نریندر مودی کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات، شہباز شریف کا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے رابطہ

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے مطالبہ کیا کہ وہ انڈیا کو ’ذمہ داری اور تحمل‘ کا مشورہ دیں۔ ادھر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پہلگام حملے کے ردعمل میں طریقہ کار، اہداف اور وقت کا تعین کرنے میں مسلح افواج کو ’مکمل آپریشنل آزادی‘ ہے۔

خلاصہ

  • انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلگام حملے کے جواب میں مسلح افواج کو ’کھلی آپریشنل آزادی‘ دی ہے
  • پاکستانی فوج کا انڈیا پر 'سرحد پار دہشتگردی' کا الزام: 'اِن کارروائیوں میں را نہیں، انڈین فوج ملوث ہے'
  • پاکستان کا لائن آف کنٹرول پر انڈین کواڈ کاپٹر کو مار گرانے کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. روس کا 8 مئی سے یوکرین میں تین روزہ جنگ بندی کا اعلان, تھامس میکنٹوش اور وٹالی شیوچینکو، بی بی سی نیوز

    یوکرین میں تین روز جنگ بندی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ میں عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

    کریملن نے کہا ہے کہ جنگ بندی آٹھ مئی کی صبح سے 11 مئی تک جاری رہے گی، یہ وقت دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے موقع پر فتح کی تقریبات کے موقع پر منایا جاتا ہے۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پوتن نے جنگ بندی کا اعلان ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر‘ کیا ہے۔

    یوکرین نے ابھی اس اعلان پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

    روسی صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’روس سمجھتا ہے کہ یوکرین کو اس مثال کی پیروی کرنی چاہیے۔ اور یہ کہ یوکرین کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں روسی فیڈریشن کی مسلح افواج مناسب اور موثر جواب دیں گی۔‘

    ’روسی فریق نے ایک بار پھر بغیر کسی پیشگی شرط کے امن مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد یوکرین کے بحران کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنا اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری بات چیت کرنا ہے۔‘

    کریملن نے ایسٹر کے موقع پر اسی طرح کی 30 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اگرچہ دونوں فریقوں نے لڑائی میں کمی کی اطلاع دی لیکن انھوں نے ایک دوسرے پر سینکڑوں خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔

    یوکرین میں جنگ بندی کی 20 سے زیادہ بار کوشش کی جا چکی ہے اور ان میں سے کچھ بالآخر ناکام ہو گئیں اور کچھ نافذ العمل ہونے کے چند منٹوں کے اندر ہی ناکام ہو گئیں۔

    ایسٹر کے موقع پر ہونے والے حالیہ حملے کا دائرہ کار بہت محدود تھا اور اس کے نتیجے میں لڑائی میں معمولی کمی آئی اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

    تازہ ترین اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کے لیے’انتہائی اہم‘ ہفتہ قرار دیا ہے۔

    واشنگٹن دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر انھیں پیش رفت نظر نہیں آتی ہے تو وہ اس سے دستبردار ہو جائیں گے۔

    پوتن یہ تاثر پیدا کرنے کے خواہاں ہیں کہ روس امن کے حصول میں سنجیدہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ اس پیغام کو سنیں کہ یوکرین نے واشنگٹن کی 30 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔

    امریکی صدر کی جانب سے یوکرین پر روس کے مسلسل حملوں پر برہمی کا اظہار کیے جانے کے بعد یہ اقدام سامنے آیا ہے۔

    روس نے 24 فروری 2022 کو یوکرین پر مکمل حملے کا آغاز کیا اور اس وقت اسے یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل ہے، جس میں جنوبی جزیرہ نما کریمیا بھی شامل ہے جسے ماسکو نے 2014 میں ضم کیا تھا۔

    ایک اندازے کے مطابق 2022 سے دونوں اطراف کے لاکھوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت فوجیوں کی ہے۔

  2. شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں مزید 17 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے: آئی ایس پی آر کا دعویٰ

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کے مطابق یہ شدت پسند اپنے بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر پاکستان میں کارروائیاں کر رہے تھے۔ فوج کے مطابق مارے جانے والے ان شدت پسندوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارود اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دعوی کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک آپریشن میں مزید 17 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 27 اور 28 تاریخ کی درمیانی رات کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب حسن خیل کے علاقے میں سکیورٹی فورسرز نے ایک آپریشن کیا اور اس میں یہ شدت پسند ہلاک کیے گیے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ شدت پسند اپنے بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر پاکستان میں کارروائیاں کر رہے تھے۔ فوج کے مطابق مارے جانے والے ان شدت پسندوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارود اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ تین دن میں کیے جانے والے آپریشن میں اب تک مجموعی طور پر 71 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں اور سکیورٹی فورسز پاکستان کی بقا اور تحفظ کے لیے ہر دم تیار اور پرعزم ہیں۔

