کرم میں بنکر مسمار کرنے کا عمل شروع، چیف جسٹس کو لاپتہ افراد کے مسئلے پر تشویش
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے مسنگ پرسنز کے ایشو نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ادھر ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز نے مخالف گروہوں کے بنکرز مسمار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔
خلاصہ
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کے لیے 31 جنوری کی ڈیڈلائن دی ہے۔ ان کی جماعت تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن نہ بنایا گیا تو مذاکرات کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ طالبان نے خواتین کو افغان معاشرے کے ہر پہلو سے حذف کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ خواتین کو 'انسان نہیں سمجھتے۔'
امریکی شہر لاس اینجلس میں آتشزدگی سے ہلاکتوں کی تعداد 24 ہوگئی ہے لیکن کم از کم 13 افراد لاپتہ ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور تیز ہواؤں کے چلنے سے آگ پھیل سکتی ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, لکی مروت: اٹامک انرجی کمیشن کے 16 مغوی ملازمین میں سے آٹھ بازیاب، دیگر کی بازیابی کے لیے علاقے میں آپریشن جاری, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی
مروت کے علاقے قبول خیل میں مسلح افراد کی جانب سے اغوا کیے جانے والے اٹامک انرجی
کمیشن کے 16 ملازمین میں سے آٹھ کو بازیاب کروا لیا گیا ہے جبکہ دیگر
افراد کی بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز کا علاقے میں آپریشن جاری ہے۔
لکی مروت پولیس کے مطابق بازیاب کروائے گئے آٹھ
افراد میں سے تین افراد زخمی ہیں جنھیں سول ہسپتال لکی مروت منتقل کر دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) بنوں
عمران شاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آٹھ ملازمین کو بازیاب کروانے کی تصدیق
کی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دیگر ملازمین کی بازیابی کے لیے
سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے، فورسز
نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور باقی نو افراد کو بھی خیریت سے بازیاب کروا لیا
جائے گا۔
یاد رہے کہ مقامی
پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح قبول خیل میں پیش آیا۔ جس علاقے میں ان
افراد کو اغوا کیا گیا ہے وہاں یورینیم کی کان کنی ہوتی ہے اور یہ منصوبہ اٹامک
انرجی کمیشن کے تحت کام کرتا ہے۔
آر
پی او بنوں عمران شاہد نے بی
بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کی صبح مسلح شدت پسندوں نے ملازمین کو اسلحے
کی نوک پر گاڑی سے اتار کر اغوا کر کے نا معلوم مقام کی طرف لے گئے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ بازیاب کروائے گئے 8
ملازمین میں سے تین زخمی ہیں جنھیں سول ہسپتال لکی مروت میں علاج فراہم کیا جا رہا
ہے۔
ہسپتال میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آزاد نے بی بی
سی کو بتایا کہ ان زخمیوں کو گولیاں لگی ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
،تصویر کا ذریعہKPK Police
اس سے قبل مقامی پولیس اہلکاروں نے بتایا تھا کہ تمام ملازمین ایک ویگن میں جا رہے تھے کہ پائندہ خان کے مقام پر مسلح افراد ان کی گاڑی روک کر ملازمین کو اپنے ساتھ لے گئے جبکہ گاڑی کو آگ لگا دی۔
مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ ملازمین کو لکی مروت سے میانوالی جانے والے راستے سے اغوا کیا گیا۔ یہ علاقہ صوبہ پنجاب کے علاقے عیسی خیل کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
تاحال کسی تنظیم نے ان افراد کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی اغوا کاروں کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک بیان میں پاکستانی فوج کے اقتصادی منصوبوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
لکی مروت میں گذشتہ ڈیڑھ سال سے حالات کشیدہ ہیں اور یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ لکی مروت کے علاقے غزنی خیل میں دو روز پہلے نامعلوم افراد نے دو پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا جس کے بعد مقامی امن کمیٹی اور پولیس کے اہلکاروں نے مسلح حملہ آوروں کا پیچھا کیا اور جھڑپ میں ایک مسلح شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔
لکی مروت کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں جن کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی رہی ہیں۔
گذشتہ روز تھانہ گمبیلا کی حدود میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کے اہلکاروں اور پولیس نے ایک مشترکہ کارروائی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان ٹیپو گل گروپ کے تین شدت پسندوں کو جھڑپ میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
