آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی کا صوابی میں جلسہ، اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتے، اس بار اسلام آباد تیاری کے ساتھ آئیں گے: جنید اکبر

خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں جلسے سے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ اداروں سے ٹکراؤ ہو۔ ہم اداروں کو اپنا مانتے ہیں تاہم آپ کے اور عوام کے درمیان بڑھتے فاصلے ملک کے ساتھ خود آپ کے لیے بھی خطرناک ہیں۔‘

خلاصہ

  • پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے کہا ہے کہ 'ہم نہیں چاہتے کہ اداروں سے ہمارا ٹکراؤ ہو تاہم اس بار عمران خان جب بھی کال دیں گے تو ہم تیاری کے ساتھ آئیں گے۔‘
  • حماس نے مزید تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے جبکہ 183 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل جاری ہے۔
  • آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں ہلاک ہونے والا شخص ایک افغان شہری ہے جو پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں ملوث رہا ہے
  • بلوچستان کے ضلع خضدار سے ایک خاتون کے مبینہ اغوا کے خلاف کوئٹہ کراچی شاہراہ بطور احتجاج آج تیسرے روز بھی بند ہے
  • عمران خان نے پاکستانی فوج کے سرابرہ کو ایک بار پھر کھلا خط لکھ کر فوج اور عوام میں بڑھتی ہوئی دوریاں کم کرنے کی درخواست کی ہے

لائیو کوریج

  1. ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کریں: وکیل کلایئو سمتھ کی تجویز

    امریکی جیل میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کلایئو سمتھ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈیکلریشن جمع کراتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ڈاکٹرشکیل آفریدی کے ساتھ تبادلے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل نے کہا کہ شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کر کے عافیہ صدیقی کو وطن واپس لایا جا سکتا ہے۔

    عدالت نے اس متعلق وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔

    خیال رہے کہ مارچ 2003 میں پاکستانی نیورو سائنسدان ڈاکٹر عافیہ کراچی سے لاپتہ ہوئی تھیں۔ انھیں افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کے الزام میں 2010 میں امریکہ میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ امریکی محکمۂ انصاف نے انھیں ’القاعدہ کی رکن اور سہولت کار‘ قرار دیا تھا۔

    تاہم عافیہ صدیقی کے حامی سزا کے اس فیصلے کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے ان کی پاکستان واپسی کی تحریک چلائی جا رہی ہے جس کی سربراہی ان کی اپنی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کر رہی ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی اور وطن واپسی کیس میں متفرق درخواست پر سماعت کی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل، وکیل عمران شفیق، عدالتی معاون زینب جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کلائیو سمتھ نے نیا ڈیکلریشن عدالت میں جمع کروایا ہے۔

    امریکی وکیل کی تجویز پرعدالت نے پوچھا شکیل آفریدی امریکہ کو دے کر عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے سے متعلق حکومت کا کیا موقف ہے؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت سے کلائیو سمتھ کے ڈیکلریشن پر 21 فروری تک جواب طلب کر لیا۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے وزیراعظم پاکستان نے سابق امریکی صدر جوبائیڈن کو خط لکھا جس کا کوئی جواب نہیں آیا۔

    عدالت نے پوچھا وزیراعظم کی جانب سے لکھے گئے خط کے جواب سے متعلق وزارت خارجہ نے کیا قدم اٹھایا؟

    اس موقع پر وہاں موجود وزارت خارجہ کے اہلکار نے کہا ایڈیشنل سیکریٹری وزارتِ داخلہ کی قائم مقام امریکی سفیر سے ملاقات ہوئی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیکلریشن میں جو بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں ہر ایک سوال کا جواب دیا جائے جس کے بعد سماعت 21 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

    ڈاکٹر عافیہ پر کیا الزامات ہیں

    ڈاکٹر عافیہ کو جولائی 2008 میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزا اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہو سکتا تھا۔

    حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے کیمیائی اجزا اور نیویارک میں حملے کے بارے میں تحریروں کی برآمدگی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر رائفل اٹھا کر فوجیوں پر گولیاں چلائیں۔ اس حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا۔

    ڈاکٹر عافیہ کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ عافیہ نے بدحواسی کی کیفیت میں رائفل چھینی اور فائرنگ کی۔ ان کا موقف تھا کہ عافیہ کے اس عمل کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا۔

    عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا اور انھیں 86 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا تھا کہ امریکی شہریوں پر قاتلانہ حملے کی ترتیب وار سزا 20 سال، امریکی عملداروں اور اہلکاروں پر حملے کی سزا 20 سال، امریکی حکومت اور فوج کے عملداروں اور اہلکاروں پر ہتھیار سے حملے کی سزا 20 سال، متشدد جرم کرنے کے دوران اسلحہ سے فائر کرنے کی سزا عمر قید، امریکی فوج اور حکومت کے ہر اہلکار اور عملدار پر حملے کی ہر ایک سزا آٹھ سال یعنی 24 سال بنتی ہے۔

  2. آئینی ترمیم کے مقدمے کے فیصلے تک سپریم کورٹ میں ججز تعینات نہ کیے جائیں: چار ججز کا چیف جسٹس کو خط, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ میں ججز تعیناتی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے چار ججز نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ 26ویں ترمیم کیس کے فیصلے تک ججز تعیناتی موخر کی جائے۔

    یہ خط جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہرمن اللہ کی جانب سے بھجوایا گیا ہے۔

    خط میں 10 فروری کے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کو موخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کیس میں آئینی بینچ فل کورٹ کا کہہ سکتا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے ’نئے ججز آئے تو فل کورٹ کون سی ہو گی یہ تنازعہ بنے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں تین ججز ٹرانسفر ہوئے، آئین کے مطابق نئے ججز کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں دوبارہ حلف لازم تھا۔‘