  3. وانا میں امن کمیٹی کے دفتر کے باہر دھماکے میں سات ہلاک، 16 افراد زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    وانا میں دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    وانا میں امن کمیٹی کے دفتر کے باہر دھماکے میں سات ہلاک جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس دھماکے میں امن کمیٹی کے دو ارکان تحصیل اور سیف الرحمان بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    زخمی افراد کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے علاقے کو محاصرے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

    پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس سے عمارت بھی گر گئی۔ یہ خدشتہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کے نیچے بھی کچھ لوگ دبے ہوں گے۔

    اس دھماکے کا ہدف بننے والے امن کمیٹی کے یہ اراکین کمانڈر نذیر گروپ سے جانے جاتے ہیں۔ یہ ٹی ٹی پی کی مخالفت کرتے تھے۔ انھیں سی این جی گروپ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

    پولیس کے مطابق اس گروپ کے کمانڈر تحصیل اور سیف الرحمان کو دھمکیاں بھی ملی تھیں۔

    یہ جنوبی وزیرستان لوئر کا علاقہ ہے، یہاں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں۔ یہاں اغوا اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات بھی سامنے آتے رہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وانا میں امن کمیٹی کے دفتر کے قریب دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’بزدلانہ کارروائیاں قوم کے پختہ عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔‘

  4. امریکی سینٹرل کمانڈ کا حوثی باغیوں کے 800 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ مارچ کے وسط سے اب تک حوثی باغیوں کے 800 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب یمن کے حوثی گروپ سے وابستہ المسیرہ ٹی وی کے مطابق صعدہ صوبے میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں کم از کم 68 افراد ہلاک ہو گئے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق المسیرہ ٹی وی نے خبر دی ہے کہ اتوار کو یمن کے صوبے صعدہ کے شمال مشرقی علاقے میں حوثی باغیوں کے کنٹرول میں موجود افریقی مہاجرین کے حراستی مرکز پر امریکہ نے حملہ کیا۔

    المسیرہ ٹی وی کے مطابق اس حملے میں 47 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    حالیہ حملے کے حوالے سے امریکی فوج نے کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس نے مارچ کے وسط سے اب تک 800 حوثی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں قیادت سمیت سینکڑوں حوثی باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’اگرچہ حوثیوں نے ہمارے بحری جہازوں پر حملے جاری رکھے، لیکن ہماری کارروائیوں نے ان کے حملوں کی شرح اور اثرات کو کم کیا۔ بیلسٹک میزائلوں کے داغے جانے کی شرح میں 69 فیصد کمی آئی ہے، جب کہ خودکش ڈرون حملوں میں 55 فیصد کمی آئی ہے۔‘

    گذشتہ ماہ ٹرمپ نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر بڑے پیمانے پر حملوں کا حکم دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ انہیں 'مکمل طور پر ختم' کر دیا جائے گا۔

    ٹرمپ نے ایران کو بھی خبردار کیا تھا کہ وہ اس گروپ کو مسلح نہ کرے۔

  5. شہید راجی پورٹ دھماکہ؛ ایران بھر میں عوامی سوگ، حکام کی تحقیقات کی یقین دہانی

    iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کے حوالے سے کہا تھا کہ مجرموں سے ہر سطح پر نمٹا جائے گا۔

    خیال رہے کہ ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوبی شہر بندر عباس کے قریب شہید رجائی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 ہو گئی ہے۔

    ملک بھر میں دھماکے میں ہونے والی جانی نقصان پر سوگ منایا گیا رہا ہے اور مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی جا رہی ہیں۔

    ایرانی وزیر داخلہ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ واقعے کے دن ایک چھوٹا شعلہ دیکھا گیا، جس کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’تقریباً ایک منٹ کے اندر آگ بھڑک اٹھی اور پھیل گئی، اور ایک زبردست دھماکہ ہوا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس دھماکے کے حوالے سے ’حفاظتی اور غیر فعال دفاعی اقدامات کی تعمیل کرنے میں ناکامی یا آتش گیر مواد کی ٹھیک طور پر جانچ جیسے مسائل کی تحقیقات کی جائیں گی۔

    ان کے مطابق راجئی پورٹ میں ہونے والے دھماکے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور ’بنیادی دستاویزات‘ جمع کر لی گئی ہیں۔

    ایرانی وزیر داخلہ کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب آگ بجھانے کی کارروائیاں ابھی جاری ہیں اور دھماکے کی وجہ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا نے آگ بجھانے کی کارروائیوں میں مدد کے لیے تین روسی طیاروں کی بندر عباس میں آمد کی اطلاع دی۔

