وزیراعظم شہباز شریف کا پسرور چھاؤنی میں فوجی جوانوں سے خطاب: ’آپ نے انڈیا سے 1971 کا بدلہ اس جنگ میں لے لیا‘

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو سیالکوٹ میں پسرور چھاؤنی کے دورے کے موقع پر اپنے خطاب میں انڈیا کے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسٹر مودی اگر دوبارہ یہ رستہ اختیار کرو گے تو منھ کی کھاو گے، اگر دوبارہ حملے کا سوچا تو جو تمھارا بچا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔‘ انھوں نے کہا ’سندھ طاس معاہدے سے متعلق سوچنا بھی نہ‘ اور کشمیر سمیت تمام امور پر جامع مذاکرات ہوں گے۔

خلاصہ

  • وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف کے ساتھ سیالکوٹ میں پسرور چھاؤنی کا دورہ کیا اور فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ نے انڈیا سے 1971 کا بدلہ اس جنگ میں لے لیا'۔
  • امریکی صدر نے شام سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور غیرملکی دہشتگردوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
  • صدر ٹرمپ کی شام کے عبوری صدر احمد الشرح سے سعودی عرب میں ملاقات، ترک صدر رجب طییب اردوغان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اس ملاقات میں شرکت کی۔
  • انڈیا کے ادارے بارڈر سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کے روز بی ایس ایف کے کانسٹیبل پرنم کمار شو کو پاکستان نے واپس انڈیا کے حوالے کر دیا ہے۔
  • پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ فوج بھی میری ہے اور یہ ملک بھی میرا ہے۔ قوم کو تیار اور متحد رہنا ہو گا۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی قیادت غیر متزلزل اور طاقتور اور ذہین ہے، امید ہے یہ جنگ بندی مستقل ہو گی۔

لائیو کوریج

  1. ’امریکہ پر پیسوں کی بارش‘، 600 بلین ڈالر کا معاہدہ ایک ٹریلین ڈالر کا ہو سکتا ہے: محمد بن سلمان

    MBS

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ریاض میں اہم معاہدوں پر دستخط کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب بھی کیا ہے اور دونوں رہنماؤں نے تعلقات کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ آج ان کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جو 600 بلین ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے یہ آنے والا مہینوں میں بڑھ کر ایک ٹریلین ڈالر تک کا ہو سکتا ہے۔

    محمد بن سلمان نے اس کے بعد اس معاہدے کے چند نکات پر بات کی جس میں فوجی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ انھوں نے کہا اس سے سعودی عرب میں ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

    محمد بن سلمان نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے گہرے معاشی تعلقات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارے دو دوست ممالک کے درمیان گہرے معاشی تعلقات پائے جاتے ہیں اور آج دونوں اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ مشترکہ سرمایہ کاری ہمارے معاشی تعلقات کا اہم ستون ہے۔

    ’امریکہ پر پیسوں کی بارش ہو رہی ہے‘

    امریکی صدر نے کہا کہ آج ان کی حکومت نے دو اہم تاریخی تجارتی معاہدے کیے ہیں اور یہ دونوں بہت ہی شاندار ہیں۔ انھوں نے پہلے برطانیہ کے ساتھ ٹیرف معاہدے کا ذکر کیا اور پھر کہا کہ امریکہ نے چین کے ساتھ بھی ایک اہم معاہدہ کر لیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان کی ٹیم ان معاہدات کی کچھ تفصیلات شیئر کرے گی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اب چین اس بات پر رضامند ہو گیا ہے کہ وہ امریکہ سے تجارت سمیت ہر شعبے میں کام کرے گا۔

    انھوں نے اپنے صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد امریکہ کی معیشت میں ترقی کی تعریف کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جب سے ہم اقتدار میں آئے ہیں تو ہم امریکہ آنے والی دولت اور جو آ رہی ہے اسے دیکھ سکتے ہیں۔

    ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم شاندار کام کر رہے ہیں۔‘

    انھوں امیگریشن، امریکی افواج میں بھرتیوں اور دیگر پالیسی امور پر تفصیل سے بات کی۔

    امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں: ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج ہم نے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کو بہت قریبی، مضبوط اور انتہائی طاقتور بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ تعلقات ایسے ہی رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ دوسروں کی طرح کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف نہیں ہوگا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس کے بارے میں یہ کہہ رہے تھے۔

    ٹرمپ نے سعودی عرب میں آٹھ برس قبل اپنے دورے کے دوران مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا وہ یہ سب نہیں بھول پائے۔ اپنے خطاب میں انھوں نے محمد بن سلمان کو ’گریٹ مین‘ کہا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک عظیم جگہ ہے اور اور یہاں کے عوام بہت شاندار لوگ ہیں۔ انھوں محمد بن سلمان کی تعریف کرتے ہوئے انھیں ایک ’شاندار آدمی‘ قرار دیا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ان کا دورہ امریکہ اور سعودی عرب میں 80 برس کے تعلقات کا عکاس ہے اور یہ تعلقات سکیورٹی اور خوشحالی کے مظہر ہیں۔

  2. بریکنگ, امریکہ اور سعودی عرب میں ہتھیاروں کی خریداری کا 142 بلین ڈالر کا معاہدہ طے پا گیا ہے: وائٹ ہاؤس

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب میں ہتھیاروں کی خریداری کا 142 بلین ڈالر کا معاہدہ طے پا گیا ہے جو دونوں ملکوں کی تاریخ میں پہلا بڑا معاہدہ ہے۔

    ہتھیاروں کی خریداری کا یہ معاہدہ 142 بلین ڈالر کا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ سعودی عرب کو ایک درجن سے زائد امریکی کمپنیوں کی تیار کردہ جدید جنگی آلات اور سروسز فراہم کرے گا۔

    امریکہ پانچ شعبوں میں سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کرے گا۔

    ایئر فورس کو جدید بنانے اور خلائی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے والے ہتھیار

    ایئر اور میزائل ڈیفینس

    میری ٹائم اور کوسٹل سکیورٹی

    بارڈر سکیورٹی اور لینڈ فورسز ماڈرنائزیشن

    انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن سسٹمز اپ گریڈز

    وائٹ ہاؤس کے مطابق اس معاہدے میں بہت اہم سطح کی ٹریننگ اور سعودی افواج کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مدد بھی شامل ہے۔ امریکہ سعودی سروس اکیڈمیز اور ملٹری میڈیکل سروسز میں اضافہ کرے گا۔

