نیتن یاہو نے ٹرمپ کا غزہ منصوبہ مسترد کر دیا، حماس کا امریکہ سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امن منصوبے کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ اسرائیل اس وقت تک اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا جب تک حماس کو ’حقیقی طور پر غیر مسلح‘ نہیں کر دیا جاتا۔ دوسری جانب حماس کے ایک عہدیدار نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔
خلاصہ
امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو'تباہ' کر دیا ہے: امریکی نائب صدر کا دعویٰ
آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ تہران کے چھ مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کا بیان
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایران یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں: ترک وزیرِ خارجہ
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ضلع ہنگو میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن میں کالعدم شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے سات مبینہ شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں جبکہ اس کارروائی کے دوران فوج کے کیپٹن حمزہ اکرم ہلاک ہو گئے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم جنگ کے بجائے بات چیت سے بھی اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔
لائیو کوریج
کاغذی معاہدے سعودی عرب کی سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے: دفاعی معاہدے پر ایرانی رکن قومی سلامتی کمیٹی کا ردعمل
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے
پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم
رضائی نے کہا ہے: ’سعودیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ
کاغذی معاہدے ان کے لیے سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے، جس طرح برسوں تک امریکہ کا
یکطرفہ ساتھ دینے سے بھی انہیں سلامتی حاصل نہیں ہوئی۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ
میں انھوں نے مزید لکھا کہ ’اپنی پالیسیوں کی اصلاح کریں تاکہ دوسروں سے سلامتی کی
بھیک مانگنے کی ضرورت نہ پڑے۔‘
واضح رہے کہ آج پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط: تصویری جھلکیاں
،تصویر کا ذریعہSaudi Press Agency via REUTERS
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ
دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک
پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
،تصویر کا ذریعہSaudi Press Agency via REUTERS
جمعہ کی دوپہر مکہ میں مشترکہ دفاعی سمٹ میں شرکت کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف،
ترک صدر رجب طیب اردوغان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔
،تصویر کا ذریعہSaudi Press Agency via REUTERS
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس
معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
،تصویر کا ذریعہSaudi Press Agency via REUTERS
معاہدے میں طے کیا گیا ہے کہ ’تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک کے خلاف ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
اس حوالے سے مزید تفصیلات جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تیسرے مرحلے کے انتخابات، سات حلقوں میں ووٹنگ ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے بی بی سی سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ راولاکوٹ اور پلندری کے سات حلقوں میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں، جبکہ چار حلقوں میں پولنگ اپنے شیڈول کے مطابق 10 اگست کو منعقد ہو گی۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق ملتوی کیے جانے والے حلقوں سے متعلق حتمی فیصلہ مختلف درخواستوں اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔
واضح رہے کہ ضلع باغ کے تین اور ضلع حویلی کے ایک حلقے میں انتخابی مقابلہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک موجودہ وزیراعظم اور دو سابق وزرائے اعظم میدان میں ہیں۔
