جنرل (ر) باجوہ نے ٹیک اوور کرنے کی دھمکی دی، فیض حمید کو فوج کا سربراہ بنانا چاہتے تھے: خواجہ آصف کا دعویٰ

پاکستان کے وزیرِ دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سنہ 2022 میں فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے عمل کے دوران اس وقت کے آرمی چیف ’جنرل باجوہ نے آٹھ، نو دن مزاحمت کی‘ اور ’دھمکیاں دیں کہ میں ٹیک اوور کرلوں گا، مجھے ایکسٹینشن دے دیں۔‘

خلاصہ

  • آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فوجی عدالت نے کورٹ مارشل کی کارروائی میں چار الزامات ثابت ہونے پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے
  • سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے کہا ہے کہ فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران ان کے موکل کے اعصاب مضبوط رہے اور اب وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ سے کسی اور جیل منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اڈیالہ کے باہر آئے روز دھرنوں کے باعث امن وامان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے
  • انڈیا کا افغانستان کے خلاف 'تجارتی اور ٹرانزٹ دہشت گردی' کی مذمت
  • خشکی سے گِھرے ملک کی رسد کے راستے بند کرنا جارحیت ہے، اقوامِ متحدہ میں انڈین سفیر کا بیان

لائیو کوریج

  1. اسلام آباد میں خواتین کی ویڈیو بنانے اور تشدد کرنے کے الزام میں گرفتار چینی باشندے ’راضی نامے‘ کے بعد رہا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    جھگیوں میں رہائش پزیر کچھ افراد اور چینی باشندوں کو آپس میں لڑتے ہوئے ویڈیو

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پاکستان کے سوشل میڈیا پر گذشتہ کچھ روز سے ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں اسلام آباد کی کچی آبادیوں میں موجود جھگیوں میں رہائش پزیر کچھ افراد اور چینی باشندوں کو آپس میں لڑتے ہوئے اور بحث کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    یہ ویڈیو دراصل اسلام آباد کے علاقے گولڑہ کی ہے جہاں پیش آنے والے واقعے کا مقدمہ نہ صرف گولڑہ تھانے میں درج کیا گیا تھا بلکہ تین چینی باشندوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

    تاہم مقدمے کے مدعی اور گرفتار ملزمان کے درمیان راضی نامہ ہونے کے بعد تینوں چینی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟

    اس واقعے کا مقدمہ آٹھ دسمبر کو اسلام آباد کے گولڑہ تھانے میں محمد خان نامی شخص کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

    اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مدعی مقدمہ اپنے خاندان کے ساتھ گولڑہ کے علاقے چوڑ چوک کے قریب ایک کھلی جگہ پر جھگیاں تعمیر کرکے عارضی طور پر رہ رہے تھے جہاں ان کے قبیلے کے دیگر افراد بھی رہائش پذیر ہیں۔

    ایف آئی آر کے مطابق سات چینی باشندے وہاں آئے اور جھگیوں میں رہائش پزیر خواتین کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔

    اس مقدمے کے مدعی محمد خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ واقعہ دراصل سات دسمبر کا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ان چینی باشندوں کو منع کیا گیا کہ وہ بغیر اجازت ان کے خاندان اور قبیلے کی عورتوں کی ویڈیو نہ بنائیں۔‘

    ’بارہا منع کرنے کے باوجود چینی باشندے بدستور ویڈیو بناتے رہے جس پر وہاں پر موجود خاندان اور قبیلے کے دیگر افراد کے ساتھ ان کا جھگڑا ہوگیا۔‘

    محمد خان نے الزام عائد کیا کہ ان چینی باشندوں نے نہ صرف ان کے خاندان کے مردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ’ان کی عورتوں کو بھی ڈنڈوں سے مارا۔‘

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں بھی مقامی افراد اور ایک چینی شہری کو آپس میں ڈنڈوں سے لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    چینی باشندوں کا جھگی والوں کے ساتھ جھگڑا

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    تفتیشی افسر کیا کہتے ہیں؟

    اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر سرفراز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے گرفتار ملزمان کا دو دن کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا جس کے بعد بدھ کے روز مقامی عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔ تاہم مقدمے کے مدعی کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت میں ملزمان کے ساتھ راضی نامہ ہونے کا بیان دے دیا ہے اور اپنا مقدمہ واپس لے لیا ہے۔

    مدعی کے مقدمہ واپس لینے کے بعد گرفتار چینی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

    جب مدعی سے پوچھا گیا کہ اس واقعے کے دوران ان کی موٹر سائیکلوں سمیت دیگر سامان کو نقصان پہنچا ہے تو کیا انھوں نے اس کا معاوضہ ملزمان سے طلب کیا تھا، جس پر محمد خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ذاتی حیثیت میں ان ملزمان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا۔

    ان کے مطابق انھوں نے یہ مقدمہ صرف اس بنیاد پر واپس لیا ہے کہ غیر ملکی پاکستان میں سیر و سیاحت کے لیے آئے ہیں اور کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ پاکستان میں جاکر ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔

    تاہم دوسری جانب مقدمے کے تفتیشی افسر سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ انھیں مدعی مقدمہ اور ملزمان کے درمیان ہونے والی صلح کا علم نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ابھی تو اس مقدمے کی تفتیش بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ تاہم انھوں نے مزید کہا کہ مدعی کا یہ استحقاق ہے کہ وہ کسی بھی وقت مقدمے سے دستبردار ہوسکتا ہے اور اس ضمن میں انھیں متعقلہ عدالت میں بین حلفی جمع کروانا ہوتا ہے۔

  2. رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں گزشتہ سال کی نسبت خطرناک حد تک اضافہ، سب سے زیادہ حملے بنوں میں ہوئے: سی ٹی ڈی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    دہشت گردی کے واقعات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خیبرپختونخوا میں رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں گزشتہ سال کی نسبت خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ سال کے آخری تین ماہ میں صوبے کے مختلف علاقوں میں 822 حملے ہوئے ہیں۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال گیارہ ماہ میں دہشت گردی کے 1588 واقعات پیش آئے ہیں۔ گزشتہ سال کے 12 مہینوں میں کل 1058 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

    ادارے کے مطابق تشدد کے ان واقعات میں اضافے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال کے پہلے آٹھ ماہ 766 حملے ہوئے اور ان حملوں میں بھاری جان نقصان ہوئے ہیں۔

    ان آٹھ ماہ کے حملوں میں 92 پولیس اہلکار 159 عام شہری اور 166 سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی جان گئی ہے جن میں 410 عام شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اب ان تین ماہ میں یعنی ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں 822 حملے ہوئے ہیں۔

    انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے فراہم کردہ اعدا و شمار کے مطابق اس سال کے ان گیارہ مہینوں میں 1588 تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جو گزشتہ سال کی نسبت پچاس فیصد زیادہ بتائے گئے ہیں۔

    اس سال پولیس پر 510 حملے ہوئے ہیں اور یہ بھی گزشتہ سال بارہ ماہ میں ہونے والے 327 حملوں سے 56 فیصد زیادہ رہے ہیں ۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ان حملوں کے بعد 320 حملوں پر جوابی کارروائی کی ہے۔

    پولیس پر حملوں میں 137 اہلکار ہلاک اور 236 زخمی ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق گزشہ آٹھ ماہ میں ان حملوں میں 92 پولیس اہلکار 159 عام شہری اور 166 سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی جان گئی ہے۔ ان میں 410 عام شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    بنوں میں 160 سے زائد حملے

    اگر ان تین ماہ کا ریکارڈ دیکھیں تو ان میں 45 پولیس اہلکاروں کی جان گئی ہے۔ اس سال سب سے زیادہ حملے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں رپورٹ ہوئے ہیں جن کی تعداد 160 سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

    دوسرے نمبر پر شمالی وزیرستان میں پھر لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں ۔ صوبے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے علاوہ سیکیورٹی فورسز نے بھی بڑی تعداد میں انٹیلیجنس کی بنیادوں پر آپریشنز کیے ہیں۔

    ان میں سکیورٹی فورسز کی مسلح افراد اور دھڑوں سے جھڑپوں میں جہاں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات فراہم کی گئی ہیں وہاں فورسز کا بھی جانی نقصان ہوا ہے ان میں سیکیورٹی افسران بھی شامل ہیں۔

    اس سال سب سے بڑے حملے کیڈٹ کالج وانا ، ایف سی ہیڈ کورٹر بنوں اور پشاور کے علاوہ پولیس سکول ڈیرہ اسماعیل خان میں کیے گئے ہیں۔

  3. پی ٹی آئی کا 20 دسمبر کو ’قومی کانفرنس‘ بلانے کا اعلان، عمران خان کے خلاف مقدمات میرٹ پر سنے جائیں: تحریک انصاف

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سابق سپیکر اسد قیصر نے منگل کی رات پی ٹی آئی کے احتجاجی دھرنے پر واٹر کینن کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان سے ملاقاتیں عدالتی احکامات کے مطابق کروائی جائیں اور ان کے کیسز میرٹ پرسنے جائیں۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’اگر آپ چاہتے ہیں کہ خان عوام سے نہ ملے یا عوام خان سے دور ہو تو ایسا ممکن نہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس وقت بھی 70 فیصد لوگ خان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کی عوام کو طیش نہ دلائیں، ہم نے کچھ ایسا نہیں کیا جو آئین و قانون کے خلاف ہو۔ خان صاحب کی ملاقاتیں عدالت کے احکامات کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

    ان کے مطابق ’اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ملاقات اس لیے نہیں کروائی جا سکتی کہ وہاں سے ٹوئیٹ آتی ہے تو پھر بشریٰ بی بی سے ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی۔ ان کا تو کوئی ٹوئٹر ہینڈل نہیں اتنے عرصے سے ان کی ملاقات بند ہے۔ آپ ایک اور لیول پر گر گئے ہمیں اس کی توقع نہیں تھی۔‘