    امریکہ اور سعودی عرب میں طے پانے والے معاہدات کی تفصیل

    US Nets

    ،تصویر کا ذریعہUS Nets

    امریکہ اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان طے پانے والے معاہدات میں توانائی کے شعبے میں ایک یادداشت پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔

    مسقبل میں سعودی عرب امریکہ سے دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے 100 بلین ڈالر کے ہتھیار خریدے گا۔ اس حوالے سے سعودی عرب نے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

    معدنی ذخائر سے متعلق بھی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ بھی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ سپیس اور وبائی امراض پر قابو پانے سے متعلق بھی تعاون پر اتفاق ہوا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق سعودی عرب نے امریکہ میں 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس میں امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

    امریکہ کی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں نے دونوں ملکوں میں 80 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے۔ امریکہ سے 14.2 بلین ڈالر کے گیس ٹربائنز اور توانائی کے حل برآمد کیے جائیں گے۔ سعودی عرب امریکہ سے 4.8 بلین کے بوئنگ 737-8 مسافر طیارے بھی خریدے گا۔

  3. بلوچستان کے ضلع نوشکی سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے چار افراد کی لاشیں برآمد, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع نوشکی سے منگل کے روز چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد کی گئیں جن کو حکام کے مطابق گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ سرکاری حکام کے مطابق جن افراد کو ہلاک کیا گیا ہے ان کا تعلق پنجاب سے ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نوشکی امجد سومرو نے چار افراد کی لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی لاشیں ضلع کے علاقے گلنگور سے برآمد کی گئیں۔

    انھوں نے بتایا کہ برآمدگی کے بعد ان افراد کی لاشیں شناخت کے لیے ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کی گئیں۔ فون پر رابطہ کرنے پر نوشکی میں سویلین انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چاروں افراد کو گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ان افراد کو ضلع نوشکی کے علاقے احمد وال سے اغوا کیا گیا تھا اور مارے جانے والے یہ لوگ ایران سے مائع گیس لانے والے گیس کے ٹینکروں سے وابستہ تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ چاروں افراد کی لاشیں نوشکی سے اندازاً 20 کلومیٹر دور گلنگور کے علاقے سے برآمد کرکے شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کی گئیں۔

    اہلکار نے بتایا کہ چاروں افراد کی شناخت عمران علی، عرفان علی، محمد حذیفہ اور معین مصفطیٰ کے ناموں سے ہوئی۔ ان میں سے عمران علی اور عرفان علی کا تعلق پنجاب کے علاقے رحیم یار خان جبکہ محمد حذیفہ اور معین مصطفیٰ کا کا تعلق پاکپتن سے تھا۔

    رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے دونوں افراد آپس میں بھائی بتائے جاتے ہیں۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز واقعہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن دشمنوں کو معاف نہیں کیا جائے گا اور اس واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جائے گا۔

    اگرچہ تاحال ان افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم جس روز ان افراد کو اغوا کیا گیا تھا اس روز احمد وال میں مختلف واقعات کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

  4. کشمیر دو طرفہ مسئلہ ہے، امریکہ سے آپریشن سندور سے لے کر جنگ بندی تک تجارت پر کوئی بات نہیں ہوئی: انڈیا

    India

    ،تصویر کا ذریعہANI

    انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا ہے کہ سات مئی کو آپریشن سندور کے آغاز سے لے کر دس مئی کی فوجی کارروائی اور جنگ بندی معاہدے پر پہنچنے تک امریکی حکام سے تجارت پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر لڑائی نہ روکی گئی تو امریکہ دونوں ملکوں سے تجارت روک دے گا۔

    رندھیر جیسوال نے منگل کے روز کہا کہ ’جموں و کشمیر پر انڈیا کا موقف پہلے کی طرح واضح ہے۔ اور یہ مسئلہ مکمل طور پر دو طرفہ ہے اور اسے صرف انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہی حل ہونا چاہیے۔‘

    دس مئی کو صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ امریکی ثالثی میں انڈیا اور پاکستان چار دن کی شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد ’مکمل اور فوری جنگ بندی‘ پر رضامند ہو گئے ہیں۔ بعد میں ایک اور پیغام میں انھوں نے کہا: ’میں آپ دونوں کے ساتھ مل کر کام کروں گا تاکہ ایک ہزار سال بعد کشمیر کے معاملے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔‘

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’یہ ہمارا دیرینہ قومی موقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے سے متعلق کوئی بھی مسئلہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ طور پر حل ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس اعلان کردہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ’جموں و کشمیر پر پاکستان کے ساتھ انڈیا کا واحد زیر التوا مسئلہ غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقے کی واپسی ہے۔‘ رندھیر جیسوال کے مطابق ’زیر التوا معاملہ پاکستان کے غیر قانونی طور پر قابض انڈین علاقے کو خالی کروانا ہے۔‘

    پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو پر وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جیت کا دعوی کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ انھوں نے 1971، 1975 اور 1999 کی کارگل جنگ میں بھی یہی کچھ کیا۔ ان کی رائے میں ’یہ پاکستان کا پرانا رویہ ہے۔‘

    رندھیر جیسوال نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو کابینہ کی کمیٹی برائے سکیورٹی کے فیصلے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا اس معاہدے کو اس وقت تک معطل رکھے گا جب تک کہ پاکستان قابل اعتبار طور سے سرحد پار دہشت گردی کی حمایت ترک نہیں کرتا۔

  5. ٹرمپ کے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے میں کن چار اہم امور پر بات ہو گی؟, عامر راواش، بی بی سی نیوز

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کسی بھی امریکی صدر کا پہلا غیر ملکی دورہ واشنگٹن کے اتحادیوں اور حریفوں کے لیے کچھ پیغامات رکھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس دورے کو تجارت کے لیے اہم موقع سمجھتے ہیں۔

