آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ’ہم یہ فلم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں‘: ٹرمپ کے معاشی جنگ شروع کرنے کے اعلان پر ایران کا ردِعمل

امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف معاشی جنگ شروع کرنے کے اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ فلم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، یہ وہی پرانی کہانی ہے۔‘ عباس عراقچی کے مطابق ماضی کی طرح امریکہ کی حالیہ پابندیاں بھی ناکام ہوں گی۔

خلاصہ

  • پارلیمان میں مشترکہ اپوزیشن کے قیام پر اتفاق ہو گیا: فضل الرحمان
  • امریکی پابندیاں اسرائیل کے خلاف 'مزاحمت' کو نہیں روک سکتیں: حزب اللہ
  • امریکہ کی نئی پابندیاں بھی ناکام ہوں گی: عباس عراقچی کا ٹرمپ کی جانب سے معاشی جنگ شروع کرنے کے اعلان پر ردِعمل
  • یہ امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا بہترین وقت ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • جنگ سے پہلے اپنے عسکری اثاثے منتقل کر دیے تھے: ایرانی وزارتِ دفاع
  • ترکی کا غزہ فلوٹیلا کو روکنے کے معاملے پر نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان
  • مسلح گروہوں کے ساتھ فوجی تصادم کا کوئی ارادہ نہیں: عراقی وزیر اعظم

لائیو کوریج

  1. پارلیمان میں مشترکہ اپوزیشن کے قیام پر اتفاق ہو گیا: فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پارلیمان کے اندر ایک مشترکہ اپوزیشن تشکیل دینے پر اتفاق ہو گیا ہے تاکہ اپوزیشن جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

    اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیر اعظم مذاکرات کی دعوت تو دے رہے ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور ’میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج آ رہی ہے۔‘

    ملک میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ دو صوبوں میں ’حالتِ جنگ‘ جیسی کیفیت ہے، حکومتی رِٹ چیلنج ہو رہی ہے اور شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران شدت پسندی کے خلاف متعدد آپریشن کیے گئے، تاہم ان کے بقول امن و امان کے قیام، حکومتی رِٹ کے استحکام اور مطلوبہ نتائج کے حصول میں کامیابی نظر نہیں آ رہی۔

    فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کے باعث معیشت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ خصوصاً قبائلی علاقوں کے تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر تجارت بند ہے اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی ملک کو چیلنجز کا سامنا ہے۔

    فضل الرحمٰن نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں جاری احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مطالبات سننے کے بجائے ان سے مذاکرات نہیں کیے جا رہے، جس کے نتیجے میں حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اپوزیشن عوام تک اپنا مؤقف اور ’حقائق‘ پہنچائے گی، جبکہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ جماعتوں سے مشاورت کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل اور فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔

  2. امریکی پابندیاں اسرائیل کے خلاف ’مزاحمت‘ کو نہیں روک سکتیں: حزب اللہ

    لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے خلاف اس کی ’مزاحمت‘ کو نہیں روک سکے گا۔

    یہ بیان واشنگٹن کی جانب سے حزب اللہ پر نئی پابندیاں عائد کرنے اور اس گروپ پر ایران کے مفادات کے لیے کام کرنے کا الزام لگانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    امریکی محکمۂ خزانہ نے گذشتہ روز حزب اللہ کی قانونی درجہ بندی میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ ’ایرانی حکومت کے مفادات کی نگہبانی کرتا ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کی قیادت میں کام کرتا ہے۔‘

    امریکہ نے مزید 10 افراد پر بھی نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ حزب اللہ کو رقوم منتقل کرنے والے ایک نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

    حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا: ’یہ تمام پابندیاں اور غیر منصفانہ درجہ بندیاں ہمیں مزاحمت کے راستے اور لبنان اور لبنانی عوام کے اپنے سر زمین، خود مختاری اور وسائل کے دفاع کے حق سے نہیں ہٹا سکتیں۔‘

