آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سوئٹزرلینڈ کے سکی ریزورٹ میں شراب خانے میں آتشزدگی سے درجنوں ہلاکتوں کا خدشہ، 100 سے زائد زخمی

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے، جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ جو افراد زخمی ہوئے ہیں اُن میں سے متعدد بری طرح سے جھلس گئے ہیں۔ ریسکیو کارروائیوں میں 10 ہیلی کاپٹرز، 40 ایمبولینسز اور 150 ریسکیو ورکرز نے حصہ لیا۔

خلاصہ

  • سعودی سربراہی میں قائم اتحاد نے یمن میں ایک فضائی حملے میں ایسے ہتھیاروں اور کامبیٹ گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے جو کہ متحدہ عرب امارات سے آنے والے جہازوں سے اتاری جا رہی تھیں۔
  • آسٹریلوی پولیس کا کہنا ہے کہ بونڈائی ساحل پر حملے میں ملوث دونوں مسلح افراد شدت پسندوں کے کسی وسیع سیل کا حصہ نہیں تھے اور انھوں نے انفرادی طور پر یہ حملہ کیا تھا۔
  • پاکستان نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔
  • ڈھاکہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے پیر کو بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کے دوران یہ امید ظاہر کی ہے کہ ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان براہِ راست پروازیں جنوری میں شروع ہو جائیں گی۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ کی یوکرین کو 15 سالہ سکیورٹی گارنٹی کی پیشکش، ’امن معاہدے کے قریب ہیں‘

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکہ نے ان کے ملک کو 15 سال کے لیے سکیورٹی گارنٹی دینے کی پیشکش کی ہے۔ یہ بات انھوں نے اتوار کو فلوریڈا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ امن منصوبے پر مذاکرات کے بعد بتائی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر معاہدہ ’95 فیصد تک مکمل‘ ہے، تاہم زیلنسکی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ گارنٹی 50 سال تک ہو۔

    زیلنسکی کے مطابق اب بھی دو بڑے مسائل حل طلب ہیں: روس کے قبضے میں موجود زاپوریزژیا جوہری پلانٹ اور متنازع علاقوں کا معاملہ۔

    روس نے اس منصوبے کے کئی اہم حصوں کو پہلے ہی مسترد کر دیا تھا، لیکن کریملن کے ترجمان نے پیر کو ٹرمپ کے اس بیان سے اتفاق کیا کہ امن ڈیل اب قریب ہے۔ یہ بات روسی خبر رساں ایجنسی تاس نے رپورٹ کی ہے۔

    مار-اے-لاگو ریزورٹ میں ملاقات کے بعد زیلنسکی نے صحافیوں کو بتایا کہ مجموعی امن معاہدہ ’90 فیصد تک مکمل‘ ہے، وہی اندازہ جو انھوں نے دورے سے پہلے بھی دیا تھا۔

    امریکی اور یوکرینی صدور نے اس اہم نکتے پر پیش رفت کی نشاندہی کی کہ یوکرین کو سکیورٹی گارنٹی دی جائے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زیلنسکی چاہتے ہیں کہ یہ گارنٹی امن معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی نافذ ہو۔

    انھوں نے کہا کہ ’بغیر سکیورٹی گارنٹی کے یہ جنگ ختم نہیں سمجھی جا سکتی۔ ہم اسے ختم شدہ نہیں مان سکتے کیونکہ ایسے پڑوسی کے ساتھ دوبارہ جارحیت کا خطرہ موجود رہے گا۔‘

    زیلنسکی نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ ’30، 40 یا 50 سال‘ تک کے امکان پر غور کرے۔

    امریکہ نے ابھی تک اس مدت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    اتوار کو ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ قریب ہے اور انھیں توقع ہے کہ امریکہ کی حمایت کے ساتھ یورپی اتحادی اس کوشش کا بڑا حصہ سنبھالیں گے۔

    ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ڈونباس پر معاہدہ ’ابھی حل طلب ہے، لیکن یہ بہت قریب ہے۔‘

    ڈونباس کا مستقبل مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے، کیونکہ روس مسلسل اس پر مکمل قبضے کے اپنے ہدف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

  2. بلوچستان میں چینی دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگی کیوں؟, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں کے مقابلے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں صارفین زیادہ مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔

    کراچی اور لاہور میں چینی اس وقت 150 سے 160 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں اس کی فی کلو قیمت 200 سے 210 روپے تک ہے۔

    مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نے بتایا کہ بلوچستان کے تاجروں کو پاکستانی چینی فراہم نہیں کی جا رہی، جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتوں کو پرائس کنٹرول کمیٹی کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    بلوچستان میں مہنگی چینی کی وجوہات

    بلوچستان میں صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ چینی سمیت دیگر بنیادی اشیائے ضرورت کے لیے پنجاب اور سندھ پر انحصار کرتے ہیں۔

    کراچی یا پنجاب کے دیگر شہروں سے اشیاء کی ترسیل پر زیادہ اخراجات کی وجہ سے قیمتوں میں کچھ اضافہ ہوتا ہے، لیکن بلوچستان میں چینی کی قیمت سندھ اور پنجاب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

    رحیم کاکڑ کے مطابق اس کی بنیادی وجہ امپورٹڈ چینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی چینی سستی ہے لیکن حکومت بلوچستان کے تاجروں کو پاکستانی چینی فراہم نہیں کر رہی، بلکہ انھیں امپورٹڈ چینی خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مہنگی اور کم معیار کی چینی خریدنی پڑ رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ چونکہ دوسرے صوبے امپورٹڈ چینی نہیں لے رہے، اس لیے ساری امپورٹڈ چینی بلوچستان کو دی جا رہی ہے، حالانکہ بلوچستان پہلے ہی اپنا کوٹہ استعمال کر چکا ہے۔