    اپنی پہلی مدت میں، ٹرمپ نے امریکی صدور کی دہائیوں پرانی روایت کو توڑا، جنھوں نے ’پرانے براعظم‘ میں واشنگٹن کے سٹریٹجک مفادات کی روشنی میں اپنے قریبی پڑوسیوں۔۔ کینیڈا، میکسیکو، یا یورپی ممالک سے ابتدائی دورے شروع کرنے کو ترجیح دی۔

    وہ امریکہ کے صدر بننے کے بعد مئی 2017 میں اپنے پہلے دورے پر سعودی عرب پہنچے، انھوں نے مشرق وسطیٰ کے اہم اتحادیوں سے ملاقات کی۔

    سینکڑوں ارب ڈالر کے معاہدوں کا جشن منایا، اور سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ روایتی ’ارد‘ تلوار کے ساتھ رقص میں حصہ لیا۔

    اب ایک بار پھر ٹرمپ نے دوسری بار صدارت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے۔

    ٹرمپ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے کو کیوں خاص اہمیت دیتے ہیں؟ کیا ان کا دورہ ان کی دوسری مدت کے دوران ان کی ترجیحات کی وضاحت کرتا ہے؟

    خلیجی امور کے ماہر عمانی ماہر تعلیم عبداللہ بابود نے بی بی سی نیوز عربی کو بتایا کہ امریکی صدر خلیجی خطے کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور عالمی اثر و رسوخ اور اس کے ممالک کی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اس کے اقتصادی اور سیاسی وزن سے آگاہ ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خطے کا استحکام، تزویراتی محل وقوع اور خلیجی ریاستوں کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات انھیں ’ایک ایسا کردار دیتے ہیں جو ان کے حجم اور صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں۔‘

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنDonald Trump

    بڑے کاروباری معاہدے

    جب صدر ٹرمپ نے گذشتہ مارچ میں اس سفر کے لیے اپنے منصوبوں کے بارے میں بتایا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے خلیج کے امیر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کو انجام دینے کے لیے خلیج کا دورہ کرنے کو ترجیح دی۔ انھوں نے کہا کہ ان کا پہلے غیرملکی دورے کا انتخاب ’سینکڑوں بلین ڈالرز‘ کے معاہدوں کے وعدوں کے بعد ہو رہا ہے جس سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا۔

    عمانی ماہر تعلیم عبداللہ بابود کہتے ہیں کہ ’خلیجی خطے کی سرمایہ کاری، نقد ذخائر اور خودمختار دولت کے فنڈز اسے عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔‘

    عمانی محقق کے مطابق امریکی معیشت کو درپیش چیلنجوں کی روشنی میں ٹرمپ کو احساس ہے کہ یہ خطہ ان کی مدد کر سکتا ہے۔

    سنہ 2017 میں سعودی عرب کا دورہ کرنے کے بعد، ٹرمپ نے 450 بلین ڈالر سے زیادہ کے معاہدوں پر بہت خوشی کا اظہار کیا تھا جس میں 110 بلین ڈالر کی فوجی فروخت بھی شامل ہے۔

    لیکن اس بار ٹرمپ سعودیوں کے ساتھ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے معاہدوں کی امید کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے امریکہ میں 10 سالہ ’سرمایہ کاری کے فریم ورک‘ کا وعدہ کر رکھا ہے، جس کی مالیت 1.4 ٹریلین ڈالر ہے۔

    امریکی اور مشرق وسطیٰ کے امور میں ماہر واشنگٹن میں مقیم محقق حسن منیمنہ کے مطابق ٹرمپ اپنے خلیجی دورے سے ’فوری فوائد‘ حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

    حسن منیمنہ نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ چین اور دیگر ممالک کے خلاف ٹرمپ کی ’تجارتی جنگ‘ کے تناظر میں انھیں اپنی پالیسیوں کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ معاہدے ہو رہے ہیں۔‘

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشرق وسطیٰ کے بحران

    اس وقت جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کا مستقبل اور ایران کا جوہری پروگرام امریکی خارجہ پالیسی کے سب سے نمایاں مسائل میں سے دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں معاملات میں خلیجی اتحادیوں کا نمایاں کردار ہے۔

    اپنی دوسری مدت کے آغاز کے چند دن بعد ٹرمپ نے یہ کہہ کر دنیا کو چونکا دیا کہ امریکہ غزہ کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

    ٹرمپ کے اس منصوبے کو بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور عرب ممالک نے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے متبادل نقطہ نظر پیش کیا، لیکن امریکہ اور اسرائیل نے اس پر اعتراض کیا۔

    عبداللہ بابود کو توقع ہے کہ ٹرمپ اپنے دورے کے دوران جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے مالی مدد حاصل کریں گے۔

    ان کے مطابق حماس سے دیگر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے خلیجی ممالک سے کردار ادا کرنے کے لیے بات کریں گے۔

    قطر، جہاں مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ بھی ہے، حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور مغویوں کی رہائی کے لیے ثالثی کی کوششوں میں حصہ لے رہا ہے۔

    غزہ جنگ سے جڑے علاقائی اثرات کے تناظر میں امریکہ نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی کو کو مزید یقینی بنایا ہے۔

    یمن میں حوثی انصار اللہ تحریک کے خلاف شدید فضائی حملے شروع کیے جب حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، اس کا جواز فلسطینیوں کے لیے ان کی حمایت کا ہے۔

    ٹرمپ کے دورے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل سلطنت عمان نے واشنگٹن اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی کی ثالثی کی۔

    محقق حسن منیمنہ کا خیال ہے کہ امریکی صدر کی خطے میں آمد سے قبل ریاض نے ممکنہ طور پر واشنگٹن سے یمن پر اپنے فضائی حملے بند کرنے کو کہا تھا۔

    تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر بمباری کر دیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کے ساتھ نمٹنے کے دو طریقے ہیں: یا تو عسکری طور پر، یا معاہدہ کر کے۔‘

    ٹرمپ نے گزشتہ مارچ میں فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ’معاہدہ کرنے‘ کو ترجیح دیتے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے 30 اپریل کو ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی حکومت مشرق وسطیٰ میں تنازعات کو ہوا دے رہی ہے، اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے، اور اپنے دہشت گرد پراکسیوں اور شراکت داروں کی حمایت کر رہی ہے۔‘

    تاہم، ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور ایران براہ راست جنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ سلطنت عمان نے ان کے درمیان تصفیہ تک پہنچنے کے لیے ثالثی کی ہے۔

