پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت
قطر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
خلاصہ
پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت
نقل مکانی مسلط کی گئی، اس بار رخ اسلام آباد کی طرف ہوگا اور امن سے جینے کا حق مانگیں گے: خیبر امن جرگہ
اس بار جنگ شروع کی تو پورے خطے تک پھیلے گی: ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی امریکہ کو دھمکی
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں لیکن اس متعلق خلیجی ممالک کو آگاہ نہیں کر سکتے: ڈونلڈ ٹرمپ
غزہ اور خان یونس میں اسرائیلی حملوں میں 32 افراد ہلاک، قطر اور مصر کی مذمت
پاکستان کی حکومت نے بلوچستان میں سنیچر کو دہشت گردی کے واقعات میں 92 شدت پسندوں اور 15 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے
انڈیا امریکہ سے وینزویلا کا تیل خریدے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
لائیو کوریج
’وزیر داخلہ محسن نقوی وضاحت کریں گے کہ ایس ایچ او کہاں ہے:‘ سردار اختر مینگل کا بلوچستان کی صورتحال پر بیان
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کو نو انٹری زون میں تبدیل کر دیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ’میڈیا ہاؤسز سب خاموش ہیں، میں نے اپنی زندگی میں اس قدر تشویشناک صورتحال نہیں دیکھی۔ کیا وزیر داخلہ واضح کر سکتے ہیں کہ ایس ایچ او کہاں ہے؟‘
اختر مینگل کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا تھا کہ ’جب ہماری پولیس اور سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں تو نام نہاد سیاسی رہنما اپنا اصلی چہرہ دکھا رہے ہیں ہم ان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں یہ ہمارے لیے کوئی عجیب بات نہیں۔‘
خیال رہے کہ اگست 2024 میں وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک بیان توجہ کا مرکز بنا تھا۔ اُنھوں نے کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بلوچستان میں آپریشن کی ضرورت نہیں، یہ دہشتگرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔‘
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بزدل دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے لیے کسی لمبی چوڑی سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔
ایک سال کے دوران بلوچستان میں 700 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا: وزیرِ اعلی میر سرفراز بگٹی کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP
بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں گذشتہ 12 ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز نے 700 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ صرف گذشتہ دو روز میں سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں 70 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
سنیچر کو دہشت گردوں کی کوئٹہ اور مختلف شہروں میں کارروائیوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’آج علی الصبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی، بلوچستان پولیس اور ایف سی کے جانباز جوانوں نے مل کر دہشت گردوں کے تمام حملے ناکام بنا دیے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں میں اب تک 37 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ’یہ بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، ریاست آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی.‘
بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے سنیچر کو دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات میں 37 شدت پسندوں اور 10 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں صبح سے دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں جبکہ کچھ علاقوں میں دھماکے بھی سنے گئے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق بلوچستان میں 12 مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کیے جن میں کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر شامل ہیں۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مختلف آپریشنز میں 88 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی سی پی آر نے جمعے کو بتایا تھا کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 41 شدت پسند ہلاک کیے گئے۔
کوئٹہ میں میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق سنیچر کو کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، مچھ، مستونگ اور پسنی میں بھی شدت پسندوں کی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ سول سیکریٹیریٹ اور عدالتوں سمیت سرکاری دفاتر میں سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔
بلوچستان میں انسداد دہشت گردی پولیس (سی ٹی ڈی) کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک کارروائی کے دوران چار مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔
دہشت گردی کے واقعات کے باعث کوئٹہ سے اندرون ملک آنے اور جانے والی ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے پشاور آنے والی جعفر ایکسپریس کو بھی جیک آباد پر روک لیا گیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور فی الحال مزید کچھ نہیں بتایا جا سکتا۔
حملوں کے بعد کوئٹہ شہر میں انٹرنیٹ سروس بند ہے اور ہیلی کاپٹر فضا میں دکھائی دے رہے ہیں۔
حکومت کا بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے حملے ناکام بنانے کا دعویٰ: 37 شدت پسندوں اور 10 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ’فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت‘ کرتے ہوئے دعویٰ
کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سنیچر کے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے شدت
پسندوں کے حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے
دوران سکیورٹی فورسز نے بروقت اور موثر کارروائی کرتے ہوئے 37 شدت پسندوں کو ہلاک
کر دیا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے حملے
ناکام بناتے ہوئے 10 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ سنیچر کی صبح بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں سے دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
کالعدم عسکریت پسند گروہ بلوچستان لبریشن آرمی نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے آپریشن ہیروف کا دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔
بعد ازاں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے مشیر شاہد رند شاہد رند نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ’گذشتہ دو روز میں بلوچستان میں مختلف مقامات پر 70 سے زائد دہشت گردوں کے مارے جانے کے بعد بلوچستان میں چند مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی ہے جس کو پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا ہے۔‘
بلوچستان حکومت کا شدت پسندوں کے حملے ناکام بنانے کا دعویٰ، کوئٹہ میں ریڈ زون سیل
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے مشیر شاہد رند نے
دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان
میں چند مقامات پر شدت پسندوں نے حملوں کی کوشش کی ہے جسے قانون نافذ کرنے والے
اداروں نے ناکام بنا دیا ہے جبکہ دوسری جانب کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کے
بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے۔
شاہد رند کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’گذشتہ
دو روز میں بلوچستان میں مختلف مقامات پر 70 سے زائد دہشت گردوں کے مارے جانے کے
بعد بلوچستان میں چند مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی ہے جس کو پولیس اور
ایف سی نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا ہے۔‘
شاہد رند کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت بھاگنے والے شدت پسندوں کا تعاقب
جاری ہے اور مزید تفصیلات بہت جلد سامنے لائی جائیں گی۔
بی بی سی کے نامہ نگار محم کاظم کے مطابق، کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور
فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ سول سیکریٹیریٹ اور عدالتوں سمیت
سرکاری دفاتر میں سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ بلوچستان کے شہر مستونگ میں جیل پر حملے کے نتیجے میں متعدد قیدیوں کے فرار ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
بلوچستان کے شہر مچھ میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے مساجد سے اعلانات کروائے گئے کہ امن وامان کی صورتحال کے باعث لوگ اپنے گھروں سے نہ نکلیں۔
خیال رہے کہ آج صبح سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق، کوئٹہ میں ایک حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سی ٹی ڈی کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک کارروائی کے دوران چار مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہRescue
،تصویر کا کیپشنفائر بریگیڈ کا عملہ کوئٹہ کے سریاب روڈ پر شدت پسندوں کے حملے میں تباہ ہونے والی گاڑی میں لگی آگ بھجانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس حملے میں کم از کم دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
زیلنسکی اور پوتن ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے یوکرین
جنگ سے کہیں مشکل جنگیں ختم کروائی ہیں لیکن روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے
صدر ولادیمیر زیلنسکی ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں جس کے باعث جنگ بندی میں مشکلات
پیش آ رہی ہیں۔
جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافی
کی جانب سے صدر ٹرمپ سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے متعلق سوال پوچھا
