھائی ہے مجھ سے دور کہاں جائے گا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا ہمیشہ دلوں کو جوڑنے کی بات کرتا ہے۔

    راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ ’وہ دن دور نہیں جب محبت، اتحاد اور سچائی کے راستے پر چلتے ہوئے ہمارا اپنا حصہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر لوٹ کر کہے گا کہ میں بھارت ہی ہوں۔۔۔ اور واپس آیا ہوں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انڈیا کے ساتھ انضمام کا انحصار انڈیا کی ثقافتی، سماجی اور اقتصادی خوشحالی پر ہے۔‘

  5. کوہاٹ کشتی حادثہ: سات افراد کو زندہ نکال لیا گیا، دو کی تلاش جاری, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں شیر گڑھ کے مقام پر دریائے سندھ میں کشتی الٹنے سے نو افراد ڈوب گئے جن میں سے سات کو زندہ نکال لیا گیا ہے جبکہ باقی دو افراد کی تلاش جاری ہے۔

    پشاور میں ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی نے بتایا کہ اس وقت ریسکیو اہلکاروں سمیت دیگر ادارے اور مقامی افراد موقع پر موجود ہیں اور ڈوبنے والے دو افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    ریسکیو عملے کے علاوہ مقامی افراد بھی اپنی کشتیوں میں متحرک ہیں۔

    بلال فیضی نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں کل نو افراد سوار تھے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ حادثہ کیسے پیش آیا۔

    کوہاٹ کے ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر زاہد اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ خوشحال گڑھ کے مقام پر دریائے سندھ میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحد کے قریب پیش آیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کشتی میں کون لوگ سوار تھے کیونکہ یہاں لوگ اکثر سیر کے لیے بھی آتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مقامی افراد کے مطابق کشتی میں نو افراد سوار تھے۔

    مقامی افراد کا دعوی ہے کہ اس علاقے میں لوگ سونے کی تلاش کا کام کرتے ہیں اور وہ کشتیوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔

    سونے کی تلاش کے اس کام میں مختلف لوگ شامل ہیں جن کی گولڈ مائننگ کمپنیاں ہیں۔ ان میں سے کچھ کے پاس سونے کی تلاش کا لائسنس بھی ہے۔

  6. انسانی حقوق کی تنظیموں کا پاکستان سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف کریک ڈاؤن روکنے کا مطالبہ

    بی وائی سی ماہ رنگ

    ،تصویر کا ذریعہBYC

    ،تصویر کا کیپشنانسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بی وائی سی کے خلاف کریک ڈاؤن نہ صرف پاکستان کے آئین بلکہ پاکستان پر عائد بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

    بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستان سے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے خلاف کریک ڈاوؑن روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے نام خط میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشین فورم فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ، فرنٹ لائن ڈفینڈرز، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس اور ورلڈ آرگنائزینشن اگینسٹ ٹارچر نے بلوچ انسانی حقوق کے کارکنوں کو اظہار خیال اور پرامن احتجاج پر ہراساں کرنے اور حراست میں لینے کی شدید مذمت کی۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ بی وائی سی کے رہنماؤں اورکارکنوں کے خلاف کارروائیاں نہ صرف پاکستان کے آئین بلکہ پاکستان پر عائد بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی بھی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو غیر قانونی طور پر نظربند رکھنے کے لیے امن عامہ اور انسداد دہشت گردی کے قوانین بشمول تھری ایم پی او، پیکا ایکٹ اور اسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997 کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلوچ انسانی حقوق کے کارکنوں اور ان کے گھر والوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف درج مقدمات بھی واپس لیے جائیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب تک گرفتار افراد رہا نہیں ہوجاتے، ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں اور ان کی اپنے گھر والوں، وکلا اور ڈاکٹروں سے ملاقات کروائی جائے۔

    خیال رہے کہ کوئٹہ شہر سے ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کی قیادت کے علاوہ مجموعی طور پر ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو 3ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جن میں بی وائی سی کے کارکنوں کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکن شامل تھے۔