    بیرسٹر گوہر کے مطابق ’مینڈیٹ چوری کے بعد ہم نے دھرنے نہیں دیے بلکہ ہم پارلیمنٹ میں بیٹھے کہ یہاں ہماری آواز کو سنا جائے گا اور ہماری اور عوام کی مشکلات کا حل نکلے گا۔‘

    چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق ’زور اور ضد سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ آپ خواہ مخوا یہ چاہتے ہیں کہ ہم پارلیمنٹ میں نہ بیٹھیں تو ایسا آگے نہیں چلے گا۔ ہم ایوان میں آج بات کرنا چاہتے تھے ہماری تمام ڈیمانڈ آئین و قانون کے مطابق ہیں۔‘

    20 اور 21 دسمبر کو قومی کانفرنس بلا رہے ہیں: اسد قیصر

    اس موقع پر اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کل جو واقعہ ہوا اس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے، ان کے کیسز میرٹ پر سنے جائیں اور ان پر حکومت کا عمل دخل اور اثر رسوخ ختم کیا جائے۔ عمران خان کی اپنے خاندان اور سیاسی افراد سے دو دن کی ملاقاتوں کو بحال کیا جائے۔‘

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سابق سپیکر اسد قیصر

    ،تصویر کا ذریعہSCREENGRAB

    اسد قیصر نے کہا کہ ’ملاقات تو قانون میں ہے رولز میں ہے ان کی بہنیں ملاقات کے لیے جاتی ہیں جو ان کا حق ہے مگر یہاں ’فاشسٹ حکومت‘ ہے جو آئین و قانون کو نہیں مانتی اور ہم اس رویے کی مذمت کرتے ہیں۔‘

    سابق سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ’ہم 20 اور 21 دسمبر کو قومی کانفرنس بلا رہے ہیں جس میں ہم تمام سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشن، سول سوسائٹی اور میڈیا سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو بلائیں گے اور ایک قومی ایجنڈا دیں گے۔‘

    ان کے مطابق ’ ہم تمام جمہوریت پسند لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔ اگر کسی کی غلط فہمی ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگایا جائے گا یا عمران خان کو کہیں اور منتقل کیا جائے گا تو یہ محض غلط فہمی ہے۔ اس طرح ملک کو یہ انارکی کی جانب لے جائیں گے۔ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔‘

  4. ریکوڈک پراجیکٹ کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی امریکی مالی معاونت کی منظوری: ’اس اقدام سے بلوچستان میں 7500 نوکریاں پیدا ہوں گی،‘ امریکی ناظم اُمور

    ریکوڈک

    ،تصویر کا ذریعہBarrick Gold

    پاکستان میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ حال ہی میں امریکہ کے ایکسپورٹ-امپورٹ (ایگزم) بینک نے پاکستان کے لیے ایک ارب 25 کروڑ ڈالرز کی نئی مالی معاونت کی منظوری دی ہے۔

    سفارتخانے کی جانب سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اس مالی معاونت کا مقصد پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے سے اہم معدنیات کی کان کنی میں مدد فراہم کرنا ہے۔

    نیٹلی بکر کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں ایگزم پراجیکٹ فائننسنگ کے تحت ریکوڈک منصوبے کو چلانے کے لیے درکار تقریباً دو ارب ڈالرز کے کان کنی جدید آلات اور خدمات فراہم پاکستان کو فراہم کی جائیں گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکہ میں چھ ہزار جبکہ بلوچستان میں 7500 نوکریاں پیدا ہوں گی۔

    امریکی سفارتکار کا کہنا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ کان کنی کے منصوبوں کے لیے ایک ماڈل ہو گا جس سے امریکی برآمد کنندگان کے ساتھ ساتھ مقامی پاکستانی کمیونٹیز اور شراکت داروں کو فائدہ پہنچے گا۔

    نیٹلی بیکر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس طرح کے معاہدوں کو امریکی سفارت کاری کا محور بنایا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ امریکی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں ایسے مزید معاہدوں کے لیے پرامید ہیں۔

    ریکوڈک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنچاغی ضلع میں واقع ریکوڈک ذخائر کو اکثر ایک 'سویا ہوا دیو' کہا جاتا ہے۔

    ریکوڈک کے سونے اور تانبے کے ذخائر

    پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کی زمین میں وافر مقدار اور سب سے قیمتی معدنیات پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر سٹریٹجک نوعیت کے معدنیات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسے پاکستان کا معدنیاتی مرکز قرار دیا جاتا ہے۔

    سنہ 1970 کی دہائی میں جیولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی) نے ریکوڈک اور سیندک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی نشاندہی کی تھی۔

