امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو شروع ہوئے 36 گھنٹے سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے۔ تاہم اس کے بعد سے یہ خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں یہ جنگ بندی غیر مستحکم ثابت نہ ہو۔
خلیجی ممالک پر حملے بڑی حد تک رُک چکے ہیں
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ملک میں کسی بھی میزائل یا ڈرون کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ کویت کا بھی کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کے فضائی دفاعی نظام نے کسی عسکری نقل و حرکت کی اطلاع نہیں دی۔
اور نہ ہی سعودی عرب یا بحرین، جنھیں اس تنازع کے دوران بار بار حملوں کا سامنا رہا ہے، نے جمعرات کو کسی حملے کی اطلاع دی۔
اسرائیلی فوج نے بھی آج کوئی ایسی وارننگ جاری نہیں کی جس میں کہا گیا ہو کہ ایران کی جانب سے میزائل فائر کیے گئے ہیں اور نہ ہی ایران سے کسی حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
تاہم جنگ بندی کے اعلان کے بعد ابتدائی چند گھنٹوں میں کچھ محدود حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
لبنان جنگ بندی کا حصہ ہے یا نہیں؟
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا اور اس نے بدھ کو بھی لبنان میں بڑے حملے جاری رکھے۔ جمعرات کو اس نے جنوبی بیروت کے کچھ حصوں کے لیے نئی انخلائی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
جمعرات کو سامنے آنے والی تصاویر کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لبنان کی سرحد پر اسرائیلی اینٹی پروجیکٹائل دفاعی نظام کام کر رہا ہے۔
ایرانی حکام نے لبنان پر کیے گئے حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کا تنازع ایک ’علیحدہ جھڑپ‘ ہے۔
کچھ ہی دیر قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ لبنان کے ساتھ ’جلد از جلد‘ براہِ راست مذاکرات شروع کیے جائیں، جن کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز پر غیریقینی کے بادل برقرار
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا کہ اگر امریکہ اپنی ’جارحیت‘ سے باز آ جائے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز کہا کہ ایرانی حکومت عوامی سطح پر جو کہہ رہی ہے اور نجی طور پر جو موقف اختیار کر رہی ہے، اس میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ کہنا غلط ہے کہ آبنائے بند ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بدھ کو کہا تھا کہ ایرانی حکومت کے عوامی سطح اور نجی طور پر اپنائے جانے والے موقف میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس نے مزید کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ کہنا غلط ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