    بعد ازاں بی وائی سی کے رہنما ڈاکٹر ماہرنگ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، بیبرگ بلوچ اور نیشنل پارٹی کے سینیئر کارکن غفار بلوچ کے سوا باقی تمام افراد کے خلاف محمکہ داخلہ نے 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حکم کو واپس لیا تھا جس کے باعث ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

  7. امریکہ کا چینی طلبا کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان

    چینی طپبا

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشناندازوں کے مطابق پچھلے سال تقریباً 280,000 چینی طلبا امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

    امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ چینی طلبا کے ویزے منسوخ کرنا شروع کر دے گا۔

    اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک پیغام میں مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ جن چینی طلبا کے ویزے منسوخ کیے جائیں گے ان میں وہ طلبا بھی شامل ہیں جن کے چینی کمیونسٹ پارٹی سے تعلقات ہیں یا وہ جو اہم شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    روبیو کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل میں چین اور ہانگ کانگ کے ویزا درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال بڑھانے کے لیے بھی نظر ثانی کی جائے گی۔

    اندازوں کے مطابق پچھلے سال تقریباً 280,000 چینی طلبا امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

    امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے بین الاقوامی طلبا کی ایک بڑی تعداد چینی طلبا کی ہوتی تھی تاہم حال ہی میں اس میں تبدیلی آئی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق، کورونا وبا کے دور کی پابندیوں اور دونوں ممالک کے درمیان بگڑتے تعلقات کے باعث حالیہ برسوں میں ان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات تنزلی کا شکار رہے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے تجارتی محصولات عائد کیے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی انتظامیہ نے سفارت خانوں کو غیر ملکی طلبا کو سٹوڈنٹ ویزے جاری کرنے سے روکتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سٹوڈنٹ ویزے کے درخواست دہندگان کی سوشل میڈیا پروفائل کی جانچ کا عمل مزید وسیع کر رہی ہے۔

    امریکی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری میمو میں امریکی سفارت خانوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے وہ ویزے کے خواہشمند طلبا کے لیے مزید ویزا اپوائنٹمنٹ جاری نہ کریں۔ تاہم جو ویزا اپوائنٹمنٹ پہلے سے طے شدہ ہیں وہ معمول کے مطابق ہوں گے۔

    سفارتی کیبل میں یہ بھی کہا گیا کہ محکمہ خارجہ تمام سٹوڈنٹ ویزا درخواستوں پر لاگو ’ضروری سوشل میڈیا سکریننگ اور جانچ‘ کے پروگرام میں توسیع کی تیاری کر رہا ہے۔

  8. ایلون مسک ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے علیحدہ ہو گئے

    ایلون مسک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایلون مسک کا کہنا ہے کہ وہ امریکی حکومت کے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (ڈوج) کی قیادت سے الگ ہو رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ محکمہ چلتا رہے گا۔

    دوسری مرتبہ امریکہ کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا اور سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک کو ’خصوصی سرکاری ملازم‘ کا درجہ دے کر انھیں کفایت شعاری مہم یعنی ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (ڈوج Doge) کی قیادت سونپی تھی۔

    خصوصی سرکاری ملازم کے طور پر وہ ہر سال 130 دن کام کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے وقت سے اگر حساب لگایا جائے تو مسک کے عہدے کی میعاد مئی کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔

    ایکس پر جاری ایک پیغام میں ایلون مسک نے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی کی ذمہ داری سونپنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جیسے ایک خصوصی سرکاری ملازم کے طور پر میرا مقررہ وقت ختم ہو رہا ہے، میں فضول خرچی کو کم کرنے کے کا موقع دینے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔‘

    مسک نے امید ظاہر کی کہ ڈوج کا مشن وقت کے ساتھ مضبوط ہو گا کیونکہ یہ پوری حکومت کے کام کرنے کا طریقہ کار بنتا جائے گا۔

    حکومتی معاملات میں ایلون مسک کا کردار عارضی تھا اور ان کی رخصتی غیر متوقع نہیں۔ تاہم، یہ ایسے موقع پر ہوئی ہے جب انھوں نے ٹرمپ کے بجٹ بل پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ نئے بل میں کئی کھرب ڈالرز کی ٹیکس چھوٹ اور دفاعی بجٹ میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

    بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس بل سے وفاقی خسارے میں اضافہ ہوگا اور ڈوج کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔

    ڈوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ابتدائی طور پر مسک نے وعدہ کیا تھا کہ وہ وفاقی حکومت کے بجٹ میں ’کم از کم دو ہزار ارب ڈالرز‘ کی بچت کریں گے، بعد ازاں انھوں نے یہ ہدف کم کر کے 150 ارب ڈالرز کر دیا تھا۔

    ایک اندازے کے مطابق ڈوج کی کفایت شعاری مہم کے تحت 23 لاکھ امریکی وفاقی سویلین ملازمین میں سے دو لاکھ 60ہزار کو یا تو اپنی ملازمتیں چھوڑنا پڑیں یا انھوں ریٹائرمنٹ ڈیل قبول کر لیں۔

  9. ’بھوکے لوگوں کا ہجوم‘ زبردستی غزہ میں خوراک کے گودام میں داخل ہو کر سامان لے گیا: ورلڈ فوڈ پروگرام

    ورلڈ فوڈ پروگرام

    ،تصویر کا ذریعہEYAD BABA/AFP

    اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) کا کہنا ہے کہ ’بھوکے لوگوں کا ہجوم‘ وسطی غزہ میں خوراک کی فراہمی کے ایک گودام میں زبردستی داخل ہو کر سامان لے گیا۔

    عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں دو افراد کے ہلاک اور متعدد دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کر رہے ہیں۔

    بن الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں کا ایک ہجوم دیر البلاح میں الغفاری گودام میں داخل ہو کر آٹے کے تھیلے اور کھانے کے کارٹن اٹھا کر لے جا رہا ہے جبکہ گولیاں چلے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گولیاں کس نے چلائیں۔

    ڈبلیو ایف پی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں انسانی ضروریات تقریباً تین ماہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کے بعد ’کنٹرول سے باہر‘ ہو چکی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا خوراک کا سامان تقسیم کے لیے گودام میں پہلے سے رکھا گیا تھا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ’غزہ کو فوری طور پر خوراک کی امداد کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو اس بات کا یقین دلانے کا کہ وہ بھوکے نہیں مریں گے یہی واحد طریقہ ہے۔‘

    اس سے قبل اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ منگل کے روز غزہ میں ایک امدادی مرکز پر ہجوم کے اوپر ہونے والے حملے میں 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ نیا امدادی مرکز امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ایک نئے گروہ کی جانب سے چلایا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ادارہ اب بھی اس حوالے سے معلومات اکھٹا کر رہا ہے تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق اس میں زیادہ تر زخمی گولیوں کی وجہ سے ہوئے ہیں اور یہ ممکنہ طور پر اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ تھی۔‘

    دوسری جانب بدھ کے روز اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے بھیجے گئے آٹا اور خوراک سمیت دیگر اشیا کے 121 ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ تقریباً 11 ہفتوں جاری رہنے والی ناکہ بندی کے بعد اسرائیل نے گذشتہ ہفتے غزہ میں محدود مقدار میں امداد پہنچانے کی اجازت دینا شروع کی تھی۔

  10. امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے

    عدالت کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کے مطابق صرف کانگریس کو ہی دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت پر فیصلے لینے کا اختیار ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعدالت کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کے مطابق صرف کانگریس کو ہی دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت پر فیصلے لینے کا اختیار ہے۔

    امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیگر ممالک پر عائد کیے جانے والے تجارتی محصولات کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

    بدھ کے روز امریکہ کی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹیرف لگانے کے لیے استعمال کیا جانے والا قانون صدر کو یکطرفہ طور پر دیگر ممالک پر محصولات عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کے مطابق صرف کانگریس ہی کو دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت پر فیصلے لینے کا اختیار ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر معیشت کو تحفظ دینے کے لیے کانگریس کے اس اختیار کو ختم نہیں کر سکتے۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

