امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں پیدائش کی بنیاد پر ملنے والی شہریت کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش کی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل سپریم کورٹ نے ان کی سابقہ کوشش کو مسترد کر دیا تھا، جس کا مقصد اس حق کو ختم کرنا تھا۔
ٹرمپ نے جمعرات کو دو نئے صدارتی احکامات پر دستخط کیے۔ ان میں سے ایک حکم ایسے غیر شہری افراد کی موجودہ تعریف کو وسیع کرتا ہے جن کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودبخود امریکی شہریت نہیں مل سکے گی۔
دوسرا حکم نام نہاد ’برتھ ٹورازم‘ پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ عمل ہے جس میں حاملہ خواتین امریکہ آتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کی پیدائش امریکہ میں ہو اور انھیں امریکی شہریت حاصل ہو جائے۔
اوول آفس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ کام برسوں پہلے ہو جانا چاہیے تھا، لیکن اب ہم اس مسئلے کو حل کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے پیدائشی شہریت کے تقریباً 150 سال پرانے اصول کو ختم کرنے کی اپنی سابقہ کوشش کو مسترد کرنے پر سپریم کورٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
پہلے صدارتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ’میری انتظامیہ ان خطرات کے خلاف تحفظ فراہم کرتی رہی ہے جو بدنیتی رکھنے والے غیر ملکی عناصر کی جانب سے پیدا ہوتے ہیں، جو ہماری قوم کی سخاوت سے فائدہ اٹھا کر امریکی شہریوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
اس حکم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے ایسے بچوں کو پیدائش کے بعد شہریت نہیں دی جائے گی جن کے دونوں والدین غیر شہری ہوں اور ان میں سے ایک والدین:
-
کسی غیر ملکی دہشت گرد گروہ کا رکن ہو،
-
کسی غیر ملکی حکومت کا ملازم ہو،
-
دھوکے یا فراڈ کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کی کوشش کر چکا ہو،
-
یا امریکہ کے ایسے علاقوں میں مقیم ہو جہاں وفاقی قانون کے تحت پدائشی شہریت نہیں دی جاتی۔
واضح رہے کہ پورٹو ریکو جیسے امریکی علاقوں میں پیدا ہونے والے افراد کی شہریت وفاقی قانون کے تحت تسلیم شدہ ہے۔
ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر عہدیدار متعدد بار برتھ ٹورازم پر تنقید کر چکے ہیں۔ انھوں نے روس اور چین جیسے ممالک کے شہریوں پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ پیدائشی شہریت کے قانون سے فائدہ اٹھا کر امریکہ میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جمعرات کو صدارتی احکامات کے اعلان کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ میں برتھ ٹورازم کے ذریعے لاکھوں بچے پیدا ہو چکے ہیں۔
تاہم غیر جانبدار تحقیقی ادارے مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق مردم شماری کی بنیاد پر کیے گئے سب سے وسیع تخمینوں کے مطابق ہر سال تقریباً 22 ہزار سے 26 ہزار بچے امریکہ میں برتھ ٹورازم کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں۔ ادارے کے مطابق سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2024 میں غیر ملکی ماؤں کے ہاں 9,600 بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی۔
وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف سٹاف برائے پالیسی اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے مشیر سٹیفن ملر نے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ بعض افراد سیاح یا مہمان بن کر امریکہ آتے ہیں، جبکہ ان کا اصل مقصد بچے کو جنم دینا اور اسے خودکار امریکی شہریت دلوانا ہوتا ہے۔‘
ملر کے مطابق بعد میں یہ بچے امریکی شہریت کی بنیاد پر مختلف سرکاری مراعات، ووٹ دینے کے حق اور دیگر قانونی حقوق سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی ایک شق کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ملک میں داخلے کے قواعد و ضوابط اور استثنائی صورتوں کا تعین کر سکے، اور اسی اختیار کی بنیاد پر برتھ ٹورازم پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت دی جانے والی پیدائشی شہریت کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اس اقدام کو قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور یہ نافذ نہ ہو سکا۔