    چاغی ضلع میں واقع ریکوڈک ذخائر کو اکثر ایک 'سویا ہوا دیو' کہا جاتا ہے۔ کئی دہائیاں قبل جیالوجیکل سروے آف پاکستان نے یہاں سونے کے ممکنہ ذخائر کا سراغ لگایا تھا لیکن کئی سال تک یہ منصوبہ قانونی اور مالیاتی تنازعات میں پھنسا رہا۔ اب کینیڈین کمپنی ’بیریک گولڈ‘ کی قیادت میں اسے دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔

    سنہ 2022 کے آخر میں ایک نئے معاہدے کے تحت اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع ہوا، جس میں بلوچستان حکومت کو 25 فیصد، وفاق کو 25 فیصد اور کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کو 50 فیصد شیئر دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت بیریک گولڈ نے یہاں سرمایہ کاری اور اس دہائی کے اختتام تک پیداوار شروع کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    آج ریکوڈک کا سرخ پہاڑی علاقہ، جو طویل عرصے سے خاموش تھا، دوبارہ کھدائی اور سروے ٹیموں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اور اب حکام اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہاں سے پیداوار سنہ 2028 تک شروع ہو جائے گی، جبکہ اس وقت منصوبے کے لیے سرمایہ جمع کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جن میں، مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی کمپنی منارا منرلز کی ممکنہ سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

    بیرک گولڈ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) مارک برسٹو نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ دوسرے مرحلے کے مکمل ہونے پر سالانہ 400,000 ٹن تانبے کی پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ریکوڈیک سے معدنیات کی کان کنی کے لیے پہلے مرحلے میں 5.5 ارب ڈالر کے ترقیاتی اخراجات کیے جائیں گے اور 2028 تک کان سے 2 لاکھ ٹن کاپر (تانبا) کنکریٹ اور 2 لاکھ 50 ہزار اونس سونے کی سالانہ پیداوار شروع ہو جائے گی۔

  5. وفاقی حکومت نے بیگیج سکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں بیگیج سکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے صرف ٹرانسفر آف ریذیڈنس اور گفٹ سکیم کے تحت بیرون ملک کے گاڑیوں کی درآمد کی اجازت جاری رکھنے کی منظوری دی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں وزارتِ تجارت کی جانب سے پیش کی جانے والی سمری پر گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار میں ترمیم کی منظوری دی گئی جس کے بعد اب صرف ٹرانسفر آف ریذیڈنس اور گفٹ سکیم برقرار رہیں گی۔

    نئی پالیسی کے تحت ان سکیموں پر تجارتی درآمدات والے حفاظتی اور ماحولیاتی معیار لاگو ہوں گے، گاڑیوں کی درآمد کا وقفہ دو کی بجائے تین سال کر دیا گیا ہے اور درآمد شدہ گاڑیاں ایک سال تک فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔

    اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے مالی سال 26-2025 کے لیے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کا جائزہ لیا گیا۔ ای سی سی نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ فنانس ڈویژن کے ساتھ مل کر ایسا درمیانی مدت کا منصوبہ تیار کرے جس سے پاور سیکٹر میں حکومتی مالی معاونت بتدریج کم ہو۔

    کمیٹی نے پاور ڈویژن سے یہ بھی کہا کہ وہ ڈسکوز کے ساتھ فالو اپ نظام بنائے تاکہ حکومتی اہداف پر عمل یقینی ہو سکے۔ ای سی سی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پٹرول پمپ مالکان کے مارجن میں ردوبدل کی بھی منظوری دی، جنھیں 24-2023 اور 25-2024 کی کنزیومر پرائس انفلیشن کے مطابق 5 سے 10 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مارجن میں اضافے کا نصف حصہ فوری دیا جائے گا جبکہ بقیہ اضافہ شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن سے مشروط ہو گا۔ پیٹرولیم ڈویژن اس بارے میں یکم جون 2026 تک رپورٹ دے گا۔

    کمیٹی نے کلوروفارم کی درآمد پر پابندی لگانے کی منظوری بھی دی کیونکہ یہ زہریلا اور سرطان پیدا کرنے والا کیمیکل ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ ٹرائی کلورو میتھین (کلوروفارم) صرف ادویات ساز کمپنیاں ہی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جاری کردہ این او سی کے بعد درآمد کر سکیں گی۔

    ایک اور سمری پر پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے لیے 1.28 ارب روپے کا ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی تاکہ سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں مدد مل سکے۔

    کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے بھی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی اسی طرح ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لیے پانچ ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

    وزارتِ قومی غذائی تحفظ کی سمری پر ای سی سی نے پاسکو کو بند کرنے اور اس کے باقی مالی معاملات نمٹانے کے لیے ایک خصوصی کمپنی بنانے کی اجازت دے دی۔ کمپنی کو رجسٹریشن، انتظامی و مالی اقدامات اور ضروری ریگولیٹری چھوٹ ملے گی اور اپنا کام مکمل کرنے کے بعد کمپنی تحلیل کر دی جائے گی۔

