اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح کیے جانے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی۔
ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
تاہم حماس نے کہا تھا کہ اپنے بھاری ہتھیار حوالے کرنا اسرائیل کی جانب سے ’ہر قسم کی جارحیت ختم کرنے‘ اور غزہ سے اپنی فوج واپس بلانے سے مشروط ہے۔
اتوار کو بورڈ آف پیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی اصرار کیا کہ غزہ کے لیے امریکہ کی حمایت یافتہ امن منصوبہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ اکتوبر غزہ میں ابتدائی جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود علاقے میں حملے جاری رکھے ہیں۔
نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ ’اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی فوج اس وقت تک انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا اور اسرائیل اپنی فوج اور شہریوں کے خلاف خطرات کو ناکام بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔‘
حماس کے ایک عہدیدار نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا کہ تنظیم معاہدے کے لیے اپنے عزم کی دوبارہ تصدیق کرتی ہے اور 15 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ’سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ بات چیت‘ کے لیے تیار ہے۔
حماس نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ’تمام فریق طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں۔‘
اسرائیل کی جانب سے منصوبہ مسترد کیے جانے کو ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے لیے ایک اور دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا اعلان گزشتہ سال ستمبر میں کیا گیا تھا۔
منصوبے میں معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے بورڈ آف پیس کا قیام، حماس کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی فوج کا انخلا اور غزہ کی تعمیر نو شامل تھی۔
نیتن یاہو کا یہ بیان اگرچہ حیران کن نہیں، تاہم انھوں نے اس پر اپنا مؤقف واضح کرنے میں کچھ وقت لیا، جو اسرائیلی وزیر اعظم کو درپیش مشکل سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
نیتن یاہو ٹرمپ کے منصوبے سے واضح طور پر ناخوش ہیں، لیکن وہ اپنے سب سے قریبی اتحادی امریکہ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کو ایک ہفتے سے کچھ زیادہ وقت گزرا ہے جس میں انھوں نے اسے ’دیرپا امن اور سلامتی کی جانب ایک تاریخی قدم‘ قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’حماس پہلی مرتبہ غیر مسلح ہونے پر رضامند ہوئی ہے، تاہم اس کی شرط تھی کہ اسرائیل غزہ سے اپنی فوج واپس بلائے۔‘
لیکن اتوار کو نیتن یاہو نے واضح کر دیا کہ ان کی حکومت میں ایسا نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’حماس کو پہلے غیر مسلح ہونا ہوگا اور یہ محض فرضی غیر مسلح نہیں ہونی چاہیے بلکہ حقیقی معنوں میں ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔‘
حقیقت میں حماس کی غیر مسلح اور اسرائیلی فوج کا انخلا غالباً مرحلہ وار ہی ممکن ہوگا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اب اس منصوبے پر امریکی حکام سے بات چیت کر رہے ہیں کہ آگے کیسے بڑھا جائے۔
انھوں نے کہا ’ان کے پاس کچھ تجاویز ہیں، ان میں سے کچھ ہمیں قابلِ قبول ہیں اور کچھ نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ان معاملات پر اپنے مؤقف پر کیسے قائم رہنا ہے۔‘
اسرائیل میں انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں اور نیتن یاہو کو اپنی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے ارکان کی جانب سے غزہ کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں امکان کم ہے کہ وہ کوئی بڑی رعایت دینے پر آمادہ ہوں گے۔
اتحادی حکومت کے انتہائی دائیں بازو کے ارکان کی جانب سے نئے کابینہ اجلاس میں ووٹنگ اور غزہ منصوبہ ختم کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔ قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی مسودے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری ادا کرنے والے سینئر سفارت کار نکولے ملادینوف نے اتوار کو منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مثبت نتیجے کی امید میں بات چیت جاری ہے۔
بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا کہ اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ ’اس عمل کو ایک موقع دیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ’آگے بڑھنے کا واحد راستہ‘ ہے تاکہ حماس کی جانب سے سات اکتوبر 2023 جیسے حملے کو دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے۔
ملادینوف کے مطابق یہ منصوبہ ایسے عمل پر مبنی ہے جو قابلِ تصدیق اور قابلِ واپسی ہے، یعنی ہر مرحلے پر اسے روکا جا سکتا ہے اور اسے مستقبل کے چیلنجز کو واضح طور پر مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کو اس وقت تک فوج واپس بلانے کی ضرورت نہیں ہوگی جب تک اس بات کی تصدیق نہ ہو جائے کہ حماس غیر مسلح ہونے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔‘
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 19 لاکھ افراد، یعنی علاقے کی 90 فیصد آبادی، بے گھر ہو چکی ہے۔
غزہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائی شروع کی، جس کے دوران علاقے کی وزارت صحت کے مطابق 73 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