رفال طیاروں کی صلاحیت پاکستانی فضائیہ کے سامنے صفر ثابت ہوئی: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو

رسالپور میں پی اے ایف کی اصغر خان اکیڈمی میں گریجویشن پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ ’انڈیا کی ہر حرکت کو پاکستانی فضائیہ نے لمحوں میں مانیٹر کیا، ہمارے ایکشن اور آپریشن لمحوں میں کارگر ثابت ہوتے ہیں، آج کی جدید دنیا میں پاک فضائیہ پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے لیس ہے۔‘

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں پولیس پر حملوں میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں جبکہ کرم میں پولیس مقابلے میں پانچ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • فوجیوں کو ایل او سی پر چوکس رہنے کی ہدایت: برفباری سے راستے بند ہونے سے قبل پاکستان سے دراندازی کی مزید کوششیں کی جا سکتی ہیں، بی ایس ایف کا دعویٰ
  • ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں فرنٹیئرکور کے کیمپ پر حملہ، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی
  • پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش بالآخر تقریباً 15 گھنٹے بعد تلاش کر لی گئی ہے۔
  • راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے علیمہ خان کے نام پر رجسٹرڈ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں پولیس پر حملوں میں تین اہلکار ہلاک، جوابی کارروائی میں پانچ عسکریت پسند مارے گئے, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں پولیس پر حملوں میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں جبکہ کرم میں پولیس مقابلے میں پانچ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاعات ہیں لیکن اب تک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    بنوں میں آج صبح ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ تھانہ کینٹ کی حدود میں مسلح افراد نے کانسٹیبل محمد طارق کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کیا جب وہ ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے۔

    اس واقعے کے بعد علاقے میں لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے اور بنوں میرنشاہ روڈ بلاک کر دیا ہے۔

    چند روز قبل ممش خیل قوم نے شدت پسندی کے واقعات اور ان کے خلاف کارروائیوں میں کسی فریق کی بھی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    بنوں میں چند روز پہلے ایک پولیس تھانے پر حملے کے بعد جب مسلح افراد واپس جا رہے تھے تو ہاتھی خیل قبیلے کے لوگوں نے انھیں گھیرے میں لے لیا تھا جہاں بعد میں پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی تھی۔

    ریجنل پولیس افسر سجاد خان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا اس علاقے میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں تین مسلح افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ کئی کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھیں موصول ہوئی ہیں۔

    گذشتہ روز ضلع کرم میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس کے دو اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

    ضلع کرم کے پولیس افسر ملک حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ سینٹرل کرم میں چنارک پولیس چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں پولیس اہلکار واحد خان اور فضل الرحمان جان ہلاک ہو گئے تھے۔

    ڈی پی او کرم نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کے چیک پوسٹ پر حملے کے بعد اہلکاروں نے بھر پور جوابی کارروائی کی ہے جس میں چار شدت پسند ہلاک مارے گئے ہیں جبکہ چھ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

    سینٹرل کرم کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چند روز سے عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

    دوسری جانب گذشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی کے قریب سکیورٹی فورسزکے قافلے پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس میں ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ پولیس ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے لیکن اب تک اس بارے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں گذشتہ چند ماہ کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ دوسری جانب سکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئی ہیں جس میں مسلح افراد کے جانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابقم رواں سال خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے خلاف 12 ہزار سے زیادہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے گئے ہیں جبکہ ملک بھر میں کیے گئے آہریشنز کی تعداد 67 ہزار سے زائد ہے۔

    خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کی جانب سے گذشتہ چند روز میں کیے جانے والے بڑے حملوں میں پشاور میں فیڈرل کانسٹبلری کے ہیڈ کواٹر پر حملہ، بنوں میں امن کمیٹی پر حملہ، 10 نومبر کو جنوبی وزیرستان میں کیڈٹ کالج پر حملہ، 24 اکتوبر کو کرم میں آئی ای ڈی دھماکہ، 10 اکتوبر کو سڑک کنارے دھماکہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔

  2. فوجیوں کو ایل او سی پر چوکس رہنے کی ہدایت: برفباری سے راستے بند ہونے سے قبل پاکستان سے دراندازی کی مزید کوششیں کی جا سکتی ہیں، بی ایس ایف کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    بی ایس ایف

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images)

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس یا بی ایس ایف کے انسپکٹر جنرل اشوک یادو نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں میں عسکریت پسندوں کے کئی لانچ پیڈز کو تباہ کیا گیا تھا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس آپریشن کے بعد پاکستان نے عسکریت پسندوں کے 72 ’لانچ پیڈز‘ کو ’دور دراز اور اپنے علاقے کے کافی اندر منتقل کر دیا ہے۔‘

    بی ایس ایف کے یوم تاسیس کے حوالے سے ہونے والی ایک تقریب میں بات کرتے ہوئے یادو نے دعویٰ کیا کہ ’ابھی بھی ایل او سی کے اُس پار دہشت گردوں کے کچھ لانچ پیڈز سرگرم ہیں اور پاکستان ایل او سی پر پہاڑی درّوں اور موسم کا فائدہ اُٹھا کر اسلحہ اور منشیات ہمارے علاقے میں بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے مگر فورسز پوری قوّت کے ساتھ ان کوششوں کو ناکام بنا رہی ہیں۔‘

    بی ایس ایف کے آئی جی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے طفروال اور سیالکوٹ میں 12 ’لانچ پیڈز‘ سرگرم ہیں اور دیگر 12 ’لانچ پیڈز‘ کو ایل او سی سے دُور علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ برفباری کی وجہ سے پہاڑی درّوں کے بند ہو جانے سے قبل ایسی مزید کوششیں کی جائیں گی، اسی لیے ایل او سی پر 24 گھنٹے چوکسی کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    بی ایس ایف حکام کا کہنا ہے کہ اس سال مئی سے اب تک متعدد بار ایل او سی پر دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے جس کے دوران کئی عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

  3. راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کا شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم

    شوکت خانم

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے علیمہ خان کے نام پر رجسٹرڈ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    پیر کے روز انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اکاؤنٹس فریز کیے جانے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

    یاد رہے کہ 26 نومبر کے مقدمے میں عدم پیشی پر عدالت نے علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کے نام پر رجسٹرڈ اکاؤنٹس فریز کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

    سماعت کے دوران شوکت خانم ہسپتال کے وکلا اور پراسیکیوشن کی ٹیم عدالت میں پیش ہوئی۔

    پراسیکیوٹر ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کی جانب سے شوکت خانم ہسپتال یا نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس فریز کرنے کے متعلق کوئی درخواست نہیں دی گئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کا شناختی کارڈ نمبر گورنر سٹیٹ بینک کو بھیجا گیا تھا اور کمرشل بینکوں نے اس شناختی کارڈ نمبر کی بنیاد پر اپنا ڈیٹا سرچ کیا جس میں یہ اکاؤنٹ سامنے آئے اور یہ اکاؤنٹ بھی فریز ہو گئے۔

    پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت بتایا ہے کہ انھیں یہ اکاؤنٹس بحال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تاہم علیمہ خان کے بزنس اکاؤنٹس نہ بحال کیے جائیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    شوکت خانم ہسپتال کے اکاؤنٹ فریز کیے جانے کے خلاف دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ علیمہ خان کے اکاؤنٹ سیز کرنے کے عدالتی احکامات کی غلط تشریح کی گئی اور اس کی بنا پر شوکت خانم ہسپتال کے اکاؤنٹ بھی فریز کر دیے گئے۔

    درخواست میں کہا گیا تھا شوکت خانم ہسپتال کے اکاؤنٹ فریز ہونے کے باعث کینسر کے مریضوں کی ادویات پورٹ پر پھنس گئی ہیں اور ادویات نہ ملنے پر مریضوں کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔

  4. پناہ گزینوں کی درخواستوں پر پابندی ’طویل عرصے‘ تک برقرار رہ سکتی ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ویزا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ پناہ گزینوں کی درخواستوں پر ’طویل عرصے‘ تک پابندی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک افغان شہری کی جانب سے مبینہ طور پر وائٹ ہاؤس کے نزدیک نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس واقعے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اتوار کے روز جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ یہ پابندی کب تک عائد رہے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس میں ’کوئی وقت کی حد‘ نہیں۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت نے دنیا بھر میں اپنے تمام سفارت کاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ افغان شہریوں کو ویزے جاری کرنا بند کر دیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں افغان شہریوں کے لیے جاری خصوصی امیگریشن ویزا (ایس آئی وی) پروگرام معطل ہو گیا ہے۔ یہ پروگرام ان افغان باشدوں کے لیے تھا جنھوں نے 20 سال تک امریکہ کی مدد کی تھی۔

    روئٹرز نے امریکی محکمہ خارجہ کے اندرونی میمو کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے جمعے کے روز تمام امریکی سفارتی مشنوں کو بھیجے گئے پیغام میں قونصلر افسران کو افغان شہریوں کی جانب سے کسی بھی تارکین وطن یا نان امیگرنٹ ویزا کی درخواستوں کو مسترد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

  5. خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی: گورنر فیصل کریم کنڈی

    گورنر فیصل کریم کنڈی

    ،تصویر کا ذریعہx/fkkundi

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

    اتوار کے روز نجی ٹی وی چینل سما ٹی وی سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے لیے آئین کی شق موجود ہے لیکن آج اس پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے ساتھ اور نہ ہی پارٹی چیئرمین کے ساتھ گورنر راج پر بات ہوئی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے گورنر کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے پر ان کی جماعت سے بھی کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے، تو ایسا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

    جب ان سے صوبے میں گورنر کی تبدیلی کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں کچھ عرصہ قبل بھی میڈیا پر ایسی قیاس آرائیاں چلیں تھی لیکن ’ایسی کوئی مشاورت یا بات نہیں ہوئی ہے۔‘

    ایک اور موقع پر جب ان سے ایک صحافی کی جانب سے پوچھا گیا کہ میڈیا پر خبریں ہیں کہ گورنر تبدیل کیا جا رہا ہے تو ان کا کہنا تھا، ’میڈیا اگر گورنر لگائیں گے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔‘

    اس سوال پر کہ اگر انھیں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا تو فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا ’پارٹی کا جو بھی فیصلہ ہو گا، مجھے تسلیم ہے۔‘

    بعد ازاں انھوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے این ایف سی اجلاس میں شرکت کے فیصلے کو مثبت اقدام قرار دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام توقع کرتے ہیں کہ ان کے وزیر اعلیٰ اپنی توانائیاں گورننس، عوامی خدمات کی فراہمی اور ان کے اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے وقف کریں گے۔

    گورنر کا کہنا تھا ’ہمارا آئینی ڈھانچہ صوبائی سطح پر موثر طرز حکمرانی میں طویل خلا کی اجازت نہیں دیتا۔‘

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ ’وفاقی فورم پر اپنی مصروفیات کے ساتھ ساتھ، وزیر اعلیٰ اب صوبے کے روزمرہ کے امور اور فلاح و بہبود پر زیادہ مضبوط اور مستقل توجہ کا مظاہرہ کریں گے۔‘

    خیبر پختونخوا اسمبلی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگانے کا عندیہ

    خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے متعلق اس وقت اضافہ ہوا جب وفاقی وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ’ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے یہ گورنر راج ہو گا جس میں بعد میں پھر توسیع ہو سکتی ہے۔‘

    بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی، سیفٹی، سکیورٹی اور گورننس کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ’حالات گورنر راج کی طرف جا رہے ہیں۔‘

    جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ یہ اب صدر مملکت کا اختیار ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت یہ اقدام اٹھاتے ہیں یا نہیں۔

    وزیر مملکت نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم اس حوالے سے سفارش بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ اختیار تو گورنر کے ہوتے ہیں کہ وہ ایسی سفارش کریں تو وزیرِ مملکت نے اس پر اپنی درستگی کر لی۔

    وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا میں ایسا انتظامی ڈھانچہ ہونا چاہیے جو کچھ فائدہ تو دے۔ انھوں نے کہا کہ ’کب تک صوبے کے شہریوں کو بے یار ومددگار چھوڑیں گے۔‘

    بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ ’گورنر راج شدید ضرورت کی صورت میں لگایا جاتا ہے، صوبے کے حالات اس کا تقاضا کررہے ہیں۔‘

    وزیر مملکت نے کہا کہ ماضی میں پنجاب میں بھی گورنر راج لگانے کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آج کی حکمران جماعت نے اس وقت اس اقدام کو غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام قرا دیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کا حوالہ تاریخی حقیقت کے طور پر دے رہے ہیں کہ ایسا ہوا تھا۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے صوبے میں گورنر راج کے حوالے سے خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’گورنرراج لگانا چاہتے ہیں تو آج ہی لگا دیں۔‘

    جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ ’گورنر راج جیسے ایڈونچر کی کوشش پر ردعمل انھیں پتا چل جائے گا۔‘

    انھوں نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ثابت کریں کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کا دہشتگردوں سےکوئی گٹھ جوڑ ہے۔

    گورنر راج کیوں لگتا ہے اور اسے لگانے کا اختیار کس کا ہے؟

    یاد رہے کہ کسی بھی صوبے میں وزیراعلیٰ اور صوبائی اسمبلی کے اراکین عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہوتے ہیں جو اس صوبے کے حکومتی اور انتظامی امور چلاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گورنر صوبوں میں وفاق کے نمائندے کے طور پر موجود ہوتا ہے۔

    عام حالات میں گورنر کا عہدہ محض علامتی ہوتا ہے جبکہ صوبے میں حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کروانا منتخب صوبائی حکومت کے ذمے ہوتی ہے۔

    مگر جب گورنر راج لگتا ہے تو ایک محدود مدت کے لیے تمام تر اختیارات گورنر کے پاس آ جاتے ہیں اور وزیراعلیٰ اور ان کی اسمبلی بے اختیار ہو جاتی ہے۔

    آئین پاکستان کے دسویں باب میں دو شقیں ایسی ہیں جن کی بنیاد پر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگایا جا سکتا ہے۔ ان میں آرٹیکل 232 اور 234 شامل ہیں۔

    اگر صدرِ پاکستان سمجھتے ہیں کہ پاکستان یا اس کے کسی حصے کو جنگ یا بیرونی خطرات لاحق ہیں، یا ایسی اندرونی شورش ہے جو صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں، تو وہ ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں۔

    تاہم اندرونی خلفشار کے باعث لگنے والی ایمرجنسی کی صورت میں اس فیصلے کے نفاذ سے پہلے اس کی متعلقہ صوبائی اسمبلی سے توثیق لازم ہے۔

    اسی شق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر صدر اپنے طور پر ہی گورنر راج لگانے کا فیصلہ کر لیں تو اس صورت میں انھیں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے دس روز کے اندر اپنے فیصلے کی توثیق کروانا ہو گی۔

    ایسی ایمرجنسی کی صورت میں اس صوبے کے انتظامی امور اور قانون سازی کا اختیار وفاق میں پارلیمان کے پاس منتقل ہو جائے گا۔

    گورنر راج کی مدت اور توثیق کا عمل

    وفاقی حکومت خود یا صوبائی گورنر کو اختیار دے سکتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے نمائندے کے طور پر وہاں تمام امور سرانجام دیں۔ تاہم صوبے کی ہائی کورٹ کے اختیارات وفاقی حکومت یا گورنر کو منتقل نہیں ہوتے۔

    اب آرٹیکل 234 کے تحت اگر صدر کو صوبائی گورنر یہ رپورٹ پیش کر دے کہ صوبے میں ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ جس میں صوبائی حکومت آئین کے وضع کردہ طریقہ کار کے تحت کام نہیں کر سکتی، تو وہ یہاں گورنر راج نافذ کرتے ہوئے تمام اختیارات اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا صوبے میں اپنے نمائندے گورنر کے حوالے کر سکتے ہیں۔

