جیل مینیول کی خلاف ورزی کرنے والوں کی عمران خان سے ملاقاتیں روک دی گئی ہیں: عطا اللہ تارڑ

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جیل میں ملاقاتیں جیل مینیویل کے مطابق کروائی جاتی ہیں اور عظمی خان سمیت جن افراد نے ان قواعد کی خلاف ورزی کی ہے ان کی ملاقاتیں روک دی گئی ہیں۔

خلاصہ

  • صدر کی منظوری کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفینس فورسز مقرر
  • تجارتی راستے تب کھلیں گے جب پاکستان سیاسی دباؤ کے لیے انھیں بند نہ کرنے کی یقین دہانی کروائے گا: افغان طالبان
  • بلوچستان حکومت کا بیرون ملک مقیم کالعدم تنظیموں کے مبینہ سربراہان اور کمانڈرز سمیت 300 سے زائد افراد کے خلاف کاروائی کا فیصلہ
  • پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سزا یافتہ افراد کے تبادلے اور تجارت سمیت باہمی تعاون کے 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں کا تبادلہ
  • افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کو حق نہیں کہ دوسرے ممالک سے تعلقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے۔‘
  • پاکستان کی جانب سے افغان سرحد کو اقوام متحدہ کا امدادی سامان بھیجنے کے لیے کھولنے کا فیصلہ

لائیو کوریج

  1. امن مذاکرات میں روس ابھی تک یوکرین سے علاقے حاصل کرنے پر زور دے رہا ہے, بی بی سی نیوز کے نمائندہ برائے سفارتی امور پال ایڈمز کا تجزیہ

    روس یوکرین تنازع

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    گذشتہ شب روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خارجہ پالیسی مشیر یوری اوشاکوف نے کہا کہ ’علاقائی معاملات پر خاص طور پر بات ہوئی، جس کے بغیر ہم بحران کے حل کی راہ نہیں دیکھتے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یقیناً دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں وسیع اقتصادی تعاون کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔‘

    اس کا مطلب یہ ہے کہ روس کے رقبے کے مطالبات، جن میں یوکرین کو ڈونباس کے وہ حصے چھوڑنے پر مجبور کرنا شامل ہے جو روس ابھی تک فتح نہیں کر سکا، بدستور کلیدی ہیں۔ روس کے عوامی بیانات میں اب تک اس حوالے سے کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں ملا۔

    دوسری جانب پوتن مسلسل ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی ذہن رکھنے والے نمائندوں کے سامنے پرکشش اقتصادی تعاون کے امکانات پیش کر رہے ہیں، اس امید میں کہ صدر کے مالیاتی رجحانات انھیں روس پر کم سازگار معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے سے روک دیں گے۔

    دو ہفتے قبل لیک ہونے والے 28 نکاتی منصوبے، جسے شدید طور پر روس نواز سمجھا جا رہا ہے، میں امریکہ اور روس کے درمیان طویل مدتی اقتصادی تعاون کی بات کی گئی تھی، جس میں ’توانائی، قدرتی وسائل، انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز، آرکٹک میں نایاب دھاتوں کے منصوبے اور دیگر باہمی طور پر فائدہ مند مواقع‘ شامل تھے۔

    ٹرمپ کی روس میں تجارتی دلچسپی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ پوتن اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے ایلچی واضح طور پر اسی پہلو کو استعمال کر رہے ہیں۔

  2. یوکرین جنگ سے متعلق امن مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن ’منزل ابھی دور ہے: امریکہ

    امریکہ، روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی نیوزچینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ’امریکہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ یوکرین اور روس کس بات پر متفق ہوں گے۔‘ ان کے مطابق ’کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی ہم وہاں نہیں پہنچے ہیں۔‘

    انھوں نے اس ’غیر منطقی‘ سوچ پر تنقید کی کہ امریکہ کو ماسکو سے بات نہیں کرنی چاہیے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ ’روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو روس سے بات کیے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ’حقیقت پسندانہ‘ نہیں ہوگا کہ امریکہ ’یوکرین کو جنگ کے دوران لامحدود فنڈنگ جاری رکھے۔‘

    وزیرِ خارجہ نے کہا کہ حتمی فیصلہ یوکرین اور روس کے ہاتھ میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’آخرکار، یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ ہم اس میں لڑ نہیں رہے۔‘

    گذشتہ روز ماسکو میں ہونے والے امن مذاکرات کے بارے میں نیٹو ممالک اور روس کی جانب سے بیانات سامنے آئے ہیں، لیکن امریکہ نے ابھی تک اس ملاقات پر اپنا مؤقف ظاہر نہیں کیا۔