گیا۔
صدر ٹرمپ نے اس کے جواب میں کہا، ’ہم [اس بارے
میں] کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے آٹھ جنگیں ختم کروائی ہیں اور میرا خیال تھا کہ وہ
اس [یوکرین جنگ] سے زیادہ مشکل ہوں گی۔‘
’لیکن زیلنسکی اور پوتن ایک دوسرے سے نفرت کرتے
ہیں اور اس کی وجہ سے یہ [روس اور یوکرین کی جنگ کا خاتمہ] بہت مشکل ہو رہا ہے،
لیکن میرے خیال میں ہم کسی معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔‘
یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل روس، یوکرین اور امریکہ کے نمائندوں کے
درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوئے تھے جس کی میزبانی
متحدہ عرب امارات نے کی تھی۔ اگلے ہفتے ابوظہبی میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع
ہونے جا رہا ہے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں فائرنگ اور دھماکے: دو پولیس اہلکار ہلاک، ایمرجنسی نافذ, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں صبح سے دھماکوں اور
فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات ہیں جبکہ پولیس حکام کے مطابق، کوئٹہ میں ایک حملے
میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ
نگار کے مطابق، کوئٹہ شہر میں صبح چھ بجے کے قریب سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں
سنائی دے رہی ہیں اور کچھ دیر قبل بھی ایک زوردار دھماکہ سنا گیا ہے۔
دوسری جانب سی ٹی
ڈی کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک کارروائی کے دوران چار مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک
کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے
ترجمان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور فی الحال مزید کچھ نہیں بتایا
جا سکتا۔
دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ پسنی، نوشکی اور خاران سے بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
صوبے میں امن و
امان کی صورتحال کے باعث کوئٹہ آنے اور وہاں سے جانے والی تمام ٹرینوں روک دی گئی
ہیں۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق، حملوں کے بعد شہر میں انٹرنیٹ سروس بند ہے اور ہیلی کاپٹر فضا میں دکھائی دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ کالعدم
عسکریت پسند گروہ بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے سنیچر کے روز ایک بیان جاری کیا
گیا ہے جس میں انھوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے آپریشن ہیروف کا
دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔
کوئٹہ میں سریاب
روڈ پر ہیلپر ہسپتال کے نزدیک، طارق ہسپتال اور جناح روڈ کے نزدیک دھماکے کی آوازیں
سنی گئی ہیں۔
کلی دیبہ سے تعلق رکھنے
والی ایک خاتون روبینہ علی نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ انھیں لگا کہ گھر
ان کے اوپر آکر گر جائے گا۔
جناح روڈ پر یونیورسل
کمپلیکس میں ایک دفتر میں کام کرنے والے ایاز احمد نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زوردار
تھا کہ اس نے پوری عمارت کو ہلا کر رکھ دیا۔
انھوں نے بتایا کہ عمارت
گردوغبار سے بھر گئی۔
ایاز نے بتایا کہ جب
وہ سڑک پر آئے تو لوگ ہوٹل اور دکانیں بند کر کے بھاگ رہے تھے۔
امریکہ نے سعودی عرب اور اسرائیل کو اربوں ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل اور اپاچی ہیلی کاپٹر فروخت کرنے کی منظوری دے دی
،تصویر کا ذریعہCorbis via Getty Images
،تصویر کا کیپشنامریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سعودی عرب کو جو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے ان میں 700 سے زائد پیٹریاٹ میزائل اور اس کے متعلقہ آلات شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے چلتے سعودی عرب اور اسرائیل کو
کئی ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
جمعہ کی رات امریکی
حکومت کی جانب سے اسرائیل کو ساڑھے چھ ارب ڈالر جبکہ سعودی عرب کو نو ارب ڈالر کے ہتھیاروں
کی فروخت کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے
یہ منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب امریکہ نے اپنے بحری بیڑے ایران کے نزدیک
تعینات کر دیے ہیں اور ایران پر امریکی فوجی حملے کا امکان بڑھ گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ
کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو فروخت کیے جانے والے ہتھیاروں میں سے تقریباً چار ارب ڈالر
30 اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹروں کے لیے ہیں۔
بیان میں کہا گیا
ہے کہ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور اس کی دفاع کی صلاحیتوں کو فروغ
دینے اور برقرار رکھنے میں مدد کرنا انتہائی اہم ہے۔
امریکی محکمہ دفاع
پینٹاگون کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سعودی عرب کو جو اسلحہ فروخت کرنے کی