    خط کے مطابق حلف کے بغیر ان ججز کا جج ہونا مشکوک ہو جاتا ہے، اس کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی لسٹ بدلی جا چکی ہے۔

    خط لکھنے والے ججز کا موقف ہے کہ موجودہ حالات میں ججز لانے سے کورٹ پیکنگ کا تاثر ملے گا، پوچھنا چاہتے ہیں کہ عدالت کو اس صورتحال میں کیوں ڈالا جا رہا ہے؟‘

    یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ کس کے ایجنڈے اور مفاد پرعدالت کو اس صورتحال سے دوچار کیا جا رہا ہے؟

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 26ویں ترمیم کے فیصلے تک ججز تعیناتی موخر کی جائے۔

    ’کم از کم آئینی بینچ سے فل کورٹ کی درخواست پر فیصلے تک تعیناتی موخر کی جائے۔‘

    خط میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ ’آئینی بینچ اگر فل کورٹ کی درخواستیں منظور کرتا ہے تو فل کورٹ تشکیل کون دے گا؟‘

    خط کے متن میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ اگر فل کورٹ بنتی ہے تو کیا اس میں ترمیم کے تحت آنے والے ججز شامل ہونگے؟‘

    خط میں اگر نئے ججز شامل نہ ہوئے تو پھر سوال اٹھے گا کہ تشکیل کردہ بینچ فل کورٹ نہیں ہے۔

    اگر موجودہ آئینی بینچ نے ہی کیس سنا تو اس پر بھی پہلے ہی عوامی اعتماد متزلزل ہے۔

    عوام کو موجودہ حالات میں ’کورٹ پیکنگ‘ کا تاثر مل رہا ہے۔

    ’جاننا چاہتے ہیں کس کے ایجنڈا اور مفاد کیلئے عدالت کی تذلیل کی جا رہی ہے؟‘

  3. انڈیا میں تقریباً پانچ برس بعد پہلی بار شرح سود میں کمی کر دی

    انڈیا کے سینٹرل بینک نےتقریباً پانچ سال بعد پہلی بار شرح سود میں کمی کی ہے جس کا مقصد ملک میں سست رفتار شرح نمو کا مقابلہ کرنا ہے۔

    خیال رہے کہ انڈیا ایشیا کی تیسری بڑی معیشت ہے۔

    ریزرو بینک آف انڈیا نے شرح سود کو چھ اعشاریہ دو پانچ فیصد سے چھ اعشاریہ پانچ فیصد کر دیا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق یہ اطلاع آر بی آئی کے نئے گورنر سنجے ملہوترا نے دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نئی فصل کی آمد کے بعد مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔

    شرح سود میں حالیہ کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کی قومی پیداوار میں چار سال کے دوران ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے جو کہ چھ اعشاریہ سات فیصد ہے۔

    ریزرو بینک آف انڈیا کا اندازہ ہے کہ مالی سال 2025 میں افراط زر کی شرح 4.8 فیصد رہے گی۔ اس میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔

  4. انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اپنے’حکام‘ پر صدر ٹرمپ کی جانب سے لگائی پابندیوں پر برہم

    انٹرنیشنل کریمنل کورٹ، آئی سی سی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنے عملے پر پابندیاں عائد کرنے کے حکمنامے پر دستخط کے بعد بھی اپنا کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    ادارے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے عملے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور یہ حکمنامہ اس کے غیر جانبدارانہ اور آزادانہ کام کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے ذریعے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ناجائز اور بے بنیاد اقدامات کا الزام لگاتے ہوئے ادارے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    یہ اقدام ان افراد پر مالی اور ویزا پابندیاں عائد کرتا ہے جو امریکی شہریوں یا امریکی اتحادیوں اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں آئی سی سی کو تحقیقات میں مدد کرتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم نامے پر اس وقت دستخط کیے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو واشنگٹن میں کانگریس کے اراکین سے ملاقات کر رہے تھے۔

    دونوں کی ملاقات منگل کو وائٹ ہاؤس میں ہوئی۔

    گذشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں بینجمن نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جس کی اسرائیل نے مذمت کی تھی۔ عدالت نے حماس کے ایک سینئر کمانڈر کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔

    اس سے قبل جمعرات کو وائٹ ہاؤس نے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت پر الزام لگایا تھا کہ حماس اور اسرائیل کے لیے بیک وقت یہ سزائیں جاری کرتے ہوئے آئی سی سی نے اخلاقی گرواٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔

    ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے حالیہ اقدامات نے ’ایک خطرناک مثال قائم کی ہے‘ جس نے امریکیوں کو ’ہراساں کرنے، بدسلوکی اور ممکنہ گرفتاری کا خطرہ‘ پیدا ہوا ہے۔

  5. کل ٹکراؤ اور انتشار کا کوئی ارادہ نہیں: سلمان اکرم راجہ

    تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ آٹھ فروری کو صوابی میں جلسہ کریں گے اور تحصیل اور ہر یونین کونسل میں احتجاج کریں گے۔

    میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمارا نتشار اور ٹکراؤ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    یاد رہے پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ گذشتہ سال 8 فروری کو ہونے والے انتخاب میں ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا تھا اور پارٹی نے اس کے خلاف سنیچر کو ’یومِ سیاہ‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا تھا کہ امید ہے وہ عوام کا ساتھ دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا جو ہمارا ساتھ دے سکتا ہے دے ورنہ ہم اکیلے آگے بڑھیں گے۔

  6. امریکی جج نے ٹرمپ کے حکومتی عملہ کم کرنے والے منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا

    ایک امریکی جج نے جمعرات کی رات ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وفاقی کارکنوں کو رضاکارانہ طور پر مستعفی ہونے کے لیے مراعات دینے والے منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق جج جارج او ٹول جونیئر نے کہا کہ اس منصوبے کو پیر کو ہونے والی سماعت تک روک دیا جائے گا جس دوران وہ وفاقی ملازمین کی یونینز کی جانب سے لائے جانے والے مقدمے کا فیصلہ کریں گے۔