بریکنگ, لکی مروت سے اٹامک انرجی کمیشن کے 16 ملازمین اغوا, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہAFP
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں مسلح افراد نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 16 ملازمین اور ایک ڈرائیور کو اغوا کر لیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح قبول خیل میں پیش آیا۔
جس علاقے میں ان افراد کو اغوا کیا گیا ہے وہاں یورینیم کی کان کنی ہوتی ہے اور یہ منصوبہ اٹامک انرجی کمیشن کے تحت کام کرتا ہے۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ تمام ملازمین ایک ویگن میں جا رہے تھے کہ پائندہ خان کے مقام پر مسلح افراد ان کی گاڑی روک کر ملازمین کو اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ان کی گاڑی کو آگ لگا دی۔
مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملازمین کو لکی مروت سے میانوالی جانے والے راستے سے اغوا کیا گیا۔ یہ علاقہ صوبہ پنجاب کے علاقے عیسی خیل کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اغوا کار ان ملازمین کو کس طرف لے گئے ہیں تاہم سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ان کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے جس میں مقامی امن کمیٹی کے لوگ بھی معاونت کر رہے ہیں۔
تاحال کسی تنظیم نے ان افراد کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی اغوا کاروں کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک بیان میں پاکستانی فوج کے اقتصادی منصوبوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
اغوا کے چند گھنٹے بعد مغوی ملازمین کی کچھ مبینہ ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں ان کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے پاس ایک محفوظ مقام پر ہیں۔ ان ویڈیو پیغامات میں مغویوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اغوا کاروں کے مطالبات تسلیم کیے جائیں اور انھیں بازیاب کرایا جائے ۔ بی بی سی آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
لکی مروت میں گذشتہ ڈیڑھ سال سے حالات کشیدہ ہیں اور یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ لکی مروت کے علاقے غزنی خیل میں دو روز پہلے نامعلوم افراد نے دو پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا جس کے بعد مقامی امن کمیٹی اور پولیس کے اہلکاروں نے مسلح حملہ آوروں کا پیچھا کیا اور جھڑپ میں ایک مسلح شحص کو ہلاک کر دیا تھا ۔
لکی مروت کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں جن کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی رہی ہیں۔ گذشتہ روز تھانہ گمبیلا کی حدود میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کے اہلکاروں اور پولیس نے ایک مشترکہ کارروائی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان ٹیپو گل گروپ کے تین شدت پسندوں کو جھڑپ میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
’یہ فیصلہ کس بنیاد پر ہوا کہ کس ملزم کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا اور کس کا اے ٹی سی میں‘
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے رکن جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا کہ نو مئی کے کچھ ملزمان کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں اور کچھ کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلے گا۔
انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کو فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے مقدمے کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران دیے۔
ان کا کہنا تھا کہ نو مئی کے مقدمات میں تمام ملزمان کے خلاف ایف آئی آر تو ایک جیسی تھیں تو یہ تفریق کیسے ہوئی کچھ کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو گا کچھ کا اے ٹی سی) میں؟
بینچ کی رکن جسٹس مسرت ہلالی نے بھی کہا کہ کس ملزم کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلے گا کس کا نہیں یہ دائرہ اختیار کون طے کرتا ہے؟
آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے بھی ریمارکس میں کہا کہ اس معاملے میں ملزمان کو فوجی تحویل میں لیا گیا تو بنیادی حقوق معطل نہیں تھے۔
جمعرات کے روز سماعت میں وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دلائل جاری رکھے جبکہ جمعے کے روز بھی ان کے دلائل جاری رہیں گے۔
سماعت کے آغاز میں ملٹری ٹرائل کالعدم قرار دینے سے متعلق پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ پڑھ کر سنایااور کہا کہ حکم نامے کے مطابق یہ تمام بنیادی حقوق ہیں جن کی وضاحت کر دی گئی ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ اس معاملے میں ایمرجنسی والا معاملہ تو نہیں ہے؟
جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیے کہ بنیادی حقوق معطل ہونے کے لیے ایمرجنسی ہونا ضروری ہے۔ یہ معاملہ مختلف ہے کہ ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں اپیل کا حق نہ دے کر حقوق معطل ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اکتوبر 2023 میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے سے متعلق مختصر تحریری حکمنامے میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے سے متعلق قرار دیا تھا کہ عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہ چلانے سے متعلق فیصلہ متفقہ ہے اور
اٹارنی جنرل کی طرف سے نو اور دس مئی کے واقعات میں ملوث تمام 103 گرفتار افراد کی فہرست یا اس کے علاوہ بھی اگر کوئی عام شہری ان واقعات میں کسی بھی طرح ملوث ہیں تو ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ ایسے تمام افراد کے خلاف مقدمات عام فوجداری عدالتوں کے سامنے چلائے جائیں گے۔
خیال رہے کہ 13 دسمبر کو پاکستان کی عدالت عظمی نے فوجی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں سے مزید 85 ملزمان کے مقدمات کے فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دی تھی
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں نے نو مئی کو تحریکِ انصاف کے احتجاج کے دوران عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث مزید 60 ملزمان پر جرم ثابت ہونے کے بعد انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنا دی ہیں۔
سزا پانے والوں میں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی ایڈووکیٹ اور تحریکِ انصاف کے رہنما میاں عباد فاروق کے علاوہ دو سابق فوجی افسران بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم اور گروپ کیپٹن (ر) وقاص احمد محسن بھی شامل تھے۔
جمعرات کے روز سماعت میں خواجہ حارث نے کہا کہ آرٹیکل 8(3) کے مطابق جہاں ذکر ہے وہ مانتے ہیں، سویلینز کا ملٹری ٹرائل کالعدم قرار دیتے وقت آرٹیکل 233 کی غلط تشریح ہوئی۔ پانچ رکنی لارجر بنچ نے بنیادی حقوق معطل ہونے کا تاثر لیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے آرٹیکل 233 کو غیر مؤثر کر دیا حالانکہ آرٹیکل 233 کا خصوصی عدالتوں کے کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو کہا کہ آرٹیکل 233 کو آرٹیکل 8(5) کی تشریح درست ثابت کرنے کے لیے چھیڑا گیا۔ آرٹیکل 233 کے تحت صدر ایمرجنسی نافذ کرنے بنیاد حقوق معطل کر سکتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا کہ ایمرجنسی کے دوران بنیادی حقوق پر عدالتوں سے عملدرآمد نہیں ہوسکتا۔ اس نکتے پر سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں کہ عدالت اپنا اختیار استعمال کروا سکتی ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ بنیادی حقوق کا عدالتوں میں دفاع ہوسکتا ہے صرف عملداری معطل ہوتی ہے۔ موجودہ کیس میں ملزمان کو فوجی تحویل میں لیا گیا تو بنیادی حقوق معطل نہیں تھے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کو فوجی تحویل میں لیا گیا تو ایمرجنسی بھی نافذ نہیں تھی۔
خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عملدرآمد روکنا بنیادی حقوق معطل کرنے کے برابر ہے۔
جسٹس جمال خان مںدوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 233 میں یہ نہیں کہا گیا کہ بنیادی حقوق معطل ہو سکتے ہیں۔ صدر بائے آرڈر کہہ سکتا ہے کہ بنیادی حقوق معطل ہوتے ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایمرجنسی کی شق کا اس سے ڈائریکٹ تعلق نہیں ہے۔
مجرمان کو قید تنہائی میں رکھنے سے متعلق پنجاب حکومت کی رپورٹ پیش
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے مجرمان کو قید تنہائی میں رکھنے سے متعلق رپورٹ پیش کر دی۔
جس میں بتایا گیا کہ مجرمان کو صبح ساڑھے سات بجے ناشتے کے بعدلان میں چھوڑدیا جاتا ہے، شام پانچ بجے تک مجرمان باہر رہتے ہیں۔ جیل میں ٹک شاپ ہے کافی وغیرہ بھی پی سکتے ہیں،
گھرسے مجرمان کومیٹرس بھی دیئے گئے ہیں۔
اس دوران ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے وکیل فیصل صدیقی نے مکالمہ کیا کہ ’آپ کا مطلب ہے گھروالا ماحول ہے،‘
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ نےغلط بیانی کی توہم جیل اصلاحات کمیٹی سے بھی رپورٹ منگوا لیں گے۔
خصوصی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔
وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سے متعلق اپیل کا پس منظر
نو مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُتشدد مظاہرے ہوئے تھے اور فوجی تنصیبات سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے تھے۔
نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق پارلیمان نے قرارداد منظور کی تھی جس کے بعد وفاقی حکومت نے ان افراد کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی منظوری دی تھی۔