    کوئٹہ میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے کمشنر کوئٹہ ڈویژن سے رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم حکومت بلوچستان کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسئلہ امپورٹڈ چینی ہی کا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل چینی کی قلت کے پیش نظر وفاقی حکومت نے چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر بلوچستان حکومت نے 72 ہزار میٹرک ٹن چینی کا مطالبہ کیا۔ جب یہ چینی متحدہ عرب امارات سے پہنچی تو پاکستان میں کرشنگ سیزن شروع ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے حکومت مشکل میں پڑ گئی کیونکہ امپورٹڈ چینی مہنگی تھی۔

    ان کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ امپورٹڈ چینی افغانستان بھیجی جائے، لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ افغان طالبان نے یہاں سے جانے والی اشیاء کو افغانستان میں داخل ہونے سے روک دیا، حتیٰ کہ ادویات تک کو جلا دیا گیا۔

    چونکہ امپورٹڈ چینی افغانستان نہیں جا سکی، اس لیے اسے بلوچستان میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی وجہ سے یہاں قیمتیں زیادہ ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ محکمہ انڈسٹریز کے ساتھ میٹنگ کر رہی ہے تاکہ پرائس کنٹرول کمیٹی کے ذریعے چینی کی قیمتوں کو قابو میں لایا جا سکے۔

  3. ایک لاکھ 44 ہزار تومان کا ایک امریکی ڈالر، کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف تہران میں مظاہرین پر پولیس کا تشدد

    ایران میں کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی تو لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ اب تہران میں صورتحال یہ ہے کہ اگر آپ ایک لاکھ 44 ہزار تومان دیں گے تو پھر ایک ڈالر کے حقدار ہوں گے۔

    تہران کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں پولیس کو مظاہرین پر آنسو گیس فائر کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    پل حافظ کے علاوہ باغ سپہ سالار کے اطراف میں بھی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ مظاہرین اس دوران نعرے لگا رہے تھے۔

    ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ علاقے کی سڑک بند ہے اور کچرے کے ڈبے آگ لگنے کے باعث جل رہے ہیں۔

    اس مقام پر پولیس کی انسدادِ شورش فورسز کی موجودگی نمایاں ہے۔ باغ سپہ سالار، شارعِ جمہوری اسلامی میں واقع ہے جو میدان بہارستان اور چہارراہ ظہیرالاسلام کے درمیان ہے۔

    تہران میں غیر ملکی کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بازار کی بے ثباتی کے خلاف مظاہروں کے دوسرے روز احتجاجی اجتماعات کی تعداد اور پھیلاؤ پہلے دن کے مقابلے میں زیادہ نظر آ رہا ہے۔

    گذشتہ روز کئی دکاندار اور تاجروں نے کرنسی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا اور بعض نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔

    آج جاری مظاہروں کی ویڈیوز میں مختلف نعرے بھی سننے کو ملے، جن میں ایران کے سابق حکمران رضا شاہ کے حق میں بھی نعرے لگائے گئے اور یہ نعرہ بھی لگا کہ ’یہ آخری جنگ ہے، پہلوی واپس آئے گا‘۔

    ایران کے نائب وزیر داخلہ برائے سکیورٹی، علی اکبر پور جمشیدیان نے خبردار کیا ہے کہ زرِ مبادلہ کی منڈی میں حالیہ مسائل اور اتار چڑھاؤ بڑی حد تک ’نفسیاتی فضا‘ سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دشمن اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عوام کو چاہیے کہ اس معاملے میں محتاط رہیں اور دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔‘ ان کے مطابق ’مارکیٹ کو سکون کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہیے اور عوام کو بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے۔‘

    علی اکبر پور جمشیدیان نے مزید کہا کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    زرِ مبادلہ کی شرح میں اضافے پر بڑھتے احتجاج کے بعد حکومت کی اقتصادی ٹیم نے ان معاشی پالیسیوں پر غور کے لیے اجلاس منعقد کیا ہے۔

    تہران کے کئی اہم مراکز، بشمول گرینڈ بازار، میں کاروباری حضرات اور دکانداروں نے غیر ملکی کرنسی کے نرخوں میں اچانک اضافے کے خلاف اتوار کے روز احتجاج کیا تھا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق تاجروں نے شکایت کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ’شدید زرِ مبادلہ کے اُتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں عدم استحکام‘ نے کاروبار کو مشکل بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار بڑھتے ہوئے ریٹ کے باعث اشیا کی قیمتوں کا تعین یا لین دین کی تکمیل ممکن نہیں رہی، جس سے خریدار اور فروخت کنندگان کے درمیان اعتماد متاثر ہوا ہے۔

    یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب صدر مسعود پزشکیان نے پارلیمان میں آئندہ مالی سال، مارچ 2026 سے شروع ہونے والے بجٹ کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کا مقصد اخراجات کم کرنا اور عوامی فلاح کو بہتر بنانا ہے۔

    سرکاری نشریاتی اداروں نے آج صبح کابینہ اجلاس میں صدر کے بیان کو نمایاں طور پر شائع کیا، جس میں انھوں نے کہا کہ ملک کے زرِ مبادلہ کی آمدنی سب سے پہلے عوام کی زندگی اور روزگار بہتر بنانے پر خرچ ہونی چاہیے، اس کے بعد کسی اور شعبے کو دی جا سکتی ہے۔

    ایرانی اخبارات نے کرنسی بحران کو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سوال اٹھایا کہ ’ڈالر کہاں جا کر رکے گا؟‘

    تہران سٹاک مارکیٹ میں 37 ہزار پوائنٹس کی کمی

    تہران سٹاک ایکسچینج کا مجموعی انڈیکس پیر (29 دسمبر) کو 37 ہزار پوائنٹس گر گیا اور چار ملین 123 ہزار پر بند ہوا۔

    اعداد و شمار کے مطابق آج حقیقی سرمایہ کاروں کی جانب سے 887.7 ارب تومان مارکیٹ سے نکالے گئے۔

    سب سے زیادہ سرمایہ بینکوں سے نکالا گیا، جس کی مالیت 259.3 ارب تومان رہی۔ گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے بھی ان نمونوں میں شامل تھے جن سے حقیقی سرمایہ کاروں نے سرمایہ نکالا۔