    آج صبح امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو برسلز میں نیٹو اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، ان کی جگہ نائب وزیرِ خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ اس اجلاس میں شریک ہیں۔

  3. یوکرین مذاکرات کے لیے ’بہتر پوزیشن‘ میں نہیں ہے، نیٹو کی رکنیت کا رستہ اختیار کیا جائے، اپوزیشن لیڈر, جوئل گنٹر، بی بی سی نیوز

    زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

    یوکرین کے اپوزیشن رکنِ پارلیمان اولیکسی گونچارینکو نے کہا ہے کہ یوکرین اس وقت مذاکرات میں ’بہتر پوزیشن‘ میں نہیں ہے اور امن کے حصول کے لیے سخت سمجھوتے کرنے پڑ سکتے ہیں۔

    صدر ولادیمیر زیلینسکی کے ناقد اولیکسی گونچارینکو نے نشاندہی کی کہ امریکہ نے وہ عملی طور پر مفت فوجی امداد روک دی ہے جس سے یوکرین کو بائیڈن انتظامیہ کے دوران فائدہ ہوا تھا۔

    ان کے مطابق یورپی یونین ’سیاسی طور پر زیادہ معاون‘ ہے لیکن ’منجمد اثاثوں پر فیصلہ کرنے سے قاصر‘ ہے۔ یہ اثاثے تقریباً 300 ارب ڈالر کے روسی فنڈز ہیں جنھیں یوکرین اپنی جنگی کوششوں کے لیے جاری کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یوکرین کے لیے کچھ ریڈ لائنز ہیں: سب سے بڑھ کر یہ کہ مشرقی یوکرین میں وہ علاقہ روس کو نہ دیا جائے جو ابھی تک اس کے قبضے میں نہیں آیا۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ مذاکرات میں وہ لینا چاہتے ہیں جو وہ بارہ سال کی جنگ میں لینے میں ناکام رہے۔ یہ ناقابلِ قبول ہے۔‘

    اولیکسی گونچارینکو کے مطابق ایک اور ریڈ لائن سلامتی کی ضمانتیں حاصل کرنا ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نیٹو کی رکنیت کا راستہ ’سب سے بہترین ضمانت‘ ہے، لیکن اگر امریکہ اس کے لیے تیار نہیں تو ’ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہم انھیں مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ اسے قبول کریں۔‘

    زیلینسکی: یوکرین امریکہ میں ٹرمپ کے نمائندوں سے ملاقات کی تیاری کر رہا ہے

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ ان کا وفد برسلز میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد امریکہ میں صدر ٹرمپ کے سفیروں سے ملاقات کی تیاری کر رہا ہے۔

    زیلینسکی کے مطابق برسلز میں یوکرینی وفد، جس میں قومی سلامتی کے سیکریٹری رستم عمرُوف اور مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف آندری ہناتوف شامل ہیں، یورپی ہم منصبوں کو ماسکو مذاکرات پر بریفنگ دے گا اور ’ضروری سلامتی ڈھانچے‘ پر بات کرے گا۔

    انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ہمیشہ کی طرح، یوکرین حقیقی امن کے حصول کے لیے تعمیری انداز میں کام کرے گا۔‘

  4. یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صدر پوتن نے امریکی امن منصوبے کو مسترد کر دیا، کریملن

    دمتری پیسکوف

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    روسی صدر پوتن اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے آج کی بریفنگ میں کہا ہے کہ ’کل پہلی بار براہِ راست آرا کا تبادلہ ہوا۔ کچھ باتیں قبول کی گئیں، کچھ کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ یہ ایک معمول کا کام کرنے کا طریقہ ہے اور اس طریقے سے سمجھوتے کی کوشش ہوتی ہے۔‘

    دمتری پیسکوف نے پانچ گھنٹے طویل مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک انڈرسٹینڈنگ ہے کہ ہے کہ ان مذاکرات سے متعلق جتنی رازداری ہوگی اتنے ہی زیادہ یہ نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ ہم اس اصول پر قائم رہیں گے اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے امریکی ہم منصب بھی ایسا ہی کریں گے۔‘

    گذشتہ ہفتے میڈیا میں کئی لیکس سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام نے روس کی تیار کردہ زیادہ سے زیادہ مطالبات کی فہرست کو اپنا ’امن منصوبہ‘ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

  5. دہائی قبل لاپتا ہونے والے مسافر طیارے کی دوبارہ تلاش: ’ملبے کی بازیابی کی صورت میں کمپنی کو 7 کروڑ ڈالر ملیں گے‘, کیلی این جی، بی بی سی نیوز