    آئین کے مطابق اس صورت میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے اختیارات نہیں لیے جا سکتے۔

    گورنر راج کی مدت صرف دو ماہ ہو سکتی ہے اور اس کی توثیق بھی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے کروانا ہوتی ہے۔

    جبکہ گورنر راج میں مشترکہ اجلاس کے ذریعے ایک وقت میں صرف دو ماہ کی توسیع ہی کی جا سکتی ہے۔ جبکہ اس کی کل میعاد چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

    اگر اس دوران قومی اسمبلی تحلیل ہو بھی جائے تو صوبے میں گورنر راج تین ماہ تک نافذ رہے گا جب تک کہ قومی اسمبلی کے انتخابات نہ ہو جائیں یا سینیٹ اس ضمن میں کوئی فیصلہ کر لے۔

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    کیا گورنر راج کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے؟

    یہ آئین کا دسواں باب ہے اور اسی کی شق نمبر 236 کے تحت اس باب میں موجود کسی بھی آرٹیکل کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

    تاہم قانونی ماہر احمد بلال محبوب نے ماضی میں بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ اب تک لگنے والی تقریباً تمام ہی ایمرجنسیز اور گورنر راج کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے۔

    اس بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ اس باب کے تحت تو ایسے کسی حکم نامے پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا تاہم کوئی بھی شخص عدالت میں رٹ دائر کر سکتا ہے کہ آئین میں موجود دیگر شقوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا اس کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں۔‘

  6. یوکرین کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز رہی لیکن مزید کام کرنے کی ضرورت ہے: مارکو روبیو

    رستم عمروف اور مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ یوکرینی حکام کے ساتھ روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر بات چیت نتیجہ خیز رہی، لیکن اس پر ابھی مزید کام کرنا باقی ہے۔

    اتوار کے روز فلوریڈا میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرین کے وفد کی قیادت قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری رستم عمروف کر رہے تھے جو یوکرین کے نئے چیف مذاکرات کار ہیں۔

    ملاقات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔

    وٹکوف اگلے ہفتے روسی حکام سے مذاکرات کے لیے ماسکو کا دورہ کریں گے۔

    یوکرین کے صدر کے اعلیٰ مذاکرات کار آندری یرماک حال ہی میں اپنے گھر پر انسداد بدعنوانی کے چھاپے کے بعد مستعفی ہو گئے تھے جس کے بعد ان کی جگہ عمروف کو لایا گیا ہے۔

    امریکی اور یوکرینی حکام کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات دو ہفتوں سے جاری سفارتی سرگرمیوں میں تازہ ترین قدم ہے۔

    یہ کوششیں 28 نکاتی امریکی امن منصوبے کے افشا ہونے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں نے اس مجوزہ منصوبے میں روس کی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    مذاکرات کے دوران مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت صرف لڑائی ختم کرنے کی شرائط کے بارے میں نہیں ہے۔

    ’یہ ان شرائط کے بارے میں بھی ہے جو یوکرین کی طویل مدتی خوشحالی کی بنیاد بنیں گی... میرے خیال میں ہم نے آج اس پر کام کیا ہے، لیکن ابھی مزید کام کرنا باقی ہے۔‘

    انھوں نے یوکرینی وفد سے یہ بھی کہا کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات کا مقصد یوکرین کو ’خودمختار، آزاد اور خوشحال‘ بنانا ہے۔

    یوکرینی وفد کے سربراہ عمروف نے بھی اتوار کے روز ہونے والی بات چیت کو ’نتیجہ خیز اور کامیاب‘ قرار دیا ہے۔

  7. حکومت کا اگلے 15 روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے گذشتہ رات ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ سطح میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا اے پی پی کے مطابق، اتوار کے روز پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق، پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں دو روپے کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔

    ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت چار روپے 79 پیسے کی کمی کے بعد 279 روپے 65 پیسے ہو گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا ہے اور یہ قیمتیں آئندہ 15 روز تک نافذ العمل رہیں گی۔

