روس کا 8 مئی سے یوکرین میں تین روزہ جنگ بندی کا اعلان, تھامس میکنٹوش اور وٹالی شیوچینکو، بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ میں عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔
کریملن نے کہا ہے کہ جنگ بندی آٹھ مئی کی صبح سے 11 مئی تک جاری رہے گی، یہ وقت دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے موقع پر فتح کی تقریبات کے موقع پر منایا جاتا ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پوتن نے جنگ بندی کا اعلان ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر‘ کیا ہے۔
یوکرین نے ابھی اس اعلان پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔
روسی صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’روس سمجھتا ہے کہ یوکرین کو اس مثال کی پیروی کرنی چاہیے۔ اور یہ کہ یوکرین کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں روسی فیڈریشن کی مسلح افواج مناسب اور موثر جواب دیں گی۔‘
’روسی فریق نے ایک بار پھر بغیر کسی پیشگی شرط کے امن مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد یوکرین کے بحران کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنا اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری بات چیت کرنا ہے۔‘
کریملن نے ایسٹر کے موقع پر اسی طرح کی 30 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اگرچہ دونوں فریقوں نے لڑائی میں کمی کی اطلاع دی لیکن انھوں نے ایک دوسرے پر سینکڑوں خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔
یوکرین میں جنگ بندی کی 20 سے زیادہ بار کوشش کی جا چکی ہے اور ان میں سے کچھ بالآخر ناکام ہو گئیں اور کچھ نافذ العمل ہونے کے چند منٹوں کے اندر ہی ناکام ہو گئیں۔
ایسٹر کے موقع پر ہونے والے حالیہ حملے کا دائرہ کار بہت محدود تھا اور اس کے نتیجے میں لڑائی میں معمولی کمی آئی اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
تازہ ترین اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کے لیے’انتہائی اہم‘ ہفتہ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر انھیں پیش رفت نظر نہیں آتی ہے تو وہ اس سے دستبردار ہو جائیں گے۔
پوتن یہ تاثر پیدا کرنے کے خواہاں ہیں کہ روس امن کے حصول میں سنجیدہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ اس پیغام کو سنیں کہ یوکرین نے واشنگٹن کی 30 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے یوکرین پر روس کے مسلسل حملوں پر برہمی کا اظہار کیے جانے کے بعد یہ اقدام سامنے آیا ہے۔
روس نے 24 فروری 2022 کو یوکرین پر مکمل حملے کا آغاز کیا اور اس وقت اسے یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل ہے، جس میں جنوبی جزیرہ نما کریمیا بھی شامل ہے جسے ماسکو نے 2014 میں ضم کیا تھا۔
ایک اندازے کے مطابق 2022 سے دونوں اطراف کے لاکھوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت فوجیوں کی ہے۔