    ایرانی حمایت یافتہ اس گروپ نے زور دے کر کہا کہ ’ایران کے ساتھ ہمارا قریبی اور برادرانہ تعلق ہے جس کی ہم قدر کرتے ہیں اور جس پر ہمیں فخر ہے۔‘

    امریکی محکمۂ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کے پاس افراد کا ایک ایسا نیٹ ورک موجود ہے جو پابندیوں سے بچنے کے لیے ’لبنان، ترکی، متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان تجارتی پروازوں کے ذریعے سفر کرتا ہے اور کروڑوں ڈالر کی رقوم منتقل کرتا ہے۔‘

  3. نوشکی: مسلح افراد کا حملہ، تاجر ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نا معلوم مسلح افراد کے حملے میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر ہلاک ہو گئے۔

    ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ جمعے کے روز نوشکی بازار میں زیادہ تر دکانیں بند تھیں۔

    انھوں نے کہا کہ تاجر راکیش نے شام تقریباً پانچ بجے انام بوستان روڈ پر واقع اپنی دکان کھولی تو نا معلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔

    ان کے مطابق فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے تاجر بعد ازاں ہلاک ہو گئے۔

    نوشکی پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ واقعے کے محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے ڈی ایس پی کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

  4. امریکہ کی نئی پابندیاں بھی ناکام ہوں گی: عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیاں ’وہی پرانی کہانی‘ ہیں اور ناکام ہوں گی۔

    عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں 2012 میں امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما کی ایک پوسٹ کا حوالہ دیا، جس میں لکھا گیا تھا کہ ’یہ تاریخ کی سب سے سخت پابندیاں ہوں گی۔‘

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ 14 سال قبل امریکہ نے ’تاریخ کی سب سے زیادہ مفلوج کر دینے والی پابندیاں‘ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن ان کے بقول وہ پابندیاں ناکام رہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آٹھ سال قبل امریکی حکام نے ایران کے خلاف ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن وہ بھی ناکام رہی۔

    عراقچی نے اس کے بعد پانچ ماہ قبل امریکہ کی جانب سے ایران سے ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ کے مطالبے کا حوالہ دیا اور زور دیا کہ وہ کوشش بھی ناکام رہی۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے حالیہ دنوں میں امریکی حکام کے ان بیانات کا بھی ذکر کیا جن میں ’تاریخ کی سخت ترین اقتصادی کارروائی‘ کی بات کی گئی تھی، اور کہا کہ ’یہ بھی ناکام ہو گی۔‘

    ان کے بقول: ’ہم یہ فلم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، یہ وہی پرانی کہانی ہے۔‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک غیر معمولی اور تباہ کن معاشی جنگ (اقتصادی ڈی ڈے ) شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عالمی برادری کو تہران سے لین دین ختم کرنے کا کہا ہے اور تنبیہ کی ہے کہ جو بھی ملک ایران کی مدد یا اس کے ساتھ کاروبار کرے گا، اسے بھی سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  5. سعودی عرب کے پاس یمنی عوام کے مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں: حوثی تحریک

    ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی تحریک نے سعودی عرب میں اہداف پر حملے کے ایک روز بعد کہا ہے کہ ریاض کے پاس ’یمنی عوام کے مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔‘

    حوثیوں نے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کریں، جن میں یمن کے ’محاصرے‘ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

    حوثی تحریک کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جنوبی سعودی عرب کے نجران علاقے میں ایک ہوائی اڈے اور سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس گروپ کے فوجی ترجمان نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ڈرون حملے ’سعودی ڈرونز کی شمالی یمن کی فضائی حدود میں دراندازی‘ کے ردِعمل میں کیے گئے ہیں۔

  6. مسلح گروہوں کے ساتھ فوجی تصادم کا کوئی ارادہ نہیں: عراقی وزیر اعظم

    عراق کے وزیرِ اعظم علی زیدی نے بغداد ڈائیلاگ کانفرنس کے آٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت کا مسلح گروہوں کے ساتھ فوجی تصادم میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے تعمیری مذاکرات جاری ہیں۔‘