  8. ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں فرنٹیئرکور کے کیمپ پر حملہ، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی

    فرنٹیئرکور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں فرنٹیئرکور کے مرکزی کیمپ پر حملہ کیا گیا ہے۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ایف سی کے کیمپ پر حملہ کرنے والوں کی تعداد چارتھی جن میں سے ایک نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر اپنے آپ کو اڑا دیا جبکہ باقی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے گئے۔ تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان تفصیلات کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    چاغی پولیس کے ایس ایس پی محمد شریف نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ اتوار کی شب ساڑھے 8 بجے کے قریب ایف سی کے کیمپ پر ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ نوکنڈی میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ ساڑھے 8 بجے کے قریب کیا گیا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ اندازاً ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک جاری رہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے کیمپ کے مرکزی گیٹ کی جانب ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔

    انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد وقفے وقفے سے سات آٹھ کے قریب چھوٹے دھماکوں کی بھی آوازیں سنائیں دیں جبکہ فائرنگ کا سلسلہ ساڑھے دس بجے کے قریب بند ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے تاحال نقصانات کی تفصیل سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد زیادہ تھی جو کہ سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارے گئے ہیں۔

    اپنے یک بیان میں کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    بلوچستان میں موجودہ شورش کے بعد نہ صرف نوکنڈی بلکہ ضلع چاغی میں سکیورٹی فورسز کے کسی کیمپ پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔

    ڈسٹرکٹ کونسل چاغی کے وائس چیئرمین اسفندیار خان محمدزئی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے حملے کو ناکام بنادیا۔

    نوکنڈی کہاں واقع ہے؟

    نوکنڈی بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کی تحصیل ہے ۔ نوکنڈی ٹائون اسی تحصیل کا ہیڈ کوارٹرہے۔ نوکنڈی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مغرب میں اندازاً پانچ سو کلومیٹر جبکہ خود ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین سے 130 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    نوکنڈی میں حملے کا نشانہ بننے والا ایف سی کا کیمپ کوئٹہ تفتان شاہراہ پر واقع ہے۔

    ضلع چاغی بلوچستان کا واحد ضلع ہے جس کی سرحدیں دو ممالک افغانستان اور ایران سے لگتی ہیں۔

    اس کے شمال میں افغانستان جبکہ مغرب میں ایران واقع ہے۔ چاغی میں مختلف نوعیت کے معدنیات پائے جاتے ہیں۔ تانبے اور سونے کے دو بڑے معدنی منصوبے ریکوڈک پراجیکٹ اور سائیندک پراجیکٹ اسی ضلع میں واقع ہیں۔

    ریکوڈک پراجیکٹ نوکنڈی کے قریب واقع ہے۔ نوکنڈی سمیت ضلع چاغی کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔

  9. این ایف سی پر اجلاس چار دسمبر کو، خیبر پختونخوا کا بھی شرکت کا اعلان

    سہین آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف نے چار دسمبر کو نیشنل فنانسکمیشن (این ایف سی) کے اجلاس میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ پشاور میں اراکین اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ’ہم اس اجلاس میں اپنے صوبے اور اپنے صوبے کے عوام کا مقدمہ بہترین انداز میں لڑیں گے۔‘

    سہیل آفریدی نے سپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی سے کہا کہ وہ تمام جماعتوں کے پارلیمانی قائدین سے رابطہ کر کے انھیں بھی اعتماد میں لیں کیونکہ یہ صرف کسی ایک شخصیت یا جماعت کے وسائل کی بات نہیں ہے بلکہ یہ پورے صوبے کا حق ہے۔

    ان کے مطابق اسمبلی کے اجلاس میں اس پر بحث کرائی جائے گی اور پھر متفقہ لائحہ عمل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

