پی ٹی آئی پر پابندی کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اتحادیوں سے مشاورت کی جائے گی: وزیر خارجہ

پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو پہلے لیڈرشپ دیکھے گی۔ ’اس کے بعد ہمارے جو اتحادی ہیں ان سے مشورہ ہوگا۔‘

خلاصہ

  • وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق حکومت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں ایک ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا جائے گا۔
  • پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان نے اسے مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے ’تاریخی فیصلے کے نتیجے میں ملنے والی شرمندگی مٹانے کی مکروہ کوشش‘ قرار دیا ہے۔
  • ادھر پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی نظر ثانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کے حصول کی استدعا ہی نہیں کی تھی جبکہ سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی الگ الگ سیاسی جماعتیں ہیں۔
  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پی ٹی آئی کی کارکن صنم جاوید کو 18 جولائی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
  • تحریک لبیک کے کارکنوں کی جانب سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پر دھرنے کا آج تیسرا دن ہے

لائیو کوریج

  1. گذشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر:

    • پاکستان تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کی بریت اور دوبارہ گرفتاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔

    ڈیوٹی مجسٹریٹ ملک عمران نے صنم جاوید کے ریمانڈ پر محفوظ فیصلہ سنایا اور عدالت نے صنم جاوید کے وکلا کی مقدمے سے بریت کی استدعا منظور کر لی۔ یوں عدالت نے صنم جاوید کو بری کرنے کا حکم دیا۔

    ایف آئی اے نے صنم جاوید کو گوجرانوالا سینٹرل جیل سے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے صنم جاوید کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تھا۔

    دوسری جانب صنم جاوید کے وکیل کے مطابق اسلام آباد پولیس نے صنم جاوید کو دوبارہ گرفتار کرلیا ہے تاہم اسلام آباد پولیس کی جانب سے ابھی تک صنم جاوید کی گرفتاری سے متعلق کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    • جج صاحب میری بیوی کا توشہ خانہ سے کچھ لینا دینا نہیں: عمران خان

    توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا سرکاری تحائف سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

    یہ سماعت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اڈیالہ جیل کے اندر ہوئی جس کے بارے میں بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے مطالبے پر ہی عدالت نے میڈیا کے نمائندوں کو جیل کے اندر بلانے کا حکم دیا۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق سماعت کے آغاز پر عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جج صاحب میری بیوی کا توشہ خانہ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بشری بی بی کو صرف مجھے اذیت پہنچانے کے لیے جیل میں ڈال رکھا ہے۔‘

    جیل اہلکار کے مطابق سماعت کے دوران عمران خان اور بشری بی بی ایک ساتھ بیٹھے رہے تھے۔

    • توشہ خانہ کیس: عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کا آٹھ دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔

    اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے عمران خان اور بشری بی بی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کی عدالت میں پیش کیا۔ سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے اسلام آباد کی احتساب عدالت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم کی گئی تھی۔

    خیال رہے کہ سنیچر کو نیب کی ٹیم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دوران عدت نکاح کیس میں رہائی ملنے کے بعد گرفتار کیا تھا۔