دوسری جانب جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کو مختلف علاقوں کی مجموعی صورتحال سے متعلق متعدد درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں انتخابات کے التوا کی استدعا کی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق موصول ہونے والی درخواستوں اور متعلقہ اداروں سے حاصل کی گئی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد بعض حلقوں میں انتخابی عمل ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ دیگر حلقوں میں پولنگ شیڈول کے مطابق 10 اگست کو کرائی جائے گی۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کمیشن آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے آئینی و قانونی ذمہ داریوں کے مطابق اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور تمام فیصلے عوامی مفاد اور انتخابی عمل کی شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے ووٹرز، امیدواروں اور سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی اور انتخابی عمل میں تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔
شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کی مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہGett
وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط آج متوقع ہیں۔
مکہ کے قصر الصفا آمد پر محمد بن سلمان نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔
ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو ’مکہ معاہدہ‘ کا نام دیا جائے گا: ترکی کے سرکاری میڈیا کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ٹی آر ٹی‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین آج متوقع دفاعی معاہدے کو ’مکہ معاہدے‘ کا نام دیا جائے گا۔
خطے میں موجود ذرائع نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان آج (جمعہ کو) دفاعی تعاون کے ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط کریں گے۔
ایک ترک عہدیدار نے اس معاہدے پر دستخطی تقریب کی تصدیق کی ہے۔
ترکی نیٹو (NATO) کا رکن ہے، سعودی عرب جو امریکہ کا ایک اور اتحادی ہے، دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے اور پاکستان واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ترک صدر اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف، ملک کے آرمی چیف عاصم منیر کے ہمراہ اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
جمعے کے روز عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی صورتحال کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔
جمعے کی صبح برینٹ کروڈ فیوچرز 85 سینٹ اضافے کے ساتھ 83.34 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ فیوچرز کی قیمت میں بھی 52 سینٹ کا اضافہ ہوا اور یہ 77.81 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
اس ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، یہاں تک کہ حالیہ دنوں میں یہ 80 ڈالر کی سطح سے بھی نیچے آ گئی تھیں، کیونکہ آبنائے ہرمز سے متعلق جاری تنازع کے حل تک پہنچنے کے امکانات میں بہتری آ رہی تھی۔
بینکاک سکول حملے کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہReuters
اگر آپ ابھی ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں تو ’ڈیبسرین اسکول‘ میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بارے میں اب تک کی معلومات یہ ہیں۔
مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے کے فوراً بعد بنکاک کے مضافات میں واقع ایک سکول میں فائرنگ کے نتیجے میں پانچ اساتذہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص جو کہ 14 سالہ لڑکا ہے نے سکول جانے سے قبل اپنے گھر پر اپنے دادا دادی کو ہلاک کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق اس نے جو 9 ایم ایم (9mm) پستول استعمال کیا وہ اس کے دادا کی ملکیت تھا اور اطلاعات کے مطابق اس کے قبضے سے گولیاں (ایمونیشن) کے کم از کم 34 اضافی راؤنڈز بھی برآمد ہوئے۔
پولیس نے اس سے قبل بتایا تھا کہ فائرنگ کرنے والا مشتبہ لڑکا بھی ہلاک ہو چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی تک اس اقدام کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
زخمی ہونے والے کم از کم 15افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
اس واقعے کے بعد تھائی حکام سے ملک میں اسلحہ کنٹرول کے اقدامات پر نظر ثانی کرنے کے مطالبات میں دوبارہ شدت آ گئی ہے، کیونکہ جنوب مشرقی ایشیا میں اسلحہ رکھنے کی شرح کے لحاظ سے یہ ملک سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔
تھائی لینڈ کی وزارتِ صحت کی وضاحت: ’پانچ اساتذہ ہلاک ہوئے‘
تھائی لینڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بینکاک کے مضافات میں ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث مبینہ حملہ آور نے اپنے اساتذہ کو نشانہ بنایا ہے جس سے پہلے وہ اپنے دادا دادی کو بھی گولی مار چکا تھا۔