اکتوبر 2023 میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے عام شہریوں کے خلاف مقدمات سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت، وزارتِ دفاع، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں نے انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی تھیں اور چھ ججوں کے بینچ نے 13 دسمبر 2023 کو یہ فیصلہ معطل کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کی تشکیل کے بعد جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے رواں ماہ معاملے کی سماعت کے بعد فوجی عدالتوں کو مقدمات کے فیصلے سنانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلے سپریم کورٹ میں شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے حوالے سے زیر التوا مقدمے کے فیصلے سے مشروط ہوں گے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ جن ملزمان کو سزاؤں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے اور جن ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا انھیں سزا سنا کر جیلوں میں منتقل کیا جائے۔
لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ سے پانچ افراد ہلاک، ایمرجنسی صورتحال کے باعث صدر بائیڈن نے اٹلی کا دورہ ملتوی کر دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں جنگلات میں لگنے والی آگ اور اس کے پھیلاؤ میں اضافے کے باعث کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد لوگو ں کو اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
آگ کی وجہ سے دھویں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ میٹروپولیٹن علاقے میں پیسیفک کوسٹ سے لے کر پیساڈینا تک مکانات کو نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق آگ چھ مقامات پر لگی ہوئی ہے۔
بڑے پیمانے پر لگنے والی اس آگ کے باعث تین لاکھ سے زائد گھر اور تجارتی مراکز بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے لاس اینجلس کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے نقصانات اور ریسکیو پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اپنا اٹلی کا دورہ ملتوی کر دیا۔
پریس سیکرٹری کیرین جین پیئر نے ایک بیان میں بتایا کہ لاس اینجلس میں صدر بائیڈن نے پولیس، فائر اور ایمرجنسی اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں ۔
یاد رہے کہ صدر بائیڈن کو پوپ فرانسس، اٹلی کے صدر سرجیو میٹیریلا اور وزیر اعظم جارجیا میلونی سے ملاقات کے لیے نو سے 12 جنوری تک روم جانا تھا۔ یہ ان کی صدارت کا آخری شیڈول دورہ ہے۔
ریسکیو آپریشن میں ہزاروں فائر فائٹرز مسلسل آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہالی ووڈ کا زیادہ تر حصہ موٹے سیاہ دھوئیں میں لپٹا ہوا ہے اور یہاں سڑکوں پر کھڑے پام کے درختوں کو دھویں کے باعث دیکھنا محال ہے۔
انخلا کے باعث سڑکوں پر مسلسل افراتفری کی صورتحال ہے۔ لوگ اپنے چہروں کو ڈھانپنے کے لیے گیلے کپڑے کا سہارا لے رہے ہیں تاکہ وہ سانس لینے میں مشکل سے بچ سکیں۔
پی ٹی آئی کمیٹی کے ساتھ عمران خان کی ملاقات کا وعدہ پورا نہ کر سکے: عرفان صدیقی
،تصویر کا ذریعہAFP
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کی عمران خان سے ملاقات کا وعدہ پورا نہیں کر سکی البتہ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ کمیٹی کا کوئی رکن عمران خان کے ساتھ ملاقات کروانے کے لیے ذمہ دار نہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘میں بات کرتے ہوئے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا ’جب ہم نے پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات کروانے کی کمٹمنٹ دے دی تھی تو پوری کرنی چاہیے تھا، البتہ کمیٹی کا کوئی رکن ملاقات کروانے کے لیے ذمہ دار نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم جو وعدہ کرتے ہیں اُسے عملی جامہ پہنانا چاہیے تاکہ ہم جب اُن سے وعدہ پورا کرنے کا کہیں تو ہماری بات میں زیادہ وزن ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ مگر جب بہت ساری شرائط ملاقات سے نتھی کردی جاتی ہیں تو مشکلات آتی ہیں، ایک شخص بھی جا کر بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لے کر آ سکتا ہے۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی والے 40 دن سے اپنے مطالبات کی فہرست تیار کر رہے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں کہ چند گھنٹے میں جواب دیں ورنہ بات ختم ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پی ٹی آئی سے دوسری ملاقات میں کہا تھا کہ ہمارے کوئی مطالبات نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آگے بھی ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہو گا۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایسی انڈرسٹینڈنگ ہو کہ آئندہ کوئی بھی جماعت اسلام آباد آئے تو اس کا ایک طریقہ کار ہو۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے دونوں مطالبات تحریری طور پر حکومت کے حوالے کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