    ایران کی معیشت کے منفی امکانات اور حالیہ ہفتوں میں ڈالر کی بے مثال قیمت میں اضافے کے باعث بہت سے سرمایہ کاروں نے اپنی رقوم سونے اور زرِ مبادلہ جیسے متوازی بازاروں میں منتقل کر دی ہیں۔

  4. آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کی سزا کے خلاف اپیل، فیصلہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کریں گے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید نے اختیارات سے تجاوز اور ٹاپ سٹی کیس میں سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

    ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اپیل ایجوٹینٹ جنرل کے دفتر میں جمع کرائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس اپیل پر فیصلہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ فیصلے کے چالیس دن کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق ہوتا ہے۔

    وکیل کے مطابق اگر اپیل مسترد ہو جاتی ہے تو دو قانونی فورم باقی رہتے ہیں، جن میں پہلا ہائی کورٹ اور دوسرا سپریم کورٹ آف پاکستان ہے۔

    فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے 14 سال قید بامشقت کی سزا ملنے کو بعض ماہرین پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کے بڑے واقعات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو یہ سزا 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع ہونے والے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی 15 ماہ کی کارروائی کے بعد سنائی گئی۔

    فوج کی جانب سے جاری بیان میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر عائد کیے گئے الزامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں تاہم ماہرین سنہ 2018 کے عام انتخابات، ملک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور پھر نو مئی سنہ 2023 کے واقعات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

  5. باجوڑ میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں پاکستانی فوج کے ایک میجر مارے گئے، پانچ شدت پسند ہلاک

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 29 دسمبر کو سکیورٹی فورسز نے باجوڑ کے علاقے خار میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی جس کے نتیجے میں پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے جو مبینہ طور پر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

    بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے مبینہ شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 36 برس کے میجر عدیل زمان، جو ڈیرہ اسماعیل خان کے رہائشی تھے اور اپنی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے، ہلاک ہو گئے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ مزید مشتبہ افراد کو پکڑا جا سکے۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

  6. ایچ آر سی پی کا پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے غیر قانونی گرفتاریوں، حراست اور جبری گمشدگیوں کے تسلسل سے پیش آنے والے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمشین کے مطابق اس سلسلے کو ’پاکستان کو فوری طور پر روک دینا چاہیے‘۔

    انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ پشاور یونیورسٹی کے طلبہ حبیب وزیر اور عدنان وزیر کی مبینہ گمشدگی، جو 12 نومبر 2025 کو حکومت کی جانب سے بلائے گئے گرینڈ جرگے میں شرکت کے بعد لاپتہ ہوئے، اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح قانونی تقاضوں کو معمول کے مطابق نظرانداز کیا جاتا ہے۔

    ایچ آر سی پی کے بیان کے مطابق اسی طرح سابق رکنِ قومی اسمبلی نثار پنہور اور ان کے بیٹے محسن پنہور کی مبینہ گمشدگی بھی نہایت تشویشناک ہے۔ اطلاعات کے مطابق انھیں 22 دسمبر 2025 کو کراچی میں سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد لے گئے، حالانکہ اس سے قبل نثار پنہور کی مختصر رہائی کے بعد یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

    ایچ آر سی پی کے مطابق یہ واقعات بلوچستان میں خواتین اور کم عمر افراد کی حراست کے ساتھ جڑے ہیں، جن میں معذور طالبہ اور کارکن ماہ جبین بلوچ سمیت کم از کم چھ دیگر افراد شامل ہیں، جو نومبر اور دسمبر 2025 میں گرفتار کیے گئے۔

    تنظیم نے کہا ہے کہ ’ایسے اقدامات آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہیں اور خاندانوں اور برادریوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں‘۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم دوبارہ زور دیتے ہیں کہ ریاست کو شفافیت یقینی بنانی چاہیے، ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف تک غیر مشروط رسائی فراہم کرنی چاہیے۔‘

  7. ’جسٹس مشن 2025‘: چین کی تائیوان کے گرد فوجی مشقیں شروع

    چین نے تائیوان کے گرد فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں جن میں جزیرے کے اہم علاقوں پر قبضے اور ناکہ بندی کی مشق شامل ہے۔ بیجنگ نے کہا ہے کہ یہ اقدام ’علیحدگی پسند قوتوں‘ کے خلاف انتباہ ہے۔

    چینی فوج کے مطابق ان مشقوں میں بری، بحری، فضائی اور راکٹ فورسز حصہ لے رہی ہیں اور ان میں براہِ راست فائرنگ کی مشقیں بھی شامل ہیں۔ ان مشقوں کو ’جسٹس مشن 2025‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    یہ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکہ نے تائیوان کو 11 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کے ایک بڑے پیکج کی فروخت کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام پر بیجنگ نے سخت احتجاج کیا اور امریکی دفاعی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔

    تائیوان کی جانب سے رواں برس دفاعی صلاحیت بڑھانے کی کوششوں نے بھی بیجنگ کو ناراض کیا ہے، جو اس خودمختار جزیرے کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔

    تائیوان کے صدارتی دفتر نے چینی مشقوں کو بین الاقوامی اصولوں کے لیے چیلنج قرار دیا ہے۔ وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ پیر کی صبح انھوں نے تائیوان کے گرد چینی طیارے اور بحری جہاز دیکھے ہیں اور اس کے جواب میں اپنی فورسز اور میزائل نظام تعینات کر دیے ہیں۔ وزارت کے مطابق فورسز ’ہائی الرٹ‘ پر ہیں تاکہ تائیوان کا دفاع اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    چینی فوج کے مشرقی تھیٹر کمانڈ نے ویبو پر ان مشقوں کو ’انصاف کی ڈھال‘ قرار دیا۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’جو بھی آزادی کی سازش کرے گا، ڈھال سے ٹکرا کر نیست و نابود ہو جائے گا۔‘

    فوج نے بتایا کہ ابتدائی مشقیں شروع ہو چکی ہیں جبکہ منگل کو صبح آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک بڑی مشق کی جائے گی۔