    عدالت نے امریکہ کی جانب سے الگ سے چین، میکسیکو اور کینیڈا پر لگائے گئے محصولات کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے الزام لگایا تھا کہ ان ممالک سے امریکہ میں منشیات اور غیر قانونی تارکینِ وطن داخل ہوتے ہیں۔

    یہ مقدمہ لبرٹی جسٹس سینٹر کی توسط سے پانچ ایسی کمپنیوں نے دائر کیا تھا جو اُن ممالک سے اشیا درآمد کرتی ہیں جن پر ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیرف عائد کیے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکریٹری کش دیسائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ غیر منتخب ججوں کس کسم نہیں کہ قومی ہنگامی صورتحال سے کیسے نمٹا جائے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے امریکہ کو سب سے پہلے رکھنے کا وعدہ کیا تھا، اور انتظامیہ اس بحران سے نمٹنے اور امریکی عظمت کو بحال کرنے کے لیے ہر سطح پر انتظامی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘

  11. اسرائیلی فوج نے حماس کے غزہ چیف اور یحییٰ سنوار کے بھائی محمد سنوار کو ہلاک کر دیا ہے: نیتن یاہو کا دعویٰ

    محمد سنوار

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ ان کی فوج نے حماس کے غزہ چیف محمد سنوار کو ’ہلاک کر دیا ہے‘، جو اسرائیل کے سب سے مطلوب افراد میں سے ایک اور حماس کے سابق رہنما یحییٰ سنوار کے بھائی تھے۔

    رپورٹس کے مطابق محمد سنوار 13 مئی کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں واقع یورپی ہسپتال کے صحن اور اطراف میں کیے گئے ایک بڑے اسرائیلی فضائی حملے کا ہدف تھے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں حماس کا ’زیرِ زمین انفراسٹرکچر‘ تباہ کر دیا گیا۔

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ادارے کے مطابق اس حملے میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم، حماس نے محمد سنوار کی ہلاکت کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

    یاد رہے کہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یحییٰ سنوار 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے منصوبہ ساز تھے۔ وہ اکتوبر میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

    حماس کے اسرائیل پر حملے میں لگ بھگ 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

    تقریباً 600 روز قبل ہونے والے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملوں اور فوجی کارروائی کا آغاز کیا جس میں اب تک کم از کم غزہ میں 54,084 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے محمد سنوار کی ہلاکت کا اعلان منگل کے روز کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے ایک خصوصی اجلاس کے دوران کیا۔ یہ اجلاس حزبِ اختلاف کی جانب سے بلایا گیا تھا تاکہ ’حکومت کی جنگ کے اہداف، تمام یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کو شکست دینے میں مکمل ناکامی‘ پر بحث کی جا سکے۔

    تنقید کے جواب میں نیتن یاہو نے اسرائیل کی کامیابیاں گنوانا شروع کیں۔

    ان کا کہنا تھا: ’وار آف ریوائول یا احیائے نو کی اس جنگ کے 600 دنوں میں ہم نے واقعی مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ ہم نے دہشتگردوں کو اپنی سرزمین سے نکالا، طاقت کے ساتھ غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے، ہزاروں دہشتگردوں کو ہلاک کیا اور محمد الضیف، اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار اور محمد سنوار کو انجام تک پہنچایا۔‘

  12. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • یورپی یونین کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملے حماس سے لڑنے کے لیے ضروری حد سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
    • پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈیا نے پہلگام واقعے کی آڑ میں جارحیت کا راستہ اختیار کیا، ہم کل بھی امن چاہتے تھے اور آگے بھی امن کے خواہاں رہیں گے۔
    • امریکی انتظامیہ نے سفارت خانوں کو غیر ملکی طلبا کو سٹوڈنٹ ویزے جاری کرنے سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سٹوڈنٹ ویزے کے درخواست دہندگان کی سوشل میڈیا پروفائل کی جانچ کا عمل مزید وسیع کر رہی ہے۔
    • اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منگل کے روز غزہ میں ایک امدادی مرکز پر ہجوم کے اوپر ہونے والے حملے میں 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
  13. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