    سہیل آفریدی کے مطابق سنہ 2018 میں قبائلی علاقوں کو انتظامی طور پر تو خیبر پختونخوا میں شامل کیا گیا ہے مگر مالیاتی اعتبار سے انھیں ابھی تک صوبے میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ کے مطابق 2018 سے 2025 تک سات برس میں وفاقی حکومت نے این ایف سی سے ہمارے صوبے کا 1350 ارب روپے کا حصہ نہیں دیا جو کہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس وقت قبائلی علاقوں کا این ایف سی کا حصہ ساڑھے تین صوبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور اس میں خیبر پختونخوا کو آدھا صوبہ شمار کیا جا رہا ہے۔‘

    سہیل آفریدی کے مطابق یہ امتیازی سلوک صرف این ایف سی میں ہو رہا ہے جبکہ این ایچ پی یا حکومت نے ضم کرتے وقت جو قبائلی اضلاع سے وسائل کی تقسیم سے متعلق قائم فنڈ سے تین فیصد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر پھر یہ بھی نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ رقم این ایف سی سے علیحدہ ہے جو صوبے کو ملنی تھی۔

    وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پیر سے صوبے کی تمام یونیورسٹیوں میں این ایف سی سے متعلق سیمینارز منعقد کیے جائیں گے تا کہ ہم تمام طلبا اور طالبات کو اس متعلق تعلیم دے سکیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے لیے سیشنز ہوں گے تاکہ انھیں بھی علم ہو کہ ان کے صوبے کے ساتھ کیا امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’صرف صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر کا حق بنتا ہے این ایف سی پر بات کریں۔‘

    این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کو چھیڑنا ’آگ سے کھیلنے‘ کے مترادف ہوگا: سندھ

    بلاول

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کو کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دی گئی آئینی ضمانتوں کو چھیڑنا ’آگ سے کھیلنے‘ کے مترادف ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے 58ویں یوم تاسیس کے موقع پر اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر بات کی۔

    انھوں نے کہا کہ حکران جماعت مسلم لیگ ن نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے صوبوں کے مالی حقوق میں تبدیلیاں تجویز کی تھیں مگر پیپلز پارٹی نے ان کی مخالفت کی، جس کے باعث وہ تجاویز حالیہ 27ویں آئینی ترمیم کے حتمی مسودے کا حصہ نہ بن سکیں۔

    بلاول بھٹو کے مطابق ملک میں پہلے ہی بہت سی ’فالٹ لائنز‘ موجود ہیں اور پیپلز پارٹی نے ماضی میں صوبوں کے حقوق، نمائندگی اور جمہوری نظام کی مضبوطی کے ذریعے ان کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

    انھوں نے کہا: ’جو لوگ 18ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ یا ایسے کسی معاملے کے ساتھ کھیلنے کا سوچ رہے ہیں، وہ دراصل آگ سے کھیل رہے ہیں۔‘

    انھوں نے اپنی جماعت کی کوششوں کو سراہا کہ اس نے صوبوں کے مالیاتی حق کو آئینی تحفظ دلوانے میں مؤثر کردار ادا کیا۔

    انھوں نے کہا کہ لگایا کہ مسلم لیگ ن انتظامی نظام کی بحالی کے ساتھ ساتھ تعلیم اور آبادی کنٹرول جیسے شعبے، جو 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل ہو چکے تھے، دوبارہ مرکز کے ماتحت لانا چاہتی تھی۔

    بلاول نے کہا کہ ’میں نے ہمیشہ آپ کے حقوق کا دفاع کیا ہے اور ان شا اللہ کرتا رہوں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرے گی جو وفاق کو مضبوط بنائیں، لیکن ایسے کسی فیصلے کا حصہ نہیں بن سکتی جس سے صوبوں کے حقوق کمزور ہوں۔

  10. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ’وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔
    • پاکستان نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کے متعلق دیے گئے ایک بیان پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’بے بنیاد اور غلط اندیشوں‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔
    • اسلام آباد میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ اتوار کو مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ ’ہم دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑے ہیں‘۔
    • پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے نوٹیفیکیشن سے متعلق قیاس آرائیاں غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ ہیں، نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے متعلق ’عمل شروع ہو چکا ہے۔
    • حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔
  11. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