    چین کی وزارتِ خارجہ نے ان مشقوں کو ’علیحدگی پسند قوتوں کے لیے سخت انتباہ‘ قرار دیا اور بیرونی طاقتوں کو خبردار کیا کہ وہ ’تائیوان کو چین کے خلاف استعمال‘ نہ کریں۔ ترجمان لن جیان نے کہا کہ ’چین کے اتحاد کو روکنے کی کوئی بھی سازش ناکام ہو جائے گی۔‘

    چین طویل عرصے سے تائیوان کے ساتھ ’پرامن اتحاد‘ کی بات کرتا رہا ہے، تاہم اس کا قانون یہ بھی کہتا ہے کہ جزیرے کی ’علیحدگی‘ روکنے کے لیے پرامن حل کے علاوہ دیگر طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

    بیجنگ نے تائیوان کے صدر لائی چنگ پر ’آزادی کی کوشش‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ تائیوان پہلے ہی ایک خودمختار ملک ہے اور اس لیے آزادی کا باضابطہ اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔

    اتوار کو ایک مقامی ٹی وی انٹرویو میں تائیوان کے صدر لائی چنگ نے کہا کہ تائیوان کو اپنی دفاعی صلاحیت اس حد تک بڑھانی چاہیے کہ چین کبھی بھی حملے کے معیار پر پورا نہ اتر سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ’سٹیٹس کو‘ برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور چین کو اشتعال نہیں دلائے گی، تاہم انھوں نے کہا کہ امن ’حقیقی طاقت‘ پر منحصر ہے۔

    رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق زیادہ تر تائیوانی عوام ’سٹیٹس کو‘ چاہتے ہیں، یعنی نہ چین کے ساتھ اتحاد اور نہ ہی آزادی کا باضابطہ اعلان۔

    سنہ 2022 سے بیجنگ نے تائیوان کے گرد فوجی مشقیں بڑھا دی ہیں، جو عام طور پر ان اقدامات کے جواب میں ہوتی ہیں جنھیں وہ خطرہ سمجھتا ہے۔

    چین کی آخری براہِ راست ایسی مشق اپریل میں ہوئی تھی، جس میں اہم بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز پر حملوں کی مشق کی گئی۔ اس موقع پر چینی فوج نے کارٹونز بھی جاری کیے جن میں صدر لائی کو ’پیراسائیٹ‘ کے طور پر دکھایا گیا۔

    اس ہفتے کی مشقیں مشرقی تھیٹر کمانڈ کے نئے سربراہ یانگ ژیبن کی قیادت میں ہو رہی ہیں، جنھوں نے اکتوبر میں عہدہ سنبھالا۔

    تائیوان بھی اپنی فوجی مشقیں کرتا ہے تاکہ عوام کو ممکنہ حملے کے لیے تیار کرے اور بیجنگ کو اپنی دفاعی صلاحیت دکھا سکے۔ رواں برس کی ’ہان کوانگ‘ مشق 10 دن تک جاری رہی اور یہ اب تک کی سب سے بڑی اور طویل مشق تھی۔

    تائیوان کے صدر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد دفاعی بجٹ بڑھانے اور جزیرے کی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ اکتوبر میں انھوں نے ایک گنبد نما فضائی دفاعی نظام بنانے کا اعلان کیا تاکہ ’مخاصمانہ خطرات‘ سے بچاؤ کیا جا سکے۔

    چینی فوج نے کہا ہے کہ اس ہفتے کی مشقیں تائیوان کے گرد ہی نہیں بلکہ ’جزیرے سے باہر‘ بھی روک تھام کے لیے ہوں گی۔

    واضح رہے کہ چین اور جاپان کے تعلقات حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ کشیدہ ہو گئے ہیں۔ گذشتہ ماہ جاپانی رہنما سانائے تاکائچی نے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز مداخلت کر سکتی ہیں۔ اس بیان کے بعد چین نے شدید احتجاج کیا اور اپنے شہریوں کو جاپان سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی۔

    رواں ماہ جاپان نے بھی احتجاج کیا جب چینی لڑاکا طیاروں نے جاپانی جہازوں کا ریڈار لاک کیا۔ بیجنگ نے اس کے جواب میں ٹوکیو پر الزام لگایا کہ وہ تربیتی مشق کے دوران چینی فورسز کو ’ہراساں‘ کر رہا ہے۔

  8. انڈیا کی چناب پر دوسرے پن بجلی منصوبے کی منظوری، ’یہ پاکستان کے لیے سخت سٹریٹجک پیغام ہے‘

    انڈیا کی وزارتِ ماحولیات کے تحت ایک پینل نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں چناب دریا پر ایک پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق یہ 260 میگاواٹ کا دُلہستی سٹيج-ٹو کا منصوبہ ہے جو انڈیا اور پاکستان کے درمیان بہنے والے دریائے چناب پر تعیمر ہوگا۔

    انڈین اخبار امرا اجالا کے مطابق، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد 355 ملین ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ پاکستان کے لیے ایک ’سخت سٹریٹجک پیغام‘ سمجھا جا رہا ہے۔

    سندھ طاس معاہدہ 1960 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا۔ انڈیا نے یہ معاہدہ 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد معطل کیا تھا۔ نئی دہلی اس حملے کا الزام پاکستان پر لگاتا ہے، تاہم اسلام آباد اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

    معاہدے کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر حقوق حاصل تھے جبکہ اس معاہدے میں انڈیا کو راوی، بیاس اور ستلج پر حق دیا گیا۔ معاہدہ معطل ہونے کے بعد دہلی انڈس بیسن میں کئی پن بجلی منصوبوں پر کام تیز کر رہا ہے۔

    ایک انڈین ویب سائٹ نیوز 18 نے اس منصوبے کو پاکستان کے خلاف انڈیا کا ’ہتھیار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد دہلی نے اس ہتھیار کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے بعض اخبارات نے اس منصوبے کی منظوری کو سندھ طاس معاہدے کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس پر تبصرہ کیا کہ ’انڈس واٹر ٹریٹی کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے انڈیا نے چناب دریا پر دُلہستی سٹيج-ٹو پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جو انڈیا کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں واقع ہے۔‘