منظوری دی گئی ہے ان میں 700 سے زائد پیٹریاٹ میزائل اور اس کے متعلقہ آلات شامل
ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشناسرائیل کو فروخت کیے جانے والے ہتھیاروں میں سے تقریباً چار ارب ڈالر 30 اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹروں کے لیے ہیں۔
ایران کی آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں، سینٹ کام کا مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری جہازوں اور طیاروں کی حفاظت یقینی بنانے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty images
،تصویر کا کیپشنپاسدارانِ انقلاب نے اتوار کے روز سے آبنائے ہرمز میں دو روزہ لائیو فائر بحری مشقوں کا اعلان کر رکھا ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ
وہ بین الاقوامی پانیوں میں ایران کے پیشہ ورانہ طور پر کام کرنے کے حق کو تسلیم کرتے
ہیں تاہم امریکی افواج، علاقائی شراکت داروں یا تجارتی جہازوں کے قریب کسی بھی قسم
کا غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ رویہ تصادم اور عدم استحکام کے خطرات میں اضافے
کا باعث بن سکتا ہے ۔
سینٹ کام کی جانب
سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ روز ایران نے اعلان کیا
تھا کہ پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں دو روزہ لائیو فائر بحری مشق کا انعقاد کر
رہی ہے جو اتوار کے روز سے شروع ہوں گی۔
امریکی فوج کا کہنا
ہے کہ ایران کو چاہیے کہ بحری مشقیں اس انداز میں کی جائیں جو نہ صرف محفوظ اور پیشہ
ورانہ ہو بلکہ بین الاقوامی سمندری ٹریفک کی آمدورفت کو بھی خطرے میں نہ ڈالے۔
سینٹ کام کا کہنا
ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی سمندری گزرگاہ اور ایک اہم تجارتی راہداری ہے جہاں
سے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 100 تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا
ہے کہ سینٹ کام مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے امریکی اہلکاروں، بحری جہازوں اور طیاروں
کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔
’ہم پاسدارانِ
انقاب کے کسی بھی غیر محفوظ اقدامات کو برداشت نہیں کریں گے جن میں امریکی فوجی جہازوں
کے اوپر سے پرواز، امریکی جہازوں کے اوپر سے مسلح طیاروں یا کم اونچائی پر طیاروں
کی پرواز شامل ہیں اور وہ بھی ایسے میں جب ان کے ارادے واضح نہیں۔
اس کے علاوہ تیز رفتار
کشتیوں کا امریکی بحری جہازوں کی جانب بڑھنا یا امریکی فوج کی جانب رخ کر کے اسلحے
کی مشقیں بھی برداشت نہیں کی جائیں گی۔
سینٹ کام کا کہنا
ہے کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے زیادہ تربیت یافتہ اور مہلک فورس ہے اور وہ اعلیٰ ترین
پیشہ ورانہ مہارت اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کام کرتی
ہے، پاسدارانِ انقلاب کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
ایران امریکی فوجی کارروائی کا سامنا کرنے کے بجائے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کے صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران امریکی فوجی کارروائی کا سامنا کرنے کے بجائے معاہدہ کرنا
چاہتا ہے، دوسری جانب تہران کا اصرار ہے کہ اس کے میزائل اور دفاعی نظام پر کوئی بات
چیت نہیں ہو گی۔
جمعہ کی رات وائٹ ہاؤس
میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران جب ان سے خلیج میں امریکی فوج کی بڑھتی ہوئی موجودگی
کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ کہہ سکتا ہوں، وہ ایک معاہدہ کرنا
چاہتے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے تہران کو معاہدہ کرنے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن دی ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ’صرف وہ ہی یقینی طور پر جانتے ہیں‘۔
صدر ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’امید ہے کہ ہمارا معاہدہ ہو جائے گا۔ اگر ہم کسی معاہدہ پر پہنچ جاتے ہیں تو اچھا ہوگا۔ اگر ہمارا معاہدہ نہیں ہوتا تو ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے‘۔
یاد رہے کہ صدر
ٹرمپ نے بدھ کے روز تہران کو خبردار کیا تھا کہ اب امریکی بحری بیڑے اس کے قریب پہنچ
رہے ہیں اور ایران کے پاس اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے وقت ختم ہوتا جا رہا
ہے۔
دوسری جانب ایران کے
وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت کا منصوبہ
نہیں لیکن تہران ’باہمی احترام‘ اور اعتماد کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے واضح کیا
ہے کہ ’ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں لیکن دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات
نہیں ہو سکتے۔‘
جمعہ کے روز
استنبول میں اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران
عباس عراقچی نے زور دیا کہ ایران ’مذاکرات اور جنگ‘ دونوں کے لیے تیار ہے اور اب
ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ الرٹ ہے اور اس بار امریکہ کی براہِ راست