    یہ منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وفاقی حکومت کے سائز کو کم کرنے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ 40 ہزار سے زیادہ ملازمین نے 30 ستمبر تک مستعفیٰ ہونے کی پیشکش کو قبول کیا ہے اور کئی ملازمین کو معاہدے کی شرائط کے بارے میں ابہام ہے۔

    جج کا فیصلہ وفاقی ملازمین کے معاہدے کو قبول کرنے کی آخری تاریخ سے چند گھنٹے پہلے آیا ہے۔

    ادھر ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ ’بہت سے وفاقی ملازمین کی مہارت اور ادارہ جاتی معلومات کے بغیر، ہماری حکومت ہنگامی صورت حال میں مؤثر طریقے سے ردِعمل دینے، امریکی عوام کی خدمت کرنے یا معمول کی کارروائیاں انجام دینے سے بھی قاصر ہوگی۔

    سابق امریکی انٹیلی جنس حکام اور متعدد قانون سازوں کو خدشہ ہے کہ یہ پیشکش امریکی قومی سلامتی کی ترجیحات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

  7. آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کا معاملہ: عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات ختم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے خلاف سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات کو ختم کردیا ہے۔

    آج سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے شعیب شاہین عدالت پیش ہوئے۔

    دوران سماعت آئینی بینچ نے سوال کیا کہ بتایا جائے ترامیم کے خلاف پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا۔

    اس موقع پر عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترامیم سے لوگوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 184/3 میں قوانین کے خلاف درخواستیں مرضی سے ہی سنتی رہی ہے، جو کیس دل کیا سن لیا جو نہ دل کیا کہہ دیا پہلے ہائی کورٹ جائیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ براہ راست درخواستیں سنتے رہے تو آرٹیکل 199 غیرمؤثر ہو جائے گا۔

    عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے موقف پیش کیا کہ یہ فیصلہ رجسٹرار نہیں عدالت کر سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو آئینی درخواست کو باضابطہ نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لیے ہیں۔

    عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔

  8. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ، فوج و پولیس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں برسوں تک حالات پرُسکون رہنے کے بعد اب ایک بار پھر فوج اور پولیس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔

    جموں کے کٹھوعہ ضلع میں بھِلاور گاوٴں کے مکھن دین نے بدھ کے روزپولیس حراست کے بعد خود کشی کرلی جس سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔

    مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ وہاں کے رہنے والے 25 سالہ نوجوان مکھن دین پر پولیس نے حراست کے دوران تشدد کیا، جس کے بعد انھوں نے خودکشی کر لی۔

    مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس اور فورسز نے گشت میں اضافہ کیا ہے اور علاقے میں انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا ہے۔

    کٹھوعہ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیشور سنگھ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ مکھن دین پر حراست کے دوارن تشدد کیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مکھن نے خودکشی سے پہلے ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں انھوں نے حراستی تشدد اور ان سے زبردستی اقبالیہ بیان لینے کی تفصیل بتائی ہے۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ مکھن دین کے چاچا سوار دین فی الوقت پاکستان میں ہیں جو فوج پر کئی حملوں کے منصوبہ ساز ہیں۔ پولیس کے مطابق مکھن کے فون سے کئی قابل اعتراض رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔

    جمعرات ایک اور واقعے میں بارہمولہ کے 35 سالہ ٹرک ڈرائیور وسیم مجید کے میوے سے بھرے ٹرک پر فوج نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئے۔

    فوج کا دعویٰ ہے کہ چیک پوائنٹ کے قریب وسیم کو رُکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن وہ بھاگ نکلے جس کے بعد فوج نے ان کا پیچھا کیا اور گاڑی کے پہیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وسیم زخمی ہو گئے اور ہسپتال میں ان کی موت ہو گئی۔

    وسیم کے اہل خانہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے فوج اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو سامنے لایا جائے تاکہ فوجی دعوؤں کی تصدیق ہو سکے۔

    پولیس اور سوِل انتظامیہ نے الگ الگ سطح پر دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ پانچ روز کے اندر رپورٹ پیش کی جائے گی۔

    ان واقعات پر سیاسی حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں کہا: ’مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ کٹھوعہ میں مبینہ حراستی تشدد کے بعد مکھن دین نے خودکشی کی ہے اور بارہمولہ میں وسیم مجید فوج کی فائرنگ سے ایسے حالات میں ہلاک ہوگئے جو ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہیں۔‘

    عمر نے اعلان کیا کہ انھوں نے ان واقعات سے متعلق انڈین حکومت سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مقامی آبادی کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ لیکن ایسے واقعات سے لوگ (سسٹم سے) دُور ہوجاتے ہیں۔ جموں کشمیر میں تب تک نارمل حالات ممکن نہیں جب تک مقامی آبادی کا تعاون حاصل نہ ہو۔‘

    بارہمولہ کے واقعہ میں انتظامیہ کے علاوہ فوج نے بھی اپنی سطح پر تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاہم سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی اور ان کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی نوجوان رہنما التجا مفتی نے فوج کے دعوؤں پر تنقید کی ہے۔

    انھوں نے ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا: ’حیرت ہے کہ 23 کلومیٹر تک گاڑی کا پیچھا کیا گیا اور بعد میں جب ٹرک کے ٹائر پر فائر کیا گیا تو گولی سیدھے ڈرائیور کو لگی۔ حیرت ہے کہ کٹھوعہ میں عام شہری کی ہلاکت کے بعد اسے عسکریت پسندوں کا کارکن قرار دیا گیا۔ کیا کشمیری زندگیاں اتنی سستی ہیں۔ آپ کب تک بےلگام اختیارات کے تحت ہر شخص کو مشتبہ کہتے رہیں گے۔‘

    دریں اثنا پولیس نے عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں، اور وارننگ دی ہے کہ ’امن و قانون میں خلل ڈالنے والوں کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔‘

    واضح رہے کئی برس تک حالات پرسکون رہنے کے بعد ان دو واقعات سے جموں اور کشمیر دونوں صوبوں میں حالات ایک بار پھر سے کشیدہ ہیں۔

  9. پاکستان تحریکِ انصاف کا 8 فروری کو ’یومِ سیاہ‘ منانے، صوابی میں جلسے اور ملک گیر احتجاج کا اعلان

    لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے 8 فروری کو مینارِ پاکستان پر پی ٹی آئی کی ریلی منعقد کرنے کی درخواست کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر مسترد کر دیا ہے جس کے بعد پی ٹی آئی نے صوابی میں جلسے کے علاوہ کارکنان کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔

    یاد رہے پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ گذشتہ سال 8 فروری کو ہونے والے انتخاب میں ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا تھا اور پارٹی نے اس کے خلاف سنیچر کو ’یومِ سیاہ‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔

    گذشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی قوم 8 فروری کو پورے ملک میں نکلے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے-‘

    خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی ’8 فروری کو یومِ سیاہ کے طور پر منا رہی ہے کیونکہ اس دن ہمارے لیڈر عمران خان کو جو ووٹ پڑا اس کی چوری کی گئی، ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا۔‘

    ان کا کہنا ہے اب ہر سال یومِ سیاہ منایا جائے گا اور اس سال 8 فروری کو صوابی میں ریلی نکالی جائے گی۔ انھوں نے پی ٹی آئی کے حامی و کارکنان کو پاکستان میں اور پاکستان سے باہر ہر شہر میں احتجاج کی کال دی ہے اور کہا ہے جہاں جہاں آپ ہیں وہاں اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔

    ادھر پنجاب میں پارٹی کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق شمالی پنجاب کے 10 اضلاع سے کارکنان کی بڑی تعداد صوابی جلسے میں شرکت کرے گی۔ جبکہ باقی علاقوں میں مقامی سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ 8 فروری کے احتجاج سے قبل پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور کئی افراد کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔

    ادھر اسلام آباد پولیس نے ممکنہ احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے تیاری کر لی ہے اور انسپکٹر جنرل آف اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی کی زیر قیادت اعلی سطحی اجلاس میں پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں 8 فروری کو پی ٹی آئی کا ممکنہ احتجاج روکنے کے لیے حکمت عملی طے کی گئی ہے اور اسلام آباد کے مختلف داخلی راستوں کو بند کرنے سے متعلق فیصلہ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

    آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں اسلام آباد میں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  10. اسرائیل جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ کو امریکہ کے حوالے کرے گا: ٹرمپ کی وضاحت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکہ کے غزہ پر قبضے کی بات دہرائی ہے۔

    ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ’اسرائیل جنگ کے اختتام پر غزہ کی پٹی امریکہ کے حوالے کر دے گا۔‘ انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس کا مطلب فلسطینیوں کو دوبارہ آباد کرنا ہے اسکام کے لیے کسی امریکی فوجی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    ٹرمپ کے دوبارہ آبادکاری کے خیال نے نسل کشی کی منصوبہ بندی جیسے الزامات کو جنم دیا ہے اور اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے گروپوں اور عرب رہنماؤں کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس پر عمل ممکن نہیں۔

    اس معاملے پر ٹرمپ کے پہلے تبصرے کے بعد ان کی انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی قسم کی نقل مکانی عارضی ہو گی۔

    اپنے منصوبے کے متعلق ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ غزہ کے باشندے ’خطے میں نئے اور جدید گھروں میں پہلے سے زیادہ محفوظ اور زیادہ خوبصورت کمیونٹیز میں آباد ہو چکے ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس کے بعد امریکہ انکلیو کو دوبارہ تیار کرنے کی کوششوں کا حصہ بنے گا۔

    ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’انھیں درحقیقت خوش، محفوظ اور آزاد رہنے کا موقع ملے گا۔ امریکہ پوری دنیا کی عظیم ترقیاتی ٹیموں کے ساتھ کام کر رہا ہے اور آہستہ آہستہ اور احتیاط سے اس کی تعمیر شروع کر دے گا جو زمین پر اپنی نوعیت کی سب سے بڑی اور شاندار پیشرفت ہو گی۔ اس کے لیے امریکہ کو کسی فوجی کی ضرورت نہیں پڑے گی اور خطے میں استحکام راج کرے گا۔‘

    ان کی پوسٹ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا فلسطینی سرزمین کے 20 لاکھ باشندوں کو واپس آنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

    بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقے سے آبادی کو زبردستی منتقل کرنے کی کوششیں سختی سے ممنوع ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بدھ کو کہا کہ کسی بھی قسم کی نقل مکانی عارضی ہو گی۔ اسی دن کیے گئے اپنے تبصروں میں سکریٹری آف سٹیٹ روبیو کا کہنا تھا کہ خیال یہ ہے کہ غزہ کے باشندے ایک ’عبوری‘ مدت کے لیے علاقہ چھوڑ دیں اور اس دوران یہاں سے ملبہ صاف کیا جائے گا اور علاقے کی تعمیرِ نو ہو گی۔

    یہ خیالات اس معاملے پر ٹرمپ کے ابتدائی تبصروں سے متصادم ہیں۔ منگل کو خطاب کرتے ہوئے انھوں نے غزہ کو ’مشرق وسطیٰ کا ریوریا‘ بنانے کی تجویز پیش کی۔

    ٹرمپ نے تجویز کیا تھا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی مستقل ہو گی۔

    انھوں نے منگل کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ غزہ کی پٹی پر قبضہ کرے گا اور ہم وہاں کام کریں گے۔