    علی زیدی نے کہا: ’ہم ایسے مشکل دنوں کا سامنا کر رہے ہیں جن کا سامنا ماضی کی کسی بھی حکومت کو نہیں کرنا پڑا۔‘

    انھوں نے نشاندہی کی کہ بعض گروہ پہلے ہی اپنے ہتھیار حوالے کر چکے ہیں، سابقہ وابستگیاں ختم کر چکے ہیں اور پاپولر موبلائزیشن فورسز میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر گروہوں کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔

    عراقی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’تمام سیاسی دھڑے ہتھیاروں کو محدود کرنے اور انھیں ریاست کے حوالے کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھانے پر متفق ہیں‘ اور مزید بتایا کہ ان ہتھیاروں کی حوالگی کے طریقۂ کار پر کام جاری ہے۔

    انھوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کو بھی ایک ’بڑا چیلنج‘ قرار دیا اور کہا کہ اس وقت عراق کی تیل برآمدات معمول کی سطح کے تقریباً 10 فیصد تک محدود ہیں، جبکہ برآمدات کے متبادل راستے بھی ’عارضی اور محدود‘ ہیں۔

  7. جنگ سے پہلے اپنے عسکری اثاثے منتقل کر دیے تھے: ایرانی وزارتِ دفاع

    ایران کی وزارتِ دفاع کے معاون نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ہونے والے حملوں کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا گیا تھا اور اس کے پیش نظر ایران کا دفاعی ساز و سامان دوسری جگہوں پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    بریگیڈیئر شہروخ شہرام نے شیراز میں نمازِ جمعہ کے ایک خطاب میں کہا کہ ان حملوں کے دوران ’دشمن ہمارے کسی ایک بھی میزائل سٹی کا سراغ نہیں لگا سکا۔‘

    شہرام نے مزید کہا کہ ’ہتھیاروں کی پیداوار بلا تعطل جاری ہے۔‘

  8. ڈیفنس فورسز بل 2026 کیا ہے اور اس سے کیا تبدیلیاں آئیں گی؟

    پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات کو دفاعی افواج اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق دو بِل منظور کیے ہیں۔ ان دونوں بِلز کی منظوری کا کیا مطلب ہے اور اس سے افواج کی کمان میں کیا تبدیلیاں آئیں گی؟

    جانیے عدیل احمد کی اس ویڈیو میں۔

  9. ترکی کا غزہ فلوٹیلا کو روکنے کے معاملے پر نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان

    ترکی نے غزہ امداد لے جانے والے امدادی بحری بیڑے (فلوٹیلا) کو اسرائیل کی جانب سے روکنے کے معاملے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ترک وزیرِ انصاف اکین گورلیک نے سنیچر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کا اعلان کیا۔

    اس سال مئی میں اسرائیلی افواج نے غزہ کے لوگوں کے لیے امداد لیے جانے والے ایک بحری امدادی بیڑے میں شامل تقریباً 40 ممالک کے 430 سے زائد فلسطینی حقوق کے کارکنوں کو حراست میں لے کر اسرائیل منتقل کر دیا تھا۔

    بعد ازاں ان کارکنوں کو ترک طیاروں کے ذریعے اسرائیل سے نکال کر ترکی منتقل کیا گیا۔

    یہ کارکن ’گلوبل فلیٹ آف اینڈیورنس‘ مہم کا حصہ تھے اور غزہ پر عائد بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ترکی اس سے قبل بھی نیتن یاہو اور متعدد سینیئر اسرائیلی حکام کے خلاف غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں کے سلسلے میں ’نسل کشی‘ کے الزامات کے تحت گرفتاری وارنٹ جاری کر چکا ہے۔