    عالمی سطح پر خلیج کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ

    سعودی عرب امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ گزشتہ فروری میں ریاض نے یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے طریقوں پر امریکی اور روسی حکام کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی تھی۔

    یہ ملاقات، 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی۔

    مارچ میں سعودی عرب نے امریکہ، روس اور یوکرین کے وفود کی بات چیت کے الگ الگ دور کی میزبانی کی۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے بھی کامیاب ثالثی کی۔

    عبداللہ بابود کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستوں نے اپنی مالی صلاحیتوں اور تیل اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر کے علاوہ علاقائی اور عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اپنے کردار کی بدولت سیاسی اور اقتصادی اثر و رسوخ حاصل کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ چین سمیت امریکی حریف اس خطے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اسی لیے واشنگٹن خلیجی رہنماؤں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

    Saudi Arabia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معمول پر آنے کے مواقع

    اپنی پہلی مدت کے دوران، ٹرمپ نے اسرائیل اور چار عرب ممالک، متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان کے درمیان معمول پر آنے والے معاہدوں کی ثالثی کرکے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔

    جہاں سوڈان میں جاری جنگ نے اس کے معمول پر لانے کی بات چیت کو متاثر کیا ہے وہیں دیگر تین ممالک مصر اور اردن کے ساتھ مل کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔

    سعودی عرب، عرب اور اسلامی دنیا میں نمایاں اثر و رسوخ رکھنے والا ملک، ابھی تک اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے۔

    ایک سینیئر سعودی اہلکار نے گذشتہ سال بی بی سی کو بتایا تھا کہ حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کرنے سے قبل دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدہ ’آسان‘ تھا۔

    ٹرمپ کی طرف سے یہ اشارہ دینے کے بعد کہ ریاض کو کسی معاہدے تک پہنچنے کی شرط کے طور پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت نہیں ہو سکتی، سعودی عرب نے اس بات کی تصدیق کی کہ ’فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہوں گے۔‘

    مبصرین کا خیال ہے کہ تعلقات معمول پر آنے کا یہ معاملہ اس وقت سعودی عرب کے لیے کسی حد تک حساس ہے۔

    عبداللہ بابود کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ جاری رہنے کی وجہ سے سعودی عرب ٹرمپ کے دورے کے دوران اس معاملے پر بات کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔

    عبداللہ بابود کو یہ توقع ہے کہ امریکی صدر اپنی دوسری صدارتی مدت کے دوران اسرائیل اور دیگر خلیجی ریاستوں کے درمیان معاہدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ خطے میں ایک بڑی تبدیلی کا عکاس ہوگا اور اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔‘

  6. انڈیا کوئی غلطی نہ کرے، جنگ بندی کئی ممالک کی کوششوں سے ممکن ہوئی: دفتر خارجہ کا وزیراعظم مودی کے خطاب پر ردعمل

    پاکستان نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے بیانات کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’مودی کا بیان خطے میں امن کی کوششوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، جنگ بندی کی خواہش کو پاکستان سے جوڑنا جھوٹ ہے۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ شام اور آج انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ وہ جوہری حملے کی دھمکی سے بلیک میل نہیں ہوں گے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’تین چیزیں طے کر دی ہیں: انڈیا پر دہشتگردی کا حملہ ہوا تو ہم اپنے طریقے سے، اپنی شرطوں پر اور اپنی مرضی کے وقت پر جواب دیں گے، کوئی بھی نیوکلیئر خطرہ انڈیا نہیں سہے گا۔ ہم دہشتگردوں اور ان کے آقاؤں کو الگ الگ نہیں دیکھیں گے۔‘

    اس کے ردعمل میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ انڈیا کوئی غلطی نہ کرے، ہم اس متعلق آنے والے دنوں میں باریک بینی سے انڈین اقدامات اور رویے کا جائزہ لیں گے۔ ’ہم عالمی برادری سے بھی یہی کہیں گے کہ وہ بھی ایسا ہی کرے۔‘ پاکستان نے کہا ہے کہ انڈیا کے خلاف اپنے دفاع میں پاکستان نے انڈیا کے صرف فوجی اہداف کو ہی نشانہ بنایا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے عین مطابق اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ انڈین وزیر اعظم کے بیانات سیاسی موقع پرستی کے عکاس اور خطے میں امن کی کوششوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہیں۔

    دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ پاکستان نے کہا کہ جنگ بندی کئی دوست ممالک کی کاوشوں سے ممکن ہوئی، جنگ بندی کی خواہش کو پاکستان سے جوڑنا جھوٹ ہے۔

    وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پر مایوسی اور ناکامی میں سیز فائر مانگنے کا الزام سراسر جھوٹ ہے۔

    بیان کے مطابق پاکستان کا انسداد دہشت گردی میں کردار عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم مودی پہلگام حملے کے ثبوت پیش کیے بغیر اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان نے کہا ہے کہ انڈین وزیراعظم عام شہریوں کی موت کو بھی دہشتگردوں سے جوڑ رہے ہیں اوراسے ایک ’نیو نارمل‘ کا نام دے رہے ہیں۔ پاکستان نے کہا کہ وہ اس ہرزہ سرائی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور نارمل یہی ہے کہ کسی بھی ملک کو اقوام متحدہ کے چارٹر کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جیسا کہ انڈیا کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے اپنی سلامتی، اپنی علاقائی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ انڈیا کو علاقائی استحکام اور اپنے عوام کی فلاح وبہبود کو ترجیح دینی چاہیے۔

  7. ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر ریاض پہنچ گئے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے غیر ملکی دورے پر منگل کو سعودی عرب پہنچ گئے ہیں، جہاں سے پھر وہ متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں بڑے تنازعات کو حل کرنے اور تجارتی معاہدے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر امریکی صدر کا استقبال کیا۔ امریکی صدر کا یہ دورہ 16 مئی تک جاری رہے گا۔ اپنی دوسری صدارتی مدت کے دوران امریکہ سے باہر ان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

    اس سے قبل انھوں نے پوپ فرانسس کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے روم کا مختصر دورہ کیا تھا۔