  11. امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ناجائز اور بے بنیاد اقدامات کا الزام، ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے ذریعے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ناجائز اور بے بنیاد اقدامات کا الزام لگاتے ہوئے ادارے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    یہ اقدام ان افراد پر مالی اور ویزا پابندیاں عائد کرتا ہے جو امریکی شہریوں یا امریکی اتحادیوں اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں آئی سی سی کو تحقیقات میں مدد کرتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم نامے پر اس وقت دستخط کیے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو واشنگٹن میں کانگریس کے اراکین سے ملاقات کر رہے تھے۔ دونوں کی ملاقات منگل کو وائٹ ہاؤس میں ہوئی۔

    گذشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں بینجمن نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جس کی اسرائیل نے مذمت کی تھی۔ عدالت نے حماس کے ایک سینئر کمانڈر کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔

    اس سے قبل جمعرات کو وائٹ ہاؤس نے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت پر الزام لگایا تھا کہ حماس اور اسرائیل کے لیے بیک وقت یہ سزائیں جاری کرتے ہوئے آئی سی سی نے اخلاقی گرواٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔

    ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے حالیہ اقدامات نے ’ایک خطرناک مثال قائم کی ہے‘ جس نے امریکیوں کو ’ہراساں کرنے، بدسلوکی اور ممکنہ گرفتاری کا خطرہ‘ پیدا ہوا ہے۔

    مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی سی سی نے اپنے دائرہ اختیار کا غیر قانونی استعمال کیا ہے اور اسرائیل سمیت امریکہ اور اس کے کچھ اتحادی ممالک کے اہلکاروں کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں۔

    یاد رے امریکہ آئی سی سی کا رکن نہیں ہے اور اس نے امریکی حکام یا شہریوں پر ادارے کے کسی بھی دائرہ اختیار کو بارہا مسترد کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے آئی سی سی پر الزام لگایا کہ وہ ایران اور اسرائیل مخالف گروپوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

    یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اپنے پہلے دور اقتدار میں ٹرمپ نے آئی سی سی کے عہدیداروں پر پابندیاں عائد کیں جو اس بات کی تحقیقات کر رہے تھے کہ آیا امریکی افواج نے افغانستان میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ بعد میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ان پابندیوں کو ہٹا دیا تھا۔

  12. بلوچستان کے ضلع کیچ سے سات نوجوانوں کی گمشدگی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    بلوچستان کے ضلع کیچ سے سات نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں جن میں سے چھ کا تعلق دو خاندانوں سے ہے۔

    ان میں سے دو نوجوان کامل شریف اور احسان سرور چار فروری کو تربت شہر سے لاپتہ ہوئے تھے۔ دونوں نوجوان آپس میں کزنز ہیں جن میں سے کامل شریف ’عطا شاد ڈگری کالج، تربت‘ میں انٹرمیڈیٹ جبکہ احسان سرور ’یونیورسٹی آف تربت‘ کے طالب علم ہیں۔

    ان میں سے کامل شریف کے والد محمد شریف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے نجی سکول میں میٹرک کے طلبا کے لیے ایک تقریب منعقد کی جا رہی تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ ’میں نے دونوں کو چار فروری کی صبح چند اشیا کی خریداری کے لیے بازار بھیج دیا لیکن وہ واپس نہیں آئے اور ان کے موبائل فون نمبر مسلسل بند جا رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے تربت پولیس سٹیشن میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ سے متعلق اطلاعی رپورٹ جمع کروائی ہے لیکن تاحال پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔

    انھوں نے کہا کہ پولیس حکام کے علاوہ انھوں نے ڈسٹرکٹ کونسل کیچ کے چیئرمین سے بھی بچوں کی بازیابی میں مدد کی درخواست کی ہے۔

    جب اس سلسلے میں کیچ پولیس کے سربراہ راشد زہری سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پولیس میں اطلاعی رپورٹ درج کی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو دیکھا جا رہا ہے کہ آیا یہ دونوں نوجوان خود سے کہیں گئے ہیں یا ان کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

    باقی پانچ نوجوان کہاں سے لاپتہ پوئے؟

    باقی پانچ نوجوان چار اور پانچ فروری کی درمیانی شب تربت شہر کے قریب بہمن کے علاقے سے لاپتہ ہوئےتھے۔

    ان میں 18 سالہ روشن علی اور 14 سالہ ان کا چھوٹا بھائی راحیل علی، ان کے دو کزنز 14 سالہ نعیم بشیر اور 16 سالہ آدم بلوچ کے علاوہ نعمان رفیق شامل ہیں۔

    ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے چاروں نوجوانوں کے رشتہ دار مراد بخش بلوچ نے فون پر بتایا کہ ان میں سے دو ان کے بھانجے اور دو بھتیجے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھانجوں اور بھتیجوں کے علاوہ پانچویں نوجوان کو چار اور پانچ فروری کی درمیانی شب تین سے چار کے درمیان ان کے گھروں سے اٹھا لیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے روشن علی اور آدم بلوچ دکانوں میں کام کرتے ہیں جبکہ راحیل علی اور نعیم بشیر آئندہ چند دنوں میں میٹرک کا امتحان دینے والے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کیچ سے ملاقات کی اور ان سے بچوں کی بازیابی کی درخواست کی۔

    مراد بخش اور محمد شریف دونوں نے بتایا کہ ان کے بچے بے گناہ ہیں اور انھوں نے متعلقہ حکام سے بچوں کی بازیابی کی درخواست کی۔

    ان نوجوانوں کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے ڈپٹی کمشنر کیچ سے فون پر رابطے کی کوشش کے علاوہ ان کو واٹس ایپ پر میسیج بھی بھیجا گیا لیکن انھوں نے نہ کال وصول کی اور نہ میسیج کا جواب دیا۔

  13. 8 فروری کو ملک گیر احتجاج کی کال پر اسلام آباد پولیس کا پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    آٹھ فروری کو ملک بھر میں پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی ہے جس کے بعد وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی ملک میں عام انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر احتجاج کر رہی ہے کیونکہ اس جماعت کا موقف ہے کہ منصفانہ انتخابات نہیں ہوئے تھے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 8 فروری کو ممکنہ احتجاج کے پیش نظر انسپکٹر جنرل آف اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی کی زیر قیادت اعلی سطحی اجلاس میں پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاﺅن کا فیصلہ کر لیا گیا۔