وہ بدھ کے روز عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جو دو مطالبات پیش کیے گئے ہیں ان میں عمران خان سمیت تمام رہنماؤں اور کارکنان کی رہائی اور نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سینیئر ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کا قیام شامل ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ حکومتی وزرا کی جانب سے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سے این آر او مانگ رہی ہے اور جب تک مطالبات تحریری طور پر نہیں دیے جاتے تب تک مذکرات آگے نہیں بڑھیں گے، تو بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہمیں اپنے مطالبات تحریری طور پر دینے کی اجازت دے دی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا ’حالانکہ ہمیں نہیں لگتا کہ ہمیں اپنے دو مطالبات ان کو تحریری طور پر دینے کی ضرورت ہے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ وہ اس کو جواز بنائیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک ڈیل کا تعلق ہے تو اس کی ہم پہلے بھی تردید کر چکے ہیں کہ ’یہ مذاکرات کسی ڈیل کے لیے نہیں۔‘
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کے محدود مقاصد ہیں اور وہ جوڈیشل کمیشن کا قیام اور اسیران کی رہائی ہیں۔
جب ان سے علیمہ خان کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں انھوں نے دعوی کیا تھا کہ وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے ذریعے عمران خان کو ہاؤس اریسٹ پر بنی گالہ منتقل کرنے کی آفر کی گئی تھی تو بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں گنڈاپور کی جانب سے کبھی ایسا کوئی پیغام نہیں آیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے جب بھی مذاکرات ہوئے تو ہم اکٹھے تھے۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات ابتدائی تھے اور وہ کسی بھی سٹیج پر کسی بھی آفر کی طرف بڑھے ہی نہیں۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے مطالبات تحریری طور پر جمع نہیں کروائیں گے۔
پی ٹی آئی کے ساتھ جاری مذاکرات پر بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کو اچھے انداز سے آگے بڑھانا چاہتے تھے۔
’ہم چاہتے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک نیشنل ڈائیلاگ ہو، اسی لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جو (مذاکراتی) کمیٹی بنائی اس میں اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں۔‘
گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہاں ہم آپ کے لیے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے بعض سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچایا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکری تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے بعد پاکستان کے زیر انتظام گگلت بلستان کے علاقے ہنزہ میں چھ روز سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف جاری دھرنا ختم کردیا گیا۔ گلگت بلتستان کی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت نے وفاق کے تعاون سے فیصلہ کیا کہ فروری کے اختتام تک تھرمل پاور جنریشن کے زریعے علاقے کو روزانہ پانچ، چھ گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔
غزہ کی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں آٹھ بچوں سمیت کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ المواسی میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک ماں اور اس کے چار بچے ہلاک ہو گئے جبکہ خان یونس میں اسرائیلی حملے میں ایک جوڑا اور ان کے بچے مارے گئے۔ وسطی اور شمالی غزہ میں بھی اسرائیلی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے طبی معائنے اور بیٹوں سے بات کروانے کی درخواست منظور کر لی۔
بلوچستان میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف جمیعت علمائے اسلام (ف) کی اپیل پر بدھ کو پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ جے یو آئی کا دعوی ہے کہ کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 45 کے 15 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ الیکشن کے دوران دھاندلی کے ذریعے ان کے امیدوار کو ہروایا گیا۔ بدھ کے روز جی یو آئی کے کارکنان نے کوئٹہ کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی شاہراہوں کو احتجاجاً بند کر دیا۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید
پاکستان اور دنیا بھر کی اہم خبروں کے لیے بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔
یہاں ہم پاکستان کی خبروں سمیت دنیا بھر میں ہونے والی اہم پیشرفت کے حوالے سے اپنے قارئین کو آگاہ رکھتے ہیں۔
تاہم اگر آپ گزشتہ روز کی خبروں کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