مداخلت کے باعث حالات بالکل مختلف ہوں گے اور بدقسمتی سے یہ جنگ دو طرفہ تنازع سے
آگے بھی جا سکتی ہے۔
جمعہ کے روز کریملن نے بتایا کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ریا نووسوتی کی کر کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دیگر معاملات کے علاوہ ’مشرق وسطی اور بین الاقوامی مسائل‘ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
امریکی محکمہ انصاف نے ایپسٹین فائلز کے 30 لاکھ صفحات جاری کر دیے
،تصویر کا ذریعہUS justice department
امریکی محکمۂ انصاف نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے خلاف تحقیقات سے جڑے 30 لاکھ صفحات جاری کیے ہیں۔
تازہ دستاویزات میں 2000
ویڈیوز اور ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ تصاویر شامل ہیں۔ یہ دستاویزات ٹرمپ کی جانب
سے دستخط کردہ قانون کے چھ ہفتوں بعد جاری کی گئی ہیں جن میں ڈیڈلائن متعین کی گئی
تھی۔
کئی دستاویزات میں بعض مواد چھپایا گیا ہے اور بعض صفحات بالکل سیاہ ہیں۔
دستاویزات میں ای میلز،
ایپسٹین کی جائیدادوں کی تفصیلات اور نیو یارک کے قیدخانے میں ان کی موت سے متعلق
تفصیلات شامل ہیں۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا
ہے کہ ڈیڈلائن تک اس لیے دستاویزات جاری نہیں کی گئیں کیونکہ یہ مواد ’دو ایفل ٹاور‘
جتنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دستایزات میں اس لیے بعض مواد چھپایا گیا تاکہ
متاثرین کی شناختیں ظاہر نہ کی جائیں۔
دستاویزات میں نام ظاہر
ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی شخصیات کسی غلط کام میں ملوث رہی ہے۔ ماضی میں ایسی
دستاویزات میں نام آنے پر کئی شخصیات نے ایپسٹین سے تعلق کی افواہوں کی تردید کی۔
عمران خان کی صحت کے معاملے میں ریاستی اداروں نے سنگین غفلت اور ’طبی دہشت گردی‘ کا مظاہرہ کیا: سہیل آفریدی
،تصویر کا ذریعہPTI
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے میں ریاستی اداروں کی جانب سے سنگین غفلت اور طبی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا، اس عمل سے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ گزشتہ رات تین بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہے۔ اس سے پہلے جب ہماری ملاقاتیں بند کی جاتی تھیں تو یہ کہا جاتا تھا کہ سیاسی ملاقاتیں بند ہیں، لیکن گزشتہ دو دنوں میں جو ہمارے لیڈر عمران خان کے ساتھ ہوا ہے وہ ایک سنگین انسانی اور طبی مسئلہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عوام جاننا چاہتے ہیں کہ جیل منتقل کرتے وقت ان کی کیا حالت تھی، ان کے ساتھ کیا ہوا، کیوں آپریشن کی ضرورت پڑی اور اس وقت ان کی صحت کی کیا صورتحال ہے۔‘
سہیل آفریدی کے مطابق ’اسی لیے ہم مسلسل مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کے ذاتی ڈاکٹرز کو ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ قوم کو حقیقت سے آگاہ کریں، مگر اس بے حس نظام نے و آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی کر کے اجازت بھی دینے سے انکار کر دیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین، سابق وزیراعظم اور ملک کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں، مگر انھیں ان کی اجازت کے بغیر ان کے اہل خانہ اور ذاتی ڈاکٹرز کی اجازت کے بغیر زبردستی ایسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے مرض کا ماہر ڈاکٹر ہی موجود نہیں تھا۔ یہ سراسر طبی دہشت گردی ہے۔‘
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ ’اس واقعے کو پانچ دن تک قوم، اہل خانہ، وکلاءاور ذاتی ڈاکٹرز سے چھپایا گیا۔ جب سوال اٹھایا گیا تو وفاقی وزرا نے کھلے عام جھوٹ بولا تاہم بعد میں حکومت کے اپنے وزیر نے آپریشن کی تصدیق کر دی مگر اس کے باوجود جھوٹ بولنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔‘
انڈیا میں عرب وزرا خارجہ کا اجلاس کیوں ہو رہا ہے؟, شکیل اختر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، انڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
انڈیا سنیچر کے روز عرب ممالک کے وزرا خارجہ کے اہم اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب انڈیا دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں عرب ممالک سے اپنے سٹریٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کو شش کر رہا ہے، اس صورتحال میں یہ اجلاس بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات اس میٹنگ کا مشترکہ میزبان ہو گا۔ یہ میٹنگ انڈیا –عرب وزرا خارجہ کا یہ دوسرا اجلاس ہے اور پہلی بار یہ انڈیا میں منعقد ہو رہا ہے۔
سنیچر کے روز ہونے والا اجلاس دس برس کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔ پہلا اجلاس 2016 میں بحرین میں ہوا تھا۔
اس میٹنگ میں معیشت، توانائی ، تعلیم ، میڈیا اورکلچر کے شعبوں میں تعاون کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دینے کی بات طے کی گئی تھی۔