    اعلیٰ افسران کو کارکنان اور قیادت کی گرفتاری کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔

    اجلاس میں 8 فروری کو پی ٹی آئی کا ممکنہ احتجاج روکنے کے لئے حکمت عملی طے کی گئی ۔

    آئی جی اسلام آباد نے تمام ایس پیز کو اپنے اپنے علاقوں میں متحرک قیادت اور کارکنان کی فہرست مرتب کرنے کے احکامات جاری کئے۔

    اجلاس کے دوران مقدمات میں مطلوب قیادت اور کارکنان کے حوالے سے بھی افسران سے پوچھ گچھ کی گئی۔

    آئی جی اسلام آباد نے خواتین پولیس اہلکاروں کی بھی خصوصی ٹیم مرتب کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں ۔

    8 فروری کے ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے اہلکاروں کو سادہ کپڑوں میں بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    8 فروری سے قبل اسلام آباد کے مختلف داخلی راستوں کو بند کرنے سے متعلق فیصلہ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

    آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ کسی بھی صورت میں اسلام آباد میں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  14. عمران خان نے آٹھ فروری کو یوم سیاہ منانے اور ملک گیر حتجاج کرنے کو کہا ہے: گنڈا پور

    پی ٹی آئی نے آٹھ فروری کو یوم سیاہ کے طور پر منانے اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ احتجاج کی یہ کال سابق وزیراعظم عمران خان نے دی ہے۔

    پاکستانی عوام کے نام ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت آٹھ فروری کو یوم سیاہ کے طور پر منائے گی۔ انھوں نے کہا کہ عوام گھروں سے باہر نکلیں اور بھرپور احتجاج کریں۔

    ’میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ بھرپور طریقے سے باہر نہیں چاہے آپ جہاں کہیں بھی ہیں، پختونخوا کے عوام صوابی میں جلسہ ہے آپ سب نے وہاں آنا ہے اور دنیا کو پیغام دینا ہے کہ اپنا حق ہم لینا بھی جانتے ہیں، اپنا حق چھین کے لینا بھی جانتے ہیں۔‘

    انھوں نے موجودہ حکومت اور اداروں کے اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

    ’جس طرف ہمارے ادارے اور فارم 47 پر بننے والی حکومت آگے بڑھ رہی ہیں اس سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔‘

  15. شیخ حسینہ کو بیانات دینے سے روکا جائے: بنگلہ دیش کا انڈین ہائی کمشنر سے مطالبہ

    بنگلہ دیش کے خاارجہ امور کے مشیر توحید حسین نے کہا ہے کہ انڈین حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے خلاف بیانات دینے سے روکیں۔

    خیال رہے کہ شیخ مجیب الرحمان کے گھر نمبر 32، دھان منڈی میں توڑ پھوڑ کی گئی اور انڈیا کی جانب سے شیخ حسینہ کے بیانات کی وجہ سے آج ملک میں مختلف مقامات پر توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے۔

    خاارجہ امور کے مشیر توحید حسین نے کہا کہ انڈیا سے تحریری طور پر کہا گیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے خلاف ایسے بیانات دینے سے روکے اور ان کے قائم مقام ہائی کمشنر کو طلب کرکے اس بارے میں بتایا گیا ہے۔

    انھوں نے یہ بیان جمعرات کی سہ پہر وزارت خارجہ کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس میں دیا تھا۔

    جب ایک صحافی نے دارالحکومت کے 32 نمبر پر آج اور کل ہونے والی توڑ پھوڑ کے بارے میں سوال پوچھا تو توحید حسین نے کہا کہ ’دیکھو، پہلے چند دنوں میں امن و امان کے چند مسائل کے بعد، سب کچھ آہستہ آہستہ مستحکم ہو رہا تھا۔‘

    ‘آپ ایک بات دیکھیں گے، ایسا واقعہ اس وقت بھی ہو سکتا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔’

    خارجہ امور کے مشیر نے کہا کہ ہندوستان سے تحریری طور پر کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے خلاف ایسے بیانات دینے سے روکا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

    ’آج، ہم نے انہیں ایک بار پھر گذشتہ چند دنوں کی صورتحال کے لیے ایک احتجاجی نوٹ دیا۔ ’ہائی کمشنر اب یہاں نہیں ہیں، اس لیے میں نے قائم مقام ہائی کمشنر کو فون کیا اور ان سے

    ‘اشتعال انگیزی کے اس عمل کو روکنے کی درخواست کی۔

    پاکستان کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر مسٹر حسین نے کہا کہ ’اگر ہم ڈٹے رہے تو ان کے لیے کوئی فائدہ نہیں اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو آگے بڑھانے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘

    ہم یقیناً اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بنگلہ دیش کے دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔

    پاکستان کے ساتھ شپنگ ٹریفک دوبارہ شروع کیے جانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’

    ‘ہم زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔‘

  16. پی ایف یو جے نے پیکا ایکٹ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جبکہ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی نے پیکا ایکٹ پر ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    جمعرات کو پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے عمران شفیق ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست دائر کی کہ پیکا ترمیمی ایکٹ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔

    کہا گیا ہے کہ ’پیکا ترمیمی ایکٹ غیرآئینی اور غیرقانونی ہے، عدالتی جائزہ لیا جائے، پی ای سی اے قانون آزادیِ اظہار پر قدغن ہے اور حکومتی کنٹرول میں اضافہ ہے۔

    ، پی ایف یو جے کی درخواست آزادی صحافت کے خلاف قانون پی ای سی اے 2025 معطل کیا جائے، عدالت سے استدعا پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کے خلاف ہے،

