ہم عمان کے ساتھ معاہدے کے قریب ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھل جائے گی: ایرانی وزیرِ خارجہ
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں، لیکن مسقط کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کا یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے صحافیوں کو بتایا: ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹریفک کے راستے کے تعین اور اس کے قانونی طریقہ کار و انتظام کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا دیگر شرائط سے مشروط ہے، جن میں امریکہ کی جانب سے ’اسلام آباد مفاہمت نامے‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے (ہرجانے کی ادائیگی) کا معاملہ بھی شامل ہے۔
عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے ٹریفک کے راستے پر اتفاق رائے کے معاملے میں ’تکنیکی اور قانونی پیچیدگیوں‘ کے باعث، ایران اور عمان فی الحال ایک ایسے عارضی راستے پر اتفاق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے بعد میں ’مرکزی راستے کی بنیاد‘ سمجھا جائے گا۔
اس سے قبل، پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز صرف اسی صورت میں کھولی جائے گی جب امریکہ ایران کی تمام شرائط تسلیم کر لے گا۔