    لاپتہ پرواز دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملائیشیا کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ 30 دسمبر سے لاپتہ طیارے کی نئی تلاش شروع ہوگی، جو 55 دن تک جاری رہے گی۔ اس سے قبل مارچ میں یہ آپریشن شروع ہوا تھا لیکن خراب موسم کے باعث معطل کر دیا گیا تھا۔

    وزارتِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ ’یہ تازہ پیشرفت اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو اس سانحے پر بندش فراہم کی جائے۔‘

    ایم ایچ 370، جو ایک بوئنگ 777 طیارہ تھا، 2014 میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوا اور یہ واقعہ فضائی تاریخ کی سب سے طویل تلاش جاری رکھنے کا باعث بنا۔

    اس بار تلاش کی قیادت ’ایکسپلوریشن فرم اوشن انفینٹی‘ کر رہی ہے، جو اس پرواز کو ’نو فائنڈ، نو سی‘ کے معاہدے کے تحت تلاش کرے گی۔ اگر ملبہ مل جاتا ہے تو کمپنی کو 70 ملین ڈالر ادا کیے جائیں گے۔

    اس سے قبل سنہ 2017 میں 26 ممالک کے 60 جہاز اور 50 طیارے اس تلاش میں شامل ہوئے تھے، جبکہ سنہ 2018 میں ’اوشن انفینٹی‘ کی تین ماہ کی کوشش بھی ناکام رہی تھی۔

    ایم ایچ 370 نے 8 مارچ 2014 کو پرواز کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بعد ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کھو دیا تھا اور ریڈار نے دکھایا کہ طیارہ اپنی اصل پرواز کے راستے سے ہٹ گیا تھا۔

    یہ واقعہ آج بھی فضائی دنیا کا پراسرار واقعہ سمجھا جاتا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو اس پرواز کی تلاش ختم ہونے کے بعد بار بار نئی تلاش شروع کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

    گذشتہ کئی سالوں کے دوران اس حادثے کے بارے میں کئی سازشی نظریات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں یہ قیاس آرائی بھی شامل ہے کہ پائلٹ نے جان بوجھ کر طیارہ گرایا یا اسے ہائی جیک کر لیا گیا۔

    سنہ 2018 کی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ طیارے کے کنٹرولز کو غالباً جان بوجھ کر بدلا گیا تھا تاکہ پرواز راستے سے ہٹ جائے، لیکن اس کے پیچھے وجوہات پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکا۔ محققین نے اس وقت کہا تھا کہ ’جواب صرف اسی وقت یقینی ہوگا جب ملبہ مل جائے گا۔‘

  6. ماسکو مذاکرات کی ناکامی کے بعد نیٹو وزرائے خارجہ کا اجلاس: ’روس پر دباؤ ڈالنے کا بہترین طریقہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنا ہے‘

    نیٹو اجلاس

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    نیٹو کے وزرائے خارجہ کا گول میز اجلاس جاری ہے، جہاں توقع ہے کہ یوکرین سے متعلق جاری امن مذاکرات اور دفاعی امور پر بات ہو گی۔

    نیٹو کے سربراہ مارک رُٹے نے کہا ہے کہ روس پر دباؤ ڈالنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی جائے اور روس کو مؤثر اقتصادی پابندیوں کے دباؤ میں لایا جائے۔

    نیٹو کے وزرائے خارجہ برسلز میں اجلاس کے لیے جمع ہوئے ہیں جہاں یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق جاری مذاکرات پر غور کیا جائے گا۔

    اجلاس میں شرکت کے موقع پر صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے نیٹو کے سربراہ مارک رُٹے نے کہا کہ اگرچہ امن مذاکرات خوش آئند ہیں، لیکن ضروری ہے کہ یوکرین کو سب سے مضبوط ممکنہ پوزیشن میں رکھا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکام اس بات پر بات کریں گے کہ ’یوکرین کو جنگ میں زیادہ سے زیادہ مضبوط رکھا جائے‘ اور ساتھ ہی ’جب امن مذاکرات حقیقی معنوں میں شروع ہوں تو یوکرین سب سے مضبوط پوزیشن میں ہو تاکہ یہ نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں۔‘

    نیٹو

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ’ماسکو میں مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد نیٹو کے وزرائے خارجہ نے اجلاس شروع کیا‘

    ایلکس سمتھ کا تجزیہ

    گذشتہ روز ماسکو میں امریکی اور روسی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی ممکنہ امن معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

    کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان ملاقات ’تعمیری‘ رہی، تاہم امریکہ کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

    یہ سب اس وقت ہوا جب امریکہ نے ماسکو سے مشاورت کے بعد 28 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جسے عام طور پر روس کے حق میں سمجھا جا رہا ہے۔

    یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں نے اس منصوبے میں تبدیلیاں تجویز کیں، لیکن پوتن نے گذشتہ روز کہا کہ یہ تبدیلیاں ناقابلِ قبول ہیں۔

    پوتن نے مزید کہا کہ ’اگر یورپ جنگ چاہتا ہے اور شروع کرتا ہے، تو ہم ابھی تیار ہیں۔‘ آج برسلز میں نیٹو ہیڈکوارٹرز پر مغربی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں خطے کی سلامتی اور یوکرین میں جاری امن مذاکرات پر بات چیت متوقع ہے۔

  7. ڈیرہ اسماعیل خان پولیس موبائل پر شدت پسندوں کا حملہ، تین اہلکار ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے پنیالہ میں پولیس کی موبائل وین کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یہ واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان سے 50 کلومیٹر دور پنیالہ کے علاقے میں ڈگری کالج کے پاس پیش آیا جس میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور ایک محفوظ رہا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ پنیالہ پولیس کی ایک گاڑی کے قریب ایک دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا ہے جس میں ایک اے ایس آئی گل عالم، ایک سپاہی رفیق اور ڈرائیور سخی جان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سپاہی آزاد شاہ اس حملے میں محفوظ رہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ضلعی پولیس افسر صاحبزادہ سجاد جائے حادثہ کی جانب روانہ ہوگئے ہیں جبکہ موقع پر موجود پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس گاڑی پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے تین پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    ہلاک ہونے والے پولیں اہلکاروں میں اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور سخی جان شامل ہیں جن کے لواحقین سے وفاقی وزیرِ داخلہ نے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی ڈی آئی خان میں پولیس موبائل پر بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور حملے میں تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پولیس کے جوان کم وسائل کے باوجود فرنٹ لائن پر دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘

    خیبر پختونخوا میں تشدد کے حالیہ واقعات کی لہر میں پنیالہ کا علاقہ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں سے محفوظ تھا جبکہ جرائم کے واقعات یہاں پیش آتے رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں خوف پایا جاتا ہے۔

    مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ یہ حملہ پنیالہ کے جنوب میں پہاڑ پور کی جانب جانے والے راستے پر ہوا ہے جہاں ریت کی ٹیلے ہیں۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ حملہ آوروں نے دھماکے بعد پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    صوبے کے جنوبی علاقے میں تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے علاقہ میرانشاہ کے اسسٹسٹ کمشنر کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں اسسٹسنٹ کمشنر، دو پولیس اہلکار اور ایک شہری سمیت ہلاک ہو گئے تھے۔

    اس سے ایک روز قبل بنوں کے علاقے میں ایک پولیس اہلکار کو اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جب وہ ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے۔

  8. یوکرین جنگ: پوتن اور امریکی نمائندوں کی ماسکو میں پانچ گھنٹے کی ملاقات

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی سے متعلق روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مذاکرات کار کے درمیان پانچ گھنٹے تک مزاکرات جاری تو رہے مگر فریقین امن معاہدے کے حصول میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔

    کریملن کے ایک ترجمان نے کہا کہ ماسکو کی یہ ملاقات ’تعمیری‘ تھی، لیکن منصوبے کے کچھ حصے روس کے لیے ناقابل قبول تھے۔

    ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور اصدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر نے جنگ کے خاتمے کے لیے کئی ہفتوں کی بھرپور سفارت کاری کے بعد ان مذاکرات میں شرکت کی۔ ماسکو سے روانگی کے بعد امریکی وفد نے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا۔اس سے قبل منگل کو پوتن نے کہا تھا کہ امریکہ کے حمایت یافتہ امن مسودے میں کیو اور یورپ کی جانب سے تجویز کردہ تبدیلیاں ناقابل قبول ہیں اور مزید یہ کہ اگر یورپ ’جنگ چاہتا ہے اور اسے شروع کرتا ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔‘

    یوکرین اور اس کے اتحادی امریکہ پر زور دیتے آ رہے ہیں کہ وہ امن مسودے اور اس معاہدے میں ترمیم کرے جس پر وائٹ ہاؤس نے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے بارے میں کریملن نے پہلے عندیہ دیا تھا کہ وہ اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یہ منصوبہ جو نومبر میں ذرائع ابلاغ کی شہہ سرخیوں میں رہا وسیع پیمانے پر روس کے حق میں سمجھا جا رہا تھا، تاہم اب یہ مسودہ گزشتہ چند ہفتوں میں متعدد تبدیلیوں سے گزر چکا ہے۔