مبینہ حملہ آور نویں جماعت کا 14 سالہ طالب علم بتایا گیا ہے وہ بھی واقعے کے بعد بھی مردہ پایا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف حکام کی جانب سے متضاد اعداد و شمار سامنے آ رہے تھے۔ اب وزیرِ صحت پٹانا پرومپات کا کہنا ہے کہ سکول میں پانچ اساتذہ ہلاک ہوئے ہیں۔
اس طرح مجموعی ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو جاتی ہے، جن میں مبینہ حملہ آور کے دادا دادی اور خود حملہ آور بھی شامل ہیں۔
تھائی لینڈ: مبینہ حملہ آور نے سکول جانے سے پہلے اپنے دادا دادی کو قتل کیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تھائی لینڈ کے وزیرِ صحت کے مطابق مبینہ حملہ آور نے سکول جانے سے پہلے اپنے دادا دادی کو بھی مبینہ طور پر قتل کر دیا تھا۔ دونوں اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے مضافات میں ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث مبینہ حملہ آور نویں جماعت کا 14 سالہ طالب علم، وہ بھی واقعے کے بعد بھی مردہ پایا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی 9 ملی میٹر پستول حملہ آور کے اس کے دادا کی تھی، جو ایک استاد تھے۔
پولیس نے ابتدا میں کہا تھا کہ سکول میں فائرنگ کے واقعے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم حکام نے اب وضاحت کی ہے کہ اب تک سکول کے اندر چار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور یہ تمام اساتذہ تھے۔ مبینہ حملہ آور بھی مردہ پایا گیا ہے۔
اپوزیشن کے ایک رہنما نے تھائی حکام سے ملک میں اسلحہ کنٹرول کے قوانین کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نتھافونگ روئنگپنیاؤت نے فائرنگ کے واقعے کے بعد فیس بک پر ایک پوسٹ میں لکھا ’اگرچہ اس حملے کی وجہ ابھی واضح نہیں ہے، لیکن ایک تعلیمی ادارے میں تشدد کا یہ واقعہ، جو ہمارے معاشرے کی محفوظ ترین جگہوں میں سے ایک ہونا چاہیے، تھائی معاشرے کے لیے ایک واضح یاد دہانی ہے کہ اسلحہ کنٹرول کے اقدامات کا سنجیدگی اور منظم انداز میں جائزہ لیا جائے۔‘
نتھافونگ نے متاثرین کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کا اظہار کیا۔
تھائی لینڈ: بینکاک کے مضافات میں ایک سکول میں فائرنگ، کم از کم چھ افراد ہلاک
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے مضافات میں ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مبینہ حملہ آور، نویں جماعت کا 14 سالہ طالب علم، وہ بھی واقعے کے بعد بھی مردہ پایا گیا ہے۔
ایک عینی شاہد کے مطابق مبینہ حملہ آور ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جاتا رہا اور پھر ایک استاد کو گولی مار دی۔
ہنگامی امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر بھیجا گیا ہے، جہاں طلبہ اور سکول کا عملہ جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھے گئے۔
زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے طبی عملے نے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ نونتھابوری میں واقع ڈیبسرین سکول کے آس پاس کے علاقے سے دور رہیں۔
ڈیبسرین سکول کی شاخیں پورے تھائی لینڈ میں موجود ہیں اور اسے تعلیمی وقار کے حوالے سے وسیع شہرت حاصل ہے۔
یہ فائرنگ رواں سال فروری میں جنوبی تھائی لینڈ کے ایک سکول میں ہونے والے ایک اور فائرنگ کے واقعے کے بعد پیش آئی ہے۔ اس واقعے نے تھائی لینڈ میں اسلحے کی آسان دستیابی کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے، اور اب یقیناً یہ سوالات دوبارہ سامنے آئیں گے۔
تھائی لینڈ کے وزیرِ اعظم انوتن چارنویراکل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سکول میں فائرنگ کے واقعے کے متاثرین کے لیے تعزیت کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا ’یہ واقعی بہت برا واقعہ ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مجھے صرف متاثرین کا ہی نہیں بلکہ اس بات کا بھی افسوس ہے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ ہمارے ملک میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟‘
انھوں نے گورنمنٹ ہاؤس میں ایک مختصر گفتگو کے دوران یہ بات کہی۔
انھوں نے مزید کہا ’اسی لیے حکومت (شہریوں کو) آتشیں اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتی۔‘
امریکی صدر ٹرمپ نے پیدائشی شہریت محدود کرنے کے لیے دوبارہ نئے صدارتی احکامات جاری کر دیے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں پیدائش کی بنیاد پر ملنے والی شہریت کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش کی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل سپریم کورٹ نے ان کی سابقہ کوشش کو مسترد کر دیا تھا، جس کا مقصد اس حق کو ختم کرنا تھا۔