    شیری رحمان نے لکھا ہے کہ ’سندھ طاس معاہدے میں یہ ہے کہ اسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا اور اس بات کی حالیہ دنوں میں اقوامِ متحدہ کے نمائندوں نے بھی تصدیق کی ہے۔‘ ان کے مطابق ’پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر حقوق حاصل ہیں جبکہ راوی، بیاس اور ستلج انڈیا کے حصے میں آتے ہیں۔‘

    شیری رحمان نے لکھا کہ معاہدے کی غیر قانونی معطلی کے بعد انڈیا نے انڈس بیسن میں کئی متنازع پن بجلی منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان منصوبوں میں ساولکوٹ، رَتلے، برسار، پکل دُل، کوار، کیرو اور کرتھائی-1 اور 2 شامل ہیں۔ دُلہستی سٹيج-ٹو کو اسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ بگلیہار منصوبہ پہلے ہی پاکستان کی جانب سے آئی ڈبلیو ٹی کی خلاف ورزی قرار دیا جا چکا ہے۔

    شیری رحمان کی رائے میں ’پانی کو بطور ’ہتھیار‘ استعمال کرنے کی یہ کوشش ایسے خطے میں نہ عقلمندانہ ہے اور نہ قابلِ قبول، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی دباؤ کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی اور عدم اعتماد کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔

  9. سپریم کورٹ نے ڈاکٹر شاہنواز کنبھر قتل کیس کے ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمرکوٹ میں ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل اور لاش نذرِ آتش کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزم مولوی احمد شاہانی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    پیر کے روز جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جبکہ مقتول ڈاکٹر شاہنواز کے وکیل ویڈیو لنک کے ذریعے کراچی رجسٹری میں سماعت کا حصہ بنے۔

    سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے واقعے کے بعد خطاب کے ذریعے لوگوں کو مشتعل کیا۔ لاش کو عمرکوٹ سے گاؤں لایا گیا اور مقتول کے والد سے زبردستی چھینی گئی۔ اس مقدمے میں چار گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاش کی تدفین کے وقت جھگڑا ضرور ہوا، تاہم ملزم موقع پر موجود نہیں تھا۔ وکیل کے مطابق مقدمے میں لگائی گئی دفعات کے تحت زیادہ سے زیادہ ایک سال کی سزا بنتی ہے، جبکہ ملزم دس ماہ سے زیرِ حراست ہے۔

    سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ اب اس معاملے میں مزید کچھ نہیں کر سکتی۔ انھوں نے کہا کہ درخواست گزار کو اپنی درخواست واپس لینا ہوگی ورنہ اسے خارج کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد ملزم کے وکیل نے درخواست واپس لے لی۔

    عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ مقدمے کا فیصلہ تین ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔

  10. سندھ حکومت کا بی ایل اے پر سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکی کو ورغلا کر خودکُش بمبار بنانے کے لیے ذہن سازی کا الزام, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    کراچی پولیس نے ایک کم عمر لڑکی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس کی خودکش بمبار بننے کے لیے ذہن سازی کی تھی۔

    کراچی میں صوبائی وزیر ضیاالحسن لنجار اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی آزاد خان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ لڑکی کے والد سرکاری ملازم تھے جو فوت ہو گئے ہیں، ایک بھائی پولیس میں ملازم ہے جبکہ دوسرا سول ملازم ہے۔ حکام نے لڑکی اور اس کے خاندان کی شناخت ظاہر نہیں کی اور کہا کہ اسے خفیہ رکھا گیا ہے۔

    آزاد خان کا دعویٰ ہے کہ لڑکی موبائل فون پر ٹک ٹاک اور انسٹاگرام استعمال کرتی تھی۔ انسٹاگرام پر اس کا رابطہ ایک ہینڈلر سے ہوا جس نے اسے کچھ تقاریر اور مواد بھیجا اور آہستہ آہستہ اس کی گفتگو کو ریاست مخالف بیانیے کی طرف موڑ دیا۔

    بعد ازاں اسے واٹس ایپ کے ایک کلوز گروپ میں شامل کیا گیا جہاں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو بہادری اور قربانی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

    سی ٹی ڈی کے سربراہ کے دعوے کے مطابق ایک مرحلے پر ہینڈلر نے لڑکی کو عملی طور پر خودکش حملے کی ترغیب دی۔ خوف اور لالچ کے ذریعے اس کی ذہن سازی کی گئی اور اس نے گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اسکول جانے کا بہانہ بنا کر وہ عام کپڑوں میں کراچی جانے والی بس میں سوار ہوئی۔

    ان کے مطابق وہ کراچی سے دور ایک مقام پر اتری جہاں ایک خاتون اسے لینے آئی اور اپنے گھر لے گئی۔ وہاں کئی دن مزید اس کی ذہن سازی کی گئی اور پھر دوبارہ کراچی روانہ کیا گیا، یہ کہہ کر کہ ایک اور ایجنٹ اسے خودکش جیکٹ اور ہدف تک پہنچائے گا۔

    سی ٹی ڈی کے سربراہ کے دعوے کے مطابق کراچی میں مقررہ مقام پر ہینڈلر سے رابطہ نہ ہو سکا اور اسی دوران پولیس ناکے پر چیکنگ ہوئی۔ شناخت اور پتہ پوچھنے پر وہ درست جواب نہ دے سکی جس پر اسے تحویل میں لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ’ڈی بریفنگ‘ کے دوران اس لڑکی نے بتایا کہ کس طرح اسے ورغلایا گیا۔ لڑکی کی کم عمری کے باعث فوری طور پر اس کے خاندان کو طلب کیا گیا اور والدہ کے ساتھ رکھا گیا۔

    پریس کانفرنس کے دوران لڑکی اور اس کی والدہ کو بھی لایا گیا اور ان کے ویڈیو بیانات چلائے گئے۔ ویڈیو میں لڑکی نے بتایا کہ اسے پڑھنا پسند تھا اور وہ ٹیچر بننا چاہتی تھی۔ ایک دن اس نے سوشل میڈیا پر شاری بلوچ (کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کرنے والی خاتون) کی ویڈیوز دیکھیں اور حیران ہوئی کہ ایک پڑھی لکھی عورت جس کے بچے بھی ہیں ایسا کیسے کر سکتی ہے۔ تجسس میں اس نے مزید ویڈیوز دیکھنا شروع کر دیں۔