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیکا ترمیمی قانون حکومتی سنسرشپ کو غیر محدود اختیارات دیتا ہے، بغیر قانونی عمل کے جعلی خبروں کو جرم قرار دینا غیرآئینی اور آزادی صحافت پر قدغن ہے۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے پیکا ایکٹ پر ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد صحافیوں کو حکومت کو بٹھانا ہے۔

  17. یونان کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر گرفتار

    وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے نے یونان کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر سمیت دو ملزمان گرفتار کر لیے ہیں۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار ملزم انسانی سمگلنگ میں ملوث گینگ کا حصہ ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل بھی گینگ کے دیگر ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    ملزم نے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے متاثرہ احسن علی کو یورپ بھجوانے کے لیے 45 لاکھ روپے بٹورے۔

    ملزم نے دیگر ملزمان کی ملی بھگت سے متاثرہ کو لیبیا میں سیف ہاوسسز میں رکھا، بعد ازاں متاثرہ کو زبردستی کشتی کے ذریعے لیبیا سے یونان بھجوانے کی کوشش کی۔

    کشتی حادثے میں متاثرہ احسن علی کی موت واقع ہو گئی تھی۔

    دوسری جانب کشتی حادثے میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی لاشیں وطن پہنچادی گئیں۔

    مراکش کشتی حادثے میں جاں بحق 4 پاکستانیوں کی لاشوں کو پرواز ایس وی 726 کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا۔

    واضح رہے کہ 15 جنوری کو کشتی حادثے میں 44 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم مقامی حکام کو ریسکیو آپریشن کے دوران صرف 13 لاشیں ملیں جن کا تعلق پاکستان سے تھا جب کہ 27 سے زائد لاشیں نہیں مل سکیں۔

  18. رمضان شوگر ملز ریفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز بری

    لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو بری کردیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ اینٹی کرپشن کورٹ کے جج سردار اقبال ڈوگر نے 3 فروری کو بریت کی درخواستوں پر محفوظ کیا تھا۔ محفوظ فیصلہ سُناتے ہوئے جج سردار اقبال ڈوگر نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو بری کر دیا ہے۔

    اس مقدمے میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر قومی خزانے سے رمضان شوگر ملز کے لیے نالے بنانے کا الزام تھا۔ جبکہ نیب قانون میں ترمیم کے بعد یہ ریفرنس اینٹی کرپشن کورٹ کو منتقل کر دیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ حال ہی میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران مدعی اپنے بیان سے منحرف ہوگئے تھے۔ مدعی ذوالفقار علی نے بیان ریکارڈ کروایا کہ انھوں نے کوئی درخواست نہیں دی۔ مدعی نے بیان دیا کہ سنہ 1991 میں گندہ نالہ اپنے خرچ پر بنانے کا حلف نامہ سے متعلق کوئی علم نہیں ہے۔

    جبکہ اس کیس میں سات گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ گزشتہ سماعت پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے موقف اختیار کیا کہ رکن پنجاب اسمبلی مولانا رحمت اللہ کی درخواست پر گندے نالے کے لیے ڈائریکیٹو جاری کیا گیا۔

    اس پراجیکٹ کو پنجاب اسمبلی نے منظور کیا تھا۔ دوسری جانب پروسیکشن کے وکیل محمد وسیم نے دلائل میں کہا کہ ’ہمارے پاس کوئی ایسا گواہ نہیں ہے جسے پیش کرنا ہے۔ تمام گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ تمام شواہد فائل کے ساتھ لگائے ہوئے ہیں۔‘

    سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ ’اس میں جو متعلقہ ایم پی اے تھے وہ وفات پا چُکے ہیں اس میں تمام گواہ سرکاری ہیں۔ اس کیس میں بہت سے گواہ غیر متعلقہ ہیں۔‘

  19. ڈھاکہ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں عوامی لیگ کے وزرا اور کارکُنان کی رہائش گاہوں پر حملے

    ڈھاکہ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں عوامی لیگ کے وزرا اور کارکُنان کی رہائش گاہوں اور مختلف دفاتر پر حملوں، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    بدھ کی شام ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمٰن کی رہائش گاہ اور معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی رہائش گاہ پر بھی حملے کیا گیا اور انھیں منہدم کر دیا گیا۔

    اس کے علاوہ کھلنا، چٹاگانگ، سلہٹ، رنگ پور سمیت ملک کے کئی دیگر مقامات پر عوامی لیگ کے رہنماؤں کے گھروں اور شیخ مجیب کے مجسموں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

    بنگلہ دیشی پولیس ذرائع کی جانب سے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ڈھاکہ میں معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی رہائش گاہ سدھاسدان پر بھی حملہ کیا گیا۔

    پولیس ذرائع نی بی بی سی کو بتایا کے جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ عمارت کی دو منزلوں پر آگ لگی ہوئی ہے۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ ’ایسے مشتعل لوگوں کے درمیان پولیس کیا کر سکتی ہے؟‘

    عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکرٹری محبوب العالم حنیف کے گھر کو بھی مسمار کر دیا گیا

    دوسری جانب کُشتیا میں عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکرٹری محبوب العالم حنیف کے گھر کو بھی بلڈوزر کی مدد سے گزشتہ شب مسمار کردیا گیا۔

    ایک مقامی پولیس عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں پی ٹی آئی روڈ پر تین منزلہ عمارت کو مسمار کرنے کا کام بدھ کی رات 10 بجے کے قریب شروع ہوا۔

    پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ پہلے گھر کے مین گیٹ اور چار دیواری کو گرایا گیا پھر بلڈوزر کی مدد سے ہی گھر کی مکمل عمارت کو بھی گرا دیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال 5 اگست کو جس دن شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اُسی دن محبوب العالم حنیف کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور اسے آگ لگا دی گئی تھی۔

    سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے چچا کے گھر کو بھی گرا دیا گیا