  10. یہ امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا بہترین وقت ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے بہتر وقت ہے کیونکہ اس وقت واشنگٹن کے مقابلے میں تہران بہتر پوزیشن میں ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ’آج جنگ ختم کرنا بہتر ہے، جب ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں اور پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ امریکہ نے تمام قوانین کے برخلاف ہمارے سکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا اور دنیا بھر میں نفرت کا سامنا کر رہا ہے۔‘

    تاہم مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ان کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ ایران ممکنہ جارحیت کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا۔

    ’ہم کسی بھی صورت میں دھونس یا دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔‘

    ایرانی صدر نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں طے پائے جانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو بھی ایک ’عظیم کامیابی‘ قرار دیا۔

    ان کے مطابق اس معاہدے کی ایرانی کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے متفقہ منظوری دی تھی۔

    پزشکیان نے ’باہر بیٹھے‘ ان لوگوں پر بھی تنقید کی جو ’یہ نہیں جانتے کہ حکومت کن حالات سے گزر رہی ہے، پارلیمان کن حالات میں ہے اور فوجی کمانڈر کس صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ایسے افراد بنا کسی آگاہی کے تبصرے اور تجزیے کرتے ہیں، حالانکہ انھوں نے کوئی مشکل برداشت نہیں کی، اور پھر وہ بھاری قیمت کی بات کرتے ہیں۔

    ایرانی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ ممکنہ جارحیت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جائیں گے۔

    ایرانی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی حکام بظاہر ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی کا مرکز فوجی کارروائیوں سے ہٹا کر معاشی دباؤ پر لے آئے ہیں۔

  11. عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کے بجائے پمز میں معائنہ اور گھنٹوں میں جیل واپسی: رات بھر کیا ہوتا رہا؟

    جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقل کیا جانا تھا۔ تاہم انھیں پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں معائنے کے بعد انھیں اڈیالہ جیل واپس بھیج دیا گیا۔

    عمران خان کی بہن اور ان کے ذاتی ڈاکٹر کا کیا کہنا تھا، اور اس معاملے پر حکومت کی جانب سے کیا کہا گیا، جانیے عمر دراز ننگیانہ کی اس ویڈیو میں۔

    فلمنگ: کاشف باجوہ

    ایڈیٹنگ: نعمان مسرور، کرن فاطمہ

  12. عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ: حزبِ اختلاف کا حکومت پر توہین عدالت کا الزام، سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے علاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کر کے حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے اور اس حوالے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    حزبِ اختلاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں قائدِ حزبِ اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔

    اجلاس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    اپوزیشن ارکان نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت اور ان کے علاج معالجے کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

    اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق اپوزیشن ارکان نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر اجلاس میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور آئینی و قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    پارلیمانی پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کر کے حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس حوالے سے سنیچر کے روز سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ اجلاس میں 27 ستمبر کو پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے احتجاج کا فیصلہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

  13. عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومت کی نظر ثانی درخواست دائر: ’پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کی اجازت سے دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کے مطالبات کریں گے‘, شہزاد ملک، بی بی سی اسلام آباد

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دوبارہ دائر کر دی۔

    اس سے قبل جمعرات کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے حکومتی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی گئی تھی۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے جمعہ کے روز دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ریکارڈ میں موجود واضح قانونی غلطیوں پر مبنی ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ مجرم عمران خان کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنا پاکستان پرزن رولز 1978 کے برخلاف ہے۔ درخواست کے مطابق جیل قوانین میں کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرنے کا کوئی تصور نہیں۔

    نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت قیدیوں کا علاج صرف جیل، سول یا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ہو سکتا ہے، اور پرائیویٹ ہسپتال منتقلی سے قیدی کی سکیورٹی اور بیرونی اثر و رسوخ کے خدشات بڑھ جائیں گے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ قیدی کا اپنی مرضی کے پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج کی ضد جیل قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا اور سرکاری ڈاکٹرز انتہائی تجربہ کار پروفیسرز اور اپنے شعبوں کے بین الاقوامی ماہرین ہیں۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے چیف کمشنر اسلام آباد کو فریق بنائے اور نوٹس جاری کیے بغیر فیصلہ سنایا گیا اور کیس میں دوسرے فریق کو سنے بغیر فیصلہ دینا آئین کے آرٹیکل 10A کے خلاف ہے۔

    سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اس درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں قیدی کی حالت تشویشناک ہونے کا کوئی ذکر نہیں اور عدالت کو میڈیکل رپورٹ پر تیکنیکی ماہرین کی رائے لیے بغیر براہ راست فیصلہ نہیں دینا چاہیے تھا۔

    وفاقی حکومت کی اس درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سی آر پی سی کی دفعہ 561-A کا اطلاق جیل انتظامیہ کے امور پر نہیں ہوتا اور فوجداری اپیل سننے والی عدالت وہ اختیارات استعمال نہیں کر سکتی جو کوڈ میں درج نہ ہوں۔

    درخواست میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جیل میں قید کے دوران نقل و حرکت اور ملاقاتوں کے حقوق قانونی طور پر محدود ہو جاتے ہیں اور قیدی کو ہفتے میں دو بار غیر ملکی ٹیلی فون کالز کی اجازت دینا پرزن رولز 265 کے خلاف ہے۔

    نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عبوری ریلیف کے طور پر بنیادی اور حتمی استدعا کو منظور کرنا قانونی اصولوں کے منافی ہے اور تمام چاروں اپیلوں کو ابتدائی سطح پر ہی عبوری طور پر منظور کر لیا گیا جو کہ قبل از وقت ہے۔

    درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک قیدی کو خصوصی رعایت دینا آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوی حقوق کے اصول کی خلاف ورزی ہے اور پرائیویٹ ہسپتال کی اجازت دینے سے دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کے مطالبات شروع کر دیں گے۔

    اپنی درخواست میں حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اٹھارہ اگست کے اپنے حکم نامے پر نظرثانی کرے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے فیصلہ واپس نہ لیا تو اس سے فلڈ گیٹ کھل جائے گا۔

  14. عمران خان کی بہنوں کی پریس کانفرنس سپریم کورٹ کو کروائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی نہیں: سلمان اکرم راجہ

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے وکیل اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کا کہنا کہ عمران خان کی بہنوں نے پریس کانفرنس سپریم کورٹ کو کروائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی نہیں۔

    اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ’ایک بات یہ کی جارہی ہے کہ بہنوں کی پریس کانفرنس سپریم کورٹ کو دی گئی انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی ہے یہ بات بالکل غلط ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ان سے سوال کیا تھا کہ جو میڈیکل ریکارڈ ہسپتال میں پیش کیا جائے گا کیا آپ اس پر سیاست کریں گے؟

    ’ہم نے صرف یہ انڈرٹیکنگ دی تھی کہ میڈیکل ریکارڈ صرف خاندان اور ذاتی ڈاکٹرز کے پاس رہے گا سیاسی جماعت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہم اس پر کوئی سیاست نہیں کریں گے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ عدالت کو کروائی گئی یقین دہانی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔

    عمران خان کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ’کوئی ریکارڈ پیش ہی نہیں ہوا، وہ میڈیکل بورڈ بنا ہی نہیں جس میں ڈاکٹر عظمیٰ نے شامل ہونا تھا۔‘

  15. آئی ایس پی آر کا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مختلف کارروائیوں کے دوران 49 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں میں 49 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جارہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے گذشتہ چند روز کے دوران پولیس کے ساتھ مل کر خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائیوں کی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 49 شدت پسند ہلاک جبکہ امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بھی ناکام بنائی گئی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا میں بنوں، شمالی وزیرستان، اورکزئی اور ضلع خیبر میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی متعدد کارروائیوں کے دوران 12 شدت پسند ہلاک کیے گئے۔ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور کے اضلاع میں کی گئی 10 کارروائیوں کے دوران 37 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد، دیسی ساختہ بموں کو دھماکے سے اڑانے کے لیے استعمال ہونے والے ریموٹ کنٹرول، اسلحہ، گولہ بارود اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کر کے تباہ کی گئیں۔