انڈیا کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا میں ہونے والی اس میٹنگ میں سبھی 22 ملکوں کے وزرا خارجہ، وزرا اور عرب لیگ کے دوسرے اعلی اہلکاروں کی شرکت متوقع ہے۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیا اور عرب ملکوں کے وزرا خارجہ کی اس میٹنگ سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے دونوں خطوں کے درمیان موجودہ رشتے اور بھی وسیع اور گہرے ہوں گے۔
انڈیا عرب وزرا خارجہ اجلاس اشترا ک و تعاون کو وسعت دینے کا سب سے بڑا اور باضابطہ طریقہ کار ہے۔
اسے 2002 میں اس وقت حتمی شکل دی گئی تھی جب انڈیا اور عرب لیگ نے باہمی مزاکرات کے عمل کو باضابطہ شکل دینے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
2013 میں عرب لیگ کے جنرل سیکریٹری امر موسی کے انڈیا کے دورے کے دوران ایک عرب - انڈیا تعاون فورم بنانے کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔
انڈیا کو 22 ملکوں کے عرب لیگ میں ایک اوبزروور کا درجہ حاصل ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان میں ہفتے کے روز ہونے والی اس میٹنک کے ایجنڈے کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں لیکن یہاں کے سفارتی حلقوں میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس میٹنگ میں غزہ کی تعمیر نو، علاقائی سلامتی ، انسداد دہشت گردی میں تعاون ۔ اقتصادی پارٹنر شپ ، سرمایہ کاری اور فوڈ سیکورٹی جیسے اہم سوالوں پر تعوان اور اشتراک کی باتیں کی جائیں گی۔
تجزیہ کار اس میٹنگ کو موجودہ عالمی صورتحال میں عرب ممالک سے اپنے تعلقات مزید مستحکم کرنے کے لیے انڈیا کےایک بڑا موقع قرار دے رہے ہیں۔
ایران ’مذاکرات اور جنگ‘ دونوں کے لیے تیار ہے تاہم دھمکیوں کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ’ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں لیکن دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے حکام کے درمیان کسی ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہوا تاہم ایران منصفانہ اور برابری کی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اس معاملے پر ایران ترکی کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے زور دیا کہ ایران ’مذاکرات اور جنگ‘ دونوں کے لیے تیار ہے اور اب ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ الرٹ ہے اور اس بار امریکہ کی براہِ راست مداخلت کے باعث حالات بالکل مختلف ہوں گے اور بدقسمتی سے یہ جنگ دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔
عباس عراقچی نے یہ باتیں استنبول میں اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ ’ایران کی سلامتی کسی دوسرے ملک کا مسخلہ نہیں، ایران نہ صرف اپنی فوجی صلاحیتوں کو ’جتنی ضرورت ہو‘ برقرار رکھے گا بلکہ اس میں مزید وسعت دے گا۔
یاد رہے کہ عباس عراقچی اس وقت ایک روزہ دورے پر ترکی میں موجود ہیں جہاں ایرانی میڈیا کے مطابق وہ دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر بات چیت کریں گے بلکہ ترک صدر رجب طیب اردوغان سے بھی ملاقات کریں گے۔
عباس عراقچی نے ترکی کی جانب سے ایران اور حالیہ مظاہروں کے بارے میں اختیار کیے گئے مؤقف پر شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ’دوستانہ اور برادرانہ‘ قرار دیا۔
،تصویر کا کیپشنعباس عراقچی کی اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس
ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے اس موقع پر کہا کہ اسرائیل کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں سے باز آنا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ترکی کوشش کر رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات کو ایک نئے فریم ورک پر استوار کیا جائے۔ ان کے مطابق ’انقرہ فوجی حل کے خلاف ہے اور مذاکرات و سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے۔‘
ہاکان فیدان نے بتایا کہ انھوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف سے بھی بات چیت کی ہے۔ ان کے مطابق ترکی نہیں چاہتا کہ خطہ کسی نئی جنگ کا سامنا کرے اور یہ بھی کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ایران تنہا ہو۔‘
ترک وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے حالیہ مظاہروں کے متاثرین کے لیے وہ تعزیت پیش کرتے ہیں ان کے مطابق ’ایران کے مسائل عوام کو خود پُرامن طریقے سے حل کرنے چاہییں، جبکہ بیرونی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور ترکی کے درمیان ہمیشہ قریبی مشاورت رہی ہے۔
سونے کی قیمت میں مسلسل دو روز ہوشربا اضافے کے بعد فی تولہ سونا 35 ہزار 500 روپے سستا ہو گیا, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں جمعے کے روز سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 35 ہزار 500 روپے سستا ہو گیا جس کے بعد اس کی قیمت کم ہو کر 5 لاکھ 37 ہزار 362 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔
اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں 30 ہزار 435 روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد نئی قیمت چار لاکھ 60 ہزار 701 روپے مقرر کی گئی۔
پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی کی وجہ عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت میں کمی تھی جہاں سونے کی قیمت فی اونس سونا 355 ڈالر سستا ہو کر 5 ہزار 150 ڈالر پر آ گیا ہے۔
مقامی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت میں بھی کمی ہوئی ہے۔
فی تولہ چاندی ایک ہزار 106 روپے سستی ہو کر 11 ہزار 69 روپے کی سطح پر آ گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور ڈالر کی قدر میں تبدیلی کے باعث قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
کموڈیٹیز شعبے کے ماہر احسن الیاس نے سونے کی قیمت میں کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنیکل تصیح کی توقع تھی کیونکہ سونے کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔
انھوں نے کہا جب فروخت شروع ہوئی تو پھر اس کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا کیونکہ ہفتے کا اختتام بھی تھا اس کے ساتھ مہینے کا خاتمہ بھی ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے اپنی پوزیشن کو سیٹل کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ اگلے ہفتے میں دو بارہ خریداری ہو سکتی ہے۔‘
ایران کی موجودہ صورتحال علی خامنہ ای کی تباہ کن پالیسیوں کا نتیجہ ہے: مہدی کروبی
،تصویر کا ذریعہ.
ایران میں اپوزیشن رہنما مہدی کروبی نے اپنے ایک بیان میں رہبر اعلیٰ خامنہ ای کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کی موجودہ صورتحال براہِ راست علی خامنہ ای کی داخلی اور بین الاقوامی تباہ کن پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔‘
مہدی کروبی نے کہا کہ خامنے ای کی ان پالیسیوں میں ’مہنگے اور لاحاصل جوہری منصوبوں پر اصرار اور گزشتہ دو دہائیوں میں عوام و ملک پر پابندیوں کے سنگین اثرات‘ شامل ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ’اس بحران سے پُرامن طور پر نکلنے کا واحد راستہ عوام کی طرف رجوع کرنا اور ان کے حقِ خودارادیت کو ایک آزاد ریفرنڈم کے ذریعے تسلیم کرنا ہے۔‘
جنوری 2026 میں ہزاروں احتجاج کرنے والے شہریوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس سانحے کی گہرائی یقینا اتنی گہری ہے کہ اس گھناؤنے اور ظالمانہ قتل عام کو جواز بخشنے یا اس پر پردہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ مقتولین کی لاشوں کی بے حرمتی کے لیے کوئی بہانہ یا بہانہ قابل قبول نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جب خامنہ ای نے ’سنگین معاشی حالات کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کے وحشیانہ قتل عام کے بعد احتجاج کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ جھوٹا دعویٰ ہے کیونکہ اب تک انھوں نے اپنے حامیوں یا ان کے اختیار کردہ افراد کے علاوہ اجتماعات کے لیے اجازت نامے جاری نہیں کیے ہیں۔‘
اس سے ایک روز قبل اپوزیشن رہنما میر حسین موسوی نے بھی ایک بیان میں حکومت کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تُفنگ (ہتھیار) زمین پر رکھ کر اقتدار سے الگ ہو جائیں۔ عوام کس زبان میں کہیں کہ وہ اس نظام کو نہیں چاہتے۔‘
برطانیہ کا چین کے ساتھ بزنس کرنا خطرناک ہو سکتا ہے: ٹرمپ کا انتباہ, کرس میسن اور ٹوبی مین، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ چین کے ساتھ کاروبار کرنا ان کے لیے ’انتہائی خطرناک‘ ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر کا یہ بیان برطانیہ اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کیے گئے اُن معاہدوں کے بعد سامنے آیا ہے جن کا اعلان برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔
یاد رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر اپنے دورۂ چین کے تیسرے روز اس وقت شنگھائی میں موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی کو اپنا ’دوست‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ چینی صدر کو ’بہت قریب سے‘ جانتے ہیں۔
برطانیہ کے کاروباری امور کے وزیر سر کرس برائنٹ نے ٹرمپ کے بیان کو ’غلط‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ عالمی منظرنامے پر چین کی موجودگی کو نظرانداز کرنا برطانیہ کے لیے سراسر حماقت ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یقیناً ہم چین کے ساتھ تعلقات میں پوری آگاہی کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔‘ برطانوی وزیر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ اپریل میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔‘
ٹرمپ کے ریمارکس پر ردِعمل دیتے ہوئے ڈاؤننگ سٹریٹ نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن کو اس دورے اور اس کے مقاصد کے بارے میں پہلے سے آگاہ کیا گیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کینیڈا کے حوالے سے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ کینیڈا کے لیے مزید زیادہ خطرناک ہے۔ کینیڈا کی حالت اچھی نہیں، وہ بہت خراب کارکردگی دکھا رہا ہے اور آپ چین کو اس کا حل نہیں سمجھ سکتے۔‘
یاد رہے کہ اسی ہفتے کے آغاز میں امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ حالیہ معاشی معاہدوں پر عمل کیا تو اس پر محصولات عائد کیے جائیں گے۔ یہ معاہدے کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کے بیجنگ کے حالیہ دورے کے دوران طے پائے تھے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سر کیئر سٹارمر نے چینی صدر سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ چین کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات بہترین حالت میں ہیں۔
بلوچستان میں دو کارروائیوں میں 41 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر
بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 41 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں ایک انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشن میں ان شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ملیں۔
بیان کے مطابق ’پاکستان کی افواج نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد انڈیا کے حمایت یافتہ 30 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے جن کے پاس سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا جسے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔‘
آئی ایس پی آر نے اعلامیے میں بتایا کہ ’ایک اور آپریشن میں ضلع پنجگور میں دہشت گردوں کا ایک ٹھکانہ تباہ کیا گیا اور ’فتنہ الہندوستان‘ کے حمایت یافتہ 11 دہشت گرد مارے گئے۔‘
اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ان دہشت گردوں سے اسلحہ اور بارودی مواد کے علاوہ 15 دسمبر 2025 کو پنجگور میں بینک ڈکیتی کے دوران لوٹی گئی رقم بھی برآمد ہوئی۔ یہ شدت پسند ماضی میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ’علاقے میں موجود دیگر دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔‘
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں کرپشن کے خاتمے اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مؤثر پیش رفت جاری ہے۔
بیان کے مطابق ’سیکورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ صوبے میں امن کے قیام کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ سیکورٹی فورسز کی قربانیاں قابلِ تحسین ہیں۔‘
یورپ ہماری فوج کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے کر بڑی سٹریٹجک غلطی کر رہا ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی
جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو ’بڑی
سٹریٹجک غلطی‘ قرار دے دیا۔
انھوں نے جمعرات کے
روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں کہا ہے ’کئی ممالک ہمارے خطے میں ہمہ گیر
جنگ شروع ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی یورپی [ملک] نہیں۔‘
عراقچی کا کہنا ہے
کہ یورپ تنازع کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔
’امریکہ کے کہنے پر
'سنیپ بیک' (پلٹ کر جواب دینے) کے بعد، وہ اب ہماری قومی فوج کو ایک ’دہشت گرد تنظیم‘
قرار دے کر ایک اور بڑی سٹریٹجک غلطی کر رہے ہیں۔‘
ایرانی وزیرِ خارجہ
کا کہنا ہے کہ یورپی باشندے اس سے کہیں بہتر کے مستحق ہیں جو ان کی حکومتیں انھیں
فراہم کر رہی ہیں۔
ایرانی مسلح افواج نے
یورپی یونین کے اس فیصلے کو ’غیر منطقی اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا اور یہ ایران
کے یورپی یونین کی ’گہری دشمنی‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
یکم سے تین فروری کے دوران مری اور گلیات میں مزید برفباری کا امکان: پی ڈی ایم اے
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ
پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے صوبے کے بالائی علاقوں میں
برفباری اور بارش کی پیش گوئی کی ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب
کا کہنا ہے کہ یکم سے 3 فروری کے دوران مری، گلیات اور گردونواح میں برفباری اور بارش ہو
گی جبکہ پوٹھوہار ریجن، سیالکوٹ، نارووال، گجرات اور گجرانوالہ میں بھی بارش کا امکان
ہے۔
ڈائیریکٹر جنرل پی
ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت، ریسکیو 1122، پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ
کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کا
کہنا ہے کہ مری میں برفباری کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں
جبکہ سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کا
مزید کہنا ہے کہ گاڑی چلاتے وقت تیز رفتاری اور اچانک بریک لگانے سے اجتناب کریں۔