پی ٹی آئی کا صوابی میں جلسہ، اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتے، اس بار اسلام آباد تیاری کے ساتھ آئیں گے: جنید اکبر

خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں جلسے سے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ اداروں سے ٹکراؤ ہو۔ ہم اداروں کو اپنا مانتے ہیں تاہم آپ کے اور عوام کے درمیان بڑھتے فاصلے ملک کے ساتھ خود آپ کے لیے بھی خطرناک ہیں۔‘

خلاصہ

  • پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے کہا ہے کہ 'ہم نہیں چاہتے کہ اداروں سے ہمارا ٹکراؤ ہو تاہم اس بار عمران خان جب بھی کال دیں گے تو ہم تیاری کے ساتھ آئیں گے۔‘
  • حماس نے مزید تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے جبکہ 183 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل جاری ہے۔
  • آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں ہلاک ہونے والا شخص ایک افغان شہری ہے جو پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں ملوث رہا ہے
  • بلوچستان کے ضلع خضدار سے ایک خاتون کے مبینہ اغوا کے خلاف کوئٹہ کراچی شاہراہ بطور احتجاج آج تیسرے روز بھی بند ہے
  • عمران خان نے پاکستانی فوج کے سرابرہ کو ایک بار پھر کھلا خط لکھ کر فوج اور عوام میں بڑھتی ہوئی دوریاں کم کرنے کی درخواست کی ہے

لائیو کوریج

  1. کرک میں شدت پسندوں کا پولیس چوکی پر حملہ، تین پولیس اہلکار ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں پولیس چوکی پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مسلح شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے۔

    کرک پولیس کے مطابق مسلح شدت پسندوں نے رات گئے پولیس چوکی بہادر خیل پر حملہ کیا۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی۔ پولیس کی جانب سے بھر پور جوابی کارروائی کے نتیجے میں شدت پسند فرار ہوگئے پولیس اور مقامی افراد نے قریبی علاقے میں حملہ آوروں کا پیچھا کیا تاہم کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ حملے کے نتیجے میں زخمی اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے پولیس چوکی پر اس سے قبل بھی حملہ ہوا تھا تاہم بروقت جوابی کارروائی کے نتیجے میں شدت پسندوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    چند روز پہلے کرک میں انسداد پولیو مہم کے ساتھ جانے والی پولیس ٹیم پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

    کرک میں جس مقام پر حملہ ہوا ہے یہ بنیادی طور پر قراقرم رینج کا حصہ ہیں لیکن یہ بلند پہاڑ نہیں ہیں بلکہ یہ زیادہ علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جو ایک طرف کوہاٹ تک جاتے ہیں۔

    کرک کی سرحد ایک طرف پنجاب کے ضلع میانوالی سے ملتی ہے تو دوسری جانب لکی مروت ہے۔ یہ شہر انڈس ہائی وے کے ساتھ واقع ہے اور اس علاقے میں گیس کے وسیع زخائر ہیں۔ ان علاقوں میں گیس کے علاوہ تیل کے کنووں پر بھی کام جاری ہے جبکہ پہاڑی سلسلے میں معدنیات بھی پائی جاتی ہیں۔

  2. اگر ٹرمپ چاہیں تو کیا وہ غزہ پر قبضہ کر سکتے ہیں؟, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور کا تجزیہ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس بارے میں کوئی دو آرا نہیں ہیں کہ غزہ پر امریکہ کا کبھی کوئی قانونی دعویٰ نہیں رہا ہے اور یہ بالکل غیر واضح ہے کہ ٹرمپ کس طرح غزہ پر امریکی حکمرانی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

    ٹرمپ ماضی قریب میں گرین لینڈ یا پاناما کینال پر امریکہ کے کنٹرول کے حوالے سے بھی بڑے بڑے دعوے کر چکے ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ کے اس نوعیت کے دعوؤں اور بیانات کا واقعی کوئی مطلب ہے بھی یا وہ ایسا محض اپنے سودے بازی کی اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

    جنگ کے بعد غزہ میں حکمرانی کے معاملے کو لے کر مختلف منصوبوں پر غور اور تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ دسمبر 2024 میں دو اہم فلسطینی دھڑوں، حماس اور الفتح، نے غزہ پر حکمرانی کے لیے ایک مشترکہ انتظامی کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا تھا، تاہم یہ معاملہ صرف اتفاق رائے تک ہی محدود رہا مگر حقیقت میں اس پر کبھی عمل نہ ہو سکا۔

    ایک منصوبہ یہ بھی زیر غور آیا کہ غزہ کے لیے ایک بین الاقوامی امن فوج کی تشکیل کی جائے جو ممکنہ طور پر عرب ممالک کے فوجیوں پر مشتمل ہو۔

    گذشتہ ماہ خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے قیام میں آنے تک متحدہ عرب امارات، امریکہ اور اسرائیل نے غزہ میں ایک عارضی انتظامیہ کے قیام پر بات چیت کی ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو پہلے ہی عوامی سطح پر کہہ چکے ہیں کہ جنگ کے بعد غزہ کو چلانے میں فلسطینی اتھارٹی کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔

    محدود پیمانے پر امریکہ انتظامیہ پہلے ہی زمین کے اس حصے پر موجود ہے۔ ایک امریکی سکیورٹی فرم نے غزہ شہر کے جنوب میں ایک اہم چیک پوسٹ کی نگرانی کرنے اور شمال کی طرف لوٹنے والے فلسطینیوں کی گاڑیوں کی جانچ پڑتال کے لیے تقریباً 100 سابق امریکی سپیشل فورسز کی خدمات حاصل کی ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ مصری سکیورٹی اہلکاروں کو بھی اسی چیک پوائنٹ پر دیکھا گیا ہے۔

    یہ غزہ میں بین الاقوامی اور ممکنہ طور پر امریکی قیادت میں موجودگی کے پہلے، عارضی اشارے ہوسکتے ہیں۔

    لیکن یہ شاید ہی کوئی امریکی قبضہ ہے، جس کے لیے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت کی ضرورت ہو گی۔ ایک ایسی چیز جس سے ٹرمپ طویل عرصے سے رائے دہندگان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس سے بچنا چاہتے ہیں۔

  3. ٹرمپ کا غزہ سے متعلق بیان اتنا متنازع کیوں ہے؟, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور کا تجزیہ

    یہاں تک کہ ایک ایسے صدر کے لیے بھی جنھوں نے اپنی پہلی مدت کا زیادہ تر حصہ امریکی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزارا، جس میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنا اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرنا شامل ہے۔

    کسی بھی امریکی صدر نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کو حل کرنے کے لیے فلسطینی علاقے کے ایک حصے پر قبضہ کرنا اور اس کی آبادی کو بے دخل کرنا شامل ہوگا۔

    واضح رہے کہ طاقت کے زور پر ایسا کرنا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔

    کچھ فلسطینی ممکنہ طور پر غزہ چھوڑنے اور اپنی زندگیوں کو کہیں اور دوبارہ تعمیر کرنے کا انتخاب کریں گے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک 150,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    لیکن دوسرے لوگ ایسا نہیں کر سکتے یا تو اس لیے کہ ان کے پاس ایسا کرنے کے لیے مالی وسائل کی کمی ہے یا اس لیے کہ غزہ سے ان کی وابستگی بہت مضبوط ہے۔

    غزہ کے بہت سے باشندے ان لوگوں کی اولاد ہیں جو 1948 میں اسرائیل کی ریاست کے قیام کے دوران یہاں سے چلے گئے تھے یا اپنے گھروں سے بے دخل کر دیے گئے تھے، اس دور کو فلسطینی تباہی کے لئے عربی میں ’نقبہ‘ کہتے ہیں۔

    ان فلسطینیوں کے لیے جو اسرائیل کے ساتھ مل کر اپنی ریاست کا خواب دیکھتے ہیں، اس کا ایک حصہ ضائع ہونا ایک کاٹنے کی طرح مُشکل اور تکلیف دہ محسوس ہوگا۔

    غزہ 1948 سے مغربی کنارے سے الگ ہے۔ مذاکرات کے پچھلے دور کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے 2020 کے ’امن کے وژن‘ میں سرنگوں یا ریلوے کے منصوبے شامل تھے جو دونوں کو آپس میں جوڑ سکتے ہیں۔

    اب ٹرمپ بنیادی طور پر فلسطینیوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ غزہ سے ہمیشہ کے لیے دستبردار ہو جائیں۔

    اگرچہ وہ شہریوں کی جبری جلاوطنی کی وکالت کرتے نظر نہیں آتے جو بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے لیکن ٹرمپ واضح طور پر فلسطینیوں کو ملک چھوڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

    فلسطینی حکام پہلے ہی اسرائیل پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ ہزاروں قافلوں کی واپسی میں خلل ڈال رہا ہے جس سے غزہ کے باشندوں کو علاقے کے کم تباہ شدہ علاقوں میں رہنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ دوسری جگہوں پر تعمیر نو ہو رہی ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جن عرب ممالک کو غزہ کے 18 لاکھ پناہ گزینوں کو قبول کرنا چاہیے، جن میں خاص طور پر مصر اور اردن شامل ہیں نے اُن کے اس بیان پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

  4. امریکہ فلسطینیوں کو کہیں اور منتقل کرنے کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا کیوں کہا؟, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور کا تجزیہ

    غزۃ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کےساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دیے گئے ایک حیران کن بیان میں کہا تھا کہ امریکہ فلسطینیوں کو کہیں اور منتقل کرنے کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کرے گا۔

    اگر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بات کے بارے میں درست کہہ رہے ہیں تو وہ یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے بارے میں دہائیوں پر محیط امریکی سفارتکاری تنازع کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    امن کی تجاویز اور صدور آئے اور چلے گئے لیکن مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ حماس کا 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ اور غزہ میں اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جنگ کے خوفناک نتائج برآمد ہوئے۔