    آٹھ سال قبل ٹرمپ نے بطور صدر پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا ہی کیا تھا جہاں انھوں نے خاص تصویریں کھنچوائیں اور تلوار کے رقص میں حصہ بھی لیا۔

    خلیجی ممالک کے دورے سے پہلے کے دنوں میں، وائٹ ہاؤس نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرانے، حماس کے ہاتھوں غزہ میں ایک اسرائیلی امریکی یرغمالی کی رہائی اور ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے ایک اور دور کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

    یہ سفارتی اقدامات گذشتہ ہفتے ٹرمپ کے اس حیران کن اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ انھوں نے یمن میں حوثی گروپ کے ساتھ تقریباً دو ماہ کے قریب روزانہ فضائی حملوں کو نشانہ بنانے کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ’ہم ان کے ساتھ بہت اچھے رہے ہیں‘

    منگل کی صبح ریاض میں سعودی-امریکی سرمایہ کاری فورم کا آغاز ہوا جس میں دونوں ممالک کے سعودی وزرا اور معروف کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

    ٹرمپ خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور سلطنت عمان کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جنوری میں امریکی تجارت اور سرمایہ کاری میں 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔

    اس پیشکش کے جواب میں، ٹرمپ نے کہا کہ ’میں ولی عہد محمد بن سلمان، جو ایک عظیم انسان ہیں، سے اس سرمایہ کاری کو تقریباً ایک ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کے لیے کہوں گا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ایسا کریں گے کیونکہ ہم ان کے ساتھ بہت اچھے رہے ہیں۔‘

    وزارت دفاع کے ایک سعودی اہلکار کے مطابق ریاض اربوں ڈالر مالیت کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام کے ساتھ جدید ترین امریکی F-35 لڑاکا طیاروں کی ڈیل کی بھی کوشش کرے گا۔

    اہلکار نے مزید کہا کہ ’ہم مطالبہ کریں گے کہ ٹرمپ کی مدت کے دوران، خاص طور پر فضائی دفاعی میزائلوں کی فراہمی مکمل کی جائے۔‘

    سعودی عرب کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوششیں اس سفر کے ایجنڈے میں سرفہرست نہیں ہیں، کیونکہ ریاض نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر بات کرنے سے پہلے فلسطینی ریاست کے قیام پر اصرار کیا ہے۔

    اس دورے میں ایران سے متعلق بات چیت بھی اہم ہوگی۔

  8. پاکستان کے میزائل، ڈرون اور ایئرکرافٹس ہمارے ایئر ڈیفنس سسٹم کے سامنے ڈھیر ہو گئے: نریندر مودی

    Modi

    ،تصویر کا ذریعہScreenshot

    انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو آدم پور ایئر بیس پر انڈین فضائیہ کے جوانوں اور افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے میزائل، ڈرون، یو اے ویز اور ایئرکرافٹس ہمارے ایئر ڈیفنس سسٹم کے سامنے سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔‘ انھوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ ’پاکستان کے حملوں میں ہمارے کسی ایئر بیس اور ایئرڈیفنس سسٹم پر آنچ تک نہیں آئی۔‘

    وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’آپریشن سندور سے بوکھلائے دشمن نے اس ایئربیس سمیت ہمارے ایئربیسز پر کئی بار حملہ کرنے کی کوشش کی۔ بار بار اس نے ہمیں ٹارگٹ کیا، لیکن ناپاک ارادے ہر بار ناکام ہو گئے ہیں۔‘

    وزیراعظم مودی نے کہا کہ اب ہم صرف ہتھیاروں سے نہیں جنگ کر رہے ہیں بلکہ اب ڈرون اور ڈیٹا سے لڑائی ہو رہی ہے۔ ’ہمیں ہر وقت الرٹ اور تیار رہنے کی ضرورت ہے اور ہمیں دشمن کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اب اس کا سامنا نئے انڈیا سے ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری ایئرفورس نے صرف 20 ،25 منٹ کے اندر پاکستان کے اندر اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا۔‘

    وزیراعظم مودی نے انڈین فضائیہ سے خطاب میں مزید کہا کہ ’یہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک پیشہ ور فوج ہی کر سکتی ہے۔ آپ کی رفتار اور درستگی اتنی تھی کہ دشمن ہکا بکا رہ گیا اور اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کب اس کا سینہ چھلنی ہو گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان ہماری جدید ٹیکنالوجی کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ہمارے ڈرون اور میزائل کے بارے میں سوچ کر پاکستان کو کئی دن تک نیند نہیں آئے گی۔‘

    ان کے مطابق آپریشن سندور کی گونج ہر کونے میں سنائی دے رہی ہے۔

    وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’جب ہماری بہنوں اور بیٹیوں کا سندور چھینا گیا تو پھر ان کے گھر میں گھس کر دہشتگردوں کو کچل دیا اور نو ٹھکانوں کو مٹی میں ملا کر سو سے زائد دہشتگرد مارے ہیں۔‘

  9. سیزفائر کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں زندگی معمول پر آنے لگی، علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی شروع, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    کشمیر

    امریکی ثالثی کے نتیجے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان سنیچر کے روز ہونے والے سیز فائر کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں معمولاتِ زندگی بحال ہونا شروع ہو گئے۔

    منگل کو سرینگر کے علاوہ سبھی اضلاع اور ایل او سی کی قریبی بستیوں میں سکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں کلاسیں دوبارہ شروع ہوگئی ہیں۔

    ایئر پورٹ حکام کے مطابق منگل سے طے شدہ پروازیں سرینگر اور جموں کے ہوائی اڈوں سے شروع ہوگئی ہیں۔

    عازمینِ حج کا پہلا قافلہ 4 مئی کو روانہ ہوا تھا، لیکن سرحد پر کشیدگی کے بعد حج قافلوں کی روانگی کا سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ حج قافلوں کی روانگی کا سلسلہ بدھ کی صبح سے شروع ہوجائے گا اور پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے جو عازمین اپنے وقت پر نہیں جاسکے ان کے لیے اضافی پروازوں کا انتظام کیا جارہا ہے۔

    تاہم منگل کے روز انڈیا کی نجی ایئر لائن ’ایئرانڈیا‘ نے جموں جبکہ ’انڈیگو‘ نےجموں اور سرینگر کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کردی ہیں۔