    مزید برآں، کمیٹی نے اصولی طور پر پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کو پنشن اور میڈیکل اخراجات پورے کرنے کے لیے بجٹ جاری کرنے کی منظوری بھی دی۔

  6. ’حساس اعضا کو پکڑنا، ریپ کی کوشش نہیں‘: ماتحت عدالت کے فیصلے پر انڈین سپریم کورٹ برہم

    انڈین سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا کی سپریم کورٹ نے ایک حالیہ سماعت میں واضح طور پر کہا ہے کہ خواتین سے متعلق جنسی جرائم کے مقدمات میں ماتحت عدالتوں کے غیر حساس اور غیر ضروری تبصرے نہ صرف متاثرہ خواتین اور اُن کے خاندان بلکہ پورے معاشرے پر ’خوفناک اثرات' مرتب کر سکتے ہیں۔

    سپریم کورٹ کا یہ سخت موقف اس وقت سامنے آیا جب الہ آباد ہائی کورٹ کے 17 مارچ 2025 کے ایک متنازع فیصلے نے ملک بھر میں تنقید کو جنم دیا ہے۔ اس فیصلے میں ہائیکورٹ نے قرار دیا تھا کہ نابالغ لڑکی کے پستان پکڑنا، شلوار کی ڈوری توڑنا اور کپڑے اُتارنے کی کوشش کرنا جیسے اقدامات ’ریپ کی کوشش‘ کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اس تبصرے پر قانونی ماہرین، سیاست دانوں اور سماجی کارکنوں نے سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا۔

    گذشتہ روز سپریم کورٹ کی سماعت میں چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل دو رُکنی بینچ نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ازخود نوٹس لے رہے ہیں اور ماتحت عدالتوں کے لیے اس ضمن میں رہنما اصول جاری کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    عدالت نے خبردار کیا کہ عدالت کی جانب سے ایسی زبان استعمال کیے جانا متاثرین کو مقدمات واپس لینے پر مجبور کر سکتی ہے اور یہ پورے معاشرے کو غلط پیغام دیتی ہے۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کا حکم منسوخ کرنے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ اس کیس میں ٹرائل حسبِ سابق جاری رہے گا۔

    یاد رہے کہ فروری 2025 میں بھی انڈین سپریم کورٹ نے بامبے ہائی کورٹ کے ایک پرانے فیصلے میں خاتون کے لیے ’ناجائز بیوی‘ اور ’وفادار مالکن‘ جیسے الفاظ کے استعمال پر کڑی تنقید کی تھی۔

    اسی طرح ذیلی عدالت کے وہ ریمارکس بھی زیر بحث آئے جس میں کہا گیا تھا کہ 'سِکن ٹو سکن ٹچ' جنسی استحصال نہیں یا پھر ایک اور فیصلہ جس میں نابالغ کو 'اپنی خواہشات پر قابو پانے' کا مشورہ دیا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ بعض ہائی کورٹس کی زبان اور طرزِ تحریر نے متاثرہ خواتین کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچائی ہے، جو عدالتی وقار اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں کی غیر موزوں زبان پر اعتراض کیا ہے۔ اگست 2024 میں بھی عدالتِ عظمیٰ نے کلکتہ ہائی کورٹ کی اس رائے پر سخت نکتہ چینی کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 'لڑکیوں کو اپنی جنسی خواہشات پر قابو رکھنا چاہیے'۔ سپریم کورٹ نے اسے غیر حساس، غیر مناسب اور پوکسو (اطفال کو جنسی ہراسانی سے بچانے والے) قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا تھا، کیونکہ اس قانون میں نابالغ کی 'مرضی' یا اس کی طرف سے کوئی فیصلہ قانونی طور پر معتبر نہیں ہوتا۔

    عدالت نے کہا کہ اس قسم کی زبان نہ صرف عورت کی عزتِ نفس کے خلاف ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 21 میں دیے گئے بنیادی حق، باوقار زندگی، کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    عدالت نے یاد دلایا کہ خواتین کے متعلق اس طرح کے الفاظ عدالتی فیصلوں کا حصہ نہیں بننے چاہییں، کیونکہ ایسے جملے نہ کسی مرد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور نہ ہی کسی قانونی بحث میں ان کی گنجائش ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں سپریم کورٹ نے حال ہی میں ’ہینڈ بک آن کامبیٹنگ جینڈر سٹیریو ٹائپس‘ بھی جاری کی ہے، تاکہ ججوں اور وکلا کو رہنمائی مل سکے کہ جنسی جرائم کے مقدمات میں حساس، نتیجہ خیز اور غیر جانبدار زبان استعمال کی جائے۔

  7. امیزون کا اگلے پانچ سالوں میں انڈیا میں 35 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان

    امیزون

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    دنیا کی معروف ای کامرس کمپنی ایمیزون نے اگلے پانچ سالوں میں انڈیا میں 35 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