    ٹرمپ نے ایک پراپرٹی ڈویلپر کی حیثیت سے کروڑوں روپے کمائے اور اس ایک بالکل درست مشاہدہ کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر غزہ کی تعمیر نو کی اشد ضرورت ہے۔ غزہ کی تعمیر نو کا کام یادگار ہوگا۔ نہ پھٹنے والے گولہ بارود اور ملبے کے پہاڑوں کو ہٹانا ہوگا۔ پانی اور بجلی کی لائنوں کی مرمت کرنی ہوگی۔ سکولوں، ہسپتالوں اور دکانوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔

    ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے سفیر سٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہے گا تو فلسطینیوں کو کہیں نہ کہیں جانے کی ضرورت ہوگی۔

    تاہم، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے آبائی گھروں کے قریب رکھنے کے طریقے تلاش کرنے کے بجائے، یقینی طور پر غزہ کی پٹی کے وسطی اور جنوبی حصوں میں کیمپوں میں، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں مستقل طور پر چھوڑنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔

    ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں امریکہ کی ملکیت والا ’مشرق وسطیٰ کا ریویرا‘ راکھ سے اٹھے گا، جس سے ہزاروں ملازمتیں، سرمایہ کاری کے مواقع اور بالآخر ’دنیا کے لوگوں کے رہنے کے لیے جگہ میسر آئے گی۔‘

  5. گزشتہ روز کی اہم خبریں

    آئیے گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بدھ کے روز ایک بیان میں کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ’ایران کو ٹکڑے ٹکڑے‘ نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ تہران کے ساتھ ’مستند جوہری امن معاہدہ‘ کرنے کو ترجیح دیں گے۔ بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹُرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ ایران ایک عظیم اور کامیاب ملک بنے لیکن ایک ایسا ملک جس کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہو۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ اطلاعات کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہیں۔‘
    • برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے دو ریاستی حل کے بارے میں بات کی گئی برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے برطانیہ کے ایوانِ نمائندگان میں بات کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ برطانیہ دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور انھوں نے غزہ میں موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ سٹارمر کا مزید کہنا ہے کہ انھیں ہزاروں فلسطینیوں کے غزہ میں ملبے کے درمیان چلتے ہوئے گھروں کو لوٹنے کی تصاویر دیکھ کر دھچکا لگا اور یہ کہ غزہ کے لوگوں کو ’گھر پہنچنے کی اجازت دینی چاہیے، انھیں تعمیرِ نو کے لیے وقت دینا چاہیے اور ان کی اس تعمیر نو کے دوران مدد کرنی چاہیے تاکہ ایک دو ریاستی حل تک پہنچا جا سکے۔‘
    • ترکی کے وزیرِ خارجہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو کسی بھی منصوبے سے باہر رکھنا تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔
    • چین اور آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اینتھونی البینیز نے بھی دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے۔
    • روس میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوو کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بھی حل اس وقت ممکن ہے جب دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
    • فرانس میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ’فلسطینی آبادی کی غزہ سے جبری نقل مکانی‘ کی تجویز کو مسترد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پٹی کو کسی تیسری پارٹی کی جانب سے کنٹرول نہیں کیا جانا چاہیے۔‘ فرانس کا بھی یہی کہنا ہے کہ دو ریاستی حل ہی اس مسئلہ کا ’واحد دیر پا حل‘ ہے۔
    • سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک تعلقات بحال کرنے کے بارے میں بات نہیں کرے گا جب تک ایک نئی فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا۔ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی نفی تھی جس میں انھوں نے امریکہ کی جانب سے غزہ کی پٹی پر ’قبضہ‘ کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ریاض علیحدہ فسلطینی ریاست کا مطالبہ نہیں کر رہا۔‘
    • سویڈن کے شہر اوربرو میں منگل کے روز ایک تعلیمی مرکز میں فائرنگ کا وقعہ پیش آیا ہے جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم اُلف کرسٹرسن نے اسے ’سویڈن کی تاریخ کا بدترین اجتماعی فائرنگ‘ کا واقعہ قرار دیا۔ حملے کا نشانہ بننے والا تعلیمی مرکز ایسے افراد کے لیے ہے جنھوں نے پرائمری کی تعلیم مکمل نہیں کی ہوتی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فائرنگ سے بچنے کے لیے طالبعلم ڈیسک کے نیچے چھپے ہوئے ہیں۔
    • برطانوی مصنف سلمان رشدی پر 2022 میں امریکہ کی ریاست نیو یارک میں ہونے والے حملے کے مقدمے کی سماعت کے لیے جیوری کا انتخاب شروع ہو گیا ہے۔ اگست 2022 میں سلمان رشدی پر امریکی ریاست نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو سے حملہ کیا گیا جس میں اُن کی گردن اور پیٹ پر وار کیے گئے تھے۔ سلمان رشدی پر حملے کے الزام میں امریکی ریاست نیو جرسی کے 26 سالہ رہائشی ہادی ماتر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ہادی صحتِ جرم سے انکاری ہیں۔
  6. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