    دوسری جانب ایل او سی کی قریبی بستیوں سے جو لوگ نقل مکانی کرکے عارضی رہائشی کیمپوں میں منتقل ہو گئے تھے اُن کی واپسی کے لیے حکومت نے خصوصی بس سروس کا اہتمام کیا ہے۔

    کشمیر

    چار دن تک جاری رہنے والے اس تصادم کے دوران انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اوڑی، ٹنگڈار، کرناہ، مژھِل، چوکی بل اور دوسرے دیہات میں کراس بارڈر شیلنگ کے نتیجے میں کچھ ایسے بارودی گولے بھی گرے تھے جو نہیں پھٹے۔

    بارہمولہ کے ایس ایس پی گُریندر پال سنگھ اور کپوارہ کے ایس ایس پی غلام جیلانی کے مطابق دونوں اضلاع میں درجنوں بستیوں سے ایسے شیل ناکارہ بنانے کے لیے پولیس، فوج اور نیم فوجی اداروں کے بم ڈسپوزل سکواڈز دو روز سے کام کررہے ہیں۔

    پولیس کے مطابق اوڑی میں ایسے 20 گولے ملے تھے، جن میں سے بیشتر کو ناکارہ بنادیا گیا ہے۔

    جموں کے پونچھ، راجوری اور آر ایس پورہ سیکٹروں میں بھی شیلز کو ناکارہ بنانے اور نقل مکانی کر چکے شہریوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

    اس دوران جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے پیر کے روز راجوری اور پونچھ کا دورہ کرکے نقصان کا جائزہ لیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔

    واضح رہے 22 اپریل کی دوپہر کو کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں نامعلوم مسلح افراد نے سیاحوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کی جس میں دو درجن سے زیادہ سیاح اور ایک کشمیری گھوڑے بان ہلاک ہوگئے۔ اس حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی جو بالآخر 6 مئی کی رات کو اُسوقت باقاعدہ فوجی ٹکراوٴ میں تبدیل ہوگئی جب انڈیا نے دعویٰ کیا کہ انڈین فضائیہ نے پاکستان اور اس کے زیرانتظام کشمیر میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ردعمل میں پاکستان ایئر فورس نے انڈیا کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

    تقریباً چار روز جاری رہنے والی لڑائی اور دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے پر میزائیلوں، فائرنگ اور ڈرونز سے حملوں کے دعووں کے بعد بالآخر سنیچر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انڈیا اور پاکستان سیز فائر پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

    سیز فائر کے بعد بھی دونوں جانب سے ایک دوسرے سیز فائر کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تاہم دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کے مابین پیر کی شام ہاٹ لائن پر بات ہوئی اور دونوں جانب سے جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

  10. نور مقدم قتل کیس فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت 19 مئی تک ملتوی: ’آج تک ملزم کی دماغی صحت جاننے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا‘

    نور مقدم

    ،تصویر کا ذریعہSARA MUKADAM

    ،تصویر کا کیپشن27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون فور کے ایک مکان میں قتل کر دیا گیا تھا اور اسی روز پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر لیا تھا۔

    سپریم کورٹ میں زیر سماعت نور مقدم قتل کیس کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے دوران مجرم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے مزید دستاویزات جمع کروانے کیلئے مہلت مانگتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آج تک ملزم کی دماغی صحت جاننے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا۔

    منگل کے روز سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نور مقدم قتل کیس کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔

    دوران سماعت مجرم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے اور مزید دستاویزات جمع کرانے کیلئے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔

    بینچ کے سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ آپ عدالت میں موجود ہیں تو التوا کیوں دیں؟ اس پر سلمان صفدر نے موقف اختیار کیا کہ ظاہر جعفر دماغی صحت ٹھیک نہیں، اس نکتے کو عدالتوں نے یکسر نظرانداز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کچھ دستاویزات جمع کروانا چاہتے ہیں جن سے کیس یکسر تبدیل ہو جائے گا۔

    ظاہر جعفر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس کیس میں عدالتوں نے سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلوں کو بھی نظرانداز کیا۔

    تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا ان کی دماغی صحت کے متعلق نکتہ ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ میں اٹھایا گیا تھا؟

    مجرم کے وکیل موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے اس نکتے کو نظرانداز کیا تھا۔

    جسٹس کاکڑ نے ظاہر جعفر کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ نکتہ آپ آج بھی اٹھا سکتے ہیں، اس کے لیے الگ درخواست دینے سے کیا ہوگا؟

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری عدالت میں کیس جج یا وکیل کے مرنے پر ہی ملتوی ہوتا ہے، بیس سال ڈیتھ سیل میں رہنے والے کو بری کریں تو وہ کیا سوچتا ہو گا؟ ملزم بریت کے بعد ہمارے سامنے ہو تو شاید فائل اٹھا کر ہمارے منہ پر مارے۔

    جسٹس کاکڑ کا کہنا تھا کہ قصور سسٹم کا نہیں ہمارا ہے جو غیرضروری التوا دیتے ہیں، آپ نے جو درخواست دینی ہے دے دیں اس پر فیصلہ کر لیں گے۔

    مجرم کے وکیل سلمان صفدر نے موقف اپنایا کہ آج تک ملزم کی دماغی صحت جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا۔

    مدعی وکیل شاہ خاور کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی بھرپور مخالفت پر جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ درخواست آنے تو دیں پھر مخالفت کی جیے گا۔

    عدالت نے فریقین کے اتفاق رائے سے سماعت انیس مئی تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلا کو مکمل تیاری کے ساتھ آنے کی ہدایت کردی۔

    یاد رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون فور کے ایک مکان میں قتل کر دیا گیا تھا اور اسی روز پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر لیا تھا۔

    مقامی عدالت نے اس مقدمے میں 24 فروری 2022 کو ظاہر جعفر کو سزائے موت جبکہ ان کے دو ملازمین جان محمد اور افتخار کو دس، دس سال قید کی سزا سُنائی تھی۔ ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سمیت مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔

    مقامی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ظاہر جعفر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ تاہم مارچ 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف اپیل ناصرف مسترد کر دی بلکہ ریپ کے جرم میں انھیں دی گئی سزا میں بھی اضافہ کر دیا تھا۔

