اسلام آباد میں خواتین کی ویڈیو بنانے اور تشدد کرنے کے الزام میں گرفتار چینی باشندے ’راضی نامے‘ کے بعد رہا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہSocial Media
پاکستان کے سوشل میڈیا پر گذشتہ کچھ روز سے ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں اسلام آباد کی کچی آبادیوں میں موجود جھگیوں میں رہائش پزیر کچھ افراد اور چینی باشندوں کو آپس میں لڑتے ہوئے اور بحث کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ ویڈیو دراصل اسلام آباد کے علاقے گولڑہ کی ہے جہاں پیش آنے والے واقعے کا مقدمہ نہ صرف گولڑہ تھانے میں درج کیا گیا تھا بلکہ تین چینی باشندوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
تاہم مقدمے کے مدعی اور گرفتار ملزمان کے درمیان راضی نامہ ہونے کے بعد تینوں چینی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
اس واقعے کا مقدمہ آٹھ دسمبر کو اسلام آباد کے گولڑہ تھانے میں محمد خان نامی شخص کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مدعی مقدمہ اپنے خاندان کے ساتھ گولڑہ کے علاقے چوڑ چوک کے قریب ایک کھلی جگہ پر جھگیاں تعمیر کرکے عارضی طور پر رہ رہے تھے جہاں ان کے قبیلے کے دیگر افراد بھی رہائش پذیر ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق سات چینی باشندے وہاں آئے اور جھگیوں میں رہائش پزیر خواتین کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔
اس مقدمے کے مدعی محمد خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ واقعہ دراصل سات دسمبر کا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ان چینی باشندوں کو منع کیا گیا کہ وہ بغیر اجازت ان کے خاندان اور قبیلے کی عورتوں کی ویڈیو نہ بنائیں۔‘
’بارہا منع کرنے کے باوجود چینی باشندے بدستور ویڈیو بناتے رہے جس پر وہاں پر موجود خاندان اور قبیلے کے دیگر افراد کے ساتھ ان کا جھگڑا ہوگیا۔‘
محمد خان نے الزام عائد کیا کہ ان چینی باشندوں نے نہ صرف ان کے خاندان کے مردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ’ان کی عورتوں کو بھی ڈنڈوں سے مارا۔‘
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں بھی مقامی افراد اور ایک چینی شہری کو آپس میں ڈنڈوں سے لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
تفتیشی افسر کیا کہتے ہیں؟
اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر سرفراز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے گرفتار ملزمان کا دو دن کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا جس کے بعد بدھ کے روز مقامی عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔ تاہم مقدمے کے مدعی کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت میں ملزمان کے ساتھ راضی نامہ ہونے کا بیان دے دیا ہے اور اپنا مقدمہ واپس لے لیا ہے۔
مدعی کے مقدمہ واپس لینے کے بعد گرفتار چینی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔
جب مدعی سے پوچھا گیا کہ اس واقعے کے دوران ان کی موٹر سائیکلوں سمیت دیگر سامان کو نقصان پہنچا ہے تو کیا انھوں نے اس کا معاوضہ ملزمان سے طلب کیا تھا، جس پر محمد خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ذاتی حیثیت میں ان ملزمان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا۔
ان کے مطابق انھوں نے یہ مقدمہ صرف اس بنیاد پر واپس لیا ہے کہ غیر ملکی پاکستان میں سیر و سیاحت کے لیے آئے ہیں اور کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ پاکستان میں جاکر ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔
تاہم دوسری جانب مقدمے کے تفتیشی افسر سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ انھیں مدعی مقدمہ اور ملزمان کے درمیان ہونے والی صلح کا علم نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ابھی تو اس مقدمے کی تفتیش بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ تاہم انھوں نے مزید کہا کہ مدعی کا یہ استحقاق ہے کہ وہ کسی بھی وقت مقدمے سے دستبردار ہوسکتا ہے اور اس ضمن میں انھیں متعقلہ عدالت میں بین حلفی جمع کروانا ہوتا ہے۔