    اسی دوران انسٹاگرام پر ایک شخص سے بات ہونے لگی جو ماہ رنگ اور بشیر زیب کا ذکر کرتا تھا۔ اس نے ایک کتاب بھیجی جسے لڑکی نے کئی بار پڑھا اور اسے لگا کہ یہ سچ ہے۔ بعد ازاں اسے واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا گیا جہاں بی ایل اے کے کاموں کو دکھایا جاتا تھا اور خواتین کو خودکش حملوں کے لیے ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔

    ویڈیو بیان میں لڑکی نے کہا کہ آہستہ آہستہ پڑھائی سے اس کا دل اٹھ گیا، امتحانات میں نمبر کم آنے لگے اور وہ دن بھر شاری بلوچ جیسا کام کرنے کے بارے میں سوچتی تھی۔ اس نے گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا اور ٹی پارٹی کا بہانہ بنا کر وندر اتری جہاں ایک خاتون نے اسے اپنے گھر لے جا کر مزید ذہن سازی کی۔

    اس خاتون نے شاری بلوچ اور سمیعہ قلندرانی (تربت میں خودکش حملہ کرنے والی لڑکی) کے قصے سنائے اور کہا کہ وہ بلوچ کے لیے بڑا کام کرنے جا رہی ہے۔

  11. طالبان وزیر داخلہ کا پاکستانی رہنماؤں کے ’مثبت‘ بیانات کا خیرمقدم، ’افغان کسی کے لیے خطرہ نہیں‘

    طالبان کے وزیر داخلہ نے پاکستانی مذہبی شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کے حالیہ ’نیک نیتی پر مبنی بیانات‘ کا خیرمقدم کیا ہے۔

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے کہا کہ وہ پاکستان میں افغانستان کے بارے میں دیے گئے ’تعمیری اور خیرخواہانہ‘ بیانات کی قدر کرتے ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مفتی تقی عثمانی کے بیانات کو سراہا۔

    انھوں نے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات کو بھی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں علما کا ایک اجلاس ہوا۔ ہم اس موقع پر فضل الرحمان اور تقی عثمانی کے مثبت بیانات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اسی طرح پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اتوار کے روز افغانستان کے بارے میں ایک مثبت بیان دیا۔ ہم ہر اس تعمیری بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں جو ممالک کے درمیان روابط کو فروغ دے اور قوموں کو قریب لائے۔‘

    افغان وزیر داخلہ نے ایک بار پھر طالبان کے اس مؤقف کو دہرایا کہ افغانستان کسی کے لیے خطرہ نہیں اور یہ گروہ ملک اور خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب کو یقین دلاتے ہیں کہ افغان کسی کے لیے خطرہ نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی کے خلاف نقصان یا دشمنی کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ حال ہی میں کراچی میں ایک اجلاس کے دوران فضل الرحمان اور دیگر پاکستانی علما نے زور دیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

    سراج الدین حقانی کے یہ بیانات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ 9 اکتوبر کو پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد کئی روز تک جھڑپیں جاری رہیں جن میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں قطر اور ترکی کی ثالثی میں 19 اکتوبر کو دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔

  12. 14 لاکھ 50 ہزار ایرانی ریال کا ایک امریکی ڈالر، کرنسی ریٹ میں شدید کمی پر تہران میں احتجاج

    تہران کے کئی اہم مراکز، بشمول گرینڈ بازار، میں کاروباری حضرات اور دکانداروں نے غیر ملکی کرنسی کے نرخوں میں اچانک اضافے کے خلاف اتوار کے روز احتجاج کیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق تاجروں نے شکایت کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ’شدید زرِ مبادلہ کے اُتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں عدم استحکام‘ نے کاروبار کو مشکل بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار بڑھتے ہوئے ریٹ کے باعث اشیا کی قیمتوں کا تعین یا لین دین کی تکمیل ممکن نہیں رہی، جس سے خریدار اور فروخت کنندگان کے درمیان اعتماد متاثر ہوا ہے۔

    اتوار کے روز مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 14 لاکھ 50 ہزار ریال تک جا پہنچی، جو بعد میں کچھ کم ہو کر تقریباً 14 لاکھ 30 ہزار ریال پر آ گئی۔

    یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب صدر مسعود پزشکیان نے پارلیمان میں آئندہ مالی سال، مارچ 2026 سے شروع ہونے والے بجٹ کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کا مقصد اخراجات کم کرنا اور عوامی فلاح کو بہتر بنانا ہے۔

    سرکاری نشریاتی اداروں نے آج صبح کابینہ اجلاس میں صدر کے بیان کو نمایاں طور پر شائع کیا، جس میں انھوں نے کہا کہ ملک کے زرِ مبادلہ کی آمدنی سب سے پہلے عوام کی زندگی اور روزگار بہتر بنانے پر خرچ ہونی چاہیے، اس کے بعد کسی اور شعبے کو دی جا سکتی ہے۔

    ایرانی اخبارات نے کرنسی بحران کو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سوال اٹھایا کہ ’ڈالر کہاں جا کر رکے گا؟‘

    بعض اخبارات نے حکومت اور مرکزی بینک کو ریال کی ’بے لگام‘ گراوٹ پر ’خاموشی‘ اختیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

    قدامت پسند روزنامہ فرہختگان نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ حکومت ’ایک برے سال کی پیش گوئی کر رہی ہے‘۔

    صدر پزشکیان نے ارکانِ پارلیمان کو بتایا کہ بعض شعبوں پر زیادہ ٹیکس لگانا ضروری ہے اور یہ کہ بجٹ میں تیل کی برآمدات، پیداواری صلاحیت یا نجکاری سے حاصل ہونے والی ’غیر حقیقی اور خیالی آمدنی‘ کو شامل نہیں کیا گیا تاکہ خسارہ نہ ہو۔