  16. مخالفین کی جانب سے کسی بھی ’مس کیلکولیشن‘ کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا: ایرانی مسلح افواج کے سربراہِ

    ایرانی مسلح افواج کے سربراہِ میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ مخالفین کی جانب سے کسی بھی ’مس کیلکولیشن‘ (غلط اندازے) کا منہ توڑ اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔

    22 اگست کو ایران کے یومِ دفاعی صنعت کے موقع پر جاری ایک بیان میں میجر جنرل عبداللہی کا کہنا ہے کہ ملک کی دفاعی صنعت غیرمنصفانہ پابندیوں اور ’بچوں کے قاتل استعماری طاقتوں‘ کی دشمنانہ کارروائیوں کے مقابلے میں دفاعی مقامی صلاحیت کا مظہر ہے۔

    جنرل عبداللہی نے دفاعی صنعت کو قومی طاقت کا ایک ناگزیر ستون اور ایران کی سلامتی کا اہم عنصر قرار دیا۔

    مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کا کہنا کہ حالیہ برسوں میں وزارتِ دفاع کی پیش رفت صرف فوجی ساز و سامان کی تیاری تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ’دفاعی صنعتی انقلاب‘ کی شکل اختیار کر لی ہے جو دشمن کو باز رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  17. عدالت کا حکم تھا کہ عمران خان کا جو بھی علاج ہوگا وہ شفا انٹرنیشنل میں ہی ہو گا: سلمان اکرم راجہ

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے وکیل اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کا کہنا کہ کل جو کچھ ہوا وہ اس قوم کے لیے ایک سانحہ ہے۔

    پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا کے ذریعے غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا کیا۔’سپریم کورٹ کا آرڈر بڑا واضح تھا، کہ خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے گا، وہاں ان کا مکمل ایگزامینیشن ہوگا اور اس کے بعد جو بھی علاج ہے وہ شفا انٹرنیشنل میں ہی ہو گا، اس میں ایک ہفتہ لگے، تین ہفتے لگیں یا زیادہ لگیں، پورا علاج شفا انٹرنیشنل میں ہو گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ کیس کی اگلی سماعت 16 ستمبر کی تھی اور اس روز از سرِ نو جائزہ لیا جانا تھا۔

    ’لیکن جو کچھ کل ہوا اس نے اس تمام حکم کو زائل کردیا۔‘

  18. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں امریکی سفیر کی واپسی کے بعد سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات کیوں لگا رہی ہیں؟, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    نئی دلّی میں امریکی سفیر اور وسطی و جنوبی ایشیا کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب سرجیو گور جوں ہی سرینگر کا دورہ کرکے لداخ روانہ ہوئے تو ان کے بیان پر وادی کی سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ چھِڑ گئی ہے۔

    جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صوبائی رہنما سُنیل شرما نے سرجیو گور کی طرف سے کشمیر کو ’انڈیا کا اہم حصہ‘ قرار دینے کو انڈیا کی بڑی سفارتی فتح قرار دیا وہیں کانگریس کے صوبائی صدر طارق حمید نے ’کشمیر کے معاملات میں بیرونی مداخلت‘ کو مودی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔

    سُنیل شرما کا کہنا ہے کہ ’سرجیو گور کا بیان انڈیا کے لیے بڑی سفارتی فتح ہے اور پاکستان کی طرف سے کشمیر کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوششوں کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔‘

    دوسری جانب کانگریس کے رہنما طارق حمید کا کہنا ہے کہ ’اس میں کیا شک ہے کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے لیکن جب بیرونی ممالک کے سفیر آتے ہیں تو مبہم لہجہ استعمال کرتے ہیں، وہ اٹوٹ انگ نہیں کہتے، اہم حصہ کہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں یہ مودی حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔‘

    اس دوران وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سے ایک تقریب کے دوران پاکستان کے ردعمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ پاکستان اور امریکہ کا باہمی مسئلہ ہے، اس پر دھیان نہ دیا جائے۔‘

    حزب اختلاف پی ڈی پی کی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے عمرعبداللہ پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے سرجیو گور کے ساتھ ملاقات کو ضاَئع کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عمرعبداللہ کو چاہیے تھا وہ سفیر کو اُن حالات سے آگاہ کرتے جن کا کشمیریوں کو سامنا ہے۔ ہزاروں لوگ جیلوں میں ہیں، لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، نوکریوں سے نکالا جارہا ہے، جائیدادیں قرق کی جارہی ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’آج ہی ایک تلاشی مہم کے دوران پلوامہ میں فورسز نے ایک امام مسجد کی پٹائی کی، ان واقعات سے کشمیر میں گھٹن کا ماحول ہے۔ وزیراعلیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ کم از کم سفیر کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے۔‘

    تاہم محبوبہ مفتی نے عمرعبداللہ کی اس بات کے ساتھ اتفاق کیا کہ ’ہمارے مسائل کا حل واشنگٹن میں نہیں، نئی دلّی میں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ نے دنیا میں جہاں بھی مداخلت کی وہاں تشدد اور تباہی کے سوا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ فلسطین اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت پر بات کرتے، کیونکہ وہاں کے حالات بھی کشمیر کو متاثر کرتے ہیں۔

    محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ کہ غیرملکی شخصیات کی کشمیر آمد کو 2019 کے پس منظر میں دیکھنا چاہیئے۔

    ’آرٹیکل 370 کی منسوخی سے پہلے کوئی بھی سفیر یہاں آتا تو سبھی مکاتب فکر سے ملتا، زمینی حقائق کا جائزہ لیتا، لیکن 2019 کے بعد یہ دورے سرکاری کنٹرول اور مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔‘

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی سفیر بُدھ کے روز کشمیر کے دورے پر پہنچے تھے جہاں انھوں نے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ’کشمیر بہت خوبصورت ہے، یہ انڈیا کا اہم حصہ ہے۔‘

    اس پر پاکستان نے انڈیا میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور کے جموں و کشمیر سے متعلق بیان پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کیا ہے۔

    بدھ کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی سفیر کے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دورے کے دوران دیے گئے ان ریمارکس پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جن میں انھوں نے جموں و کشمیر کو انڈیا کا ایک ’اہم حصہ‘ قرار دیا تھا۔

    پاکستان نے انڈیا میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق امریکی ناظم الامور کو دیے گئے احتجاجی مراسلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکی سفیر کا بیان مسئلۂ کشمیر کے بارے میں امریکہ کے طویل المدتی اور دستاویزی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی بالادستی سے متعلق امریکی عزم کے بھی منافی ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسئلۂ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو سراہا ہے، تاہم امریکی حکام کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے مطابق ہوں۔

    جمعرات کی صبح سرجیو گور لداخ روانہ ہوئے جہاں انھوں نے نِمو کے مقام پر بودھوں کے مقدس مقام ’سنگم‘ کا دورہ کیا۔ نِمو میں زانسکار اور دریائے سندھ آپس میں ملتے ہیں۔

    اس کے بعد انھوں نے سندھ کے تیز بہاؤ والے پانی میں رافٹنگ بوٹ کی سواری کی۔ گور کے سٹاف کے مطابق وہ لداخ میں جمعہ کو بھی قیام کریں گے اور سنیچر کے روز نئی دلّی روانہ ہونگے۔