    بدھ کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، کمپنی کے سینیئر نائب صدر ایمرجنگ مارکیٹس امیت اگروال نے کہا کہ کمپنی 35 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کے ذریعے انڈیا میں اپنے آپریشنز کو وسعت دینے اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    اس سال کئی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے انڈیا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    صرف ایک روز قبل، مائیکروسافٹ نے 2030 تک انڈیا میں اے آئی (مصنوعی ذہانت) اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر کی مد میں ساڑھے 17 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ یہ مائیکروسافٹ کی ایشیا میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔

    اس کے علاوہ گوگل بھی اگلے پانچ سالوں میں انڈیا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے 15 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ایمیزون کا کہنا ہے اس کی سرمایہ کاری کا مقصد ایشیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

    ایمیزون کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ دس سالوں میں اس نے انڈین برآمد کنندگان کی 20 ارب ڈالرز سے زیادہ کی مصنوعات برآمدات کرنے میں مدد مدد کی ہے اور وہ 2030 تک اس کو 80 ارب ڈالرز تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

    خبر رساں ادار روئٹرز کے مطابق، امریکی ای کامرس کمپنی 2010 سے اب تک انڈیا میں 40 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کر چکی۔

  8. انڈیا کا دہلی کار دھماکے میں ملوث ایک اور شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

    دہلی دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشندہلی کے لال قلعہ کے علاقے میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

    انڈیا کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے گذشتہ ماہ انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہوئے کار بم دھماکہ میں ملوث ایک اور ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں این آئی اے کا کہنا تھا کہ ادارے نے منگل کے روز دہلی بم دھماکہ کیس میں ملوث ایک اور اہم ملزم کو گرفتار کیا ہے۔

    ایجنسی کے مطابق ملزم ڈاکٹر بلال ناصر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے بارہمولا کا رہائشی ہے اور اسے دہلی سے گرفتار کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق، این آئی اے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بلال ناصر ’دہشت گردانہ حملے کی سازش میں ملوث پایا جس کے نتیجے میں لال قلعہ کے علاقے میں 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔‘

    ’این آئی اے کی تحقیقات کے مطابق، بلال نے جان بوجھ کر مقتول ملزم عمر النبی کو پناہ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی تھی۔ اس پر دہشت گرد حملے سے متعلق شواہد کو تباہ کرنے کا بھی الزام ہے۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ ماہ دہلی کار دھماکے بعد دعویٰ کیا تھا کہ عمر النبی دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی چلا رہے تھے۔

    بی بی سی ہندی کے مطابق، اب تک اس کیس میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

  9. جنگ بندی کے باوجود غزہ میں ہزاروں بچے اب بھی غذائی قلت کا شکار، پیدائش کے پہلے روز بچوں کی اموات میں 75 فیصد اضافہ: یونیسیف

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں ہزاروں بچوں کو شدید غذائی قلت کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کروایا جا چکا ہے۔

    یونیسیف غزہ میں غذائی قلت کے خلاف کام کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے بعد سے اب تک نو ہزار 300 بچے شدید غذائی قلت کے باعث ہسپتال میں داخل کیے جا چکے ہیں۔

    اگست میں جب غزہ میں انسانی بحران عروج پر تھا تو اس وقت غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد 14 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

    یونیسیف کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وقت کے مقابلے میں یہ تعداد کم ہے ، لیکن یہ اب بھی چونکا دینے والی حد تک زیادہ ہے اور متعدد وعدوں کے باوجود غزہ کے لیے امداد کی سپلائی ناکافی ہے۔

    ادارے کی ترجمان ٹیس انگرام نے غزہ سے جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا، ’ہسپتال میں داخل کیے جانے والے بچوں کی تعداد فروری کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔‘

    یونیسیف کا کہنا ہے کہ ان کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پیدائش کے پہلے دن ہی مرنے والے بچوں کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    انگرام کا کہنا ہے کہ 2022 میں ہر ماہ اوسطاً 27 بچے غذائی قلت سے ہلاک ہوتے تھے، یہ تعداد جولائی اور ستمبر 2025 کے درمیان بڑھ کر 47 ماہانہ ہو گئی۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان تمام معاملات کو قبل از وقت پیدائش یا کم وزن کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ڈاکٹروں کے مطابق یہ علامات بیشتر کیسز میں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی پیدائشی امراض کے کیسز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    انگرام کا کہنا ہے کہ پیدائش کے وقت بچوں کا کم وزن ’اکثر ماں میں غذائیت کی کمی، اس میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور پیدائش سے قبل دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔‘

    ’غزہ میں، ہم تینوں عوامل دیکھ رہے ہیں، اور ردعمل تیز یا ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔‘

  10. سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری جاری

    علی امین گنڈا پور

    ،تصویر کا ذریعہPTI KP Twitter

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے دو مقدمات میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    گذشتہ روز جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ سے متعلق دو مقدمات کی سماعت کی جس کا حکمنامہ سامنے آگیا ہے۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور متعدد بار طلبی کے باوجود عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو رہے۔

    عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت پانچ جنوری تک ملتوی کر دی۔

    علی امین گنڈا پور اور دیگر کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ بارہ کہو میں دو مقدمات درج ہیں۔

    خیال رہے کہ ان مقدمات میں پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی، زرتاج گل اور دیگر پی ٹی آئی رہنما بھی ان دونوں مقدمات میں نامزد تھے تاہم عدالت کی جانب سے انھیں بری کیا جا چکا ہے۔

  11. ڈونلڈ ٹرمپ کی یورپ کے ’کمزور‘ رہنماؤں پر تنقید: ’وہ صرف باتیں کرتے ہیں، حاصل کچھ نہیں ہوتا اور جنگ چلے جا رہی ہے‘

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی رہنماؤں کو ’کمزور‘ قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کی ہے اور اس جانب اشارہ کیا ہے کہ امریکہ یوکرین کے لیے حمایت کو کم کر سکتا ہے۔

    امریکی جریدے پولیٹیکو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’زوال پزیر‘ یورپی ممالک امیگریشن کو کنٹرول کرنے یا روس کے ساتھ یوکرین کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا ہے کہ یورپ نے کئیو کو آخری دم تک لڑنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔

    اس کے جواب میں، برطانیہ کی سکریٹری خارجہ یوویٹ کوپر کا کہنا ہے انھیں یورپ طاقتور ہوتے دکھ رہا ہے، اس بارے میں انھوں دفاع میں بڑھتی سرمایہ کاری اور کئیو کے لیے فنڈنگ ​​کا حوالہ دیا ہے۔

    انھوں نے ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دو صدور ’امن کے لیے کام کر رہے ہیں‘ اور ’ایک صدر - صدر پوتن - اب تک مزید ڈرون اور میزائل حملوں کے ساتھ تنازع کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے زیلنسکی پر امن معاہدے پر رضامندی کے لیے مزید دباؤ بڑھاتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقہ ماسکو کو دے دیں۔ یاد رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر اپنے مکمل حملے کا آغاز کیا تھا۔

    زیلنسکی نے منگل کے روز ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ یوکرین اور یورپ ’جنگ کے خاتمے کی طرف ممکنہ اقدامات کے تمام اجزا‘ مکمل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرینی اور یورپی ممالک کا منصوبہ پہلے سے کہیں زیادہ جامع ہے۔

    بعد ازاں زیلنسکی نے صحافیوں کو بتایا کہ انھیں یقین ہے کہ یہ منصوبہ بدھ کو امریکہ کو بھجوا دیا جائے گا۔

    ٹرمپ کی یورپ پر تازہ ترین تنقید یورپی رہنما کی جانب سے یوکرین میں لڑائی روکنے کے لیے اپنی مسلسل مشترکہ کوششوں پر بات چیت کے لیے اکٹھے ہونے کے بعد سامنے آئی ہے

    جب دونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا یورپ یوکرین جنگ ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، ٹرمپ نے کہا: ’وہ صرف بات کرتے ہیں، حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ اور جنگ بس چلے جارہی ہے۔‘

  12. حکومت نے سمارٹ فون پر عائد بھاری ٹیکسز پر مارچ تک نظرثانی کی یقین دہانی کرائی ہے: رکن قومی اسمبلی علی قاسم گیلانی

    ایک پاکستانی خاتون سیلفی لے رہی ہیں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    وفاقی حکومت نے منگل کو سمارٹ فون پر بھاری ٹیکسز پر نظرثانی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ یہ یقین دہانی منگل کو نوید قمر کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام سمیت حکومتی وزرا کی طرف سے بھی کرائی گئی ہے۔

    قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں درآمد شدہ موبائل فونز پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ٹیکس عائد کیے جانے سے متعلق معاملہ زیر غور آیا۔

    رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی طرف سے اٹھائے گئے نکتے پر پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی اس تجویز پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ سمارٹ فون پر موجودہ ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ اب ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ فونز لگژری نہیں بلکہ ضرورت بن کر رہ گئے ہیں۔

    علی قاسم کے مطابق چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی اس پالیسی کے خلاف ہیں اور حالیہ دنوں میں انھوں نے خود اپنے ایک فون کے لیے ایک لاکھ 33 ہزار کا ٹیکس دیا ہے۔

    علی قاسم گیلانی کے مطابق چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ’سمارٹ فونز اب لگژری آئٹم نہیں ضرورت کی چیز بن گیا ہے۔ یہ والا موقف اب نہیں چل سکتا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں۔

    نوید قمر نے مزید کہا کہ ’ایف بی آر گاڑیوں کے بعد موبائل فونز پر بے تحاشہ ٹیکس لے رہی ہے۔ کیا اس ملک میں بڑی گاڑی یا موبائل فون رکھنا گناہ ہے۔ موبائل فون کوئی لگثرری آئٹم نہیں بلکہ ہر کسی کی ضرورت ہے۔‘