    آن لائن صارفین کا احتجاج اور کرنسی بحران پر ردعمل

    ایرانی صارفین نے دکانداروں کے احتجاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جن میں بعض حکومت مخالف افراد نے وسیع تر بغاوت کی اپیل بھی کی۔

    کچھ صارفین نے تیزی سے گرتے ہوئے زرِ مبادلہ کے نرخ بھی شیئر کیے اور کہا کہ ریال ’چند منٹوں میں‘ اپنی قدر کھو رہا ہے۔

    صدر مسعود پزشکیان کی بجٹ تقریر اور تنخواہوں میں متوقع کم اضافے پر بھی تنقید کی گئی۔ بعض صارفین نے تجویز دی کہ حکومت تنخواہیں اُن منافع سے ادا کرے جو پہلے کم نرخ پر ڈالر فروخت کر کے حاصل کیے گئے تھے، یا پھر وہ فنڈز استعمال کرے جو ریاستی نشریاتی ادارے اور دیگر اداروں کو دیے گئے ہیں۔

    ایک اور صارف نے کہا کہ صدر کو چاہیے کہ وہ تنخواہوں کے لیے رقم براہِ راست سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خزانے سے طلب کریں اور اگر وہ انکار کریں تو صدر کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

  13. یوٹیوبر رجب بٹ پر کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں وکلا کا تشدد

    کراچی میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف اسلامی شعائر کی مبینہ توہین کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔

    عدالت نے رجب بٹ کی درخواست ضمانت پر کارروائی بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی۔

    سماعت اب 13 جنوری تک مؤخر کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف حیدری تھانے میں توہین مذہب کا مقدمہ درج ہے اور وہ اس وقت عبوری ضمانت پر ہیں۔ سٹی کورٹ آمد کے موقع پر وکلا نے مبینہ طور پر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا، تاہم رجب بٹ کے وکلا نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی۔ مقدمے کی آئندہ سماعت میں عدالت درخواست ضمانت پر مزید کارروائی کرے گی۔

    بتایا جا رہا ہے کہ رجب بٹ نے اپنی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر وکلا برادری کے لیے تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال کیا تھا جس کی بنا پر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

  14. دھند کے باعث بند کی گئی تمام موٹرویز حدِ نگاہ بہتر ہونے پر ٹریفک کے لیے کھول دی گئیں ہیں: پولیس

    دھند کے باعث بند کی گئی تمام موٹرویز حدِ نگاہ بہتر ہونے پر ٹریفک کے لیے کھول دی گئیں ہیں۔

    پاکستان موٹروے اور ہائی وے پولیس کی جانب سے اب سے کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دھند کے باعث بند کی گئی تمام موٹرویز حدِ نگاہ بہتر ہونے پر ٹریفک کے لیے کھول دی گئیں ہیں۔‘

    اس سے قبل دھند کی وجہ سے موٹروے کو متعدد مقامات سے ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ وسطی پنجاب میں دھند کی وجہ سے کئی اضلاع اور شہروں میں ٹریفک کی روانی متاثر رہی ہے۔

  15. انڈونیشیا کے شمالی علاقے میں ’اولڈ ہوم‘ میں آگ لگنے سے کم از کم 16 افراد ہلاک، تین زخمی

    انڈونیشیا کے شمالی علاقے میں بزرگ شہریوں کے نرسنگ ہوم میں آگ لگنے سے کم از کم 16 افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی شب صوبہ شمالی سولاویسی کے دارالحکومت منادو میں واقع ’دمائی ریٹائرمنٹ ہوم‘ میں پیش آیا۔

    فائر بریگیڈ کو مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بج کر 30 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ شہر کے فائر اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ جمی روٹنسولو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ زیادہ تر متاثرین اپنے کمروں میں پائے گئے جو غالباً بزرگ رہائشی تھے اور شام کے وقت آرام کر رہے تھے جب آگ بھڑک اٹھی۔

    پولیس نے آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ آگ کو تقریباً ایک گھنٹے بعد رات نو بج کر 30 منٹ پر بجھا دیا گیا۔

    مقامی حکام کے مطابق پولیس ہلاک ہو جانے والے افراد کی شناخت کی کوشش کر رہی ہے اور لواحقین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ہسپتال سے رابطہ کریں جہاں لاشیں منتقل کی گئی ہیں۔

    ایک مقامی عہدیدار نے آن لائن نیوز پورٹل ’ڈیٹک کوم‘ کو بتایا کہ ’کئی لاشیں اس قدر جلی ہوئی حالت میں ہیں کہ انھیں پہچاننا ممکن نہیں۔‘

  16. شام میں علوی برادری کے مظاہروں کے دوران تین افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    شام کے صوبہ اللاذقیہ کی سرکاری انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران فائرنگ اور دیگر پرتشدد واقعات کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے۔ یہ مظاہرے اس علاقے میں ہوئے جہاں اکثریت علوی برادری کی ہے۔

    ہزاروں علوی مظاہرین اتوار کو اللاذقیہ شہر کے دوار الازہری میں جمع ہوئے اور ’شام میں سیاسی نظام میں تبدیلی اور ہزاروں علوی قیدیوں کی رہائی‘ کا مطالبہ کیا۔

    برطانیہ میں مقیم انسانی حقوق کی تنظيم ’سیرین آبزرویٹری فور ہیمون رائٹس‘ کا کہنا ہے مظاہروں کو منتشر کرنے کے دوران عبوری حکومت کے سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے علوی برادری کے دو نوجوان ہلاک ہوئے جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار بھی مارا گیا۔ اسی دوران عفرین شہر کے الاشرفیہ محلے میں ایک بچے کی لاش ملی جسے ذبح کر کے زیر تعمیر عمارت میں پھینک دیا گیا تھا۔‘

    سیرین آبزرویٹری فور ہیمون رائٹس کہ مطابق مطابق مظاہرے اس تنظیم کی اپیل پر کیے گئے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ملک کے اندر اور باہر علویوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

    دوسری جانب سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، اور ان واقعات کو ’سابقہ نظام کے باقی ماندہ عناصر‘ کی جانب سے سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملہ قرار دیا۔