ٹرمپ نے جمعرات کو دو نئے صدارتی احکامات پر دستخط کیے۔ ان میں سے ایک حکم ایسے غیر شہری افراد کی موجودہ تعریف کو وسیع کرتا ہے جن کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودبخود امریکی شہریت نہیں مل سکے گی۔
دوسرا حکم نام نہاد ’برتھ ٹورازم‘ پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ عمل ہے جس میں حاملہ خواتین امریکہ آتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کی پیدائش امریکہ میں ہو اور انھیں امریکی شہریت حاصل ہو جائے۔
اوول آفس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ کام برسوں پہلے ہو جانا چاہیے تھا، لیکن اب ہم اس مسئلے کو حل کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے پیدائشی شہریت کے تقریباً 150 سال پرانے اصول کو ختم کرنے کی اپنی سابقہ کوشش کو مسترد کرنے پر سپریم کورٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
پہلے صدارتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ’میری انتظامیہ ان خطرات کے خلاف تحفظ فراہم کرتی رہی ہے جو بدنیتی رکھنے والے غیر ملکی عناصر کی جانب سے پیدا ہوتے ہیں، جو ہماری قوم کی سخاوت سے فائدہ اٹھا کر امریکی شہریوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
اس حکم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے ایسے بچوں کو پیدائش کے بعد شہریت نہیں دی جائے گی جن کے دونوں والدین غیر شہری ہوں اور ان میں سے ایک والدین:
کسی غیر ملکی دہشت گرد گروہ کا رکن ہو،
کسی غیر ملکی حکومت کا ملازم ہو،
دھوکے یا فراڈ کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کی کوشش کر چکا ہو،
یا امریکہ کے ایسے علاقوں میں مقیم ہو جہاں وفاقی قانون کے تحت پدائشی شہریت نہیں دی جاتی۔
واضح رہے کہ پورٹو ریکو جیسے امریکی علاقوں میں پیدا ہونے والے افراد کی شہریت وفاقی قانون کے تحت تسلیم شدہ ہے۔
ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر عہدیدار متعدد بار برتھ ٹورازم پر تنقید کر چکے ہیں۔ انھوں نے روس اور چین جیسے ممالک کے شہریوں پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ پیدائشی شہریت کے قانون سے فائدہ اٹھا کر امریکہ میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جمعرات کو صدارتی احکامات کے اعلان کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ میں برتھ ٹورازم کے ذریعے لاکھوں بچے پیدا ہو چکے ہیں۔
تاہم غیر جانبدار تحقیقی ادارے مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق مردم شماری کی بنیاد پر کیے گئے سب سے وسیع تخمینوں کے مطابق ہر سال تقریباً 22 ہزار سے 26 ہزار بچے امریکہ میں برتھ ٹورازم کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں۔ ادارے کے مطابق سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2024 میں غیر ملکی ماؤں کے ہاں 9,600 بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی۔
وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف سٹاف برائے پالیسی اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے مشیر سٹیفن ملر نے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ بعض افراد سیاح یا مہمان بن کر امریکہ آتے ہیں، جبکہ ان کا اصل مقصد بچے کو جنم دینا اور اسے خودکار امریکی شہریت دلوانا ہوتا ہے۔‘
ملر کے مطابق بعد میں یہ بچے امریکی شہریت کی بنیاد پر مختلف سرکاری مراعات، ووٹ دینے کے حق اور دیگر قانونی حقوق سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی ایک شق کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ملک میں داخلے کے قواعد و ضوابط اور استثنائی صورتوں کا تعین کر سکے، اور اسی اختیار کی بنیاد پر برتھ ٹورازم پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت دی جانے والی پیدائشی شہریت کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اس اقدام کو قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور یہ نافذ نہ ہو سکا۔
اب تک کی اہم خبریں
سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر کا ٹیلی فون پر مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی پر تبادلہِ خیال
قلات اور خضدار میں حکام کی شام کو دکانیں بند کرنے اور عوام کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس کے مطابق آئندہ دنوں میں براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
سوشل میڈیا کمپنی میٹا پر بچوں کی حفاظت کے معاملے میں سب سے بڑا جرمانہ، 56 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب پہنچ گئے
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