  11. انڈین حملوں میں پاکستانی فضائیہ کے سکواڈرن لیڈر سمیت 11 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے: آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے انڈیا کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستان کی بری فوج اور فضائیہ کے 11 اہلکار ہلاک ہوئے۔

    منگل کے روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کے ساتھ لڑائی کے دوران بری فوج کے چھ اور فضائیہ کے ایک سکوڈرن لیڈر سمیت پانچ اہلکار مارے گئے۔

    مارے جانے والے پاکستان آرمی کے اہلکار:

    نائیک عبدالرحمٰن خان

    لانس نائیک دلاور خان

    لانس نائیک اکرام اللہ

    نائیک وقار خالد

    سپاہی محمد عدیل اکبر

    سپاہی نثار

    آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    انڈین حملوں میں ہلاک ہونے والے پاکستان فضائیہ کے اہلکار:

    سکوڈرن لیڈر عثمان یوسف

    چیف ٹیکنیشن اورنگزیب

    سینیئر ٹیکنیشن نجیب

    کارپورل ٹیکنیشن فاروق

    سینیئر ٹینکیشن مبشر

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، تمام اہلکار 10 کو ہلاک ہوئے تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیا کی جانب سے چھ اور سات مئی درمیانی شب کو کیے جانے والے حملے میں سات خواتین اور 15 بچوں سمیت 40 افراد ہلاک اور 121 زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں 10 خواتین اور 27 بچے شامل ہیں۔

    تقریباً چار روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد بالآخر سنیچر کے روز انڈیا اور پاکستان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

    وزیراعظم کا انڈین حملوں میں مارے جانے والوں کے اہلِ خانہ کے لیے پیکج کا اعلان

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انڈین حملوں میں مارے جانے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے پیکج کا اعلان کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، ان حملوں مارے جانے والے شہریوں کے ورثا کو 1 کروڑ روپے جبکہ زخمی ہونے والوں کو 10 لاکھ روپے سے 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے جانے والے پاکستانی افواج کے اہلکاروں کے رینک کے حساب سے ان کے ورثا کو ایک کروڑ روپے سے 1.8 کروڑ روپے کی رقم دی جائے گی جبکہ فوجی اہلکاروں کے ورثا کو گھر کی سہولت کے لیے رینک کے حساب سے 1.9 کروڑ روپے سے 4.2 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ فوجی اہلکاروں کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی مکمل تنخواہ بمعہ الاونسز جاری رہیں گی اور ان کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم دی جائے گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے جانے ہر فوجی اہلکار کی ایک بیٹی کی شادی کے لیے 10 لاکھ روپے کی میرج گرانٹ بھی دی جائے گی۔

    زخمی فوجیوں کو 20 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے فی کس دیے جائیں گے۔

  12. ’ایئر انڈیا‘ اور ’انڈیگو‘ کا متعدد روٹس پر فلائیٹ آپریشن منگل کے دن بھی معطل رکھنے کا اعلان

    ایئر انڈیا اور انڈیگو نے سرحدی علاقوں کے کچھ ہوائی اڈوں سے اپنی پروازیں منسوخ کردی ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایئر انڈیا اور انڈیگو نے سرحدی علاقوں کے کچھ ہوائی اڈوں کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کردی ہیں۔

    پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر کے اعلان کے تین روز بعد بھی انڈیا میں فضائی آپریشنز مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے ہیں اور منگل کے روز ’ایئر انڈیا‘ اور ’انڈیگو‘ نے اپنی چند پروازوں کی منسوخی کا اعلان کیا ہے۔

    ایئر انڈیا نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ تازہ ترین صورتحال اور مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر جموں، لیہہ، جودھ پور، امرتسر، بھوج، جام نگر، چندی گڑھ اور راجکوٹ سے منگل 13 مئی کو پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب انڈیگو نے منگل کو جموں، امرتسر، چندی گڑھ، لیہہ، سرینگر اور راجکوٹ جانے اور وہاں سے آنے والی اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

    ایئر لائنز کا کہنا ہے مزید معلومات کے لیے مسافر ایئر لائنز کی ویب سائٹ سے رابطہ کریں۔

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روز تک جاری رہنے والی فوجی جھڑپوں کے بعد 10 مئی کو جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں میں پروازیں معمول پر آنے لگی تھیں۔

    تاہم سوموار کے روز انڈین فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام سامبا سیکٹر میں مشتبہ ڈرون دیکھے گئے ہیں جس کے بعد نجی ایئر لائنز کی جانب سے یہ ایڈوائزری سامنے آئی ہے۔

  13. انڈیا کے ساتھ حالیہ لڑائی کا پاکستان پر کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی کے نتیجے میں کسی نئے معاشی جائزے کی ضرورت نہیں پڑے گی

    ،تصویر کا ذریعہreuters

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی کے نتیجے میں کسی نئے معاشی جائزے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ حالیہ لڑائی کا پاکستان پر کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا۔

    سوموار کے روز خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی کا پاکستان پر کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا اور اس کے نتیجے میں کسی نئے معاشی جائزے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں ممکنہ طور پر ’شارٹ آرڈر‘ میں پیش رفت کی امید ہے اور یہ کہ پاکستان امریکہ سے اعلیٰ قسم کی کپاس، سویا بین درآمد کر سکے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ سے ہائیڈرو کاربن سمیت دیگر اشیا کی درآمد پر بھی غور کر رہا ہے۔

    خیال رہے کہ امریکہ نے پاکستانی مصنوعات کی درآمد پر 29 فیصد ٹیرف عائد کر دیا تھا تاہم اپریل میں اس پر عملدرآمد 90 روز کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کا تجارتی سرپلس تقریباً تین ارب ڈالرز ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    سوموار کو وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے تجارت اور ٹیرف کے ذریعے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع کے حل میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

    ’میں نے کہا ہم آپ لوگوں کے ساتھ بہت تجارت کریں گے۔ آئیے اسے (لڑائی کو) روکتے ہیں۔ اگر آپ اسے روکیں گے تو ہم تجارت کریں گے۔ ورنہ ہم آپ سے کوئی تجارت نہیں کریں گے۔ لوگوں نے تجارت اس طرح استعمال نہیں کی جیسے میں نے کی ہے۔‘