    خبررساں ایجنسی مہر نے کہا ہے کہ ان طیاروں میں دو پانی چھڑکنے والے طیارے اور ایک کمانڈ ایئر کرافٹ شامل ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز روسی صدر پوتن نے تعزیتی پیغام بھیجتے ہوئے ایران کو آگ پر قابو پانے کے لیے مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔

    IRAN

    ،تصویر کا ذریعہISNA

  6. یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی مدد کے لیے شمالی کوریا نے اپنی فوج بھجوانے کی تصدیق کی ہے: رپورٹ

    شمالی کوریا نے پہلی بار روس یوکرین جنگ میں روس کی جانب سے سے لڑنے کے لیے اپنے فوجی دستے بھجوانے کی تصدیق کی ہے۔

    یہ تصدیق شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فوجیوں نے رہنما کم جونگ ان کے حکم پر کرسک سرحدی علاقے کو ’مکمل طور پر آزاد کرانے‘ میں روسی فوج کی مدد کی۔

    خیال رہے کہ مغربی حکام نے اس سے قبل بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ ان کا ماننا ہے کہ کم ازکم تین ماہ کے عرصے میں شمالی کوریا کی جانب سے بھجوائے گئے 11000 فوجی دستوں میں سے ایک ہزار ہلاک ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ روس نے ملک کے مغربی کرسک علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم یوکرین نے اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔

  7. پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتے ہیں: چین

    PAK CHINA

    ،تصویر کا ذریعہOleh_Slobodeniuk

    چین نے کہا ہے کہ وہ پہلگام حملے کی فوری اور غیر جانبدرانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور باہمی تناؤ کو ختم کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    چین میں حکومت کے زیر اثر اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق اتوار کو چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی اور پاکستانی نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔

    اسحق ڈار نے چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی کو خطے کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا

    چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین پاکستان اور انڈیا کے مابین موجود کشیدگی اور بدلتی ہوئی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔

    چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہر قسم کے حالات میں سٹریٹیجک پارنٹر اور دوست کی حیثیت سے چین پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو سمجھتا ہے اور پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی سے متعلق مفادات کو قائم رکھنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

  8. اسرائیل کا بیروت پر فضائی حملہ، لبنانی صدر کی امریکہ اور فرانس سے مدد کی اپیل, ہوگو بچیگہ،جیسیکا رانسلے، بی بی سی نیوز

    LABNESE

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے ایک ٹھکانے کو فضائی حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اتوار کو اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک عمارت کو خالی کرانے کا حکم دیا جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اسے ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ استعمال کر رہا تھا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ایک سٹور کو نشانہ بنایا ہے جس میں ' گائیڈڈ میزائل' نصب کیے گئے ہیں جو 'اسرائیلی ریاست اور اس کے شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے جاری ہونے والی حملے کی لائیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مذکورہ عمارت خالی کروانے کے حکم کے ایک گھٹنے کے بعد اس عمارت سے بہت بلندی تک دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔

    لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے آگ بھجانے کا کام کیا۔

    لبنانی صدر نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور امریکہ اور فرانس سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ملک پر حملے بند کرے۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہ حملہ پانچ ماہ قبل جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود کیا گیا۔

    تقریباً ایک ماہ میں یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دہیح کو نشانہ بنایا ہے جہاں حزب اللہ کا مرکز ہے۔

    اسرائیل نے مسلسل ایسے اہداف کو نشانہ بناتا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق حزب اللہ سے ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس انفراسٹرکچر سائٹ پر میزائلوں کا ذخیرہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مفاہمت کی کی خلاف ورزی ہے جو کہ اسرائیل اور اس کے شہریوں کے لیے خطرہ ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو مضبوط نہیں ہونے دے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ بیروت کے اس علاقے کو دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔

    لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی کوآرڈینیٹر جینین ہینس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پراپنے پیغام میں کہا کہ ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے باز رہیں جس سے سیز فائر کو مزید نقصان پہنچے۔

  9. افغانستان سے آئے 54 شدت پسند ہلاک: ’یہ گروہ بیرونی آقاؤں کے ایما پر پاکستان میں ہائی پروفائل دہشتگردی کرنا چاہتا تھا‘، آئی ایس پی آر

    PAK AF

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی فوجی کے مطابق ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر دراندازی کی کوشش کرنے والے 54 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں سے بڑی تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ’خفیہ اداروں کی رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ شدت پسندوں کا یہ گروہ خاص طور پر اپنے ’بیرونی آقاؤں‘ کے ایما پر پاکستان میں ہائی پروفائل دہشتگردی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کس کے ایما پر کام کر رہے ہیں۔‘

    ’یہ اقدامات ریاست اور اس کے عوام کے خلاف بغاوت اور غداری سمجھی جائے گی۔‘

    اعلامیے کے مطابق حالیہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی ( این ایس سی) میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی توجہ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے ہٹانا انڈیا کی سٹریٹیجک حکمتِ عملی ہے تاکہ تحریکِ طالبان پاکستان کو سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے درمیان سانس لینے کا موقع مل سکے۔