    ماسکو کی ملاقات کے بعد جب اس تجویز کے بارے میں پوچھا گیا تو پوتن کے سینئر مشیر یوری اوشاکوف نے کہا کہ کریملن ’کچھ نکات سے متفق ہے۔۔۔ لیکن کچھ چیزوں پر ہم نے متفق نہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ابھی تک کسی مشترکہ امن مسودے کی جانب نہیں بڑھ سکے ہیں۔۔۔ اور اس سلسلے میں ابھی بہت سا کام باقی ہے۔‘

    ماسکو اور کییف کے درمیان اہم اختلافات برقرار ہیں، جن میں یوکرین سے وہ علاقہ چھوڑنے کا مطالبہ بھی شامل ہے جو وہ اب بھی کنٹرول کرتا ہے اور ساتھ ہی یورپ کی جانب سے فراہم کردہ سکیورٹی ضمانتیں بھی ایک تنازعہ کا باعث ہیں۔

    ماسکو اور یوکرین کے یورپی اتحادی اس بات پر بھی شدید طور پر منقسم ہیں کہ ایک ممکنہ امن معاہدہ کیسا ہونا چاہیے۔

    مذاکرات سے قبل خطاب کرتے ہوئے پوتن نے یورپی رہنماؤں پر تنقید کی جو 2022 میں روس کے مکمل حملے کے بعد سے کیو کی دفاعی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یورپی رہنما اس غلط فہمی میں ہیں کہ وہ روس کو سٹریٹجک شکست دے سکتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یورپ سے جنگ کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا لیکن اگر یورپ اچانک جنگ چاہتا ہے اور اسے شروع کرتا ہے، تو ہم بھی تیار ہیں۔‘

  9. نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی کی ورکشاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت ’شرمناک‘ ہے: عمران خان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر منگل کی رات جاری ہونے والے ایک بیان میں اُن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔‘

    بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے ’میر صادق‘ اور ’میر جعفر‘ ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگائے جانے سے متعلق ہونے والی بات پر اُن کا کہنا تھا کہ ’گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!‘

    واضح رہے کہ چند روز قبل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ ’صوبے میں دہشت گردی، سیفٹی، سکیورٹی اور گورننس کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ’حالات گورنر راج کی طرف جا رہے ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ اب صدر مملکت کا اختیار ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت یہ اقدام اٹھاتے ہیں یا نہیں۔‘

    سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے۔‘

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔‘

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی ایک ماہ کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے بعد ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی اور بیرونی دنیا سے بالکل بے خبر رکھا گیا۔‘

    ایکس پر جاری ہونے والے بیان میں اُن کی جانب سے کہا گیا کہ ’جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پر پابندی لگائی گئی اور اب وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔‘

    فیلڈ مارشل عاصم مُنیر پر الزام عائد کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون حملے اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے۔ عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔‘

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق عمران حان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’اُن کا کردار قابلِ تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتے رہیں۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔‘

  10. گزشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر:

    • انڈیا نے پاکستانی وزارت خارجہ کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’انڈیا مخالف گمراہ کن معلومات پھیلانے کی ایک اور کوشش ہے۔‘ اسلام آباد نے دعویٰ کیا تھا کہ نئی دہلی کی جانب سے سری لنکا کو بھیجی جانے والی انسانی امداد روکی گئی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا الزام تھا کہ پاکستان سے سری لنکا کے لیے انسانی امداد لے جانے والے خصوصی طیارے کو ’60 گھنٹے سے زیادہ تاخیر کے بعد بھی انڈیا سے پرواز کی منظوری کا انتظار ہے۔‘
    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان شاہ ولی کے قافلے پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر ہلاک ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے تصدیق کی کہ اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی کے قافلے پر حملے میں دو پولیس اہلکار اور ایک راہگیر سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
    • اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں واقع نمل یونیورسٹی میں منگل کو ہونے والا دھماکہ گیس لیکیج اور شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے صحافیوں کو بتایا کہ نمل یونیورسٹی میں چار بجے کے قریب گیس لیکیج کا واقعہ ہوا جس سے دھماکہ ہوا۔
    • پاکستان کے فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ چھ اور سات مئی کی رات پاکستان نے انڈیا کے رفال طیاروں سمیت متعدد طیارے مار گرائے۔ رسالپور میں پی اے ایف کی اصغر خان اکیڈمی میں گریجویشن پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا جب چھ اور سات مئی کی رات پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو پاکستان ائیر فورس نے انڈیا کو بھرپور جواب دیتے ہوئے رفال سمیت اس کے جدید ترین لڑاکا طیارے گرائے۔
  11. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