    واضح رہے کہ شام کے سابق صدر بشارالاسد بھی علوی برادری سے ہی تعلق رکھتے تھے جو ملک کی آبادی کا دس فیصد بنتی ہے۔ یہ گروپ اہل تشیع کا ہی ایک فرقہ ہے۔ شام کی اکثریتی آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

  17. دھند کے باعث سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن متاثر, احتشام شامی، صحافی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے اطراف میں دھند کے باعث فلائٹ آپریشن اور شیڈول جزوی طور پر متاثر ہو گئے ہیں۔

    سیالکوٹ ایئرپورٹ کے ترجمان محمد عمیر خان کے مطابق پروازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے حدِ نگاہ کم از کم 500 میٹر درکار ہوتی ہے، تاہم اس وقت حدِ نگاہ صرف 100 میٹر ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ ’دھند کی شدت میں کمی آتے ہی تمام فضائی آپریشن شیڈول کے مطابق بحال کر دیے جائیں گے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ تمام ایئرلائنز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مسافروں کو بروقت آگاہ کیا جا سکے۔‘

    ترجمان سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے مسافروں سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنی پرواز کے بارے میں تفصیلات متعلقہ ایئرلائن سے حاصل کریں۔

  18. میکسیکو میں ٹرین حادثہ، 13 افراد ہلاک 90 سے زائد زخمی

    میکسیکو کی ریاست اوآکساکا میں ٹرین حادثے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہو گئے ہیں۔

    اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین میں 241 مسافر اور نو عملے کے ارکان سوار تھے۔ حکام کے مطابق 98 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 36 کو علاقے کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    مقامی حکام نے بتایا کہ ٹرین نساندا قصبے کے قریب ایک موڑ کاٹتے ہوئے پٹڑی سے اتر گئی۔ میکسیکو کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔

    میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شینبام نے کہا کہ زخمیوں میں پانچ افراد کی حالت نازک ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اعلیٰ حکام، جن میں بحریہ کے وزیر بھی شامل ہیں، جائے حادثہ پر روانہ کر دیے گئے ہیں۔

    میکسیکن نیوی کے مطابق انٹروسیانک ٹرین، جو بحرالکاہل کی بندرگاہ سالینا کروز سے خلیجی ساحل کے شہر کوآتزاکوالکوس جا رہی تھی، دو انجن اور چار مسافر بوگیوں پر مشتمل تھی۔

  19. توشہ خانہ ٹو کیس: فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج دائر ہوں گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    توشہ خانہ ٹو فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلیں تیار کرلی گئی ہیں۔

    بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج دائر ہوں گی۔ ان اپیلوں کے متن میں میں بتایا گیا ہے کہ پراسیکوشن کے گوہ انعام اللہ شاہ جو کہ بنی گالہ میں عمران خان کے گھر پر ملازم تھے جنھیں بر طرف کیا جا چکا تھا اور سپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے اس کے بیان پر انحصار کیا۔

    ان اپیلوں کے متن میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مزید یہ کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی۔

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے دو الگ الگ اپیلیں پیر کے روز ہائیکورٹ میں دائر ہوں گی۔ ان اپیلوں کے متن میں عمران خان بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    ان اپیلوں کے متن میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہی جرم میں متعدد مرتبہ سزا نہیں دی جا سکتی جبکہ اسپیشل سنٹرل عدالت کو اختیار سماعت نہیں تھا۔

    ان اپیلوں کے متن میں کہا گیا ہے کہ صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پر سلطانی گواہ بنایا گیا بلغاری سیٹ توشہ خانہ قواعد کے مطابق سابق حکمران جوڑے نے اپنے پاس رکھا۔

    متن میں کہا گیا ہے کہ یہ مقدمہ بغیر تفتیش قائم کیا گیا اور یہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس مقدمے کا درخواست گزار سرکاری ملازم کی تعریف میں نہیں آتا۔

    عمران خان کی لیگل ٹیم میں شامل وکیل خالد یوسف چوہدری کے مطابق کاغذی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور سزا کے خلاف اپیلیں پیر کو یعنی آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ہوں گی۔

    یاد رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی ابتدائی تحقیقات نیب نے کی تھی اور نیب ترامیم کی روشنی میں یہ کیس ایف آئی اے کو منتقل ہوا تھا۔ ستمبر 2024 میں ایف آئی اے نے تحقیقات کے بعد چالان عدالت میں جمع کروایا تھا۔

    توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر 12 دسمبر 2024 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

    خیال رہے کہ توشہ خانہ کے پہلے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کو معطل کر رکھا ہے۔

  20. پنجاب کے بیشتر اضلاع میں دھند کا راج: ’موٹرویز ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے،‘ موٹروے پولیس

    محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق شمال مشرقی وسطی پنجاب کے اضلاع میں اس وقت درمیانی سے شدید دھند موجود ہے جہاں سیالکوٹ میں حد نگاہ 20 میٹر جبکہ نارووال میں 30 اور گوجرانوالا میں 50 میٹر تک کم ہو چکی ہے۔

    جبکہ آئندہ چار سے چھ گھنٹوں کے دوران گجرات حافظ آباد، لابور، شیخوپورہ منڈی بہاؤالدین، قصور، اوکاڑه، ساہیوال، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکپتن، بہاولپور، ملتان، کوٹ ادو، لیہ، بھکر اور گردونواح میں شدید دھند چھائے رہنے کا امکان۔

    تاہم نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے اب سے کُچھ دیر قبل اپنے ایکس اکاؤنٹ پر موٹرویز کی صورتحال سے متعلق جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دھند کے باعث ایم ون پشاور سے برہان تک، ایم ٹو ٹھوکر نیاز بیگ سے بالکسر تک، ایم تھری فیض پور سے رجانہ تک، ایم فور پنڈی بھٹیاں سے شیر شاہ تک جبکہ ایم الیون لاہور سے سمبڑیال تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔

    محکہ موسمیات اور موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے دوران عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