    ’ہم انڈیا اور پاکستان کے ساتھ بہت تجارت کریں گے۔ ہم انڈیا سے تجارت (اور ٹیرف) پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ جلد ہم پاکستان سے بھی مذاکرات کریں گے۔‘

    دوسری جانب پاکستانی خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سوموار کے روز پارلیمانی سیکریٹری برائے صنعت و تجارت نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ جولائی 2024 سے مارچ 2025 تک پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارت 5.53 ارب ڈالرز رہی۔

    پارلیمانی سیکریٹری کے مطابق اس عرصے کے دوران پاکستان کی امریکہ کو برآمدات 4.34 ارب ڈالرز رہی جبکہ امریکہ سے 1.19 ارب ڈالرز کی مصنوعات درآمد کی گئیں۔

  14. پاکستان اور انڈیا کے درمیان لڑائی ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھیں فخر ہے کہ امریکہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری لڑائی رکوانے میں کامیاب رہا۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھیں فخر ہے کہ امریکہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری لڑائی رکوانے میں کامیاب رہا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری لڑائی ایک بُری ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی جسے وہ روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    سوموار کے روز وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈوںلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایٹمی جنگ روک دی ہے۔ یہ ایک بُری ایٹمی جنگ ہو سکتی تھی جس میں لاکھوں ہلاکتیں ہو سکتی تھیں۔ مجھے اس پر بہت فخر ہے (کہ امریکہ نے لڑائی رکوا دی)۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ’سنیچر کو میری حکومت نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوری اور مکمل سیز فائر کے لیے ثالثی کی۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک مستقل سیز فائر ہے۔ اس سے دو ایٹمی طاقتوں کے بیچ ایک خطرناک لڑائی کا خاتمہ ہوا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں کر رہے تھے اور لگ رہا تھا کہ یہ سلسلہ رُکنے والا نہیں ہے اور مجھے بہت فخر ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی قیادت نے صورتحال کی سنگینی کو سمجھا۔ اور ہم نے بڑی مدد کی۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے تجارت اور ٹیرف کے ذریعے اس تنازع میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    ’میں نے کہا ہم آپ لوگوں کے ساتھ بہت تجارت کریں گے۔ آئیے اسے (لڑائی کو) روکتے ہیں۔ اگر آپ اسے روکیں گے تو ہم تجارت کریں گے۔ ورنہ ہم آپ سے کوئی تجارت نہیں کریں گے۔ لوگوں نے تجارت اس طرح استعمال نہیں کی جیسے میں نے کی ہے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’اچانک انھوں نے کہا کہ ہم رُک رہے ہیں۔ وہ کئی وجوہات کی بنا پر رُک گئے تھے۔ تجارت ایک بڑی وجہ تھی۔‘

    ’ہم انڈیا اور پاکستان کے ساتھ بہت تجارت کریں گے۔ ہم انڈیا سے تجارت (اور ٹیرف) پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ جلد ہم پاکستان سے بھی مذاکرات کریں گے۔‘

  15. پاکستان کی جوابی کارروائی سے امریکہ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ جنگ خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے، اسحاق ڈار

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس وقت مداخلات کا فیصلہ کیا جب انھیں احساس ہوا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری لڑائی ایک خطرناک جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے حملوں کے بعد پاکستان کی جوابی کارروائی دیکھ کر دنیا کے کئی ممالک خاص طور امریکہ کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ یہ لڑائی ایک خطرناک جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ سنیچر کے روز انھیں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی کال موصول ہوئی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان سے بات کرنے سے پہلے مارکو روبیو انڈین وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے بات کر چکے تھے۔

    ’سیکریٹری روبیو نے بتایا کہ انڈیا اس [لڑائی] کو روکنے کے لیے تیار ہے، کیا آپ تیار ہیں؟‘

    ’میں نے کہا بالکل، میں آپ کو زبان دیتا ہوں کہ اگر انڈیا دوبارہ شروعات نہیں کرتا تو ہم بھی نہیں کریں گے۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے چار روز تک انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری تنازعے کے بعد امریکی صدر نے سنیچر کے روز اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور انڈیا سیز فائر کے لیے راضی ہو گئے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور مارکو روبیو نے انڈیا کو کیا کہا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے راضی ہو گیا، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انھیں انڈین اور امریکی اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا کوئی اندازہ نہیں۔

    جب پاکستانی وزیرِ خارجہ سے امریکہ کی جانب سے دی جانے والی یقین دہانیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مارکو روبیو نے انھیں بتایا تھا کہ پاکستان کی رضامندی کے بعد امریکہ انڈیا سے جنگ بندی کے بارے میں ایک بار پھر تصدیق کرے گا۔

    امریکی صدر کے بیان پر کہ وہ اب بھی اس صورتحال پر پاکستان اور انڈیا کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کو امریکہ اور عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہوگی، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ جامع مذاکرات کا حامی رہا ہے لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔

    انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے دستبردار ہونے کے فیصلے پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے کہہ دیا ہے کہ اگر یہ معاہدہ توڑا گیا اور پاکستان کا پانی روکا گیا تو اسے جنگی اعلان سمجھا جائے گا۔

    ’ہر قوم کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب آپ کو مشکل فیصلے لینے پڑتے ہیں، ہم نے نو مئی کی رات کو بھی ایسے ہی فیصلے لیے۔ لیکن ہمیں اب مثبت انداز میں آگے دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس عمل ایک باوقار طریقے سے آگے لے جانا چاہتے ہیں اور تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس خطے میں امن اور استحکام آئے۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ تجارت اور دہشتگردی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا اور اگر پاکستان سے بات ہوگی تو دہشتگردی پر ہی ہوگی۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر لڑائی نہ روکی گئی تو امریکہ دونوں ملکوں سے تجارت روک دے گا۔
    • گذشتہ ہفتے کے تنازعے کے بعد سوموار کے روز پاکستان اور انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت کا پہلا راؤنڈ ہوا۔
    • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز زبردست تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور ملکی سٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں انڈیکس پہلی بار 10123 پوائنٹس اضافے کے بعد 117297 پوائنٹس پر بند ہوا۔
  17. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