    بنگلہ دیش میں کھلنا شہر کے مولایاپوٹا علاقے میں واقع ’شیخ باری‘ کے نام سے مشہور ایک گھر کو بھی مسمار کیا گیا ہے۔ یہ گھر بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے چچا کا ہے۔

    مقامی صحافیوں نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ امتیازی سلوک کے خلاف طلبہ تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بدھ کی رات نو بجے کے قریب گھر میں توڑ پھوڑ کی۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ کھلنا سٹی کارپوریشن کے دو بلڈوزر گھر کو منہدم کرنے کے لئے استعمال کیے گئے۔ شیخ حسینہ کے کزن اور عوامی لیگ کے سابق ایم پی شیخ ہیلال الدین، شیخ سہیل الدین اور بہت سے دیگر افراد اس گھر میں رہتے تھے مگر وہ 5 اگست کے مظاہروں سے قبل اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

    واضح رہے کہ مُلک میں گزشتہ سال اگست میں فسادات کے پھوٹ پڑنے کے بعد 4 اور 5 اگست کی درمیان شب اس گھور میں پہلی مرتبہ توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور اس کے بعد آگ لگا دی گئی تھی جس کے بعد اب صرف اس گھر کا کنکریٹ کا ڈھانچہ ہی باقی تھا۔

    عوامی لیگ کے سابق وزیر طفیل احمد کو بھی جلایا گیا

    عوامی لیگ ایڈوائزری کونسل کے رکن اور سابق وزیر طفیل احمد کی بھولا کے نام سے مشہور رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا اور اسے بھی آگ لگا دی گئی۔

    مقامی لوگوں نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ بدھ کی آدھی رات کے بعد بھولا میں غازی پور روڈ پر مسٹر احمد کی رہائش گاہ کے سامنے 25 سے 30 افراد جمع ہوئے۔ اس دوران انھوں نے عوامی لیگ اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف مختلف نعرے لگائے۔

    ایک موقع پر عمارت میں توڑ پھوڑ کی گئی اور فرنیچر کو آگ لگا دی گئی۔ واقعے کے ایک مقامی عینی شاہد نے بتایا کہ طفیل احمد 5 اگست کے بعد سے اپنی اس رہائش نہیں آئے تھے۔

  20. بنگلہ دیش میں مظاہرین نے شیخ مجیب کا گھر جلا دیا، ’عمارتیں گرائی جا سکتی ہیں لیکن تاریخ نہیں مٹائی جا سکتی،‘ شیخ حسینہ واجد

    بنگلہ دیش میں مظاہرین نے بدھ کی رات ڈھاکہ میں واقع شیخ مجیب الرحمان کے گھر کو نذر آتش کرنے کے بعد منہدم کر دیا ہے۔

    ڈھاکہ میں واقع شیخ مجیب کے اس گھر کو ’دھان منڈی 32‘ کہا جاتا تھا۔

    شیخ مجیب کے گھر کو نذر آتش کرنے کے علاوہ مظاہرین نے سابق وزیر اعظم اور شیخ مجیب کی بیٹی شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ کے رہنماؤں کے گھروں میں بھی توڑ پھوڑ کی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ انڈیا میں بیٹھ کر بنگلہ دیش مخالف سرگرمیاں کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ سال بنگلہ دیش میں طلبا کے پرتشدد مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ملک بھی چھوڑ کر فرار ہونا پڑا تھا۔ وہ 5 اگست 2024 سے انڈیا میں رہائش پذیر ہیں۔

    شیخ حسینہ واجد نے اپنے والد اور بنگلہ دیش کے بانی کے گھر کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ (مخالفین) چند بلڈوزر سے ملک کی آزادی کو تباہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ عمارت کو گِرا سکتے ہیں لیکن تاریخ کو مٹا نہیں سکتے۔‘

    بنگلہ دیش میں حالیہ مظاہروں کی ابتدا بدھ کی شام اس وقت ہوئی جب شیخ حیسنہ واجد کی پارٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ بدھ کو رات گئے فیس بُک کے ذریعے تقریر کریں گے۔

    عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کی یہ تقریر فیس بک پیج کے ذریعے نشر کی گئی۔

    اس دوران ان کا کہنا تھا کہ ’وہ گھر کیوں گرایا جا رہا ہے؟ جس نے بھی اسے گرایا، میں اس ملک کے لوگوں سے انصاف کا مطالبہ کرتی ہوں۔‘

    بدھ کو شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کو چھ ماہ مکمل ہو چُکے ہیں۔

    یہ سارا معاملہ اُس وقت شروع ہوا کہ جب شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے طلبا ونگ ’چھاترا لیگ‘ نے گزشتہ روز ایک آن لائن پروگرام کا اہتمام کیا جس میں شیخ حسینہ کو بھی آن لائن خطاب کی دعوت دی گئی۔ پروگرام بدھ کی رات نو بجے فیس بُک کے ذریعے نشر ہونا تھا۔

    جیسے ہی اس پروگرام کی خبر پھیلی، شیخ حیسنہ مخالف مظاہرین نے ’بلڈوزر کے ساتھ مظاہرے شروع کر دیے۔ جس کے بعد پروگرام کے شروع ہونے سے قبل ہی مظاہرین نے بیلچوں اور ہتھوڑوں کی مدد سے بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب کی رہائش گاہ دھان منڈی 32 ہر حملہ کر دیا۔‘

    مقامی اخبار ’دی ڈیلی سٹار‘ کے مطابق شیخ مجیب کے گھر کو رات ساڑھے نو بجے آگ لگائی گئیجس کے چند گھنٹوں کے بعد ایک کرین کی مدد سے رات دو بجے کے قریب عمارت کا ایک حصہ منہدم کر دیا گیا۔

    مظاہرین میں سے ایک نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عجائب گھر میں تبدیل کیے گئے گھر کو جلانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ’فاشزم‘ کی علامت بن چکا ہے۔