    اعلامیے کے مطابق یہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران یہ ایک روز میں شدت پسندوں کی سب سے بڑی تعداد ہلاک کی گئی ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ’ہمارے پاس یہ معلومات کچھ دن سے تھیں کہ ان کے بیرونی آقا ان پر زور ڈال رہے تھے کہ یہ جلد از جلد پاکستان میں گھسیں اور وہاں کوئی سرگرمی انجام دیں، ان ہی معلومات کی بنیاد پر سرحدوں پر نگرانی اور چیکنگ سخت کر دی گئی تھی اور اسی دوران ان کی نشاندہی ہو گئی۔‘

    وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ’اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ انڈیا جو بھی قدم اٹھا رہا ہے وہ کہیں نہ کہیں پکڑا جا رہا ہے یا انٹرسیپٹ ہو رہا ہے، ان شدت پسندوں پر بھی وہیں سے زور ڈالا جا رہا تھا کہ پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گردی کریں۔‘

  10. گوادر کے علاقے پسنی میں بم دھماکہ، دو افراد ہلاک ایک شخص زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    GWADAR

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بلوچستان کے ضلع گوادر کے علاقے پسنی میں اتوار کی شب بم دھماکے کے ایک واقعے میں دو افراد ہلاک اور ایک شخص زخمی ہو گیا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر پسنی مہیم خان بلوچ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بم حملے کا نشانہ بننے والے افراد ایک گاڑی میں سوار تھے۔

    پسنی میں پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تین افراد ایک گاڑی میں سفر کررہے تھے۔ ان افراد کو دیسی ساختہ بم کے زریعے نشانہ بنایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب ان کی گاڑی مسکان چوک پر قبرستان کے قریب پہنچی تو اس کے قریب زور دار دھماکہ ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت محمد نواز اور سلمان جبکہ زخمی کی شناخت شاہ نظر کے نام سے ہوئی۔

    زخمی ہونے والے شخص کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں سے محمد نواز کا تعلق پنجاب کے علاقے خوشاب سے تھا جبکہ سلمان اور زخمی ہونے والے شاہ نظر پسنی کے رہائشی ہیں ۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ محمد نواز سرکاری اہلکار تھے۔

  11. ماہ رنگ بلوچ کی مبینہ حمایت، ایڈوکیٹ جلیلہ حیدر کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Jalila Haider/face book

    ،تصویر کا ذریعہJalila Haider/face book

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی مبینہ حمایت کرنے پر سائبر کرائم اسلام آباد نے انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایڈوکیٹ جلیلہ حیدر کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

    یاد رہے کہ ماہ رنگ بلوچ کا نام محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے فورتھ شیڈول پرموجود ہے۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’انکوائری کے دوران سامنے آیا ہے کہ جلیلہ حیدرایڈووکیٹ نے جان بوجھ کر ماہ رنگ بلوچ کی حمایت میں مواد شیئر کیا۔ جلیلہ حیدر کا اقدام عوامی و معاشرتی سطح پر بے چینی و بدامنی پھیلانے کی کوشش ہے۔‘

    دوسری جانب جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے ایف آئی آر میں لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں حقوق انسانی کے لیے جدوجہد کرنے پر 2018 سے ہراساں کیا جارہا ہے۔

    گمراہ کن معلومات کو پھیلانے سمیت جلیلہ حیدر کے خلاف ایف آئی آر میں کیا ہے

    یہ ایف آئی آر اسلام آباد میں ان کے خلاف ایف آئی اے کے اہلکار انیس الرحمان کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔

    پیکا کی مختلف دفعات کے تحت درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جلیلہ حیدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی سرگرمیوں کو سراہا ہے اور ان کی حمایت کی ہے۔

    ایف آئی آر میں ڈاکٹر ماہ رنگ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے۔

    ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے ایک گمراہ کن معلومات کو پھیلا کر معاشرے میں بے چینی پھیلانے اور یہ ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔

    بی بی سی بات کرتے ہوئے جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد کالعدم تنظیموں کے خلاف رہی ہے لیکن اس مقدمے میں مجھ پر کالعدم تنظیموں کی حمایت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھاُ کہ انھوں نے بی وائی سی کی خواتین کی گرفتاری کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن ابھی تک بی وائی سی کو کالعدم نہیں قرار دیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ انھیں ہراساں کرنے کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی ان کو ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ ان الزامات کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گی۔

  12. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

    یہاں ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم اور تازہ ترین خبریں اور تجزیے پیش کرتے ہیں۔ تاہم اگر آپ گذشتہ روز کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کیجیے۔