    جمعہ کے روز لیہہ بودھسٹ ایسوسی ایشن اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس سے ان کی ملاقات کا بھی امکان ہے۔ یہ دونوں گروپ مشترکہ طور لداخ کو باقاعد ریاستی درجہ دینے اور وسیع آئینی اختیارات کے لئے گذشتہ برس سے تحریک چلارہے ہیں۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک مذہبی تقریب کے سلسلے میں تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ بھی لیہہ میں موجود تھے۔ خیال کیا جاتا تھا کہ سرجیو گور دلائی لاما سے بھی ملاقات کریں گے، تاہم ان کے سٹاف نے ایسے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔

    2010 میں اُس وقت کے امریکی سفیر ٹِم رومر نے لداخ کے دورے کے دوران دلائی لامہ کے ساتھ ملاقات کی تو چین نے امریکہ اور انڈیا دونوں کی نکتہ چینی کی تھی۔

    ’کشمیر پر گور کے ریمارکس پاکستان-امریکہ تعلقات کے لیے دھچکا بن سکتے ہیں‘

    امریکہ کے انڈیا میں سفیر سرجیو گور کے بیان کے بارے میں جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے کہا: ’یہ واضح نہیں کہ آیا یہ بیان واقعی امریکی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، تاہم نئی دہلی میں اسے یقیناً خوش آئند قرار دیا جائے گا۔ ان کے بقول، ایسے وقت میں جب امریکہ اور انڈیا کے دوطرفہ تعلقات کو تقویت کی ضرورت تھی، گور کے بیان سے ان تعلقات کو ایک اہم سہارا ملا ہے۔‘

    مکمل تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  19. چاہے کتنی ہی فوجی طاقت کیوں نہ ہو، اگر لوگ بھوکے ہوں گے تو حکومت نہیں بچے گی: باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ حکومت کو امریکی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا ہو گا، ورنہ حکومت قائم نہیں رہ سکے گی۔

    عراق کے دورے پر موجود محمد باقر قالیباف نے بغداد میں ایرانی سفارت خانے میں ایرانی اور عراقی تاجروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہمارے پاس چاہے کتنی ہی فوجی طاقت کیوں نہ ہو، اگر لوگ بھوکے ہوں گے، معاشی ترقی اور قومی پیداوار نہیں ہوگی تو ہم بچ نہیں پائیں گے۔

    قالیباف کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ان ظالمانہ پابندیوں پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی تاکہ ہم ان کا مقابلہ کر سکیں۔‘

    اس ملاقات میں انھوں نے ایران اور عراق کے درمیان تجارت میں دونوں ممالک کی قومی کرنسیوں کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طریقۂ کار سے دوطرفہ لین دین میں ڈالر کا کردار ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی نئی پابندیاں ’عالمی تاریخ میں مربوط معاشی تنہائی کی سب سے بڑی مہم‘ ہو گی اور یہ ’ایرانی حکومت کو زوال سے دوچار کر دیں گی۔‘

  20. امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین

    چین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی ’پابندیاں اور معاشی دباؤ‘ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔

    واشنگٹن اس سے قبل چین سمیت مختلف حکومتوں سے ایران کی معیشت کو الگ تھلگ کرنے کی امریکی کوششوں میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پابندیاں اور دباؤ اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’چین تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ اقدامات کریں اور مسئلے کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔‘

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی اقتصادی مہم ’ایرانی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی،‘ جبکہ تہران اس دھمکی کو ’معاشی دہشت گردی‘ قرار دیتا ہے اور اسے ناکامی سے دوچار سمجھتا ہے۔

    جب امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ بیجنگ پر اس مہم میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالے گا، تو انھوں نے سی این بی سی کو بتایا کہ ’بہت سے معاملات پر بات چیت خفیہ طور پر کرنا بہتر ہوتا ہے،‘ تاہم انھوں نے بیجنگ پر زور دیا کہ وہ ’اس پروگرام میں شامل ہو جائے۔‘

    سکاٹ بیسنٹ کے بیان کے جواب میں چینی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چین ایسی غیر قانونی یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے جن کی بنیاد بین الاقوامی قانون میں موجود نہیں اور جنھیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل نہیں۔‘