    اجلاس میں موبائل فونز پر ٹیکسز کے معاملے پر بحث

    پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں قاسم گیلانی نے بتایا کہ بیرون ملک سے لائے گئے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسز عوام کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں اور صارفین کو گرے مارکیٹ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چھ سال پرانا آئی فون 12 بھی تقریباً 75 ہزار روپے کے ٹیکس کے تحت آتا ہے۔

    علی قاسم گیلانی نے کمیٹی کو بتایا کہ ’آئی فون 6 پر 35 ہزار ٹیکس اور آئی فون 12 کی درآمد پر ایک لاکھ روپے ٹیکس ہے۔ لوگ سمارٹ فونز پر کانٹنٹ بنا کر ویڈیوز ڈال رہے ہیں اور ای کامرس کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق ’لوگ دو دو فون استعمال کر رہے ہیں، ایک نان پی ٹی اے ہوتا ہے۔ موبائل فونز پر ٹیکس ریٹ کم کرنے سے لوگ فائلر بنیں گے۔ اس سے رجسٹریشن میں بھی اضافہ ہو گا۔ موبائل فونز پر نو، نو لاکھ روپے بھی ٹیکس ہے۔ ٹیکس زیادہ ہونے سے فری لانسرز بھی متاثر ہو رہے ہیں۔‘

    علی قاسم گیلانی نے بی بی سی اردو کے اعظم خان کو بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کے حوالے سے اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب چیئرمین پی ٹی اے نے اراکین کی اس تجویز سے اتفاق کر لیا کہ سمارٹ فونز پر عائد ٹیکسز کی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھی اراکین اور چیئرمین پی ٹی اے کے علاوہ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور سیکریٹری خزانہ نے بھی اس معاملے پر مثبت رویہ اختیار کیا۔

    اجلاس میں پی ٹی اے نے وضاحت کی کہ یہ ٹیکسز اس کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ ایف بی آر کے تحت ہیں۔

    علی قاسم گیلانی کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ ایف بی آر، وزارت خزانہ میں قائم ’ٹیکس پالیسی آفس‘ اور پی ٹی اے مل کر ان ٹیکسز کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور مارچ تک سمارٹ فونز پر ٹیکسز سے متعلق نئی پالیسی متعارف کرائی جائے گی۔

    حکومت نے یہ معاملہ حل کروانے کی یقین دہانی کرائی ہے: قاسم گیلانی

    قاسم گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کچھ عرصہ قبل سمارٹ فونز پر بھاری ٹیکسز کے خلاف قرارداد تیار کی تھی اور اس پر تمام ہی جماعتوں کے اراکین کے دستخط بھی حاصل کر لیے تھے۔ ان کے مطابق ’حکومت نے سپیکر قومی اسمبلی اور وزیر خزانہ کے ذریعے مجھے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما نوید قمر کے ذریعے یہ پیغام بھیجا کہ میں اپنی یہ قرارداد واپس لے لوں اور اس کے بدلے میں حکومت نے یہ یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو نوید قمر کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی سے حل کروا لیتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق مقصد عوامی مفاد کا تحفظ تھا لہٰذا انھوں نے حکومت کی یہ پیشکش تسلیم کر لی اور اب سرکاری حکام اور وزرا کا بھی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں مثبت رویہ دیکھنے میں آیا اور سب مل کر اس معاملے کو حل کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

    قاسم گیلانی کے مطابق وزارت خزانہ اور حکام نے یہ ضرور کہا کہ مقامی پیداوار اور صنعت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سمارٹ فونز پر بھاری ٹیکسز عائد کیے گئے تھے۔ تاہم اب اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے گی۔

    ان کے مطابق چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ یہ نظرثانی اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ اب پاکستان 5 جی سپیکٹرم کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس وقت ملک میں صرف دو فیصد ہی موبائل ایسے ہیں جن پر یہ سہولت حاصل کی جا سکتی ہے۔

    علی قاسم گیلانی نے کہا کہ ’مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ اس معاملے پر دونوں اجلاسوں کی کارروائی کو باقاعدہ منٹس یعنی کارروائی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔‘

  13. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ’ایک بڑا ادارہ اور کچھ سیاسی لوگ آپس میں لڑ پڑیں۔‘
    • چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہمعیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں چلتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے برعکس ان کی جماعت ڈی سینٹرلائزیشن کے ذریعے معاشی نظام کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔
    • اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری سے متعلق درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت، صدرِ مملکت، جوڈیشل کمیشن، پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرر، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور کراچی یونیورسٹی کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
    • اسلام آباد میں منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم تقریب کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انڈیا کو امریکہ کی مارکیٹ میں چاول ڈمپ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    • بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کی قسط کی منظوری دی ہے۔ فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے معاشی اصلاحات کے حصول کے لیے شرائط پوری کیں ہیں۔
  14. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